24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 24:1–3

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ سورة ہے کہ جس کو ہم نے ہی نازل کیا اور اس کے احکام ہم نے ہی فرض کئے ہیں اور ہم نے ہی اس میں کھلی کھلی آیتیں نازل کیں ہیں تاکہ تم سمجھو۔

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

عورت زنا کرے اور مرد زنا کرے تو ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور تم کو اللہ کے حکم میں ان پر کچھ بھی ترس نہ کرنا چاہیے اگر تم اللہ اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہو اور چاہیے کہ ان کے عذاب کو مسلمانوں کی ایک جماعت دیکھے

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

(اکثر) زنا کرنے والا تو بجز بدکار عورت یا مشرک عورت کے نکاح نہیں کرتا ہے اور بدکار عورت سے (اکثر) زانی یا مشرک ہی نکاح کیا کرتے ہیں اور مومنوں پر تو یہ (زنا) حرام کردیا گیا ہے۔

ترکیب : سورة مبتداء محذوف کی خبر اے ھذہ انزلناھا سورة کی صفت فا جلدوا الزانیۃ و الزانی کی خبر مائۃ منصوب ہے مفعول مطلق کی صفت ہو کر وکذا ثمانین۔ تفسیر : ابن مردویہ نے روایت ابن عباس و ابن زبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہے۔ سورة مومنون کے خاتمہ میں اس دعا کرنے کا حکم دیا تھا کہ اے رب ! ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر کیونکہ تو بڑارحم والا ہے۔ رحمتِ الٰہی اس کی مخلوق بالخصوص انسان پر ہمہ وقت سایہ افگن ہے مگر اس رحمت سے محروم کرنے والی یا یوں کہو اس نور کا حجاب دو ہی چیزیں ہیں : اول خالق سے سرکشی اس سے غفلت ‘ دوسرے معبودوں کی طرف التفات۔ اس کا تدارک تو سورة مومنون میں بخوبی کردیا فلاح کے کام ارشاد فرمائے۔ دوم حقوق العباد میں ظلم اور کسی کو ناحق ایذا دینا منجملہ ان کے زنا ہے اور اسی طرح کسی پارسا پر زنا کی تہمت لگانا بھی بمنزلہ زنا ہے۔ آبروریزی اور فتنہ فسادات اور تمدن اور معاشرت کے اصول کے خلاف اور بڑا ہی ظلم اور مردم آزادی ہے اس لیے اس سورة میں اس کا تدارک کرنا بھی ضروری تھا ورنہ نصاب تعلیم میں قصور متصور ہوتا اس لیے اس سورة میں زنا اور تہمت اور زنا کے اسباب ‘ عورتوں کی بےحجابی ‘ عورتوں کو اپنے محاسن کا دکھانا اور کسی کے گھر میں بےاجازت چلا جانا یا اپنے ہی گھر میں بےدھڑک ننگے کھولوں میں چلا آنا ‘ سب کو کس عمدہ پیرایہ سے حرام و ممنوع فرمایا ہے اور انسانی تہذیب اور معاشرت کا دستور العمل بنا دیا گیا ہے۔ اس لیے سب سے اول اس سورة کے فضائل اور اس کے احکام کا وجوب اجمالاً ارشاد فرمایا ہے فقال سورة انزلناھا کہ یہ سورة ہم نے نازل کی ہے پیغمبر (علیہ السلام) نے اپنی طرف سے نہیں گھڑی ہے ہم نے فرضنھا اس کے احکام فرض واجب کئے ہیں نہ کسی غیر نے وانزلنا فیھا آیات بینات اور ہم نے ہی اس سورة میں آیات بینات نازل کئے ہیں یعنی احکام مفیدہ جن کے مفید ہونے میں کسی کو بھی کلام نہیں اس لیے وہ آیات اللہ یعنی اس کی نشانیاں ہیں بشر اور وہ بھی ان پڑھ اور اس ملک کا جس میں تہذیب شایستگی مفقود ‘ پھر نہ اس کی معین کوئی قانونی جماعت ایسے احکام بیان کرے ‘ نبوت کی دلیل ہے اور دلیل بھی کیسی روشن اور آیات بنیات کیوں نازل کئے لعلکم تذکرون تاکہ تم سمجھو عقل پکڑو اس تمہید کے بعد احکام شروع ہوتے ہیں : زنا کا مسئلہ : (1) الزانیۃ الخ کہ مرد یا عورت جو کوئی زنا کرے اس کو سو درے مارو لوگوں کے سامنے تاکہ لوگوں کو عبرت و نصیحت ہو اور اس حکم کی تعمیل میں کسی پر رحم نہ کھائو۔ شریف ووضیع اپنے وبیگا نے کا کچھ لحاظ نہ کرو اگر تم کو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ سخت تاکید و 1 ؎ یعنی اس کے احکام فرض اور واجب التعمیل ہیں 13۔ منہ۔ تہدید ہے یعنی اگر ایسا نہ کروگے تو تمہارے ایمان میں کلام ہے پھر اس کام کے کرنے والوں کی توہین کی جاتی ہے کہ الزانی لاینکح کہ یہ بدنصیب اور ناپاک گروہ پاک مردوں اور عورتوں سے نکاح کرنے کے قابل ہی نہیں ‘ اکثر اپنی ہی جنس کو ڈھونڈ لیا کرتے ہیں۔ انہیں سے ان کو رغبت ہوا کرتی ہے لیکن ایمانداروں پر یہ حرام ہے۔ زنا کے معنی : زنا کی تعریف بعض علماء نے یہ کی ہے کہ پیشاب گاہ کو اس مقام مخصوص میں داخل کرنا (فرج میں) جو طبعاً مرغوب اور قطعاً حرام ہو۔ غالباً یہ تعریف عرف عام کے دستوروں کو اور شرعی قیود کو ملحوظ رکھ کر کی ہے پیشاب گاہ داخل کرنے کی قید سے یہ بات پیدا ہوئی کہ اگر کوئی کسی کی فرج میں انگلی یا لکڑی داخل کرے گا اس پر زنا کا اطلاق ہوگا نہ اس کے احکام جاری ہوں گے یہ اور بات ہے کہ یہ فعل بھی حرام و ممنوع ہے اور اس کے لیے تعزیز ہے۔ اسی طرح ایسے مقام مخصوص میں داخل کرنے کی قید سے جو طبعاً مرغوب ہو بعض کے نزدیک دبر یعنی پائخانہ کی جگہ میں داخل کرنے سے خواہ مرد کے خواہ عورت کے زناکا اطلاق نہ ہوگا نہ اس پر احکام زنا جاری ہوں گے البتہ یہ فعل بھی حرام ہے اور اس کی تعزیز ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کیونکہ یہ مقام طبعاً مرغوب نہیں۔ طبائعِ سلیمہ کا ذکر ہے نہ خبیثہ کا مگر امام شافعی (رح) اس کو بھی زنا کہتے ہیں کیونکہ لذت اور قضائے شہوت دونوں جگہ برابر ہے اور اسی طرح چار پایوں سے کرنے کو بھی زنا نہ کہیں گے گو اس حرام فعل پر اس کو سزا دی جائے گی اور اسی طرح حرام قطعی کے قید سے یہ بات پیدا ہوئی کہ جو فرج اس کے لیے حلال ہے جیسا کہ اس کی بیوی اور شرعی لونڈی اس کے ساتھ کرنے سے زنا کا اطلاق نہ ہوگا گو حالات حیض و نفاس ہی کیوں نہ ہو یہ اور بات ہے کہ حالات حیض و نفاس میں بیوی کے ساتھ بھی یہ فعل کرنا شرعاً حرام ہے اور اسی طرح جہاں حرام قطعی نہیں بلکہ شبہ اور اختلاف کی صورت ہو جیسے کہ وطی بالشبہ یا نکاح فاسد وغیرہ۔ اس طرح عورت کا عورت سے رگڑنا یا ہاتھ سے مرد کا منی نکالنا بھی زنا نہیں گو شرعاً ممنوع اور بدکام ہے۔ یہ بہت سے مسائل ہیں کہ جن کی تفصیل اور ادلہ بڑی کتابوں میں ہیں زنا کی برائی تمام عقلا کے نزدیک ادلہ عقلیہ سے ثابت ہے اور اہل ادیان بھی اس کو برا جانتے ہیں۔ زنا کی قباحت : ہماری شریعت میں بھی کثرت سے اس کی برائیاں آئی ہیں ایک جگہ قرآن شریف میں آیا ہے لاتقربوا لزنا کہ زنا کے پاس بھی نہ جائو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے بری نگاہ سے دیکھنا بھی زنا ہے یعنی ویسا ہی گناہ ہے اسی طرح ہاتھ سے چھونا اور شہوت انگیز باتیں کرنا بلکہ دل میں اس کا قصد مصمم کرنا بھی گناہ ہے۔ اس فعل کے نتائج : اس فعلِ بد کی شامت سے دنیا میں بھی انسان پر سینکڑوں بلائیں نازل ہوتی ہیں ‘ دشمن کا غلبہ ‘ رزق کی تنگی ‘ عزت وہیبت کی بربادی عمر میں بےبرکتی ‘ ملک و دولت کی بربادی ‘ وباء اور سینکڑوں بیماریوں کا آنا اور روح پر بھی ایک ایسی تاریکی پیدا ہوتی ہے جو مرنے کے بعد اندھیری اور عذاب آتش بن کر سامنے آئے گی۔ خدا تعالیٰ کی نظر میں بھی یہ شخص مقہور ہوجاتا ہے روحانی لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں دعا میں اثر نہیں رہتا وغیرہ ذلک توبہ توبہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں زنا کی سزا جان سے مار ڈالنا تھا جیسا کہ توریت کتاب احبار کے بیسویں باب کا دسواں جملہ ہے قولہ وہ جو دوسرے کی جو روکے ساتھ یا اپنے پڑوسی کی جو روکے ساتھ زنا کرے وہ دونوں قتل کئے جاویں اور 19 باب کے 20 درس میں غیر کی لونڈی اور غیر کی منگیتر کے ساتھ زنا کرنے کی سزا میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے اور جب لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک زنا کار عورت کو مارنے کے لیے لائے تو آپ نے حد نہ ماری نہ حد مارنے کا حکم دیا جیسا کہ انجیل میں موجود ہے۔ اس لیے عیسوی شریعت میں زنا پر کوئی حد قائم نہیں اور شاید اسی خیال سے انگریزی قانون میں زنا صرف شوہر دار عورت کے ساتھ مباشرت کرنے کا نام ٹھہرایا گیا جس پر کچھ خفیف سی سزا رکھی ہے اور نئی تعلیم کے لوگ خواہش نفسانی کے لحاظ سے اس کو پسند کرتے ہیں۔ مگر قرآن مجید نے اس افراط وتفریط کو دور کر کے یہ مناسب حکم دیا۔ الزانیۃ والزانی الخ کہ زنا کار کو سو کوڑے 1 ؎ مارو اور اس حکم میں فروگذاشت نہ کرو اور یہ سزا جماعت کے سامنے دو ۔ اول اسلام میں زنا کی سزا بیاہی کے لیے گھر میں قید کر کے رکھنا تھا موت تک اور کو اری کے لیے زبان سے لعنت ملامت کرنا جیسا آیا ہے واللاتی الفاحشۃ من نسائکم فاستشہد واعلیہن اربعۃ منکم فان شہدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفاھن الموت او یجعل اللہ لہن سبیلا والذین یاتیانہا منکم فاذوھما فان تابا واصلحا فاعرضوا عنہما۔ اور اسی طرح لونڈی غلام جو اس امر قبیح کے مرتکب ہوتے تھے تو ان کو جوتے تھپڑ مار کر چھوڑ دیتے تھے پھر یہ حکم بدل گیا بیاہی کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا اور کنواڑی کی سزا سو کوڑے یا درے مقرر ہوئے۔ امام شافعی (رح) اس کے ساتھ برس تک جلاوطنی کا بھی حکم حدیث سے استدلال کر کے دیتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) حدیث کو منسوخ العمل قرار دیکر یہ بات امام کی رائے کے سپرد کرتے ہیں کہ چاہے تعزیراً ایسا کرے اگرچہ الزانیۃ و الزانی کا لفظ عام ہے لہذا خوارج اسی عموم کو ملحوظ رکھ کر محصن کے لیے بھی سو درے کی سزا قرار دیتے ہیں رجم نہیں کہتے مگر اس میں کوئی بھی شبہ نہیں کہ لونڈی کی سزائے زنا پچاس درے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فان اتین بفاحشۃ فعلیھن نصف ماعلی المحصنات من العذاب اور غلام کا بھی یہی حکم اس پر قیاس کر کے قائم ہے پس اس عموم کی تخصیص ہوگئی اور عموم مخصوص البعض کی تخصیص خبرا حاد سے درست ہے چہ جائیکہ مخصص خبر متواتر ہو۔ پس جمہور اہل سنت کا یہ مذہب ہے کہ جو مرد یا عورت محصن ہو (یعنی عاقل بالغ مسلم نے نکاح صحیح کر کے ایک بار مباشرت کا حصہ حاصل کرلیا ہو جس کو عرف عام میں بیاہا ہوا کہتے ہیں) اس کو سنگسار کرنا چاہیے۔ یہ سزا بسند 2 ؎ صحیح آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے اور اس پر اجماع صحابہ منعقد ہوچکا ہے اس لیے اس حکم کے مؤکد کرنے کے لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا (1) ولا تاخذکم بہما رافۃ الخ کہ تم کو یہاں ترس نہ کھانا چاہیے اگر تم کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہو۔ (2) یہ سزا مسلمانوں کی ایک جماعت کے سامنے ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو اور یہ خراب بات جہاں سے کم ہو الزانی لاینکح الازانیۃ او مشرکۃ والزانیۃ لاینکحہا الازان او مشرک مکررجملہ نہیں کس لیے زانیہ کو بسا اوقات نیک مرد سے نکاح کی رغبت ہوتی ہے یہ تیسری زنا کی ہے۔ اگر ان الفاظ کو خبر تسلیم کیا جاوے کماھوالظاہر تو یہ ایک عام اور غالب دستور کا ذکر ہے کہ بدکار کو بدکار یا مشرکہ عورت سے رغبت ہوا کرتی ہے اور اسی طرح ایسی عورتوں کو ایسے مردوں سے رغبت ہوتی ہے اور وہی باہم نکاح یا وطی کرتے ہیں اور ایمانداروں کے لیے یہ رغبت بحیثیت مذکورہ حرام ہے یہ معنی سعید بن جبیر و ابن عباس و عکرمہ کے نزدیک ہیں یا بالخصوص ان کے حق میں ہے کہ جن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ چناچہ نسائی و احمد نے روایت کی ہے کہ ایک عورت جس کا نام ام مہزوں تھا بدکار تھی۔ ایک صحابی نے اس سے نکاح کرنا چاہا اور آنحضرت ﷺ سے پوچھا تو ممانعت میں یہ آیت نازل ہوئی اس لیے بعض ائمہ کے نزدیک زنا کار عورت سے نکاح درست نہیں نہ پارسا عورت کا بدکار مرد سے نکاح درست ہوسکتا ہے مگر صحیح توجیہ وہی ہے جو پہلے بیان ہوئی کہ زنا کاروں کو ایسی ہی بدکار عورتوں سے نکاح کی رغبت ہوتی ہے ورنہ بقصد تعفف زنا کار عورت سے نکاح کرلینا شرعاً جائز ہے اور ایسا عہد صحابہ ؓ میں ہوا ہے کہ جس نے کسی عورت سے زنا کیا بعد میں اس کے ساتھ نکاح ہوا اس نکاح کو جائز سمجھا گیا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ فاحشہ عورتوں سے نکاح کرنا اچھا نہیں واللہ اعلم۔ 1 ؎ عورت کو مقدم اس لیے کہا کہ پیشتر اس فعل بد کی ابتداء اس کی لگاوٹ سے پیدا ہوتی ہے یا اس لیے کہ زنا کا عار اس کے لیے زیادہ ہے۔ 12 2 ؎ چناچہ بخاری و مسلم نے سنگسار کیا جانا بسند صحیح روایت کیا ہے اور یہ ماجرا حد تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 24:4–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

وہ جو پاکدامن عورتوں پر تہمت (زنا) لگاتے ہیں پھر چار گواہ نہیں لاتے تو ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی کبھی گواہی قبول نہ کرو اور خود یہی لوگ خود بدکار ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

