24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورت نمبر 24 کل رکوع 9 آیات 64 الفاظ و کلمات 1420 حروف 6410 پردے کے احکام قرآن کریم کی دوسورتوں میں آئے ہیں سورة النور اور سورة الاحزاب میں بیشمار حدیثوں میں پردے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ بےپردگی اور بےحیائی کے کسی انداز کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پسند نہیں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة النور میں آیات کو صاف صاف نازل فرما کر اس کے الفاظ اور احکام دونوں کو خود مقرر فرمایا ہے تاکہ ہر شخص اچھی طرح سمجھ لے اور اس پر عمل کرے۔ اس سورة میں جن احکام کو نازل فرمایا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے۔ (١) اگر (غیر شادی شدہ) مرد یا عورت جو کہ عاقل و بالغ اور آزاد ہوں اور زنا کے مرتکب ہوں تو ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے جائیں۔ (٢) زانیہ اور مشرکہ عورتوں سے مسلمانوں کو نکاح نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (٣) اگر کوئی شخص کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور اس پر چار گواہ بطور ثبوت پیش نہ کرسکے تو اس شخص کو (تہمت لگانے کے جرم میں) ٨٠ کوڑے مارے جائیں۔ (٤) اگر شوہر اپنی بیوی پر یا بیوی اپنے شوہر پر زنا کی تہمت لگائے اور اس کے پاس اپنے سوا اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی گواہ نہ ہو تو وہ چار مرتبہ قسم کھائے گا جس میں وہ یہ کہے گا کہ میں اپنے دعوے میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ قسم کھا کر یہ کہے گا کہ اگر میں اس دعوے میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی طرح اگر اس کی بیوی اس الزام کو قبول نہیں کرتی تو وہ بھی چار قسم کھانے کے بعد پانچویں قسم میں کہے گی کہ اگر میں جھوٹی ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اور اگر یہ مرد اپنے دعوے میں سچا ہے تو میرے اوپر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کو شریعت میں ” لعان “ کہتے ہیں۔ اس قسم کے بعد وہ عورت اس مرد پر حرام ہوجائے گی۔ (٥) واقعہ افک کا بیان ہے۔ بعض منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر تہمت لگائی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ (رض) کی برائت و پاکیزگی کا اعلان فرمایا اور تہمت لگانے والوں کی سزا کا حکم ارشاد فرمایا۔ (٦) جو لوگ شیطان کے پیچھے چلتے ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ معاشرہ میں بےغیرتی ‘ بےحیائی اور ہر طرح کی برائیاں فروغ پائیں۔ اہل امیان کو ان سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (٧) فرمایا کہ جو لوگ کسی نیک کام اور کار خیر میں لگے ہوئے ہوں وہ بعض احمقوں کے اعتراضات کی وجہ سے نیکی نہ کرنے کی قسمیں نہ کھا بیٹھیں۔ (٨) کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کی رضا مندی اور اجازت کے بغیر داخل نہ ہو۔ (٩) مسلمان مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور نامحرموں پر نظریں ڈالنے سے بچیں۔ (١٠) مومن عورتوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔ اپنی زینت کو غیر مردوں کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں۔ (١١) جو مرد اور خواتین نکاح کی ذمہ داریاں سنبھالنے اور حقوق زوجیت ادا کرنے کے قابل ہوں ان کے نکاح کردیئے جائیں۔ لیکن وہ لوگ جو اپنی مفلسی اور غربت کیوجہ سے نکاح کا بوجھ اٹھانے سے مجبور ہوں وہ اس وقت تک صبر کریں جب تک اللہ تعالیٰ ان کو اس ذمہ داری کو سنبھالنے کا راستہ اور صلاحیت عطا نہ کردے۔ سورة النور میں جہاں بڑے بڑے اور اہم قوانین اور ہدایات کو بیان کیا گیا ہے وہیں اللہ تعالیٰ نے منافقین اور مومنین کی وہ علامتیں بھی بیان فرمائی ہیں جن سے یہ معلوم کرنا بہت آسان ہوگیا ہے کہ کون مومن ہے اور کون منافق ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نجات ان ہی لوگوں کی ہے جو ایمان پر قائم ہیں لیکن منافقین اپنی منافقتوں کو بہت دیر تک نہیں چھپاسکتے اور ان کے لیے نجات کا راستہ نہیں ہے۔ اس سورت میں زانی مرد اور زانیہ عورت اگر شادی شدہ نہ ہوں تو عدالت میں ثابت ہونے کے بعد ان کو سو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (١٢) لونڈیاں اور غلام اگر کچھ رقم ادا کرکے اپنے مالک سے آزاد ہونا چاہیں تو ان کی مدد کی جائے (یہاں تک کہ اگر زکوۃ کی رقم دے کر آزاد کرایا جاسکتا ہو تو غلاموں اور باندیوں کو آزاد کرانے کی کوشش کریں) (١٣) فرمایا کہ اپنی باندیوں سے حرام کاری کا پیشہ نہ کر ائو (جیسا کہ عرب میں دستور تھا) اس کو سختی سے روکنے کی ضرورت ہے۔ (١٤) فرمایا کہ اللہ نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اس میں ہر آن انقلاب اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ‘ بادلوں کا اٹھنا ‘ بارش اور اولوں کا برسنا ‘ بجلی کا چمکنا ‘ انسانی ضروریات کے لیے چو پائے اور مویشی جانوروں کا پیدا کرنا یہ سب اس کی قدرت کے نشانات ہیں ان میں غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ اللہ کے بندے اللہ تک پہنچ سکیں اور اس کی ذات کو پہچان سکیں۔ (١٥) فرمایا کہ ہر شخص کی ذاتی زندگی میں کسی طرح کی دخل اندازی نہ کی جائے۔ خاص طور پر کچھ اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی آزادی سے رہنا چاہتا ہے جیسے صبح کی نماز سے پہلے ‘ دوپہر کو آرام کے وقت ‘ اور رات کو عشاء کے بعد۔ ان اوقات میں گھر کے بچے اور نو کر چا کر بھی اجازت لے کر آیا کریں۔ (١٦ ض بوڑھی اور کمزور عورتوں کے ساتھ رعایت کی جائے اللہ نے ان کے پردے کے معاملے میں بھی کچھ تخفیف کی ہے۔ (١٧) اندھے ‘ لنگڑے ‘ لولے ‘ بیمار اور معذوروں کی دل جوئی کرنے کے لیے کبھی کبھی گھر لے جا کر کھانا کھلانے میں کوئی حرج نہیں ( بلکہ ان کو احساس تنہائی اور احساس محرومی سے نکالنا بھی ایک عبادت ہے) ۔ (١٨) جب لوگ گھروں میں داخل ہوں تو سلام کیا کریں اس سے بڑی برکت ہوتی ہے۔ (١٩) اس سورة کو اس مضمون پر ختم کیا گیا ہے کہ اس کائنات کی سب سے بڑی سعادت اور نیکی یہ ہے کہ نبی کریم خاتم الانبیاء احمد مجتبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت وفرمانبرداری اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی جائے۔ اس میں دونوں جہانوں کی خیر و فلاح ہے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرنے والے ہیں وہ ایسے بد نصیب لوگ ہیں جن کو دنیا اور آخرت میں سوائے گھاٹے اور نقصان کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔

Ayahs 24:1–3

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے (احکام کو) ہم نے فرض قرار دیا ہے۔ اور اس میں ہم نے صاف اور واضح آیات نازل کی ہیں تاکہ تم دھیان دے سکو۔

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زانیہ عورت اور زانی مرددونوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک سو کوڑے مارو اور ان پر حد جاری کرنے میں ترس نہ کھائو۔ اللہ کے حکم (چلانے) میں اگر تم اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو۔ ان دونوں کو سزا دیتے وقت مومنوں کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہئے۔

