24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

(یہ ایک) سورت ہے کہ ہم (ہی) نے اس کو نازل کیا ہے اور ہم (ہی) نے اس کو مقرر کیا ہے اور ہم ہی نے اس میں کھلی ہوئی آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم سمجھو،1۔

1۔ (اور ان احکام پر عمل کرو) (آیت) ” انزلنھا “۔ یعنی اس کے الفاظ کو نازل کیا ہے۔ (آیت) ” فرضنھا “۔ یعنی اس کے مضامین ومطالب ہم نے مقرر کیے ہیں، مراد احکام سے ہے۔ (آیت) ” ایت بینت “۔ یعنی ان احکام پر کھلی ہوئی دلالت کرنے والی آیتیں۔ قرآن مجید تو ظاہر ہے کہ سارے کا سارا حق تعالیٰ ہی کا نازل کیا ہوا اور اس کے احکام اسی کے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ پھر یہاں خصوصیت کے ساتھ ان چیزوں کو اپنی جانب منسوب کرنے کے معنی بجز اس کے اور کیا ہوسکتے ہیں کہ اس سورت اور اس کے مندرج احکام کی اہمیت خاص طور پر ذہن نشین کرائی جائے۔۔ حدیث صحیح میں بھی حکم آیا ہے کہ اپنی عورتوں کو سورة النور کی تعلیم دو ، سورت کے مرکزی مطالب عورت کی عفت سے متعلق ہیں، عورت کی عفت وناموس ہی خانگی زندگی کی جان ہے، اور یہ بنیادی نکتہ یاد رہے کہ اسلام نے معاشرہ کی بنیاد خاندان ہی کو قرار دیا ہے۔ اگر خاندان کا نظام صحیح اصول پر قائم ہوگیا تو اصلاح سارے معاشرہ کی ہورہے گی، سورة کی اہمیت اس پہلو سے بھی ظاہر و روشن ہے۔ سورة ماقبل کے آخری اجزاء (آیت) ” افحسبتم انما خلقنکم عبثا “۔ الخ۔ سے مفہوم یہ پیدا ہوا تھا کہ خلق انسانی کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انسان کو اس عالم میں احکام کا مکلف کیا جائے، اور انہیں کی اطاعت ومخالفت پر اس عالم میں جزاوسزا کا اجراہو۔ سورة موجودہ میں انہیں احکام میں سے بعض اہم اجزاء کی تفصیل ہے۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زنا کار عورت اور زنامرد سو (دونوں کا حکم یہ ہے کہ) ان میں سے ہر ایک کے سو سو درے مارو،2۔ اور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ کے معاملہ میں ذرا رحم نہ آنے پائے اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو،3۔ اور چاہے کہ دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت حاضر رہے،4۔

2۔ (اور اس جرم کو کوئی معمولی اور ہلکی بات ہرگز نہ خیال کرو) (آیت) ’ الزانیۃ والزانی “۔ زنالغت میں ہر اس ہمبستری کے لیے عام ہے جو قید نکاح سے باہر ہو، لیکن سنت رسول نے اس عموم کو یہاں سیاق میں مخصوص ومقید کردیا ہے۔ جیسا کہ اور بہت سے موقعوں پر کیا ہے۔ یہاں مراد وہ زانی اور زانیہ میں جو آزاد ہوں، عاقل ہوں، بالغ ہوں لیکن ہنوز ان کا نکاح نہ ہوا ہو۔ یا نکاح تو ہوچکا ہو، لیکن ہمبستری کی نوبت ابھی نہ آئی ہو۔ (آیت) ” ماءۃ جلدۃ “۔ یہ سو تازیانوں کی سزا ایسوں ہی کے لیے ہے۔ باقی جو آزاد نہیں ان کی سزا اس کی نصف ہے۔ (آیت) ” فعلیھن نصف ما علی المحصنت من العذاب (پ 5 سورة النساء) اور جو عاقل وبالغ نہیں، وہ مکلف ہی نہیں، جس مسلمان میں پوری صفتیں جمع ہوں، یعنی وہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، نکاح وہم بستری کرچکا ہو، اس کے لیے شریعت میں اصطلاح محصن یا محصنہ کی ہے۔ اس کے لیے سزائے زنارجم یا سنگساری ہے، تاآنکہ وہ مرجائے۔ یہ سزا سنت رسول سے۔ تعامل صحابہ سے، مجتہدین امت کے اجماع سے، متفقہ طور پر ثابت ہے۔ اختلاف کسی سے منقول نہیں بجز خوارج، اور بعض خوارج جدید کے۔ ویکفینا فی تعیین الناسخ القطع بامرہ ﷺ بالرجم وفعل فی زماۂ (علیہ الصلوۃ والسلام) مرات فیکون من نسخ الکتب بالسنۃ القطعیۃ وقد الجمع الصحابۃ ومن تقدم من السلف وعلماء الامۃ وائمۃ المسلمین علی ان المحصن یرجم بالحجارۃ حتی یموت و انکار الخوارج ذلک باطل (روح) والظاھر انہ لیس علی الزانیۃ والزانی حد غیر الجلد فقط وھو مذھب الخوارج وقد ثبت الرجم بالسنۃ المستیقنۃ وعمل بہ بعد الرسول خلفاء الاسلام ابوبکر وعمر وعلی عمن الصحابۃ جابر و ابوہریرہ وبریدۃ الاسلمی وزید بن خالد (بحر) (آیت) ” فاجلدوا “۔ اس حکم کے مخاطب امراء اسلام ہیں، یعنی امیر المومنین یا ان کے مقرر کیے ہوئے قاضی وحاکم، اور اجراء حدود کا محل دار السلام ہے دارالحرب نہیں۔ الخطاب اللائمۃ لان اقامۃ الحد من الدین (مدارک) لاحد علی من زنی فی دارالحرب (روح) لاخلاف ان المخاطب ھذ الامر بالجلد الامام ومن ناب عنہ (ابن العربی) والامر للامام ونوابہ بالجلد (نہر) (آیت) ” فاجلدوا “۔ میںسببیہ ہے (روح) حد۔ اصطلاح شریعت میں اس سز کا نام ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہو۔ اور اس کی مقدار شارع کی معین کی ہوئی ہو۔ اس کا نفاذ حکم امیر اسلام کے بغیر جائز نہیں۔ اور اس میں تخفیف وترحم کا حق امیر کو بھی حاصل نہیں۔ البتہ قبل ثبوت ابتداء اس کی جانب سے اعراض وچشم پوشی اولی ہے۔ انہیں حدود میں سے ایک حد زنا ہے جو یہاں مذکور ہوئی ہو۔ اس کانفاذ حکم امیراسلام کے بغیر جائز نہیں۔ اور اس میں تخفیف وترحم کا حق امیر کو بھی حاصل نہیں۔ البتہ قبل ثبوت ابتداء اس کی جانب سے اعراض وچشم پوشی اولی ہے۔ انہیں حدود میں سے ایک حد زنا ہے جو یہاں مذکورہوئی۔ تجربہ شاہد ہے کہ آج بھی جن ملکوں مثلا نجد، حجاز، یمن وغیرہ میں حد شرعی جاری ہے، وہاں جرم زنا آج بھی گویا عنقاء ہے۔ اجراء حد زنا کی شرط یہ ہے کہ چار کی تعداد میں مسلم، عاقل، بالغ و عادل گواہ، چشم دید تفصیلی شہادت دیں یا مجرم خود بار بار اقرار کرے، شبہ سے حد ساقط ہوجائے گی، عورت اگر مجنون، مجبور، بیہوش یا نیند سے معذور ہو تو سزا سے معاف رہے گی، اسی طرح مرد مجبور بھی ماخوذ نہ ہوگا۔ 3۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مؤکد ہے اور تمہارے ایمان کی پختگی کی آزمائش کا ذریعہ۔ پرانی امتیں انہیں موقعوں پر بےجامروت اور بےمحل نرمی برتنے سے تباہ ہوگئی ہیں۔ یہود علی الخصوص۔ ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ اور غور کیجئے کہ یہ سزائے سخت بھی مجرموں کے حق میں سرتاسر رحمت ہی ہے۔ یہاں سز بھگت لینے کے بعد انشاء اللہ وہاں پاک وصاف ہوکراٹھیں گے، اور اس وقت قدر ہوگی کہ کیسے سستے چھوٹ کررہے۔ (آیت) ” فی دین اللہ “ یعنی شریعت الہی کے نفاذ کے معاملہ میں، مطلب یہ ہے کہ کوئی مروت اور بیجانرمی تمہیں اجراء حد سے باز نہ رکھے، یہ مراد نہیں کہ سز پانے والے ساتھ تم طبعی ہمدردی بھی نہ محسوس کرو۔ 4۔ (تاکہ ایسے مجرموں کی تشہیر وتفضیح بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی جائے۔ اور دوسروں کو عبرت بھی پوری طور پر حاصل ہوتی رہے) چپ چپاتی سزائے جسمانی۔ چاہے وہ بجائے خود بھی کیسی ہی سخت ہو۔ بدرجہازائد موثر ہوجاتی ہے اگر یہ تشہیر وتفضیح والاعنصر بھی اس کے ساتھ لگا رہے۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زنا کار مرد نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا بجز زنا کار عورت یا مشرکہ عورت کے،5۔ اور زنا کار عورت کے ساتھ بھی کوئی نکاح نہیں کرتا بجز زانی یا مشرک کے،6۔ اور اہل ایمان پر یہ حرام کردیا گیا ہے،7۔

