Explained with ayahs 58–60
گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں
اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لئے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لئے عموما اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔ پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بےفکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے ؟ اس لئے گھر کے لونڈی غلام اور…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 91
یعنی بالغ ہوجائیں۔ جیسا کہ اوپر 87 میں بیان کیا جا چکا ہے لڑکوں کے معاملے میں احتلام اور لڑکیوں کے معاملے میں ایام ماہواری کا آغاز علامت بلوغ ہے۔ لیکن جو لڑکے اور لڑکیاں کسی وجہ سے دیر تک ان جسمانی تغیرات سے خالی رہ جائیں ان کے معاملہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام شافعی، امام ابو یوسف، امام محمد، اور امام احمد کے نزدیک اس صورت میں 15 برس کے لڑکے اور لڑکی کو بالغ سمجھا جائے گا، اور امام ابوحنیفہ کا بھی ایک قول اس کی تائید میں ہے۔ لیکن امام اعظم کا مشہور قول یہ ہے کہ اس صورت میں 17 برس کی لڑکی اور 18 برس کے لڑکے کو بالغ قرار دیا جائے گا۔ یہ دونوں قول کسی نص پر نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (تمہارے پاس آنے کے لئے) تمہاری مملوکوں کو اور جو تم میں حد بلوغ کو نہیں پہنچے ان کو تین وقتوں میں اجازت لینا چاہئے (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے) جب دوپہر کو (سونے لیٹنے کیلئے) اپنے (5 ائد) کپڑے اتار دیا کرتے ہو اور (تیسرے) نماز عشاء کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردے کے ہیں (یعنی یہ اقوات چونکہ عام عادت کے مطابق تخلیہ اور آرام کے ہیں، جس میں آدمی بےتکلفی سے رہنا چاہتا ہے اور تنہائی میں کسی قوت اعضائے مستورہ بھی کھل جاتے ہیں، یا کسی ضرورت سے کھولے جاتے ہیں اس لئے اپنے مملوک غلاموں لونڈیوں کو اور اپنے نابالغ بچوں کو سمجھاو کہ بےاطلاع اور بغیر اجازت لئے ہوئے ان اوقات…
Read the full tafseer →آیت 59-58
غلاموں اور بچوں کے لئے تین اوقات میں اجازت لینے کی پابندی
پیچھے آیت 31 پر ایک نظر ڈال لیجیے وہاں گھروں میں داخل ہونے کے لئے اجازت لینے کی جو شرط لگائی ہے اس سے غلاموں اور نابالغ بچوں کو مستثنیٰ رکھا تھ۔ بعد میں ان پر بھی یہ قید عائدکر دی گئی کہ تین اوقات میں وہ بھی اجازت لیا کریں۔ نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم قیلولہ کے لئے کپڑے اتارتے ہو اور عشاء کی نماز کے بد ان تین اوقات میں خاص احتیاط کی وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ اوقات بےتکلفی اور بےپردگی کے ہیں۔ فجر سے پہلے اور عشاء کے بعد کے اوقات کا بےپردگی کے اوقات ہونا تو واضح ہے۔ دوپہر کا وقت بھی عام طور پر آرام کا ہوتا ہے۔ خا ص طور پر…
Read the full tafseer →59-1ان بچوں سے مراد احرار بچے ہیں، بلوغت کے بعد ان کا حکم عام مردوں کا سا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ جب بھی کسی کے گھر آئیں تو پہلے اجازت طلب کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
42: آیات 27 تا 29 میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ کسی دوسرے کے گھر میں اجازت مانگے بغیر داخل نہیں ہونا چاہیے، عام طور سے مسلمان اس حکم پر عمل کرنے لگے تھے لیکن کسی گھر کے غلام باندیوں اور نابالغ لڑکے لڑکیوں کو چونکہ بکثرت گھروں میں آنا جانا رہتا تھا، اس لئے وہ اس حکم کی پابندی نہیں کرتے تھے، چنانچہ بعض واقعات ایسے پیش آئے کہ یہ لوگ کسی کے گھر میں ایسے وقت بلا اجازت داخل ہوگئے جو اس کے آرام اور تنہائی کا وقت تھا، جس سے نہ صرف یہ کہ اسکو تکلیف ہوئی بلکہ بےپردگی بھی ہوئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ان میں یہ واضح کردیا گیا کہ کم از کم تین اوقات میں ان لوگوں کو بھی بلااجازت گھروں میں داخل نہیں ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