مگر وہ جو اس کے بعد توبہ کرے اور درست ہوجاوے تو بیشک اللہ بھی غفور رحیم ہے

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو اپنی بیبیوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے لیے بجز اپنے اور کوئی گواہ نہیں تو ان کی یہی شہادت ہے کہ ہر ایک چار بار اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ بیشک وہ (میں) سچا ہوں

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے کہ اس پر (یعنی مجھے) اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور اس کے بعد عورت کی سزا کو بھی یہ بات دور کردے گی کہ وہ بھی چار بار اللہ کو گواہ کر کے یہ کہے کہ بیشک وہ سراسر جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں بار کہے بیشک اس پر (یعنی مجھ پر) اللہ ہی کا غضب پڑے اور اگر وہ سچا ہو

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے (تو کیا کچھ نہ ہوجاتا) ۔

ترکیب :۔ والذین یرمون مبتداء فاجلدوھم بالتاویل اس کی خبر واولئک الخ جملہ مستانفہ، الا الذین ایک جماعت کے نزدیک پہلے جملوں سے استثناء ہے اور ایک جماعت کے نزدیک صرف الفاسقون سے اور موضع اس کا نصب ہے علی الاصل، الا انفسہم نعنت شہداء کی ہے یا اس سے بدل۔ فشھادۃ احدھم مصدر مضاف فاعل کی طرف متبداء والخبر فالواجب شہادۃ احد ھم اربع منصوب ہے۔ مصدر ہونے کی وجہ سے۔ اے ان یشہد احدہم اربع الخ باللہ۔ تفسیر …تہمت زنا کا حکم : بصریوں کے نزدیک شہادت سے اور کو فیوں کے نزدیک شہادۃ سے متعلق ہے یہ دوسرا حکم تہمت زنا کی بابت ہے جبکہ زنا کی قباحت اور اس کی سزا مقرر ہوئی تو کسی کو اس کے ساتھ متہم کرنے کی بھی ممانعت اور اس کی سزا مقرر ہونی چاہیے تھی والذین یرمون المحصنت رمی پھینکنا یہ استعارہ ہے تہمت زنا سے کیونکر تہمت لگانے والا گویا پتھر پھینک رہا ہے اور اس کو قذف کہتے ہیں۔ اس آیت کا صاف حکم یہ ہے کہ جو کوئی کسی پارسا عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر اپنے ثبوت میں چارگواہ نہ پیش کرسکے تو اس کو اسی درے مارو اور کبھی اس کی گواہی نہ قبول کرو وہ فاسق ہے مگر جب توبہ کرے اور نیک ہوجاوے تو خیر کیونکر اللہ غفور رحیم ہے۔ یہاں چند باتیں قابل غور ہیں : (1) محصنات سے کیا مراد ہے ؟ احصان پاک دامنی کو کہتے ہیں خواہ عورت بیاہی ہو خواہ کنواری اگر پاکدامن ہے تو محصنہ ہے۔ اسی طرح آیت کا عموم چاہتا ہے خواہ کافرہ ہو خواہ مومنہ ‘ خواہ آزاد ہو خواہ لونڈی ‘ غریب ہو یا امیر ‘ شریف القوم ہو یا نہ ہو مگر فقہاء نے احادیث یا دیگر مقامات میں غوروفکر کرے احصان میں چند شرطیں لگائی ہیں اسلام ‘ عقل ‘ بلوغ ‘ حریت ‘ عفت۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کافرہ عورت کو تہمت لگانے سے یہ سزا نہ ہوگی بلکہ تعزیر مگر امام زہری و سعید بن المسیب و ابن ابی لیلی کافرہ کو بھی شامل کرتے ہیں اس پر تہمت لگانے والوں کو بھی یہی سزا دینا فرماتے ہیں۔ اور اسی طرح دیوانی یا نابالغ یا لونڈی یا زنا کار عورت کو (خواہ بالفصل وہ زنا سے تائب ہوگئی ہو) تہمت لگانے پر صرف تعزیر کا حکم دیتے ہیں نہ یہ حد۔ گرچہ آیت میں پارسا عورتوں پر تہمت لگانے میں سزا مذکور ہے مگر تمام امت محمدیہ اس بات پر متفق ہے کہ یہی سزا پارسا مرد پر تہمت لگانے میں بھی ہے۔ (2) والذین یرمون سے کون مراد ہیں ؟ آیت کا عموم چاہتا ہے کہ کوئی کیوں نہ ہو خواہ عورت ہو خواہ مرد ہو ‘ مسلمان ہو خواہ آزاد ہو جو تہمت لگائے اس کو بھی سزا دی جائے گی مگر یہاں بھی علماء نے لڑکے یا دیوانے کو بحکم حدیث رفع القلم عن ثلاث الخ مستثنیٰ کیا ہے کہ ان پر حد نہ قائم ہوگی ہاں اگر حاکم مناسب جانے تو کچھ گو شمالی کر دے۔ (3) جن پر کہ جرم تہمت قائم ہو پھر کیا سب کو یہی سزا ہونی چاہئے ؟ آیت کا عموم بھی چاہتا ہے مگر امام شافعی و ابوحنیفہ ومالک و ابو یوسف و محمد وزفر وغیرہم (رح) غلام یا لونڈی پر نصف سزا یعنی چالیس درے مارنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس آیت سے فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ فعلیہن نصف ما علی المحصنات من العذاب کیونکہ اس آیت میں لونڈیوں کی سزا، زنا نصف قرار دی ہے جس میں غلام بھی شامل ہیں پھر جب زنا کی نصف سزا ہے تو تہمت کی بھی نصف ہونی چاہئے۔ امام جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عثمان ؓ اور ان کے بعد سب کو میں نے غلام لونڈیوں کو اس جرم میں یہی سزا دیتے دیکھا ہے۔ امام اوزاعی پوری سزا کا حکم لگاتے ہیں اور عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی یہی منقول ہے اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے پوری سزا دی تھی مسئلہ اختلافیہ ہے۔ (4) الا الذین تابوا الخ کس سے استثناء ہے ؟ شعبی کہتے ہیں کہ یہ استثناء سب پہلے جملوں کی طرف رجوع کرتا ہے فاجلدوھم اور لا تقبلوا لہم شہادہ واولئک الخ یعنی توبہ کرنے کے بعد نہ اس کو اسی درے مارو نہ اس کی گواہی رد کرو نہ وہ فاسق ہے۔ ابن عباس و عمر ؓ و سعید بن جبیر و مجاہد وعطاء و امام مالک و شافعی (رح) کہتے ہیں صرف پچھلے دونوں جملوں سے استثناء ہے یعنی توبہ کرنے کے بعد اس کی گواہی قبول ہے اور فاسق نہیں توبہ کرنے کے بعد اس کی شہادت قبول ہوگی خواہ اس پر حد قائم ہوئی ہو یا نہیں نخعی و شریح و امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں صرف اولئک ھم الفاسقون سے استثناء ہے یعنی توبہ کرنے کے بعد وہ فاسق نہیں رہتا ہاں اس پر حد بھی قائم ہوگی اور ابداً اس کی گواہی بھی مقبول نہ ہوگی جس طرح کہ چوری یا دیگر جرائم میں توبہ کرنے سے عنداللہ اس کا فسق تو دفع ہوجاتا ہے لیکن سزا دینا نہیں اٹھتی اور گواہی قبول نہ کرنا بھی سزا دینا ہے اور یہی بات قرین قیاس بھی ہے۔ باقی ہر ایک کے دلائل ان کی کتابوں میں مذکور ہیں جس کو شوق ہو وہاں دیکھ لے۔ واللہ اعلم۔ فائدہ : زنا کے ثبوت میں چار گواہوں کا ہونا محض بنظر پردہ پوشی شرط کیا گیا ہے ورنہ دوگواہوں سے قتل ثابت ہوجاتا ہے اور ایسا ہی ہونا عین حکمت ہے کیونکہ ہر فعل کے ثبوت میں دو شخصوں کی گواہی پیش ہوتی ہے اور یہ فعل دو کا ہے اس لیے دو گواہ عورت کے لیے دو مرد کے لیے چار گواہوں کی ضرورت ہوئی لعان کا بیان : والذین یرمون ازواجہم الخ تیسرا حکم اپنی بیوی کی بابت تہمت لگانے کا ہے کہ جو کوئی اپنی بیوی کو زنا کی تہمت لگائے اور اس کو چار گواہ نہ ملیں (گرچہ قیاس بھی چاہتا تھا کہ ایسی صورت میں اس پر بھی اسی درے مارنے چاہییں مگر عادتاً غیر عورت پر تو تہمت لگانا عداوت یا رسوائی کے لیے ایک معمولی بات ہے لیکن اپنی بیوی پر تہمت لگانے میں اس کی بھی بےعزتی ہے اس لیے بغیر سبب قوی اور اپنے معائنہ کی کوئی سلیم الفطرۃ اپنی بیوی پر ایسا الزام نہیں لگا سکتا ہے اور ایسے موقعوں پر چار گواہوں کا بہم پہنچانا بڑی مشکل بات ہے۔ اس لیے اس بارے میں دونوں کی رعایت رکھ کر یہ حکم جداگانہ دیا گیا) تو خاوند چار بار اللہ کی قسم کھا کر حاکم کے روبرو یہ کہے کہ میں سچا ہوں یہ چار قسمیں بمنزلہ چار گواہوں کے ہیں اور پانچویں باریہ کہے اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ پس اس قسم کے بعد مرد پر بالزام تہمت اسی درے نہ مارے جائیں گے۔ اب رہی بیوی اگر اس نے زنا کا اقرار کرلیا تو وہ سنگسار کی جائے گی اور اگر وہ اس حد سے بری ہونا چاہے تو اس کو بھی چار بار اللہ کا نام لے کر یہ قسم کھانی پڑے گی کہ باللہ یا بخدایا اللہ کی قسم ! وہ یعنی شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو جو وہ سچا ہو۔ اس کو شرع میں لعان کہتے ہیں۔ لعان کے بعد دونوں میں نکاح باقی نہ رہے گا اور پھر کبھی اس مرد کو اس عورت سے نکاح درست نہ ہوگا اور جو اس حمل سے بچہ پیدا ہوگا وہ اس مرد کا نہ کہلائے گا۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ طلاق نامہ تصور ہوگا اور امام شافعی (رح) اس کو فسخ نکاح کہتے ہیں مالک (رح) و شافعی (رح) وغیرھما کہتے ہیں اس لعان میں حر عبد مسلمان ذمی سب شریک ہیں زہری اوزاعی ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ خاص مسلمان حر غیر محدود میں جاری ہوسکتا ہے یعنی جو اہل الشہادۃ ہو اور عورت کے قاذف پر حد قائم ہوسکتی ہو۔ بخاری و مسلم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے کہ عویمر ؓ نے عاصم بن عدی ؓ سے کہا تھا کہ تو نبی ﷺ سے پوچھ کہ اگر کوئی اپنی بیوی کے پاس کسی کو پاوے تو کیا کرے ‘ مار ڈالے۔ عاصم نے حضرت ﷺ سے پوچھا آپ نے یہ سوال مکروہ جانا تب عویمر نے کہا خیر میں خود جا کر حضرت ﷺ سے پوچھوں گا۔ تب آپ نے فرمایا کہ تمہارے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں ائمہ کا اس میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں عویمر کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی بعض کہتے ہیں ہلال بن امیہ ؓ کے حق میں بعض کہتے ہیں اول تو ہلال کا معاملہ پیش آیا پھر جب ہی عویمر کا بھی دونوں اس میں شریک ہوگئے۔
Ayahs 24:11–14