5۔ (آیت) ” مشرکۃ۔ زانیۃ “۔ مشرکہ سے مراد وہ مشرک عورت ہے جو حالت شرک میں ہو نہ کہ وہ جو کسی زمانہ میں مشرک رہ چکی ہو، اور اب تائب ہو کر مسلمان ہوچکی ہو۔ ایسی کے ساتھ نکاح بالکل درست ہے۔ اسی طرح زانیہ بھی وہ ہے جو فی الحال زنا میں مبتلا ہو نہ کہ وہ جس سے کسی زمانہ میں یہ معصیت صادر ہوئی اور اب وہ تائب ہوکرپاکبازی کی زندگی بسر کررہی ہو۔ تائبہ سے نکاح کے عدم جواز کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہاں ممانعت تو صرف ان سے نکاح کی ہورہی ہے جو فی الحال مشرکہ یا زانیہ ہیں۔ اس ایک حقیقت کو مستحضر رکھنے سے آیت پر عاید ہونے والے اعتراضات از خود ختم ہوتے جاتے ہیں۔ 6۔ بہت سی جاہلی قوموں میں یہ دستور بھی رہا ہے کہ عورت ایک طرف کسی کے نکاح میں بھی ہے اور دوسری طرف شوہر کے علم میں بلکہ اس کی اجازت سے زناکاری میں بھی مبتلا ہے۔ اور یہ دستورعرب میں بھی موجود تھا۔ آیت قرآنی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایسی بےعصمت عورت کی طرف کوئی رغبت کر بھی کیسے سکتا ہے۔ جب تک کہ وہ خود بھی ایسی ہی مسخ شدہ ذہنیت کا شکارنہ ہو۔ 7۔ یعنی مشرکہ اور زانیہ دونوں سے نکاح معصیت ہے۔ مشرکہ سے جواز نکاح کی تو کوئی صورت ہی نہیں زانیہ سے نکاح قانونی حیثیت سے نافذ ہوجائے گا لیکن عنداللہ معصیت تو بہرحال رہے گا۔
Ayah 24:4

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو،8۔ اور پھر چار گواہ نہ لاسکیں تو انہیں اسی (80) درے لگاؤ،9۔ اور کبھی انکی کوئی گواہی نہ قبول کرو،10۔ یہی لوگ تو فاسق ہیں،11۔

8۔ (زنا کی) یعنی وہ لوگ جوپارسابیویوں کو حرامکاری کی تہمت لگائیں، (آیت) ” والمحصنت “۔ محصنہ کی تعریف اس سیاق میں یہ ہے کہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، کوئی علامت زنا کی اس میں ظاہر نہ ہو، (آیت) ” والذین “ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ تہمت کی یہ سزا صرف مردوں تک محدود ہے۔ جو عورت کسی دوسری عورت یا مرد پر تہمت لگائے وہ بھی اسی حکم میں آتی ہے۔ 9۔ اللہ اللہ ! اللہ کو مسلمان مرد و مسلمان عورت کی عزت کے تحفظ کا کس درجہ اہتمام ہے ! گواہ ایک نہیں دو بھی نہیں۔ اکٹھے چار چار گواہ وہ بھی چشم دید ہونا چاہیے۔ اگر اس تعداد میں ایک کی بھی کمی رہ جائے گی تو حد جاری نہ ہوسکے گی، اور جب چار چشم دید گواہ موجود نہیں اس لیے اجراء حد بھی نہ ہوسکے گا، جو بلاضرورت ایسی بات زبان سے نکالتا ایک مسلمان کی خواہ مخواہ آبرور یزی کرتا ہے۔ وہ شریعت اسلام اور خدائے اسلام کی نظر میں نہایت ناپسندیدہ ہے۔ یہ چاروں گواہ مرد ہونے چاہئیں۔ اس حد کو اصطلاح میں قذف کہتے ہیں۔ اس کا اجراء مقذوف معاف کردے۔ غلام وباندی پر تہمت کی سزا نصف یعنی چالیس درے ہیں۔ (آیت) ” فاجلدوا “۔ کے مخاطب یہاں بھی امراء اسلام اور ان کے نائب ہیں، عفو وتخفیف ان کے اختیار میں بھی نہیں۔ البتہ اجراء حد کے لیے یہ ضروری ہے کہ تہمت کھلے الفاظ میں لگائی گئی ہو۔ 10۔ (معاملات میں) یعنی بندوں کے باہمی مقدمات میں ایسے لوگوں کی شہادت بعد توبہ بھی قبول نہ ہوگی، البتہ جن امور کا تعلق دیانت محض سے ہے۔ مثلا رؤیت ہلال رمضان، روایت حدیث وغیرہ ان میں توبہ کے بعد شہادت مقبول ہوجائے گی۔ 11۔ جنہیں ایک عفیف یا عفیفہ کلمہ گو کی جانب ایسے بدترین جرم کو منسوب کرتے باک نہیں ہوتا) جب زناکاری خود ایک شدید گناہ ٹھہراتو اس کی تہمت بھی کسی کلمہ گو کے حق میں اس کی شدید توہین کے مرادف ہوئی اور سزا بھی اس کے لیے ایسی ہی سخت لازم آئی آج دنیا کے کسی دوسرے قانون میں معاشرہ کی پاکیزگی وصفائی کا اس درجہ اہتمام ولحاظ ہے ؟ خود مسلمان آج ان احکام پر عمل کرنے لگیں تو باہمی رنجشوں، کدورتوں کا کیسا سدباب ہوکر رہے !
Ayah 24:5

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

ہاں البتہ جو لوگ اس کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی) اصلاح کرلیں سو اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحم کرنے والا ہے،12۔

12۔ (وہ آخرت میں اس پر رحم کرے گا، اور فسق کو جو سبب تھا استحقاق عذاب کا اس سے دور کردے گا) (آیت) ” تابوا “۔ یعنی اللہ کے حضور میں توبہ کرلیں۔ (آیت) ” واصلحو ا “۔ یعنی جس پر تہمت لگائی تھی اس سے اپنا قصور معاف کرالیں۔ فقہاء نے کہا ہے کہ اجراء حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوجاتی۔
Ayahs 24:6–7

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز اپنے (اور) کوئی گواہ نہ ہو تو ان کی شہادت یہ ہے کہ وہ (مرد) چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں سچا ہوں

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں،13۔

13۔ اس بیان حلفی کا نام اصطلاح شریعت میں لعان ہے اور اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں درج ہے۔ الزام بدکاری کے عام ثبوت کا تو قاعدہ وہی ہے۔” چار گواہوں کی چشم دید شہادت “۔ لیکن شوہر جب بیوی سے متعلق یہ دعوی کرے اور چار چشم دید گواہ نہ پیش کرسکے تو خود اس کی یہ پانچ بار کی حلفی شہادت قائم مقام چار گواہوں کے سمجھی جائے گی اور بیوی پر حد زنا جاری کردی جائے گی۔
Ayahs 24:8–9

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ اللہ کی قسم چار بار کھا کرک ہے کہ بیشک مرد جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر مرد سچا ہے،14۔

14۔ یعنی عورت بھی اگر اسی طرح پانچ بار حلفی شہادت مرد کی تکذیب میں دے تو حد زنا سے تو بچ جائے گی۔ البتہ اس مرد پر حرام ہوجائے گی، قاضی ان کے درمیان تفریق کرا دے گا۔ اور پھر تجدید نکاح بھی ہوسکے گی، جب تک دونوں میں ایک اپنی خطا کا قائل اور دوسرے کا مصدق نہ ہوجائے۔
Ayahs 24:10–11

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر اللہ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے بڑا حکمت والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

تو تم بڑی مصیبتوں میں پڑجاتے) ،15۔ بیشک جن لوگوں نے یہ طوفان برپا کیا ہے،16۔ وہ تم میں سے ایک (چھوٹا سا) گروہ ہے،17۔ تم اس کو برا نہ سمجھو اپنے حق میں،18۔ بلکہ تمہارے حق میں بہتر ہی ہے،19۔ ان میں سے ہر شخص کو جس نے جتنا کچھ کیا تھا گناہ ہوا،20۔ اور جس نے ان میں سے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے سزا بھی (سب سے بڑھ کر) سخت ہے،21۔

