رخصت پر بھی اجازت مانگو
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ادب اور بھی سکھاتا ہے کہ جیسے آتے ہوئے اجازت مانگ کر آتے ہو ایسے جانے کے وقت بھی میرے نبی سے اجازت مانگ کر جاؤ۔ خصوصا ایسے وقت جب کہ مجمع ہو اور کسی ضروری امر پر مجلس ہوئی ہو مثلا نماز جمعہ ہے یا نماز عید ہے یا جماعت ہے یا کوئی مجلس شوری ہم تو ایسے موقعوں پر جب تک حضور ﷺ سے اجازت نہ لے لو ہرگز ادھر ادھر نہ جاؤ مومن کامل کی ایک نشانی یہ بھی ہے۔ پھر اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ جب یہ اپنے کسی ضروری کام کے لئے آپ سے اجازت چاہیں تو آپ ان میں سے جسم چاہیں اجازت دے دیا کریں اور ان کے لئے طلب بخشش کی دعائیں بھی کرتے رہیں۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے جب تم…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 97
یہ آخری ہدایات ہیں جو مسلمانوں کی جماعت کا نظم و ضبط پہلے سے زیادہ کس دینے کے لیے دی جا رہی ہیں۔
سورة النُّوْر 98
یہی حکم نبی ﷺ کے بعد آپ کے جانشینوں اور اسلامی نظام جماعت کے امراء کا بھی ہے۔ جب کسی اجتماعی مقصد کے لیے مسلمانوں کو جمع کیا جائے، قطع نظر اس سے کہ جنگ کا موقع ہو یا حالت امن کا، بہرحال ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ امیر کی اجازت کے بغیر واپس چلے جائیں یا منتشر ہوجائیں۔
سورة النُّوْر 99
اس میں یہ تنبیہ ہے کہ کسی واقعی ضرورت کے بغیر اجازت طلب کرنا تو سرے سے ہی ناجائز ہے۔ جواز کا پہلو صرف اس صورت میں نکلتا ہے جبکہ جانے کے لیے کوئی حقیقی ضرورت لاحق ہو۔
سورة…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بس مسلمان تو وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام پر جمع ہوتے ہیں جس کے لئے مجمع کیا گیا ہے (اور اتفاقاً وہاں سے کہیں جانے کی ضرورت پڑتی ہے) تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں (اور آپ اس پر اجازت نہ دیدیں مجلس سے اٹھ کر) نہیں جاتے (اے پیغمبر) جو لوگ آپ سے (ایسے مواقع پر) اجازت لیتے ہیں بس وہی اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں (آگے ایسے لوگوں کو اجازت دینے کا بیان ہے) تو جب یہ اہل ایمان لوگ (ایسے مواقع پر) اپنے کسی کام کے لئے آپ سے (جانے کی) اجازت طلب کریں تو ان میں آپ جس کے لئے (مناسب سمجھیں اور اجازت دینا) چاہیں اجازت دے دیاکریں…
Read the full tafseer →اجتماعی کاموں سے کھسکنے والے منافقین کو تنبیہ
یہ اور اس کے بعد کی آیات، منافقین کے اس ذکر سے متعلق ہیں جو آیت 57 پر ختم ہوا ہے۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات بطور تنبیہ مزید بعد میں نازل ہوئی ہیں اس وجہ سے ان کو بعد میں نازل ہونے والی آیات کے ساتھ جگہ دی گی تاکہ ان کی پوری اہمیت واضح ہو۔ فرمایا کہ اصل مومن وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر سچا اور پکا ایمان رکھتے ہیں۔ قرینہ دلیل ہے کہ فعل امنوا یہاں اپنے کامل مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ واذا کانوا معہ علی امرجامع یہ ان کے رسوخ ایمان کی ایک علامت بیان ہوئی ہے کہ جب وہ کسی اجتماع کام کے لئے رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو منافقین کی طرح یہ نہیں…
Read the full tafseer →62-1یعنی جمعہ وعیدین کے اجتماعات میں یا داخلی و بیرونی مسئلے پر مشاورت کے لئے بلائے گئے اجلاس میں اہل ایمان تو حاضر ہوتے ہیں، اسی طرح اگر وہ شرکت سے معذور ہوتے ہیں تو اجازت طلب کرتے ہیں۔ جس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ منافقین ایسے اجتماعات میں شرکت سے اور آپ ﷺ سے اجازت مانگنے سے گریز کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →47: یہ آیت غزوہ ٔ احزاب کے موقع پر نازل ہوئی، اس وقت عرب کے کئی قبیلوں نے مل کر مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تھی اور آنحضرت ﷺ نے شہر کے دفاع کے لئے مدینہ منورہ کے گرد ایک خندق کھودنے کے لئے تمام مسلمانوں کو جمع کیا تھا، سارے مسلمان خندق کھودنے میں مصروف تھے، اور اگر کسی کو اپنے کسی کام سے جانا ہوتا تو آپ سے اجازت لے کرجاتا تھا، لیکن منافق لوگ اول تو اس کام کے لئے آنے میں سستی کرتے تھے، اور اگر آجاتے تو کبھی کسی بہانے سے اٹھ کر چلے جاتے، اور کبھی بلا اجازت ہی چپکے سے روانہ ہوجاتے، اس آیت میں ان کی مذمت اور ان مخلص مسلمانوں کی تعریف کی گئی ہے جو بلا اجازت نہیں جاتے تھے۔
Read the full tafseer →(انما المئو منون الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم لاتجعلوا دعآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم ) (62 : 64
ابن اسحاق نے اس آیت کی شان نزول میں یہ روایت نقل کی ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر جب قریش تمام اقوام کو جمع کر کے مدینہ پر چڑھا لائے تو حضور اکرم ﷺ نے اس کے دفاع میں مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندق کھودنے میں خود رسول اللہ ﷺ نے بھی کام شروع کیا تاکہ اہل ایمان جوش و خروش سے کام کریں۔ خندق کھودنے کے کام میں مسلمانوں نے خوب جوش و خروش سے کام کیا۔ آپ نے بھی ایک نمونہ اور مثال قائم کی اور انہوں نے بھی مثال قائم کردی۔ بعض منافقین نے اس کام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے پیچھے رہنے اور…
Read the full tafseer →3 اوپر کی آیتوں میں آنے کے وقت استیذان (اجازت طلب کرنے) کا ذکر تھا۔ یہاں جانے کے وقت استیذان کی ضرورت بتائی ہے یعنی پورے ایمان والے وہ ہیں جو رسول کے بلانے پر حاضر ہوتے ہیں اور جب کسی اجتماعی کام میں شریک ہوں مثلاً جمعہ، عیدین، جہاد اور مجلس مشاورت وغیرہ میں تو بدون اجازت کے اٹھ کر نہیں جاتے۔ یہ ہی لوگ ہیں جو کامل اور صحیح معنی میں اللہ اور رسول کو مانتے ہیں۔
4 یعنی غور وفکر کے بعد جس کو مناسب سمجھیں اجازت دے دیں۔ اور چونکہ اس اجازت پر عمل کرنا بھی فی الجملہ صحبت نبوی سے حرمان اور صورت تقدیم الدنیا علی الدین کا شائبہ اپنے اندر رکھتا ہے اس لیے ان مخلصین کے حق میں استغفار فرمائیں تاکہ آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →آخری رکوع جو صرف تین آیات پر مشتمل ہے ‘ اس میں خالص جماعتی زندگی سے متعلق احکام ہیں۔
وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓی اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ ط ”
نبی مکرم ﷺ کے بعد یہی حکم آپ ﷺ کے جانشینوں اور اسلامی نظم جماعت کے امراء کے لیے ہے۔ اس حکم کے تحت کسی جماعت کے تمام ارکان کو ایک نظم discipline کا پابند کردیا گیا ہے۔ اگر ایسا نظم و ضبط اس جماعت کے اندر نہیں ہوگا تو کسی کام یا مہم پر جاتے ہوئے کوئی شخص ادھر کھسک جائے گا ‘ کوئی اْدھر چلا جائے گا۔ ایسی صورت حال میں کوئی بھی اجتماعی کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ چناچہ اس حکم کے تحت لازمی قرار دے دیا گیا کہ کسی مجبوری…
Read the full tafseer →99 یعنی ایسے امور جن کا تعلق سب مسلمانوں سے مشترک ہو۔ جیسے جہاد یا مجلس مشاورت، یا کوئی مشترکہ مفادات کے لئے اجتماع ہو۔ خواہ ایسی میٹنگ جنگ یا حالات جنگ سے تعلق رکھتی ہو یا حالت امن سے، مومنوں کا یہ کام نہیں کہ آپ سے اجازت لئے بغیر وہاں سے چل دیں۔ ہاں اگر انھیں کسی ضروری کام کی بنا پر اس مجلس و اجتماع کے اختتام سے پہلے واپس آنا ضروری ہو تو وہ اس سے رخصت ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ اجازت لئے بغیر وہاں سے چلے نہیں آتے۔ اگر وہ اپنی کوئی ضرورت آپ سے بیان کریں۔ تو انھیں اجازت دینا آپ کی صوابدیدی پر منحصر ہے اور اگر یہ سمجھیں کہ اس کا ذاتی کام اس اجتماعی مفاد کے مقابلہ میں کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ تو…
Read the full tafseer →134۔ منافقین پر تو رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک ہی میں حاضری بار تھی، پھر عبادت (مثلا خطبہ جمعہ) میں حاضری تو اور زیادہ۔ جب موقع پاتے تو چپکے سے کھسک جاتے۔ ان کے مقابلہ میں یہاں مدح مومنین کی ہورہی ہے کہ ان کی شان تو یہ ہے کہ اگر اتفاقا انہیں کوئی ضرورت مجلس مبارک سے چلے جانے کی پیش آجاتی ہے، تو بھی جب تک آپ ﷺ سے اجازت لے نہ لیں اور آپ ﷺ دے نہ دیں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں۔ (آیت) ” امر جامع “۔ کے معنی اہم مشورت کے بھی ہیں۔ جس میں ضرورت اہتمام و اجتماع کی پڑتی ہے۔ ھو الامر الموجب للاجتماع (کبیر) یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ جس معاملہ میں خطاب عام (پبلک اسپیچ) کی ضرورت پڑے۔ کل شیء تکون فیہ الخطبۃ (کبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
آیت نمبر 62 تا 64
ترجمہ : بس مومن تو وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں، اور جب وہ اس کے ساتھ یعنی رسول کے ساتھ کسی اہم معاملہ میں جمع ہوتے ہیں جیسا کہ جمعہ کا خطبہ تو عذر پیش آنے کی صورت میں بھی اس وقت تک نہیں جاتے جب تک کہ آپ سے اجازت نہ لے لیں، جو لوگ آپ سے اجازت لے لیتے ہیں بس وہ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو جب یہ لوگ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جس کو چاہیں جانے کی اجازت دیدیں اور آپ ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعاء کیجئے بلاشبہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے…
Read the full tafseer →انما المؤمنون الذین امنوا باللہ ورسولہ مؤمن حقیقت میں صرف وہی ہیں جو (سچے دل سے) اللہ اور اس
کے رسول ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ یعنی وہ لوگ حقیقت میں مؤمن نہیں جو زبان سے تو مؤمن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان کے دل مؤمن نہیں ہیں۔
واذا کانوا معہ علی امر جامع لم ہذہبوا حتی یستاذنواہ ان الذین یستاذنونک اولئک الذین یومنون باللہ ورسولہ اور جب رسول ﷺ کے ساتھ کسی ایسے کام پر ہوتے ہیں جس کے لئے مجتمع کیا گیا
ہے تو جب تک آپ ﷺ سے اجازت نہ لے لیں نہیں جاتے (اے رسول ﷺ جو لوگ آپ ﷺ سے ( ایسے موقع پر) اجازت لیتے ہیں پس وہی اللہ پر اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔
اَمْرٍ جَامِعٍاجتماعی کام ‘ ایسا کام جس کو انجام…
Read the full tafseer →(62) سچے ایماندار تو وہی ہیں جو ظاہر و باطن کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب رسول اکرم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے ہوتے ہیں یا آپ کے ساتھ کسی جہاد پر ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں تو جمعہ یا جہاد سے واپس نہیں جاتے، اے پیغمبر ﷺ جو لوگ آپ سے ایسے موقع پر اجازت لیتے ہیں بس وہی اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔
حضرت عمر فاروق ؓ کو غزوہ تبوک میں ایک ضروری کام کے لیے آپ سے جانے کی اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جس کو چاہیں اجازت دے دیا کریں اور اجازت دینے کے بعد بھی آپ ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجیے بیشک اللہ تعالیٰ تائب کو بخشنے والا اور اس پر بڑا…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ۔۔ : اس سے پہلے گھروں میں داخل ہوتے وقت اجازت طلب کرنے کا حکم دیا تھا، اب نکلتے وقت اجازت طلب کرنے کا حکم دیا، خصوصاً جب کسی اہم کام کے لیے اکٹھا کیا گیا ہو، مثلاً کسی کام کے بارے میں مشورہ ہو، یا جہاد کے لیے جمع کیا گیا ہو، یا نصیحت کے لیے جمع کیا گیا ہو، یا جیسا کہ خندق کھودنے کے لیے مسلمان اکٹھے ہوئے تھے، ایسے موقعوں پر منافقین جان بچانے کے لیے بلا اجازت نکل جاتے تھے، جیسا کہ اس کے بعد والی آیت میں فرمایا : (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا) [ النور : 63 ] ”بیشک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما المومنون اس آیت میں انما حصر کے لیے ہے، معنی ہے کہ اللہ تعالیٰاور اس کے رسول پر ایمان لانے والے کا ایمان مکمل نہیں ہوتا مگر جب وہ رسول کریم ﷺ کے کسی امرکو مکمل کرنے کا ارادہ کرتا ہو وہ اس ارادہ کے وقت اس کے زوال کے ساتھ اس کے فساد کا ارادہ کرتا ہو اللہ تعالیٰ نے سورت کے آغاز میں بیان فرمایا کہ اس نے آیات بنات نازل کیں اور نزول حضرت محمد ﷺ پر ہے۔ اور سورة کا اختتام آپ کی متابعت کرنے کے موکد حکم کے ساتھ کیا تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ نبی کریم ﷺ کا حکم، قرآن کے حکم کی طرح ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ امر جامع سے کیا مراد ہے ؟ بعض علماء نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
1۔ ابن اسحاق وابن المنذر والبیہقی نے الدلائل میں عروہ اور محمد بن کعب قرظی رحمہم اللہ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ جب غزوہ احزاب کے دن قریش بیر روحہ کے پاس مدینہ منوہ کے قریب مجمع الاسیال (کے مقام) پر اترے ان کا قائد ابو سفیان تھا اور غطفان والے آئے یہاں تک کہ احد کی جانب کی طرف تغمین کے مقام پر اترے رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی تو آپ نے مدینہ منورہ کے اردگرد خندق کھودنا شروع کیا آپ نے اس میں خود بھی کام کیا اور مسلمانوں نے بھی اس میں کام کیا اور منافقین نے دیر لگائی اور چھوٹے چھوٹے کاموں کی وجہ سے چھپنے لگے اور اپنے اہل و عیال کی طرف چپکے سے کسک جاتے تھے رسول اللہ ﷺ کو بتائے بغیر اور اجازت لیے بغیر…
Read the full tafseer →اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ مومن ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ہیں جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول پر ] وَاِذَا [ اور جب کبھی ] كَانُوْا [ وہ ہوتے ہیں ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ ] عَلٰٓي اَمْرٍ جَامِعٍ [ کسی جمع کرنے والے (یعنی اہم) معاملہ پر ] لَّمْ يَذْهَبُوْا [ تو وہ جاتے ہی نہیں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يَسْتَاْذِنُوْهُ ۭ [ وہ اجازت لے لیں ان سے ] اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] يَسْتَاْذِنُوْنَكَ [ اجازت مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جو ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ]…
Read the full tafseer →اہل ایمان رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر جاتے ہیں
درمنثور ص 60 ج 5 میں لکھا ہے کہ غزوہ احزاب (جسے غزوہ خندق بھی کہتے ہیں) کے موقع پر قریش مکہ ابو سفیان کی قیادت میں مدینہ منورہ کی آبادی کی قریب بئر رومہ کے پاس ٹھہر گئے اور قبیلہ بنی غطفان کے لوگ آئے تو یہ لوگ احد کی طرف آکر ٹھہر گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کی آمد کی خبر ہوگئی۔ اس موقعہ پر خندق پہلے ہی کھو دی جا چکی تھی۔ جس میں مسلمانوں نے خوب خوشی سے حصہ لیا۔ لیکن منافقین اول تو دیر میں آتے تھے اور جب آتے تھے تو تھوڑا بہت کام کردیتے تھے پھر جب جانا ہوتا تو رسول اللہ کے علم اور اجازت کے بغیر چپکے سے کھسک جاتے تھے اور مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ جب کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
حکم پانزدھم متعلق بآداب مجلس نبوی
قال اللہ تعالی۔ انما ال مومن ون الذین امنوا باللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مجالس کے آداب کا اور عام استیذان کا ذکر تھا اب ان آیات میں خاص مجلس نبوی کے آداب بیان کرتے ہیں کہ مجلس نبوی سے جاتے وقت استیذان و اجازت لینے کی ضرورت ہے اور آپ ﷺ کے بلانے کے وقت حاضری واجب ہے اور آپ ﷺ کی مجلس سے بغیر اجازت لئے اٹھ کر چلے جانا یا آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہونا یہ منافقین کا شیوہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ ﷺ کا ادب اور احترام ایمان کا جز ہے، چناچہ فرماتے ہیں کہ جز ایں نیست کہ کامل ایمان دار تو وہی ہیں جو صدق دل سے اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →66:۔ ” انما المومنون الخ “: یہ دوسرے حصے میں مومنین اور منافقین کی صفات کا تقابل ہے ایمان والوں کی صفت یہ ہے کہ وہ مجلس رسول اللہ ﷺ کے آداب کی پابندی کرتے ہیں۔ جب وہ کسی اہم کام اور ضروری مقصد کے لیے پیغمبر (علیہ السلام) کے پاس ہوتے ہیں تو آپ سے اجازت لیے بغیر وہاں سے نہیں جاتے اس لیے ایسے مواقع میں جو لوگ آپ سے اجازت لے کر مجلس سے نکلتے ہیں یہی لوگ صحیح معنوں میں مخلص مومن ہیں اس لیے جب کبھی وہ آپ سے اپنے کسی نجی کام کے لیے جانے کی اجازت طلب کریں تو جس کا عذاب آپ معقول جانیں یا جسے مناسب سمجھیں اجازت فرما دیا کریں اور ان کے لیے استغفار بھی کریں کیونکہ نجی کام کے لیے اٹھ کر جانا اپنے اندر…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ درس میں کھانے کے آداب بیان ہوئے تھے کہ بعض معذوروں اور عام لوگوں کو کن کن کے گھروں سے بلا اجازت کھانا کھانے کی اجازت ہے ان میں ان قریبی رشتہ داروں کا ذکر تھا جن کے ساتھ صلہ رحمی ویسے بھی ضروری ہے ، لہٰذا ان کے گھروں سے کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ بیان ہوا کہ اکٹھے مل کر کھانا یا علیحدہ علیحدہ کھانا دونوں طرح جائز ہے۔ ضرورت کے مطابق جس طرح چاہو کھاسکتے ہو مگر مل کر کھانے میں برکت ہے۔ پھر تیسرا مسئلہ اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ جب گھروں میں داخل ہو تو سلام کہہ کر داخل ہوا کرو کیونکہ سلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعائے خیر اور بابرکت وپاکیزہ چیز ہے۔ اب آج کے درس…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاِذَا كَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓي اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْہَبُوْا حَتّٰى يَسْتَاْذِنُوْہُ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمُ اللہَ 0ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 62
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ترکیب : دعاء الرسول امصدر مضاف الی المفعول۔ اے دعائکم الرسول لواذا مصدر فی موضع الحال ویجوزا ان یکون منصوبابیتسللون۔
تفسیر : یہاں سے رسول کی اطاعت کے بارے میں مدینہ کے منافقوں کی مذمت بیان ہے جو وہ اس سے پہلو تہی کرتے تھے۔ اس مناسبت کے لیے سورة کا تتمہ اسی قسم کے آداب پر کرنا ان کے دل میں کیفیت نورانی کا پیدا کردینا ہے اور ان سب امور کے مصالح اور حکمتوں کی طرف اللہ بکل شیء علیم میں اشارہ کردیا اور علم چونکہ نور ہے اس لیے کلام کو اس کے ساتھ ختم کیا۔ ابن اسحاق اور بیہقی نے دلائل میں عروہ و محمد بن کعب قرظی وغیرہما سے روایت کی ہے کہ غزوہ احزاب کے ایام میں ابوسفیان قریش کو لے کر چڑھ آیا اور دومۃ…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓی اَمْرٍجَامِعٍ لَّمْ یَذْھَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِـہٖ ج فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْکَ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمُ اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (النور : 62)
(مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب کسی اجتماعی موقع کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے ہیں تو اس وقت تک وہاں سے نہیں جاتے جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں، جو لوگ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی آداب کے ساتھ نبی ﷺ کے ادب کا تذکرہ۔
مومنوں کی صفت یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مومنوں میں سرفہرست صحابہ کرام ؓ ہیں اور صحابہ کرام رسول محترم ﷺ کے اس قدر مؤدب اور تابعدار تھے کہ جب آپ انہیں کسی مشورہ اور کام کے لیے طلب فرماتے تو صحابہ فی الفور آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوجاتے اور اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر رہتے جب تک آپ انہیں جانے کی اجازت عنایت نہ کرتے۔ اگر کسی کو جلدی جانا ہوتا تو وہ کام کی نوعیت اور آپ کے ادب واحترام کا خیال رکھتے ہوئے عاجزی کے ساتھ آپ سے اجازت طلب کرتا۔ آپ کو یہ اختیار دیا گیا آپ جسے…
Read the full tafseer →62: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓی اَمْرٍ جَامِعٍ (مؤمن حقیقت میں صرف وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی اجتماعی کام میں ہوتے ہیں) جامع ؔ سے ایسا کام جس کے لئے لوگوں کو مجتمع کیا گیا مثلاً جہاد، لڑائی کی تجاویز و مشورہ، جمعہ و عیدین بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا جانے والا ہر اجتماع۔ لَّمْ یَذْھَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ (وہ اس وقت تک وہاں سے نہیں جاتے جب تک اجازت نہیں لیتے) وہ اپنے لئے اجازت لیتے ہیں۔
عظیم جنایت :
مجلس رسول ﷺ سے بلا اذن چلے جانے کا سخت گناہ ہونا اس طرح بیان…
Read the full tafseer →تفسیر۔
62۔ انما المومنون الذین آمنوابااللہ ورسولہ واذا کانوامعہ، ، جب تم مومنین رسول اللہ کے ساتھ ہو، علی امر جامع ایسا کام جسمیں اجتماعیت ضروری ہے ، جیسے جنگ میں حاضر ہونا ، نماز، جمعہ، عیدین یا کسی کام کے مشورہ کے لیے وغیرہ، لم یذھبوا، ا س کام کو چھوڑ کر متفرق نہیں ہوجاتے ، اور جس کام کے لیے وہ جمع ہوئے اس سے روگرداں نہیں ہوجاتے۔
” حتی یستاذنوہ، مفسرین کا قول ہے کہ جب رسول اللہ جمعہ کے روز منبر پر تشریف فرما ہوتے اور کوئی شخص مسجد سے باہرنکلنا چاہتا کسی حاجت یاعذر کی وجہ سے تو اس وقت تک وہ مسجد سے باہر نہ نکلتا یہاں تک کہ وہ آپ کے ایک طرف کھڑا ہوجاتا۔ آپ اس کے کھڑے ہونے سے سمجھ جاتے۔ پھر اس…
Read the full tafseer →62:۔ سورة آل عمران اور سورة النساء میں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے جابر بن عبداللہ اور زید بن ثابت کی 1 ؎ روایتیں گزر چکی ہیں کہ عبداللہ بن ابی منافقوں کا سردار بغیر پروانگی اللہ کے رسول کی احد کی لڑائی کے وقت میدان جنگ میں سے مدینہ چلا آیا اور اپنے ساتھ تین سو آدمیوں کو بھی پلٹا لایا ‘ سورة الاحزاب میں آوے گا کہ بہت سے منافق جھوٹے عذر کر کے احزاب یعنی خندق کی لڑائی سے جان بچا گئے ‘ ان قصوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ پکے مسلمانوں کی عادت منافقوں کی سی نہیں ہے بلکہ پکے مسلمان کسی جتھے کے کام کی ضرورت کے وقت جب اللہ کے رسول کی محفل میں جمع ہوتے ہیں تو اللہ کے رسول کی پروانگی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
آیت نمبر 62
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سی اپنے مومن بندوں کے لئے ارشاد ہے کہ جب وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوں، یعنی آپ کی ضرورت اور مصلحت مثلاً جہاد اور مشاورت وغیرہ میں، جہاں اہل ایمان کا اشتراک عمل ہوتا ہے۔۔۔ تو اس معاملے میں اکٹھے رہیں کیونکہ مصلحت ان کے اجتماع و اتحاد اور عدم تفرق و تشتت کا تقاضا کرتی ہے۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان رکھنے والا رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد آپ کے نائب کی اجازت کے بغیر اپنے گھر لوٹتا ہے نہ اپنی کسی ضرورت سے دیگر مومنوں کو چھوڑ کرجاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اجازت کے بغیر نہ جانے کو موجب ایمان قرار دیا ہے اور اس فعل پر نیز رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →اجتماچ سے بغیر اجازت جانا درست نہیں
قول باری ہے (واذا کانوا معہ علی امر جامع لم یذھبوا حتی یستاذنوہ ) اور جب کسی اجتماع کام کے موقعہ پر رسول کے ساتھ ہوں تو اس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ حسن اور سعید بن جبیر نے کہا ہے کہ امر جامع سے مراد جہاد ہے۔ عطاء کا قول ہے کہ اس سے ہر اجتماعی کام مراد ہے مکحول کا قول ہے کہ اس سے جمعہ اور قتال مراد ہیں۔ زہری کا قول ہے کہ جمعہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہر ایسا کام جو اللہ کی طاعت کے سلسلے میں کیا جارہا ہو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ عموم لفظ کی بنا پر تمام توجیہات مراد ہوسکتی ہیں۔ سعید نے پتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اللہ نے پہلے سورة براء ۃ…
Read the full tafseer →138 آنے کی طرح جانے کے لیے بھی استئذان کی تعلیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایمان والے تو وہی لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول پر جب وہ اللہ کے رسول کے ساتھ کسی اجتماعی کام میں ہوتے ہیں "۔ جیسے جنگ یا نماز یا باہمی مشاورت وغیرہ۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ تو ایسے کسی موقعہ پر سچے اہل ایمان منافقوں کی طرح چپکے سے کھسک نہیں جاتے بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ اجازت لیکر جاتے ہیں۔ سو اس میں اہل ایمان کا یہ طریقہ بتایا گیا اور اس کی ہدایت فرمائی گئی کہ جب وہ آتے ہیں تو بھی اجازت لے کر حاضر ہوتے ہیں اور جب جاتے ہیں تو بھی اجازت لے کر جاتے ہیں۔ اور یہی صحیح اور صدق و اخلاص والا طریقہ ہے جیسا کہ حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
رسول کریم ﷺ کو بلانے کے آداب اور آپ کی نافرمانی پر سزا
تشریح : لوگوں کو آپس میں مل جل کر رہنے سہنے اور معاملات زندگی کے بہت سے پہلوئوں کو واضح کرنے کے بعد اب اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ تمام معاملات میں آنحضرت ﷺ کے معاملات میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا درجہ دیا ہے۔ بلکہ تمام انبیاء میں بھی آپ کو فضیلت اس طرح ملی ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ کیونکہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی شریعت اور نہ کوئی دین۔ تو ظاہر ہے ایسے عظیم الشان محسن انسانیت، حامل قرآن کی عزت و توقیر کسی بھی عام انسان کی طرح نہیں ہوسکتی۔ بلکہ آپ کے بلاوے پر فوراً حاضر ہونا۔ محفل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
یقینا ایماندار وہی لوگ ہیں جو ہر اہم بات پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں یا آپ ﷺ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے جمع ہوجاتے ہیں اور کتنی بھی مجبوری ہو نہ غیر حاضر ہوتے ہیں اور نہ بغیر اجازت واپس جاتے ہیں ۔
(امیر اور شیخ کا منصب)
یہی منصب اسلامی امیر یا شیخ کا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اسلام پر عمل یا اس کی ضرورت ہی کے لیے طلب کرتا ہے تو مومن کبھی ارادۃ کوتاہی نہیں کرتا اگر بہت زیادہ مجبوری ہو تو حاضر ہو کر اجازت طلب کرتے ہیں اور جو بلانے پر حاضر ہوجاتے ہیں تب اپنی مجبوری کا اظہار کرکے اجازت چاہتے ہیں ، ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ایمان رکھنے والے…
Read the full tafseer →5 ۔ جماعتی نظم میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اب بھی مسلمانوں کو اس کا التزام کرنا چاہیے۔ (شوکانی) 6 ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ عذر کی بنا پر اگرچہ اجازت لے کر جانا جائز ہے مگر پھر بھی اچھا نہیں ہے کیونکہ یہ دنیا کی ضرورت کو دین پر مقدم رکھنا ہے۔ اس لئے آنحضرت کو ایسے لوگوں کے لئے مغفرت کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ کذا فی الوحیدی (شوکانی)
Read the full tafseer →(24:62) واذا کانوا معہ علی امرجامعمعطوف ہے اور اس کا عطف امنوا پر ہے آیت میں المومنون کی تعریف یوں کی گئی ہے
(1) الذین امنوا باللہ ورسولہ (جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر۔
(2) واذا کانوا معہ علی امر جامع لم یذھبوا حتی یستاذنوہ (اور جب وہ کسی امر اجتماعی وعظیم کے لئے آپ کے ساتھ ہوں تو جب تک آپ سے اجازت نہیں لے لیتے جاتے نہیں ہیں۔
امر جامع۔ اجتماعی کام (مودودی) نہایت اہم امر (محمد علی) اہم مشورت کے مواقع جہاں اجتماع و اہتمام کی ضرورت پڑتی ہے (تفسیر کبیر بحوالہ الماجدی) وہ معاملات جن میں خطاب عام کی ضرورت پڑے۔ (ایضا) مثل جمع وعیدین (مدارک التنزیل) ۔
لبعض شانہم۔ اپنے کسی کام کے لئے۔ شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
لغات القرآن : آیت نمبر 62 تا 64 :
امر جامع (اہم کام۔ اکٹھا کرنے والے کام) ‘ شأ ن (کام) ‘ دعاء الرسول (رسول کابلانا) یتسللون (تسلل) کھسک جاتے ہیں۔ چلے جاتے ہیں۔ لواذ (ایک دوسرے کے پیچھے چھپنا۔ آڑلینا۔ پناہ لینا ‘ (الا) سنو۔ غور سے سنو ‘ ینبیٔ(وہ بتادے گا۔ اگاہ کردے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 62 تا 64 :
جب نبی کریم ﷺ کے سامنے کوئی اہم ‘ ضروری اور اجتماعی مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ مشورے کے لئے صحابہ کرام ؓ کو جمع فرماتے اور مشورے کے بعد کوئی فیصلہ فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام ؓ کو یہ بتاتے تھے کہ فلاں کام کو اس طرح کرو۔ ادب یہ سکھایا گیا کہ جب لوگوں کو بلایا جائے تو وہ حاضر ہوجائیں اور اس وقت تک…
Read the full tafseer →(ف 1) مسلمانوں کا ذکر : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پکے مسلمانوں کی عادت منافقوں کی سی نہیں ہے بلکہ پکے مسلمان کسی جتھے کے کام کی ضرورت کے وقت جب اللہ کے رسول کی محفل میں جمع ہوتے ہیں تو اللہ کے رسول کی اجازت کے بغیر ہرگز اپنے گھر کو نہیں جاتے ، پھر یہ فرمایا یہ ان لوگوں کی ایمانداری کی نشانی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے رسول کی اجازت کو اپنی ضرورتوں سے مقدم خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ یہ لوگ سچے عذر کے سبب سے اجازت مانگتے ہیں اس واسطے جب یہ لوگ اجازت مانگیں تو اے محبوب تم ان میں سے جن کو چاہو اجازت دے کر ان کی غیر حاضری کی معافی کے لیے اللہ کی جناب میں دعا کرو، اللہ بخشنے والا، مہربان اپنی مہربانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
[63] مطلب یہ ہے کہ معذور و محتاج لوگوں کو تندرستوں کے ساتھ کھانے میں کچھ حرج نہیں۔ جاہلیت میں اس قسم کے محتاج و معذور آدمی اغنیاء اور تندرستوں کے ساتھ کھانے سے رکتے تھے۔ انھیں خیال گزرتا تھا کہ شاید لوگوں کو ہمارے ساتھ کھانے سے نفرت ہو اور ہماری بعض حرکات سے ایذا پہنچتی ہو۔ اور واقعی بعضوں کو نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ نیز بعض مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسے معذوروں اور مریضوں کے ساتھ کھانے میں شاید اصول عدل و مساوات قائم نہ رہ سکے۔ اسی بناء پر ساتھ کھلانے میں احتیاط کرتے تھے کہ حق تلفی نہ ہو۔ دوسری ایک اور صورت پیش آتی تھی کہ یہ معذور محتاج لوگ کسی کے پاس گئے۔ وہ شخص استطاعت نہ رکھتا تھا…
Read the full tafseer →آداب مجلس :