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جو لوگ طوفان 1 ؎ بنا کر لائے ہیں وہ تمہارے ہی میں کا تو ایک گروہ ہے۔ اس کو اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے بقدر عمل گناہ ہے۔ اور ان میں سے جس نے کہ اس کا بیڑا اٹھایا ہے اس کے لیے تو بڑا عذاب ہے۔

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) جب تم نے اس کو سنا تھا تو کس لیے ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو صریح بہتان ہے۔

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

وہ کس لیے اس بہتان پر چار گواہ نہ لائے پھر جب وہ گواہ نہ لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی دنیا اور آخرت میں رحمت نہ ہوتی تو جس کا تم نے چرچا کیا تھا اس میں تم پر کوئی بڑی آفت پڑگئی ہوتی

1 ؎ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جبکہ وہ اپنا گلوبند تلاش کرتی ہوئیں ایک سفر میں پیچھے رہ گئیں اور قافلہ کے اخیر میں صفوان ؓ تھے ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر کے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے لائے اس بات سے چند لوگوں نے جو بظاہر مسلمان تھے طوفان باندھ لیا اور زنا کی تہمت لگا کر اس کا عام چرچا کردیا اس قصہ کی طرف جابجا اس سورة میں اشارہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : عصبہ منکم خبران و منکم اس کی لغت کبر بالکسر معظمہ وبالضم، من قولھم الولالکبر ای اکبر ولد الرجل۔ اذ تلقونہ کا عامل مسکم۔ بہتان کے متعلق۔ تفسیر : ایک واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو ایک عبرت کا واقعہ ہے۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ افک یعنی بہتان کہ جس کا ان آیات میں ذکر ہے حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین پر باندھا گیا تھا جس کی تفصیل میں امام بخاری و مسلم و غیر ہمامحدثین نے یوں روایت کی ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب باہر جاتے تو جس بیوی کا نام قرعہ میں نکلتا تھا اس کو ساتھ لے جاتے تھے۔ چناچہ ایک بار ایک جہاد میں چلے اور میرا قرعہ میں نام نکلا تو مجھے ساتھ لے گئے۔ آیت حجاب نازل ہوچکی تھی۔ اونٹ پر ہودہ میں پردہ میں میں چلتی تھی جب اس سفر سے واپس آئے شب کو مدینہ کے قریب قیام ہوا۔ رات سے کوچ پکارا گیا میں اس عرصہ میں قضائِ حاجت کو گئی لوٹ کر آئی تو گلے کا گلوبند نہ پایا اس کو لینے گئی اتنے میں لوگوں نے میرا ہودہ اس طرح سے اونٹ پر کس دیا اور بوجھ کا تفاوت خیال نہ کیا کیونکہ اس زمانہ میں تنگدستی کی وجہ سے کھانا کم میسر آتا تھا عورتیں ہلکی پھلکی تھیں۔ وہ سمجھے کہ میں ہودہ میں ہوں قافلہ چل دیا میں لوٹ کر آئی تو کسی کو نہ پایا۔ یہ سمجھ کر کہ آخر میری تلاش کرتے ہوئے لوگ یہیں آئیں گے اسی جگہ بیٹھ گئی اس میں نیند آگئی صفوان بن معطل ؓ لشکر کے بعد اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ پیچھے سے گری پڑی چیز یا بھولے بھٹکے آدمی کا خیال رکھے۔ جب وہ میرے قریب آیا اور صبح ہوگئی تھی تو اس نے مجھے پہچان کر اناللہ کہا اس کی آواز سے میں بیدار ہوگئی اس نے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کر مجھے اپنے اونٹ پر چڑھا لیا۔ اور نہ میں نے اس سے بات کی اور نہ اس نے مجھ سے۔ دوپہر کے قریب تک مجھے فرودگاہ لشکر میں لے آیا۔ عبداللہ بن ابی منافق نے جو بظاہر مسلمان تھا یہ طوفان اٹھایا اور مجھ پر تہمت لگائی اور حسان بن ثابت اور مسطح و حمنہ بنت جحش اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے اور اس بات کو مشہور کرنے والے ہوگئے جب یہ خبر مسطح کی والدہ کے ذریعہ سے مجھے پہنچی تو میری آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے تھے مہینے بھر تک یہی حال رہا اور آنحضرت ﷺ اس التفات سابق سے پیش نہ آئے تھے آخرکار میری برأت میں یہ آیات نازل ہوئیں اور مجھے اپنے اللہ پر بھروسہ تھا کہ وہ ضرور میرے معاملہ میں کچھ نازل فرما کر مجھے سچا کرے گا۔ ضحاک کہتے ہیں اس کا بیڑہ حسان و مسطح نے اٹھایا تھا اس لیے ان پر اور ایک قریشی عورت پر حد ماری گئی یعنی حمنہ پر۔ جمہور کے نزدیک بیڑہ اٹھانے والا عبداللہ بن ابی منافق تھا جس کے لیے عذاب عظیم جہنم میں ہوا اور حسان کا ایک بار حضرت عائشہ ؓ کے روبرو ذکر آیا فرمایا جنتی ہے کسی نے کہا اس نے بیڑہ اٹھایا تھا فرمایا اس نے آنحضرت ﷺ کی مدح میں یہ کہا ہے ؎ فان ابی و والدتی و عرضی لعرض محمد منکم وقاء بس دنیا میں سزا پائی کہ اندھا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس بہتان کو اپنے حق میں بہتر سمجھو کس لیے کہ اس کے سبب سے قرآن مجید میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی برأت اور پاکدامنی قیامت تک کو ثابت ہوگئی آیندہ لوگوں کو بزرگوں کی بیویوں کی نسبت ایسی باتیں کرنے سے عبرت ہوگئی بعض لوگ اس واقعہ کو سن کر خاموشی کرتے تھے بعض ہاں میں ہاں ملاتے تھے بعض صریح رد کرتے تھے ان میں صریح رد کرنے والوں کی مدح اور باقی سکوت کرنے والوں پر اور اس بات کو مشہور کرنے والوں پر ناراضی ظاہر فرمائی۔
Ayahs 24:15–20