15۔ خطاب یہاں ساری امت کو ہے، مردوں عورتوں سب کو، مطلب یہ ہے کہ امت کے ہاتھ میں کیسا جامع، کیسا پر حکمت قانون دے دیا گیا ہے۔ زبردستوں، زیردستوں، عاصیوں، مظلوموں سب کی مصلحتوں کی رعایت کرنے والا۔ اتنا مکمل قانون صرف خدائی ہی قانون ہوسکتا ہے۔ 16۔ 6 ہجری کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوۂ بنی مصطلق سے مدینہ منورہ واپس تشریف لارہے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ ہمراہ تھیں، آپ کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا۔ اس پر ہودج تھا، آپ ہودج میں پردہ چھوڑ کر بیٹھ جاتیں، جمال ہودج کو اٹھاکراونٹ پر باندھ دیتے۔ آپ ہلکی پھلکی کم سن تھیں۔ ایک روز اتفاق سے ایک منزل پر آپ کو ہودج سے باہر ویرانہ کی طرف جانے کی ضرورت پیش آئی۔ واپس آئیں تو قافلہ کوچ کرچکا تھا۔ ہودج پر پردے پڑے ہوئے تھے۔ جمالوں کا خیال بھی ادھر نہ گیا، کہ آپ موجود نہیں ہیں۔ اب جب آپ آئیں تو سخت متاسف ہوئیں۔ لیکن آپ نے خیال کیا کہ آگے چل کر جب میری تلاش ہوگی اور میں نہ ملوں گی تو کوئی ڈھونڈنے بہرحال یہاں ضرور ہی آئے گا۔ رات کا وقت چادر لپیٹ کر آپ وہیں بیٹھ گئیں۔ اور آپ کو نیند آگئی۔ ایک صحابی حضرت صفوان ؓ تھے۔ انکی ڈیوٹی یہ تھی کہ قافلہ سے کچھ فاصلہ پر پیچھے پیچھے چلا کریں۔ گری پڑی چیز کی، بھولے بھٹکے کی خبر گیری کے لیے۔ وہ جب صبح سویرے یہاں پہنچے تو دیکھا کوئی انسان سو رہا ہے۔ قریب پہنچے تو پہچانا اور بےاختیار پکار اٹھے۔ (آیت) ” انا للہ وانا الیہ رجعون “۔ آواز سے حضرت صدیقہ ؓ کی آنکھ کھل گئی، منہ ڈھانپ لیا۔ انہوں نے اپنا اونٹ قریب لا کر بٹھا دیا۔ ام ال مومنین پردہ کے ساتھ سوار ہوگئیں، انہوں نے اونٹ کی نکیل تھامے قافلہ میں جا کر ملا دیا۔ بات کچھ بھی نہ تھی لیکن مدینہ منافقوں کا گھر تھا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی کو ایک شگوفہ ہاتھ آگیا۔ اپنی خباثت سے خوب خوب حاشیہ آرائی کی۔ اور گنتی کے تین مسلمان بھی سنی سنائی اس کی باتوں کو دہرانے لگے۔ تمام پاکیزہ خصلت، پاکیزہ مزاج مسلمانوں کو اس گندے تذکرہ سے جیسی کلفت ہوئی ہوگی ظاہر ہی ہے۔ خصوصا جناب صدیقہ ؓ اور خود حضرت رسول اللہ ﷺ کو، یہاں تک کہ ایک مہینہ کے بعد برأت کی یہ آیتیں خود قرآن مجید میں نازل ہو کر رہیں۔ نبی کی زندگی کا ایک ایک جزئیہ امت کے حق میں رحمت ہے، برکت ہے، امت کی کتنی نیک، پارسابیویوں پر آج بھی کیسی کیسی تہمتیں لگتی رہتی ہیں، ان سب بیچاریوں کو اس واقعہ سے صبر وتسکین کا کتنا بڑا سہارا ہاتھ آگیا۔ 17۔ یعنی ایک تو وہی منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھ کل تین مسلمان۔ دو مرد حسان بن ثابت اور مسطح ؓ “۔ اور تیسری ایک عورت حمنہ بنت جحش۔ (آیت) ” عصبۃ منکم “۔ سے اصل مراد تو مسلمان ہی ہیں۔ باقی (آیت) ” منکم “۔ کے عمومی اطلاق میں منافقوں کو بھی ان کے دعوی اسلام میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ اور اسکی مثال قرآن مجید میں بارہا ملے گی۔” گروہ قلیل “ کے لفظ میں تسکین کا پہلو بھی حضرت صدیقہ ؓ اور حضرت رسول اللہ ﷺ کے لئے ہے۔ 18۔ خطاب عام امت اسلامیہ سے ہے جیسے قدرۃ اس موقع پر غم بھی تھا اور غصہ بھی۔ اور جن پر خود تہمت لگی تھی وہ تو بدرجہ اولی اس کے مخاطب ٹھہرے۔ 19۔ تہمت زدہ اشخاص کو بدنامی ورسوائی کا رنج ہونا ایک امر طبعی تھا۔ قرآن مجید انہیں تسلی دے رہا ہے کہ اول تو بدنامی ہی کیا۔ تہمت کا مخترع ایک مسلم منافق (اور وہ بھی تعداد میں کل ایک) اور اس کے پھیلانے والے اور اس میں شریک ہونے والے اسلامی آبادی کے کل تین بھولے بھالے فرد ! پھر خیر تھوڑی بہت جو کچھ بھی یہ بدنامی ورسوائی ہوئی اس پر اجر بھی تو سوچو کتنا عظیم الشان ملے گا ! اس کے سامنے اس دار آنی وفانی کی بدنامی کی حقیقت ہی کیا ! اور سب سے بڑی نعمت یہ کہ خود قرآن مجید تمہاری صفائی پیش کررہا ہے ! ایسی نعمت کس کے نصیب میں آتی ہے۔ اتنا ہی نہیں ! تمہارے ہی واقعہ سے ایک عام ضابطہ و قانون بھی تو امت کو ہمیشہ کے لیے مل رہا ہے۔ صوفیہ محققین نے کہا ہے کہ آیت میں اشارہ ہے کہ مشائخ کو اس بات پر غمگین نہ ہونا چاہیے کہ منکرین ان سے تشنیع و انکار سے پیش آتے ہیں۔ اس سے تو اور ان کے مرتبہ میں ترقی ہوتی ہے۔ 20۔ (اس کے درجہ معصیت کے مطابق) مثلا ایک تو وہ ہے جس نے اس فتنہ کا اختراع کیا، دوسرے وہ لوگ جنہوں نے اپنی زبان سے اسے دہرایا۔ تیسرے وہ جنہوں نے سن کر سکوت اختیار کیا۔ سو ضرر تو انہیں لوگوں کے حق میں ہوا۔ مسلمانوں کو تو بجائے ضرر کے نفع ہی ہوا۔ 21۔ (اور وہ عذاب ہے دوزخ کا۔ اس کا مستحق تو اپنے کفر وعداوت رسول کی بنا پر وہ پہلے ہی سے تھا اب اور زیادہ مستحق عقوبت کا ہوگیا) مراد اس سے وہی مخترع افک، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین ہے۔
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم لوگوں نے یہ (افوہ) سنی تھی تو کیوں نہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں کے حق میں نیک گمان کیا،22۔

22۔ یعنی ایک صحابی رسول ﷺ حضرت صفوان ؓ اور ایک زوج رسول اللہ ﷺ کے حق میں۔ (آیت) ” انفسھم “۔ کا لفظ اس موقع پر لاکر قرآن مجید نے ایک تازہ سبق امت کو احساس وحدت کا دے دیا۔ امت کے ہر فرد کو دوسرے فرد کی بدنامی اسی طرح محسوس ہونی چاہیے جیسی خود اپنی رسوائی۔ انہ جعل ال مومنین کالنفس الواحدۃ فی مایجری علیھا من الامور فاذا جری علی احد مکروہ فکانہ جری علی جمیعھم (کبیر) (آیت) ” ال مومن ون “۔ مثلا حسان ومسطح ؓ ۔ (آیت) ” ال مومنت “۔ مثلا حمنہ ؓ ۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

اور (یہ کیوں نہ) کہہ دیا کہ یہ تو صریح طوفان بندی ہے،23۔ یہ لوگ اپنے قول پر چارگواہ کیوں نہ لائے سو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو بس یہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہی ہیں،24۔

23۔ قرآن نے یہاں اس ضابطہ کی تعلیم دے دی کہ پہلے مسلمان سے متعلق ہر روایت کے وقت حسن ظن ہی سے کام لیتے رہنا چاہیے۔ تاآنکہ اس کے خلاف کوئی قطعی شہادت اور کافی ثبوت نہ مل جائے، نفی الزام کے لیے صرف عدم ثبوت وعدم شہادت کافی ہے۔ ثبوت عدم، شہادت عدم کی ضرورت ہرگز نہیں۔ یہ تو عام مسئلہ ہوا۔ باقی خود حضرت صدیقہ ؓ کی صفائی میں تو اب شہادت قرآنی مہیا ہوگئی۔ جس سے اونچی کوئی اور شہادت ممکن ہی نہیں۔ اب حضرت صدیقہ ؓ کی عصمت میں شک کرنا قرآن میں شک کرنے کے مرادف ہوگا۔” مطلب یہ کہ اصل امر نزاہت ہے۔ جب تک اس کا یقین رافع نہ ہو اسی کا یقین شرعا واجب ہے۔ لان الیقین لایزول بالشک الا بیقین مثلہ۔ بس اسی بنا پر نزاہت صدیقہ ؓ کا یقین اور قذف کے مقابلہ میں اسی یقین کا اظہار واجب تھا۔ اور یہی یقین ہے جس کا ایسے امور میں عبد مکلف بنایا گیا ہے۔ بس محل افک میں قبل نزول آیات کے صرف عدم ثبوت بالدلیل تھا اور بعد آیات کے البتہ ثبوت عدم بالدلیل متحقق ہوگیا ...... اس وقت یقین اصطلاحی کا مکلف نہیں فرمایا تھا۔ البتہ اب بعد نزول آیات چونکہ اس یقین اصطلاحی کا مبنی کہ ثبوت عدم بالدلیل ہے۔ پایا گیا، اب اس کا بھی مکلف ہے۔ اور اس کا ترک یعنی احتمال مرجوح بھی کفر ہے۔ “ (تھانوی (رح) فقہاء نے کہا ہے کہ گو یہاں صیغہ امر نہیں لیکن کلمہ تمنا امر سے بھی زیادہ مؤکد ہے بس مومن پر لازم ہے کہ جب کسی کی برائی سنے اور شہادت اس پر کافی نہ ہو تو اسے باور نہ کرے اور اپنے بھائی کو بری ہی قرار دیتا رہے۔ ؛ صوفیہ محققین نے کہا کہ اس میں صریح تاکید ہے کہ خبروں میں سخت احتیاط وتحقیق سے کام لینا چاہیے۔ چناچہ اہل اللہ کی عادت ہے کہ بعید سے بعید احتمال سے کام لے کر حسن ظن ہی قائم رکھتے ہیں۔ 24۔ اثبات زنا کے لیے شرط چار گواہوں کی چشم دید شہادت ہے۔ عدم ثبوت خود ہی مرادف ہے۔ قانون شریعت میں، عدم صدق یعنی کذب کے۔ پھر یہاں تو قانون کذب کے علاوہ واقعی کذب بھی موجود تھا۔ اہل افک کا دعوی نہ صرف غیرثابت شدہ تھا بلکہ سرے سے واقعیت کے بھی خلاف تھا۔ (آیت) ” عند اللہ “۔ اللہ کے نزدیک سے مراد ہے شریعت الہی میں یا اللہ کے قانون میں۔ ورنہ اصل علم الہی کو ظاہر ہے کہ کسی بندہ کی شہادت وغیرہ کی کیا حاجت ہے۔ معنی عند اللہ یرید فی حکمہ لا فی علمہ (ابن العربی) عند اللہ اے فی حکمہ (کبیر) اے فی حکمہ وشریعتہ (مدارک) اے فیم محکومون بکذبھم عند اللہ فی ایجاب الحد علیھم (جصاص) فیقتضی ذلک الامر بالحکم بکذبھم فان کان جائزا الا یکونوا صادقین فی الغیب عند اللہ (جصاص) شریعت کے احکام ظاہری کی ناقدری کرنے والے کاش دیکھیں کہ اس آیت میں احکام ظاہری کی بھی کس درجہ اہمیت کا سبق موجود ہے !
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) تو جس شغل میں تم پڑے تھے اس میں تم پر سخت عذاب واقع ہوتا،25۔ (عذاب عظیم کے مستحق تو اس وقت ہوتے

