24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 24:1–10

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے نازل فرمایا اور اس (کے احکام) کو ہم نے فرض کردیا (مقرر کردیا) اور ہم نے اس میں صاف صاف آیتیں نازل فرمائی ہیں تاکہ تم یاد رکھو

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب کہ بدکاری ثابت ہوجائے) سو ان میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اللہ کے (دین کے) معاملے میں ان دونوں پر تم کو ذرا رحم نہیں آنا چاہیے اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اور ان دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت حاضر رہنی چاہیے

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زانی نکاح بھی زانیہ عورت سے کرتا ہے یا مشرکہ سے اور (اسی طرح) زانیہ کے ساتھ بھی کوئی نکاح نہیں کرتا بجز زانی یا مشرک کے اور یہ (ایسا نکاح) ایمان والوں پر حرام (موجب گناہ) قرار دیا گیا ہے

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر (اپنے دعوے پر) چار گواہ نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی لوگ بدکردار ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی) اصلاح کرلیں تو بیشک اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے سوا کوئی گواہنہ ہو تو ان میں سے ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ چار بار اللہ کی قسم کھائے کہ بیشک وہ سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور اس (عورت) سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ (پہلے) وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ بیشک یہ جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے کہ اس (عورت) پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ سچا ہو

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی (تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں) اور یہ کہ اللہ توبہ قبول کرنے والے حکمت والے ہیں