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب کہ تم (بےدھڑک) اس کو اپنی زبانوں سے نکالنے لگے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہنی شروع کردی کہ جس کا تم کو علم بھی نہ تھا اور اس کو تم نے ہلکی بات سمجھ لیا تھا حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اس کو سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں تو اس کا منہ سے نکالنا بھی لائق نہیں۔ سبحان اللہ ! یہ تو بڑا بہتان ہے۔

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

(اے ایمان والو ! ) اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا اگر تم ایمان رکھتے ہو

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اللہ آیتیں بیان کرتا ہے۔ اور اللہ خبردار حکمت والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ بدکاری کا چرچا ایمان والوں میں پھیلے تو ان کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی عذاب الیم ہے۔ اور اللہ جانتا ہے

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور تم نہیں جانتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ درگزر کرنے والا ‘ مہربان ہے (تو دیکھتے کیا ہوتا) ۔

ترکیب : لولا بمعنی ہلا اذحیں ما یکون لنا بمعنی ماینبغی لنا سبحانک، ھو للتعجب ان تعودوا ای کر اہۃ تعودو افھو مفعول لہ اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو یعظکم کا بمعنی ینہکم، لہم عذاب الیم خبر ان الذین ان تشیع مفعول یحبون فی الدنیا عذاب الیم سے متعلق ہے ورحمتہ معطوف ہے۔ فضل اللہ پر پھر وان اللہ اس پر معطوف جواب لو لا محذوف اے لعاجلکم بالعقوبۃ۔ منجملہ ناراضیوں کے ایک یہ جملہ بطور زجر کے ہے وتقولون الخ کہ جس بات کا تم کو علم نہیں اس کو ہلکا جان کر مونہوں سے نکالنے لگے یہاں تک کہ کوئی گھر اور کوئی مجلس نہ تھی کہ جہاں یہ چرچا نہ پھیلا ہو۔ فرماتا ہے یہ بڑی بھاری بات ہے ولو لا اذسمعتموہ بلکہ تمہیں یہ مناسب تھا کہ جب اس کو سنا تھا وہیں کہہ دیتے کہ ہم کو یہ بات منہ پر لانی زیبا نہیں سبحانک یہ بہتان عظیم ہے۔ سبحانک عرب میں تعجب اور استبعاد دونوں موقع پر بولا جاتا ہے مگر ہمارے محاورہ میں استبعاد کے موقع پر معاذ اللہ وغیرہ کلمات بولے جاتے ہیں۔ سنتے ہی بہتان عظیم کہہ دینا اس لیے ضرور تھا کہ یہ قصہ پیغمبر (علیہ السلام) سے تعلق رکھتا تھا عقل سے بھی آدمی کو کام لینا چاہیے۔ باخدا اور اس کے برگزیدہ لوگوں کی شان میں اور نیز ان کی عفت ازواج کے حق میں جو کوئی احمق کچھ بکے تو یہ نہیں کہ سنتے ہی اس پر ایمان لے آئے اور جابجا ذکر کرتا پھرے جیسا کہ بعض سادہ لوحوں کی عادت ہوتی ہے۔ اول تو ایسے لوگوں پر نیک گمان رکھنا لازم ہے۔ دوم اس بات کے جھوٹے ہونے کی صورت میں بزرگوں کو ایذا پہنچنے پر خدا تعالیٰ کی کس قدر ناراضی ہوگی ؟ سوم اگر سچ بھی ہو تو کسی کی پردہ دری کرنے سے پردہ پوشی کرنی بہرحال بہتر ہے۔ چہارم ایسی باتوں کے پھیلانے سے بجز اس کے کہ ایمانداروں میں فحش کا چرچا ہوا اور کوئی نتیجہ نہیں اس لیے فرماتا ہے یعظکم اللہ کہ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے آیندہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا اور اللہ تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان فرماتا ہے ادب اور اخلاق حمیدہ اور تہذیب سکھاتا ہے وہ علیم ہے ایسی باتوں میں جو کچھ خرابیاں پیش آتی ہیں باہمی نفاق و رنجش وغیرہ وہی خوب جانتا ہے اور وہ حکیم ہے انہیں حکمتوں کو ملحوظ رکھ کر تم کو ایسی نکوہیدہ باتوں سے منع کرتا ہے۔ مگر بعض بیہودہ لوگوں کی جبلت ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ ایسی گندہ اور ناپاک باتیں مشہور کیا کرتے ہیں ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشہ ان کے دلوں میں یہی ولولہ ہوا کرتا ہے کہ فلاں نے یوں کہا اور فلاں کی جورو نے ایسا کیا اور وہ ایسی اور ایسی۔ سو لہم عذاب الیم ان پر دنیا میں بھی خدا کی طرف سے عذاب دردناک نازل ہوتا ہے حدقذف ماری جاتی ہے مردود الشہادۃ اور لوگوں کی نظروں میں خفیف ‘ غیر قابل الاعتبار ہوجاتے ہیں اور نیز طرح طرح کی مصائب میں بھی مبتلا ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ فرماتا ہے صرف اس کا فضل اور رحمت تھی جس کے سبب دنیا میں ان لوگوں پر سخت قہر الٰہی نہیں اترا ‘ ورنہ بات تو بڑی تھی۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے ایمان والو ! شیطان کے قدم بقدم نہ چلا کرو اور جو کوئی شیطان کے قدم بقدم چلتا ہے تو یہ تو اس کو بےحیائی کی اور بری باتیں ہی بتا دے گا۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی نہ سدھرتا لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے سنوارتا ہے اور اللہ ہی سننے والا ‘ خبردار ہے۔

