An-Noor 24:60

An-Noor · from ayah 60

24:60

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ بِزِیْنَةٍ ؕ— وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ ؕ— وَاللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟وَالۡـقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِىۡ لَا يَرۡجُوۡنَ نِكَاحًا فَلَيۡسَ عَلَيۡهِنَّ جُنَاحٌ اَنۡ يَّضَعۡنَ ثِيَابَهُنَّ غَيۡرَ مُتَبَـرِّجٰتٍ ۭ بِزِيۡنَةٍ‌ ؕ وَاَنۡ يَّسۡتَعۡفِفۡنَ خَيۡرٌ لَّهُنَّ‌ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And women of post-menstrual age who have no desire for marriage - there is no blame upon them for putting aside their outer garments [but] not displaying adornment. But to modestly refrain [from that] is better for them. And Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 8 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:60

اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اُن کے حق میں اچھا ہے، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اور خواہش ہی) نہ رہی ہو وه اگر اپنے کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناه نہیں بشرطیکہ وه اپنا بناؤ سنگھار ﻇاہر کرنے والیاں نہ ہوں، تاہم اگر ان سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے بہت افضل ہے، اور اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن بڑی بوڑھی عورتوں کو نکاح کی کوئی توقع نہ رہی ہو، ان کے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے، (مثلا چادریں، نامحرموں کے سامنے) اتار کر رکھ دیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش نہ کریں اور اگر وہ احتیاط ہی رکھیں تو ان کے لیے اور زیادہ بہتر ہے۔ اور اللہ سب کچھ سنتا، ہر بات جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اتار رکھیں جب کہ سنگھار نہ چمکائیں اور ان سے بھی بچنا ان کے لیے اور بہتر ہے، ور اللہ سنتا جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں (اب) نکاح کی خواہش نہیں رہی ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے (اوپر سے ڈھانپنے والے اضافی) کپڑے اتار لیں بشرطیکہ وہ (بھی) اپنی آرائش کو ظاہر کرنے والی نہ بنیں، اور اگر وہ (مزید) پرہیزگاری اختیار کریں (یعنی زائد اوڑھنے والے کپڑے بھی نہ اتاریں) تو ان کے لئے بہتر ہے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور عورتوں میں سے بیٹھ رہنے والیاں، جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں سو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار دیں، جب کہ وہ کسی قسم کی زینت ظاہر کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ (اس سے بھی) بچیں ان کے لیے زیادہ اچھی ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں اور نکاح کی توقع نہ رکھتی ہوں وہ اگر اپنی چادریں اتار کر (ننگا سر) رہا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ زیب وزینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم اگر وہ (چادر اتارنے سے) پرہیز ہی کریں تو یہی بات ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ سب کچھ سنتا، جانتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور عورتوں میں سے بڑی بوڑھیاں ج واب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، اگر اپنے دوپٹے اتاریں تو اس میں کوئی ہرج نہیں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ وہ بھی احتیاط کریں ان کے لئے بہتر ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ خانہ نشیں بوڑھی عورتیں جو کو نکاح کی کوئی امید باقی نہ رہی ہو ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتار کر رکھ دیں بشرطیکہ وہ کسی زینت کی نماز کرنے والی نہ ہوں، اور اس رخصت کے باوجود اگر وہ بھی بچ کر رہیں تو یہ ان کے حق میں بہرحال بہتر ہے اور اللہ ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور بڑی بوڑھیاں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو۔ ان کو کوئی گناہ نہیں (اس بات میں) کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتار رکھیں۔ (بشرطیکہ) زینت کو دکھلانے والیاں نہ ہوں۔ اور اگر (اس سے بھی) احتیاط رکھیں تو ان کے حق میں اور بہتر ہے۔ اور اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (گھروں میں) بیٹھ رہنے والی عورتیں جو اب نکاح کی امیدوار نہ ہوں تو ان پر کوئی حرج نہیں اگر وہ اپنے (اضافی) کپڑے اتار دیا کریں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں اور اگر وہ اس معاملے میں احتیاط ہی کریں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ اور اللہ سب کچھ سننے والا ہرچیز کا جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں یہ نہیں کہ اپنا سنگھار دکھاتی پھریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ (سب باتیں) سنتا (سب اعمال) جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There is no sin for such elderly women as are past the age of marriage, if they lay aside their outer graments provided that they do not mean to display their adornment. Nevertheless, if they behave modestly, it would be better for them: for Allah hears everything and knows everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those old women who have no hope for marriage, there is no sin on them, if they take off their (extra) clothes while they do not display their adornment. Still, that they refrain (even from this) is better for them. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

And those old women who have no hope for marriage, there is no sin on them, if they take off their (extra) clothes while they do not display their adornment. Still, that they refrain (even from this) is better for them. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Qawa`id among women who do not hope for marriage, it is no sin on them if they discard their (outer) clothing in such a way as not to show their adornment. But to refrain is better for them. And Allah is All-Hearer, All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As for women past child-bearing, who have no hope of marriage, it is no sin for them if they discard their (outer) clothing in such a way as not to show adornment. But to refrain is better for them. Allah is Hearer, Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And women of post-menstrual age who have no desire for marriage - there is no blame upon them for putting aside their outer garments [but] not displaying adornment. But to modestly refrain [from that] is better for them. And Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Elderly women who have no hope of getting married are allowed not to wear the kind of clothing that young woman must wear, as long as they do not show off their beauty. It is better for them if they maintain chastity. God is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