سورة النور : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة نور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور شرمگاہوں کی حفاظت نیز عفت و پاکدامنی کا ذکر جب چلا تو اس کے خلاف کرنے پر اسلام نے سز امقرر فرما دی ، اسلام نے بھی قاضی اور جج کے لیے موقع کی مناسبت شہادت اور قرائن یا اقبال و انکار جرم وغیرھا چیزوں پر غور کرکے انسداد جرائم کے لیے سزا تجویز کرنے کا موقع رکھا ہے کہ سزا سے مراد معاشرہ کی اصلاح اور خود مجرم کی اصلاح بھی ہے اور قاضی کی تجویز کردہ سزا کو اصطلاح میں تعزیر کہا جاتا ہے مگر چار باتوں پہ جج کو سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں صرف شہادت لے کر واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ دے گا سزا اللہ جل جلالہ نے خود مقرر کر ی ہے ان چار امور پر مقرر کردہ سزائیں حدود کہلاتی ہیں اور جن چار جرائم پہ حد جاری ہوتی ہے وہ یہ ہیں ۔ (1) چوری ۔ (2) پاک دامن خاتون پر تہمت لگانا۔ (3) شراب پینا اور (4) زنا ، پہ چاروں جرائم اس قدر گھناؤنے ہیں کہ جس معاشرے میں پائے جائیں اس کا امن بھی تباہ ہوجاتا ہے اور دنیا کے اعتبار سے بھی کبھی نہیں پھولتا پھلتا اور دین بھی برباد ہوجاتا ہے کہ اللہ جل جلالہ کی عظمت سے یقین اٹھ جاتا ہے ، خصوصا شراب نوشی اور زنا کے اثرات کو مغرب کی دنیا میں دیکھا جائے تو عبرت کا بہت بڑا سامان ہے کہ وہاں نہ کوئی رشتہ محفوظ ہے اور نہ نسب کی کوئی قدر نہ عزت و شرافت بچتی ہے اور نہ حیا کا کوئی تصور ابن آدم جانوروں کیا خنزیروں سے بدتر زندگی گذار رہا ہے اور دینی ودنیاوی رشتے تباہ ہوچکے ہیں بھلا جس معاشرے میں شرم وحیا ناپید عزت وناموس عنقا رشتوں کا تقدس ختم ہوچکا ہو اسے کسی خوبی کی بنا پر انسانی معاشرہ کہا جاسکتا ہے ہرگز نہیں دنیا پہ انہوں نے ظاہرا رعب بنا رکھا ہے مگر اندر سے بہت کمزور اور کھوکھلے ہیں ، امریکہ ساری طاقت لگانے کے باوجود ویت نام سے مار کھا کر لوٹا ، روس افغانستا پر چڑھ دوڑا مگر مجاہدین کے مقابلہ میں تباہ ہوگیا ، چالیس مغربی ممالک نے مل کر عراق پر حملہ کیا مگر اس کا اتنا نقصان نہ ہوا جتنے نقصان کا سامنا امریکہ ، برطانیہ اور فرانس وغیرہ کو کرنا پڑا ، یہ محض بڑھکیں لگا کر اور دھوکہ دے کر دنیا پر رعب جمائے ہوئے ہیں ، اے کاش مسلمان بیدار ہو اور اللہ کا نام لے کر جہاد کی طرف بڑھے تو انہیں اپنی حیثیت یا د آجائے یہ شراب اور زنا کے مارے ہوئے معاشرے اللہ جل جلالہ کی زمین پر بوجھ ہیں تو اسلام نے ان خطرات کا پوری طرح سد باب کیا ہے یہاں زنا پر مقرر کردہ سزا کا بیان ہے لہذا ارشاد ہوتا ہے کہ یہ سورت ہم نے نازل کی ہے اور اس کے معانی ومفاہیم ہم نے مقرر فرمائے ہیں جن کا ماننا اور ان پر عمل کرنا تم سب مسلمانوں پر لازم ہے نیز اس میں بڑی واضح دلیلیں اور کھری باتیں ارشاد کی گئی ہیں تاکہ تم ان کو یاد رکھو اور ان سے نصیحت حاصل کرو ۔ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کے لیے حکم یہ ہے کہ انہیں سو سو کوڑے مارے جائیں نیز جرائم پر سزا دینے کے معاملے میں تم میں سے کوئی بھی نرمی اختیار نہ کرے کہ یہ اللہ جل جلالہ کا دین ہے محض کسی سیاسی حکومت کا قانون نہیں یعنی یہ صرف حکم کی تعمیل ہی نہیں اللہ جل جلالہ کی رضا کا سبب بھی ہے اور یقینا اس پہلو سے تو وہی نظر کرے گا جسے اللہ جل جلالہ کے ساتھ اور روز آخرت کے ساتھ ایمان نصیب ہوگا مزید یہ کہ یہ سزا سرعام دی جائے اور عامۃ المسلمین اس کو دیکھیں کہ معاشرہ اس سے عبرت حاصل کرے اور ایسا قبیح فعل کرنے والوں کی سزا میں رسوائی کا اضافہ بھی ہو ، صحیح حدیث اور عمل نبوی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام سے ثابت ہے کہ یہ سزا کنوارے مرد اور غیر شادی شدہ عورت کے لیے مخصوص ہے اور شادی شدہ عورت یا مرد اگر زنا کے مرتکب ہوں گے اور وہ ان پر ثابت ہوجائے تو انہیں سرعام سنگسار کیا جائے گا ، ” سنگسار کرنا پتھر برسا کر ہلاک کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ “ حقیقتا زنا کی سزا میں بھی تدریج ہے یعنی شروع میں اس سے نرم سزا رکھی گئی پھر بتدریج سخت کردی گئی کہ پہلے سورة نساء میں گذر چکا کہ اگر عورت پر چار گواہوں سے یہ جرم ثابت ہوجائے کہ تو اسے گھر میں قید رکھا جائے اور مرد کو ایذا دی جائے تاآنکہ اللہ جل جلالہ کوئی راستہ پیدا کردے یا انہیں موت آجائے اب وہ راستہ اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ سو سو کوڑے سرعام مارے جائیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سزا غیر شادی شدہ کے لیے ہے قرآن اور حدیث دونوں وحی الہی ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے لیے دونوں میں کوئی فرق نہ تھا اسی زبان مبارک نے انہیں قرآن بھی سنایا جس سے انہوں نے حدیث سنی لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ رجم اور سنگسار کا تذکرہ قرآن میں نہیں لہذا یہ سزا ہی مناسب نہیں ایسا کہنے والا مومن نہیں ہو سکتا ۔ جو حدیث رسول کو اہم اور قابل عمل نہ سمجھتا ہو تو کیا اسے قرآن کسی اور ذریعے سے ملا ہے لہذا یہ قانون ہے کہ اگر کنوارے مرد وعورت پر یہ جرم ثابت ہو تو سرعام انہیں کوڑے مارے جائیں گے اس کے ساتھ جج کی صوابدید پر ہے کہ ضروری سمجھے کہ مرد کو ایک سال جلاوطن بھی کرسکتا ہے اور اگر شادی شدہ عورت اور مرد اس جرم میں ملوث ہوں تو انہیں سنگسار کیا جائے گا ، یہ نہ صرف نبی اکرم ﷺ کے ارشادات سے ثابت ہے بلکہ یہ سزا آپ نے جاری فرمائی حتی کہ ایک کنوارے لڑکے کو سو کوڑے مارے گئے اور شادی شدہ خاتون کو سنگسار کیا گیا ، یہی سزا خلافت راشدہ اور بعد کی اسلامی حکومتوں میں جاری کی گئی تفصیل کے لیے احادیث وفقہ کی کتب دیکھی جائیں ، یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں ۔ ہاں جن جرائم پر سخت سزا دی گئی ہے اور انہیں معاشرے کے لیے سخت نقصان دہ قرار دے کر اس کے سدباب کا اہتمام کیا گیا ہے وہاں ان پر ثبوت کے لیے شہادت بھی سخت رکھی گئی ہے اگر شہادت میں ذرا کمی رہ گئی یا شبہ پیدا ہوا تو حد جاری نہ ہوگی جج کی صوابدید پر تعزیری سزا دی جائے گی نیز شہادت کے لیے دو مرد یا ایک مراد اور دو عورتوں کی گواہی کافی ہے مگر سنگسار کرنے کے لیے چار مردوں کی عینی شہادت ضروری ہے اور وہ بھی ایسی کہ جس شہادت سے زنا ثابت ہو ورنہ محض برہنہ پایا جانا اور کسی غیر شرعی صورت میں تعزیر ہوگی اور شہادت غلط ثابت ہوگئی جرم ثابت نہ ہوسکا تو گواہوں پر حد قذف جاری ہوگی یعنی جھوٹی تہمت لگانے کی سزا اور وہ اسی کوڑے ہے اس کے علاوہ مختلف غیر شرعی صورتوں میں تعزیر ہوگی اور زنا کس قدر نقصان دہ ہے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ تو لوگوں کے مزاج تک بدل دیتا ہے اور زنا کا عادی مرد نکاح کے لیے بھی ایسی عورت ہی کو پسند کرتا ہے جو زانیہ اور بدکار ہو یا بےدین ومشرک کہ اس کا مقصد شہوت رانی ہوتا ہے اسی طرح زانیہ عورت بھی نکاح کے مقصد اصلی یعنی بقائے نسب اور شرافت کے لیے نہیں شہوت رانی کے لیے کسی زانی مرد یا بےدین مرد کو پسند کرتی ہے حالانکہ خود زنا اور محض شہوت رانی کے لیے نکاح ایمان والوں پر حرام کردیا گیا اور نکاح کا مقصد ایک شریف صحیح النسب اور نیک خاندان کی بنیاد رکھنا ہے نہ کہ محض شہوت رانی۔ فقہا کے مطابق اگر دو زانی مرد عورت آپس میں نکاح کریں گے تو ان کا مقصد کچھ بھی ہو نکاح منعقد ہوجائے گا اور اولاد کا نسب ثابت ہوگا وراثت وغیرہ کے احکام جاری ہوں گے برخلاف مشرکہ یا مشرک کے کہ مسلمان کا نکاح ان سے منعقد ہی نہ ہوگا نیز جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے کی جرات نہ کی جاسکے نیز آئندہ کے لیے ان کی گواہی قبول نہ کی جائے کہ وہ سخت بدکار لوگ ہیں ، یہ سزا تو اسے ہر حال بھگتنا ہوگی اگر توبہ کرلے اور اس کے بعد ایسا جرم نہ کرے اپنی اصلاح کرلے تو آخرت کا عذاب اللہ کریم معاف فرما دیں گے کہ وہ بہت بڑے بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں ۔ ایک صورت یہ ہے کہ کوئی مرد اپنی ہی بیوی پر تہمت لگائے تو اسے بھی چار گواہ لانے ہوں گے یا پھر چار دفعہ اللہ کی قسم کھائے گا کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کہے گا کہ اگر اس نے جھوٹ بولا ہے تو اس پر اللہ جل جلالہ کی لعنت ہو ۔ اسے شریعت میں لعان کہا گیا ہے یعنی لعنت کرنا ، اس کی صورت یہی ہے کہ میاں بھی چار گواہ لائے ورنہ قید کیا جائے گا اور اگر اپنا جھوٹا ہونے کا اقرار کرے گا تو تہمت کی حد یعنی اسی کوڑوں کی سزا پائے گا یا پھر چار دفعہ اللہ جل جلالہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں دفعہ کہے کہ اگر اس نے جھوٹ کہا ہو تو اس پر اللہ جل جلالہ کی لعنت تو سزا سے بچ جائے گا مگر عورت پر حد جاری نہ ہوگی بلکہ اسے بھی موقع دیا جائے گا ہاں جرم کا اقرار کرے تو سزا پائے گی ورنہ چار بار قسم کھا کر کہے کہ اگر وہ مرد جھوٹ بول رہا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ جل جلالہ کا غضب ہو تو وہ سزا سے بچ جائے گی مگر لعان کرنے سے وہ ایک دوسرے پر حرام ہوجائیں گے اور پھر کبھی ان کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا ، نیز اس کی تفصیل بھی کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں ، مفسرین کرام نے لعان کے واقعات جو عہد رسول اللہ ﷺ میں وقوع پذیر ہوئے نقل فرمائے ہیں ۔ اور اگر اللہ تم پر مہربان نہ ہوتا اور تم پر اس کی رحمت سایہ فگن نہ ہوتی تو تمہارا اسلامی معاشرہ بھی غیر اسلامی معاشرے کی طرح تباہ شدہ ڈھانچہ بن جاتا مگر یہ اس کا کرم ہے کہ سخت سزا مقرر فرما کر معاشرے کی حفاظت فرمائی اور توبہ کا دروازہ کھلا رکھ کر گناہگار کی آخرت کے عذاب سے بچنے کی صورت پیدا فرما دی وہ بہت ہی بڑی حکمتوں کا مالک ہے ۔
Ayahs 24:11–20

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے (صدیقہ کائنات کے بارے) یہ طوفان برپا کیا ہے وہ (اے مسلمانو ! ) تم میں سے ایک (چھوٹا سا) گروہ ہے تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ یہ (انجام کے اعتبار سے) تمہارے حق میں بہتر ہی بہتر ہے اس میں جس نے جتنا کیا اس کو اتنا ہی گناہ ملا اور ان میں سے جس نے اس (بہتان) کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپس والوں کے ساتھ ایک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح جھوٹ ہے

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

یہ لوگ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو اللہ کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر تم پر دنیا وآخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس شغل میں تم پڑے تھے اس کی وجہ سے تم پر ضرور بہت بڑا عذاب ہوتا

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اس (جھوٹ) کو اپنی زبانوں سے ایک دوسرے سے ذکر کر رہے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو علم بھی نہ تھا اور تم اس کو ایک معمولی بات سمجھتے تھے اور اللہ کے نزدیک وہ بڑی بھاری (اہم) بات تھی

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہہ ہمیں زیب نہیں دیتا کہ ایسی بات زبان پر لائیں ، (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو بہت بڑا بہتان ہے

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تم کو نصیحت فرماتے ہیں کہ پھر کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم ایمان رکھتے ہو تو