ترکیب : : ولایاتل ھویفتعل من الانۃ یقال اتلی یا تلی کانتہی ینتہی اذا حلف ومنہ قولہ تعالیٰ و للذین یؤلون من نسائھم وقیل ھومن الوت فی کذا اذا قصرت و منہ قولہ تعالیٰ لایالونکم خبالا والاول اولی ان یوتوا ای علی ان لایوتوا الجملۃ بیان حلف یوم عامل ظرف میں استقرار جو لہم میں ہے۔ تفسیر : :۔ یا ایہا الذین امنوا، یہاں پھر صاف صاف مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ ایسی باتیں نہ کریں یہ باتیں شیطانی وسواس ہیں۔ فرماتا ہے اس کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ بےحیائی اور بری باتیں سکھایا کرتا ہے۔ شیطان خون کی طرح انسان کے رگوں میں دوڑتا ہے اور جا کر دل میں گھر کرلیتا ہے پھر بھلا اس موذی کے زہر سے کوئی بچ سکتا ہے ؟ مگر فضلِ الٰہی اور اس کی رحمت ہی ہے کہ جو اس سے پناہ میں رکھ کر راہ راست کی طرف لاتی ہے چناچہ فرماتا ہے ولو لا فضل اللہ الخ کہ اس کے فضل نے تم کو ستھرا کردیا ولا یاتل جس طرح بہتان باندھنے والوں پر عتاب ہوا اس طرح توبہ کرنے کے بعد بھی ان لوگوں سے تشدد کرنے سے ممانعت فرمائی۔ طبرانی وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ مسطح کے ساتھ بھانجا ہونے کی وجہ سے سلوک کیا کرتے تھے۔ اس واقعہ میں قسم کھا بیٹھے تھے کہ آیندہ میں اس کو کچھ نہ دیا کروں گا۔ اس لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ اہل وسعت و کرم کو قسم نہ کھانا چاہیے کہ وہ اپنے دست کرم کو بند رکھیں گے ان کو معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کرے یہ سن کر ابوبکر ؓ نے کہا بخدا میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کرے۔ اس کے بعد پھر اسی طرح سے دینے لینے لگے۔ مسطح ابوبکر کے اہل قرابت بھی تھے اور نیز مسکین بھی تھے اور مہاجر بھی اس لیے رحم دلانے کے لیے اولی القربی والمساکین والمہاجرین عموم کے صیغوں سے تعبیر کیا۔ اس آیت میں حضرت ابوبکر ؓ کو اہل کرم میں شمار کیا اور مدح کے ساتھ یاد فرمایا 1 ؎۔ ان الذین یرمون اس کے بعد پھر تہمت لگانے والوں پر تحدید کر کے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی پاکدامنی مدلل کر کے اس بحث کو تمام کرتا ہے۔ فرماتا ہے جو کوئی پاکدامن ‘ بیخبر ‘ ایمان دار عورتوں کو تہمت لگاتا ہے اس پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور قیامت کے روز جبکہ اس کے اعمال پر اس کے ہاتھ پائوں گواہی دیں گے وہ اپنے اعمالِ بد کا پورا بدلہ پالے گا بیخبر یعنی اس بدکام کرنا تو درکنار اس بیچاری کو اس کی خبر بھی نہیں وہ اس کو جانتی بھی نہیں۔ یہ پاکدامنی کے لیے کامل مدح ہے۔ الخبیثات الخ یہاں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اور بھی پاک دامنی ثابت کرتا ہے کہ ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے پاس رہتی ہیں اور پاکبازوں کے لیے پاکباز عورتیں ہیں اب دیکھنا چاہیے کہ حضرت رسول کریم ﷺ سے کون زیادہ پاکباز ہوگا پس ان کی بیویاں بھی پاکباز ہیں۔ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت تطہیرِ عائشہ ؓ کے لیے نص قاطع ہے خصوصاً لفظ اولئک مبرون مما یقولون اور بھی تاکید کر رہا ہے اس لیے جو شخص پیغمبر (علیہ السلام) کی بیوی خصوصاً حضرت عائشہ کی جناب میں اس کے بعد بھی بدگمانی کرے کافر ہے۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور تم میں سے بندگی اور مقدر والوں کو (ف) اس بات پر قسم نہ کھانا چاہیے کہ قرابت داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ یاد کریں گے ان کو معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کردے اور اللہ ہی بڑا معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے

(ف) یہاں سے حضرت ابوبکر و عائشہ ؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ 12
Ayahs 24:23–26

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پاکدامن بیخبر ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر پھٹکار ہو دنیا اور آخرت میں اور ان کو بڑا عذاب ہے (ف)

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن کہ ان پر ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پائوں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اس پر گواہی دیں گے۔

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس روز اللہ ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا وہ جانیں گے کہ اللہ ہی برحق ہر بات ظاہر کرنے والا ہے۔

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں تو ناپاک مردوں کے لیے ہوتی ہیں۔ اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہوتی ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہوتے ہیں۔ جو کچھ یہ بکتے پھرتے ہیں یہ لوگ اس سے پاک ہیں۔ ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

(ف) حضرت عائشہ ؓ پر بدگمانی کرنے والا کافر ہے۔ 12
Ayahs 24:27–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں (بےدھڑک) نہ گھس جایا کرو جب تک کہ اجازت نہ مانگو اور گھروالوں پر سلام نہ کرلیا کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم سمجھو

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک کہ تم کو اجازت نہ دی جائے اور اگر تم کو کہا جاوے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے ہو۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

تم پر کچھ گناہ نہیں کہ (بغیر اجازت) کسی ایسے گھر میں جاؤ کہ جہاں کوئی نہیں بستا۔ اس میں تمہارا اسباب ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ کہ تم اول میں مخفی رکھتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔

ترکیب : غیر بیوتکم استثنا ہے بیوتا سے تستانسوا تستاذنوامن الاستیناس بمعنی الاستعلام۔ آنس الشیء ابصرہ و علمہ واحسن بہ (قاموس) کیونکہ مستاذن اس بات کا علم چاہتا ہے کہ اس کو اجازت ملتی ہے کہ نہیں۔ اومن الاستیناس الذی ھو خلاف الاستیحاش۔ فانہ مستوحش ان لایؤذن لہ فاذا اذن استانس۔ بیضاوی تفسیر…بغیر اطلاع کسی کے گھر میں جانے کی ممانعت : جبکہ خدا تعالیٰ نے زنا کو بند کیا اور تہمت اور بدگمانی کی بھی سخت ممانعت فرمائی تو جو چیزیں بدگمانی اور زنا کے اسباب ہیں ان کو بھی روکتا ہے منجملہ ان اسباب کے کسی کے گھر میں بغیر اذان و اطلاع کے چلا جانا بھی ہے کیونکہ نہ معلوم گھر میں عورت ننگی ہو یا سوتی ہو پھر وہاں سے ان سے خلوت اور ہمکلامی کا ہونا اور بھی محل تہمت ہے۔ خصوصاً اس گھر والے کے لیے بڑے رنج کا باعث ہے اس لیے اس بارے میں بھی ادب سکھانے کے لیے یہ فرمایا۔ یا ایہا الذین آمنوا لا تدخلوا بیوتا الخ یہ چوتھا حکم ہے کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت اور سلام دیے نہ جایا کرو پہلے دروازہ پر جا کر السلام علیکم کہہ کر کہہ لے کہ میں آئوں ؟ احادیث سے ثابت ہے کہ تین بار اجازت لے۔ جب تیسری بار بھی آنے کی اجازت نہ ملے یا کچھ جواب نہ آوے تو یہ نہیں کہ وہیں جم جاوے بلکہ الٹا چلا آوے۔ جیسا کہ عبداللہ بن قیس نے آنحضرت ﷺ سے روایت کی ہے۔ اور یہ حکم عام ہے خواہ اس گھر میں زنا نہ ہو یا صرف مردانہ ہو کیونکہ نہ معلوم کہ مرد کس حال میں ہے اور کیا کر رہا ہے اور اسی طرح جس گھر میں اس کی محرم عورتیں ہوں وہاں بھی اطلاع کر کے آنا چاہیے کیونکہ محرم عورت کا بھی ننگی کھلی دیکھنا درست نہیں بلکہ جس گھر میں خاص اس کی بیوی اور لونڈی رہتی ہوں کہ جن کی برہنگی اس پر ظاہر ہے وہاں بھی بہتر ہے کہ اطلاع کر کے آوے کیونکہ عورتوں کو بعض باتیں نہانے دھونے میں خاوند کے روبرو کرنی بری معلوم ہوتی ہیں اور اس کے لیے بھی باعث نفرت ہونے کا ہے۔ فرماتا ہے یہ بات تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ اس میں سینکڑوں آفات سے نجات ہے۔ اس لیے فرمایا تاکہ تم سمجھو۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اس گھر میں تم کو کوئی نہ ملے یعنی آواز نہ آوے جس سے معلوم کرسکو کہ کوئی نہیں تب بھی اندر نہ جاؤ اور جو اندر سے آواز آوے کہ چلے جاؤ تو بھی چلے آؤ کیونکہ دروازہ پر ٹھہرا رہنا بھی بعض اوقات کسی رازداری کے سبب ناگوار گزرتا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اس کی مصلحت اللہ جانتا ہے اور تمہارے حالات بھی اس کو معلوم ہیں۔ احادیث صحیحہ میں گھر میں جھانکنے کی بھی سخت ممانعت آئی ہے۔ لیس علیکم جناح ان تدخلوا یہ اسی حکم کا تتمہ ہے فرماتا ہے کہ جن گھروں میں کوئی بستا نہ ہو صرف اسباب رکھنے کے مکان ہوں وہاں بغیر اطلاع جانے میں کچھ مضائقہ نہیں بیوت غیر مسکونہ کی تفسیر میں علماء کے چند اقوال ہیں بعض کہتے ہیں مسافر خانہ ‘ بعض کہتے ہیں خریدو فروخت کے مکانات ‘ بعض کہتے ہیں کہ آباد مکانات ‘ بعض کہتے ہیں حمامات۔ مگر آیت میں حکم عام ہے سب کو شامل ہے لیکن جو مکانات اسباب کے ہوں اور وہاں تجارتی مال ہو وہاں بغیر اجازت کے جانے کے یہ معنی نہیں کہ ہر کوئی چلا جایا کرے جس میں چوری اور بیگانہ ملک میں تصرف کا مظنہ ہے بلکہ جن کو وہاں جانے کی اجازت ہو یا جو مجاز ہیں ان کو وہاں دستک دینے اور اطلاع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہاں احتمال نہیں کہ کوئی ننگا کھلا ہوگا۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ایمانداروں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کو بھی محفوظ رکھیں۔ یہ ان کے حق میں ستھرائی ہے بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ کہ وہ کیا کرتے ہیں