And (as for) women advanced in years who do not hope for a marriage, it is no sin for them if they put off their clothes without displaying their ornaments; and if they restrain themselves it is better for them; and Allah is Hearing, Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

And past child-bearing women who have no hope of wedlock-- upon them it is no fault that they lay aside their outer garments, not flaunting their adornment. And that they should restrain themselves is better for them; Allah is Hearing, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

Such elderly women as are past the prospect of marriage,- there is no blame on them if they lay aside their (outer) garments, provided they make not a wanton display of their beauty: but it is best for them to be modest: and Allah is One Who sees and knows all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 58–60

گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لئے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لئے عموما اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔ پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بےفکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے ؟ اس لئے گھر کے لونڈی غلام اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النُّوْر 94 اصل الفاظ ہیں غیر مُتَبَرِّجٰتٍ بِزِیْنَۃٍ ، " زینت کے ساتھ تبرُّج کرنے والی نہ ہوں "۔ تَبَرُّج کے معنی ہیں اظہار و نمائش کے۔ بارج اس کھلی کشتی یا جہاز کو کہتے ہیں جس پر چھت نہ ہو۔ اسی معنی میں عورت کے لیے یہ لفظ اس وقت بولتے ہیں جبکہ وہ مردوں کے سامنے اپنے حسن اور اپنی آرائش کا اظہار کرے۔ تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ چادر اتار دینے کی یہ اجازت ان بوڑھی عورتوں کو دی جا رہی ہے جن کے اندر بن ٹھن کر رہنے کا شوق باقی نہ رہا ہو اور جن کے صنفی جذبات سرد پڑچکے ہوں۔ لیکن اگر اس آگ میں کوئی چنگاری ابھی باقی ہو اور وہ نمائش زینت کی شکل اختیار کر رہی ہو تو پھر اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

عورتوں کے احکام پردہ کی تاکید اور اس میں سے ایک اور استثناء اس سے پہلے عورتوں کے حجاب اور پردہ کے احکام دو آیتوں میں مفصل آ چکے ہیں اور ان میں دو استثناء بھی ذکر کئے گئے۔ ایک استثناء، ناظر یعنی دیکھنے والے کے اعتبار سے، دوسرا استثناء منظور یعنی جس کو دیکھا جائے اس کے اعتبار سے۔ ناظر کے اعتبار سے تو محارم کو اور اپنی مملوکہ کنیزوں نابالغ بچوں کو مستثنی کیا گیا تھا اور منظور یعنی جس چیز کو نظروں سے چھپانا مقصود ہے اس کے اعتبار سے زینت ظاہرہ کو مستثنی کیا گیا جس میں اوپر کے کپڑے برقع یا بڑی چادر باتفاق مراد ہیں اور بعض کے نزدیک عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں بھی اس استثناء میں داخل ہیں۔ یہاں اگلی آیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بوڑھی عورتوں کے لئے ایک رخصت یہ آیت بھی توضیحی آیات میں سے ہے۔ پیچھے آیت 31 میں عورتوں کو گھرکے اندر کسی غیر محرم کی موجودگی میں، جو ہدایات دی گی ہیں ان میں یہ ہدایت بھی ہے ولیضربن بخموھن علی جیوبھن وہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل سے اپنے گریبان ڈھانک لیا کریں۔ اس حکم عام سے یہاں ان عورتوں کو متثنٰی کردیا جواب نکاح کے عمر سے گزر چکی ہیں۔ یعنی اگر وہ اوھڑنیوں کا یہ اہتمام نہ کریں تو اس میں چنداں ہرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ اگرچہ پسندیدہ بات ان کے لئے بھی یہی ہے کہ وہ بھی احتیاط کو ملحوظ رکھیں جو دوسری عورتوں کے لئے بیان ہوئی ہے۔ بڑی بوڑھیوں کے لئے یہ رعایت ان کی آسانی کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 60–61

60-1ان سے مراد وہ بوڑھی اور راز کار رفتہ عورتیں ہیں جن کو حیض آنا بند ہوگیا ہو اور ولادت کے قابل نہ رہی ہوں اس عمر میں بالعموم عورت کے اندر مرد کے لئے فطری طور پر جو جنسی کشش ہوتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے نہ وہ کسی مرد سے نکاح کی خواہش مند ہوتی ہیں، نہ مرد ہی ان کے لئے ایسے جذبات رکھتے ہیں۔ ایسی عورتوں کو پردے میں تخفیف کی اجازت دے دی گئی ہے ' کپڑے اتار دیں سے مراد جو شلوار قمیض کے اوپر عورت پردے کے لئے بڑی چادر یا برقعہ وغیرہ کی شکل میں لیتی ہے بشرطیکہ مقصد اپنی زینت اور بناؤ سنگھار کا اظہار نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی عورت اپنی جنسی کشش کھو جانے کے باوجود اگر بناؤ سنگھار کے ذریعے سے ' اپنی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