درس نمبر 156 ایک نظر میں
اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ وہ انسانی زندگی کے مختلف طور طریقوں کو منظم کرتا ہے۔ تمام تعلقات ‘ تمام رابطوں ‘ تمام حرکات و سکنات ‘ اور تمام مسائل میں انسانی زندگی کی تنظیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام روز مرہ کے انسانی آداب بھی سکھاتا ہے جس طرح وہ عمومی فرائض اور بڑے بڑے معاملات کی تعلیم دیتا ہے وہ ان تمام امور کے اندر نظم اور یکجہتی پیدا کرتا ہے اور زندگی کے تمام امور کو اللہ کی سمت موڑ دیتا ہے۔
یہ سورة اس امر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سورة میں ایک طرف تو اسلام کے قوانین وحد ود بتائے گئے ہیں اور دوسری طرف ایک جگہ بسنے والے انسانوں کے باہم ملاقات کے آداب سکھائے گئے…
Read the full tafseer →3 یعنی لڑکا جب تک نابالغ ہے تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں بلا اجازت لیے آجا سکتا ہے۔ جس وقت حد بلوغ کو پہنچا پھر اس کا حکم ان ہی مردوں جیسا ہوگیا جو اس سے پہلے بالغ ہوچکے ہیں اور جن کا حکم پیشتر آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَهْلِهَا) 24 ۔ النور :27) میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 59 وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط ”
گھروں میں داخلے کے آداب کے سلسلے میں ایک عمومی حکم اس سے پہلے اسی سورة کی آیت 27 میں نازل ہوچکا ہے۔ تمہارے بچے جب بالغ ہوجائیں تو وہ بھی اس حکم کی تعمیل کریں۔
Read the full tafseer →89 یعنی ان میں جنسی شعور،۔۔ میلانات بیدار ہونے لگیں اور شرعاً اس کی حد یہ ہے کہ بچے کو احتلام آنے لگے۔ بلوغت کی عمر کی سالوں سے تعیین کرنا مشکل ہے یہ بھی ممکن ہے کہ ایک لرکا گیارہ سال کا ہی بالغ ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اٹھارہ سال تک بالغ نہ ہو۔ اور اس سن بلوغت کے بھی کئی عوامل ہیں مثلاً جن ممالک کی آب و ہوا گرم مرطوب ہو وہاں بچے جلد بالغ ہوجاتے ہیں۔ اور جہاں آب و ہوا سرد ہو وہاں دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ اسی طرح خوشحالی گھرانوں کے بچے جلد بالغ ہوجاتے ہیں۔ اور تنگدست گھرانوں کے بچے دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرد و عورت کے آزادانہ اور فحاشی کے ماحول میں بچے جلد بالغ ہوجاتے ہیں اور پاکیزہ…
Read the full tafseer →122۔ یعنی بالغ یا تقریبا بالغ ہوجائیں۔ خطاب یہاں احرار مسلمین سے ہے۔ ممالیک کا ذکر تو ابھی اوپر آچکا۔
123۔ (اس کے احکام کو خفیف اور اس کی ہدایات کو حقیر نہ سمجھو) یہ تاکید و تکرار اس امر کی صاف دلیل ہے کہ ایہ احکام جو بظاہر محض جزئیات معلوم ہوتے ہیں اللہ کے قانون میں حد درجہ اہمیت رکھتے اور درجہ اہتمام کے مستحق ہیں۔ (آیت) ” فلیستاذنو ..... من قبلہم “۔ یعنی جب بچے سیانے ہونے لگیں تو جس طرح ان کے بڑوں پر اندر آنے کے لیے ہر وقت اجازت کی ضرورت تھی، ان پر بھی اجازت لینا انہیں تین اوقات میں نہیں، بلکہ ہر وقت واجب ہوگی، اے فی جمیع الاوقات کما استاذن الذین بلغوا الحلم من قبلھم۔ یعنی جب بچے سیانے ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
آیت نمبر 58 تا 61
ترجمہ : اے ایمان والو تمہارے مملوکوں کو یعنی غلام اور باندیوں کو اور ان کو جو تم میں سے حد بلوغ کو نہیں پہنچے آزادوں میں سے، مگر عورتوں کے معاملہ سے واقف ہوگئے ہیں تین مرتبہ یعنی تین اوقات میں اجازت لینی چاہیے، صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر میں یعنی دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور نماز عشاء کے بعد یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں (ثلٰثُ ) کے رفع کے ساتھ اس وجہ سے کہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور مبتداء کے بعد مضاف محذوف ہے، اور مضاف الیہ مضاف کے قائم مقام ہوگیا ہے، ایھی اوقات ثلٰثِ عورتٍ لکم اور (ثلٰث) نصب کے ساتھ، اس کے قبل اوقات کو مقدر مان کر حال یہ ہے کہ اپنے…