ترکیب : من ابصارھم من ھھنا للتبعیض لانہ لایلزم غض البصربالکلیۃ وقلیل زائدۃ وقیل لبیان الجنس، غیراولی الاربۃ ای الحاجۃ بالجر علی الصفۃ اوالبدل۔ تفسیر : منجملہ اساب زنا کے مرد کا عورت کو اور عورت کا مرد کو دیکھنا بھی ہے۔ یہ نظر زنا کا بڑا سبب ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ ع برق نگاہ یار میرا کام کرگئی۔ اس لیے ایمانداروں کو ادب سکھاتا ہے۔ قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم الخ یہ پانچواں حکم ہے کہ اے نبی ایمانداروں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ کو بند رکھیں جس کا دیکھنا انہیں حلال نہیں اس کو نہ دیکھیں اپنی بیوی اور لونڈی کے سوا اجنبی عورت کا بضرورت منہ اور ہاتھ دیکھنا تو درست ہے اور باقی چیزوں پر نظر کرنا حرام ہے اور بغیر ضرورت اجنبیہ کا چہرہ دیکھنا بھی درست نہیں خصوصاً جبکہ محل فتنہ ہو اور جو اچانک نظر پڑجائے تو باردگر نہ دیکھے اور اجنبیہ اگر اور کی لونڈی ہے تو بعض کہتے ہیں ناف سے گھٹنے تک پر نظر نہ کرے باقی کا مضائقہ نہیں بعض کہتے ہیں وہ سر وغیرہ جو عضو کام میں کھولے رہتے ہیں ان کا دیکھنا ممنوع نہیں باقی ممنوع ہے۔ اور عورت اگر محرم ہے خواہ نسب سے خواہ رضاع سے خواہ بیوی کے رشتہ سے تو اس کے ناف سے لے کر گھٹنے تک نظر ممنوع ہے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک صرف وہی اعضا دیکھنا درست ہیں جو کام میں کھل جاتے ہیں ہاتھ بازو وغیرہ اور مرد کی بابت بھی یہ حکم ہے کہ ناف سے لے کر گھٹنے تک نہ دیکھے۔ اس طرح عورت کو دوسری عورت کا ناف سے گھٹنے تک دیکھنا منع ہے۔ عرفا کہتے ہیں جس طرح نظر کو محارم کے دیکھنے سے بند کرے اسی طرح دل کو غیر اللہ کے دیکھنے سے روکے۔ پھر فرماتا ہے ویحفظوا فروجہم کہ اپنے ستر کو محفوظ رکھیں یعنی حرام کاری نہ کریں یہ تمہارے لیے دین و دنیا میں بہتر ہے ان اللہ خبیر بما یصنعون میں تنبیہ ہے کہ اللہ کو غافل نہ سمجھو وہ تمہارے ہر کام سے واقف ہے۔ وقل اللمؤمنات الخ اسی طرح ایماندار عورتوں کو بھی نظر بند رکھنے اور حرام سے محفوظ رہنے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی (چھٹا) حکم دیا کہ اپنی زینت کو بجزان اشخاص مذکورہ ذیل کے اور کسی کو نہ دکھائیں۔ اور اوڑھنی اوڑھے رہو جس سے سر اور سینہ اور کان اور گردن نہ دکھائی دے۔ یہ جو فرمایا اپنی زینت نہ دکھائیں مگر وہ جو ظاہر ہے۔ زینت کہتے ہیں خوبصورتی کو قدرتی ہو یا بناوٹی۔ لباس فاخرہ یا زیور یا مہندی کا جل وغیرہ ان میں سے صرف ظاہر زینت کے ظاہر کرنے کی اجازت دی۔ ظاہر زینت بناوٹی میں سے تو انگوٹھی کپڑا جس کے ظاہر کرنے کی ضرورت پڑے اور خلقی میں سے ہاتھ منہ جو بضرورت ظاہر کرنا پڑے بعض علماء کہتے ہیں زینت سے مراد وہ اعضاء ہیں جن پر زیور پہنا جاتا ہے۔ اور وہ یہ اشخاص ہیں شوہر ‘ عورت کا باپ ‘ دادا، نانا ‘ شوہر کے باپ ‘ دادا ‘ نانا ‘ عورتوں کے بیٹے ‘ پوتے ‘ نواسے ‘ خاوند کی دوسری بیوی کے بیٹے ‘ پوتے ‘ نواسے ‘ عورت کے بھائی ‘ عینی ‘ علاتی، اخیافی، رضائی عورت کے بھتیجے، بھائیوں کی اولاد ‘ عورت کے بھانجے ‘ بہن کی اولاد ‘ گھر کی عورتیں ‘ عورت کی مملوکہ لونڈی ‘ غلام ‘ گھر کے وہ خادم جن کو عورتوں کی طرف رغبت نہ ہو ‘ بوڑھے اور خواجہ سرا ‘ نابالغ لڑکے ‘ ان لوگوں کے سامنے اگر عورت اپنی زینت ظاہر کرے تو مضائقہ نہیں یعنی زینت ظاہرہ کے سوا اور زینت کیونکہ بضرورت اس کا تو ہر ایک پر ظاہر کرنا درست تھا۔ وہ زینت ظاہرہ جس کی بضرورت اظہار کے ہر ایک کے لیے رخصت تھی باتفاق علماء چہرہ اور دونوں ہاتھ یا بالائی کپڑے مراد ہیں اور اس جگہ جس زینت کے ظاہر کرنے کی ان مذکورہ اشخاص کے سامنے اجازت ہے وہ بازوؤں ‘ گلے ‘ کانوں سر کے زیور کی ہے اور ان اعضاء کا کھولنا بھی ان کے سامنے جائز ہے ونسائہن اپنی عورتیں کیونکہ کافر عورتیں بمنزلہ اجانب کے ہیں بعض کہتے ہیں کافرہ عورتوں کے سامنے ان چیزوں کا کھولنا درست ہے۔ وما ملکت ایما نہن میں غلام لونڈی سب آگئے مگر امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں صرف لونڈیاں مراد ہیں کیونکہ غلام اجنبی ہے اس میں مادہ شہوت بھی موجود ہے آزاد ہو کر اس سے نکاح بھی کرسکتا ہے۔ التابعین غیر اولی الاربۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں عورت کی بالکل خواہش نہیں۔ بعض کہتے ہیں وہ بیوقوف عنین مراد ہیں جو کھانے میں ساتھ ہو لیتے ہیں ان کا صرف یہی مقصود ہوتا ہے مخنث اور ہیجڑے مراد نہیں۔ 3 ؎ کیونکہ ان میں سے شوہر کو تو دکھانا مقصود ہی ہے اور باقی اور لوگ گھر میں ملے جلے رہا کرتے ہیں ہر وقت ان سے اخفاء میں حرج تھا اور نیز ان سے برے کام کی توقع بھی عادتاً نہیں ہے کیونکہ محارم ہیں یا ان کو مادہ ہی نہیں۔ 12 منہ
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور ایماندار عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی بھی محافظت رکھیں اور وہ اپنی آرایش کی جگہ نہ دکھایا کریں مگر وہ جو بضرورت ظاہر ہوتی ہے اور اپنے سینوں پر اپنے دوپٹے ڈالے رکھا کریں اور اپنی آرایش ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا عورتوں پر یا اپنے مملوک (لونڈی غلاموں) پر یا ان خدمت گاروں پر کہ جن کو عورتوں کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں اور اپنے پائوں ٹھوکر مار کر نہ چلیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے اور (اے مسلمانو ! ) تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرتے رہا کرو تاکہ تمہیں فلاح ہو۔