43: یہ ان بوڑھی عورتوں کا حکم ہے جن کی طرف نہ کسی کو رغبت ہوتی ہے، نہ وہ نکاح کے قابل ہوتی ہیں، ان کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ عام عورتیں غیر محرم مردوں کے سامنے جانے کے لئے جو چادر یا برقع وغیرہ استعمال کرتی ہیں، یہ بوڑھی عورتیں ان کے بغیر بھی نامحرم مردوں کے سامنے جاسکتی ہیں، بشرطیکہ بن سنور کر اور سنگھار کرکے نہ جائیں، اس سہولت کے ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ ان کے لئے بھی احتیاط اس میں ہے کہ وہ بھی دوسری عورتوں کی طرح پردہ کریں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(والقواعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمیع علیم ) (60) یہ عورتیں جو جوانی گزار بیٹھی ہیں ‘ یہ اگر اپنے خارجی کپڑے اتار دیں تو ان کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں ان پر بھی لازمی ہے کہ وہ اپنی عورات کو ظاہر نہ کریں اور نہ اپنی زینت کو ظاہر کریں۔ تاہم ان کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ ڈھکی چھپی رہیں اور اپنے کشادہ کپڑے اوڑھے رہیں۔ اس کو زیادہ عفت مآبی سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی عفت اور پاکیزگی کے لیے زیادہ قابل ترجیح امر ہے۔ کیونکہ تبرج اور اظہار زینت اور جنسی فتنے کے درمیان گہرا تعلق ہے اور حجاب اور پردے اور عفت و پاکیزگی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ یہ ہے اسلامی نظریہ پاکیزگی اور عفت۔ خلاصہ یہ کہ اسلام ان امور کو پردے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بوڑھی عورتیں گھر میں تھوڑے کپڑوں میں رہیں تو درست ہے اور پورا پردہ رکھیں تو اور بہتر " اور گھر سے باہر نکلتے وقت بھی زائد کپڑے مثلاً برقع وغیرہ اتار دیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ بشرطیکہ اس زینت کا اظہار نہ ہو جس کے چھپانے کا حکم آیت (وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ ) 24 ۔ النور :31) میں دیا جا چکا ہے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ جوان عورتوں کے تستر کے متعلق قرآن کریم کا منشاء کیا ہے۔5۔ یعنی یہ تو فتنہ کی روک تھام کے ظاہری انتظامات ہیں باقی پردہ کے اندر جو باتیں کی جاتی ہیں اور فتنے اٹھائے جاتے ہیں یاد رہے کہ خدا تعالیٰ ان سب کو سنتا اور جانتا ہے۔ اسی کے موافق ہر ایک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 60 وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا ” جن عورتوں کی نکاح کرنے کی عمر نہ رہی ہو اور وہ معمر ہوچکی ہوں۔ فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ ” یعنی ایسی عورتوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ بڑی چادر ہی اوڑھ کر گھر سے باہر نکلیں۔ اسی طرح گھر کے اندر بیٹھے ہوئے ان پر جوان عورتوں کی طرح ہر وقت دوپٹے اوڑھے رکھنے کی پابندی نہیں ہے۔ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍم بِزِیْنَۃٍط ” اپنی چادریں اتار کر رکھ دینے سے ان کی نیت دوسروں پر اپنی زینت ظاہر کرنے کی نہ ہو اور نہ وہ بظاہر ایسا کریں۔ وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّہُنَّط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ” ان کے سن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 قواعد کا لفظ قاعدہ اور قعیدہ دونوں کی جمع ہے۔۔ قاعدہ بمعنی بنیاد اور قواعد بمعنی بنیادیں بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ (2: 127) اور قعد کے معنی بیٹھنا بھی، بیٹھ رہنا اور کوئی کام نہ کرنا بھی اور کسی کام کے لئے تیار ہو بیٹھنا بھی ہے۔ اور قیدہ کا دوسرے معنی سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی ایسی عورتیں جو ازدواجی زندگی کے کام کاج سے فارغ ہوچکی ہوں۔ یعنی سن یاس کو پہنچ چکی ہوں اور اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ رہی ہوں اور جن کی جنسی خواہشات مرچکی ہوں اور اگر کوئی مرد انھیں دیکھے تو اس کے صنفی جذبات میں تحریک پیدا نہ ہو یعنی بوڑھی کھوسٹ عورتیں۔ 91 یہاں ثِیَابَھُنَّ کا لفظ استعمال ہوا ہے تو اس کا یہ مطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

124۔ یعنی وہ اس سن کو پہنچ گئی ہوں کہ اب اصلامحل رغبت نہ رہیں۔ اور ان کی بےپردگی سے احتمال فتنہ کا نہ باقی رہے۔ (آیت) ” القواعد من النسآء “۔ کے لفظی معنی ہیں خانہ نشین عورتیں۔ 125۔ یعنی نامحرم کے روبرو اس ہئیت سے آجائیں کہ ان کے جسم پر چادر وغیرہ لپٹی نہ ہو۔ یعنی بہ الرداء والمقنعۃ التی فوق الخمار وھو قول ابن مسعود (ابن العربی) 126۔ یہ قید یہاں بھی لگی ہوتی ہے۔ قدرتی یا مصنوعی سنگار کے موقعوں کو نامحرموں کے سامنے بےپردہ لانا اس سن کی بوڑھیوں کے لیے بھی جائز نہیں، جو حد نکاح سے گزر چکی ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ جوان جہان عورتوں کو اپنے جسم کے اخفاء کے باب میں کتنا اہمتام چاہیے۔ یہاں تک کہ چہرہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–61