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تم سے صاف صاف آیات (احکام) بیان فرماتے ہیں اور اللہ بڑے جاننے والے بڑے حکمت والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہوگا اور اللہ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا) اور یہ کہ اللہ نہایت مہربان (اور) رحم کرنے والے ہیں

رکوع نمبر 2۔ جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔ (واقعہ افک) رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ قافلہ ٹھہرا ہوا تھا ، آخر شب کوچ کا حکم ملا حضرت صدیقہ ؓ رفع حاجت کے لیے جنگل کو گئیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے ہودج اٹھا کر اونٹ پر کس دیا چونکہ آپ نازک بدن تھیں کسی نے محسوس بھی نہ کیا کہ ہودج خالی ہے آپ واپس پلٹیں تو قافلہ روانہ ہوچکا تھا ، آپ نے دانشمندی اور وقار کا ثبوت دیا کہ چادر لے کر اسی جگہ لیٹ گئیں ، قافلے کے پیچھے دوڑنا مناسب نہ جانا کہ آخر جب پتہ چلے گا کہ ہودج خالی ہے تو کوئی لینے آجائے گا ، آپ کی آنکھ لگ گئی ، حضرت صفوان بن معطل ؓ کو نبی کریم ﷺ نے قافلے کے پیچھے مقرر فرمایا تھا کہ روانگی کے بعد دیکھ لیں کسی کی کوئی شے رہ نہ گئی ہو ، وہ صبح نکلنے کے بعد وہاں پہنچے تو دیکھا کہ صدیقہ کائنات ؓ اپنے خیمہ کی جگہ سو رہی ہیں ان کی زبان سے بےساختہ نکلا ، (آیت) ” انا للہ ونا الیہ راجعون “۔ انہوں نے یہ کلمہ سنا تو آنکھ کھل گئی اور چہرہ مبارک ڈھانپ کر بیٹھ گئیں ، حضرت صفوان ؓ نے اونٹ لا کر پاس بٹھا دیا آپ سوار ہوگئیں اور نکیل پکڑ کر آگے چلنے لگے یہاں تک کہ قافلے سے مل گئے ۔ عبداللہ ابن ابی منافق بھی ساتھ تھا اسے آپ ﷺ سے دشمنی کا موقع ہاتھ آیا اور واہی تباہی بکنے لگا ، دو صحابی حسان ؓ اور مسطح ؓ اور ایک صحابیہ جن کا نام حمنہ ؓ تھا اس کی سازش کا شکار ہو کر اس بات میں شامل ہوگئے اور مسلمانوں کو بہت رنج ہوا خود رسول اللہ ﷺ کو بھی بہت صدمہ ہوا کسی بھی شریف کے لیے ایسی تہمت ایک بہت بڑا حادثہ ہوتی ہے اور پھر رسول اللہ ﷺ کی آبرو پہ حرف آئے تو خود آپ ﷺ پہ کیا گذری ہوگی یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں چناچہ واپس پہنچ کر آپ بہت رنجیدہ تھے اور حضرت عائشہ ؓ کو خبر نہ تھی مگر بخاری شریف میں روایت ہے فرماتی تھیں کہ آپ ﷺ گھر تشریف لاتے تو صرف خیریت پوچھ کر تشریف لے جاتے اور پہلا لطف وکرم نہ تھا جس سے آپ ؓ بیمار پڑگئیں آخر آخر جب مسطح ؓ کی والدہ سے آپ کو خبر ہوئی تو دل پھٹنے لگا رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی کہ والد کے گھر چلی جاؤں آپ نے اجازت دی اور آپ والدین کے ہاں تشریف لے گئیں والدہ ماجدہ نے تسلی دی کہ تم جیسی خوش نصیب عورتوں کے دشمن ہوا کرتے ہیں فکر نہ کرو معاملہ حل ہوجائے گا ۔ مگر ان کے آنسو تھمنے کو نہ آتے تھے ادھر یہ سارا عرصہ کوئی وحی بھی نازل نہ ہوئی آپ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید ؓ اور حضرت علی (علیہ السلام) سے مشورہ فرمایا حضرت اسامہ ؓ نے عرض کیا کہ ہمارے علم کی حد تک تو کسی کی بدگمانی کا گذر بھی نہیں اور حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ اگر آپ چاہیں تو دیگر عورتوں کی بھی کمی نہیں اور چاہیں تو بریرہ ؓ سے جو حضرت عائشہ ؓ کی کنیز تھیں تحقیق فرما لیجیے ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے دوسری رائے پسند فرما کر حضرت بریرہ ؓ سے پوچھا تو وہ کہنے لگیں آٹا گوندھ کے رکھتی ہیں تو کئی بار خود سو جاتی ہیں اور بکری آٹا کھا جاتی ہے اس کے علاوہ تو کوئی عیب کی بات میرے علم میں نہیں اس کے بعد آپ ﷺ نے برسرمنبر تہمت گھڑنے والوں سے سخت شکایت فرمائی القصہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میرے والدین میرے پاس بیٹھے ڈر رہے تھے کہ اس قدر شدت سے رونے سے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے آپ نے مختصر خطبہ پڑھا میرے پاس تشریف رکھتے تھے لہذا فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے اگر تم بری ہو تو اللہ کریم تمہیں ضرور بری کردیں گے اور اگر تم سے لغزش ہوگئی ہے تو استغفار کرو کہ بندہ جب گناہ سے توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے ، آپ فرماتی ہیں میرے آنسو خشک ہوگئے میں نے والدہ کو دیکھا کہ جواب دیں مگر انہوں نے عذر کیا والد کو دیکھا تو انہوں نے فرمایا میں کیا کہہ سکتا ہوں مجبورا مجھے عرض کرنا پڑا تو آپ نے اس لمحے جو فرمایا وہ آپ ہی کا حصہ ہے ، اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے سنا اور آپ کو صدمہ ہوا اب اگر میں کہوں کہ بری ہوں تو کوئی یقین نہ کرے گا حالانکہ اللہ جل جلالہ جانتا ہے میں بری ہوں اور اگر میں کہوں کہ قصور ہوگیا تو سب مان لیں گے ۔ لہذا میں اپنا معاملہ اللہ جل جلالہ کے سپرد کرتی ہوں اور وہی کہتی ہوں جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کی غلط بات سن کر کہا تھا (آیت) ” فصبر جمیل واللہ المستعان علی ما تصفون “۔ کہ میں صبر جمیل اپناتی ہوں اور لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان میں اللہ جل جلالہ ہی مددگار ہے چناچہ آپ بستر پر لیٹ گئیں اور فرماتی ہیں مجھے یقین تھا کہ اللہ جل جلالہ اپنے نبی ﷺ کو حقیقت سے باخبر کر دے گا مگر یہ گمان نہ تھا کہ میرے بارے قرآن نازل ہوگا اور قیامت تک تلاوت ، نماز اور عبادات میں مساجد اور حرم میں پڑھا جاتا رہے گا ، ابھی سب لوگ وہیں بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہونے لگی اور جب نزول وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ ہنستے ہوئے اٹھے اور فرمایا عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) مبارک ہو اللہ جل جلالہ نے تمہیں بری کردیا اور آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں جو ان کی برات میں نازل ہوئی تھیں ان آیات کی تفسیر