1 ؎ الاربتا الفعاد من الارب کا لجلستہ من الجلوس والا رب الحاجۃ و النفل و منہ الاریب والمرادھھنا الحاجۃ ابی النساء۔ 12 منہ۔ 2 ؎ پائوں کو زمین پر اس طرح سے نہ مارنا چاہیے جس سے پازیب وغیرہ زیور کی آواز سنائی دے اور اسی طرح آواز بھی بلند نہ کرے۔ 12 منہ
Ayahs 24:32–34

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور جو تم میں مجرد ہوں ان کے نکاح کرا دو اور جو تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں ان کے بھی اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور اللہ گنجائش والا ‘ خبردار ہے اور جن لوگوں کو نکاح کا مقدور نہیں ان کو چاہیے کہ پارسائی سے رہیں۔ یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔ اور جو تمہارے غلام لونڈیوں میں سے لکھت 1 ؎ چاہیں تو ان کو لکھ دو بشرطیکہ ان میں بہتری معلوم ہوتی ہو۔ اور ان کو اللہ کے اس مال میں سے بھی دیا کرو جو اس نے تم کو دے رکھا ہو۔ اور اپنی چھوکریوں 2 ؎ کو حرام کاری کے لیے مجبور نہ کیا کرو۔ اگر وہ پاکدامنی چاہتی ہوں (ایسا کام اس لیے کرتے ہو) کہ دنیا کے فوائد حاصل کرو اور جو ان کو اس کام پر مجبور کرے گا تو ان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے تمہارے پاس آیتیں بھیج دی ہیں جو روشن ہیں اور جن میں تم سے پہلوں کے حالات ہیں اور جو پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہیں۔

ترکیب : الایامٰی جمع ایم وھو الضرب ذکراً کان او انثی بکراً کان اوثیبًا و ایامی مقلوب ایائم کیتامیٰ ۔ والصالحین معطوف ہے ایامی پر مفعول انکحوا کا والذین یبتغون مبتداء فکاتبوھم خبر۔ ان علمتم جملہ شرطیہ اگلا جملہ فکاتبوھم دال برجزاء۔ تفسیر : جبکہ ہر طرح سے زنا اور اس کے دواعی کی ممانعت کی تو نکاح کرنے کی بھی رغبت دلائی کس لیے کہ مجرد رہنے میں بڑا خطرہ ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے نکاح کرنے کی تاکید فرمائی یا معشر الشباب من استطاع منکم البائۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصرواحصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء (متفق علیہ) اور فرمایا کہ میرے بعد مردوں کے لیے سخت فتنہ عورتوں سے زیادہ کوئی نہیں (متفق علیہ) اس لیے جن قوموں میں مجرد رہنا ہنر ہے ان کے ہاں حرامکاری کا بھی کچھ حساب نہیں۔ فرماتا ہے وانکحوالایامی منکم (یہ ساتواں حکم ہے) کہ اے مسلمانو ! جو تم میں مجرد ہیں خواہ عورت ہو ‘ خواہ مرد ‘ خواہ بیوہ ‘ خواہ ناکتحذا ان کے نکاح کر دو لفظ ایامی سب کو شامل ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سے وہ شخص کہ جس کے دین اور خلق سے تم خوش ہو نکاح کی درخواست کرے تو نکاح کر دو ورنہ زمین پر بڑا فتنہ اور فساد سخت ہوگا (رواہ النسائی و ابن ماجہ) علماء کے نزدیک یہ امر مندوب و استحباب کے 1 ؎ جو غلام یا لونڈی یہ چاہیں کہ اگر ہم اس قدر روپیہ ادا کردیں تو ہم کو آزادی لکھ دو تو لکھ دیا کرو بشرطیکہ تم کو اس میں بہتری معلوم ہو اس عقد کو شرع میں مکاتبت کہتے ہیں۔ 12 منہ 2 ؎ عرب غلام کو فتی اور لونڈی کو فتاۃ کہتے تھے جس کی جمع فتیات ہے۔ 12 منہ لیے ہے بعض کہتے ہیں وجوب کے لیے فیصلہ یہ ہے کہ جہاں زنا میں مبتلا ہونے کا یقین ہو اور نکاح کرنے پر قادر بھی ہو تو نکاح کرنا واجب ہے ورنہ مستحب ہے۔ پھر فرماتا ہے والصالحین من عبادکم و اماء کم کہ اپنے غلام لونڈیوں میں سے بھی جن کو نیک دیکھو ان کے بھی نکاح کردو کیونکہ نیک ہی نکاح اور خدمت مولیٰ کو ملحوظ رکھ سکتے ہیں یا صالحین سے مراد وہ کہ جن کو نکاح کی صلاحیت ہو۔ لفظ فانکحوا سے علمائِ شافعیہ نے یہ بات نکالی ہے کہ نکاح بغیر ولی کے درست نہیں وفیہ مافیہ۔ فرماتا ہے نکاح کرنے میں فقر و فاقہ سے نہ ڈریں اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بلاشک جو نیک نیتی سے نکاح کرتے ہیں خدا ان کو فراخی دیتا ہے اور جن کو نکاح کا مقدور نہ ہو تو ان کو پاکدامنی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ نہیں کہ اس عذر سے مرتکب فواحش ہوجائے۔ والذین یبتغون چونکہ فراغ دستی اور فضلِ الٰہی ہونے کا ذکر تھا اس لیے جو غلام خدا کے فضل پر تو کل کر کے اپنے مولیٰ سے مکاتبت چاہیں ان کے لیے بھی حکم دیا کہ اگر ان میں خیر دیکھو کہ یہ بدل کتابت ادا کرسکیں گے اور ان کا رویہ بھی اچھا ہے تو ان کو لکھ دو یعنی مکاتب بنا دو ۔ (یہ آٹھواں حکم ہے) اس کو بھی گو نہ پارسائی سے تعلق ہے کس لیے کہ جب غلام کو مولیٰ کی طرف سے خریدو فروخت کا مجاز ہوتا ہے تو اس کے ہاتھ میں روپیہ پیسہ رہتا ہے جس سے حرام کاری کا اندیشہ ہے اس سے کوئی رقم لینی مقرر کر کے آزادی لکھ دو کہ اپنا نکاح کرے گھر آباد کرے۔ اسلام میں بھی یہی دستور باقی رہا اور جاہلیت میں بھی تھا کہ جو کوئی غلام اپنے آقا سے یہ معاملہ کرلیا کرتا تھا کہ میں آپ کو اس قدر روپیہ دوں تو آزاد ہوجاؤں آقا اس کو منظور کرلیتا تھا اور لکھ دیتا تھا اس معاملہ کو مکاتبت کہتے تھے۔ وہ غلام آزادانہ خریدو فروخت کر کے وہ مقدار ادا کردیتا تھا۔ کتب فقہ میں اس مسئلہ کی بڑی تشریح ہے۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ اس بدل کتابت کے ادا کرنے میں مدد کرو خدا کے دیے ہوئے مال میں سے ان کو بھی دو بمد زکواۃ و خیرات یا اس بدلے میں سے کچھ حصہ چھوڑ دو ولاتکرھوا (یہ نواں حکم ہے) عرب میں دستور تھا کہ اپنی چھوکریوں سے زنا کرا کے کمواتے تھے چناچہ مدینہ میں عبداللہ بن ابی منافق بھی ایسا ہی کیا کرتا تھا اسلام نے اس کی بھی ممانعت کردی ان اردن تحصنا میں ان شرطیہ علی سبیل الغالب واقع ہوا جس کا مفہوم مخالف نہیں فائدہ : ان آیات میں توبہ کرنے اور مکاتبوں کو دینے کا بھی حکم ہے۔ مگر بظاہر ان کا تعلق حقوق العباد سے کم تھا اس لیے ان کے عدد شمار میں ہم نے نہیں لیا۔