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

بدکار مرد نکاح نہیں کرتا مگر زنا کا ریا مشرک عورت سے اور بد کار عورت نکاح نہیں کرتی مگر بدکار یا مشرک مرد سے اور یہ بات مسلمانوں پر حرام کردی گئی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 : انزلنا (ہم نے اتارا۔ نازل کیا) ‘ فرضنا (ہم نے لازمی کیا۔ ہم نے فرض کیا) ‘ اجلدوا ( مارو) ‘ مائۃ (ایک سو) ‘ جلدۃ (کوڑے) ‘ لاتأ خذ (نہ پکڑے) ‘ رأفۃ ( ترس اور رحم) ‘ یشھد (دیکھے۔ موجود رہے) ‘ طائفۃ (ایک جماعت) حرم (حرام کردیا گیا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 : قرآن کریم ہر آیت اور سورت کی اپنی اہمیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے سورة نور کو جس شان و شوکت ‘ اہتمام اور انوکھے انداز سے شروع کیا ہے وہ اس میں بیان کئے گئے احکامات کی اہمیت کو بہت واضح کردیتی ہے تاکہ معاشرہ کا ہر فرد اس سورت میں بیان کئے گئے احکامات کی پوری طرح پابندی کرسکے۔ سنگین گناہوں اور معاشرہ کی بد ترین برائیوں کو مٹانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرکے پاکیزہ اور پر سکون زندگی کی برکتوں کو حاصل کرسکے۔ جس معاشرہ یا سوسائٹی میں شرم و حیا ‘ باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کی عزت و وقار کے جذبات موجزن ہوتے ہیں وہی معاشرہ انسانی معاشرہ کہلاتا ہے لیکن اگر معاشرہ میں کسی کی عزت و آبرو اور جان و مال محفوظ نہ ہو۔ باہمی اعتماد اور بھروسے کا فقدان ہو ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی اور شراب نوشی عام ہو تو ہزاروں خوش حالیوں کے باوجود وہ معاشرہ انسانی معاشرہ کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔ شریعت کی نظر میں ہر شخص بد کار اور بےغیرت نہیں ہوتا بلکہ کچھ بد کردار اور بےشرم لوگ ذہنی مریض ہوتے ہیں جو پورے ماحول کو گندہ کردیتے ہیں۔ اگر ان ذہنی مریضوں کو قابل عبرت سزادیدی جائے اور سڑے ہوئے گندے عضو کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جائے تو معاشرہ کا ہر فرد پر سکون زندگی گذار سکتا ہے اور اپنی جان و مال اور آبرو کو محفوظ سمجھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور خاص طور پر سوئہ نور میں ان سنگین گناہوں اور معاشرہ کی بدترین خرابیوں کے لئے ایسے فطری اور قابل عمل اصول ارشاد فرمائے ہیں جن کے نفاذ سے انسانی معاشرہ جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔ یہ وہ اصول ہیں جن کو جس زمانہ میں بھی اپنا یا گیا اپنا یا جائے گا اس کے نتائج یکساں نکلیں گے حالات کے بدلنے سے ان اصولوں کے دائمی فوائد سے کوئی محروم نہیں رہ سکتا۔ انسانی معاشرہ کے سب سے سنگین ‘ بدترین اور ناقابل معافی جرم چار ہیں۔ (1) ناجائز جنسی تعلقات (زنا) ۔ (2) چور (3) شراب نوشی (4) اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں جرائم کی سزا کو خود متعین فرمایا ہے جس میں کسی حکومت ‘ عدالت یا اسخاص (جماعت ) کو کسی زمانہ میں کسی طرح کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ جب گواہوں کے بعد پورے طور پر یہ بات ثابت ہوجائے کہ ملزم یا ملزمہ نے یہ جرم کیا ہے تو پھر ان اسلامی سزاؤں کو نافذ کرنے میں کسی رعایت اور نرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان چاروں جرائم کو ” حدود “ کہا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ جتنے جرائم ہیں ان کے اصولوں کو تو بیان کردیا گیا ہے لیکن جرم کی نوعیت کے مطابق ان کا فیصلہ کرنے میں اسلامی عدالتیں خاصی آزاد ہیں۔ ایسی سزاؤں کو ” تعزیرات “ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے ان بنیادی اصولوں میں سب سے پہلے ناجائز جنسی تعلق (یعنی زناض کی سنگینی اور اس کی عبرت ناک سزا کا ذکر فرمایا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ناجائز جنسی تعلقات (زناض ایسا بدترین ‘ گھناونا ‘ شرمناک ‘ قابل نفرت اور انسانی معاشرہ کو تباہ و برباد کرنے والا فعل ہے جس کیچڑ کو بنیاد سے کھود کر پھینک دینا ضروری ہے۔ یہ وہ کینسر ہے کہ اگر اس کا ابتداء ہی میں علاج نہ کیا جائے تو وہ بڑی تیزی سے پھیل کر پورے انسانی معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے کر تہس نہس کرکے رکھ دیتا ہے۔ دنیا کے مذاہب کو دیکھا جائے تو انہوں نے بھی زنا کو بدترین فعل قرار دیا ہے مگر اس کی سزاؤں کو متعین کرنے میں بعض ایسی رعایتوں کو رکھا گیا ہے جس سے یہ فعل دنیا سے مٹنے کے بجائے کینسر کی طرح پھیلتا ہی چلا جارہا ہے۔ اس مرض کا علاج صرف قرآن کریم کے اصولوں کو اپنانے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ شریعت اسلامیہ نے انتہائی سخت سزاؤں کو اس مرض کا علاج قراردیا ہے۔ ڈھیلے ڈھالے اصولوں اور چھپ چھپا کر سزائیں دینے سے یہمرض ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جب ہم دوسرے مذاہب کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ایسے فطری اصول نہیں ملتے جن سے اس گھنائو نے جرم کو ناقابل معافی قرار دیا گیا ہو یا ایسی سزائیں متعین کی گئی ہوں جو دوسروں کے لئے عبرت و نصیحت بن سکتی ہوں مثلاً نصاری (عیسائیوں) نے ناجائز جنسی تعلق کی سزا یہ مقرر کی ہے کہ (1) اگر کوئی کنوارا مرد کسی کنواری لڑکی سے زنا کرتا ہے تو وہ ایک سخت گناہ کی بات تو ہے مگر اس پر کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ (2) اگر کوئی شادی شدہ شخص کسی دوسری شادی شدہ عورت سے زنا کرتا ہے تو یہ سخت گناہ لیکن اس کی سزا یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر پر اس رشتے کی پامالی اور بےوفائی کا الزام لگا کر طلاق حاصل کرسکتی ہے۔ اسی طرح مرد کو بھی یہ اختیار ہے لیکن اس کے بعد مرد یا عورت کسی دوسرے سے شادی نہیں کرسکتے اور زندگی بھر انہیں راہب یا راہبہ بن کر زندگی گذارنا ہوگی۔ نصاری کے برخلاف یہودیوں کے ہاں یہ قانون ہے کہ جو شخص دوسرے کی بیوی سے اس سنگین جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو زانی اور زانیہ دونوں کو جان سے مار دیاجائے گا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بدکاروں کو کھلی چھٹی دینے اور محض طلاق کا بہانہ بنانے یا کسی کو کسی جیل کی کو ٹھڑی میں جان سے مارڈالنے سے اس بدکاری کو عبرت و نصیحت بنانا ممکن نہیں ہے کیونکہ آئے دن یہ واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ایک مختصر سی مدت کے لئے یہ ایک اخباری خبر ہوتی ہے پھر لوگ بھول جاتے ہیں اور زانی اور زانیہ مرد اور عورتوں میں کمی نہیں آتی۔ دین اسلام نے اس برائی کو جڑ و بنیاد سے کھود نے اور عبرت ناک سزادینے کا جو طریقہ مقرر کیا ہے وہی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اور اس ذہنی اور عملی بیماری کا موثر علاج ہے اس کی تفصیل چند بنیادی اصولوں کو بیان کرنے کے بعد عرض کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی ابتدائ ” فرضنہا “ سے کی ہے (یعنی ہم نے اس کو فرض کردیا ہے) بتایا یہ جارہا ہے کہ اس سورت میں جو بھی احکامات بیان کئے جارہے ہیں ان کو ماننا اور اطاعت کرنا ہر اس شخص پر لازم اور واجب ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا ہے۔ یہ محض چند سفارشات یا نصیحتوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ ایسی واضح کھلی اور صاف صاف باتیں ہیں جن پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ اسی میں انسانی معاشرہ کی حقیقی زندگی ہے۔ اس بدترین فعل کی سزا کیا ہے ؟ اس کی تفصیلات کو فقہ کی کتابوں یا معتبر علماء سے معلو کیا جاسکتا ہے۔ چند ضروری اور بنیادی باتوں کو درج ذیل سطور میں بیان کیا جارہا ہے تاکہ اس فعل بد کو دنیا سے مٹانے کی کچھ تفصیل سامنے آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے ناجائز جنسی تعلق (زنا) کو بدتر ین فعل اور ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے جس کی سزا کسی اسلامی عدالت کے ذریعہ ہی دی جاسکتی ہے۔ خود سے کسی کو سزادینے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ جس پر ناجائز جنسی تعلق کی تہمت لگائی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ چار ایسے چشم دید ( عینی شاہدین) گواہ ہوں جنہوں نے ملزم مرد اور ملزمہ عورت کو عین حالت مباشرت میں اس طرح دیکھا ہو جیسے سرمہ دانی میں سلائی یا کنویں میں رسہ ڈالاجاتا ہے۔ اگر اس طرح گواہ نہ ہوں گے تو ملزمان پر شرعی حد جاری نہ کی جائے گی۔ اگر گواہی میں شبہ پیدا ہوجائے تو حد نافذ نہ کی جائے گی۔ لہذا چاروں گواہوں کے بیانات ایک جیسے اور یکساں ہوں۔ گواہی میں اس بات کو واضح طریقے پر بتایا گیا ہو کہ کس کو کس نے کس سے زنا کرتے دیکھا ہے۔ اگر گواھوں کے بیانات میں اختلاف یا تضاد پایا جائے گا تو حد جاری نہ کی جائے گی۔ گواہی دینے والے سب کے سب قابل اعتماد ہوں۔ کبھی کسی مقدمہ میں ان کو جھوٹا ثابت نہ کیا گیا ہو۔ وہ بد دیانت یا سزا یافتہ نہ ہوں۔ محض قاضی (ججض کی ذاتی معلومات پر حد جاری نہ کی جائے گی۔ کسی لڑکی کا حاملہ ہونا حد جاری کرنے کا ثبوت نہیں ہے جب تک کوئی گواہی یا زبان سے اقرار نہ ہو۔ مذکورہ اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے جب گواہوں کی شہادت یا اقرار پر پوری طرح جرم ثابت ہوجائے تب شرعی سزا (کوڑے یارجم) نافذ کرنے میں کسی نام نہاد رعایت اور رحم کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ ناجائز جنسی تعلق (زنا) کسی عورت نے کیا ہو یا مرد نے دونوں پر حد جاری کی جائے گی۔ مرد اور عورت میں فرق نہیں کیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلے زانیہ عورت کا ذکر کیا ہے پھر مرد کا تاکہ عورت کو صنف نازک قرار دے کر چھوڑ نہ دیاجائے یا اس کی سزا میں تخفیف یا کمی نہ کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ناجائز جنسی تعلق کو اتنا بد ترین فعل قرار دیا ہے کہ اس میں کسی باہمی رضا مندی یا راضی نامہ کی بھی گنجائش نہیں ہے چناچہ ایک لڑکا جس نے اپنی مالکن سے زنا کیا تھا تو لڑکے کے باپ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی بھیج کر درخواست کی کہ اس نوجوان لڑکے کی سزا کو ان چیزوں کے بدلے میں معاف کردیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تیری بکریاں اور لونڈی تجھے مبارک ہوں (آپ نے واپس کردیں) اور اس کے بعد آپ نے شریعت کے مطابق دونوں پر حد جاری فرمادی۔ رجم و سنگسار کی شرعی حیثیت : رجم (پتھر مار کر ہلاک کرنے) کا حکم قرآن کریم میں اشارۃ اور متواتر و مشہورا حادیث میں پوری وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے۔ شریعت نے زنا کو بدترین اور ناقابل معافی جرم قرار دے کر یہ سزا مقرر کی ہے کہ (1) اگر کوئی غیر شادی شدہ لڑکا یا غیر شادی شدہ لڑکی ناجائز جنسی تعلق (زنا) میں ملوث پائے گئے ہوں تو ان دونوں کو سو سو کوڑے مارے جائیں گے۔ (2) اگر وہ دونوں شادی شدہ ہوں یا ان میں سے کوئی ایک شادی شدہ ہو اور دوسرا کنوارا ہو تو شادی شدہ عورت یا مرد کو رجم و سنگسار کیا جائے گا اور غیر شادی شدہ کو ایک سو کوڑے مارے جائیں گے۔ (3) اگر ان میں سے دونوں یا کوئی ایک غلام یا باندی ہو تو غلام اور باندی کو چالیس چالیس کوڑے مارے جائیں گے یعنی ان کی سزا نصف ہوگی۔ (4) رجم و سنگسار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں اس وقت تک پتھر مارے جائیں گے جب تک اس فعل کا مجرم یا مجرمہ ہلاک نہ ہوجائیں۔ (5) رجم و سنگسار یا کوڑوں کی سزا لوگوں کی نگاہوں سے دور کسی جیل یا کال کوٹھڑی کے اندر خاموشی سے نہیں دی جائے گی بلکہ (اعلان عام کرکے) مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کے سامنے رجم کیا جائے گا یا کوڑے مارے جائیں گے تاکہ ہر شخص اس عبرت ناک انجام کو دیکھ کر اس بدترین فعل کے نزدیک جانے کی ہمت نہ کرسکے۔ (6) رجم و سنگساری کے بعد مجرم یا مجرمہ کے لئے تمام مسلمانوں کی طرف کفن ‘ دفن اور نماز جنازہ کا اہتمام کیا جائے گا اور مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کیا جائے گا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کوڑوں کی سزا کے ساتھ ساتھ رجم و سنگسار کرنا بھی قرآن و سنت کے عین مطاق ہے۔ بعض ناواقف لوگ یا مغرب کی تہذیب کے سامنے شکست کھا جانے والے منکرین حدیث یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں زانی یا زانیہ کے لئے کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن رجم و سنگساری کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہر آیت اور ہر لفظ کی تشریح و تعبیر کرنے کا حق صرف نبی کریم ﷺ ہی کو حاصل ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” وہ (نبی کریم ﷺ کوئی بات اپنی خواہش نفس سے نہیں کہتے جب تک اللہ کی طرف سے وحی نہ آجائے “ دوسری جگہ فرمایا کہ ” اے مومنو ! رسول اللہ تمہیں جو کچھ دیدیں اس کو لے لو اور جس چیز سے منع فرمادیں اس سے رک جائو “۔ قرآن کریم کے اس اصول کے تحت ہی نبی کریم ﷺ نے اپنی دنیاوی زندگی میں رجم و سنگساری کے اصول کو جاری فرمایا اور آپ کے بعد آپ کے خلفا راشدین ؓ اور صحابہ کرام ؓ بھی اسی عمل پر قائم رہے کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد یا عورت نے اس جرم کا ارتکاب کیا تو ان کو پتھر مار کر ہلاک کیا گیا اور غیر شادی شدہ کو ایک ایک سو کوڑے مارے گئے۔ تمام معتبر اور صحیح حدیثوں میں اس بات کو نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ” ماعز اور غامد یہ “ پر سزائے رجم و سنگساری کو جاری فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت زید ابن خلاد جہنی کی صحیح ترین روایات سے ثابت ہے کہ ایک مرتبہ ایک غیر شادی شدہ لڑکے نے جو ایک شادی شدہ عورت کاملازم تھا اس کے ساتھ زنا کیا زانی لڑکے کا باپ اس کو لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس گیا (اور کچھ رعایتیں چاہیں) تو آپ نے فرمایا کہ میں تم دونوں کا فیصلہ کتاب اللہ کی مطابق کروں گا۔ چناچہ آپ نے حکم دیا کہ زانی لڑکے کو جو غیر شادی شدہ ہے ایک سو کوڑے مارے جائیں اور شادی شدہ عورت کو سنگسار کردیا جائے کیونکہ دونوں نے اپنے جرم کا اقرار لیا تھا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا کہ زنا کی سزا میں ہم شرعی حیثیت سے رجم و سنگسار کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ وہ اللہ کی حدود میں سے ایک حد ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سن لو کہ رسول اللہ ﷺ نے خود رجم و سنگسار کیا اور ہم نے آپ کے بعد مجرموں کو رجم و سنگسار کیا۔ اور اگر مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ کہنے والے کہیں گے کہ عمر ؓ نے کتاب اللہ میں اپنی طرف سے کچھ بڑھا لیا ہے تو میں قرآن کے کسی کونے پر بھی اس کو لکھ دیتا۔ فرمایا کہ اس پر عمر بن خطاب ؓ گواہ ہے۔ عبدالرحمن ابن عوف گواہ ہیں اور فلاں ابن فلاں گواہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رجم و سنگسار کیا اور آپ کے بعد ہم نے (زانیوں کو ) رجم و سنگسار کیا (نسائی) ۔ اس حدیث میں حضرت عمر فاروق ؓ نے نبی کریم ﷺ کے ارشادات اور عمل کو کتاب اللہ اور آیت کتاب اللہ سے تعبیر فرمایا جو بالکل سچ ہے۔ اس موضوع پر ہمارے اکابر علماء نے نہایت تفصیل سے رجم و سنگسار پر کتابیں لکھی ہیں مزید معلومات کے لئے وہاں دیکھ لیا جائے۔ کوڑوں کی سزا : قرآن کریم اور احادیث کے اصولوں کی روشنی میں کوڑوں کی سزا دینے میں دو بنیادی مقصد ہیں (1) مناسب جسمان سزا دینا (2) اور زانیہ عورت اور زانی مرد کے فعل اور اس کی ذلت و رسوائی۔ کوڑوں کی سزا میں وحشیانہ یا ظالمانہ طریقے اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ بہت سی باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے اس سزا کو عبرت و نصیحت بنایا گیا ہے۔ چنانچہ جب کوئی غیر شادی شدہ مرد یا غیر شادی شدہ عورت اس ناجائز جنسی تعلق (زناض میں مبتلا پایا جائے جس پر عینی شاہدین نے معتبر اور مکمل گواہی پیش کردی ہو اور قاضی نے ان دونوں پر حد جاری کرنے کا حکم دیدیا ہو تو (اطلاع عام کے ذریعہ) مومنوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں ان کو ایک ایک سو کوڑے مارے جائیں گے اور اس میں کسی نرمی یا کمی بیشی کی اجازت نہیں ہوگی۔ جس کوڑے سے ماراجائے وہ درمیانہ اور اوسط درجہ کا ہو۔ نہ اتنا سخت ہو کہ اس سے مجرم کا جسم یاکھال پھٹ جائے اور اس کے گوشت کے ٹکڑے اڑجائیں۔ کو ڑانہ اتنا نرم ہو کہ یہ سزا محض ایک رسم یا مذاق بن کر رہ جائے۔ کوڑا ایسا ہونا چاہیے کہ ضرب (مار) کا اثر کھال تک رہے گوشت تک نہ پہنچے۔ ہاتھوں کو اتنا اونچا کرکے کوڑے نہ مارے جائیں جن سے کوڑے مارنے والے کی بغلیں کھل جائیں۔ کوڑے کی جگہ بید کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ کوڑے جسم کے کسی ایک حصے پر نہ مارے جائیں بلکہ چہرہ ‘ سر اور شرم گاہ کو بجا کر جسم کے مختلف حضوں پر اس سزا کو پھیلا دیا جائے۔ ایک سو کوڑے وقفے وقفے سے بھی مارے جاسکتے ہیں اور ایک ساتھ بھی۔ بیس بیس کوڑے ہر روز مارے جاسکتے ہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ ایک ہی دن میں ایک سو کوڑے مارے جائیں۔ اگر سزا کسی غلام یا باندی کو دی جائے تو ان کو نصف سزادی جائے گی یعنی چالیس چالیس کوڑے۔ اگر عورت حاملہ ہو تو وضع حمل ( بچہ پیدا ہونے) تک انتظار کیا جائے گا۔ جب بچہ پیدا ہوجائے تو مناسب وقت پر سزادی جائے گی۔ اگر مجرم نہایت کمزور ‘ شدید بیمار یا بہت زیادہ بوڑھا ہو جو کوڑوں کی سزا برداشت نہ کرسکے تو ایک ایسی ٹہنی (درخت کی شاخ) لی جائے جس میں ایک سو شاخیں ہوں ان کو ایک دفعہ مار دیا جائے تو اس سے حکم کی تعمیل ہوجائے گی۔ (ابودائود۔ ترمذی) مرد کو سزادینے کے لئے ستر کو چھپانے والے کپڑوں کے سوا ہر کپڑا اتار کر سزادی جائے گی اس کے برخلاف عورت کے صرف موٹے اور روئی دار کپڑے اتارے جائیں گے اور بقیہ کپڑوں کو اس کے جسم پر اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس سے سزا کے وقت کسی طرح اس کا جسم برہنہ نہ ہونے پائے۔ کسی چیز سے یا رسی وغیرہ سے مجرم کو باندھ کر سزا نہیں دی جائے گی۔ البتہ اگر مجرم بھاگنے یا حملہ کرنے کی کوشش کرے تو اس کو کسی چیز سے باندھ کر سزادی جاسکتی ہے۔ مرد کو کھڑاکرکے اور عورت کو بٹھا کر سزادی جائے گی۔ اگر کسی قاضی نے گواہوں کی گواہی پر سزادی ہے تو کوڑے مارنے کی ابتداء گواہوں سے کرائی جائے گی اور اگر مجرم یا مجرمہ نے خود ہی اقرار کیا ہو تو سزا کی ابتداء خود قاضی عدالت کرے گا۔ سخت سردی یا سخت گرمی کے وقت کوڑے مارنا مناسب نہیں ہے اس کا بھی خیا ل رکھنا ضروری ہے۔ شریعت کے ان تمام اصولوں سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عبرت کے لیے یہ ایک بہت ہی سخت سزا تو ہے لیکن اس کو وحشیانہ سزا کہنا ایک بہت بڑی زیادتی ہے۔ ان اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ قراردینے میں جس قدر پرو پیگنڈا کیا جاتا ہے وہ مذکورہ اصولوں کی روشنی میں بےحقیقت ہو کر رہ جاتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ غیر مسلم اگر ان سزاؤں کو وحشیانہ کہتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک تو اسلام کا وجود ہی دہشت گردی ہے اور انہوں نے ہمیشہ دین اسلام کو سمجھنے کے بجائے تعصب اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے لیکن جب ہمارے نام نہاد مسلمان ان سزاؤں کو وحشیانہ کہتے ہیں اور اس پر زور قلم صرف کرتے ہیں تو ان پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب فرمائے ۔ آمین۔ جیسا کہ آپ نے سروئہ نور کی ابتدائی آیتوں میں ملاحظہ کرلیا ہے کہ قرآن کریم میں ناجائز جنسی تعلق (زنا) کرنے والوں کے لئے جس قدر سخت ‘ ذلت آمیز اور عبرت ناک سزا مقرر کی گئی ہے اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر مومن اس بدترین گناہ کے قریب جانے سے بھی ڈرتا رہے اور وہ لوگ جو پرسکون اور اعتماد سیبھر پور نیکی کے ساتھ زندگی گذار نا چاہتے ہیں وہ اپنے معاشرہ میں تحفظ محسوس کرسکیں۔ اسی لئے ایسیمعاشرہ میں ایسے بدکار لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو اپنے ذہنی دیوالیہ پن کا اظہار کر کے اخلاق و کردار کی گراوٹ میں مبتلا ہو کر زنا جیسے فعل تک پہنچ گئے ہوں۔ ایسے مردوں اور عورتوں کے لئے تو وہی لوگ مناسب ہیں جو ان کی طرح ذہنی مریض ہوں۔ ایک مومن صالح کو بہر حال ان سے دور رہنے اور پرہیز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس میں ایک اور اہم خرابی کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے جس کا عرب میں کسی حدتک رواج ہوگیا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ بعض غریب و مفلس لوگ اپنے فقرو فاقہ سے تنگ آکر اور مال و دولت کے لالچ میں ایسی دولت مند اور مال دار فاحشہ عورتوں سے شادی کرلیتے تھے جن کی آمدنی پر وہ عیش و عشرت کی زندگی گذار سکیں۔ دین اسلام نے اس بےغیرتی اور بےحیائی سے روکنے کے لئے بھی فرمایا ہے کہ کوئی شخص فاحثہ اور بدکردار عورتوں سے دنیاوی لالچ میں آکر نکاح نہ کرے کیونکہ اس جذبے سے نکاح کرنا اہل ایمان پر حرام قرار دیا دیا گیا ہے۔ اگر کوئی پاک دامن مرد یا عورت گھریلو سکون اور روحانی تسکین کے لئے کسی زانیہ یا زانی سے نکاح کرلے تو وہ نکاح ہوجائے گا۔ لیکن اگر زانیہ یا زانی کی بد کرداری کی حفاظت کے لئے محض دکھاوے کی شادی ہو تو وہ نکاح نہیں ہوگا کیونکہ اگر کوئی شخص نکاح کے باوجود اس پر راضی رہے کہ اس کی بیوی زنا کاری میں مبتلا رہے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتا ہو تو ایسا نکاح حرام ہے۔ شریعت نے اس بات کو بھی واضح کر کے بیان کردیا ہے کہ ایک مومن مرد یا مومن عورت کا نکاح کسی مشرک عورت یا مشرک مرد سے نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اس بات کو بھی صاف کردیا گیا ہے کہ اگر زانی یا زانیہ ” سزا کے بعد “ سچے دل سے توبہ کر کے آئندہ زندگی نیکی اور پرہیز گاری کے ساتھ گذارنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمادے گا۔ اگر رجم و سنگساری کے بعد یا کوڑوں کی سزا میں اس کی موت واقع ہو جئے تو اس کو باقاعدہ غسل اور کفن دے کر اس کی نماز جنازہ پڑھائی جائے گی اور مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفن کیا جائے گا۔ جس نے اپنے فعل بد سے توبہ کرلی ہے اس کا نام برائی کے ساتھ نہیں لیا جائے گا۔
Ayahs 24:4–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو پھر وہ اس پر گواہ نہ چار لاسکیں، تو انکو تم لوگ اسی کوڑے مارو، اور ان کی کوئی گواہی بھی کبھی قبول مت کرو، اور یہی لوگ ہیں بدکار