میں مفسرین نے آپ کے فضائل میں لکھا ہے کہ بہت سی باتوں میں حضرت عائشہ ؓ کو انفرادی شان اور فضیلت حاصل ہے جن پر وہ تحدیث نعمت کے طور پر فخر فرمایا کرتی تھیں جیسے یہ کہ قبل از نکاح جبرائیل امین نے ان کی تصویر نبی اکرم ﷺ کو پیش کی اور دکھائی آپ ہی واحد کنواری خاتون تھیں جو حضور ﷺ کے نکاح میں آئیں آپ ﷺ نے آخری مسواک جو چبایا وہ آپ نے پہلے چبا کردیا آپ ﷺ نے ان کی گود میں دنیا سے پردہ فرمایا ، آپ ﷺ کا قیام انہی کے حجرہ مبارک میں ہے آپ کے بستر میں حضور ﷺ پر وحی نازل ہوتی رہتی تھی آپ کی برات میں قرآن نازل ہوا اور آپ خلیفہ رسول ﷺ کی صاحبزادی تھیں ، چناچہ رسول ﷺ نے مسلمانوں میں سے تہمت لگانے والوں حضرت حسان ؓ ، مسطح ؓ اور حمنہ ؓ پر حد جاری فرمائی ، اسی ، اسی کوڑے لگائے گئے اور ابن ابی جو بات گھڑنے والا تھا پر دوہری حد جاری فرمائی گئی ، مومنین نے توبہ کرلی اور منافقین اخروی عذاب پانے کے لیے اپنے حال پر رہے ۔ (کفر شیعہ کا ایک پہلو اور انداز) نزول قرآن کے بعد بھی اگر کوئی تہمت گھڑے تو ان آیات کا منکر ہو کر کافر ہوگا اور شیعہ چونکہ اسی کے قائل ہیں لہذا امن جملہ دوسرے کفریات کے ان کا ایک کفر یہ بھی ہے جس کے بارے مفتی محمد شفیع (رح) بھی لکھتے ہیں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں وہ باجماع امت کافر ہیں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ طوفان جو چند لوگوں نے برپا کیا ہے یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ محض ایک آدمی اٹکل سے بات کہتا ہے بغیر دیکھے پھر کل تین اور بندے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں تو اس کی عرفا بھی کوئی حیثیت نہیں اور دوسرے یہ کہ اس سے کوئی ضرر نہ پہنچے گا بلکہ یہ خیر کا باعث عامۃ المسلمین کے لیے نص قرآنی سے ضابطہ معین ہوگیا اور حضرت صدیقہ ؓ کی شان میں قرآن کی آیات نازل ہو کر ہمیشہ کے لیے ان کی عظمت کی دلیل بن گئیں ہاں طوفان اٹھانے والے ہی اس کی لپیٹ میں آئیں گے اور اپنے کیے کی سزا پائیں گے جنہوں نے ہاں میں ہاں ملائی ان پر تو حد بھی جاری ہوئی مگر جو سن کر خاموش بھی رہے انہیں بھی گناہ ہوا جس کے دل میں گمان گذرا اسے اس کا گناہ ہوا چناچہ سب مسلمانوں نے توبہ کی اور جس نے یہ بات گھڑی ہے اس کے واسطے تو بہت بڑا عذاب ہے یعنی ابن ابی بوجہ نفاق کے دوزخ کا مستحق تو تھا ہی بوجہ ایذائے رسول مزید عذاب میں مبتلا ہوگیا اور سخت ترین عذاب سے دو چار ہوگا اور بھلا جب مومنین نے سنا ہی تو مسلمان مردوں اور خواتین نے کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صاف جھوٹ اور بہت بڑا طوفان ہے اور اپنے دلوں میں آپ ﷺ کی آبرو کی عظمت کے باعث خیر کا گمان کیوں نہ رکھا اور اگر بہتان لگانے والوں کے پاس ثبوت تھا تو وہ پیش کرتے یعنی وہ چار گواہ لاتے جو چشم دید ہوتے ، اگر وہ ایسا نہیں کرسکے تو اللہ جل جلالہ کے نزدیک جھوٹے ہیں لہذا ان کی بات کو اہمیت ہی کیوں دی گئی ، اسلام نے انسانی آبرو کی حفاظت کی ہے اور اگر کسی سے قصور ہوجائے تو اسے توبہ کا حکم دیا ہے اور اصلاح کا موقع فراہم فرمایا ہے لہذا اگر شہادت پوری نہ ہو کوئی اکیلا ایسا واقعہ دیکھے بھی وہ محض دوسروں کی رسوائی کا باعث نہ بنے ورنہ اس پر جھوٹا ہونے کی حد جاری ہوگی کہ قصور وار کی تشہیر اسے جرم پر پکا کرتی ہے اور سزا نہ ملے تو دوسروں میں بھی جرم کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کے لیے عذاب بن جاتا ہے لہذا اسلام میں ایک انسان کی آبرو معاشرے کی آبرو ہے اور اس کا لحاظ رکھا جائے گا کہ یہ تو ثبوت ہو حد جاری ہو تو معاشرے کی اصلاح ہو ورنہ محص تشہیر نہ کی جائے ۔ اگر مسلمانوں پر دنیا وآخرت میں اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ایسی بات پھیلانے کے باعث ان پر بہت بڑا عذاب آجاتا جبکہ کچھ لوگوں نے ایسی خرافات اپنی زبانوں سے کہی اور ان کے منہ سے نکلی جس کا انہیں علم بھی نہیں تھا محض ایک منافق کی بدگمانی اور بےدلیل بات کو لے اڑے اور لوگوں نے سمجھا کہ حرم نبوی پر انگلی اٹھانا ایک عام یا آسان بات ہے مگر اللہ کے نزدیک یہ ایک شدید ترین جرم ہے اور بہت بڑی جسارت ہے ، حق یہ تھا کہ سنتے ہی کہہ اٹھتے کہ ایسی بات منہ سے نکالنا ہمیں ہرگز زیب ہی نہیں دیتا پاکی اللہ جل جلالہ کے لیے ہے اور وہی ہر عیب سے بالاتر ہے مگر یہ بات بھی ایک بہت بڑا بہتان ہے اللہ کریم تمہیں منع فرماتے ہیں کہ اگر تم ایماندار ہو تو کبھی ایسی بات دوبارہ زبان پر مت لانا اور دوبارہ ایسا گمان بھی مت کرنا (مگر شیعہ اسی کے قائل ہیں لہذا ایمان سے خارج ہیں) اللہ تمہارے لیے بہت واضح اور پتے کی باتیں بیان فرماتے ہیں اس لیے کہ وہ سب کچھ جاننے والے بھی صاحب حکمت بھی ہیں ۔ (فحش نویسی اور فحش فلمیں) جو لوگ مسلمانوں اور اسلامی معاشرے میں بےحیائی پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی بہت دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے کہ اسلامی معاشرے میں بےحیائی کی اشاعت کس قدر تباہ کن ہے اور ایسا کرنے والوں کو کس قدر درد ناک عذاب ہوگا ، یہ اللہ جانتا ہے بےحیائی کی خرابی بھی انسانی عقل سے بالاتر ہے اور ایسے لوگوں کو ملنے والا عذاب بھی جس طرح عبداللہ بن ابی نے کیا آج کے فحش فلموں کے بنانے اور چلانے والے یا فحش نگاری کرنے والے یہ ڈش انٹینے لگا کر مغرب کی برہنہ فلموں کی اشاعت کرنے والے سب کو سوچنا چاہیے کہ محض دولت کے لالچ میں وہ اپنے لیے کتنی بڑی سزا کا سامان کر رہے ہیں اور اگر تم پر اللہ کریم کا احسان نہ ہوتا اس کی رحمت کے باعث نرمی نہ ہوتی تو یہ بہتان اتنا بڑا جرم تھا کہ بہت بڑی تباہی آتی مگر اس نے اپنی رحمت سے نرمی فرما کر توبہ کا موقع دیا اور توبہ قبول فرمائی کہ جن کے دل میں گمان بھی گذرا ہے توبہ کرلیں حتی کہ جنہیں کوئی گمان نہیں گذرا مگر جواب میں خاموش رہے وہ بھی توبہ کرلیں۔
Ayahs 24:21–26