Read the full tafseer →واذا بلغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوا کما استاذن الذین من قبلہم
اور جب تم میں سے بچے جوانی کے (حدود کے) قریب پہنچ جائیں تو وہ بھی (ہمہ اوقات داخلہ کی) ویسے ہی اجازت لیا کریں جیسے اجازت ان سے پہلے والے یعنی (بالغ) لیا کرتے تھے۔ ہر وقت کا خلط ملط اور آنا جاناہی باعث تھا کہ ان کو بغیر طلب اجازت کے داخل ہونے کا حکم جواز مل گیا تھا جب وہ صورت جاتی رہی اور جوانی آگئی تو بلا اجازت داخلہ کا حکم بھی جاتا رہا اس حکم کے عموم میں سب لوگ داخل ہیں مرد ہوں ‘ محرم عورتیں ہوں ‘ نا محرم عورتیں ہوں ‘ (بغیر اجازت ملنے کے ہر شخص کے پاس داخلہ ممنوع ہے خواہ کسی وقت ہو) اس کی تائید حضرت ابو سعید خدری کی مندرجۂ ذیل…
Read the full tafseer →(59) اور جس وقت تمہارے نابالغ لڑکے اور غلام حد بلوغ کو پہنچیں تو ان کو بھی ہر وقت آنے کے لیے اسی طرح اجازت لینی چاہیے جیسا کہ ان سے بڑی عمر والے ان کے بھائی اجازت لیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام بیان فرمائے اسی طرح وہ تم سے اپنے اوامرو نواہی بیان کرتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں کا جاننے والا اور حکمت والا ہے کہ بڑوں کو ہر وقت آنے جانے کے لیے اجازت لینے کا حکم فرمایا۔
اور بڑی بوڑھی عورتیں جن کو حیض آنا بند ہوگیا ہو اور ان کو کسی سے شادی کرنے کی کوئی امید اور خواہش نہ باقی رہی ہو تو ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زیادہ کپڑے یعنی چادر وغیرہ اتار دیں، بشرطیکہ کسی…
Read the full tafseer →وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْا۔۔ : بالغ ہونے کے بعد بچوں کو بھی اجازت لینا ضروری ہے، جس طرح ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جن کا ذکر اس سے پہلے آیت (27) ”لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا“ میں آیا ہے اور جس طرح بالغ ہونے والے ان بچوں سے پہلے دوسرے بالغ لوگ اجازت لیتے چلے آئے ہیں، بالغ ہونے کے بعد انھیں بھی ہر حال میں اجازت لے کر آنا ہوگا۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا : ”کیا میں اپنی بہن کے پاس جانے کے لیے بھی اجازت مانگوں ؟“ فرمایا : ”ہاں !“ میں نے پھر سوال دہرایا : ”میری پرورش میں میری دو بہنیں ہیں، ان کا…
Read the full tafseer →حسن نے الحلم میں ضمہ کے ثقل کی وجہ سے اسے حذف کردیا ہے۔ مذکورہ تین اوقات میں بچوں کو اجازت طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ اوقات میں بغیر اجازت آنا مباح کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حکم دیا کہ بچے جبب بالغ ہوجائیں تو وہ اجازت طلب کرنے میں ہر وقت مردوں کے حکم میں ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے احکام کا بیان ہے اس کے حلال اور حرام کی وضاحت ہے۔ فرمایا فلیستاذنوا یہ نہیں فرمایا فلیستاذنوکم جبب کہ پہلی آیت میں فرمایا لیستاذنکم کیونکہ بچے مخاطب اور مکلف نہیں ہیں۔ ابن جریج نے کہا : میں نے عطا سے کہا : واذا بدغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوا کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
تین اوقات میں خصوصی بغاوت کی تاکید
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی اور اس کی بیوی اسماء بنت مرثدہ نے نبی ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا اسماء نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کتنی بری بات ہے ؟ کہ ایک آدمی بیوی اور اس کے شوہر کے پاس اس حال میں آتا ہے میاں اور بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوتے ہیں اور ان سے اجازت بھی نہیں لیتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملک ایمانکم ” غلاموں اور باندیوں میں سے آیت ” والذین لم یبلغوا الحلم منکم “ اور تمہارے آزاد مردوں اور عورتوں میں سے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح)…