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور وہ اپنی اصلاح بھی کرلیں تو ان کا گناہ معاف ہوجائے گا کہ بیشک اللہ بڑا ہی معاف کرنے والا نہایت ہی مہربان ہے

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر (زنا کا) الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے سوا کوئی اور گواہ نہیں ہے تو ان میں سے ہر ایک کی گواہی یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر (وہ کہے کہ ) بےشکوہ اپنے دعوے میں سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ (یوں کہے) کہ اگر وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

عورت پر سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کے ساتھ گواہی دے کہ بیشک وہ (اس کا شوہر جھوٹوں میں سے ہے۔

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ (یہ کہے کہ ) اگر اس کا شوہر سچے لوگوں میں سے ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب (نازل ) ہو۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تمہارے اوپر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا (تو تم بڑی خرابی میں پڑجاتے ) اور بیشک اللہ تو بہ قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 10 : یرمون (تہمت لگاتے ہیں۔ الزام لگاتے ہیں) ‘ شھدائ (شھید) گواہ ‘ اربع (چار) ‘ لعنۃ ( پھٹکار۔ اللہ کی رحمت سے دوری) ‘ یدرئوا (دور کرتا ہے۔ ہٹادیتا ہے) ‘ فضل اللہ (اللہ کا فضل و کرم) ‘ تو اب (بہت توبہ قبول کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 10 : دین اسلام ایک ایسے پاکیزہ ‘ صاف ستھرے اور صالح معاشرہ کا تصور دیتا ہے جس میں ہر شخص ایک دوسرے پر اعتماد اور آپس کی عزت و آبرہ کا محافظ ہو۔ کوئی کسی پر بےبنیاد الزام لگا کر اپنی آخرت کو اور اسلامی معاشرہ کے سکون کو برباد نہ کرے اور روحانی ‘ اخلاقی ‘ اور جسمانی اعتبار سے وہ ایک مضبوط ترین معاشرہ بن جائے۔ اگر کوئی شخص کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرتا ہے یعنی جھوٹا الزام لگاتا ہے اور وہ اپنے کہے ہوئے الفاظ پر گواہ پیش نہیں کرتا تو جھوٹی بات اور الزام لگانے پر اس کو بدترین سزادی جائے گی یعنی اس کو اسی (80) کوڑے مارے جائیں گے اور وہ کبھی کسی عدالت میں گواہی دینے کے قابل نہ رہے گا۔ سورۃ النور کی ابتدائی آیات میں ان ہی احکامات کو بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص کی عزت و آبرو بھی محفوظ ہوجائے اور اسلامی معاشرہ کی روح بھی برقرار رہے۔ ناجائز جنسی تعلق (زناض کی سزا بیان کرنے کے بعد اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ایک اور حکم ارشاد فرمایا ہے جس کے ذریعہ تنہا شوہر یا تنہا بیوی کی گواہی بھی قبول کی جاسکتی ہے لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی شوہر نے اپنی کھلی آنکھوں سے بیوی کو عین حالت مباشرت میں دیکھا اور اس کے سوا کوئی دوسرا گواہ نہیں ہے تو اس شوہر کی گواہی پر فیصلہ ” لعان “ کے ذریعہ ہوگا۔ لعان کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر کسی اسلامی عدالت سے رجوع کرکے اس بات پر اپنی گواہی دے گا کہ اس نے اپنی بیوی کو فلاں شخص سے عین حالت مباشرت میں خود دیکھا ہے۔ اسلامی عدالت کا کوئی قاضی اس سے کہے گا کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہے کہ میں اپنے دعوے میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ قسم کھا کر یہ کے کہ اگر یہ سب کچھ کہنے میں جھوٹا ہوں تو میرے اوپر اللہ کی لعنت (اللہ کا غیض و غضب نازل) ہو۔ الزام لگانے والا شوہر اگر الزام لگانے کے بعد قسم کھانے سے انکار کر دے تو اس کو قید کرلیا جائے گا ۔ اگر اس نے قسم کھانے سے مسلسل انکار کیا تو اس پر حد قذف جاری کی جائے گی یعنی اسی کو ڑے مارے جائیں گے اور ہمیشہ کے لئے اس کی گواہی کسی عدالت یا معاملہ میں قبول نہ کی جائے گی۔ اگر شوہر قسم کھالے گا تو اس عورت سے کہا جائے گا کہ وہ بھی شریعت کے احکام کے مطابق چار قسمیں کھا کر پانچویں مرتبہ اپنے اوپر لعنت بھیجے۔ اگر وہ عورت قسم کھانے سے انکار کرے تو اسکو اس وقت تک قید میں رکھا جائے گا جب تک وہ قسم نہ کھالے۔ اگر شوہر کے قسم کھانے کے بعد وہ خاموش رہتی ہے او کسی طرح جواب نہیں دیتی اور قسم بھی نہیں کھاتی تو عدالت کے فیصلے کے بعد اس پر شرعی حد جاری کی جائے گی۔ اگر شوہر کے قسمیں کھانے کے بعد اس کی بیوی بھی قسمیں کھا کر پانچویں مرتبہ لعان کرے تو شوہر کو چاہیے کہ وہ اس کو اسی وقت طلاق دیدے۔ اگر شوہر طلاق نہیں دے گا تو قاضی عدالت دونوں میں جدائی کرادے گا اور یہ جدائی کرانا طلاق کے قائم مقام ہوگی۔ طلاق یا جدائی کے بعد عورت اپنی عدت گذارے گی۔ عدت کے بعد وہ جہاں چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے اگر دوسرے شوہر سے بھی اس کو طلاق مل جائے تب بھی یہ عورت پہلے شوہر سے نکاح نہیں کرسکتی کیونکہ اب یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے قیامت تک حرام ہیں۔ جس طرح مردوں کے لئے احکامات ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہیں یعنی اگر کوئی عورت اپنے شوہر کو عین حالت مباشرت میں دیکھے تو وہ بھی عدالت سے رجوع کرسکتی ہے اور اس کا فیصلہ بھی اسی طرح ہوگا۔ جس طرح مرد کے الزام لگانے کے بعد ہوا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ کو ہر طرح کی گندگیوں اور بےبنیاد الزامات سے پاک و صاف رکھنا ضروری ہے تاکہ باہمی اعتماد سے ایک روحانی اور اجتماعی معاشرہ پیدا ہو۔ خاص طور پر میاں بیوی کا معاملہ اور رشتہ تو نہایت نازک ہے کیونکہ اگر میاں بیوی کے رشتہ میں دراڑ پڑجائے اور باہمی اعتماد اٹھ جائے تو پھر ایسی شک و شبہ بھری زندگی گذارنے سے تو بہتر یہ ہے کہ اس شادی کے بندھن کو ہمیشہ کے لئے توڑ دیا جائے۔ اسی طرح شریعت کسی شخص کو اس بات کی کھلی چھٹی نہیں دیتی کہ وہ جب چاہے جس پر چاہ بےبنیاد اور گھناونا الزام لگا دے اور اس پر کوئی شہادت و گواہی بھی پیش نہ کرے۔ شریعت نے جتنی سخت زا اس ناجائز فعل کی رکھی ہے اسی طرح جھوٹی گواہی دینے والوں کو بھی کڑی سزا دی ہے تاکہ کوئی شخص کسی کی عزت و آبرو پر انگلی اٹھاتے وقت سیکڑوں مرتبہ سوچ لے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے لعان کا راستہ بتا دیا کیونکہ جب میاں بیوی اعتماد کھوچکے ہیں تو ان کے ایسے ازدواجی تعلق کو ختم کردینا زیادہ بہتر ہے جس میں دن رات ایک دوسرے کے ہر عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ لعان کے سلسلہ میں چند ضروری مسال بھی پیش نظر رکھیئے۔ لعان سے پہلے سنت طریقہ یہ ہے کہ لعان جو ایک سخت معاملہ ہے اس کے الفاظ ادا کرنے سے پہلے عورت اور مرد دونوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور سمجھایا جائے گا تاکہ وہ اپنی قسم سے باز آجائیں۔ لعان کے بعد اگر عورت کو حمل رہ جاتا ہے تو حمل کی نسبت باپ کی طرف نہیں بلکہ ماں کی طرف کی جائے گی۔ لیکن کسی کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ اس لڑکے کو ” ولد ا لزنا “ کہا جائے یا ماں کو زانیہ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ سے پکارا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے نہایت وضاحت سے فرمادیا ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیان لعان ہوجائے (یعنی باہمی قسمیں کھا لیں تو) ان دونوں کو ہمیشہ کے لئے جداکردیاجائے گا اور اب وہ کبھی نکاح میں جمع نہیں ہو سکتے۔ لعان کے بعد یہ عورت اس مرد سے الگ ہو کر عدت کے فیصلے کے بعد کسی سے بھی نکاح کرسکتی ہے لیکن وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف رجوع نہیں کرسکتی کیونکہ اب یہ قیامت تک ایک دوسرے کے لئے حرام ہوچکے ہیں۔ اگر کسی نے لعان میں جھوٹی قسم کھائی تو وہ دنیاوی سزا سے بچ جائے گا لیکن قیامت میں اللہ کے عذاب سے بچنا ناممکن ہوگا۔ ۔
Ayahs 24:11–20

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے تہمت لگائی ہے وہ تم ہی میں سے ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ تم اس کو اپنے لئے برانہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لئے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔ اور جس نے ان میں سے بڑا بوجھ اٹھایا اس کے لئے بڑا عذاب ہے۔

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم لوگوں نے سنا تھا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے لوگوں پر نیک گمان کیوں نہ کیا اور کہا ہوتا کہ یہ تو کھلاجھوٹ ہے۔

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے۔ پھر جب وہ گواہ نہ لاسکے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں اللہ کا تم پر فضل وکرم اور رحمت نہ ہوتی جس بات کا تم نے چرچا کیا تھا اس کی وجہ سے تم پر کوئی سخت عذاب آجاتا۔

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

اور جب تم اس بات کو زبان پر لانے لگے اور منہ سے وہ بات کہنے لگے جس کا تمہیں علم نہ تھا تم اسے بہت ہلکی بات سمجھا حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ ایک بہت بڑی بات تھی۔

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

جب اور تم نے اس (بہتان کو) سنا تھا تو تم نے سنتے ہی کیوں نہ کہا کہ ہمیں ایسی بات کرنا مناسب نہ تھا۔ اللہ کی ذات پاک ہے اور یہ بڑا الزام ہے۔

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو ایسی بات آئندہ کبھی نہ کرنا۔