25۔ (جیسا کہ عبداللہ بن ابی کو بسبب عدم توبہ کے ہوگا) (آیت) ” فضل اللہ ورحمتہ “۔ فضل وکرم کا ہونا دنیا میں یہ کہ توبہ کی مہلت عطا ہوئی اور آخرت میں یہ کہ توبہ کی توفیق ملی اور توبہ قبول بھی ہوئی۔ فقہاء نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ صحابہ مقبول التوبہ اور پاک ہو کر آخرت میں مرحوم ہیں۔
Ayah 24:15

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے نقل درنقل کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کی تمہیں کوئی تحقیق نہ تھی اور تم اسے ہلکا سمجھ رہے تھے حالا کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی،26۔

26۔ یعنی ایک تو کسی پاک دامن مومنہ کا قذف بجائے خود ہی سخت معصیت ہے۔ پھر مومنہ بھی کون ؟ ایک عالی مرتبت زوج رسول۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کو جو اذیت پہنچی وہ مستزاد۔ (آیت) ” ھینا “۔ ہلکا، یعنی غیر موجب گناہ۔ (آیت) ” عند اللہ عظیم “۔ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات، یعنی موجب گناہ عظیم۔
Ayah 24:16

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور تم نے جب اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا تھا کہ ہم کیسے بات منہ سے نکالیں توبہ یہ تو سخت بہتان ہے،27۔

27۔ یعنی تامل وتذبذب الگ رہا۔ تحقیق ہی کی کیا ضرورت تھی، تمہیں سنتے ہی کانوں پر ہاتھ رکھ کر انکار کردینا تھا۔ سرولیم میور کا شمار اسلام وشارع اسلام کے دوستوں میں نہیں، مخالفوں میں ہے۔ باوجود اس کے اقرار ہے :۔” عائشہ کی سیرت سے متعلق کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ...... ان کی زندگی واقعہ سے قبل بھی اور بعد بھی اس پر گواہ ہے کہ ہم انہیں اس الزام سے بالکل بری یقین کریں۔ “ (لائف آف محمد صفحہ 303، 304) بعض صحابہ کی جانب منقول بھی ایسا ہی قول ہے۔ انہوں نے جوں ہی یہ افواہ سنی تھی، فورا ہی وہ یہ کہہ اٹھے تھے۔ وفی بعض الاخباران ام ایوب قالت لابی ایوب الانصاری اما بلغک مایقول الناس فی عائشۃ فقال ابوایوب، سبحانک ھذا بھتان عظیم (معالم) یہاں تعلیم اس کو مل رہی ہے کہ سب کو یہی کہنا چاہیے تھا۔
Ayah 24:17

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر اس قسم کی حرکت کبھی نہ کرنا اگر تم ایمان والے ہو،28۔

28۔ یعنی یہ تو عین تقاضائے ایمان ہے کہ ایسی باتیں زبان سے نکالنا تو کجا آئندہ سنی بھی نہ جائیں۔
Ayah 24:18

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تم سے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے اور اللہ برا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے،29۔

29۔ چناچہ تمہارے دلوں کا حال بھی اس پر خوب روشن ہے۔ اور تمہاری مجلسی ومعاشری پاکیزگی کی مصلحتیں بھی اس پر عیاں ہیں، وہ جو بھی احکام دیتا ہے وہ اس کے علم کامل پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ اور اس کی حکمت مطلقہ پر بھی۔ (آیت) ” الایت “۔ ان احکام کے تحت میں احکام اخلاقی (ملامت، نصیحت وغیرہ) اور احکام قانونی (حدقذف وغیرہ) سب آگئے۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

یقیناً جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنین کے درمیان بےحائی کا چرچا رہے،30۔ ان کے لئے سزائے دردناک ہے دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اللہ علم رکھتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے،31۔

30۔ یعنی جو لوگ ان آیتوں کی اور اس خدائی براءت کے نزول کے بعد بھی چاہتے ہیں کہ اس گندگی کے تذکرے قائم رہیں اور مقدسین سے متعلق تہمتیں پھیلی رہیں۔ (آیت) ” فی الذین امنوا “۔ آیت کا سبب خاص تو ظاہر ہے کہ وہی واقعہ افک عائشہ صدیقہ ؓ ہے۔ ؛ یعنی اشارہ قریب انہیں لوگوں کی طرف ہے جو اس مخصوص تہمت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، یا آج بھی زندہ رکھنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن آیت کے مفہوم میں عموم بھی ہے۔ اور وہ سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں جو مسلمانوں کے کسی معاشرہ میں بھی گندی روایتوں کا چرچا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ 31۔ انفرادی واجتماعی مصلحتیں، جن پر یہ احکام اور یہ سزائیں مرتب ہیں وہ تو سب علم الہی ہی میں ہیں۔ محدود علم ونظر والے بندوں کو ان کا کیا علم، (آیت) ” فی الدنیا “۔ دنیا کی سزا وہی حد قذف ہے۔ یعنی اسی درے۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق بڑا رحیم ہے (تو تم بھی نہ بچتے) ،32۔

32۔ (اس وعید سے) خطاب عام مسلمانوں کو ہے۔ (آیت) ” رء ورحیم “۔ توفیق توبہ کی اللہ کی اسی فضل وکرم سے ہوئی اور مقبولیت تو بہ اسی شفقت و رحمت کے اثر سے ہوئی۔ امت اسلامیہ کے ساتھ بار بار اس تعلق شفقت و رحمت کا ذکر کرکے ان کے ساتھ اپنی تخصیص کو تازہ کرنا، ان کے دلوں کو گرمانا اور ان میں طاعت و اطاعت کا مزید شوق پیدا کرنا ہے۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے ایمان والو تم شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور جو کوئی شیطان کے قدم بہ قدم چلتا ہے تو وہ بےحیائی اور بیہودگی ہی کا حکم دیتا ہے،33۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک وصاف نہ ہوتا،34۔ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک وصاف کردیتا ہے اور اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے،35۔

33۔ چناچہ آج بھی مشاہدہ ہے کہ شیطان جدید عورت کے کان میں کیسے کیسے افسون ” آزادی “ و ” مساوات کامل “ کے نام سے پھونک پھونک کر اسے انتہائی اخلاقی پستیوں کی منزل کی طرف لیے جارہا ہے۔ ” مخلوط تعلیم “ تھیٹر، سینما ہال روم ڈانس اور ہر شعبہ زندگی میں مرد وزن کا آزادانہ بےتکلف اختلاط ! 34۔ یہ توفیق توبہ جو اہل ایمان کو ہوجاتی ہے۔ اللہ کے فضل وکرم ہی سے ہوتی ہے۔ کوئی بندہ اسے اپنے ذاتی استحقاق کا نتیجہ نہ سمجھے۔ صوفیہ محققین کہتے ہیں کہ مدار کار فضل و رحمت ہے نہ کہ سعی و مجاہدہ۔ 35۔ (چنانچہ تمہاری بھی توبہ سن لی اور دلی ندامت جان لی) اصل خطاب تو اس وقت کے خاطی مسلمانوں سے ہے۔ لیکن ساتھ ہی عام قاعدہ بھی ہمیشہ کے لیے بیان ہوگیا۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں بزرگی اور وسعت والے ہیں وہ قرابت والوں کو اور مسکینوں کو اور ہجرت فی سبیل اللہ کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھابیٹھیں،36۔ چاہیے کہ معاف کرتے رہیں اور درگزر کرتے رہیں کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرتا رہے،37۔ بیشک اللہ برا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،38۔