Read the full tafseer →وَاِذَا بَلَغَ [ اور جب پہنچیں ] الْاَطْفَالُ [ بچے ] مِنْكُمُ [ تم میں سے ] الْحُلُمَ [ بلوغت کو ] فَلْيَسْتَاْذِنُوْا [ تو چاہیے کہ وہ (ابھی) اجازت مانگیں ] كَمَا [ جیسے کہ ] اسْتَاْذَنَ [ اجازت مانگی ] الَّذِيْنَ [ انھوں نے جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے تھے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] يُبَيِّنُ [ واضح کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] اٰيٰتِهٖ ۭ [ اپنی آیات کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
گھروں میں داخل ہونے کے لیے خصوصی طور پر تین اوقات میں اجازت لینے کا اہتمام کیا جائے
اسی سورة نور کے چوتھے رکوع میں کسی کے پاس اندر جانے کے لیے اجازت لینے اور اجازت نہ ملنے پر واپس ہوجانے کا حکم مذکور ہے وہ حکم اجانب کے لیے ہے جن کا اس گھر سے رہنے سہنے کا تعلق نہ ہوں جس میں اندر جانے کی اجازت طلب کرنا چاہتے ہوں۔
ان دو آیتوں میں ان اقارب اور محارم کا حکم فرمایا ہے جو عموماً ایک گھر میں رہتے ہیں اور ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں اور ان سے عورتوں کو پردہ کرنا بھی واجب نہیں ہے ان میں ان بچوں کا حکم بیان فرمایا جو حد بلوغ کو نہیں پہنچے اور غلاموں کا ذکر ہے (جنہیں کام کے لیے اپنے آقا کی خدمت کے لیے بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
حکم یازدھم متعلق بہ استیذان
قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔
(ربط) آغاز سورت میں عفت وعصمت وآداب معاشرت کے متعلق احکام کا ذکر تھا جن میں ایک حکم استیذان کا تھا کہ کسی گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، اب پھر انہی احکام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان آیات میں غلاموں اور نابالغ بچوں کو اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم ہے اور شروع سورت میں جو اجازت لینے کے احکام مذکور تھے وہ اجنبیوں کے متعلق تھے کہ کسی کے مکان میں بغیر اجازت داخل ہونے کی ممانعت تھی، اب یہ آیتیں اسی گزشتہ حکم استیذان کا تتمہ اور تکملہ ہیں کہ جو لونڈی اور غلام اور نابالغ بچے گھر میں…
Read the full tafseer →62:۔ ” واذا بلغ الاطفال الخ “۔ لیکن جب نابالغ لڑکے بلوغ کو پہنچ جائیں تو اب ان پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی اسی طرح اجازت لے کر گھر میں داخل ہوا کریں جس طرح دوسرے بالغ مرد اجازت لیتے ہیں جن کا حکم پہلے بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے وہ تمہیں معاشرت کے ایسے سنہرے اصول تعلیم دیتا ہے جن میں تمہارا دینی اور دنیوی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم ھکمت اور مصلحت سے خالی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں مسئلہ خلافت اور رسول کی اطاعت کا ذکر تھا اس سے پہلے توحید کے عقلی دلائل بیان کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے اللہ نے اپنے نور کی مثال بیان فرمائی۔ ایمان والوں کے انعامات اور کفر شرک کرنے والوں کے انجام کا ذکر تھا۔ ابتدائے سورة میں حدود کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نظام عصمت وعفت کی حفاظت کے لئے تعزیری قوانین بیان فرمائے تاکہ لوگ برائی اور بےحیائی سے بچ جائیں۔ اللہ نے اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا لا تتبعوا خطوت الشیطن ، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا۔ اپنے خواہش نفسانی پر چلنا بھی شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف ہے اور شیطان ہمیشہ برے راستے پر ڈالتا ہے ، لہٰذا اللہ نے اس سے…
Read the full tafseer →وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْا كَـمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ 0ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ 0ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 59
بلغ
البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15]
( ب ل غ ) البلوغ
والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو ۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ترکیب : ثلث مرات فی الاصل مصدرو قد استعملت ظرفافعلی ھذا نصبہا علی الظرفیۃ والعامل لیستاذنکم والقواعد جمع قاعدعن النکاح و امن القعود فقاعدۃ۔
یعنی بڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کے قابل نہ رہی ہوں اپنے گھروں میں اپنے بالائی کپڑے اتار کر بیٹھا کریں بشرطیکہ زینت یعنی وہ اعضاء جو عورتوں کی زینت ہے اور سینہ اور رانیں نہ کھول دیا کریں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ 12 منہ
تفسیر : منجملہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے ایک استیذان و اجازت کا مسئلہ بھی ہے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو ادب سکھاتا ہے جو تدبیر المنزل کے متعلق ایک بڑا اہم مسئلہ تھا جس سے آج تک تمام کتب الہامیہ خالی تھیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک…
Read the full tafseer →وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اٰیٰـتِہٖ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 59)
(جب تم میں سے بچے بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت طلب کریں جس طرح ان کے پہلوں نے اجازت طلب کی، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ )
آیت 31 میں جن لوگوں کو استیذان سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا بلکہ اجازت دی گئی تھی کہ ان کے سامنے اظہارِ زینت بھی ہوسکتا ہے، ان میں وہ بچے شامل تھے جو عورتوں کی خفیہ باتوں سے ابھی آگاہ نہیں ہوئے۔ لیکن پیش نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز
مومنوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے غلام اور ان کے نابالغ بیٹے تین اوقات میں ان سے اجازت لے کر ان کی خلوت گاہوں میں داخل ہوا کریں کیونکہ یہ تین اوقات پردہ کے اوقات ہیں۔ تینوں اوقات کے علاوہ ان کے غلاموں اور نابالغ بچوں کا خلوت گاہ میں آنے پر کوئی گناہ نہیں۔ اس اجازت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے گھر یلو کام کے لیے باربار خلوت گاہ میں آنا جانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اصول بیان کرتا ہے تاکہ تمہاری معاشرت برائی اور بےحیائی سے محفوظ رہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہر کام اور بات کو پوری طرح جانتا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت اور دانائی ہوتی ہے۔ ہاں جب نابالغ بچے…
Read the full tafseer →حکم بلوغت :
59: وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ (اور جب تمہارے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں) مراد احرار ہیں غلام مراد نہیں۔ الْحُلُمَ (بلوغت)
حلم بمعنی احتلام ہے یعنی بلوغت کو پالینا اور وہ بچے گھر میں داخل ہونا چاہیں۔ فَلْیَسْتَاْ ذِنُوْا (پس چاہیے کہ وہ اجازت طلب کریں) تمام اوقات میں کَمَااسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (جیسے ان لوگوں نے اجازت طلب کی جو ان سے قبل ہوئے) یعنی وہ لوگ جو ان سے قبل بالغ ہوئے اور وہ مرد ہیں نمبر 2۔ وہ لوگ مراد ہیں جن کا تذکرہ ہوا پہلے اس ارشاد میں ہے : یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستأنسوا وتسلمو اعلی اھلھا ] النور : 67[
تین اوقات کے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
59۔ واذابلغ الاطفال منکم الحلم، ، اس سے مراد احتلام ہے جو آزاد مردوں کی بلوغت کی نشانی ہے۔ فلیستاذنوا، ان کے پاس آنے کی تمام اوقات میں داخلے کی اجازت طلب کریں۔ کمااستاذن الذین من قبلھم ، آزاد اور بڑے لوگ۔ بعض نے کہا کہ ا س سے مراد ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہ السلام) ہین۔ کذالک یبین اللہ لکم آیاتہ، ، آیات سے مراد دلائل ہیں بعض نے کہا کہ اس کے احکام مراد ہیں ۔ واللہ علیم، ان کے پیدائش کے متعلق تمام امور کو جانتے ہیں۔ حکیم ، ان تمام امور کی تدبیر کرنے والے ہیں۔
سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ آدمی کو اپنی ماں کے پاس بھی داخلے کی اجازت لے کرجانا چاہیے، اس آیت کا نزول اسی سلسلہ میں ہوا جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
58۔ 59:۔ شروع سورت میں ہر وقت گھر والوں سے اجازت لے کر پرائے گھر میں جانے کا حکم تھا ‘ ان آیتوں میں غلاموں اور نابالغ لڑکوں کو یہ حکم ہے کہ فجر کی نماز سے پہلے ‘ دوپہر ‘ اور عشاء کی نماز کے بعد غلام اپنے آقا کے اور نابالغ لڑکے اپنے رشتہ داروں کے گھر میں بغیر اجازت کے نہ جاویں ‘ یہ تینوں وقت لوگوں کے آرام کرنے اور ننگے کھلے رہنے کے ہیں ‘ اس واسطے ان وقتوں کے لیے یہ خاص حکم نازل فرمایا اگرچہ سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ اَلَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَا نُکُمْ میں غلام لونڈی دونوں داخل ہیں یا یہ حکم فقط غلاموں کے لیے ہے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول یہی ہے کہ اس حکم میں لونڈی داخل نہیں ہے ‘…
Read the full tafseer →آیت نمبر 59
(واذا بلغ الاطفال منکم الحلم) ، ، اور جب پہنچ جائیں بچے تم میں سے بلوغت کو۔ ، ، اور یہ وہ عمر ہے جب سوتے یا جاگتے میں منی کا انزال ہوجاتا ہے۔ (فلیستاذنو کما استاذن الذین من قبلھم) ، ، تو ان کو چاہیے کہ وہ اجازت طلب کریں جیسے اجازت مانگتے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے۔ ، ، یعنی تمام اوقات میں۔ اور جن لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے (الذین من قبلھم) میں اشارہ فرمایا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں : (آیت) (النور : 27/24) ، ، اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو۔ ، ، (کذالک یبین اللہ لکم ایتہ) ، ، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
غلاموں اور لونڈیوں نیز بچوں کا گھروں میں جانے کے لئے اذن طلب کرنے کا بیان
قول باری ہے : (یایھا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرات۔ ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، لازم ہے کہ تمہارے مملوک اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں، تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں تاآخر آیت۔ لیث بن سلیم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے نیز سفیان نے ابوحصین سے اور انہوں نے ابوعبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ قول باری : (لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم ) عورتوں یعنی لونڈیوں کے ساتھ خاص ہے ، مرد یعنی غلام دن اور رات کے دوران ہر حال میں اجازت لے کر…
Read the full tafseer →126 بلوغ کے بعد بچوں کے لیے بھی بڑوں کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور جب تمہارے وہ نابالغ لڑکے حدِّ بلوغ کو پہنچ جائیں "۔ یعنی جب وہ بالغ ہوجائیں یا بلوغ کے قریب پہنچ جائیں تو اس وقت ان کیلئے بھی وہی عام احکام ہیں جو کہ دوسرے بالغ مردوں کیلئے ہیں۔ اور محض اس بنا پر کہ یہ بچپن میں آیا جایا کرتے تھے ان کیلئے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ اور یہ اجازت لینے کی قید سے مستثنیٰ صرف اسی وقت تک تھے جب تک کہ یہ چھوٹے اور نابالغ تھے اور بس۔ بالغ ہوجانے کے بعد ان پر بھی وہ تمام پابندیاں عائد ہوجائیں گی جو دوسروں کے لیے مذکور ہوئی ہیں۔ ان میں ان کے لیے کسی طرح کا کوئی استثناء نہیں ہوگا۔ کہ بڑے ہوجانے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب
تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اور اسلامی معاشرہ تو ایک پاکیزہ معاشرہ ہے جسے باطل قوتیں دبا نہیں سکتیں مگر اس کی پاکیزگی اور اس کی قوت کو قائم رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے جیسے پہلے گھر آنے کے لیے آداب اور اجازت لینے کی تعلیم دی گئی تو یہاں گھر کے اندر رہنے والوں کے لیے ارشاد ہوتا ہے تمہارے لونڈی غلام نوکر چاکر اور چھوٹے بچے بھی اگر گھر کے کسی فرد کے کمرے میں جانا چاہیں تو تین اوقات ضرور اجازت لے کر جائیں ، صلوۃ فجر سے پہلے یا جب تم لوگ دوپہر کو آرام کرتے ہو اور زائد لباس وغیرہ اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد کہ یہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی بےتکلفی سے آرام کر رہا ہوتا ہے اور اپنے کمرے کے…
Read the full tafseer →4 ۔ یا جس طرح وہ لوگ اجازت لیتے ہیں جن کا ذکر پہلے (آیت 27 میں) ہوچکا ہے۔ الغرض بلوغت کے بعد ہرحال میں اجازت لیکر آنا ضروری ہے۔ پھر ان تین اوقات کی تخصیص نہیں ہے۔ (ابن کثیر) عطا بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے دریافت کیا۔ ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا میں اپنی ماں کے پاس بھی اجازت لے کر جایا کروں ؟ فرمایا : ” ہاں “ اس نے کہا۔ ” میں تو اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہوں۔ “ فرمایا :” تب بھی اجازت لیکر جایا کرو۔ ماں کو برہنگی کی حالت میں دیکھنا چاہتے ہو ؟ “ اس نے جواب دیا۔ ” نہیں “۔ فرمایا تو اجازت لے کر جایا کرو۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(24:59) من قبلہم۔ ان سے قبل (کے لوگ) یعنی جیسے ان کے بڑے (اجازت لے کر آتے ہیں) ای کما استاذن الذین بلغوا الحلم من قبلہم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
لغات القرآن : آیت نمبر 58 تا 60 :
لم یبلغوا (نہیں پہنچے۔ بالغ نہیں ہوئے) ‘ الحلم (سمجھ۔ عقل۔ شعور) ‘ مرات (مرۃ) کئی مرتبہ ۔ بار بار ‘ (تضعون) تم اتار کر رکھ دیتے ہو ‘(ثیاب (ثوب) کپڑے ‘ عورت (عورۃ) چھپانے کی چیزیں ‘(طوافون) پھرا کرتے ہیں۔ آتے جاتے رہتے ہیں ‘(الاطفال) (طفل) بچے ‘(استاذن) اجازت مانگی (القواعد) (قاعدۃ) بیٹھ رہنے والیاں۔ بڑی بوڑھیاں ‘ لایرجون (وہ امید نہیں رکھتے۔ توقع نہیں رکھتے) ‘ غیر متبرجت (ظاہرنہ کرتی ہوں) ‘ ان یستعففن (یہ کہ وہ بچپن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 58 تا 60 :
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اور احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے قاعدے طریقے مقرر فرمادیئے ہیں جن کی پابند کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
پردہ کا ذکر۔ عورتوں کو باریک کپڑا پہننے کی ممانعت۔
1) شان نزول : صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت سودہ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے نبی کو یہ مشورہ دیا کہ پردہ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیاجائے کہ چادراوڑھ کر بھی عورتیں گھر سے باہر نہ نکلاکریں اللہ تعالیٰ نے سورة الاحزاب کی آیتیں نازل فرما کر اس پر یہ حکم دیا کہ عورتوں کے لیے پردہ کا جوحکم نازل ہوا ہے وہ کافی ہے۔ جماعت کی نماز یا کسی اور ضرورت سے دوپٹہ کے اوپر چادر یابرقعہ اوڑھ کر اور اس میں منہ چھپا کر عورتوں کے باہر نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ حکم جوان…
Read the full tafseer →[59] یعنی ان کے بڑے۔
[60] یعنی جب بچے بالغ ہوجائیں تو جس طرح ان کے بڑوں پر اندر آنے کے لئے ہر وقت کی اجازت لینے کی ضرورت تھی اسی طرح ان پر بھی اجازت لینا انہی تین اوقات ہی میں نہیں بلکہ ہر وقت واجب ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
غلاموں اور نوکروں کیلئے قواعد :
(ف 1) ان میں پھر سورة نور کے اصل موضوع کی طرف رجوع فرمایا ہے سورة کا اصل موضوع تمدن انسانی کے مسائل مہمتہ کو بیان کرنا ہے ، اور یہ بتانا ہے کہ اخلاق حسنہ اور عوائد رسمیہ میں کون کون سی باتیں داخل ہیں ، قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ موضوع کی تفصیلات میں بھی تنوع کو باقی رکھتا ہے ، اور صرف مسئلہ کے مالہ وما علیہ پر عموما بحث نہیں کرتا ، کیونکہ اس طریق سے قرآن سے میں جو ایک جاذبیت اور وسعت معانی ہے ، وہ جاتی رہتی ہے تنوع کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا بےتکان پڑھتا چلا جاتا ہے ، اور طبیعت میں کسی نوع کا تکدر پیدا نہیں ہوتا اور اس کی مثال…
Read the full tafseer →(59) اور جب تم میں کے لڑکے حد بلوغ کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان سے پہلے کے بالغ مرد اجازت لیتے آئے ہیں اسی طرح یہ بھی اجازت حاصل کیا کریں اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی جب نابالغ لڑکے بالغ ہوجائیں یا قریب البلوغ یعنی مراہق ہوجائیں تو ان کا حکم بھی بالغ مردوں کا سا ہوگا کہ وہ کسی وقت بھی بلاا جازت لئے مکان میں داخل ہوسکیں گے۔ جیسا کہ چوتھے رکوع میں مذکور ہوا یہ آزاد اور احرار لڑکوں کا حکم ہے جب بالغ ہوگئے تو بلوغ کے احکام جاری ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایسی پروانگی یعنی جیسے جدی گھر والے ہر وقت خبر…
Read the full tafseer →ف 6۔ اس کو مکرر اس لئے لایا گیا کہ قانون استیذان کی مصلحتیں نہایت واضح اور اس کے احکام نہایت قابل رعایت ہیں، تکریر سے اہتمام ظاہر ہوگیا۔
Read the full tafseer →بچے جب بالغ ہوجائیں یا بلوغت کے قریب پہنچ جائیں تو اب وہ بغیر اجازت اندر نہ آئیں :
94۔ ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے کے آداب پہلے ذکر کئے جا چکے ہیں اور اجازت لینے کی ضرورت اور اجازت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا جا چکا ہے اس عام اجازت سے گھروں میں کام کاج کرنے والے خادم اور لونڈی غلام اور نابالغ بچے مستثنی کئے گئے تھے پھر ان مستثنی کئے جانے والوں کے لئے بھی تین مخصوص اوقات میں اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا اب زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ بچے جو نابالغ ہونے کے باعث ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہے ہیں جب وہ قریب البلوغ ہوں یا بالغ ہوجائیں تو اب ان کے آنے جانے پر بھی وہی پابندی ہے جو عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
Commentary
It has been described in the beginning of this Surah that the injunctions of Surah Nur mostly relate to prevention of obscenity and vulgarity. Under the same sequence some injunctions regarding social etiquette and mutual meetings are also enjoined. After that the injunctions about Hijab for women are prescribed.
The injunction for relatives and mahrams for seeking permission at specific timings
Earlier in this Surah the social etiquette and manners for mutual meetings were described in verses 27, 28 and 29 under the heading 'injunctions on seeking permission', where it was…
Read the full tafseer →91. That is, when they have reached the age of puberty. As has been explained in E.N. 87 above, the signs of puberty in the case of boys and girls are nocturnal emission and menstrual discharge respectively. There is, however, a difference of opinion among the jurists regarding the beginning of puberty in those boys and girls who for some reason do not show these physical signs for an unduly long time. According to Imam Shafai, Imam Abu Yusuf, Imam Muhammad and Imam Ahmad, a boy or a girl of 15 years will be considered to have attained puberty, and a saying of Imam Abu Hanifah also supports…
Read the full tafseer →