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے ایمان والو ! شیطان کے قدموں پہ نہ چلو اور جو شیطان کے نقش قدم پر چلے گا تو وہ (ہمیشہ ہر شخص کو) بےحیائی اور برے کام ہی کرنے کو کہے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی ، کبھی بھی (توبہ کرکے) پاک نہ ہوسکتا۔ و لیکن اللہ جسے چاہتے ہیں پاک کردیتے ہیں۔ اور اللہ سننے والے ، جاننے والے ہیں

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں بزرگی اور (دنیا کی) کشادگی والے ہیں وہ اہل قرابت اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں اور چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور در گزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف فرمادیں اور اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایسی خواتین پہ تہمت لگاتے ہیں جو پاک دامن اور (ایسی باتوں کے کرنے سے بالکل) بیخبر ہیں اور (حقیقی) ایمان والیاں ہیں ان (لوگوں) پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن (قیامت کے دن) ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ، ان کرتوتوں کی جو یہ کرتے تھے ، گواہی دیں گے

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ ان کو پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دیں گے اور یہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہیں (اور حق کو) ظاہر کرنے والے ہیں

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

گندی عورتیں (ہمیشہ) گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہوتے ہیں یہ باس بات سے پاک ہیں جو یہ (مذاق) کہتے پھرتے ہیں ان کے لئے (آخرت میں) بخشش اور (بہترین) عزت کی روزی ہے۔

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اے مسلمانو ! شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کہ جو بھی شیطان کی بات سنتا ہے یا اس کے ساتھ چلنے لگتا ہے تو شیطان اسے بےحیائی اور برائی کا مشورہ دیتا ہے یا ایسے امور اختیار کرتا ہے اور ایسے ڈھنگ سے راہ دکھاتا ہے کہ وہ بےحیائی اور برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے لہذا معاشرے میں بےحیائی پھیلانے والے سارے کام یہ ثقافت کے نام پر راگ رنگ کی محفلیں عریانیت اور فحش فلمیں یہ سب اسی کا شاخسانہ ہیں اور ایمان والے بندے کو ان کا ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا ورنہ یہ اس کا ایمان بھی ضائع کریں گے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی ان کی زد سے نہ بچتا نہ اسے توبہ کرکے ان سے جان چھڑانے کی توفیق ہوتی اور اللہ جسے چاہتا ہے یعنی جو خلوص دل سے اللہ جل جلالہ سے اپنی اصلاح کا طالب ہوتا ہے اللہ جل جلالہ اسے پاک فرما دیتا ہے توبہ کی توفیق بھی دیتا ہے اور توبہ قبول بھی فرماتا ہے۔ (قبولیت توبہ کا اثر) یعنی توبہ کی قبولیت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بندہ گذشتہ برائی سے بیزار ہو کر آئندہ عملا اس سے بچ جاتا ہے اور عملی زندگی میں اس کی اصلاح ہوجاتی ہے اور یہ کیفیت اللہ کریم سے خلوص دل کے ساتھ معافی طلب کرنے سے نصیب ہوتی ہے کہ اللہ سب کی سنتا بھی ہے اور سب کچھ جانتا بھی ہے ، اب رہی یہ بات کہ کچھ لوگوں سے قصور ہوا جیسے حضرت مسطح ؓ تو وہ غریب بھی تھے اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے قریبی بھی ، آپ اس کی مدد فرماتے تھے مگر اس واقعہ میں اس کے جھوٹ کے کھل جانے کے بعد آپ نے قسم کھالی کہ اس کی مدد نہ کریں گے تو ارشاد ہوا یہ نہ کیا جائے اور کسی بھی بندے کی ایک کوتاہی یا غلطی اس کے دوسرے سب اچھے کاموں کو فراموش نہ کرا دے ، اسلامی معاشرے کے لیے کس قدر خوبصورت سبق ہے کہ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے اور بہت بڑی بھی ہو سکتی ہے جب وہ توبہ کرلے اپنی اصلاح کرے تو اس کے دوسرے اچھے کاموں کو ضرور اہمیت دی جائے کہ وہ واپس زندگی میں شامل ہو سکے ورنہ دھتکارے ہوئے لوگ معاشرے کا ناسور بن جاتے ہیں لہذا صاحب کشائش لوگوں کو یہ قسم نہ کھانا چاہیے کہ ایسے لوگوں کی مدد نہ کریں گے جب وہ عزیز بھی ہوں مسکین بھی اور اللہ جل جلالہ کی راہ میں ہجرت بھی انہوں نے کی ہو تو انہیں معاف کردیں اور درگذر سے کام لیں ، انسانی کمزوری معاف کی جانی چاہئیے جبکہ وہ بندہ اصلاح کی جانب بڑھے کہ تم سے بھی لغزشیں صادر ہو سکتی ہیں ، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ جل جلالہ تجھ سے درگذر کرے اور تمہیں بخش دے کہ اللہ تو بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے چناچہ صدیق اکبر ؓ نے قسم توڑ دی اور ان کی مدد جاری رکھی ، رہے وہ لوگ جو ایسی پاک دامن خواتیں پر جو اپنی آبرو کی حفاظت کرنے والی معاشرے کی خرابیوں سے بیخبر کامل ایمان رکھنے والی ہیں جس کی مثال حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں تو ایسے لوگوں پر دنیا پر بھی لعنت اور اللہ کے کرم سے دوری آخرت میں بھی پھٹکار اور محرومی ہے اور ایسے لوگوں کے لیے بہت بڑا عذاب ہے آخر ایک روز ان کے جسم کے اعضاء ہی ان کے خلاف بول اٹھیں گے ، خود ان کی زبانیں ان کے خلاف شہادت دیں گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دے کر ان کے کرتوتوں کو ظاہر کردیں گے ۔ (دار دنیا میں زبان کی گواہی) ہمارے گاؤں میں ایک عورت قصاب پیشے والوں کی تھی وہ شیعہ ہوئی اور چند لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بنی ۔ حرم نبوی کے حق میں بہت زبان دراز تھی اور نجی محفلوں میں بدکلامی کیا کرتی تھی ، موت سے چند برس پہلے اس کی زبان لٹک کر تقریبا 3 انچ کے قریب باہر آگئی اور دنیا جہاں کے ڈاکٹروں نے علاج کیا مگر ویسی ہی رہی ، بات کرنے کی کوشش کرتی تو زبان باہر لٹکنے کی وجہ سے منہ کھلتا جڑتا تو کتے کی سی آواز نکلتی تھی ، ہمارے دوست ساتھی اور اللہ جل جلالہ کے نیک بندے حکیم خدا بخش مرحوم ذاتی طور پر اسے دیکھتے ۔ انہیں بھی بغرض علاج بلایا جاتا ، بالآخر ایسے ہی مر گئی ، یہ شہادت تو دنیا میں ہے آخرت کی اس سے شدید تر ہوگئی ۔ اور آخرت کے روز تو اللہ جل جلالہ انہیں پوری پوری سزا دے گا اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ اللہ ہی سچا ہے حق ہے اور ہر بھید کو کھولنے والا ہر راز سے باخبر ہے ، انسانی مزاج ایسا ہے کہ خبیث اور بدکار عورتیں مزاجا خبیث اور بدکار مردوں ہی کی شیدائی ہوتی ہیں اور انہیں کے ساتھ گذارہ کرسکتی ہیں ، ایسے خبیث مرد بھی خبیث عورتوں کو پسند کرتے ہیں اور نیک خواتین انہیں اچھی نہیں لگتیں جبکہ نیک خواتین نیک مردوں کو چاہتی ہیں اور انہیں پا کر خوش رہتی ہیں اور نیک مرد ہمیشہ نیک عورتوں کے طالب ہوتے ہیں ، وہ ایسی خرافات سے بہت بلند اور بےتعلق اللہ جل جلالہ کی بخشش کے سائے میں اور اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔ (انبیاء کرام ﷺ کی ازواج مثالی خواتین) اس ضابطے اور انسانی مزاج کے تجزئیے نے ثابت کردیا کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو کہ مثالی نیک پاک صاف انسان ہوتے ہیں ان کی ازواج بھی مثالی باکردار خواتین ہوتی ہیں اور نبی کریم ﷺ جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے سردار ہیں ان کی ازواج بھی پاکی ، طہارت اور عفت وعصمت میں جہان کی خواتین کی سردار ہیں لہذا یہ قانون ہے کہ کسی بھی نبی (علیہ السلام) کی بیوی نے کبھی اخلاقی جرم نہیں کیا اگرچہ نوح اور لوط (علیہما السلام) کی بیویاں مسلمان نہ تھیں ، مگر اخلاقی برائی کا الزام ان پر بھی نہیں لگایا جاسکتا ، حضرت ابن عباس ؓ نے اصول ارشاد فرمایا ہے کہ ” مابغت امراۃ نبی قط “۔ کبھی کسی بھی نبی (علیہ السلام) کی عورت نے بےحیائی کا کام نہیں کیا ۔
Ayahs 24:27–34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں (گھر والوں سے) اجازت لئے بغیر نہ داخل ہوا کرو۔ اور ان گھر والوں کو سلام (السلام علیکم) کیا کرو یہی (بات) تمہارے لئے بہتر ہے تاکہ تم خیال رکھو