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تمہارے اوپر اللہ کا فضل و کرم اور رحمت نہ ہوتی تو (کیا کچھ نہ ہوجاتا) اور بیشک اللہ شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 : افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 : اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔ اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد افواہیں پھیلانا ایسا ناقابل معافی جرم ہے جس سے نہ صرف اسلامی معاشرہ بد نام ہوتا ہے بلکہ پاک دامنوں کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد مجروح ہو کر رہ جاتا ہے۔ شریعت کی نظر میں ہر صاحب ایمان شخص اپنی اپنی جگہ ایک ذمہ دار فرد ہے۔ اس کے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ کو اعتماد کی کسوٹی پر پورا اترنا چاہیے۔ خاص طور پر اگر ایک شخص دوسرے شخص پر الزام لگاتا ہے تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مناسب گواہوں اور دلائل سے ثابت کر کے دکھائے کیونکہ بےبنیاد افو ہوں کے ذریعہ دوسرے کی عزت و آبرو سے کھیلنا شریعت کی نظر میں ایک بہت گھنائونی حرکت ہے۔ اگر کسی نے الزام لگایا اور وہ اس کا ثبوت نہ پیش کرسکا اور یہ ثابت ہوجائے کہ اس الزام کا مقصد محض دوسرے کو بدنام اور رسوا کرنا تھا تو شریعت کے حکم کے مطابق نہ صرف اس شخص کو اسی (80) کوڑے مارے جائیں گے بلکہ یہ شخص ہمیشہ کے لئے ناقابل اعتبار قرار دیدیاجائے گا یعنی کسی عدالت یا ادارے میں اس کی گواہی کبھی قبول نہ کی جائے گی۔ اگر کسی طرح کا بہتان ایسی پاک باز اور ذمہ دار شخصیات کے خلاف لگایا گیا ہو جو اللہ کی نظر میں نہایت قابل احترام اور لائق عزت ہوں تو یہ جرم اور بھی سنگین ہوجاتا ہے۔ چنانچہ جب نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد مخلص مومنوں کی ایک چھوٹی سی جماعت بن گئی اور وہ اپنے اخلاق و کردار سے پورے عرب پر چھا گئی تو کفارو مشرکین نے اس جماعت کو تباہ و برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو قدم قدم پر عظمت کی بلندیاں عطا فرمادیں۔ اسی زمانہ میں ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہوگیا جس نے اپنے دنیاوی مفاد کے لئے ظاہری طور پر ایمان کا ڈھونگ تور چالیا تھا لیکن وہ اندر سے اسلام دشمنی پر قائم تھا وہ ہر وقت اس فکر میں لگا رہتا تھا کہ اگر کوئی موقع ہاتھ آجائے تو وہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو بدنام کرکے اپنے بغض کی آگ کو بجھا سکے۔ ایسے لوگوں کو قرآن کریم منافقین کا نام دیتا ہے۔ ان منافقین کا سردار عبد اللہ ابن ابی تھا جو دن رات اسلام دشمنی میں آگے آگے رہتا تھا۔ چناچہ ایک موقع پر اس منافق نے صدیقہ طاہرہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بےبنیاد الزام لگا کر شب خون مارنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے بروقت آیات نازل کر کے حضرت عائشہ ؓ کی بےگناہی کو ثابت فرمادیا جس سے منافقین کی تمام چا لیں ناکام ہو کر رہ گئیں۔ قرآن واحادیث کی روشنی میں مفسرین اور محدثین نے اس واقعہ کی تفصیل یہ بیان فرمائی ہے کہ اکثر غزوہ یا سفر میں آپ کی ازواج میں سے کوئی نہ کوئی آپ کے ساتھ ہوا کرتی تھیں 6؁ ہجری میں غزوہ بنی مصطلق (غزوہ مریسیع) کے موقع پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ آپ کے ساتھ تھیں۔ چونکہ پردے کے احکامات نازل ہوچکے تھے اس لئے دستور کے مطابق کسی اونٹ پر ” ہودج “ باندھ دیا جاتا جس میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سفر کیا کرتی تھیں۔ جب کسی جگہ قیام ہوتا تو اس ہودج کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا جاتا۔ چونکہ اس وقت حضرت عائشہ بہت دبلی پتلی تھیں جب اس ہودج کو باندھا جاتا تو پتہ ہی نہ چلتا تھا کہ آپ اس کے اندر موجود ہیں یا نہیں۔ اسی دوران رات کے آخری حصے میں اعلان کیا گیا کہ اب مجاہدین کا یہ قافلہ روانہ ہونے والا ہے جس کو صبح کی ضروریات سے فارغ ہونا ہے وہ سب فارغ ہوجائیں اس زمانہ میں باقاعدہ بیت الخلا نہیں ہوتے تھے بلکہ صحر ایا جنگل میں نکل کر رفع حاجت کی جاتی تھی۔ جب سارے صحابہ رسول ؓ دور صحرا میں نکل گئے تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بھی مردوں سے دور ہٹ کر صحرا کے کسی کونے میں رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئیں۔ لوگ ضروریات سے فارغ ہو کر اپنے قافلے میں پہنچ گئے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ واپس آرہی تھیں کہ ان کا وہ قیمتی ہار جو اپنی بہن حضرت اسماء سے لے کر آئی تھیں کسی جگہ گر پڑا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس کو تلاش کرنے پلٹیں تو اس میں دیر ہوگئی اور قافلہ روانہ ہوگیا۔ وہ لوگ جو حضرت عائشہ کے ہودج کو اونٹ پر لے کر چلتے تھے وہ سمجھے کہ حضرت عائشہ اس ہودج میں موجود ہیں۔ انہوں نے ہودج کو اونٹ پر باندھ دیا۔ جب حضرت عائشہ نے دیکھا کہ قافلہ روانہ ہوچکا ہے تو وہ چاردر اوڑھ کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئیں اور سوچنے لگیں کہ جب صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو معلوم ہوگا۔ تو وہ ان کو تلاش کرلیں گے۔ نبی کریم ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ کسی ذمہ دار شخص کو قافلے کی روانگی کے بعد یہ دمہ داری سپرد فرمادیا کرتے تھے کہ اگر کسی کا کوئی سامان رہ گیا ہو یا کوئی قافلے سے پیچھے رہ گیا ہو تو اس کو لے کرآجائیں۔ چناچہ اس موقع پر یہ ذمہ داری بدری صحابی حضرت صفوان ابن معطل ؓ لگائی گئی۔ حضرت صفوان ؓ جو نہایت نیک ‘ متقی ‘ پرہیزگار اور رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار بدری صحابہ میں سے تھے وہ میدان میں گھوم کر گری پڑ چیزوں کو تلاش کررہے تھے کہ اچانک ان کی نظر کسی شخص پر پڑی جو چادر اوڑھے لیٹا تھا۔ قریب آکر جب انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو دیکھا تو ان کے منہ سے بےساختہ ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ نکل گیا۔ حضرت عائشہ کے کان میں ان کی آواز پڑی تو آپ چادر میں سمٹ کر ایک طرف بیٹھ گئیں۔ حضرت صفوان نے نہایت ادب و احترام سے اپنا اونٹ کی نکیل پکڑ کر روانہ ہوگئے تاکہ جلد از جلد قافل تک پہنچ جائیں۔ یہ ایسا کوئی انوکھا واقعہ نہ تھا بلکہ اکثر ایسا ہو جاتا تھا کہ کوئی پیچھے رہ گیا ہو تو وہ اسی طرح اپنے قافلے سے مل جایا کرتا تھا مگر جب رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے دیکھا تو اس نے طرح طرح کی افواہیں پھیلانا شروع کردیں جو کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں رہا کرتا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور نبی کریم ﷺ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ منافقین نے نبی کریم ﷺ اور ام المومنین کو بدنام کرنے اور افواہیں پھیلانے میں اپنی ساری طاقتیں لگارکھی ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ کو اس الزام کا علم ہوا اور آپ نے دیکھا کہ عبد اللہ ابن ابی نے اتنا زبردست پروپیگنڈا کر رکھا ہے جس سے بعض سیدھے سادھے مسلمان بھی متاثر ہوچکے ہیں تو آپ کو اس سے شدید ذہنی صدمہ پہنچا۔ پروپیگنڈا اس قدر شدید تھا کہ حضرت حسان ابن ثابت ‘ حضرت مسطح ابن اثاثہ اور حضرت حمنہ بتن زینب تک ان کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس گئے۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک مہینے تک جاری رہا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کی بےگناہی ثابت کرنے کے لئے سورة نور کی یہ دس (10) آیتیں نازل فرمائیں۔ اسلامی اصولوں کے تحت الزام و بہتان لگانے والوں سے ثبوت طلب کئے گئے جب وہ ثبوت اور گواہیاں پیش نہ کرسکے تو تینوں پر ” حدقذف “ جاری کی گئی یعنی ہر ایک کے اسی (80) اسی (80) کوڑے مارے گئے۔ اور منافقین کے سردار عبداللہ ابن ابی پر دھری حد جاری کی گئی۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طاہر ؓ خود اس واقعہ کو بیان فرماتی ہیں کہ اس سفر کے بعد ہم مدینہ منورہ واپس پہنچ گئے۔ سفر کی تکان کی وجہ سے میں کچھ بیمار ہوگئی اور یہ بیماری کا سلسلہ ایک میہنے تک جاری رہا اس عرصے میں نہ کسی سے میں نے کچھ سنا اور نہ مجھے کسی نے کچھ بتایا۔ لوگوں میں کیا چرچے ہورہے تھے میں اس سے قطعاً بیخبر تھی۔ مگر میں اس بات کو اچھی طرح محسوس کررہی تھی کہ جب میں بیمار ہوتی تو آپ ﷺ میری بہت دل داری فرما ای کرتے تھے لیکن اس دوران سوائے خیریت معلوم کرنے کے آپ زیادہ بات نہ کیا کرتے تھے ۔ مجھے اس کا افسوس تھا مگر مجھے اس کی وجہ سے معلوم نہ تھی۔ اس زمانہ میں گھروں میں رفع حاجت کا انتظام نہ ہوتا تھا اور عادت کے مطابق ہم میدان میں رفع حاجت کے لئے جا یا کرتے تھے ۔ ایک دین ایسا ہوا کہ میری خالہ زاد بہن ام مسطح کے ساتھ میں رفع حاجت کے لئے گئی جب واپس آنے لگے تو ام مسطح کا پاؤں چادر میں الجھ گیا جس سے ان کو ٹھوکر لگی۔ ان کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ مسطح غارت ہوجائے۔ میں نے کہا کہ ماں ہوکر اپنے بیٹے کو بددعا دے رہی ہو۔ بیٹا بھی وہ کہ جس نے بدر جیسے غزوہ میں حصہ لیا تھا۔ ام مسطح نے کہا کہ عائشہ تم کتنی بھولی ہو۔ تمہیں معلوم ہے کہ مسطح کیا کہتا پھر رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو تمہیں بدنام کرتا پھر رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ انہوں نے وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو تمہیں بدنام کرتا پھر رہا ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے اصرار کرکے پوچھا کہ ام مسطح مجھے تفصیل سے بتائو کیا بات ہے ؟ ام مسطح نے الزام لگانے والوں کی تمام باتیں تفصیل سے بتا دیں۔ یہ سن رک میرے اوپر سکتہ طاری ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے رنج و غم کا پہاڑ میرے سر کے اوپر رکھ دیا گیا ہے۔ میں پہلے سے بیمار اور کمزور تھی مگر یہ بہتان سن کر تو میرے ہاتھ پاؤں کی جان سی نکل گئی۔ جب میں گھر پہنچی تو اس وقت رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔ مجھے سلام کیا اور عادت کے مطابق میری طبعیت پوچھی میں نے موقع دیکھ کر عرض کیا کہ مجھے اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت دیدیجئے۔ آپ نے اجازت دیدی اور میں اپنے والدین کے گھر آگئی۔ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ لوگوں میں یہ کیسی باتیں ہورہی ہیں والدہ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے لوگوں کا طریقہ ہی یہ ہے کہ جب کسی کی صورت اور سیرت اچھی ہوتی ہے اور وہ اپنے شوہر کی منظور نظر بھی ہو تو لوگ حسد کرنے لگتے ہیں اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا ان حالات کی خبر والد صاحب کو بھی ہے۔ والدہ نے کہا ہاں ان کو بھی علم ہے۔ میں نے والدہ سے کہا کہ لوگوں میں اتنی بڑی بڑی باتیں ہورہی ہیں اور آپ نے مجھے بتایا تک نہیں۔ یہ سن کر میری چیخیں نکل گئیں۔ میری چیخ کی آواز سن کر والد صاحب بھی آگئے اور میری والدہ سے پوچھا کہ کیا عائشہ کو اس کی خبر ہوگئی ہے ؟ والدہ نے کہا ہاں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی رو پڑے۔ اس کے بعد مجھے اتنا شدید بخار ہوگیا کہ گھر کے سارے گرم کپڑے میرے اوپر ڈال دیئے گئے مگر میری سردی اور کپکپی نہ رکتی تھی۔ میں صبح وشام اسی طرح روتی رہتی اور رات رات بھر روتے روتے سو جاتی۔ اس عرصہ میں آپ نے گھر کے مختلف حضرات اور صحابہ کرام ؓ سے بھی مشورے کئے مگر سب نے حضرت عائشہ کی پاک دامنی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اچانک تشریف لے آئے سلام کرکے ایک طرف بیٹھ گئے۔ چونکہ ابھی تک وحی نازل نہ ہوئی تھی اس لئے آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ مجھے تمہارے متعلق کچھ معلوم ہوا ہے۔ اگر تم پاک دامن ہو تو اللہ تعالیٰ یقیناً اس کو ظاہر فرمادیں گے لیکن اگر تم سے واقعی کوئی لغزش یا بھو ل ہوگئی ہے تو اللہ سے توبہ و استغفار کرو وہ اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف کردیتا ہے اور جو لوگ اللہ کی طرف جھکتے ہیں تو وہ ان کی مغفرت فرمادیتا ہے۔ یہ سن کر میرے آنسو تھم گئے اور میں نے پورے اعتماد کے ساتھ عرض کیا کہ اے ابا جان اپ اس بات کا جواب دیجئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا اللہ کی قسم میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آرہا ہے۔ والدہ نے بھی مجھے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کیا کہوں۔ میں نے کہنا شروع کیا۔ آپ نے ایک بات سنی اور اس کو اپنے دل میں بٹھا لیا۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں اس سے بری ہوں یعنی بےگناہ ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بےگناہ ہوں تو آپ سچ کو نہ مانیں گے اور اگر میں اس کا اقرار کرتی ہوں حالانکہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ میں اس الزام سے بری ہوں تو آپ لوگ اس کو مان لیں گے۔ میں اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح یہی کہتی ہوں ” فصبر جمیل واللہ المستعان علی ما تصفون “ اتنا کہہ کر میں بستر پر لیٹ گئی۔ مجھے یقین تھا کہ میری حالت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے وہ ضرور میری بےگناہی کو ثابت کردے گا اور یہ بات رسول اللہ ﷺ کے اوپر ظاہر ہوجائے گی۔ میرا یہ گمان تک نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میری بےگناہی ثابت کرنے کے لئے وحی نازل فرمائیں گے بلکہ میں یہ سمجھ رہی تھی کہ خواب میں آپ کے اوپر میری بےگناہی ثابت ہوجائے گی۔ آپ اسی کیفیت میں تھے کہ اچانک آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی اور آپ کے چہرہ انور سے پسینہ موتیوں کی طرح بہنا شروع ہوگیا۔ جب آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو میں بالکل مطمئن اور پرسکون تھی لیکن میرے والدین کا یہ حال تھا کہ جیسے ان کی جان نکل جائے گی۔ رسوائی کے خوف سے میرے والدین کبھی میری طرف دیکھتے اور کبھی رسول اللہ ﷺ کی طرف۔ وہ اس بات سے خوف زدہ تھے کہ نجانے وحی کے ذریعہ سے کیا بات نازل ہوجائے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھتے تو پریشان ہوجاتے اور جب میرے پرسکون چہرے پر نظر پڑتی تو مطمئن ہوجاتے۔ جب وحی نازل ہوچکی تو آپ ﷺ کا چہرہ انور خوشی سے دمکنے لگا۔ آپ ﷺ نے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا مسکراتے ہوئے فرمایا اے عائشہ ؓ مبارک ہو اللہ نے تمہاری بےگناہی ثابت کرنے کے لئے وحی نازل فرما دی ہے۔ اس پر میری والدہ نے فرمایا کہ اٹھو حضور ﷺ کا شکریہ اداکرو۔ میں نے کہا میں تو اس اللہ کا شکر یہ اداکروں گی جس نے آیات نازل کر کے میری بےگناہی کو ثابت کردیا ہے۔ یہ واقعہ ہوگیا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی بےگناہی ثابت ہوگئی اور ان منافقین کا منہ کالا ہوگیا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی محبوب بیوی گھنائو نا الزام لگایا تھا بلکہ اللہ نے ام لمومنین کو قیامت تک وہ عظمت عطا فرمادی جو کسی کو نصیب نہیں ہے۔ کب تک قرآن کریم پڑھا جاتا رہے گا ( اور قیامت تک پڑھاجائے گا) اس وقت تک حضرت عائشہ کی پاک دامنی کی عظمت کا اعتراف کیا جاتا رہے گا۔ درحقیقت جو لوگ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے محبت کرنے والے ہیں وہی کامیاب و بامراد ہیں لیکن لوگ حضرت عائشہ ؓ کی عظمت کا انکار کرتے ہیں وہ اس دنیا میں اور آخرت میں ذلیل ورسوا ہو کر رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کی بےگناہی کے ثبوت کے طور پر جو دس (10) آیتیں نازل فرمائی ہیں اس سے ان کی عظمت کو چار چاند لگ گئے ہیں جس سے اہل ایمان کے دل روشن ومنور رہیں گے۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اس واقعہ کی وجہ سے امت کو حد زنا ‘ حد قذف اور لعان اور دیگر احکامات عطا فرما دیئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی عظمت کو مان کر ان سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ وہ امت کی اسی ماں ہیں جن کی عظمت پر ہم سب کی ماؤں کی عظمتیں قربان ہیں۔
Ayahs 24:21–26

