Ayahs 24:1–2مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ الزانیۃ و الزانی زنا لغت میں شریعت سے پہلے بھی معروف تھا جیسے سرقہ (چوری) اور قتل کے اسم پہلے موجود تھے۔ زنا کا مطلب ہے مرد کا عورت کی فرج (شرمگاہ) میں بغیر نکاح اور بغیر شبہ نکاح کے عورت کی رضا کے ساتھ جماع کرنا۔ اگر تو چاہے تو یوں بھی کہہ سکتا ہے فرج کا طبعا مشتبی فرج میں داخل کرنا جو شرعاً حرام ہو۔ جب ایسی صورت ہو تو حد واجب ہوتی ہے۔ زنا کی حد اور اس کی حقیقت اور اس کے متعلق علماء کے اقوال گزر چکے ہیں یہ آیت حبس کی آیت اور اذیت والی آیت جو سورة نساء میں ہے ان کے لیے بالا تفاق ناسخ ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مائۃ جلدۃ۔ یہ آزاد، بالغ، غیر شادی شدہ زنا کرنے والے کی حد ہے۔ اسی طرح آزاد، بالغہ غیر شادی شدہ عورت کی حد ہے اور سنت سے ایک سال کی جلا وطنی بھی ثابت ہے۔ اس جلا وطنی میں اختلاف ہے اور لونڈیاں اگر زنا کریں گی تو ان پر پر پچاس درے ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان اتین بفا حشۃ فعلیھن نصف ما علی المحصنت من العذاب (النساء : 25) یو لونڈی کے بارے میں ہے۔ اور غلام بھی اسی کے معنی میں ہے۔ رہا آزاد لوگوں میں شادی شدہ تو اس پر کوڑے نہیں رجم ہوگا۔ اور بعض علامء یہ کہتے ہیں کہ پہلے اسے سو کوڑے مارے جائیں گے پھر اس رجم کیا جائے گا یہ سب چھ سورة النساء میں تفصیلا گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ جمہور نے الزانیۃ والزانی کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ عیسیٰ بن عمر ثقفی نے الزانیۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے ؛ یہ سببویہ کے نزدیک زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ ان کے نزدیک تیرے اس قول کی طرح ہے : زیداضرب اور سیبویہ کے نزدیک رفع کی وجہ یہ ہے کہ یہ مبتدا کی خبر ہے تقدیر اس طرح ہوگی فیما یتلی علیکم حکم الزانیۃ والزانی۔ رفع پر علماء کا اجماع ہے اگرچہ سیبویہ کے نزدیک قیاس نصب تھا فراء، مبرد اور زجاج کے نزدیک رفع زیادہ بہتر ہے اور خبر فاجلدوا کے قول میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے الزانیۃ والزائی مجلودان بحکم اللہ۔ بدکارہ عورت اور بدکار مرد کو اللہ کے حکم سے کوڑے لگائے جائیں گے۔ یہ عمدہ قول ہے اور یہ اکثر نحویوں کا قول ہے۔ اگر تو چاہے تو خبر مقدر کرے ینبغی ان یجلدا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے الزان بغیر یاء کے پڑھا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ نے مذکر اور مونث کا ذکر کیا حالانکہ الزانی کا لفظ دونوں طرف سے کافی تھا۔ بعض علماء نے کہا : دونوں کا ذکر تاکید کے لیے ہے جیسے فرمایا : والسارق والسارقہ فاقطعوا ایدیھما (المائدہ : 38) یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں کا ذکر اس لیے فرمایا تاکہ کوئی گمان کرنے والا یہ گمان نہ کرے کہ مرد وطی کرنے والا تھا اور عورت محل وطی تھی اس لیے وہ وطی کرنے والی نہیں اس لیے اس پر حد واجب نہ ہوگی تو اس اشکال کو دور کرنے کے لیے دونوں کا ذکر فرمایا : یہ اشکال علماء کی ایک جماعت نے وارد کیا ہے۔ جن میں امام شافعی بھی ہیں انہوں نے کہا : رمضان میں عورت پر وطی کی صورت میں کفارہ نہیں ہے۔ کیونکہ ایک شخص نے کہا میں نے رمضان شریف میں دن کے وقت اپنی بیوی سے مجامعت کی ہے تو نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا کفر تو کفارہ دے۔ اس کو آپ نے کفارہ کا حکمدیا۔ عورت نہ مجامعت کرنے والی ہے اور نہ وطی کرنے والی ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ الزانیۃ کو مقدم کیا گیا ہے کیونکہ اس زمانہ میں عورتوں کا زنا عام تھا عربوں کی لونڈیوں اور فاحشتہ عورتوں کے گھروں پر جھنڈے لگے ہوتے تھے اور وہ سر عام زنا کرتی تھیں۔ بعض علماء نے کہا : چونکہ عورت میں زنازیادہ عار کا باعث ہے یہ اسی کی وجہ سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ بعض نے کہا : عورت میں شہوت زیادہ ہوتی ہے اور اس پر شہوت غالب ہوتی ہے اس کا پہلے ذکر کیا تاکہ وہ شہوت سے رک جائے اگرچہ عورت میں حیاء رکھا گا ہے۔ لیکن جب وہ زنا کرتی ہے تو اس کا حیاء ختم ہوجاتا ہے نیز عورتوں کی وجہ سے عارزیادہ لا حق ہوتی ہے کیونکہ ان کو موضوع پر دہ اور حفاظت ہے اس لیے تغلیظان اور اہتماماان کا پہلے ذکر کیا۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ الزانیۃ اور الزانی پر الف لام جنس کے لیے ہے۔ یہ عام ہے اور تمام بدکاروں کو شامل ہے اور جنہوں نے رجم کے ساتھ درعوں کا قول کیا ہے انہوں نے کہا : سنت میں حکم کی زیادتی آئی ہے پس کوڑوں کے ساتھ رجم بھی ہوگا۔ ؛ یہ اسحاق بن راہویہ، حسن بن ابی الحسن کا قول ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے شراحہ سے ایسا ہی کیا تھا۔ اس کا بیان سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ جمہور علماء نے کہا : یہ غیر شادی شدہ کے ساتھ خاص ہے۔ انہوں نے غلاموں اور لونڈیوں کے خروج کی وجہ سے اس کے غیر عام ہونے پر استدلال کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سزا پر نص قائم فرمائی جو بدکاری کرنے والوں پر واجب ہوگی جب ان کے خلاف گواہی قائم ہوجائے گی جیسا کہ آگے آئے گا۔ علماء کا اس قول پر اجماع ہے اور اس میں اختلاف ہے ایک شخص ایک عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں پایا جائے تو اس کیا واجب ہے ؟ اسحاق بن راہو یہ نے کہا : ان میں سے ہر ایک کو سو سوکوڑے لگائے جائیں گے ؛ یہ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے۔ یہ ان دونوں حضرات سے ثابت نہیں ہے۔ عطا اور سفیان نوری نے کہا : ان کو ادب سکھایا جائے گا ؛ یہی امام مالک اور امام احمد کا قول ہے جیسا کہ ادب میں ان کے مذاہب کی قدر پر ابن المنذر نے کہا : اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ جو اس حالت میں پایا جائے اس پر ادب ہے۔ اس میں جو مختار ہے وہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاجلدو فاء داخل ہوئی ہے کیونکہ یہ امر کی جگہ ہے اور امر شرط کے لیے مضارع ہے۔ مبرد نے کہا : اس میں جزا کا معانی ہے، یعنی اگر زنا کرنے والا زنا کرے و اس کے ساتھ ایسا کرو، اسی وجہ سے فا داخل ہوئی اسی طرح والسارق والسار قۃ فاقطعو ایدیھما (المائدہ : 38) ہے۔
مسئلہ نمبر 9 ۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس امر کے ساتھ مخاطب امام اور اس کا نائب ہے۔ امام مالک اور امام شافعی نے فرمایا : ہر کوڑے اور قطع میں یہ حکم ہے۔ امام مالک نے فرمایا کوڑوں میں ہے۔ قطع میں یہ حکم نہیں۔ بعض نے کہا : یہ خطاب مسلمانوں کے لیے ہے کیونکہ دین کے مراسم کو قائم کرنا مسلمانوں پر واجب ہے پھر امام ان کے قائم مقام ہوتا ہے۔ کیونکہ حدود کے قائم کرنے پر اجتماع ممکن نہیں۔
مسئلہ نمبر 10 ۔ علماء کا اجماع ہے کوڑے مارنا دُرّے کے ساتھ واجب ہے اور وہ کوڑا درمیانی صورت میں ہوگا نہ بہت سخت اور نہ بہت زیادہ نرم۔ امام مالک نے حضرت زید بن آم سے روایت کیا ہے (1) کہ ایک شخص نے عہد رسالت میں زنا کا اعتراف کیا تو آپ ﷺ نے اس کے لیے ایک کوڑا منگوایا تو آپ کے پاس ٹوٹا ہوا کوڑا لایا گیا آپ نے فرمایا : ” اس سے بہتر ہو “۔ پھر ایک نیا کوڑا لایا گیا جو زیادہ تیز تھا۔ آپ نے فرمایا : ” اس سے کم ہو “ پھر کوڑا لایا گیا آپ نے فرمایا : ” اس سے بہتر ہو “۔ پھر ایک نیا کوڑا لایا گیا جو زیادہ تیز تھا۔ آپ نے فرمایا :” اس سے کم ہو “ پھر کوڑا لایا گیا جو درمیانی قسم کا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے ساتھ مارنے کا حکم دیا۔ ابو عمر نے کہا : مئو طا کے تمام رواۃ نے اس حدیث کو اسی طرح مرسل روایت کیا ہے، میں نہیں جانتا کہ اس لفظ کے ساتھ متصل سند سے مروی ہے۔ معمر نے یحییٰ بن کثیر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کی مثل روایت کیا ہے۔ سورة المائدہ میں حضرت عمر ؓ کا قدامہ کو شراب پینے کی وجہ سے مکمل کوڑے سے مارنا گزر چکا ہے، یعنی متوسط کوڑے سے مارا۔
مسئلہ نمبر 11 ۔ علماء کا اختلاف ہے کہ زنا میں سزا پانے والے کے کپڑے اتارے جائیں گے یا نہیں ؟ امام مالک، امام ابوحنیفہ وغیرہ ہما کا قول ہے کہ اس کے کپڑے اتارے جائیں گے اور عورت پردہ لباس رہنے دیا جائے گا جو باعث پردہ ہو نہ کہ وہ جو اسے ضرب سے بچائے۔ امام اوزاعی نے فرمایا : امام کو اختیار رہے چاہے تو اس کے کپڑے اتارے چاہے تو نہ اتارے۔ شعبی اور نخفی نے کہا : اس کے کپڑے نہیں اتارے جائیں گے لیکن اس پر قمیص چھوڑی جائے گی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس امت میں کپڑے اتارنا اور لمبا کرنا نہیں ہے ؛ یہی ثوری کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 12 ۔ علماء کر مردوں اور عورتوں کو ضرب لگانے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ امام مالک نے فرمایا : مرد اور عورت تمام حدود میں برابر ہیں۔ ان میں کوئی کھڑا نہیں کیا جائے گا اور یہ صرف پیٹھ پر لگائی جائے گی۔ اصحاب الرائے اور امام شافعی کا خیال ہے کہ مرد کو کھڑا کر کے کوڑے لگائیں جائیں گے، یہی حضرت علی بن ابی طالب کا قول ہے۔ لیث بن سعد، امام ابوحنیفہ اوعر امام شافعی نے کہا : تمام حدود میں اور تعزیر میں لٹائے بغیر کھڑا کر کے کپڑے اتار کر سزادی جائے گی۔ سوائے حد قذف کے۔ اسے مارا جائے گا جب کہ اس پر کپڑے ہوں گے ؛ یہ مہدوی نے التحصیل میں امام مالک سے روایت کیا ہے اس سے پوستین اور جیکٹ وغیرہ اتار لی جائے گی۔ امام شافعی نے فرمایا : اگر اس کو لٹانے میں صلاح ہو تو اسے لٹایا جائے گا۔