36۔ (بلکہ اپنے حسن سلوک وامداد کو جاری رکھیں) حضرت مسطح ایک صحابی تھے پورے مومن، مسکین بھی، مہاجر بھی، اور حضرت صدیق ؓ کے عزیز بھی، محض اپنی سادہ دلی سے اس طوفان میں شریک ہوگئے، جب صدیقہ ؓ کی برأت میں آیات قرآنی نازل ہوئیں اور حضرت صدیقہ ؓ کی عفت مآبی اتنی روشن ہوگئی، جتنی بجز حضرت مریم (علیہ السلام) کے دنیا میں شاید کسی پاک دامن خاتون کی بھی نہ ہوئی ہو تو حضرت صدیق ؓ کو اپنی اس قابل فخر بیٹی کی نصرت وحمایت میں غصہ آنا بالکل طبعی تھا۔ آپ مسطح ؓ کی ناداری پر ترس کھا کر مدد بھی فرماتے رہتے اس غیظ کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ بس آج سے امداد موقوف، یہ بات مرتبہ صدیقیت کے شایاں نہ تھی، ارشاد ہوا کہ امداد جاری رکھو اور قسم کے مقتضا پر عمل نہ کرو، مسطح کی اس خدمت دینی، یعنی ہجرت فی سبیل اللہ کو یاد دلا کر یہاں گویا یہ بتا دیا کہ اس نئے جرم سے انکا پچھلا عمل خیر باطل نہیں ہوگیا۔ صوفیہ محققین نے آیت سے اشارہ یہ نکالا ہے کہ بزرگوں کو مناسب یہی ہے کہ مریدوں کی لغزشوں پر اپنے فیض کو بند نہ کردیں۔ 37۔ (سو اس کا طریقہ یہی ہے کہ تم دوسروں کے قصور معاف کرتے رہو) ترغیب عفو کا پیرایہ اس سے مؤثر تر اور کیا ہوگا (آیت) ” ولیعفوا ولیصفحوا “۔ عفو و درگزر کا یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں، بندہ کو اس کے حق کے ترک پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ 38۔ (سو تمہیں چاہیے کہ تم بھی اللہ ہی کے رنگ میں رنگ جاؤ)
Ayah 24:23

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ تہمت لگاتے ہیں ان (بیویوں) کو جو پاک دامن ہیں بیخبر ہیں ایمان والیاں ہیں،39۔ ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں،40۔ اور ان کے لئے سخت عذاب (رکھا ہوا) ہے

39۔ عمل کرنا کیسا ان بیچاریوں کو تو خبر تک بھی نہیں ایسی گندہ باتوں کی۔ (آیت) ” الغفلت “۔ اردو محاورہ میں ایسے موقع پر بھولی بھالی، سیدھی سادی کہتے ہیں، اسلام نے شریف پاکدامن خاتونوں کا وصف یہ بیان کیا ہے۔ کھیلی کھائی ہوئی، چاروں کھونٹ گھومی گھامی ہوئی، اپنے حقوق کے لیے مرنے مارنے والیاں، اور کسی معاشرہ میں جو درجہ بھی رکھتی ہوں، اسلام میں تو یقیناً کوئی بلند مقام نہیں رکھتیں۔ 40۔ (بہ سبب ان کے کفر ونفاق کے) ان وعیدوں کے نزول کے بعد مومنات کے حق میں ایسی جرأتیں کرنے والے کافر و منافق ہی ہوسکتے ہیں، اور ان کا دنیا وآخرت میں اللہ کی رحمت خاص سے مردود ومہجور ہونا بالکل ظاہر ہے اور یہی حاصل ہے لعنت کا۔
Ayah 24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

اس دن (جس دن) ان کے خلاف گواہی دیں گی ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ان کاموں کی جو یہ کیا کرتے تھے،41۔

41۔ مثلا زبان یوں کہے گی کہ اس نے میرے ذریعہ سے فلاں فلاں کفر قولی صادر کیے۔ ہاتھ پیر یہ کہیں گے کہ اس نے فلاں فلاں کفر عملی میں ہم سے مدد لی۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کا جو مرتبہ حق تعالیٰ کے ہاں سے ہے اسی سے ظاہر ہورہا ہے کہ جس تفصیل واہتمام کے ساتھ ان کی صفائی قرآن میں پیش کی گئی ہے، کسی اور کی نہیں ہوئی ہے۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس روز اللہ ان کو ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا اور یہ جان جائیں گے کہ اللہ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے بات کو کھول دینے والا ہے،42۔

42۔ ( اور یہ اس علم عینی کے بعد اپنی نجات سے بالکل مایوس ہوجائیں گے)
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

گندی عورتیں گندے مردوں ہی کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے اور بہتر عورتیں بہتر مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور بہتر ہی مرد بہتر عورتوں کے،43۔ یہ لوگ اس بات سے پاک ہیں جو یہ (منافق) بکتے پھرتے ہیں ان کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی،44۔

43۔ (آیت) ” للخبیثین، للطیبین “۔ وغیرہ میں ل لیاقت کا ہے۔ یعنی اہلیت وموزونیت کو ظاہر کرنے والا۔ 44۔ (آیت) ” اولئک “۔ یعنی جو لوگ بہ سلسلہ افک عائشہ ؓ متہم ہوئے۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو تم اپنے (خاص) گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل مت ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو،45۔ اور ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو تمہارے حق میں یہی بہتر ہے تاکہ تم خیال رکھو،46۔

45۔ یعنی پہلے ان گھروں میں رہنے والوں کو سلام کرکے ان سے اجازت لو، کہ ہم اندر آئیں ؟” یہ مسئلہ استیذان کا مردانہ اور زنانہ سب گھروں کے لیے ہے ....... استیذان واجب ہے اور تقدیم سلام سنت ہے۔ اور اپنے جس گھر میں یقیناً بجز منکوحہ یا مملوکہ شرعی کے کوئی نہ ہو وہ اس سے مستثنی ہے۔ ورنہ وہ بیوت بھی حکم میں (آیت) ” غیربیوتکم “۔ کے ہوجائیں گے۔ لاشتراک العلۃ۔ اور وہ مکان مردانہ بھی اس سے مستثنی ہے جہاں آدمی اس غرض سے بیٹھا ہو کہ جس کا دل چاہے ملنے کو آئے للاذن دلالۃ۔ اور جو مکان خلوت و آرام کے لیے مخصوص ہو، گومردانہ ہی ہو۔ یا مکان ملاقات کا خلوت خانہ میں جانا کسی وقت قرائن سے معلوم ہوجائے وہاں استیذان کی حاجت ہوگی، اور ہرچند کہ یہاں خطاب مردوں کو ہے مگر عورتوں کا حکم بھی یہی ہے اور مردانہ میں بھی اور زنانہ میں بھی۔ “ (تھانوی (رح) ایک صورت تو اذن صریح کی ہے، باقی اذن کبھی ضمنی بھی ہوتا ہے۔ مثلا مشائخ کے ہمراہ خادموں وامراء کے ہاں ملازموں کے لیے۔ اور کبھی اذن حکمی بھی ہوتا ہے۔ مثلا کسی حکم یا عرف یا قاعدہ سے معلوم ہوجائے کہ یہ وقت عام ملاقات کا ہے۔ یا میرے لیے مخصوص ہے ایسے موقعوں پر دریافت کرنے کی ضرورت نہیں، ایک گھر کے اندر جب کئی درجہ ہوں تو ہر درجہ جس میں کوئی مستقل رہتا ہو۔ ایک مستقل گھر کے اندر جب کئی درجہ ہوں تو ہر درجہ جس میں کوئی مستقل رہتا ہو۔ ایک مستقل گھر کے حکم میں ہے۔ اور اس میں جانے کے لیے اذن شرط ہے۔ (آیت) ” تستانسوا “۔ محض اجازت طلب کرنیکے لیے لفظ تستاذنوا کافی تھا۔ بجائے اس کے (آیت) ” تستانسوا “۔ لانے سے (جوانس سے ہے) مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسے اپنا نام وپتہ پوری طرح بتا دو تاکہ اسے وحشت نہ رہے۔ 46۔ یعنی اس اجازت لینے میں ہرگز اپنے لیے کوئی ذلت نہ سمجھو، یہ تو ذریعہ ہے بہت سے مفاسد کی جڑ کاٹ دینے کا، اور ہر طرح مفید ہی ہے۔ (آیت) ” ذلکم “۔ یعنی یہی اجازت طلبی اور سلام۔ اے الا ستیذان والتسلیم (مدارک)
Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر ان میں تمہیں کوئی (آدمی) نہ معلوم نہ تو بھی ان میں نہ داخل ہو جب تک تم کو اجازت نہ مل جائے،47۔ اور اگر تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو،48۔ یہی تمہارے حق میں پاکیزہ تر ہے اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے،49۔

47۔ (کسی ایسے شخص کی طرف سے جو اجازت دینے کا اختیار رکھتا ہے) 48۔ (نہ یہ کہ اسے ناگوار محسوس کرکے وہاں لڑنا جھگڑنا شروع کردو) 49۔ (بس اگر خلاف حکم کروگے سزا کے مستحق ہوگے) ازکی سے مراد ہے کہ بلاتکدر واپسی میں صفائی و طہارت زائد ہے۔ (آیت) ” بماتعملون علیم “۔ مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر اس نے بربنائے تکبر وتحقراجازت نہیں دی تو بھی ہم ہی جانتے ہیں۔ اور اگر واقعی کوئی عذر تھا تو اس سے بھی ہم واقف ہیں۔ (آیت) ” ھو “۔ یعنی یہی واپس چلا آنا۔ اے الرجوع (مدارک)
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

تم پر کوئی گناہ اس میں نہیں ہے کہ تم ان مکانات میں داخل ہوجاؤ (جن میں) کوئی رہتا نہ ہو (اور) ان میں تمہارا کچھ مال ہو،50۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو

50۔ یہ حکم ان مکانات کا ہے جس میں کسی شخص خاص کا سکونت نہ رکھنا متیقن ہو۔ اور دلالۃ وہاں جانے کی عام اجازت ہو۔ مثلا دکان، مدرسہ، حمام، کارخانہ، خانقاہ وغیرہ، ایسی عمارتوں میں جانے کے لیے اجازت خاص کی ضرورت نہیں، لیکن جن کو اجازت نہ ہو ان کو ایسی عمارتوں میں بھی جانا جائز نہ ہوگا۔ (آیت) ” متاع لکم “۔ متاع سے مراد کاروبار اور نفع کا سامان ہے۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

آپ ایمان والوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں،51۔ اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ انکے حق میں زیادہ صفائی کی بات ہے بیشک اللہ کو سب کچھ خبر ہے جو کچھ لوگ کرتے ہیں،52۔

51۔ چناچہ جسم کے جن حصوں پر نظر کرنا سرے سے ناجائز ہے انہیں تو دیکھیں ہی نہ اور جنہیں دیکھنا جائز ہے انہیں بھی خواہش نفس کے ساتھ نہ دیکھیں) (آیت) ” من ابصارھم “۔ من تبعیضیہ ہے یعنی ہر نظر حرام نہیں، صرف بعض نظریں حرام ہیں اور وہ حرام نظریں، نظر اجنبی ونظر شہوت ہیں، من للتبعیض والمراد غض البصر عما یحرم والاقتصاربہ علی مایحل (مدارک) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی نظروں کا نیچا رکھنا اور حفظ ناموس۔ اے غض البصر وحفظ الفروج (مدارک) 52۔ بدکاری وبدنظری وغیرہ کے ارتکاب میں انسان خاص طور پر اہتمام سترواخفاء کا رکھتا ہے۔ اس لیے یہاں یاد دلادیا کہ تم چھپانے کی کتنی ہی کوشش کرڈالو۔ بہرحال اس حاضر وناظر، ہمہ بین وہمہ دان سے تو نہیں چھپا سکتے ہو۔ (آیت) ” ذلک ازکی لھم “۔ میں صاف اشارہ اس طرف ہے کہ افعال غیر مرضیہ کے مقدمات کا بھی انسداد واجب ہے، اور اس اصل سے فقہاء وصوفیہ امت دونوں نے اپنے اپنے فن میں بڑا کام لیا ہے۔ (آیت) ” یحفظوا فروجھم “۔ حکم کے عموم میں علاوہ زنا کاری کے اور بھی سارے طریقے ناجائز شہوت رانی کے اور ان کے مقدمات و مبادی بھی آگئے۔ لفظ حفظ نظر ولمس وغیرہ سب کے لیے عام ہے۔ الذی تقتضیہ الظاھر ان یکون المعنی حفظھا عن سائر ما حرم علیہ من الزنا واللمس والنظر (جصاص) عاشقانہ افسانے اور ڈرامے، بےحیائی کے منظر دکھانے والے تھیڑ اور سینما، شہوت انگیز تصویریں وغیرہ سب اس کے تحت میں آجاتی ہیں۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیے ایمان والیوں سے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں،53۔ اور اپنا سنگارظاہر نہ ہونے دیں،54۔ مگر ہاں جو اس میں سے کھلا ہی رہتا ہے،55۔ اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں،56۔ اور اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں،57۔ مگر ہاں اپنے شوہر پر اور اپنے باپ پر اور اپنے شوہر کے باپ پر اور اپنے بیٹوں پر اور اپنے شوہر کے بیٹوں پر اور اپنے بھائیوں پر اور اپنے بھائیوں کے لڑکوں پر یا اپنی بہنوں کے لڑکوں پر،58۔ اور اپنی (ہم مذہب) عورتوں) پر،59۔ اور اپنی باندیوں پر،60۔ اور ان مردوں پر جو طفیلی ہوں (اور عورت کی طرف) انہیں ذرا توجہ نہ ہو،61۔ اور ان لڑکوں پر جو ابھی عورتوں کی پردہ کی بات سے واقف نہیں ہوئے ہیں،62۔ اور عورتیں اپنے پیر زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے،63۔ اور تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو اے ایمان والو تاکہ تم فلاح پاؤ،64۔