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر ان (گھروں) میں کسی کونہ پاؤ تو (بھی) ان میں مت جاؤ جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے (کسی صاحب اختیار کی طرف سے) اور اگر تم سے کہہ دیا جائے کہ تم لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو یہ تمہارے لئے خوب پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ سب جانتے ہیں

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

اگر تم کسی ایسے گھر میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو (اور) اس میں تمہارا کچھ سامان رکھا ہو تو تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپا کر کرتے ہو اللہ سب جانتے ہیں

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

ایمان والے مردوں سے فرما دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے۔ بیشک اللہ سب جانتے ہیں جو یہ لوگ کیا کرتے ہیں

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن خواتین سے بھی فرمادیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو (حصہ) اس میں سے (عموماً ) کھلا رہتا ہو اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنی زینت کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں پ ر اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں پر یا اپنی لونڈیوں پر ان خدام پر جو (خواہ) مردوں میں سے ہوں (اور) عورتوں کی خواہش نہ رکھتے ہوں یا ایسے بچوں پر جو عورتوں کی پردے کی چیز سے واقف نہ ہوں اور اپنے پاؤں زمین پر (ایسے) نہ ماریں کہ (جھنکار آئے اور) ان کا پوشیدہ زیور ظاہر ہوجائے۔ اور اے ایمان والو ! سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرسکو

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور تم میں سے بےنکاح ہوں ان کا نکاح کردیا کرو اور (اسی طرح) تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں بھی جو نیک ہوں (ان کا نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے خوشحال کردیں گے اور اللہ وسعت والے سب کچھ جاننے والے ہیں

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جنکا نکاح کا مقدور نہ ہو ان کو چاہیے کہ (اپنے نفس کو) ضبط کریں یہاں تک کہ اللہ (اگر چاہے تو) اپنے فضل سے ان کو غنی کردے۔ اور تمہارے غلاموں میں سے جو مکاتبت چاہتے ہوں (ایک معاہدہ کہ اتنی رقم کما کر دو تو آزاد ہو) تو (بہتر ہے) ان سے مکاتبت کرلو اگر تمہیں ان میں بہتری کے آثار ملیں تو۔ اور اللہ کے (دیئے ہوئے) مال سے ان کو بھی دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے (تاکہ جلدی آزاد ہوسکیں) اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو بےشرمی کی زندگی پر مجبور مت کرو صرف دنیا کی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد (ان کو) بخشنے والے مہربان ہیں

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے تمہارے پاس کھلے کھلے احکام بھیجے ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کے بعض واقعات بھی اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لئے نصیحت کی باتیں (بھیجی ہیں)