مسئلہ نمبر 13 ۔ ان مواضع میں اختلاف ہے حدود میں انسان کو جہاں مارا جائے گا ؟ امام مالک نے کہا : ساری حدود کی سزا پیٹھ پر دی جائے گی اور یہی حکم تعزیز کا بھی ہے (1) ۔ امام شافعی اور ان کے اصحاب نے کہا : چہرے اور شرمگاہ کو بچایا جائے گا اور باقی تمام اعضاء پر مارا جائے گا۔ (2) ۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے۔ حضرت ابن عمیر ؓ نے لونڈی کی ٹانگوں کی طرف اشارہ کیا جسے زنا میں کوڑے لگنے تھ۔ ابن عطیہ نے کہا : اس پر اجماع ہے کہ چہرے، شرمگاہ اور ایسی جگہ پر نہیں مارا جائے گا۔ جس کی وجہ سے مرنے کا اندیشہ ہو، سر پر مارنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ جمہور نے کہا : سر کو بچایا جائے گا حضرت عمر نے صبیغ بن گصل کو سر پر مارا اور یہ تعزیز تھی، حد نہیں تھی۔ امام مالک کی حجت میں سے یہ ہے جس پر لوگوں کو انہوں نے پایا اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ” دلیل پیش کرو ورنہ پیتھ پر حد لگے گی “ (3) ۔
مسئلہ نمبر 14 ۔ ایسی ضرب لگانا واجب ہے جو تکلیف تو پہنچائے مگر زخمی نہ کرے نہ عضو کو کاٹے اور مارنے والا اپنا ہاتھ اپنی بغل کے نیچے سے نہ نکالے، یہی جمہور کا قول ہے یہی حضرت علی، حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے۔ حضرت عمر ؓ کے پاس حد کے سلسلہ میں ایک شخص کو لایا گیا تو آپنے درمیانہ کوڑا منگوایا اور مارنے والے کو کہا : تو اسے مار لیکن تیری بغل نظر نہ آئے اور ہر عضو کو اس کا حق دے۔ حضرت عمر ؓ کے پاس حد کے سلسلہ میں ایک شخص کو لایا گیا آپ نے درمیانہ کوڑا منگوایا اور مارنے والے کو کہا : تو اسے مار لیکن تیری بغل نظر نہ آئے اور ہر عضو کو اس کا حق دے۔ حضرت عمر ؓ کے ایک شرابی لایا گیا آپ نے فرمایا : میں تجھے ایسے شخص کے پاس بھیجوں گا جسے تم پر نرمی نہ آئے گی تو حضرت عمر ؓ نے کہا : اس کو مطیع بن اسود عدوی کی طرف بھیجا اور فرمایا جب تو کل صبح کرے تو اسے حد لگانا۔ حضرت عمر ؓ آئے تو وہ اسے سخت کوڑے مار رہا تھا حضرت عمر ؓ نے کہا : تو نے آدمی کو قتل کردیا، تو انے اسے کتنی ضربیں لگائی ہیں ؟ اس نے کہا ؛ ساٹھ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : بیس باقی ہیں ان کے بدلے میں اس شدت کو کردے جو تو نے اسے پہنچائی ہے اور مزید بیس کوڑے نہ لگائو۔ اس حدیث سے یہ سجھ آتا ہے کہ شراب پینے والے کو سخت کوڑے نہیں مارے جائیں گے۔ حدود میں سخت ضرب کس حد تک ہوگی ؟ اس میں علما میں اختلاف ہے۔
مسئلہ نمبر 15 ۔ امام مالک اور ان کے اصحاب اور لیث بن سعد نے کہا : تمام حدود میں ضراب برابر ہے۔ وہ ضرب زخمی کرنے والی نہ ہوگی۔ اور درمیانی ضرب ہوگی ؛ یہی امام شافعی کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ اور اس کے اصحاب نے کہا : تعزیر کی ضرب سخت ترین ضرب ہے اور زنا کی ضرب شراب کی ضرب سے سخت ہے اور شراب پینے والے کی ضرب قذف کی ضرب سے سخت ہے (4) ۔ ثوری نے کہا : زنا کی ضرب قذف کی ضرب سے سخت ہے اور قذف کی ضرب شراب کی ضرب سے سخت ہے۔ (5) ۔ امام مالک نے کوڑوں کی تعداد پر توقیف کے ورود سے حجت پکڑی ہے۔ اور حدود میں سے کسی حد میں تخفیف اور تثقیل وارد نہیں ہے۔ اس شخص کے متعلق جس کے لیے تسلیم ثابت ہے۔ امام ابوحنیفہ نے حضرت عمر ؓ کے فعل سے حجت پکڑی ہے کہ تعزیر میں جرب، زنا کی ضرب سے شدید ہوگی۔ ثوری نے اس حجت پکڑی ہے کہ زنا میں جب کوڑوں کی تعداد زیادہ ہے تو یہ محال ہے کہ قذف تکلیف میں زیادہ ہو اسی طرح شراب ہے کیونکہ شراب میں حد اجتہاد سے ثابت ہے اور مسائل اجتہاد مسائل توقیف سے زیادہ قوت والے نہیں ہوتے۔
مسئلہ نمبر 16 ۔ وہ حد جو اللہ تعالیٰ نے زنا، شراب اور قذف میں واجب کی ہے مناسب ہے کہ وہ حکام کے سامنے لگائی جائے اور اسے فضلاء اور خیار لوگ قائم کریں جن کو امام منتخب کرے اسی طرح صحابہ کرام کرتے تھے جب ان کے لیے کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا تھا اس کا سبب یہ ہے کہ یہ قاعدہ شرعیہ اور قربت تعبدیہ کے ساتھ قائم کیجاتی ہے پس اس کے فعل۔ اس کی مقدار، محل اور حال پر محافظت واجب ہے تاکہ اپنی شروط اور احکام سے کوئی چیز تجاوز نہ کرے کیونکہ مسلم کا خون اور اس کی حرمت بہت زیادہ ہے پس جتنا ممکن ہو سکے اس کی رعایت کرنا واجب ہے۔ صحیح میں حضین بن منذرابی ساسان سے مروی ہے فرمایا : میں عثمان بن عفان کے پاس موجود تھا، ولید کو لایا گیا اس نے صبح لی دو رکعتیں پڑھائیں پھر کہا : کیا میں تمہیں زیادہ پڑھائوں۔ ولید کے خلاف دو آدمیوں نے گواہی دی ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی تھی، دوسرے نے گواہی دی اس نے اس کو قئی کرتے دیکھا حضرت عثمانؓ نے فرمایا : اس نے قی نہیں کہ حتی اس نے شراب پی تھی۔ حضرت عثمان ؓ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا : اٹھو اور اسے کوڑے لگائو۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اے حسن ! اٹھو اور اسے کوڑے لگائو، جس نے کہا : یہ کام اس کے سپرد کرو جن کو یہ خلافت اچھی لگتی ہے، گویا حضرت حسن نا راضگی کا اظہار کیا۔ حضرت علی ؓ نے کہا : اے عبداللہ بن جعفر ! تم اٹھو اور اس کو کوڑے لگائو۔ پس حضرت عبداللہ بن جعفر نے اسے کوڑے لگائے اور حضرت علی ؓ نے انہیں شمار کیا (1) ۔ سورة المائدہ میں یہ حدیث گزر چکی ہے۔ حضرت عثمان ؓ نے حضرت علی ؓ کو فرمایا : اٹھو اور اسے کوڑے لگائو۔
مسئلہ نمبر 17 ۔ اللہ تعالیٰ نے قذف اور زنا میں کوڑوں کی تعداد پر نص قائم فرمائی ہے اور شراب میں اسی کوڑوں پر تمام صحابہ کی موجودگی میں حضرت عمرؓ کے فعل سے توقیف ثابت ہے۔ پس ان میں حد سے زیادہ تجاوز نہیں کیا جائے گا۔ ابن عربی نے کہا : یہ اس وقت تک ہے جو لوگ شرمین مگن نہ ہوں اور انہیں گناہ میں لذت نہ ہو لیکن جب وہ گناہوں کو عادت بنا لیں اور بار بار گناہ کریں حد کو آسان سمجھیں اور وہ برائی سے باز نہ آئیں تو پھر شدت متعین ہوجائے گی اور گناہ کی زیادتی کی وجہ سے حد زیادہ کی جائے گی۔ حضرت عمر ؓ کے پاس رمضان میں ایک نشئی کو لایا گیا تو آپ نے اس سے کوڑے لگائے، اسی شراب کی حد کے طور پر اور بیس رمضان کی حرمت توڑنے پر پس جنایات کی تغلیظ اور حرمات کی ہتک پر سزائیں مرکب کروانا واجب ہے۔ ایک شخص نے بچے کے ساتھ بدمعاشی کی تو والی نے اسے تین سو کوڑے مارے۔ امام بالک کو جب اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اسے تبدیل نہیں کیا پھر اگر امام ہمارے زمانہ میں حرمات کی ہتک اور گناہوں کی بھر مار اور برائیوں پر تعاون اور حدود کی بیع اور قضاۃ کے منصب پر غلاموں کا فائز ہونا دیکھتے تو غم و غصہ کی وجہ سے فوت ہوجاتے اور کسی کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہ کرتے ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہتر کارساز ہے۔ میں کہتا ہوں : اسی وجہ سے شراب کی حد میں زیادتی کی گئی حتٰی کہ اس کوڑوں تک پہنچ گئی۔ دار قطنی نے روایت کیا ہے ہمیں قاضی ھسین بن اسماعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں یعقوب بن ابراہیم دورقی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں اسامہ بن زید نے بیان کیا انہوں نے زہری سے روایت کیا انہوں نے کہا مجھے عبدالرحمن بن زہر نے بتایا انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو جنگ حنین کے دن دیکھا آپ لوگوں کے درمیان تھے آپ خالد بن ولید کی منزل کے بارے میں پوچھ رہے تھے پھر نشہ کی حالت میں ایک شخص لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس موجود لوگوں کو فرمایا : ” اسے اس چیز کے ساتھ مارو جو تمہارے پاس ہے “ فرمایا : رسول اللہ ﷺ اس پر مٹی ڈالی۔ فرمایا : پھر حضرت ابوبکر ؓ کے پاس ایک نشی کو لایا گیا، فرمایا : اس دن انہوں نے ضربات کو طلب کیا اور اسے چالیس کوڑے لگائے (1) ازہری نے کہا پھر حمید بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا انہوں نے ابن وبرہ کلبی سے روایت کیا فرمایا مجھے خالد بن ولید نے حضرت عمر ؓ کی طرف بھیجا فرمایا : میں ان کے پاس آیا تو ان کے پاس حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ﷺ موجود تھے اور وہ ان کے ساتھ مسجد میں سہارا لے کر بیٹھے تھے میں نے کہا : مجھے خالد بن ولید نے آپ کی طرف بھیجا ہے وہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور کہتے ہیں لوگ شراب پینے میں مبالغہ کر رہے ہیں اور اس کی سزا کو حقیر سمجھ رہے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : یہ لوگ تمہارے پاس ہیں ان سے پوچھو۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ہم دیکھتے ہیں جب شرابی شراب پیتا ہے تو ہزیان بکتا ہے اور جب ہزیان بکتا ہے تو تہمت لگاتا ہے اور تہمت لگانے والے پر اسی کوڑے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : یہی پیغام خالد بن ولید کو پہنچا دو جو حضرت علی ؓ نے کہا ہے۔ فرمایا : حضرت خالد نے اسی کوڑے لگائے اور حضرت عمر ؓ نے بھی اسی کوڑے لگائے۔ فرمایا حضرت عمر ؓ کے پاس جو کوئی کمزور شخص لایا جاتا اور اس سے لغزش ہوئی ہوتی تو اسے چالیس کوڑے لگائے۔ فرمایا حضرت عثمان ؓ نے بھی اسی کوڑے اور چالیس کوڑے لگائے۔ اسی مفہوم سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ ” اگر چاند موخر ہوتا تو میں تمہارے لیے زیادتی کرتا (2) “ جیسے کوئی نا پسند کرنے والا کہتا ہے جب صحابہ کرام صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تھے۔ ایک روایت میں ہے : ” اگر ہمارے لیے مہینہ لمبا ہوتا تو میں متواتر صوم و صال رکھتا حتیٰ کہ شدت کرنے والے اپنی شدت کو ترک کردیتے “ (3) ۔ حامد بن یحییٰ نے سفیان سے انہوں نے مسعر سے انہوں نے عطاء بن ابی مروان سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی نے نحاشی کو شراب پینے کی وجہ سے سوکوڑے لگائے۔ ابو عمر نے اس کو ذکر کیا ہے اور اس کا سبب ذکر نہیں کیا۔