53۔ غض بصر اور حفظ فروج دونوں پر حاشیے اب ابھی ابھی گزر چکے۔ اتنا جزو مومنین و مومن ات، مسلمان مردوں و مسلمان عورتوں دونوں میں مشترک ہے، عورت کے لیے حجاب کے جو احکام خصوصی ہیں وہ اب آگے آرہے ہیں۔ 54۔ (خواہ وہ جسم کا ہو یا متعلقات جسم کا) لفظ زینت عام ہے۔ الزینۃ ما زینت بہ المراۃ (مدارک) قیل المراد بالزینۃ مایعم المحاسن الخلقیۃ والزینیۃ (بیضاوی) اس کے تحت میں ہر وہ چیز آجاتی ہے جو مرد کے لیے باعث شوق ورغبت ہوسکے، خواہ خلقی ہو مثلا حسن اعضاء حسن صورت، خوش خرامی وغیرہا، خواہ کسبی ہو مثلا لباس، خوشبو، زیور، پوڈر، غازہ وغیرہ۔ 55۔ (عموما وعادۃ) یعنی جسم کے وہ حصے مستثنی ہیں جو اگرچہ زینت کے موقع ہیں، لیکن ان کے چھپائے رکھنے میں عموما سخت ہرج و زحمت ہے مثلا چہرہ کی ٹکیا اور ہتھلیاں اور پیر۔ (آیت) ” ماظھر منھا “۔ کی تفسیر چہرہ وکفد ست سے خود حدیث میں آچکی ہے۔ الکفان والقدمان (مدارک) اور حنفیہ میں یہی تفسیر مقبول ہے۔ قال اصحابنا المراد الوجہ والکفان (جصاص) اے الاماجرت العادۃ والجبلۃ علی ظھورہ وھذا الوجہ ولکفان والقدمان (مدارک) اور اسی لیے حنفی فقہاء ومفسرین کے ہاں چہرہ اور کف دست اور پیروں کے دیکھنے کی اجازت ملتی ہے۔ یجوز النظر الی وجہ الاجنبیۃ وکفھا وقدمیھا (مدارک) لیکن متاخری فقہاء نے خوف فتنہ سے اب چہرہ کا کھلارکھنا بھی ممنوع قرار دے دیا ہے۔ واما فی زماننا منع (درمختار) ناف سے گھٹنے تک کا ستر مذہب اہل سنت میں سب پر واجب ہے۔ عورت کا عورت سے بھی، مرد کا مرد سے بھی۔ 56۔ (کہ سر اور سینہ دو مقام خاص طور پر زینت کے ہیں ان کے ڈھانپنے کا اور زیادہ اہتمام رکھیں) جاہلیت فرنگ ہی سے ملتا جلتا دستور عرب میں بھی یہ تھا کہ عورتیں لباس اس طرح کا پہنتیں کہ پشت کا حصہ تو خیر ڈھکا رہتا، باقی سامنے سے سینہ کا حصہ عریاں رہتا۔ کانت جیوبھن واسعۃ تبدوا منھا صدورھن وما حوالیھا وکن یسدلن الخمر من وراءھن فتبقی مکشوفۃ (مدارک) نفسیات بشری کی محقق، راز داں اور بدکاری کے مبادی ومقدمات کی بیخ کنی کرنے والی شریعت اسلامی نے ٹھیک اس کے برعکس یہ فیشن چلایا کہ سینہ کا کوئی حصہ عریاں رہ جانا کیا معنی وہ تو خاص طور پر ڈھکا رہے۔ وفی ذلک دلیل علی ان صدر المراۃ وخمرھا عورۃ لایجوز لاجنبی النظر الیھا منھما (جصاص) کانت جیوبھن واسعۃ تبدواھنا صدورھن وما حوالیھا وکن جیوبھن الخمر من وراءھن فیبقی مکشوفۃ (مدارک) 57۔ (کسی شخص پر بھی) زینۃ کی تشریح ابھی اوپر گزر چکی ہے کہ قدرتی یا مصنوعی ہر وہ شے ہے جو عورت کی جانب رغبت والتفات بڑھا دے۔ (آیت) ” لایبدین زینتھن “۔ پہلے موقع پر یہ فقرہ بہ لحاظ اعضاء وجسم تھا۔ یہاں بہ اعتبار اشخاص کے ہے۔ پہلے استثناء میں فلاں فلاں عضوشامل تھے اب استثناء میں فلاں فلاں اشخاص کی نشاندہی ہورہی ہے۔ 58۔ یہ سب عزیز اصطلاح میں محرم کہلاتے ہیں، فقہاء نے محرموں کی بھی دو قسمیں قرار دیں ہیں، ایک وہ جو محرم ابدی ہیں۔ مثلا باپ، چچا، بیٹا، پوتا وغیرہ دوسرے وہ جو بعد زوال وصف اجنبی ہوجائیں ،۔ مثلا شوہر طلاق کے بعد، مملوک آزاد ہونیکے بعد، بچہ جوان ہوجانے کے بعد، (آیت) ” اخوانھن “۔ بھائی جو محرم ہیں ان سے سگے بھائی یا ایک باپ کی اولاد یا ایک ماں کی اولاد یا دودھ شریک مراد ہیں۔ اور کسی قسم کے بھائی چچیرے، خلیرے وغیرہ جو عرفا ورواجا ہندوستان میں محرم سمجھ لیے گئے ہیں، مراد نہیں ہیں۔ (آیت) ” اخوتھن “۔ علی ہذا بہتوں سے بھی مراد سگی بہنیں یا ایک ماں یا ایک باپ کی اولاد یا دودھ شری کی بہنیں ہیں، عرفی بہنیں مثلا چچیری، خلیری وغیرہ کے مراد نہیں۔ (آیت) ” ابآءھن “۔ دادا، نانا وغیرہ بھی اس کے باپ ہی کے حکم میں داخل ہیں۔ ویدخل فیھم الا جداد (مدارک) (آیت) ” ابنآءھن “۔ اولاد ہی میں اولاددر اولاد پوتے نواسے وغیرہ شامل ہیں۔ ویدخل فیھم النوافل (مدارک) ان رشتوں کے علاوہ عورت کے چچا اور ماموں بھی اس کے محرم ہوتے ہیں۔” غرض مدار محرمیت پر ہے اور محرم وہ رشتہ دار ہے جس سے ابدا نکاح حرام ہو خواہ نسب سے ہو یا مصاہرۃ سے یارضاع سے۔ البتہ بعض فقہاء نے زمانہ کے فتن کو دیکھ کر مصاہرت اور رضاع سے خلوت میں رہنے بیٹھنے کو منع کیا ہے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” او “۔ اس آیت بھر میں اور (واوعاطفہ) کے معنی میں ہے تردید وتخییر کے لیے نہیں۔ مشائخ صوفیہ کہتے ہیں۔ کہ (آیت) ” لایبدین زینتھن الا لبعولتھن “۔ میں اشارہ اس طرف ہے کہ زینت اسرار کو نامحرم یعنی نااہل سے پوشیدہ رکھنا چاہیے۔ 59۔ (آیت) ” نسآءھن “۔ سے مراد مومن عورتیں ہیں۔ یعنی المومنات (بیضاوی) اراد نساء المومنات (جصاص) کافر عورت شریعت اسلام میں اجنبی مرد کے حکم میں ہے پردہ اس سے بھی اسی طرح واجب ہے۔ صحابہ میں حضرت عمر ؓ عنہحضرت ابن عباس ؓ اور تابعین میں مجاہد وغیرہ کا یہی مذہب منقول ہے۔ حضرت عمر ؓ کا ایک مکتوب حضرت ابوعبیدہ ؓ کے نام کا نقل ہوا ہے کہ کتابیہ (یعنی مسیحی، یہودی عورتیں) مومن عورتوں کے ساتھ حمام میں نہ جانے پائیں۔ اللہ اللہ کہاں تاکید اس احتیاط کی تھی، کہاں اس امت کو فرنگیوں سے ارتباط و اختلاط پر فخر رہنے لگا ! فقہاء نے لکھا ہے کہ فاحشہ عورت اگرچہ مسلمان ہو، پاکدامنوں میں نہ آنے پائے۔ ایک تو نسآءھن “۔ پر قیاس کرکے دوسرے بہ خوف اغوا وفتنہ۔ 60۔ (آیت) ” ماملکت ایمانھن “۔ کا لفظ عام ہے۔ لیکن حنفیہ کے ہاں صرف باندیاں مراد ہیں غلام مراد نہیں۔ غلام اجنبی مردوں کے حکم میں ہیں۔ اے اماءھن ولا یحل لعبدھا ان ینظر الی ھذہ المواقع (مدارک) (آیت) ’ ما “۔ یہاں اپنے عموم پر نہیں۔ 61۔ (بوجہ ان کے سلب حواس کے) (آیت) ” التبعین “۔ تابعی یا طفیلی وہ ہے جو محض کھانے پینے کے واسطے پڑا رہتا ہو۔ الذی یتبعک لیصیب من طعامک (جصاص۔ عن ابن عباس وقتادۃ ومجاہد) ان کا ذکر اس لئے کیا کہ ایسے لوگ اس وقت موجود تھے۔ (آیت) ” غیر اولی الاربۃ “۔ ھو الا حمق الذی لاارب لہ فی النساء (جصاص) ” مدارحکم سلب حواس پر ہے نہ کہ تابع ہونے پر۔ اس وقت وہ تابع ایسے ہی تھے۔ “ (تھانوی (رح) خواجہ سرا وغیرہ کی آمد ورفت عورتوں میں فقہاء نے ممنوع لکھی ہے۔ عورت کو اجنبی مردوں سے ایسے کام لینا، جن میں جسم کو مس کرنا پڑے جائز نہیں۔ اسی طرح مرد کو اجنبی عورتوں سے اس قسم کے کام لینا یا خادمہ کو خلوت میں بلانا یا اس پر نظر کرنا جائز نہیں۔ 62۔ مراد اس سن کے بچے ہیں جو ابھی شہوانیت کے معنی ہی سے واقف نہیں۔ یہ معنی نہیں کہ ابھی باقاعدہ بالغ نہیں ہوئے ہیں۔ قال مجاھد ھم الذین لایدرون ماھن من الصغر (جصاص) اے لا یمیزون من عورات النساء ولرجال بصغرھم وقلۃ معرفتھم بذلک (جصاص) طفل یہاں بطور اسم جنس ہے اس لئے معا بعد صیغہ جمع آگیا ہے۔ 63۔ فقہاء نے اس سے استنباط اور بالکل صحیح استنباط کیا ہے کہ ہر وہ آواز جو رغبت اور دلکشی کا باعث ہو، اسی پر محمول اور اسی لئے ممنوع ہوگی۔ اللہ، اللہ۔ عفت و طہارت کا کس درجہ اہتمام ہماری شریعت نے بند کیا ہے۔ ایک طرف یہ احتیاطیں وپابندیاں ہیں۔ دوسری طرف گانے اور طرح طرح کے سریلے باجوں کے ساتھ گانے ہی کی نہیں بلکہ ناچ اور مرد و عورت کے مشترک ناچ کی آزادیاں ہیں !....... دونوں زندگیوں کے نتائج بالکل ظاہر ہیں۔ (آیت) ” من زینتھن “۔ زیور سے یہاں مراد وہ زیور ہیں جو از خود نہیں بجتے بلکہ کسی چیز کی رگڑ سے بج اٹھتے ہیں۔ مثلا چھڑے، کڑے، قرآن نے انہیں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان کی پہننے والیاں پیر زمین پر زور سے نہ رکھیں۔ گویا ان کا پہننا فی نفسہ درست ہے۔ لیکن ان کی آواز یا جھنکار بہ اندیشہ فتنہ درست نہیں۔ ” اس سے یہ بھی مفہوم ہوسکتا ہے کہ جب زیور کی صوت کے اخفاء کا اتنا اہتمام ہے تو صاحب زیور کی صوت کا کہ اکثر مورث فتنہ ومیلان ہوجاتی ہے۔ اخفاء کیوں نہ قابل اہتمام ہوگا۔ نیز یہ بھی مفہوم ہوسکتا ہے کہ جب صوت ایسی قابل اخفاء ہے تو صورت تو کیوں نہ قابل اخفاء ہوگی کہ اصل مبداء فتنہ ہے۔ “ (تھانوی (رح) قال ابوبکر قد عقل من معنی اللفظ النھی عن ابداء الزینۃ وا اظھار ھا بورد النص فی النھی عن سماع صو تھا اذ کان اظھارالزینۃ اولی بالنھی مما یعلم بہ الزینۃ فاذا لم یجز اخفی الوجھین لم یجز ما ظھر ھما (جصاص) اسی طرح وہ زیور جن میں از خود آواز پیدا ہوتی ہو، مثلا گھنگرو، ان کا پہننا ہی سرے سے ناجائز ہے۔ حدیث میں جرس سے ممانعت وارد ہوئی ہے۔ 64۔ (اور ان احکام میں جو کو تاہیاں ہوگئی ہوں وہ معاف ہوں) فلاح سے مراد یہاں فلاح کامل ہے۔ معصتیوں کا صدور نقصان فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ آیت سے اہل سنت نے استدلال کیا ہے۔ کہ عصیان کا وجود ایمان کے منافی نہیں۔ ظاھر الایۃ یدلہ علی ان العصیان لاینافی الایمان (مدارک)
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور تم اپنے بےنکاحوں کا نکاح کرو،65۔ اور تمہارے غلام اور باندیوں میں جو اس کے (یعنی نکاح کے) لائق ہوں ان کا بھی،66۔ اگر یہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا،67۔ اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا جاننے والا ہے،68۔