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو اور جو شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے تو (یاد رکھو کہ ) بیشک وہ شیطان تو بےحیائی اور بری باتوں ہی کا حکم دے گا۔ اور اگر تمہارے اوپر اللہ کا فضل و کرم اور رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی (گناہ سے) کبھی پاک نہ ہوتا۔ اور لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے۔ اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ بلند رتبہ اور صاحب حیثیت ہیں وہ رشتہ داروں ‘ محتاجوں ‘ اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں (کی خدمت) سے قسم نہ کھا بیٹھیں کہ وہ ان کو کچھ نہ دیں گے۔ انہیں معاف کردینا اور در گذر کردینا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری خطائوں کو معاف کردے۔ اور اللہ تو مغفرت کرے والا نہایت مہربان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

یقیناً جو لوگ ایسی مومن عورتوں پر بدکاری کا الزام لگاتے ہیں جو پاک دامن ‘ بھولی بھالی انجان ہیں تو ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن ان لوگوں کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ ان کو پوری پوری سزادے گا۔ اور وہ (اچھی طرح) جان لیں گے کہ اللہ ہی برحق ہے اور وہی حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

گندی عورتیں گندے مردوں کے لئے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لئے ہیں۔ اور صفت عورتیں پاک صفت مردوں کے لئے ہیں اور پاک صفت مرد پاک باز عورتوں کے لئے ہیں۔ وہ لوگ اس بہتان سے پاک ہیں جو کچھ یہ (طوفان اٹھانے والے) کہتے ہیں۔ ان کے لئے مغفرت اور عزت کا رزق ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : لاتتبعوا (تم پیچھے نہ چلو۔ تم اتباع نہ کرو) ‘ خطوات (خطوط) قدم۔ نقش قدم ‘(الفحشاء (فحش) بےحیائی کے کام ‘ مازکی (صاف ستھرانہ ہوتا) ‘ لا یاتل (ایتلائ) قسمیں نہ کھائیں ‘ اولی الفضل (حیثیت والے) ‘ السعۃ (گنجائش والے۔ وسعت والے) الا تحبون ( کیا تم پسند نہیں کرتے) ‘ المحصنت (المحسنۃ) پاک دامن ‘(الغفلت) (بےخبر۔ انجان۔ بھولی بھالی) ‘ السنۃ (لسان) زبانیں ‘ ایدی (دونوں ہاتھ) ‘ ارجل (رجل) پاؤں ۔ یوفی (وہ پورادے گا) ‘ الخبیثات ( گندی عورتیں) الطیبت (پاک صاف ستھری عورتیں) ‘ مبرءون (بری ہونے والے ۔ پاک صاف) ۔ تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 : شیطان جو انسان کا ازلی کھلا دشمن ہے اس کی ہمیشہ ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندوں کو راہ حق سے بھٹکاکر دنیا اور آخرت میں ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردے تاکہ نیکی ‘ پرہیزگاری ‘ پاکیزگی اور بھلائی کا ہر تصرو دھند لاکررہ جائے۔ لیکن اللہ کے وہ بندے جو شیطانی وسوسوں سے اپنا دامن بچا کر نبیوں اور رسولوں کے راستے پرچلتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی اور کامیابی عطا کردی جاتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان کی بنیادی کمزوریوں ‘ خواہشوں اور تمناؤں کی تندو تیز آندھیاں اس کو سچائی کے راستے سے ڈگمگانے کی کوشش کرتی ہیں مگر جن لوگوں پر اللہ کا خاص فضل و کرم ہوتا ہے وہ نیکی ‘ پاکیزگی اور بھلائی اختیار کر کے شیطان کے ہر نقش قدم سے محفوظ رہتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کریں کیونکہ بےحائیوں اور ہر طرح کے گناہوں میں پھنسا نے کی کوشش کرتا ہے جس سے ایک انسان ہر طرح کی خیر اور بھلائی سے محروم ہوجاتا۔ فرمایا کہ مومن کے مکارم اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ہر کام میں خلوص نمایاں ہو اس کا کوئی کام ریاکاری اور دکھاوے کے لئے نہ ہو بلکہ ہر نیک کام کے پیچھے اللہ کی رضا و خوشنودی کا جذبہ موجزن نظر آئے۔ مکارم اخلاق کی اسی تعلیم پر قائم رکھنے کے لئے فرمایا جارہا ہے کہ اہل امیان میں سے وہ لوگ جو صاحب حیثیت اور دوسروں کی مدد کرنے کی قدرت رکھتے ہیں وہ رشتہ داروں ‘ غریبوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کی ہمیشہ مدد کرتے رہیں۔ اگر کبھی ان سے کوئی ایسی بات ہوجائے جس سے ان کی دل شکنی ہوتی ہے تو وہ اپنی ذاتی رنجش کے لئے اپنے بلند اخلاق کی سطح سے نیچے نہ اتریں بلکہ ذاتیات سے بلند ہو کر محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہر طرح کی قربانیاں پیش کرتے رہیں۔ جس طرح اللہ اپنے بندوں کی ہر غلطی پر فوراً ہی گرفت نہیں کرتا بلکہ معافی اور در گذر کا انداز اختیار کرتا ہے اسی طرح اللہ کے نیک بندوں کو بھی اللہ کے اسی اخلاق کو اختیار کر کے عفو و درگذر کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب اللہ نے ان کی (حضرت عائشہ کی) بےگناہی ثابت کرنے کے لئے دس آیات نازل فرمادیں تو ان کے والد (حضرت ابوبکر صدیق ؓ جو اپنے خالہ زاد بھائی حضرت مسطح بن اثاثہ جو مہاجر غریب رشتہ دار تھے ان کی مدد کیا کرتے تھے جب آپ نے دیکھا کہ حضرت عائشہ ؓ پر الزام لگانے والوں میں حضرت مسطح بھی شامل ہیں تو انہوں نے حضرت مسطح کی ہر طرح کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا لیکن جب یہ آیات نازل ہوئیں ” اے مومنو ! تم میں سے جو لوگ بلند رتبہ رکھتے ہیں اور صاحب حیثیت بھی ہیں وہ اپنے رشتہ داروں ‘ ضرورت مندوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کی (خدمت سے) یہ کہہ کر انکار نہ کریدں کہ ہم ان کو کچھ نہ دیں گے۔ انہیں ایسے لوگوں کو معاف کردینا اور ان سے در گذر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف فرمادے اور اللہ تو نہایت مغفرت کرنے والا مہربان ہے “۔ روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس آیت کو سنا ” کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کردے “ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا الہیـٰ ! ہم ضرور چاہتے ہیں ” اس کے بعد انہوں نے حضرت مسطح ابن اثاثہ کی نہ صرف پہلے جیسی مدد کرنا شروع کردی بلکہ اپنے اخلاق کریمانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی مدد اور حسن سلوک میں اور اضافہ کردیا۔ بعض روایات کے مطابق کچھ دوسرے اہل ایمان نے بھی الزام تراشی کرنے والوں سے منہ موڑ لیا تھا اور ان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا تھا لیکن ان آیتوں کے بعد انہوں نے بھی اپنے عزیزوں ‘ رشتہ داروں کی پہل کی طرح مدد کرنا شروع کردی تھی۔ یہ سب کچھ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت سے سیکھا تھا کیونکہ خود نبی کریم ﷺ اپنے جانی دشمنوں کی معاف فرمادیا کرتے تھے اور آپ نے اپنی ذات کے لئے کسی سے کبھی کوئی انتقام نہیں لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی زندگی کے ہر پہلو میں یہی حوصلہ اور ہمت عطا فرمائے۔ آمین صحابہ کرام کے سامنے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی موجود تھا کہ ہر شخص کو اپنے رشتہ داروں ‘ اور ضرورت مندوں کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنا چاہیے کیونکہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ” صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو رشتہ داروں کے ساتھ صرف احسانات کا بدلہ اداکر دے بلکہ اصل صلہ رحمی کرنے والا شخص وہ ہے جو رشتہ داروں کے قطع تعلق کے باوجود ان سے اپنے تعلقات کو جوڑے رکھتا ہے “۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ بھولی بھالی ‘ بیخبر اور نیک چلن عورتوں پر غلط الزامات اور تہمتیں لگاتے ہیں ان پر نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی لعنتیں برسیں گی بلکہ ان پر ہر طرح کی ذلتیں اور رسوائیاں مسلط کی جائیں گی اور وہ حشر میں ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ فرمایا کہ کوئی شخص اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ وہ اپنے اس گناہ سے انکار کرسکے گا کیونکہ اس کی زبان ‘ اس کے ہاتھ پیر خود اس کے خلاف گواہ بن جائیں گے۔ پھر ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ دنیا میں کس قدر گھاٹے اور خسارے کا سواد کرکے آیا ہے۔ جب ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا فیصلہ آجائے گا تو ان ظالموں کے لئے سوائے پچھتانے کے اور کوئی کام نہ ہوگا۔ کیونکہ اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے جو ہر حقیقت کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ آیات جہاں الزام لگانے والوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ کرنے کے لیے ہیں وہیں ان آیات میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی نیکی ‘ پاک دامنی ‘ پرہیز گاری اور نیک چلنی کا اظہار بھی فرمادیا گیا ہے کیونکہ گندہ ذہن رکھنے والی اور بدکار عورتیں ہی جیسے بد کاروں کے لائق ہوتی ہیں لیکن نیک چلن عورتیں پاک دامن مردوں سے مناسبت رکھتی ہیں چونکہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے عظیم پیغمبر ‘ طاہر و طیب اور سراپا پاکیزگی ہیں لہٰذا اللہ نے ان کو بیویاں بھی ایسی عطا کی ہیں جو نہایت پارسا ‘ نیک اور پاکیزہ ہیں۔ خاص طور پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جنہیں اللہ نے عظمتوں کا مقام عطا فرمایا ہے وہ ایسی پاکیزہ اور بزرگ ہیں جن کی پاک دامنی کے لئے اللہ متعدد آیتیں نازل فرمائی ہیں۔ علماء کرام نے فرمایا کہ اتنی واضح آیات اور صاف حقائق کی موجودگی میں بھی اگر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر کوئی تہمت لگاتا ہے یا الزام دھرتا ہے یا بغض و عنادرکھتا ہے وہ نہ صرف اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے بلکہ دنیا اور آخرت میں وہ اللہ کی لعنت کا مستحق بن جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت یا الزام لگاتے ہیں وہ سات بڑ بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ فرمایا کہ تم پاک دامن عورتوں پر تہمت نہ لگائو کیونکہ تہمت ایک سو سال کے نیک اعمال کو غارت کر کے رکھ دیتی ہے۔ (طبرانی)