مسئلہ نمبر 18 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تاخذ کم بھمارافۃ فی دین اللہ۔ محدود پر حد قائم کرنے سے شفقت کی بنا پر نہ رکو، ضرب میں تخفیف نہ کرو تاکہ اسے تکلیف ہی نہ ہو ؛ یہ اہل تفسیر کی ایک جماعت کا قول ہے۔ شعبی، نخعی اور سعید بن جبیر نے کہا : لا تا خذ کم بھما رافۃ یعنی ضرب لگانے اور کوڑے لگانے میں تمہیں رحم نہ آئے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : کسی جگہ حد قائم کرنا وہاں کے لوگوں کے لیے چالیس راتوں کی بارش سے بہتر ہے پھر یہ آیت پڑھی الرافۃ میں رحمت سے زیادہ نرمی ہے۔ رافۃ الف کے فتحہ کے ساتھ فعلۃ کے وزن پر پڑھا گیا ہے اور رافۃ فعالہ کے وزن پر بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ تین لغات ہیں یہ تمام مصادر ہیں زیادہ مشہور پہلا ہے یہ روئف سے مشتق ہے، جس کا معنی ہے نرمی کرنا اور حم کرنا کہا جاتا ہے : رأُفۃ ورآفۃ جیسے کا بہ و کا بۃ۔ وقد رافت بہ ورئوفت بہ۔ الردف اللہ تعالیٰ کی صفات سے ہے۔ العطوف کا معنی الرجیم ہے۔
مسئلہ نمبر 19 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فی دین اللہ یعنی اللہ کے حکم میں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ما کان لیا خذ اخاہ فی دین الملک (یوسف : 76) یعنی فی حکمہ۔ بعض نے کہا : فی دین اللہ کا مطلب ہے فی طاعۃ اللہ و شرعہ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں حدود کے قائم کرنے کا جو حکم دیا ہے اس میں اس کی شریعت اوعر اس کی طاعت میں، پھر انہیں تثبت اور ابھار نے کے معنی پر ان کنتم تو منون باللہ کے قول سے قائم فرمایا : یہ اس طرح ہے جیسے تو کسی شخص کو ابھارتے ہوئے کہتا ہے : اگر تو مرد ہے تو ایسا کر یعنی یہ مردوں کے کام ہیں۔
مسئلہ نمبر 20 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولیشحد غذا بھما طائفۃ من المومنین۔ بعض علماء نے کہا : اس کا مطلب ہے انہیں تعذیب دینے کے لیے وہ حاضر ہوں جو تادیب کے مستحق ہوں۔ مجاہد نے کہا : ایک آدمی سے لے کر ہزار آدمیوں تک۔ ابن زید نے کہا : چار آدمیوں کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے زنا کی شہادت پر قیاس کیا ہے۔ یہ اس کا ایک باب ہے ؛ یہی امام مالک، لیث اور امام شافعی کا قول ہے۔ عکرمہ اور عطا نے کہا : دو آدمیوں کا ہونا ضروری ہے (1) ۔ یہ امام مالک کا مشہور قول ہے، پس انہوں نے اس کو شہادت کی جگہ دیکھا۔ زہری نے کہا : تین آدمی ہوں کیونکہ یہ جمع کا کم از کم فرد ہے۔ حسن نے کہا : ایک یا ایک سے زائد ہوں، ان سے مروی ہے کہ دس ہوں۔ ربیع نے کہا : تین سے زائدہ ہوں مجاہد کی حجت یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فلو لا نفر من ملک فر قۃ منہم طائفۃ (التوبہ : 122) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وان طائفتان اگر دو گروہ، یہ دو آدمیوں کے لڑنے کے متعلق نازل ہوئی، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولیشھد عذابھما طائفۃ من المومنین۔ ایک کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے۔ اور ہزار تک افراد کو طائفہ کہا جاتا ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ابراہیم کا قول ہے۔ حضرت ابو برزہ اسلمی نے ایک لونڈی کے بارے میں حکم دیا جس نے بدکاری کی تھی اور بچہ جنم دیا تھا انہوں نے اس لونڈی پر کپڑا ڈال دیا تھا اور پھر اپنے بیٹے کو اسے پچاس ایسی ضربیں مارنے کو کہا جو زخمی کرنے والی نہ ہوں اور نہ اتنی ہلکی ہوں کہ تکلیف محسوس نہ ہو اور انہوں نے ایک جماعت کو بلایا پھر یہ آیت پڑھی ولیشھد عذابھما طائفۃ من المومنین۔
مسئلہ نمبر 21 ۔ جماعت کے حضور سے مراد کیا ہے ؟ اس میں اختلاف ہے کیا اس سے مقصود بدکاروں پر سختی اور موجود لوگوں کو تو بیخ ہے ؟ یہ محدود کو روکتا ہے اور جو موجودہ ہوتے ہیں انہیں نصیحت ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے جھڑک ہوتی ہے اس کی بات کی تشہیر ہوجاتی ہے اور بعد والے لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں یا انکے لیے تو بہ اور رحمت کی دعا کرتے ہیں اس میں علماء کے دو قول ہیں۔