65۔ ایم کے معنی ہیں عورت بلاشوہر، یا شوہر بلاعورت، عام ہے ہر مرد و عورت کیلئے جس کا نکاح یا تو سرے سے ہوا ہی نہ ہو۔ یا ہوا ہو اور بہ سبب وفات و طلاق کے تجرد ہوگیا ہو۔ الایم من النساء من لازوج اوبکرا اور شیبا ومن الرجال من لاامراۃ لہ (تاج) اسم الایامی ینتطم الرجال والنساء ومن الرجال من لاامراۃ لہ (تاج) اسم الایامی ینتطم الرجال والنساء (جصاص) (آیت) ” وانکحوا “۔ حکم وجوبی نہیں استحبابی ہے۔ قد قامت الدلالۃ من اجماع السلف وفقھاء الامصار علی انہ لم یردبھا الایجاب۔ وانھا استحباب (جصاص) شریعت اسلام میں نکاح بجائے خود ایک فضیلت کی چیز ہے۔ مسیحیت کی طرح نکاح ایک ناگزیر برائی کا نام نہیں۔ ملاحظہ ہوں حواشی انگریزی۔ 66۔ (آیت) ” صالحین “۔ یعنی حقوق زوجیت ادا کرنے کے لائق ہوں۔ (آیت) ” انکحوا “۔ عام ہے معاونت وتوسط وتمکین سب کو جیسا جہاں موقع ہو، اور اس میں خطاب عام ہے اولیاء یعنی اقارب وسادات یعنی آقاؤں کو “۔ (تھانوی (رح ) 67۔ (اپنی حسب مشیت) یعنی اگر غلاموں میں صلاحیت کسب معیشت کی موجود ہے، تو ان کے فقر و افلاس بالفعل کو مانع نکاح نہ قرار دو ۔ فقر ونکاھح میں کوئی منافات نہیں۔ جو سردست فقیر ہے کیا عجب کہ حسب مشیت صاحب معاش ہوجائے، نکاح اس مشیت تکوینی میں مانع نہیں۔ ” پس نہ عدم غناکو مانع نکاح سمجھیں اور نہ نکاح کو مانع غناء اس کا دارومدار مشیت پر ہے۔ اگر فقر کے ساتھ مشیت متعلق ہوجائے تو باوجود نکاح نہ ہونے کے بھی ہوگا۔ پس ایسے ارتباطاعات وہمیہ وباطلہ پر کیوں نظر کی جائے۔ “ (تھانوی (رح) آیت میں کوئی وعدہ مراد نہیں کہ اہل فقر کو نکاح کے بعد خواہ مخواہ غنا حاصل ہی ہوجائے گا۔ اور اس طرح گویا نکاح بجائے خود ایک مستقل وسیلہ معاش ہے ! بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ جب دوسرے حالات موافق جمع ہوں تو محض فقر کو مانع نہ قرار دو ، فقر وغنا کو نکاح وعدم نکاح سے کوئی تعلق نہیں۔ الا صح ان ھذا لیس وعدا عن اللہ تعالیٰ اغناء من یتزوج بل المعنی لاتنظروا الی فقر من یخطب الیکم (کبیر)
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو نکاح کا مقدور نہیں انہیں چاہیے کہ ضبط سے کام لیں، یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے،69۔ اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں تو انہیں مکاتب بنا دیا کرو اگر ان میں بہتری (کے آثار) پاؤ،70۔ اور اللہ کے اس مال میں سے بھی انہیں دو جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے،71۔ اور اپنی باندیوں کو مت مجبور کرو زنا پر جب کہ وہ پاک دامن رہنا چاہیں،72۔ محض اس لئے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ تمہیں حاصل ہوجائے،73۔ اور جو کوئی انہیں مجبور کرے گا سو اللہ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد بخشنے والا ہے مہربان ہے،74۔

68۔ (جسے چاہے غنی کرسکتا ہے۔ خوشحالی سے نواز سکتا ہے، اس کے ہاں کوئی تنگی، کمی تو ہے نہیں اور پھر ہر ایک کی اہلیت وصلاحیت، ظرف و بساط سے خوب واقف جسے کفر کا اہل دیکھے گا اسے کافر ہی رکھے گا) معاشیات کو مسائل معاش کو ربوبیت الہی کے عام قانون سے عملا خارج سمجھ لینا، عصر حاضر کی سب سے بڑی گمراہیوں میں سے ہے۔ قرآن نے بار بار اس گمراہی پر ضرب لگائی ہے۔ اور بار بار اعلان کیا ہے کہ جسمانیات وروحانیات کے سارے دوسرے مسائل کی طرح معاشیات بھی اسی کی مشیت کے محکوم وتابع ہیں۔ 69۔ (اور پھر نکاح کرلیں) مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی نکاح کے سامان سے محروم ومعری ہو تو اس کے لئے ہدایت یہی ہے کہ وہ صبر وعفت سے کام لئے بیٹھا رہے یہ اجازت ہرگز نہیں، کہ کسی ناجائز طریقہ پر شہوت رانی کرنے لگے۔ جیسا کہ شدید بھوک کے موقع حرام کھا لینے کی اجازت ہے۔ شہوت جنسی کا ضبط بھوک پیاس کی طرح کچھ بہت دشوار نہیں۔ نسبۃ بہت آسان ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ استعفاف۔ یعنی پارسائی سے مراد ہے زنا اور اس کے مقدمات دونوں سے بچنا اور اپنی حفظ عفت کیلئے خاص اہتمام رکھنا۔ ولیجتھد فی العفۃ (کبیر) غنی سے مراد وہ شوہر ہے جو ادائے مہرونفقہ پر قادر ہو۔ 70۔ مکاتبت اصطلاح شریعت میں غلام وآقا کے درمیان معاہدہ کا نام ہے۔ غلام آقا سے یہ کہے کہ میں کما کر اتنا مال تجھے دیدوں تو آزاد ہوجاؤں اور مالک اسے منظور کرلے اور یہ مکاتب اگرچہ ابھی غلام رہے گا، لیکن پیشہ یا تجارت اختیار کرنے کے باب خود مختار ہوجائے گا۔ پھر اگر شرط پوری ہوگئی تو غلام آزاد ہوجائے گا۔ نہ پوری ہوسکنے کی صورت میں غلام یا تو خود ہی مکاتبت کو فسخ کرالے۔ ورنہ قاضی فسخ کرادے گا۔ (آیت) ” خیرا “۔ خیر یعنی بہتری کے آثار سے مراد ہے کمانے کا سلیقہ، فضول خرچی سے بچنا آزاد ہوکردوسروں کو تکلیف نہ دینا۔ قال ابن عمر قوۃ علی الکسب وھو قول مالک وثوری (معالم) قال الشافعی واظھرمعانی الخیر فی العبد الاکتساب مع الامانۃ (معالم) الا ظھر انہ اراد الصلاح فینتظم ذلک الوفاء والصدق والامانۃ (جصاص) اگر یہ آثار نہ معلوم ہوتے تو خود مصیبت ومعصیت میں پڑتے، اور دوسروں کے لئے بھی باعث آزار بننے سے تو یہی بہتر ہے کہ وہ بجائے خود مختاری کے قید ومحکومی میں رہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ عقد مکاتبت جائز، بغیر خیر ہی ہے۔ (آیت) ” علمتم “۔ علم سے مراد ظن غالب ہے۔ 71۔ (تاکہ وہ جلد آزادی حاصل کرسکیں) (آیت) ” مال اللہ “۔ مال کی اضافت اللہ کی طرف کرکے یہ حقیقت تازہ کردی کہ یہ مال تمہارا اپنا ہے کب۔ جو کچھ بھی خرچ کرو گے اللہ ہی کا تو مال ہوگا ! (آیت) ” اتوھم “۔ صیغہ امر کے مخاطب عام مسلمین ہیں۔ امت کو حکم ہورہا ہے۔ کہ زکوٰۃ دے کر مکاتبین کی امداد کرو، اعانت مکاتبین مصارف زکوٰۃ میں سے ایک مصرف ہے۔ 72۔ (جیسا کہ جاہلیت عرب میں رواج تھا) (آیت) ” بغآء “۔ کے معنی حرامکاری کے ہیں۔ البغاء الزنا (مجاہد) البغاء ھو الزنا (ابن جریر) فتیات “۔ کے لفظی معنی ہیں جو ان عورتیں، یہاں مراد ہیں مطلق باندیاں خواہ کسی عمر کی ہوں۔ فتیاتکم اے امائکم (راغب) یہ مراد نہیں کہ اگر وہ ابھی جوانی کو نہ پہنچی ہوں یا جوانی سے اتر چکی ہوں تو ان کے لئے یہ جائز ہوگا۔ 73۔ یہ دونوں قیدیں بہ طور قید واقعی ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے ہم عصر اہل جاہلیت واقعۃ اپنی باندیوں کو ان کی خواہش کے خلاف عصمت فروشی پر مجبور کرتے رہتے تھے۔ اور مقصود اس سے محض نفع مالی تھا۔ ولکذلک کانوا یفعلون فی الجاھلیۃ یؤاجرون اماءھم (معالم) یہ مراد نہیں کہ اگر باندیاں از خود آمادہ ہوں یا ان کے مالک ان سے فیس نہ وصول کرتے رہیں تو عصمت فروشی ان کے حق میں جائز ہوجائے گی۔ 74۔ (ان مجبوریوں کے حق میں) اے مکروھات مع الزناء (ابن جریر۔ عن مجاہد) عن ترکھن مااکرھن علیہ (ابن جریر عن الزہری) لھن غفور رحیم “۔ (جصاص۔ عن ابن عباس ؓ ” جس اکراہ سے مکرہات پر مواخذہ نہیں وہ وہ ہے جس میں اتلاف نفس یا اتلاف عضو کا خوف ہو۔ “ (تھانوی (رح) فقہاء نے لکھا ہے کہ مجبور پر نہ حد جاری ہوگی نہ اس کے عمل کا شمار عصیان میں ہوگا۔ قال ابوبکر اخبر تعالیٰ ان المکرھۃ علی الزنا مغفورلھا ما فعلتہ علی وجہ الاکراہ (جصاص) سورت میں شروع سے بےعصمتی کی تقبیح اور عصمت کی تاکید چلی آرہی ہیں۔ غلاموں، کنیزوں کے نکاح کی تاکید، کنیزوں کی عصمت کا تحفظ سب اسی سلسلہ کی چیزیں ہیں۔
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے پاس کھلے کھلے احکام بھیجے ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کی حکاتیں اور خدا سے ڈرنے والوں کے لئے نصیحت (کی باتیں بھی بھیجی ہیں) ،75۔

75۔ (اس قرآن بلکہ اس سورت کے ذریعہ سے) وحی خفی جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتی ہیں۔ وہ بھی آیت کا مدلول بن سکتی ہیں۔