آیت نمبر 58 تا 61 ترجمہ : اے ایمان والو تمہارے مملوکوں کو یعنی غلام اور باندیوں کو اور ان کو جو تم میں سے حد بلوغ کو نہیں پہنچے آزادوں میں سے، مگر عورتوں کے معاملہ سے واقف ہوگئے ہیں تین مرتبہ یعنی تین اوقات میں اجازت لینی چاہیے، صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر میں یعنی دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور نماز عشاء کے بعد یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں (ثلٰثُ ) کے رفع کے ساتھ اس وجہ سے کہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور مبتداء کے بعد مضاف محذوف ہے، اور مضاف الیہ مضاف کے قائم مقام ہوگیا ہے، ایھی اوقات ثلٰثِ عورتٍ لکم اور (ثلٰث) نصب کے ساتھ، اس کے قبل اوقات کو مقدر مان کر حال یہ ہے کہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والقواعد من النسآء التی لا یرجون نکاح فلیس علیہن جناح ان یضعن ثیابہن غیر متبرجت بزینۃ اور بڑی بوڑھی عورتیں جن کو (کسی کے) نکاح (میں آنے) کی کچھ امید نہ رہی ہو ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت (کے مواقع) کا اظہار نہ کریں۔ اَلْقَوَاعِدُ القاعد کی جمع ہے وہ عورتیں مراد ہیں جو حاملہ ہونے اور حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہوں چونکہ حمل اور حیض سے انقطاع کی صفت عورتوں ہی کے لئے مخصوص ہے مردوں سے اشتباہ بھی نہیں ہے اس لئے حامل اور حائض کی طرح عورت کے لئے لفظ قاعد (بجائے قاعدۃ کے) عربی میں مستعمل ہے۔ اَلّٰتِیْ لاَ یَرْجُوْنَ نِکَاحًا یعنی وہ عورتیں جو بڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(60) جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (آیت) ”لیس علی الاعمی“۔ تو صحابہ کرام ؓ اس آیت کے نزول کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ کھانے پینے میں تنگی محسوس کرنے لگے تھے کہ مبادا کسی کی حق تلفی ہوجائے اور اس سے ڈرنے لگے تھے بالخصوص محتاجوں کے ساتھ کھانے پینے میں اللہ تعالیٰ نے مشترک طریقہ پرکھانے پینے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ چناچہ ارشاد فرمایا اندھے کے ساتھ بیٹھ کر کھانے والے پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں اور نہ لنگڑے آدمی کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج ہے اور بیمار کے ساتھ کھانے میں اور نہ خود تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج ہے کہ تم لوگ اپنی اولاد کے گھروں سے بغیر اجازت کے عدل و انصاف کے ساتھ کھانا کھالو یا اپنے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا۔۔ : بچوں کو بالغ ہونے کے بعد اجازت طلب کرنے کی پابندی کے ذکر کے بعد عورتوں کے سن یاس کو پہنچنے کے بعد ان کے لیے پردے کی پابندی میں تخفیف کا حکم بیان فرمایا۔ ”الْقَوَاعِدُ“ ”قَاعِدٌ“ کی جمع ہے، جو مذکر کا صیغہ ہونے کے باوجود عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ ”حَاءِضٌ“ اور ”حَامِلٌ“ ہے، یعنی وہ عورتیں جو بڑی عمر کو پہنچ جائیں، انھیں نکاح کی رغبت نہ رہے، نہ دوسروں کو ان سے نکاح کی دلچسپی رہے، ان کے لیے رعایت ہے کہ وہ غیر محرم مردوں سے پردہ نہ کریں تو ان پر گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ اپنی زینت کا اظہار کرنے والی نہ ہوں۔ اس سے معلوم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وَالْقَوَاعِدُ (اور بڑی بوڑھی عورتیں) یہ قاعد کی جمع ہے۔ یہ عورت کی مخصوص صفات میں سے ہے جیسے طالق اور خالص۔ مراد یہ ہے وہ عورتیں جو اولاد اور حیض سے زیادتی عمر کی وجہ سے بیٹھ جائیں۔ مِنَ النِّسَآئِ (عورتوں میں سے) ۔ الَّتِیْ لَایَرْجُوْنَ نِکَاحًا (وہ عورتیں جو نکاح کی طمع نہ رکھتی ہوں) یہ محل رفع میں القواعد مبتدأ کی صفت ہے اور خبر فلیس علیہن جناح ہے۔ فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ (پس ان پر کوئی گناہ نہیں ) الف لام کی وجہ سے مبتدأ میں شرط کا معنی پایا جاتا تھا اس لئے شرط پر فاءؔ لائی گئی۔ اَنْ یَّضَعْنَکہ وہ (اپنے زائد کپڑے) اتار دیں اس بات میں کہ وہ اپنے زائدکپڑے اتار دیں۔ ثِیَابَھُنَّ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابو داؤد والبیہقی فی السنن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقل للمومنت یغضضن من ابصارہن (النور آیت 21) کے حکم کو منسوخ کردیا گیا اور اس سے استثنی کرتے ہوئے فرمایا آیت ” والقواعد من النساء اللتی لا یرجون نکاحا “ یعنی بڑی بوڑھی عورتیں جواب نکاح کی امید نہ رکھتی ہوں اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ کریں۔ 2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی السنن ابن عباس ؓ سے آیت والقواعد من النساء کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے گھر میں قمیض اور دوپٹے کے ساتھ بیٹھے اور بڑی چادر کو اتار دے اور زینت کا اظہار نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالْقَوَاعِدُ [ اور عمر رسیدہ خواتین ] مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ [ ان عورتوں میں سے جو ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتیں ] نِكَاحًا [ نکاح کی ] فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ [ تو نہیں ہے ان پر ] جُنَاحٌ [ کوئی گناہ ] اَنْ يَّضَعْنَ [ کہ وہ رکھ دیں ] ثِيَابَهُنَّ [ اپنے کپڑے (یعنی اوڑھنیاں ] غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۢ [ بغیر نمایاں کرنے والیاں ہوتے ہوئے ] بِزِيْنَةٍ ۭ [ زینت کو ] وَاَنْ [ اور یہ کہ ] يَّسْتَعْفِفْنَ [ وہ بچیں (اس سے)] خَيْرٌ [ تو بہتر ہے ] لَّهُنَّ ۭ [ ان کے لئے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] سَمِيْعٌ [ سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] نوٹ۔ 1: اس سے پہلے آیات ۔ 27 ۔ 28 ۔ میں اجازت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بوڑھی عورتیں پردہ کا زیادہ اہتمام نہ کریں تو گنجائش ہے القواعد، قاعدۃ کی جمع ہے اس سے بوڑھی عورتیں مراد ہیں جو گھر میں بیٹھ چکی ہیں نہ نکاح کے لائق ہیں نہ انہیں نکاح کی رغبت ہے نہ کسی مرد کو ان سے نکاح کرنے کی طلب ہے ان عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زائد کپڑے جن سے چہرہ چھپا رہتا ہے، چادر وغیرہ اتار کر رکھ دیں یعنی غیر محرم کے سامنے چہرہ کھول کر آجائیں بشرطیکہ مواقع زینت کا اظہار نہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا حکم جوان عورتوں کا سا نہیں ہے اگر چہرہ اور ہتھیلیاں غیر محرم کے سامنے کھول دیں اس میں گناہ نہیں ہے البتہ جسم کے دوسرے حصوں کو نہ کھولیں اور یہ جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم دوازدھم متعلق بہ تستر قال اللہ تعالی۔ والقواعد من النساء التی لا یرجون نکاحا۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ سمیع علیم۔ (ربط) شروع سورت میں عورتوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔ کما قال تعالیٰ لا یبدین زینتھن۔ اب ان آیات میں بوڑھی عورتوں کے متعلق حکم بیان کرتے ہیں کہ ان کے لئے اس درجہ تستر ضروری نہیں جتنا کہ جوان عورتوں کے لئے تستر ضروری ہے۔ عورت کا جب زمانہ شباب گزر گیا اور بڑھاپے کی اس منزل کو پہنچ گئی کہ نکاح کی اس کو حاجت نہ رہی تو ایسی حالت میں اگر وہ اپنے گھر میں تھوڑے کپڑوں میں بھی رہے تو درست ہے اور بہتر یہ ہے کہ پورا پردہ رکھیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور بڑی عمر والی عورتیں جن کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