مسئلہ نمبر 22:۔ حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” اے لوگو ! زنا سے بچو کیونکہ اس میں چھ خصال ہیں تین دنیا میں اور تین آخرت میں جو دنیا میں ظاہر ہوتی ہیں وہ یہ ہیں۔ چہرے کی رونق ختم ہوجاتی ہے، فقر اور غربت آجاتی ہے اور عمر کم ہوجاتی ہے۔ اور وہ جو آخرت میں ظاہر ہوں گی۔ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوگی، حساب برا ہوگا اور ہمیشہ کے لیے دوزخ میں جلنا ہوگا “۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہر جعمہ میں مجھ پر میری امت کے اعمال دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں پس زنا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب سخت ہوتا ہے “ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا : ” جب پندرہ شعبان کی رات ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ میری امت پر کرم کی نظر فرماتا ہے۔ اور ہر اس مومن کو بخش دیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھراتا مگر پانچ افراد کی بخشش نہیں ہوتای، جادو گر، کاہن، والدین کا نافرمان، ہمشیہ شراب پینے والا اور زنا پر اصرار کرنے والا “ (1)
Ayah 24:3آیت نمبر 3
مسئلہ نمبر 1 ۔ اس آیت کے معنی میں علماء تفسیر کے چھ اقوال ہیں : (1) اس آیت کا مقصد زنا کی برائی بیان کرنا اور اس کی خرابی بیان کرنا ہے۔ اور یہ کہ مومنین پر یہ حرام کیا گیا ہے۔ ما قبل سے اس معنی کا اتصال بہت عمدہ ہے۔ لا ینکح سے مراد لا بطاء ہے یعنی وطنی نہیں کرتا ہے۔ پس نکا بمعنی جامع ہوگا۔ مبالغہ کے لیے اور ہر طرف کو لینے کے لیے واقعہ کو دوہرایا پھر مشرک اور مشرکہ کی تقسیم زائد فرمائی اس حیثیت سے کہ گناہ میں شرک زنا سے اعم ہے معنی یہ ہے کہ زرانی اپنے زنا کے وقت جماع نہیں کرتا اور مشرکہ کی تقسیم زائد فرمائی اس حیثیت سے کہ گناہ میں شرک زنا سے اعم ہے معنی یہ ہے کہ زانی اپنے زنا کے وقت جماع نہیں کرتا مگر مسلمانوں میں زانیہ سے یا جو مشرکات میں سے بہتر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور آپ کے اصحاب سے مروی ہے کہ اس آیت میں نکاح سے مراد وطی ہے (2) ۔ زجاج نے اس کا انکار کیا ہے، فرمایا : کتاب اللہ میں نکاح، تزویح کے معنی میں معروف ہے، اس طرح نہیں ہے جیسا کہ زجاج نے کہا ہے قرآن حکیم میں ہے : حتی تنکح زوجا غیرہ (البقرہ : 230) نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا۔ کہ ” یہاں وطی کے معنی میں ہے “ یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ طبری نے سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس اور عکرمہ سے ایسی بات روایت کی ہے۔ جو اسی تاویل کی طرف میلان رکھتی ہے، لیکن وہ مکمل نہیں ہے۔ خطابی نے اس کو حضرت ابن عباس ؓ سے حکایت کیا ہے۔ اس کا معنی وطنی ہے یعنی زنا نہیں ہوتا مگر زانیہ کیساتھ یہ اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ زنا دونوں جہتوں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک قول ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ ابو دائود امام ترمذی نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت مرثد بن ابی مرثد قیدیوں کو مکہ سے اٹھا کرلے جاتے تھے۔ مکہ میں ایک بدکارہ عورت تھی جس کا نام عناق تھا وہ مرثد کی دوست تھی، حضرت مرثد نے کہا : میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں عناق سے نکاح کرلوں ؟ فرمایا : کچھ دیر آپ ﷺ خاموش رہے پھر یہ آیت نازل ہوئی الزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشرکۃ۔ آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور مجھ پر یہ آیت پڑھی اور فرمایا : ” تو اس سے نکاح نہ کر “۔ یہ ابودائود کے الفاظ ہیں اور امام ترمذی کی حدیث اکمل ہے۔ خطابی نے کہا : یہ اس عورت کے ساتھ خاص تھا کیونکہ وہ کافر تھی اور زانیہ مسلمہ، اس سے نکاح فسخ نہیں ہوتا۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ یہ مسلمانوں میں سے ایک فرد کے ساتھ خاص تھی جس نے رسول اللہ ﷺ سے ایک عورت سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی تھی جس کو ام مہزول کہا جاتا تھا۔ وہ بد کار عورتوں میں سے تھی اور اس نے شرط رکھی تھی کہ اس مرد پر خرچ کرے گی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : یہ عمر و بن العاص اور مجاہد کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ یہ آیت اہل صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ؛ یہ مہاجر لوگ تھے مدینہ طیبہ میں ان کے مکانات اور خاندان نہ تھے وہ مسجد کے صفہ پر رہتے تھے۔ یہ چار سو افراد تھے دن کے وقت رزق تلاش کرتے تھے اور رات کو صفہ پر گذارتے تھے۔ مدینہ میں بدکارہ عورتیں تھی جو اعلانیہ بدکاری کرتی تھیں۔ اور لباس اور خوراک کی ان کے پاس فروانی ہوتی تھی۔ اہل صفحہ نے ان سے نکاح کرنے اور ان کے مکانات میں رہنے اور ان کے طعام اور لباس سے کھانے کا ارادہ کیا تو ان کو اس سے بچانے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی ؛ یہ ابن ابی صالح کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ یہ قول زجاج وغیرہ نے حسن سے ذکر کیا ہے، حسن نے فرمایا : الزائی سے مراد وہ ہے جسے حد لگائی گئی ہو اور زانیہ سے مراد بھی وہ ہے جس پر حد لگائی گئی ہو یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے، پس جس زانی کو حد لگائی گئی ہو وہ نکاح نہ کرے مگر اس زانیہ سے جسے حد لگائی گئی ہو ؛ ابراہیم نخعی نے اسی طرح کہا ہے۔ اور مصنف ابودائود میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے (1) فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” وہ زانی جس کو حد لگائی گئی ہو وہ نکاح نہ کرے مگر اپنی مثل سے “ روایت ہے کہ ایک زانی جس کو حد لگائی گئی تھی اس نے غیر محدودۃ عورت سے شادی کی تو حضرت علی ؓ نے ان کے درمیان تفریق کردی۔ ابن عربی نے فرمایا : یہ وہ معنی ہے جو نظر کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے جیسا کہ نقلا بھی ثابت نہیں ہے، ایسے شخص کا نکاح جس کو حد لگائی گئی ہو کیا وہ محدودۃ عورتوں کے نکاح پر موقوف ہونا صحیح ہے ؟ یہ کس اثر سے ہوگا اور شریعیت کی کس اصل پر قیاص ہوگا ؟ میں کہتا ہوں : یہ قول ال کیا نے بعض اصحاب شوافع سے حکایت کیا ہے کہ زانی جب غیر زانیہ سے نکاح کرے گا تو ظاہر آیت کی وجہ سے ان کے درمیان تفریق کی جائے گی۔ ال کیا نے کہا : اگر وہ ظاہر پر عمل کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ زانی کے لیے مشرکہ سے بھی نکاح کو جائز قرار دے اور زانیۃ کے لے مشرک مرد سے نکاح کرنا بھی جائز قرار دے یہ انتہائی بعید ہے، یہ کلیۃ اسلام سے خروج ہے۔ کبھی یہ علماء کہتے ہیں : یہ آیت خاص مشرک میں مسنوخ ہیِ زانیۃ کے لیے مشرک مرد سے نکاح کرنا بھی جائز قرار دے یہ انتہائی بعید ہے، یہ کلیۃ اسلام سے خروج ہے۔ کبھی یہ علماء کہتے ہیں : یہ آیت خاص مشرک میں منسوخ ہے، زانیۃ کے حق میں منسوخ نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ یہ آیت منسوخ ہے امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے فرمایا : الزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشرکۃ اس آیت کو بعد والی آیت و انکحوا الا یامی منکم نے منسوخ کردیا ہے ؛ یہ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے، فرمایا : ایامی المسلمین میں زانیۃ بھی داخل ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : یہ قول اکثر علماء کا ہے، اہل فتویٰ فرماتے ہیں : جس نے کسی عورت سے زنا کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس سے نکاح کرے اور دوسرے شخص کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ اس زانیۃ سے نکاح کرلے۔ یہ حضرت ابن عمر، حضرت سالم، حضرت جابر بن زید ﷺ عطائ، طائوس، امام مالک بن انس کا قول ہے اور یہی قول امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا ہے۔ امم شافعی نے فرمایا : اس میں قول اسی طرح ہے جس طرح سعید بن مسیب نے فرمایا، انشاء اللہ یہ منسوخ ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : اس آیت میں اشراک کا ذکر ان مناحی کو کمزور کرتا ہے۔ ابن عربی نے کہا : میرے نزدیک یہ ہے کہ نکاح سے مراد وطی ہوگا جس طرح حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے یا نکاح سے مراد عقد نکاح ہوگا اگر اس سے مراد وطی ہوگا تو اس کا معنی ہوگا زنانہ ہوگا مگر زرانیہ کے ساتھ، یہ عبارت ہے اس سے کہ وطی، مرد اور عورت دونوں جہتوں سے ہوتی ہے، آیت کی تقدیر اس طرح ہوگی زرانیہ کی وطی واقع نہ ہوگی مگر زانی سے یا مشرک سے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور یہ معنی صحیح ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اگر بالغ آدمی بچی سے زنا کرے یا عاقل، مجنونہ سے زنا کرے یا بیدار شخص سوئی ہوئی سے زنا کرے تو مرد کی جہت سے زنا ہوگا پس یہ مردزانی غیر زانیہ سے نکاح کرے گا۔ پس گذشتہ مسئلہ کی صورت سے یہ خارج ہوگا۔ ہم کہیں گے : یہ ہر جہت سے زنا ہے مگر ایک میں حد ساقط ہے دوسرے میں ثابت ہے۔ اگر نکاح سے مراد عقد نکاح سے مراد عقد نکاح ہو تو اس کا معنی ہوگا زانیہ سے نکاح کرنے والا جس نے زنا کیا اور اس کے ساتھ اس نے و خول کیا جبکہ ابھی تک اس سے اس کا رحم صاف نہیں ہوا، تو وہ زانی کے قائم مقام ہوگا مگر اس پر حد نہ ہوگی کیونکہ اس میں علماء کا اختلاف ہے، مگر جب اس نے اس سے عقد نکاح کیا اور اس کے ساتھ دخول نہیں کیا حتیٰ کہ اس کا رحم صاف ہوجائے تو یہ بال جماع جائز ہے۔ بعض علماء نے کہا : آیت میں یہ مراد نہیں کہ زانی کبھی نکاح نہ کرے مگر زنا کرنے والی عورت سے کیونکہ اس کا غیر زانیہ سے نکاح کرنا مقصود ہوتا ہے لیکن معنی یہ ہے کہ جس نے زانیہ سے نکاح کیا وہ زانی ہے گویا فرمایا : زانیہ سے نکاح نہ کرے مگر زانی۔ پس کلام میں قلب ہوا، وہ یہ ہے کہ زانیہ سے نکاح نہ کرے مگر وہ اس کے زنا سے راضی ہو اور وہ اس سے راضی ہوتا ہے جب وہ خود اس سے زنا کرنے والا ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ زرانیہ سے نکاح کرنا صحیح ہے جب کسی مرد کی بیوی زنا کرے تو اس کا نکاح فاسدنہ ہوگا جب مرد زنان کرے تو اس کا اپنی بیوی سے نکاح فاسد نہ ہوگا کیونکہ یہ آیت منسوخ ہے، بعض نے کہا : یہ آیت محکم ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا حضرت ابوبکر ؓ کے زمانہ میں ایک عورت سے زنا کیا تو آپ نے دونوں کو سو سو کوڑے لگائے پھر اسی وقت انہوں نے ایک دوسرے سے نکاح کرلیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے دونوں کو ایک سال کے لیے جلا وطن کیا تھا۔ اسی کی مثل حضرت عمر، حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر ﷺ سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا آغاز زنا تھا آخر نکاح تھا آخر نکاح تھا، اس کی مثال اس طرح ہے کہ کوئی شخص کسی باغ سے چوری کرے پھر وہ باغ والے کے پاس آئے اور اس سے وہ پھل خریدلے تو اس نے جو چوری کیا تھا وہ حرام تھا اور جو خریدا وہ حلال ہے اسی کو امام شافعی اور امام ابوحنیفہ نے اختیار کیا ہے۔ اور ان کا خیال ہے کہ پانی کی کوئی حرمت نہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مرودی ہے فرمایا : جب مرد، عورت سے زنا کرے پھر اس کے بعد اس سے نکاح کرلے تو وہ ہمیشہ زنا کرنے والے ہوں گے ؛ امام مالک کا مسلک ہے ان کا خیال ہے کہ اس سے نکاح نہ کرے یہاں تک کہ اس کا رحم اس فاسد پانی سے صاف ہوجائے، کیونکہ نکاح کی حرمت ہے اور اس کی حرمت سے یہ ہے کہ زنا کے پانی پر اسے نہ انڈیلا جائے تاکہ حلال، حرام مل نہ جائیں، ذلیل پانی اور عزت والا پانی مل نہ جائیں۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ ابن خویز منداد نے کہا : جو علانیہ زنا یا دوسرے برے کاموں میں معروف ہو پھر وہ کسی معزز گھرانے کی عورت سے نکاح کرے اور وہ انہیں دھوکا دے تو انہیں اختیار ہے چاہیں تو اس کے ساتھ رہیں چاہیں تو اس سے جدائی کرلیں۔ یہ عیوب میں سے کسی عیب کی طرح ہے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کے قول سے حجت پکڑی ہے کہ ” ایسا زانی جس کو کوڑے لگائے گئے ہوں وہ نکاح نہ کرے مگر اپنی مثل سے “ (1) ۔ ابن خویز مداد نے کہا : کوڑے لگائے گئے کا ذکر کیا کیونکہ وہ فسق کے ساتھ مشہور ہے یہ وہ ہے جس کے درمیان میں دوسرے کے درمیان تفریق کرنا واجب ہے اور جو فسق میں مشہور نہ وہو تو جدائی نہ کی جائے گی۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ متقد میں کی ایک قوم نے کہا : یہ آیت محکم اور غیر منسوخی ہے۔ ان علماء کے نزدیک جس نے زنا کیا اس کا اور اس کی بیوی کا نکاح فاسد ہوجائے گا۔ جب عورت زنا کرے گی تو اس کا اور اس کے خاوند کا نکاح فاسد ہوجائے گا، ان علماء میں سے بعض نے کہا : زنا سے نکاح فاسد نہ ہوگا لیکن مرد کو حکم دیا جائے گا کہ وہ وعورت کو طلاق دے جب اس عورت نے زنا کیا ہو۔ اگر وہ اسے اپنے پاس رکھے گا تو گہنگار ہوگا اور زانیہ کے ساتھ اور زانی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں بلکہ اگر توبہ ظاہر ہوجائے تو اس وقت نکاح جائز ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ و حرم ذالک علی المومنین۔ ان بدکاروں کا نکاح مومنین پر حرام کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ان بدکاروں کے نکاح کو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی امت پر حرام قرار دیا ہے۔ ان عورتوں میں سے مشہور عنائق تھی۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کو کتاب اللہ میں حرام کیا ہے۔ جب مرد زنا کرے گا تو اس حد ہوگی۔ یہ امام مالک، امام شافعی اور ابو ثور کا قول ہے۔ اصحاب الرائے نے کہا : ” وہ مسلمان شخص جو دارالحرب میں امان کے ساتھ رہ رہا ہو اور وہ وہاں زنا کرے “ پھر دارالسلام میں نکل آئے تو اس پر حد نہ ہوگی۔ ابن المنذر نے کہا : دارالحرب اور دارالاسلام برابر ہیں جو بھی زنا کرے گا اس پر حد ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :