An-Noor 24:61

An-Noor · from ayah 61

24:61

لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلٰۤی اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآىِٕكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ ؕ— لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا ؕ— فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤی اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً ؕ— كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ۟۠لَـيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلٰٓى اَنۡفُسِكُمۡ اَنۡ تَاۡكُلُوۡا مِنۡۢ بُيُوۡتِكُمۡ اَوۡ بُيُوۡتِ اٰبَآئِكُمۡ اَوۡ بُيُوۡتِ اُمَّهٰتِكُمۡ اَوۡ بُيُوۡتِ اِخۡوَانِكُمۡ اَوۡ بُيُوۡتِ اَخَوٰتِكُمۡ اَوۡ بُيُوۡتِ اَعۡمَامِكُمۡ اَوۡ بُيُوۡتِ عَمّٰتِكُمۡ اَوۡ بُيُوۡتِ اَخۡوَالِكُمۡ اَوۡ بُيُوۡتِ خٰلٰتِكُمۡ اَوۡ مَا مَلَكۡتُمۡ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوۡ صَدِيۡقِكُمۡ‌ؕ لَـيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡكُلُوۡا جَمِيۡعًا اَوۡ اَشۡتَاتًا‌ ؕ فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُيُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِكُمۡ تَحِيَّةً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَيِّبَةً‌  ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

There is not upon the blind [any] constraint nor upon the lame constraint nor upon the ill constraint nor upon yourselves when you eat from your [own] houses or the houses of your fathers or the houses of your mothers or the houses of your brothers or the houses of your sisters or the houses of your father's brothers or the houses of your father's sisters or the houses of your mother's brothers or the houses of your mother's sisters or [from houses] whose keys you possess or [from the house] of your friend. There is no blame upon you whether you eat together or separately. But when you enter houses, give greetings of peace upon each other - a greeting from Allah, blessed and good. Thus does Allah make clear to you the verses [of ordinance] that you may understand.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 8 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:61

کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا، یا لنگڑا، یا مریض (کسی کے گھر سے کھا لے) اور نہ تمہارے اوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دعا ئے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فر مائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ اِس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اندھے پر، لنگڑے پر، بیمار پر اور خود تم پر (مطلقاً) کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھالو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خاﻻؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ تم پر اس میں بھی کوئی گناه نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ پس جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کرو دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزه ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده، یوں ہی اللہ تعالیٰ کھول کھول کر تم سے اپنے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو

— مولانا محمد جوناگڑہی

نہ کسی نابینا کے لیے اس میں کوئی گناہ ہے، نہ کسی پاؤں سے معذور شخص کے لیے کوئی گناہ ہے، نہ کسی بیمار شخص کے لیے کوئی گناہ ہے، اور نہ خود تمہارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے کچھ کھالو ، یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان گھروں سے جن کی چابیاں تمہارے اختیار میں ہوں۔ یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے کہ سب ملکر کھاؤ، یا الگ الگ۔ چنانچہ جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، کہ یہ ملاقات کی وہ بابرکت پاکیزہ دعا ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے۔ اللہ اسی طرح آیتوں کو تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نہ اندھے پر تنگی اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر روک اور نہ تم میں کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر یا اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر یا اپنے بھائیوں کے یہاں یا اپنی بہنوں کے گھر ے یا اپنے چچاؤں کے یہاں یا اپنی پھپیوں کے گھر یا اپنے ماموؤں کے یہاں یا اپنی خالاؤں کے گھر یا جہاں کی کنجیاں تمہارے قبضہ میں ہیں یا اپنے دوست کے یہاں تم پر کوئی الزام نہیں کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو ملتے وقت کی اچھی دعا اللہ کے پاس سے مبارک پاکیزہ، اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے آیتیں کہ تمہیں سمجھ ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اندھے پر کوئی رکاوٹ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور نہ خود تمہارے لئے (کوئی مضائقہ ہے) کہ تم اپنے گھروں سے (کھانا) کھا لو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں (یعنی جن میں ان کے مالکوں کی طرف سے تمہیں ہر قسم کے تصرّف کی اجازت ہے) یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (کھانا کھا لینے میں مضائقہ نہیں)، تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سب کے سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ، پھر جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے (گھر والوں) پر سلام کہا کرو (یہ) اللہ کی طرف سے بابرکت پاکیزہ دعا ہے، اس طرح اللہ اپنی آیتوں کو تمہارے لئے واضح فرماتا ہے تاکہ تم (احکامِ شریعت اور آدابِ زندگی کو) سمجھ سکو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہ اندھے پر کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے اور نہ خود تم پر کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ، یا اپنے باپوں کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھو پھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا (اس گھر سے) جس کی چابیوں کے تم مالک بنے ہو، یا اپنے دوست (کے گھر) سے۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اکٹھے کھاؤ یا الگ الگ۔ پھر جب تم کسی طرح کے گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں پر سلام کہو، زندہ سلامت رہنے کی دعا جو اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی بابرکت، پاکیزہ ہے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس بات میں نہ اندھے پر، نہ لنگڑے پر، نہ مریض اور نہ خود تمہارے لیے کوئی حرج ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ، اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں (اور نانی) کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں یا خالاؤں کے گھروں سے کھاؤ یا ان کے گھروں سے جن کے تم سرپرست ہو یا اپنے دوست کے ہاں سے کھالو۔ نہ ہی اس بات میں کوئی گناہ ہے کہ تم سب مل کر کھاؤ یا علیحدہ علیحدہ۔ البتہ جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں (گھر والوں) کو سلام کہا کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہ نابینا پر کوئی تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ مریض پر کوئی تنگی ہے اور نہ خود تمہارے اوپر کوئی تنگی ہے اس بات میں کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھائو پیو، خواہ اکٹھے ہو کر یا الگ الگ بس یہ بات ہے کہ جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو جو اللہ کی طرف سے ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہ اندھے پر کوئی حرج و تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ ہی بیمار پر، اور نہ خود تم پر اس بات میں کہ تم لوگ کھاؤ پیو اپنے گھروں سے یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے حوالے ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے پھر اس میں بھی خواہ تم سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ تم پر کوئی حرج نہیں، پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب تم داخل ہونے لگو گھروں میں تو سب سے پہلے سلام کیا کرو اپنے لوگوں کو، اللہ کی طرف سے تعلیم فرمودہ ایک حیات آفریں اور پاکیزہ دعا کے طور پر اسی طرح اللہ کھول کر بیان کرتا ہے تمہارے لیے اپنے احکام تاکہ تم لوگ سمجھو اور عقل سے کام لو

— مولانا اسحاق مدنی

نہ اندھے (آدمی) پر الزام ہے نہ لنگڑے (آدمی) پر الزام ہے اور نہ بیمار (آدمی) پر الزام ہے اور نہ خود تم پر اس بات میں کہ تم اپنے گھروں میں سے کھانا کھالو۔ یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا (ان گھروں سے) جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہوں یا اپنے دوستوں (کے گھروں) سے۔ تم پر کچھ الزام نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔ پھر جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو۔ (جو) دعا کے طور پر اللہ کی طرف سے (مقرر) ہے بابرکت (اور) عمدہ (چیز) اللہ اسی طرح تم سے کھول کر احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کسی اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ کسی لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ کسی مریض پر کوئی تنگی ہے اور نہ خود تمہارے اپنے اوپر (اس ضمن میں) کوئی تنگی ہے کہ تم کھانا کھایا کرو اپنے گھروں سے یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا (ایسے گھروں سے) جن کی چابیاں تمارے پاس ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ تم سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ تو جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے (لوگوں) پر سلام بھیجا کرو یہ دعا ہے اللہ کی طرف سے مبارک بھی اور پاک بھی اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات واضح کر رہا ہے تاکہ تم لوگ عقل سے کام لو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے نہ لنگڑے اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھائو ‘ اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے اور اس کا بھی تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھائو یا جدا جدا اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے گھر والوں کو سلام کیا کرو یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح اللہ اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There is no harm if a blind or a lame or a sick person (takes a meal at another's house): nor is there any harm for yourselves if you take meals at your own houses or at the houses of your fathers and grandfathers or at the houses of your mothers and grandmothers or at your brothers' houses or at your sisters' houses or at the houses of your paternal uncles or at the houses of your paternal aunts or at the houses of your maternal uncles or at the houses of your maternal aunts or from the houses whose keys are in your possession or at the houses of your friends. There is no harm if you take your meals together or separately; however, when you enter the houses, you should send greetings of peace on your people, for the prayer of greetings prescribed by Allah is blessed and pure. Thus Allah makes His Revelation's clear to you. It is expected that you will use your common sense to grasp these.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There is no blame on a blind person, nor is there any blame on any lame one, nor is there any blame on a sick person, nor on yourselves in that you eat (something) from your own homes or from the homes of your fathers or the homes of your mothers or the homes of your brothers or the homes of your sisters or the homes of your paternal uncles, or the homes of your paternal aunts or the homes of your maternal uncles or the homes of your maternal aunts or from the places the keys of which you have under your control,16 or from (the home of) your friend. There is no sin on you if you eat together or separately. So when you enter homes, greet one another with Salam , a greeting prescribed by Allah, which is blessed, pleasant. This is how Allah explains the verses to you, so that you may understand.

— Muhammad Taqi Usmani

There is no blame on a blind person, nor is there any blame on any lame one, nor is there any blame on a sick person, nor on yourselves in that you eat (something) from your own homes or from the homes of your fathers or the homes of your mothers or the homes of your brothers or the homes of your sisters or the homes of your paternal uncles, or the homes of your paternal aunts or the homes of your maternal uncles or the homes of your maternal aunts or from the places the keys of which you have under your control,16 or from (the home of) your friend. There is no sin on you if you eat together or separately. So when you enter homes, greet one another with Salam , a greeting prescribed by Allah, which is blessed, pleasant. This is how Allah explains the verses to you, so that you may understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There is no restriction on the blind, nor any restriction on the lame, nor any restriction on the sick, nor on yourselves, if you eat from your houses, or the houses of your fathers, or the houses of your mothers, or the houses of your brothers, or the houses of your sisters, or the houses of your father's brothers, or the houses of your father's sisters, or the houses of your mother's brothers, or the houses of your mother's sisters, or (from that) whereof you hold keys, or (from the house) of a friend. No sin on you whether you eat together or apart. But when you enter the houses, greet one another with a greeting from Allah, blessed and good. Thus Allah makes clear the Ayat to you that you may understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

No blame is there upon the blind nor any blame upon the lame nor any blame upon the sick nor on yourselves if ye eat from your houses, or the houses of your fathers, or the houses of your mothers, or the houses of your brothers, or the houses of your sisters, or the houses of your fathers' brothers, or the houses of your fathers' sisters, or the houses of your mothers' brothers, or the houses of your mothers' sisters, or (from that) whereof ye hold the keys, or (from the house) of a friend. No sin shall it be for you whether ye eat together or apart. But when ye enter houses, salute one another with a greeting from Allah, blessed and sweet. Thus Allah maketh clear His revelations for you, that haply ye may understand.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

There is not upon the blind [any] constraint nor upon the lame constraint nor upon the ill constraint nor upon yourselves when you eat from your [own] houses or the houses of your fathers or the houses of your mothers or the houses of your brothers or the houses of your sisters or the houses of your father's brothers or the houses of your father's sisters or the houses of your mother's brothers or the houses of your mother's sisters or [from houses] whose keys you possess or [from the house] of your friend. There is no blame upon you whether you eat together or separately. But when you enter houses, give greetings of peace upon each other - a greeting from Allah, blessed and good. Thus does Allah make clear to you the verses [of ordinance] that you may understand.

— Saheeh International

It is no sin for the blind, the lame, the sick ones, and yourselves to eat at your own homes, or the homes of your father, mothers, brothers, sisters, your paternal and maternal uncles, aunts, or at the homes of your friend, and the homes with which you are entrusted. It makes no difference whether you eat all together or one person at a time. When you enter a house, say the blessed greeting which God has instructed you to say. Thus does God explain to you His revelations so that perhaps you will understand.

— Muhammad Sarwar

There is no blame on the blind man, nor is there blame on the lame, nor is there blame on the sick, nor on yourselves that you eat from your houses, or your fathers' houses or your mothers' houses, or your brothers' houses, or your sisters' houses, or your paternal uncles' houses, or your paternal aunts' houses, or your maternal uncles' houses, or your maternal aunts' houses, or what you possess the keys of, or your friends' (houses). It is no sin in you that you eat together or separately. So when you enter houses, greet your people with a salutation from Allah, blessed (and) goodly; thus does Allah make clear to you the communications that you may understand.

— Muhammad Habib Shakir

No restriction is there upon the blind, nor is there the restriction upon a lame, nor is there a restriction upon the sick. nor upon yourselves that ye eat in your houses or the houses of your fathers or the houses of your mothers or the houses of your brothers or the houses of your sisters or the houses of your fathers brothers or the houses of your fathers sisters or the houses of your mothers brothers or the houses of your mothers sisters or from that house where of ye own the keys or from the house of a friend. No fault is there upon you whether ye eat together or in separate groups, Then when ye enter houses, salute each other with a greeting from before Allah, blest and goodly. Thus Allah expoundeth unto you the revelations, haply ye may reflect.

— Abdul Majid Daryabadi

It is no fault in the blind nor in one born lame, nor in one afflicted with illness, nor in yourselves, that ye should eat in your own houses, or those of your fathers, or your mothers, or your brothers, or your sisters, or your father's brothers or your father's sisters, or your mother's brothers, or your mother's sisters, or in houses of which the keys are in your possession, or in the house of a sincere friend of yours: there is no blame on you, whether ye eat in company or separately. But if ye enter houses, salute each other - a greeting of blessing and purity as from Allah. Thus does Allah make clear the signs to you: that ye may understand.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

جہاد میں شمولیت کی شرائط اس آیت میں جس حرج کے نہ ہونے کا ذکر ہے اس کی بابت حضرت عطاء وغیرہ تو فرماتے ہیں مراد اس سے اندھے لولے لنگڑے کا جہاد میں نہ آنا ہے۔ جیسے کہ سورة فتح میں ہے تو یہ لوگ اگر جہاد میں شامل نہ ہوں تو ان پر بوجہ ان کے معقول شرعی عذر کے کوئی حرج نہیں۔ سورة براۃ میں ہے آیت (لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 91 ۙ) 9۔ التوبہ :91) بوڑھے بڑوں پر اور بیماروں پر اور مفلسوں پر جب کہ وہ تہ دل سے دین حق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النُّوْر 95 اس آیت کو سمجھنے کے لیے تین باتوں کا سمجھ لینا ضروری ہے۔ اول یہ کہ آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ بیمار، لنگڑے، اندھے اور اسی طرح دوسرے معذور لوگوں کے بارے میں ہے، اور دوسرا عام لوگوں کے بارے میں۔ دوم یہ کہ قرآن کی اخلاقی تعلیمات سے اہل عرب کی ذہنیت میں جو زبردست انقلاب واقع ہوا تھا اس کی وجہ سے حرام و حلال اور جائز و ناجائز کی تمیز کے معاملے میں ان کی حس انتہائی نازک ہوگئی تھی۔ ابن عباس کے بقول، اللہ تعالیٰ نے جب ان کو حکم دیا کہ لَا تَأکُلُوْآ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ (ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ) تو لوگ ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے میں بھی سخت احتیاط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اگر تم کسی اندھے لنگڑے بیمار غریب کو اپنے کسی عزیز یا ملاقاتی کے گھر لے جا کر کچھ کھلا پلا دو ، یا خود کھا پی لو تو جب یہ یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ عزیز ملاقاتی ہمارے کھانے اور کھلانے پر راضی ہوگا اس کو کوئی تکلیف نہ ہوگی تو ان صورتوں میں) نہ تو اندھے آدمی کے لئے کوئی مضائقہ ہے اور نہ لنگڑے آدمی کے لئے اور نہ بیمار آدمی کے لئے کچھ مضائقہ ہے اور نہ خود تمہارے لئے اس بات میں (کچھ مضائقہ ہے) کہ تم (خواہ خود یا تم مع ان معذورین کے سب) اپنے گھروں سے (جن میں بی بی، اولاد کے گھر بھی آگئے) کھانا کھلاؤ یا (ان گھروں میں جن کا ذکر آگے آتا ہے کھالو، یعنی نہ تم کو خود کھانے میں گناہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 61 پردہ کا مقصد معاشرتی روابط کا انقطاع نہیں یہ آیت بھی توضیحی آیات میں سے ہے جب گھروں کے اندر جانے پر وہ پابدیاں عائد کردی گئیں جو پیچھے بیان ہوئیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ اسلام سوشل آزادیوں کو محدود کرنا چاتا ہے کہ خاص اپنے عزیزوں، قریبوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں میں بھی اب کوئی شخص آزادی و بےتکلفی کے ساتھ نہیں آجا سکتا۔ بہت سے لوگ جو معذور و مجبور تھے اور اپنی مجبوری کے سبب سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں ہی کے گھروں پر گزارہ کرتے تھے انہوں نے بھی یہ محسوس کیا کہ اب ان کی آزادی محدود ہوگئی۔ دور جاہلیت میں چونکہ غیر محدود آزادی و بےقیدی لوگوں کو حال رہی تھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 60–61

60-1ان سے مراد وہ بوڑھی اور راز کار رفتہ عورتیں ہیں جن کو حیض آنا بند ہوگیا ہو اور ولادت کے قابل نہ رہی ہوں اس عمر میں بالعموم عورت کے اندر مرد کے لئے فطری طور پر جو جنسی کشش ہوتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے نہ وہ کسی مرد سے نکاح کی خواہش مند ہوتی ہیں، نہ مرد ہی ان کے لئے ایسے جذبات رکھتے ہیں۔ ایسی عورتوں کو پردے میں تخفیف کی اجازت دے دی گئی ہے ' کپڑے اتار دیں سے مراد جو شلوار قمیض کے اوپر عورت پردے کے لئے بڑی چادر یا برقعہ وغیرہ کی شکل میں لیتی ہے بشرطیکہ مقصد اپنی زینت اور بناؤ سنگھار کا اظہار نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی عورت اپنی جنسی کشش کھو جانے کے باوجود اگر بناؤ سنگھار کے ذریعے سے ' اپنی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

44: ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ بعض افراد جو نابینا یا پاؤں سے معذور یا بیمار ہوتے تھے وہ دوسروں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے سے اس لئے شرماتے تھے کہ شاید دوسروں کو ان کے ساتھ کھاتے ہوئے کراہیت محسوس ہو، اور بعض معذور افراد یہ بھی سوچتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی معذوری کی وجہ سے دوسروں سے زیادہ جگہ گھیر لیں یا نابینا ہونے کی بنا پر دوسروں سے زیادہ کھالیں، دوسری طرف صحت مند لوگ بھی بعض اوقات یہ خیال کرتے تھے کہ کہیں یہ اپنی معذوری کی وجہ سے دوسروں کا ساتھ نہ دے سکیں کم کھائیں اور مشترک کھانے میں سے اپنا مناسب حصہ نہ لے سکیں، یہ احساس ان حضرات کے دل میں اسلام کے ان احکام نے پیدا کیا جن کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب قریبی رشتہ داوں اور دوستوں کے احکام (لیس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعقلون ) (61) ” روایات میں آتا ہے کہ لوگ ان مذکورہ گھروں سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ اجازت نہ لیا کرتے تھے۔ اپنے ساتھ وہ فقراء اندھوں ‘ لنگڑوں اور مریضوں کو بھی کھانا کھلاتے تھے۔ اب لوگوں نے یہ خیال کیا کہ مذکورہ بالا گھروں کے مالکوں سے بھی اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ خیال مسلمانوں کے دلوں میں اس وقت پیدا ہوا جب یہ آیت نازل ہوئی۔ (ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل) ” اور آپس میں اپنے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو “ اہل ایمان اس قدر حساس تھے کہ وہ ہر وقت سوچتے رہتے تھے کہ کہیں ان سے قرآن کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جو کام تکلیف کے ہیں وہ ان کو معاف ہیں مثلاً جہاد، حج، جمعہ اور جماعت اور ایسی چیزیں۔ (کذافی الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ ان معذور محتاج لوگوں کو تندرستوں کے ساتھ کھانے میں کچھ حرج نہیں۔ جاہلیت میں اس قسم کے محتاج و معذور آدمی اغنیاء اور تندرستوں کے ساتھ کھانے سے رکتے تھے انھیں خیال گزرتا تھا کہ شاید لوگوں کو ہمارے ساتھ کھانے سے نفرت ہو اور ہماری بعض حرکات و اوضاع سے ایذاء پہنچتی ہو، اور واقعی بعضوں کو نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ نیز بعض مومنین کو غایت اتقاء سے یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسے معذوروں اور مریضوں کے ساتھ کھانے میں شاید اصول عدل و مساوات قائم نہ رہ سکے۔ اندھے کو سب کھانے نظر نہیں آتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ ” یہاں پر اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی خاندان ‘ گھر یا برادری میں کوئی معذور شخص ہو جو معذوری کے سبب اپنی آزاد معاش کا اہل نہ ہو تو ایسے شخص کے لیے شریعت کی ان پابندیوں کے بارے میں کیا حکم ہوگا ؟ چناچہ ایسے لوگوں کے بارے میں یہاں واضح طور پر بتادیا گیا کہ اگر وہ تمہارے گھروں میں رہیں تو اس میں مضائقہ نہیں۔ اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗٓ اَوْ صَدِیْقِکُمْ ط ” جیسے کوئی کارخانہ ہو اور اس کے مالک کے پاس اس کی چابیاں ہوں ‘ وہ جب چاہے وہاں جائے اور بیٹھ کر کھائے پئے۔ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا ط ” بعض…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

93 اس آیت میں معاشرہ کے مختلف قسم کے لوگوں کے ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے کے آداب اور احکام بیان ہوئے ہیں۔ آیات کا ابتدائی حصہ معذور لوگوں سے تعلق رکھتا ہے یعنی۔۔ لنگڑے اور مریض قسم کے لوگ۔ ان کے متعلق ارشاد ہوا کہ وہ چونکہ خود کما نہیں سکتے اس لئے وہ ہر گھر سے کھانا کھا سکتے ہیں۔ انھیں اس میں عار محسوس نہ کرنا چاہئے اور معاشرہ کے لوگوں پر چونکہ ان کا حق ہے۔ لہذا انھیں بھی چاہئے کہ انھیں کھانا کھلانے کے سلسلہ میں فراخدلی سے کام لیں۔ اس کی دوسری توجیہہ یہ ہے کہ دور جاہلیت میں اس قسم کے معذور لوگ خود آسودہ حال اور تندرست لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے میں جھجک محسوس کرتے تھے انھیں یہ خیال آتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

129۔ عرب جاہلیت میں کھانے پینے کے باب میں ایک ہلکی سی شکل کمیونزم (اشتمالیت) کی جاری تھی، دستور یہ تھا کہ جو جس کے ہاں پہنچ جاتا بےتکلفی سے اس کے ہاں کی چیزیں کھانا پینا شروع کردیتا، یہ بےتکلفی بجائے خود تو اچھی چیز تھی۔ لیکن افراط اس میں اس قدر ہوگئی تھی کہ مستحقین پر نوبت ظلم کی پہنچ گئی تھی اور گھر والے اکثر گھاٹے میں رہنے لگے تھے۔ جب (آیت) ” لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “۔ نازل ہوئی تو متقی مسلمان فرط خشیت سے بہت ہی زائد احتیاط کرنے لگے۔ اور وہاں بھی کھانے پینے سے پرہیز کرنے لگے جہاں رضا یقینی طور پر معلوم تھی، اور اپنے ساتھ میں اندھوں، لنگڑوں، بیماروں، معذوروں کالے جانا تو بالکل ہی رک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–61

آیت نمبر 58 تا 61 ترجمہ : اے ایمان والو تمہارے مملوکوں کو یعنی غلام اور باندیوں کو اور ان کو جو تم میں سے حد بلوغ کو نہیں پہنچے آزادوں میں سے، مگر عورتوں کے معاملہ سے واقف ہوگئے ہیں تین مرتبہ یعنی تین اوقات میں اجازت لینی چاہیے، صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر میں یعنی دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور نماز عشاء کے بعد یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں (ثلٰثُ ) کے رفع کے ساتھ اس وجہ سے کہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور مبتداء کے بعد مضاف محذوف ہے، اور مضاف الیہ مضاف کے قائم مقام ہوگیا ہے، ایھی اوقات ثلٰثِ عورتٍ لکم اور (ثلٰث) نصب کے ساتھ، اس کے قبل اوقات کو مقدر مان کر حال یہ ہے کہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیس علی الاعمی حرج ولا الاعراج حرج ولا علی المریض حرج اندھے پر کوئی تنگی نہیں ہے ‘ نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ بیمار پر کوئی تنگی ہے۔ بغوی نے سعید بن جبیر اور ضحاک وغیرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ لنگڑے اندھے اور بیمار لوگ تندرست لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے سے خود گریز کرتے تھے کیونکہ تندرست لوگ ان سے نفرت کرتے اور ان کے ساتھ کھانے کو برا سمجھتے تھے۔ اندھا کہتا تھا ممکن ہے میں زیادہ کھا جاؤں (اور دوسروں کے واسطے کھانا کم ہوجائے) لنگڑا کہتا تھا ‘ مجھے بیٹھنے کیلئے دو آدمیوں کی جگہ گھیرنا پڑے گی (اس سے دوسروں کو تنگی ہوگی) اس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ مطلب یہ کہ اگر یہ معذور لوگ تندرست لوگوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(61) عبدالرزاق ؒ نے بواسطہ معمر ابن ابی نجیح ؒ مجاہد سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی لنگڑے، اندھے، اور بیمار کو اپنے باپ یا بھائی یا بہن یا پھوپھی یا خالہ کے گھر لے جایا کرتا تھا تو یہ محتاج اس چیز میں تنگی محسوس کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں دوسروں کے گھر لے جایا جاتا ہے تو یہ آیت کریمہ ان کے حق میں اجازت کے طور پر نازل ہوگئی کہ نہ تو اندھے آدمی کے لیے کچھ مضائقہ ہے۔ اور ابن جریر ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ (آیت) ”یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ‘۔ (الخ) نازل فرمائی، اس آیت کو سن کر صحابہ کرام ؓ ڈر گئے اور کہنے لگے کہ کھانا تو اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ۔۔ : بعض مفسرین نے فرمایا، اس آیت کے دو حصے ہیں، ایک شروع سے ”وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ“ تک اور دوسرا ”وَّلَا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ“ سے آخر تک۔ پہلے حصے کا تعلق جہاد سے ہے کہ اندھے، لنگڑے اور بیمار اگر جہاد میں نہ جاسکیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ وہ معذور ہیں۔ سورة فتح کی آیت (17) میں بعینہٖ یہی الفاظ : (لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ) اسی مفہوم کے لیے آئے ہیں اور سورة توبہ کی آیت (91) : (لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى) میں بھی یہی بات بیان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں گیارہ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیس علی الاعمیٰ حرج اس آیت کی تفسیر میں علماء کے مختلف آٹھ اقوال ہیں اور ان میں قریب ترین تین ہیں کیا یہ منسوخ ہے یا ناسخ ہے یا محکم ہے ؟ (1) یہ وللا علی نفسکم سے لے کر آخر تک منسوخ ہے ؛ یہ عبدالرحمن بن زید کا قول ہے۔ فرمایا : یہ چیز ختم ہوچکی ہے، ابتدائے اسلام میں تھی جب کہ ان کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے اور ان کے دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہوتے تھے۔ بعض اوقات کوئی شخص آتا تھا وہ گھر میں داخل ہوتا تھا جب کہ وہ بھوکا ہوتا تھا اور گھر میں کوئی شخص نہیں ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اس گھر سے کھانا جائز قرار دیا تھا پھر گھروں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تاکلو اموالکم بینکم بالباطل (النساء آیت 29) نازل ہوئی تو انصار نے کہا مدینہ میں کھانے سے بڑھ کر کوئی معزز مال نہیں تھا اور وہ نابینا کے ساتھ کھانے سے حرج محسوس کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ وہ کھانے کی جگہ کو نہیں دیکھتا اور وہ لنگڑے کے ساتھ کھانا بھی کھانے کو پسند کرتے وہ کہتے تھے کہ وہ تندرست آدمی کی طرح نہیں کھا سکتا اور وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھروں میں بھی کھانے کو ناپسند کرتے اور وہ کہتے تھے کہ وہ تندرست آدمی کی طرح نہیں کھا سکتا اور وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھروں میں بھی کھانے میں حرج محسوس کرتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَيْسَ [ نہیں ہے ] عَلَي الْاَعْمٰى [ اندھے پر ] حَرَجٌ [ کوئی حرج ] وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ [ اور نہ لنگڑے پر ] حَرَجٌ [ کوئی حرج ہے ] وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ [ اور نہ مریض پر ] حَرَجٌ [ کوئی حرج ہے ] وَّلَا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ [ اور نہ تمہارے اپنے آپ پر ] اَنْ [ کہ ] تَاْكُلُوْا [ تم لوگ کھاؤ] مِنْۢ بُيُوْتِكُمْ [ اپنے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اٰبَاۗىِٕكُمْ [ یا اپنے آباء کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ [ یا اپنی ماؤں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اِخْوَانِكُمْ [ یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ [ یا اپنی بہنوں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اَعْمَامِكُمْ […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں میں کھانے پینے کی اجازت علامہ بغوی (رح) نے معالم التنزیل ص 358 ج 3 میں اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے مختلف اقوال لکھے ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ لنگڑے اور نابینا اور بیمار لوگ تندرست آدمیوں کے ساتھ کھانے سے یہ سمجھتے ہوئے پرہیز کرتے تھے کہ لوگ ہم سے گھن کرتے ہیں اور کہا یہ کہ کوئی شخص یوں سمجھ لے کہ نابینا زیادہ کھا گیا یا یہ کہ لنگڑے کے بارے میں یہ خیال کرنے لگے کہ اس نے دو آدمیوں کی جگہ گھیر لی اس پر آیت بالانازل ہوئی۔ اور حضرت مجاہد نے یوں فرمایا کہ اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے یہاں کھانے کی اجازت دینے کے لیے آیت کا نزول ہوا سبب نزول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم سیزدھم متعلق باہمی اکل وشرب قال اللہ تعالی۔ لیس علی الاعمی حرج۔۔۔ الی۔۔۔ ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں جو احکام بیان کئے گئے وہ آداب معاشرۃ سے متعلق تھے اب آیات میں باہمی اکل وشرب کے آداب کو بیان کرتے ہیں جب حق جل شانہ نے قرآن کریم میں یہ حکم نازل کیا۔ لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل آپس میں ناحق ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ تو مسلمانوں نے احتیاط کی بنا پر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے گھروں کا کھانا کھانا بھی چھوڑ دیا اور خیال کیا کہ بلا ضرورت کسی کے گھر کا کھانا حلال نہیں حتی کہ اندھوں اور لنگڑوں اور بیماروں نے بھی اپنے اعزاء اوراقارب کے گھر جانے میں تنگی محسوس کی اور خیال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

64:۔ ” لیس علی الاعمی الخ “ : یہ تیسرا قانون معاشرت ہے یہاں کھانے کے کچھ آداب کا ذکر کیا گیا ہے نیز اس شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے کہ پہلے دوسروں کے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا گیا تو اس سے یہ شبہ ہوتا تھا کہ شاید یہ ممانعت مطلق ہو اور ہر حال میں منع ہو تو فرمایا دعوت طعام ہو تو جانا منع نہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ معذور لوگ تندرست لوگوں کے ساتھ مل کر کھانے ہچکچاتے تھے کہ مبادا وہ ان سے نفر کریں اور انہیں تکلیف ہو۔ نیز بعض معذورین نابینا لنگڑے اور مریض وغیرہ اپنے بےتکلف دوستوں کے پاس جاتے تاکہ ان کے یہاں کچھ کھانے کو مل جائے مگر دوست کے گھر کھانے کی کوئی چیز موجود نہ ہوئی تو وہ انہیں لے کر اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : گزشتہ درس میں پردے کے احکام بیان ہوئے تھے اور اس ضمن میں دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا کہ غلام اور نابالغ بچے بھی تین اوقات میں بلا اجازت خلوت میں دخل اندازی نہ کریں۔ یہ اوقات قبل از نماز فجر ، دوپہر بوقت آرام اور بعد نماز عشاء ہیں۔ اللہ نے یہ احکام بھی نازل فرمائے کہ جب بچے سن بلوغت کو پہنچ جائیں تو پھر کسی بھی وقت وہ بلا اجازت نہ آیا کریں۔ فرمایا کہ عمر رسیدہ عورتیں اگر چاہیں تو اپنے غیر ضروری کپڑے اتارسکتی ہیں بشرطیکہ بنائو سنگھار کا اظہار مقصود نہ ہو۔ البتہ اگر وہ بھی پردے کا پورا پورا خیال رکھیں تو یہ ان کے لئے زیادہ اچھا ہے۔ اب آج کی آیت میں کھانے سے متعلق استیذان کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُيُوْتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اٰبَاۗىِٕكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اُمَّہٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَہٗٓ اَوْ صَدِيْقِكُمْ۝ 0ۭ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْـتَاتًا۝ 0ۭ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ تَحِيَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللہِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : : تحیۃً مصدر من معنی سلمولان سلم وحیا بمعنی من عند اللہ ظرف مستقرصفۃ التحیہ۔ تفسیر : اجازت اور گھروں میں جانے کا ذکر آیا تھا اس لیے اس کے بعد باہم مواکلت اور مشاربت کے مسئلہ کو بھی طے فرما دیا بقولہ العظیم لیس علی الاعمیٰ حرج الخ عبدالرزاق نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں یہ دستور تھا کہ کسی اندھے یا لنگڑے یا بیمار کو کھانا کھلانے کے لیے اپنے باپ وغیرہ اقارب مذکورہ فی ال آیت کے گھر لے جا کر کھانا کھلا دیا کرتے تھے مگر وہ لوگ اپنے تقویٰ و دیانت سے اس میں تردد کرتے تھے کہ ہم کو بیگانہ گھروں میں لے جا کر کھانا کھاتے ہیں۔ یہ آیت نازل ہوئی کہ اس کا کچھ مضائقہ نہیں یعنی درست ہے اکثر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّلاَ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ م بُیُوْتِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اٰبَـآئِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اُمَّھٰـتِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اَخَوٰ تِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْبُیُوْتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْبُیُوْتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْمَا مَلَکْتُمْ مَّفَا تِحَہٗٓ اَوْ صَدِیْقِکُمْ ط لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْاَشْتَاتًا ط فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدَاللّٰہِ مُبٰـرَکَۃً…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : معاشرتی آداب اور مسائل کا ذکر جاری ہے۔ اسلامی آداب نازل ہونے سے پہلے عرب معاشرے میں یہ رواج تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے گھر بغیر اجازت کے آتے جاتے اور بلا تکلف کھاتے پیتے تھے۔ قرآن مجید میں جب معاشرتی آداب کے احکام نازل ہوئے تو لوگوں نے محسوس کیا کہ جس طرح ہمارا ایک دوسرے کے گھر بلا اجازت جانا جائز نہیں۔ اسی طرح ہم اپنے عزیزو اقرباء کے گھر سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔ اس خدشہ کو دور کرنے اور حقیقت حال کی وضاحت کے لیے یہ فرمان نازل ہوا کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اندھے، لنگڑے، مریض اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤ پیؤ۔ خاص کر اپنے والدین، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 6: لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ (اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ مریض پر کوئی تنگی ہے) ۔ معذورین کا حکم : قول سعید بن مسیب (رح) ہے کہ مسلمان جب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوات میں نکلتے تو اپنی چابیاں نابینائوں، مریضوں اور لنگڑوں اور اپنے اقارب کو دے جاتے اور ان کو اپنے گھروں سے کھانے پینے کی اجازت دے جاتے۔ مگر یہ لوگ اس بات میں تنگدلی محسوس کرتے کہ شاید انہوں نے دل سے اجازت نہ دی ہو۔ پس یہ آیت اتری اور ان کی رخصت کا ذکر فرمایا۔ بلا تکلف کھانے کے مقامات : وَّلَا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ (اور نہ تمہارے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

61۔ لیس علی الاعمی حرج ولاعلی الاعرج حرج ولاعلی المریض حرج، ، علماء نے اس آیت کی تفسیر کے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ لیس علی الاعمی کی مختلف تفاسیر۔ حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ جب یہ آیت ، یا ایھا الذین امنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ، نازل ہوئی توبیماروں ، لنگڑوں اور اندھوں کے ساتھ کھانے سے مسلمانوں پر دشواری آپڑی تو مسلمانوں نے کہا کہ کھاناتوہرمال سے اونچادرجہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے خلاف حق کھانے سے منع کیا ہے۔ نابینا آدمی، توعمدہ کھانے کو دیکھ ہی نہیں سکتا، اور لنگڑا ٹھیک طور پر بیٹھ نہیں سکتا، اور مزاحمت نہیں کرسکتا اور بیمار توکھانا اٹھانے سے ویسے ہی کمزور ہوتا ہے۔ اس پر یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

61:۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے لیکن صحیح 2 ؎ قول یہ ہے کہ جب سورة بقرہ میں یہ حکم نازل ہوا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال بلاوجہ نہ کھاوے تو مسلمان طرح طرح کی احتیاط ضرورت شرعی سے زیادہ کرتے تھے مثلا جب تندرست مسلمان لڑائی پر جاتے تھے تو اندھے ‘ لنگڑے ‘ اپاہج مسلمان لوگوں کو وہ تندرست مسلمان حفاظت اور جو کسی کے لیے اپنے گھر پر مقرر کردیتے تھے ‘ یہ اپاہج لوگ ان تندرستوں کے پیچھے ان تندرستوں کے کھانے پینے کی چیز کو بھی ہاتھ لگانے اور کام میں لانے کو منع سمجھتے تھے۔ اسی طرح تندرست لوگ اندھے اور بیمار لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے کو اس خیال سے منع جانتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر 61 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی عنایات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ان کو دین کے معاملے میں کسی حرج میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس نے دین کو بےحد آسان کردیا ہے، چناچہ فرمایا : (لیس علی الاعمیٰ حرج ولا علی الاعراج حرج ولا علی المریض حرج) ، ، اندھے پر، لنگڑے پر، اور مریض پر کوئی حرج نہیں۔ ، ، یعنی ان لوگوں پر، ان امور واجبہ کو ترک کرنے میں جن کا دارو مدار ان میں سے کسی ایک پر ہوتا ہے مثلاً جہاد وغیرہ جن کا دارو مدار بصارت، لنگڑے پن سے صحیح ہونا یا مریض کی صحت پر ہے اس عام معنی ہی کی وجہ سے، جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، اس میں کلام مطلق کیا گیا ہے اور اس کو مقید نہیں فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

نابینائوں سے پردے کی کیفیت قول باری ہے : (لیس علی الاعمی حرج) ندھے کے لئے کوئی حرج نہیں۔ تاآخر آیت ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کے سبب نزول اور اس کی تاویل میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی ، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے ، انہیں ابوعبیدہ نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری (لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج ) اندھے کے لئے کوئی حرج نہیں ہے، لنگڑے کے لئے کوئی حرج نہیں اور مریض کے لئے کوئی حرج نہیں کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ جب آیت (ولا تاکلوا اموالکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

130 معذوروں کے لیے رخصت و رعایت کا ذکر و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اندھے، لنگڑے اور بیمار پر کوئی حرج نہیں "۔ اس بات میں کہ وہ صحت مند لوگوں کے ساتھ مل کر کھائیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ۔ { وَلا تَأکُلُوْا اَمْوالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ } ۔ (البقرۃ : 188) نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے ان معذور حضرات کے ساتھ مل کر کھانے میں حرج محسوس کیا۔ کہ اس طرح کہیں ان معذوروں کا حق نہ مارا جائے کہ اندھا بیچارا اپنی معذوری کی بناء پر دیکھ نہیں سکتا۔ لنگڑا اپنے عذر کی بنا پر حسب رغبت ہاتھ بڑھا کر اپنی مرغوب چیز لے نہیں سکتا۔ اور مریض اپنی بیماری کے باعث پورا کھا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–61

اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 58–61

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف اور اسلامی معاشرہ تو ایک پاکیزہ معاشرہ ہے جسے باطل قوتیں دبا نہیں سکتیں مگر اس کی پاکیزگی اور اس کی قوت کو قائم رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے جیسے پہلے گھر آنے کے لیے آداب اور اجازت لینے کی تعلیم دی گئی تو یہاں گھر کے اندر رہنے والوں کے لیے ارشاد ہوتا ہے تمہارے لونڈی غلام نوکر چاکر اور چھوٹے بچے بھی اگر گھر کے کسی فرد کے کمرے میں جانا چاہیں تو تین اوقات ضرور اجازت لے کر جائیں ، صلوۃ فجر سے پہلے یا جب تم لوگ دوپہر کو آرام کرتے ہو اور زائد لباس وغیرہ اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد کہ یہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی بےتکلفی سے آرام کر رہا ہوتا ہے اور اپنے کمرے کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی جن کے مالکوں نے تمہیں اس میں تصرف کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں :” جب سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی : یایھا الذین امنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ! اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقے سے نہ کھایا کرو) تو مسلمان ایک دوسرے کے ہاں سے کھانا کھانے میں بھی سخت احتیاط برتنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں رخصت دی گئی۔ بعض دوسری روایات میں ہے کہ جب مسلمان کسی جنگ کے لئے روانہ ہوتے تو اپنے گھروں کی کنجیاں پیچھے رہنے والے معذوروں کے حوالے کردیتے اور ان سے کہتے کہ تمہیں گھروں سے کھانے کی اجازت ہے لیکن وہ اس میں تنگی محسوس کرتے اور کہتے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:61) حرج۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ۔ علی۔ یہاں بمعنی فی استعمال ہوا ہے۔ یعنی اندھوں اور لنگڑوں وغیرہ کے باب میں تم پر کوئی الزام نہیں ہے نہ ان پر۔ الاعمی اندھا ۔ نابینا۔ عمی یعمی۔ اندھا ہونا۔ جاہل ہونا۔ عمی یعمی (سمع) سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے الاعرج۔ عرج یعرج (فتح) عرج یعرج (سمع) لنگڑانا سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ من بیوتکم میں من بمعنی فی ہے اوما ملکتم مفاتحہ۔ یا جن گھروں کی کنجیوں کے تم مالک ہو یعنی تمہارے اختیار میں ہوں۔ اشتاتا۔ الگ الگ ۔ جدا جدا۔ شت اور شتات کی جمع اس کے معنی پراگندہ اور متفرق کے بھی ہیں۔ جیسے شت جمعہم شتاو شتاتا۔ ان کی جمیعت متفرق ہوگئی۔ علی انفسکم۔ اپنوں پر۔ اپنوں کو۔ ای علی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر 61 : الاعمی (اندھے) ‘ حرج (گناہ۔ دل کی گھٹن) ‘ الاعرج (لنگڑا) ‘ ان تأ کلوا ( یہ کہ تم کھائو) امھات ( ام) (مائیں) ‘ اخوان (اخ) (بھائی) ‘ اخوات (اخت) بہنیں ‘ اعمام (عم) چچا ‘ عمات (عمۃ) پھوپیاں ‘ اخوال (خال) ماموں ‘ خالات (خالۃ) خالائیں ‘ ملکتم (تم مالک ہوئے) ‘ مفاتح (مفتاح) چابیاں ‘ صدیق (دوست) ‘ اشتات (الگ الگ) ‘ سلموا (سلام بھیجو) ‘ تحیۃ (دعا ۔ عبادت) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 61 : زندگی کی خوش گواری آپس کے میل جول اور تعلقات میں اصولوں کے تحت جتنی سادگی ہوگی زندگی اور اس کے معاملات میں اسی قدر لطف اور کیف پیدا ہوگا۔ ۔ نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے وقت عرب معاشرہ بہت زیادہ سادہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

آپس میں کھانا کھانے کی اجازت۔ (ف 1) شان نزول : جب سورة بقرہ میں یہ حکم نازل ہوا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال بلاوجہ نہ کھاوے۔ تو مسلمان طرح طرح کی احتیاط ضرورت شرعیہ سے زیادہ کرتے تھے جب مثلا تندرست مسلمان لڑائی پر جاتے تواندھے لنگڑے اپاہج مسلمان لوگوں کو حفاظت کے لیے اپنے گھر پر مقرر کردیتے تھے یہ اپاہج لوگ ان کے کھانے پینے کی چیز کو بھی ہاتھ نہیں لگاتے اور کام میں بھی نہیں لگاتے تھے اس طرح تندرست لوگ اندھے اور بیمار لگوں کے ساتھ کھاناکھانے کو اس خیال سے ناجائز جانتے تھے کہ بیماری بوجہ بیماری کے کم کھاتا ہے اور ساتھ والا اس کا کھانا زیادہ کھاکر گناہ میں نہ پھنسے۔ اندھے کا خیال کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–64

[63] مطلب یہ ہے کہ معذور و محتاج لوگوں کو تندرستوں کے ساتھ کھانے میں کچھ حرج نہیں۔ جاہلیت میں اس قسم کے محتاج و معذور آدمی اغنیاء اور تندرستوں کے ساتھ کھانے سے رکتے تھے۔ انھیں خیال گزرتا تھا کہ شاید لوگوں کو ہمارے ساتھ کھانے سے نفرت ہو اور ہماری بعض حرکات سے ایذا پہنچتی ہو۔ اور واقعی بعضوں کو نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ نیز بعض مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسے معذوروں اور مریضوں کے ساتھ کھانے میں شاید اصول عدل و مساوات قائم نہ رہ سکے۔ اسی بناء پر ساتھ کھلانے میں احتیاط کرتے تھے کہ حق تلفی نہ ہو۔ دوسری ایک اور صورت پیش آتی تھی کہ یہ معذور محتاج لوگ کسی کے پاس گئے۔ وہ شخص استطاعت نہ رکھتا تھا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

آداب طعام : (ف 1) بات یہ تھی کہ بعض لوگ دوسرے کے ہاں کھانا کھانے سے بربنائے خودداری پرہیز کرتے تھے ، یا ان کا یہ خیال تھا کہ شاید اس طرح بےتکلفی سے دوسرے کے ہاں کھانے سے تقوی ودیانت کی خلاف ورزی ہوگی ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ہاں کھانے پینے میں کوئی ہرج نہیں ، (آیت) ” لیس علی الاعمی حرج “۔ الخ مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ چونکہ اس قابل نہیں ہوتے کہ آزادی کے ساتھ کسی کے ساتھ شریک طعام ہو سکیں ، اس لئے ان کو کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں تکلف ہونا تھا ، قرآن حکیم کہتا ہے ، ان لوگوں کے ساتھ کھانا جو اپنے اور قریبی ہیں ، برا نہیں ، اور شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ، یا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(61) اس بارے میں نہ اندھے آدمی پر کوئی مضائقہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ بیمار پر کوئی مضائقہ ہے اور نہ خود تم پر اس بارے میں کوئی تنگی ہے کہ تم لوگ خود یا تم اور یہ سب معذورین اپنے گھروں میں سے کچھ کھانا کھائیں یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالیا کرو اور تم پر اس بارے میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ سب مل کر کھائو یا الگ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اوپر بہت سے اور امر و نواہی ارشاد فرمائے، آگے ایک حکم خاص مناسب اس وقت کے ارشاد فرماتے ہیں جس سے رسول اللہ ﷺ کی غایت اطاعت کا وجوب ثابت ہوتا ہے، جو کہ موکد ہے جمیع اوامرو نواہی مذکورہ کا، بلکہ جمیع سعادات دنیویہ و اخرویہ ظاہرہ و باطنہ کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن گھروں میں کھانا کھانے کی اجازت عام دی گئی ہے ان پر مزید ایک نگاہ ڈال لیں : 99۔ ان گھروں کی پوری فہرست پر ایک نظر ڈال لو ظاہر ہے کہ اپنے گھروں سے مراد وہی گھر ہیں جن گھروں کی ذمہ داری تمہارے اپنے کندھوں پر ہے اور اپنی اولاد گھر بھی ظاہر ہے کہ اس ضمن میں آتے ہیں باپ دادوں ‘ ماؤں ‘ بھائیوں اور بہنوں کے گھروں میں اپنے چچوں ‘ پھوپھیوں ‘ ماموؤں اور خالاؤں کے گھروں میں جا کر کھانا پکانے والیاں ‘ کھانے کھلانے والیاں اور کھانے کھانے والوں میں کیسا کیسا رشتہ بنتا ہے اور کتنا قرب یہاں موجود ہے ایک ایک بات کو نگاہ میں رکھو اور یہ بھی کہ اگر تم وہاں سے کھا رہے تو عین ممکن ہے کہ تمہاری اولاد بھی تمہارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Some injunctions and social etiquettes after the entry in the house In the previous verses it was enjoined to seek permission before entering into anyone's house. In the above verse those injunctions and etiquettes are pronounced which are obligatory or preferable to follow after the permission to enter the house is granted. Before understanding the injunction contained in this verse and its purport it would be advisable to know the background in which this verse was revealed. Every Muslim knows very well how much emphasis is laid by the Holy Qur'an and the teachings of the Holy…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

95. Three things are necessary to understand this verse: (a) The verse consists of two parts: the first part relates to the sick, the lame, the blind and other handicapped people, and the second part to the other People. (b) The moral teachings of the Quran had so thoroughly changed the Arab mind that they had become highly sensitive with regard to the distinction between the lawful and the unlawful. According to Ibn Abbas, when Allah commanded them“not to devour one another's property by unlawful ways”(Surah An-Nisa, Ayat 29), the people became unduly cautious and would not eat freely at…

Read the full tafseer →