63:۔ ” والقواعد الخ “ یہ دوسرا قانون معاشرت ہے یہاں بوڑھی عورتوں کے پردے کا بیان کیا گیا ہے یعنی وہ بوڑھی عورتیں جو سن رسیدہ ہوں اور ان کے جنسی جذبات بالکل ختم ہوچکے ہوں اگر وہ گھر میں تھوڑے کپڑوں میں رہیں تو کچھ حرج نہیں لیکن اگر پورا پردہ رکھیں تو بہت اچھا ہے اور گھر سے باہر نکلتے وقت بھی اگر زائد کپڑا مثلاً برقع یا چادر نہ پہنیں تو جائز ہے بشرطیکہ ان اعضاء اور اس زینت کا اظہار نہ ہو، جس کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–60

ربط آیات : گزشتہ آیات میں مسئلہ خلافت اور رسول کی اطاعت کا ذکر تھا اس سے پہلے توحید کے عقلی دلائل بیان کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے اللہ نے اپنے نور کی مثال بیان فرمائی۔ ایمان والوں کے انعامات اور کفر شرک کرنے والوں کے انجام کا ذکر تھا۔ ابتدائے سورة میں حدود کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نظام عصمت وعفت کی حفاظت کے لئے تعزیری قوانین بیان فرمائے تاکہ لوگ برائی اور بےحیائی سے بچ جائیں۔ اللہ نے اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا لا تتبعوا خطوت الشیطن ، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا۔ اپنے خواہش نفسانی پر چلنا بھی شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف ہے اور شیطان ہمیشہ برے راستے پر ڈالتا ہے ، لہٰذا اللہ نے اس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَہُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍؚبِزِيْنَۃٍ۝ 0ۭ وَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّہُنَّ۝ 0 ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ 60 قعد القُعُودُ يقابل به القیام، والْقَعْدَةُ للمرّة، والقِعْدَةُ للحال التي يكون عليها الْقَاعِدُ ، والقُعُودُ قد يكون جمع قاعد . قال : فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ النساء/ 103] ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ آل عمران/ 191] ، والمَقْعَدُ : مكان القعود، وجمعه : مَقَاعِدُ. قال تعالی: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 58–60

ترکیب : ثلث مرات فی الاصل مصدرو قد استعملت ظرفافعلی ھذا نصبہا علی الظرفیۃ والعامل لیستاذنکم والقواعد جمع قاعدعن النکاح و امن القعود فقاعدۃ۔ یعنی بڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کے قابل نہ رہی ہوں اپنے گھروں میں اپنے بالائی کپڑے اتار کر بیٹھا کریں بشرطیکہ زینت یعنی وہ اعضاء جو عورتوں کی زینت ہے اور سینہ اور رانیں نہ کھول دیا کریں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ 12 منہ تفسیر : منجملہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے ایک استیذان و اجازت کا مسئلہ بھی ہے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو ادب سکھاتا ہے جو تدبیر المنزل کے متعلق ایک بڑا اہم مسئلہ تھا جس سے آج تک تمام کتب الہامیہ خالی تھیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآئِ الّٰتِیْ لاَ یَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَمُتَبَرِّجٰتٍ م بِزِیْنَۃٍ ط وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌلَّھُنَّ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں جو اب نکاح کی آرزو نہیں رکھتی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اگر وہ اپنے دوپٹے اتار دیں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں، اور ان کا اس سے بھی اجتناب کرنا ان کے لیے بہتر ہے، اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ) بوڑھی عورتوں کے لیے ایک رخصت قَوَاعِدُ ، جمع ہے اس کا واحدقاعد ہے، قاعدۃ نہیں ہے۔ تاء تانیث کی اس لیے حذف کی گئی ہے تاکہ پتہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : پردہ کے مسائل کا بیان جاری ہے۔ جو عورتیں عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکی ہیں کہ جہاں پہنچ کر ان کے نسوائی جذبات ختم ہوچکے ہیں اور اب انہیں نکاح کی حاجت نہیں رہی۔ اگر وہ اپناسر ننگا کرلیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ ان کا مقصد اپنی زیب وزینت ظاہر کرنا نہ ہو ہاں بہتر یہ ہے کہ وہ بھی اپنے سروں پر کپڑا رکھاکریں۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے اور جاننے والا ہے۔ زینت سے مراد گلے میں پہننے والا زیور، عورت کی چھاتی سر کے بال اور چہرہ ہے معمر عورت کا ان چیزوں کو ڈھانپنا اس لیے بھی بہتر ہے تاکہ اس کی بہو، بیٹیوں اور دوسری بچیوں پر اس کی سیرت و کردار کے اچھے نقوش مرتب ہو سکیں۔ اگر ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

60: وَالْقَوَاعِدُ (اور بڑی بوڑھی عورتیں) یہ قاعد کی جمع ہے۔ یہ عورت کی مخصوص صفات میں سے ہے جیسے طالق اور خالص۔ مراد یہ ہے وہ عورتیں جو اولاد اور حیض سے زیادتی عمر کی وجہ سے بیٹھ جائیں۔ مِنَ النِّسَآئِ (عورتوں میں سے) ۔ نحو : یہ حال ہے۔ الَّتِیْ لَایَرْجُوْنَ نِکَاحًا (وہ عورتیں جو نکاح کی طمع نہ رکھتی ہوں) نحو : یہ محل رفع میں القواعد مبتدأ کی صفت ہے اور خبر فلیس علیہن جناح ہے۔ فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ (پس ان پر کوئی گناہ نہیں ) نحو : الف لام کی وجہ سے مبتدأ میں شرط کا معنی پایا جاتا تھا اس لئے شرط پر فاءؔ لائی گئی۔ اَنْ یَّضَعْنَکہ وہ (اپنے زائد کپڑے) اتار دیں اس بات میں کہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

60۔ والقواعد من النسائ، ، وہ عورتیں مراد ہیں جو حاملہ ہونے اور حیض آنے سے ناامیدہوچ کی ہوں چونکہ حمل اور حیض سے انقطاع کی صفت عورتوں ہی کے لیے مخصوص ہے مردوں سے اشتباہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے حامل اور حائض کی طرح عورت کے لیے لفظ قاعدے کے بجائے عربی میں مستعمل ہے۔ بعض نے کہا کہ قعدن عن الازواج ہے۔ اللاتی لایرجون نکاح، انکے بڑھاپے کی وجہ مردان کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ ابن قتیبہ کا قول ہے کہ عورت کو قاعدے کے نام سے موسوم کیا کیون کہ جب وہ بوڑھی ہوجاتی ہے تو اکثر اوقات وہ بیٹھی رہتی ہیے۔ ربیعہ نے کہا کہ ا سے مراد وہ بوڑھی عورتیں ہیں جن سے مرد نفرت کرتے ہیں ان کے بڑھاپے کی وجہ سے، کوئی ان کی طرف رغبت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

60۔ صحیح 3 ؎ بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کی بعد حضرت سودہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا اور آنحضرت ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ پردہ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیا جائے کہ چادر اوڑھ کر بھی عورتیں گھر سے باہر نہ نکلا کریں ‘ اللہ تعالیٰ نے سورة الاحزاب کی آیتیں نازل فرما کر اس پر یہ حکم دیا کہ عورتوں کے لیے پردہ کا جو حکم نازل ہوا ہے وہ کافی ہے ‘ جماعت کی نماز یا کسی اور ضرورت سے دوپٹہ کے اوپر چادر یا برقعہ اوڑھ کر اور اس میں منہ چھپا کر عورتوں کے باہر نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ یہ حکم جوان بوڑھی سب عورتوں کے لیے تھا ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر 60 (والقواعد من النساء) ، ، اور بڑی بوڑھی عورتیں۔ ، ، یعنی وہ عورتیں جو شہوت اور تعلقات زن و شوہر میں رغبت نہ رکھتی ہوں۔ (التی لا یرجون نکاحاً ) جو نکاح کی خواہش مند ہوں نہ کوئی مرد ان کے ساتھ نکاح کی رغبت رکھتا ہو اور یہ اس کے بوڑھی ہونے کی وجہ سے ہو کہ کسی کو اس میں کوئی رغبت ہو نہ وہ رغبت رکھتی ہو یا اتنی بد صورت ہو کہ کسی کو اس میں رغبت نہ ہو۔ (فلیس علیھن جناح) ، ، تو ان پر کوئی گناہ اور حرج نہیں، ، (ان یضعن ثیابھن) کہ وہ اپنا ظاہری لباس یعنی چادر وغیرہ اتار دیں جس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا تھا : (ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن) (النور : 31/24) ، ، اور وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

جوانی بیت جانے پر پردے کی تخفیف قول باری ہے : (والقواعد من النساء اللاتی لا یرجون نکاحا) اور جو عورتیں جوانی سے گزر بیٹھی ہوں نکاح کی امیدوار نہ ہوں۔ تاآخر آیت۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ جو عورتیں جوانی کی حد سے گزر چکی ہوں اور نکاح کی امیدوار نہ ہوں ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جنہیں نکاح کی خواہش اور اس کا ارادہ بھی ہ ہو۔ ان کے کپڑوں سے چادریں مراد ہیں جنہیں وہ اتار سکتی ہیں۔ ابراہیم اور ابن جبیر کا قول ہے کہ کپڑوں سے ردا، یعنی لمبی چادر مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ ان سے چادر اور کمر پٹہ مراد ہیں۔ جابرین زید سے مروی ہے کہ یہ عورتیں اپنا دوپٹہ اور چادر اتار سکتی ہیں۔ ابوبکر حبصاص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

128 بوڑھی عورتوں کے لیے خاص ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بوڑھی خانہ نشین عورتوں پر زائد کپڑے اتار دینے میں کوئی حرج نہیں۔ کہ اس میں عموماً ان کے لئے کسی فتنے اور فساد میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا جو کہ پردے کے احکام سے اصل مقصود ہے۔ سو وہ اگر اپنے گھروں میں اوڑھنیوں وغیرہ کا اہتمام نہ کریں جو دوسری عورتوں سے مطلوب ہے تو ان پر اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں کہ وہ اب نکاح کی عمر سے گزر چکی ہیں۔ سو اوپر آیت 31 میں عورتوں کے لیے جو خاص ہدایت فرمائی گئی تھی کہ وہ اپنے گھروں کے اندر بھی کسی غیر محرم کی موجودگی میں اپنے دوپٹوں کے آنچلوں سے اپنے گریبانوں کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–61

اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 58–61

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف اور اسلامی معاشرہ تو ایک پاکیزہ معاشرہ ہے جسے باطل قوتیں دبا نہیں سکتیں مگر اس کی پاکیزگی اور اس کی قوت کو قائم رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے جیسے پہلے گھر آنے کے لیے آداب اور اجازت لینے کی تعلیم دی گئی تو یہاں گھر کے اندر رہنے والوں کے لیے ارشاد ہوتا ہے تمہارے لونڈی غلام نوکر چاکر اور چھوٹے بچے بھی اگر گھر کے کسی فرد کے کمرے میں جانا چاہیں تو تین اوقات ضرور اجازت لے کر جائیں ، صلوۃ فجر سے پہلے یا جب تم لوگ دوپہر کو آرام کرتے ہو اور زائد لباس وغیرہ اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد کہ یہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی بےتکلفی سے آرام کر رہا ہوتا ہے اور اپنے کمرے کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ یعنی انہیں دوپٹہ کے اوپر کی چادر اتارنے کی اجازت ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ اپنی زینت کی نمائش کریں بلکہ محض آرام لینے کے لئے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:60) القواعد۔ القاعد کی جمع ہے بمعنی وہ عمر رسیدہ عورتیں جو نکاح۔ حمل اور حیض کے قابل نہ رہی ہوں اور ان کی خواہش نفسانی بالکل ختم ہوچکی ہو۔ القاعد میں تاء تانیث کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرد سے اشتباہ ہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح حوامل کی واحد حامل ہے حاملۃ نہیں ہے۔ بیضاوی نے القواعد کے معنی کئے ہیں اللاقی قعدن عن الحیض والحمل۔ جو حیض وحمل ترک کرچکی ہوں (بوجہ بڑھاپے کے ) الخازن میں ہے اللاتی قعدن عن الحیض والولد (جو بڑھاپے کی وجہ سے) حیض کو اور جننے کو ختم کرچکی ہوں۔ قعدہ قیام کی ضد ہے ۔ المقعد۔ بیٹھنے کی جگہ۔ قاعدین بیٹھنے والے۔ جیسے فضل اللہ المجاھدین باموالہم وانفسہم علی القعدین درجۃ (4:95) خدا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–60

لغات القرآن : آیت نمبر 58 تا 60 : لم یبلغوا (نہیں پہنچے۔ بالغ نہیں ہوئے) ‘ الحلم (سمجھ۔ عقل۔ شعور) ‘ مرات (مرۃ) کئی مرتبہ ۔ بار بار ‘ (تضعون) تم اتار کر رکھ دیتے ہو ‘(ثیاب (ثوب) کپڑے ‘ عورت (عورۃ) چھپانے کی چیزیں ‘(طوافون) پھرا کرتے ہیں۔ آتے جاتے رہتے ہیں ‘(الاطفال) (طفل) بچے ‘(استاذن) اجازت مانگی (القواعد) (قاعدۃ) بیٹھ رہنے والیاں۔ بڑی بوڑھیاں ‘ لایرجون (وہ امید نہیں رکھتے۔ توقع نہیں رکھتے) ‘ غیر متبرجت (ظاہرنہ کرتی ہوں) ‘ ان یستعففن (یہ کہ وہ بچپن) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 58 تا 60 : قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اور احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے قاعدے طریقے مقرر فرمادیئے ہیں جن کی پابند کرنے سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–60

پردہ کا ذکر۔ عورتوں کو باریک کپڑا پہننے کی ممانعت۔ 1) شان نزول : صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت سودہ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے نبی کو یہ مشورہ دیا کہ پردہ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیاجائے کہ چادراوڑھ کر بھی عورتیں گھر سے باہر نہ نکلاکریں اللہ تعالیٰ نے سورة الاحزاب کی آیتیں نازل فرما کر اس پر یہ حکم دیا کہ عورتوں کے لیے پردہ کا جوحکم نازل ہوا ہے وہ کافی ہے۔ جماعت کی نماز یا کسی اور ضرورت سے دوپٹہ کے اوپر چادر یابرقعہ اوڑھ کر اور اس میں منہ چھپا کر عورتوں کے باہر نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ حکم جوان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[61] یعنی یہ اجازت ان بوڑھی عورتوں کے لئے ہے جنہیں بناؤ سنگھار کا شوق نہ رہا ہو اور جن کے جنسی جذبات سرد پڑچکے ہوں۔ [62] اگرچہ حجاب و ستر کی پابندیاں بوڑھی عورتوں پر واجب نہیں مگر یہ پابندیاں ان کے حق میں بھی بہتر ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 58–60

غلاموں اور نوکروں کیلئے قواعد : (ف 1) ان میں پھر سورة نور کے اصل موضوع کی طرف رجوع فرمایا ہے سورة کا اصل موضوع تمدن انسانی کے مسائل مہمتہ کو بیان کرنا ہے ، اور یہ بتانا ہے کہ اخلاق حسنہ اور عوائد رسمیہ میں کون کون سی باتیں داخل ہیں ، قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ موضوع کی تفصیلات میں بھی تنوع کو باقی رکھتا ہے ، اور صرف مسئلہ کے مالہ وما علیہ پر عموما بحث نہیں کرتا ، کیونکہ اس طریق سے قرآن سے میں جو ایک جاذبیت اور وسعت معانی ہے ، وہ جاتی رہتی ہے تنوع کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا بےتکان پڑھتا چلا جاتا ہے ، اور طبیعت میں کسی نوع کا تکدر پیدا نہیں ہوتا اور اس کی مثال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(60) اور وہ بڑی بوڑھی عورتیں جن کو نکاح کی کوئی امید باقی نہیں تو وہ اگر اپنے غیر ضروری اور زائد کپڑے اتار کر رکھ دیا کریں تو اس میں ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنی زینت کے مقامات کو ظاہر نہ کریں لیکن اس سے بھی بچیں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی بڑی بوڑھیاں جن کی عمریں ڈھل چکی ہیں چونکہ ان کا کام گھر میں بیٹھا رہنا ہوتا ہے اس لئے ان کو قواعد فرمایا نہ ان کو نکاح کی کوئی امید نہ ان سے کوئی نکاح کرنے والا تو یہ اگر گھروں میں زائد کپڑے یعنی برقعہ یا اوپر کی چادر اتار کر رکھ دیں یا باہر جاتے وقت بھی برقعہ چھوڑ دیں تو مضائقہ نہیں۔ ہاں ! زینت کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عمر رسیدہ عورتوں کے لئے خاص رعایت کا ذکر : 95۔ وہ بوڑھی عورتیں جنہیں اب اولاد کی امید باقی نہیں رہی اور وہ مخصوص اوقات میں الگ تھلگ بھی نہیں رہیں گی اور گھروں میں رہتے ہوئے گھر میں کام کاج کرنے والوں اور عام بچوں میں اگر سر سے دوپٹہ اتار بھی دیں گی یا ان کے سر سے دوپٹہ اتر بھی جائے گا تو ایسی صورت قابل برداشت ہے کیونکہ اب وہ نانی ‘ دادی ہوچکی ہیں اور گھر میں ان کی ذمہ داری کی نوعیت بھی بدل چکی ہے اور ان کو خاص قسم کی زیب وزینت کی ضرورت بھی نہیں رہی کہ ہر بات کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور قوی مضمحل ہوجائیں تو خواہشات بھی سرد پڑجاتی ہیں ۔ ہاں ! ان کے لئے بھی جہالت کے مظاہرہ کی اجازت نہیں تاہم وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Emphasis on hijab for women and an exemption The injunction on hijab for women has already appeared earlier in detail in two verses, and two exemptions were also mentioned there. One exemption relates to the one who is seeing, and the other to that who is seen. According to the first exemption, young children and the slave girls are exempt. As for the second exemption, the outward adornment is exempt from hijab, which includes outer clothing like veil or covering sheet. There is agreement of all on this, but according to some, women's face and palms are also included in this exemption. In…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

92. Literally, this means those women who are no longer capable of bearing children, who no longer cherish sexual desires, and who cannot excite the passions of men. 93. Obviously it cannot mean that they should strip themselves naked. That is why all the jurists and commentators agree that it implies the outer garments which are used to hide the adornments as enjoined in (Surah Al-Ahzab, Ayat 59). 94. Tabarruj is display and exhibitionism. When used with regard to a woman, it would imply the one who displays her charms and adornments before other men. The permission to lay aside the outer…

Read the full tafseer →