(ف 1) یہ آداب مجلس میں ہے کہ بغیر اجازت ہر مجلس یا شرکاء مجلس کے وہاں سے کوئی شخص نہ اٹھے ، منافقین کی عادت تھی کہ جب چاہا وعظ یا خطبے میں بیٹھ گئے ، اور جب چاہا ، اٹھ کھڑے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کو یہ ادا ناپسند تھی ، اس لئے اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ آداب مجلس کو ملحوظ رکھنا جزو ایمان ہے ،
اور وہ لوگ جو ان آداب کو ملحوظ نہیں رکھتے ۔ وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ۔
غور فرمائیے ، قرآن میں آداب وعوائد رسمیہ کی کس قدر اہمیت ہے ، اور اس وقت کا مسلمان ان آداب سے کس قدر عاری ہے ، آج یورپ والے ان اخلاق و عادات کو اس طرح اپنا کرچکے ہیں کہ گویا یہ ان کا خاصہ معلوم ہوتا ہے حالانکہ سب چیزیں…
Read the full tafseer →(62) سورت کے چوتھے رکوع میں اجازت لیکر کسی کے مکان میں داخل ہونے کا حکم تھا اب بعض حالات میں جاتے وقت اجازت حاصل کرنے کا حکم بیان فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ کامل اور مخلص مومن تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب کبھی رسول کے پاس کسی ایسے اہم کام کے لئے جمع ہوتے ہیں جس کے لئے اجتاع کیا گیا ہے تو جب تک رسول سے اجازت حاصل نہ کرلیں وہاں سے اٹھ کر نہیں جاتے۔ بلاشبہ ! جو لوگ ایسے اجتماع میں آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں تو وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھت ہیں پس اے پیغمبر جب یہ لوگ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے جانے کی اجازت طلب کیا کریں…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں اور آپ اس پر اجازت نہ دیدیں۔
3۔ حاصل یہ کہ ایمان بدون استیذان کے نہیں پایا جاتا اور کوئی منافق اجازت نہیں لیتا تھا۔
4۔ یعنی اس کا فیصلہ حضور ﷺ کی رائے مبارک پر مفوض ہے۔
5۔ کیونکہ استیذان گو کسی قوی عذر کی وجہ سے ہو لیکن تاہم اس میں دنیا کی تقدیم دین پر تو لازم آئی۔ اور اس میں ایک نقص کا شائبہ ہے اس کی تلافی کے لئے استغفار کا امر ہوا۔
Read the full tafseer →اجتماعی کاموں سے کھسکنے والوں کو منافق ہی کہا جاسکتا ہے :
103۔ اوپر جو احکامات دیئے گئے ہیں وہ خالصتا اسلامی احکام ہیں اور بلاشبہ یہ سب احکام اجتماعی زندگی کے لئے پتھر پر لکیر ہیں ان میں مین میکھ نکالنے والے اور شک و شبہات پیدا کرنے والے اور طرح طرح کی کٹ حجتیاں پیش کرنے والے دراصل وہ لوگ ہیں جو خود بیمار ہیں اور نفاق کے مرض میں مبتلا ہیں اگرچہ منافق نے کبھی اپنے مرض نفاق کو تسلیم نہیں کیا اس لئے تم اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر پکا اور سچا ایمان رکھنے والے وہی لوگ ہیں کہ جن کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جو حکم ملے وہ اس پر دلی رضا ورغبت سے جم جائیں اور…
Read the full tafseer →Commentary
Some etiquettes and injunctions in regard to meetings with the Holy Prophet ﷺ ' in particular, and in the society in general
The above verses contain two injunctions. The first injunction is that when the Holy Prophet ﷺ call people for the meeting in connection with jihad or any other religious matter, the demand of the faith is that all should attend and must not leave the meeting without his permission. If there is an emergency, permission may be sought from the Holy Prophet ﷺ ، who was advised that unless there is special need and requirement, permission may be granted on such…
Read the full tafseer →97. These are the final instructions being given to tighten the discipline of the Muslim community and make it more organized than before.
98. This commandment is also applicable in respect of the successors of the Prophet (peace be upon him) after him and other leaders of the Muslims. When the Muslims are called upon to get together for a common cause, whether relating to war or peace, it is not permissible for them to retreat or disperse without due permission of the leader.
99. This contains a warning that it is absolutely unlawful to ask permission without any genuine need.
100. That is,…
Read the full tafseer →