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اب معاشرے میں ایسے امکانات ہی کو روکنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن سے بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے کے گھر جائے تو بغیر اطلاع اور اجازت کے اندر داخل نہ ہو سوائے اپنے گھر کے مگر اپنے گھر میں جہاں اس کی بیوی یا والدہ ہی رہتی ہو وہاں اجازت حاصل کرنا واجب نہیں مگر مستحب ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع کرے خواہ کھانس کر یا اجازت حاصل کرکے اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تو اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور اپنے نام بتائے یا اگر دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ گھر والے باہر سے آواز نہ سنیں گے تو پوچھنے پر اپنا تعارف کرائے یا اگر دروازے پر گھنٹی ہے تو آرام سے بجائے یا اگر اس کا کارڈ پاس ہے تو اندر بھیجے مگر ان سب باتوں میں یہ خیال رکھے کہ کوئی بات ایسی نہ ہو جو گھر والوں کو تکلیف دے ، زیادہ شور نہ ڈالے نیز مناسب ہے کہ اوقات کا خیال رکھا جائے جیسے گرمیوں کی دوپہر وغیرہ کہ اکثر لوگ آرام کرتے ہیں اور اگر اندر آنے کی اجازت ملے تو اہل خانہ پر مسنون طریقے سے سلام کرے کہ داخلہ ، ملاقات یا بات چیت کی ابتدا نیک اور دعائیہ کلمات سے ہو نیز کسی کو تنگی اور پریشانی بھی نہ ہو یا کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہو کوئی ملنا نہیں چاہتا مگر ملاقاتی اچانک اندر آگیا جیسے کچھ لوگ کمرے میں گھس کر کہتے ” جی میں اندر آسکتا ہوں “ یہ سب ناجائز ہے ، یہ بھی درست نہیں کہ کوئی اپنے گھر میں کوئی کام لوگوں سے چھپا کر کرنا چاہتا ہے تو اس کا راز فاش ہو بلکہ کسی بھی گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت طلب کی جائے داخل ہونے والا مرد ہو یا خاتون کہ حکم ایمان والوں کو ہے صرف مردوں کو نہیں ، حسن معاشرت اور آبرو کی حفاظت کے لیے یہ بہترین طریقے ہیں اور خوبصورت انداز اگر تم سمجھ سکو تو نیز یہ بھی نہ کرو کہ اندر سے کوئی جواب نہیں آیا یا اندر کوئی ہے ہی نہیں تو تم اندر گھسے چلے جاؤ ہرگز نہیں کسی کے گھر میں داخلے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ اجازت حاصل کرکے داخل ہوا جائے یا پھر ایک صورت یہ بھی ہے کہ اندر سے داخل ہونے کی اجازت نہ ملے اور کہہ دیا جائے کہ واپس جائیے ملاقات نہیں ہوسکتی تو واپس پلٹ جاؤ ، یہ بہت پاکیزہ اور صاف ستھری بات ہے ، اللہ کریم تمہارے ہر عمل سے باخبر ہیں اور اللہ نے گھر والے کو یہ حق دیا ہے کہ وہ نہ ملنا چاہے تو آپ اس پر ملاقات مسلط نہ کریں نیز حدیث شریف میں اس کی تفصیل یہ ہے ، ملاقات کو آنے والے کا بھی حق ہے اور گھر والے کو بھی چاہیے کہ خوش دلی سے بات سن لے یا ملاقات کرے اور بغیر ضرورت یا مجبور کے لوٹ جانے کو نہ کہا جائے ، اور ایسے گھر جو رہائشی نہ ہوں بلکہ لوگوں کے استعمال کے لیے بنائے گئے ہوں یعنی رفاہ عامہ کے لیے بنائے گئے دکانات ، مساجد ، مدرسے ، خانقاہیں اور سرائے وغیرہ ، ان میں داخل ہونے کے لیے کسی سے اجازت حاصل کرنا ضروری نہیں اور نہ بغیر اجازت داخل ہونے میں کوئی حرج ہے اس لیے کہ ہر داخل ہونے والے کو ان سے استفادہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے ، ہاں وہاں کس نیت سے داخل ہونا چاہیے ایسی چھپی بات یا داخل ہو کر کیا عمل کیا ایسی ظاہر بات ان سب کو اللہ کریم جانتے ہیں لہذا ہر کام میں اللہ کی اطاعت مقدم رہے اور یہی احکام کسی سے فون پر بات کرنے کے ہوں گے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ تین بار اجازت طلب کرے نہ ملنے پر سمجھ لے کہ کوئی جواب دینے والا اندر نہیں یا گھر والے ملنا نہیں چاہتے ، ایسے ہی فون کی گھنٹی بھی مناسب حد تک بجائی جائے ، اگر بات لمبی کرنی ہو تو پوچھ لیا جائے کہ وقت ہے تو بات کرلوں ورنہ پھر کسی وقت کرے اور گھر والوں کو بھی چاہیے کہ گھنٹی بجنے پر اسے جواب دیں یہ بھی درست نہیں کہ گھنٹی بجتی رہے اور پرواہ نہ کی جائے ۔ نیز اگلا قدم بےحیائی کو روکنے کا یہ ہے کہ ایسی صورتوں سے بچا جائے جن سے بےحیائی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو لہذا مومنین سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں یعنی جن اعضاء کو دیکھنا جائز نہیں مطلق نہ دیکھے یا جس کو شہوت سے دیکھنا جائز نہ ہو اسے شہوت سے نہ دیکھیں اور یوں اپنی آبرو کی حفاظت کریں اور ناجائز طریقے سے شہوت رانی میں مبتلا نہ ہوں ، یہ بہت پاکیزہ انداز ہے اور اگر کوئی لوگوں کی نظر بچا کر ایسا کرنا چاہے تو اسے یہ جان لینا چاہیے کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اللہ اس سے باخبر ہے نیز مومن خواتین سے بھی کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اور اپنی آبرو کی حفاظت کریں ، یہ خوبصورت بات کہ آبرو کی حفاظت کے لیے مرد وعورت اپنی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ (جدید سائنٹیفک اپروچ) اسلام نے آج سے ڈیڑھ ہزار برس قبل فرما دی جس پر جدید سائنس آج پہنچی ہے کہ ہر انسان میں سے کچھ شعاع خارج ہوتی ہیں جن میں جنسی شعاعیں بھی ہیں اور یہ نگاہ سے فضا میں نشر ہوتی ہیں ہر انسان کی شعاعوں کی ایک فریکوینسی ہوتی ہے ، اگر کسی مرد کی کسی عورت سے یا عورت کی مرد سے فریکوینسی ملتی ہو تو جیسے ان کی نگاہیں چار ہوں گی وہ ایک دوسرے کی طرف مائل ہوجائیں گے اور جس قدر فریکوینسی میں زیادہ مطابقت ہوگی اتنی شدت سے وہ خواہش کرنے لگیں گے لیکن اگر ان کی نگاہیں منہ ملیں تو یہ حادثیہ نہیں ہوسکتا ، سبحان اللہ سائنس کتنی دیر بعد ایک حکمت جان سکی اللہ جانے اور کتنی حکمتیں ہوں جو آنے والا وقت بتا دے یا کوئی نہ جان سکے ۔ نیز عورت کی زیب وزینت بھی مردوں کو متوجہ کرنے کا ایک سبب ہے لہذا خواتین کو ہر ایک کے سامنے اپنے بناؤ سنگھار کی نمائش کرنا جائز نہیں سوائے اس کے کہ جو ضروری ہو جیسے ہاتھ پاؤں اور چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت اس لیے ہے کہ اس کے بغیر کام نہیں چلتا ، نیز جب نماز میں ان جگہوں کے کھلا رکھنے کی اجازت ہے تو پردہ کا معیار یہی اختیار کیا گیا لیکن اگر ان پر برقع لیا جائے اور بلاضرورت نہ کھولے جائیں تو صحیح ترین صورت ہے نیز اگر ہاتھ پاؤں کھلے بھی ہوں تو سر کی چادر کو سینے پر بھی ڈال لیا کریں کہ بدن اور اس کے اعضاء کی نمائش نہ ہو گویا ایسے تنگ برقعے جو الٹے اعضائے بدن کو ظاہر کردیتے ہیں بےپردگی کے حکم میں ہوں گے اور خواتین کا بن سنور کر باہر جانا یا پارٹیاں اٹنڈ کرنا ہوٹلوں کلبوں میں پھرنا بازاروں اور پارکوں میں گھومنا سب ناجائز ہے نیز بناؤ سنگھار کرکے ٹلی ویژن پر نظر نواز ہونا بھی حرام ہے ہاں صرف ان لوگوں سے بغیر پردے کے ملنا درست ہے اور زینت کا اظہار بھی کہ بیوی خاوند کے سامنے کرے یا باپ اور خاوند کے باپ سے پردہ نہیں یا اولاد اور خاوند کی اولاد کسی دوسری بیوی سے اس پر پردہ نہ ہوگا یا اپنے بھائی اور بھتیجوں سے یا اپنے بھانجوں سے یا مسلمان خواتین سے پردہ نہ ہوگا ،۔ (غیر مسلم عورت سے پردہ) مفسرین کرام نے یہاں لکھا ہے کہ غیر مسلم عورت سے بھی مومن خاتون پردہ کرے گی نیز کنیزوں سے پردہ نہ ہوگا یعنی غلاموں سے کیا جائیگا یا ایسے مردوں سے پردہ نہ ہوگا جن کے حواس درست نہ ہوں اور محض لوگوں کے طفیلی بن کر جیتے ہوں یا ایسے بچوں سے پردہ نہیں جو بلوغت کو نہیں پہنچے اور عورتوں کے مخصوص حالات وصفات سے بیخبر ہیں نیز پردے میں بھی اپنی زینت کی حفاظت ضروری ہے ، زمین پر پاؤں مارکر پازیب وغیرہ کی جھنکار بھی پیدا نہ کی جائے ایسے ہی چوڑیوں کی کھنک بھی اسی میں شامل ہوگی نیز علماء کے نزدیک ایسا برقع جو مزین ہو اور زینت کا سبب بن رہا ہو جائز نہیں اور مرد وعورت سب اللہ کے روبرو ان کاموں سے توبہ کرو جن سے روکا گیا ہے تاکہ تم کامل ومکمل کامیابی حاصل کرسکو۔ بےحیائی کا ایک سبب نکاح نہ کرنا بھی ہے لہذا ایسے مرد یا خواتین جو بغیر شادی کے ہوں ان کی شادیاں کرو اس میں کنوارے ، رنڈوے سب شامل ہیں یعنی بلاوجہ کسی کو نکاح کے بغیر رہنا درست نہیں اور محض رواجات کی قید میں جائز راستے روک کر بےحیائی کو رواج نہ دیا جائے نیز غلام اور لونڈیاں بھی اگر نکاح کی اہلیت رکھتی ہوں یعنی حقوق ادا ک سکتی ہوں تو ان کے نکاح کرنے میں رکاوٹ نہ بنو اور یہ نہ دیکھو کہ بندہ محض غریب ہے شادی نہ کرے یا اس کی اولاد نہ ہو کہ روزی دینا اللہ کا کام ہے وہ چاہے تو غریب کو اولاد کے ہوتے ہوئے غنی کر دے اور چاہے تو غنی کو بغیر اولاد کے بھی فقیر کرسکتا ہے کہ اللہ ہی وسعت والا ہے بندے تو سب ہی فقیر ہیں اور وہ سب کے حال سے واقف ہے ۔ (خاندانی منصبوبہ بندی حرام ہے اس کے اشتہارات بھی ناجائز ہیں) علماء کے نزدیک خاتون کی صحت وغیرہ تو ایک جواز ہے کہ ایسی صورت اختیار کی جاسکتی ہے جس میں قدرتی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہ ہو جیسے آپریشن وغیرہ مگر وقتی طور پر مانع حمل طریقہ اپنایا جائے مگر یہ خاندانی منصوبہ بندی کہ وسائل پر بوجھ نہ بڑھے حرام ہے اس کی تشہیر بھی ناجائز اور حرام ہے کہ وسائل اللہ کریم کے دست قدرت میں ہیں اور اولاد کی تولید روکنے کی بجائے وسائل کا ضیاع روکنا ضروری ہے ۔ اور کسی میں نکاح کی استعداد ہی نہ ہو کہ مفلسی اور بےروزگاری وغیرہ ہو تو اپنے نفس کو قبول میں رکھے ضبط کرے اور محنت کرے کہ اللہ اسے غنی کر دے یا اس کے حالات بہتر ہوجائیں یا کوئی مرض نکاح میں مانع ہو تو علاج کرے وغیرہ یعنی نکاح کرنے والا یہ سمجھے کہ بیوی کے حقوق ادا نہ کرسکے گا تو پھر صبر کرے جب تک اللہ اس کی استعداد عطا فرمائیں پھر اصلاح معاشرہ کا اگلا اہم قدم یہ ہے کہ غلام یا کنیز اگر مکاتب ہونا چاہیں تو جس طرح یہ حکم تھا کہ غلاموں اور کنیزوں کا شادیاں کرنے کا حق دیا جائے بشرطیکہ وہ حقوق زوجیت ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں کہ اگر انہیں مجبور وپابند رکھا گیا تو معاشرے میں بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ موجود رہے گا ، ان کے لیے اور سہولت پیدا فرمائی کہ اگر مکاتب بننا چاہیں ، مکاتب کا معنی ہے کہ مالک سے کوئی رقم طے کرلے اور محنت مزدوری کرکے اتنی رقم ادا کردے تو خود بخود آزاد ہوجائے گا لیکن شرط کے ساتھ اگر ان میں بھلائی دیکھو تب یعنی ان کا آزاد کرنا قومی مصلحت کے خلاف نہ ہو کہ آزاد ہو کر دشمنوں کو جاسوسی کرے اور جا کر مسلمان حکومت کے راز بتائے ۔ (غلام اور کنیزیں) چونکہ اسلام نے غلام صرف ان لوگوں کو بنایا ہے جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں اور انہیں کے گھر والوں کو کنیز بنناپڑا ، اگر میاں بیوی قید ہوئے تو دونوں غلام تو ہوں گے مگر میاں بیوی رہیں گے جو مرد اکیلے قید ہوئے غلام ہوئے اور خواتین کنیزیں جبکہ دوسری اقوام جو اسلام پر طنز کرتی ہیں میدان کار زار میں شکست کھانے والوں ان کے اہل خانہ اور پوری قوم سے جو جنگ میں شریک نہ تھے ان سے بھی ذرا اقوام عالم کا اور یہود ونصاری کا خصوصا سلوک دیکھئے اور پھر مواز نہ کیجئے اسلام نے شکست خوردہ کے قتل عام کی اجازت نہیں دی جو جنگ میں شریک نہ تھے انہیں امن دیا جائے ، گھر اور فصلیں اجاڑی نہ جائیں ، عبادت خانے محفوظ رکھے جائیں ، ہاں جو لوگ لڑ کر شکست کھاگئے ان کی آزاد سلب کرکے انہیں غلام بنا دیا جائے ان کو مذہبی آزادی ہوگئی ، بات بات پر انہیں آزاد کرنے کی ترغیب اچھا کھلانے اور زیادہ کام جو وہ نہ کرسکیں نہ لینے کی تاکید پھر اگر اس قابل ہوں تو شادی کی اجازت اگر محنت کرکے آزاد حاصل کرنا چاہیں تو معاہدہ کیا جائے مگر وہ بات دیکھ لی جائے کہ جس جرم میں غلام بنا تھا پھر وہی نقصان تو نہ دے گا کنیز کی آبرو صرف مالک پر حلال ہے کوئی دوسرا میلی نظر سے نہ دیکھے بھلا جنگی مجرموں کو بھی اتنے حقوق اور یہ حسن معاشرت اسلام کے علاوہ کہاں نظر آتا ہے اب اس پر مزید اضافہ کہ انہیں اللہ جل جلالہ کے مال سے جو اس نے تمہیں عطا کر رکھا ہے ۔ دے کر رہائی میں ان کی مدد بھی کرو ۔ (اصلاح معاشرہ اور معاشیات) کسی بھی معاشرے کی روح اس کا معاشی نظام ہوتا ہے اور دنیا میں اسلام کے علاوہ دو قسم کے معاشی نظام معروف اور زیر عمل ہیں ، اول سرمایہ دارانہ نظام ہے جس میں انسان ہر چیز پر ملکیت کا آزادانہ حق رکھتا ہے جس طرح چاہے حاصل کرے اور جہاں چاہے خرچ کرے ، اس نظام نے کچھ لوگوں کو امراء اور روساء بنا دیا جبکہ باقی لوگ ان کی غلامی میں پس گئے ، دوسرا نظام سوشلزم یا اشتراکیت کا ہے جو کسی بھی بندے کو حق ملکیت نہیں دیتا ، سب کام کریں اور حاصل قومی خزانے میں جائے اور وہ خزانہ سب کی ضروریات کا کفیل ہو ، یہ پہلے نظام سے بدتر ثابت ہوا اور سارے انسانوں کو بدترین غلامی میں جکڑ دیا ، یہ سب کچھ سامنے ہے تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں مگر اسلامی نظام معاشیات کی بنیادی بات یہ بتانا ہے کہ ہر شے اللہ کی ملکیت ہے لہذا اسے ان حدود وقواعد کے اندر رہ کر حاصل کیا جائے جو اللہ جل جلالہ نے مقرر فرمائے ہیں ، حصول کے بعد حاصل کرنے والا محض امین ہے مال اللہ جل جلالہ ہی کا ہے لہذا اسے ان جگہوں پہ خرچ بھی کیا جائے جہاں اللہ جل جلالہ کا حکم ہے ، اچھا کھائے ، اچھا پہنے مگر فضول خرچی نہ کرے اور جو لوگ حصول مال میں کسی کمزوری کے باعث پیچھے رہ گئے ، ان کی مدد بھی کرے لہذا ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کے مال سے جو اس نے تمہیں دیا ہے ان کی مدد کرو یعنی اپنا معاہدہ پورا کرنے کے لیے وہ محنت بھی کریں اور اس میں ان کی مدد بھی کی جائے اور غلاموں یا کنیزوں کا ناروا کاموں پہ مجبور نہ کیا جائے گا ، قبل از اسلام کی غلامی اسلامی غلاموں سے کلی طور پر الگ شے ہے لہذا عہد جاہلیت میں جسے چاہتے پکڑ کر غلام بنا کر بیچ دیتے اور کنیزوں سے لوگ پیشہ کرواتے اور دولت کماتے تھے ، اسلام نے جہاں غلام بنائے جانے کے لیے ایک بہت بڑا جرم بنیادی شرط قرار دیا جس کی سزا قتل ہونا چاہیے تھی مگر اسلام نے آزادی سلب فرما کر اصلاح اور توبہ کی مہلت دی وہاں کنیزوں سے حرام کاری کو پوری شدت سے حرام قرار دے کر فرمایا کہ کنیزیں بھی انسان ہیں اور کوئی بھی انسان فطری حیا سے عاری نہیں ہوتا ، لہذا جب تک اس میں انسانیت کی رمق باقی ہو وہ ان چیزوں سے سخت نفرت کرتا ہے تو پھر سارا جرم اس مجبور کرنے والے کے سر ہوگا اور اللہ ان مجبوروں کو بخشنے اور ان پر رحم کرنے والا ہے لہذا ایسا کرنا اسلام میں حرام ہے ، اللہ نے تمہیں خوبصورت واضح دلائل کے ساتھ اور اگلی قوموں کے تاریخی حوالوں کے ساتھ ساری بات بتا دی ہے کہ جو لوگ اللہ سے اپنا رشتہ جوڑے ہوئے ہیں وہ ان باتوں سے نصیحت حاصل کرکے اللہ کی ناراضگی سے بچنے کی راہ اختیار کریں ۔