Explained with ayahs 58–60
گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں
اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لئے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لئے عموما اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔ پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بےفکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے ؟ اس لئے گھر کے لونڈی غلام اور…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 85
یہاں سے پھر احکام معاشرت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ بعید نہیں کہ سورة نور کا یہ حصہ اوپر کی تقریر کے کچھ مدت بعد نازل ہوا ہو۔
سورة النُّوْر 86
جمہور مفسرین و فقہاء کے نزدیک اس سے مراد لونڈیاں اور غلام دونوں ہیں، کیونکہ لفظ عام استعمال کیا گیا ہے۔ مگر ابن عمر اور مجاہد اس آیت میں مملوکوں سے مراد صرف غلام لیتے ہیں اور لونڈیوں کو اس سے مستثنیٰ کرتے ہیں۔ حالانکہ آگے جو حکم بیان کیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اس تخصیص کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ تخلیہ کے اوقات میں جس طرح خود اپنے بچوں کا اچانک آجانا مناسب نہیں اسی طرح خادمہ کا بھی آجانا غیر مناسب ہے۔
یہ امر متفق علیہ ہے کہ اس آیت کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (تمہارے پاس آنے کے لئے) تمہاری مملوکوں کو اور جو تم میں حد بلوغ کو نہیں پہنچے ان کو تین وقتوں میں اجازت لینا چاہئے (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے) جب دوپہر کو (سونے لیٹنے کیلئے) اپنے (5 ائد) کپڑے اتار دیا کرتے ہو اور (تیسرے) نماز عشاء کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردے کے ہیں (یعنی یہ اقوات چونکہ عام عادت کے مطابق تخلیہ اور آرام کے ہیں، جس میں آدمی بےتکلفی سے رہنا چاہتا ہے اور تنہائی میں کسی قوت اعضائے مستورہ بھی کھل جاتے ہیں، یا کسی ضرورت سے کھولے جاتے ہیں اس لئے اپنے مملوک غلاموں لونڈیوں کو اور اپنے نابالغ بچوں کو سمجھاو کہ بےاطلاع اور بغیر اجازت لئے ہوئے ان اوقات…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون …64-58
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ آیات 31-27 میں پردہ سے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں ان کے بارے میں جو سوالات و شکوک بعض لوگوں کے ذہنوں میں بعد میں پیدا ہوئے ان کی وضاحت ان آیات میں کی گئی ہے۔ یہ آیات چونکہ اصل احکام کے بعد نازل ہوئی ہیں اس وجہ سے ان کو سورة کے آخر میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ یہ تصریح بھی ہے کہ یہ آیات بطور وضاحت نازل ہوئی ہیں۔
آخر میں تین آیتیں منافقین سے متعلق ہیں جن کا ذکر اوپر آیات 57-47 میں ہوا ہے۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں بھی بعد میں مزید تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی ہیں اس وجہ سے اصل سلسلہ کلام سے الگ ان کو آخر میں جگہ دی گئی۔ اس روشنی میں آیات کی…
Read the full tafseer →58-1یعنی ان اوقات ثلاثہ کے علاوہ گھر کے مذکورہ خدمت گزاروں کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اجازت طلب کئے بغیر گھر کے اندر آ جاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
42: آیات 27 تا 29 میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ کسی دوسرے کے گھر میں اجازت مانگے بغیر داخل نہیں ہونا چاہیے، عام طور سے مسلمان اس حکم پر عمل کرنے لگے تھے لیکن کسی گھر کے غلام باندیوں اور نابالغ لڑکے لڑکیوں کو چونکہ بکثرت گھروں میں آنا جانا رہتا تھا، اس لئے وہ اس حکم کی پابندی نہیں کرتے تھے، چنانچہ بعض واقعات ایسے پیش آئے کہ یہ لوگ کسی کے گھر میں ایسے وقت بلا اجازت داخل ہوگئے جو اس کے آرام اور تنہائی کا وقت تھا، جس سے نہ صرف یہ کہ اسکو تکلیف ہوئی بلکہ بےپردگی بھی ہوئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ان میں یہ واضح کردیا گیا کہ کم از کم تین اوقات میں ان لوگوں کو بھی بلااجازت گھروں میں داخل نہیں ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
درس نمبر 156 ایک نظر میں
اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ وہ انسانی زندگی کے مختلف طور طریقوں کو منظم کرتا ہے۔ تمام تعلقات ‘ تمام رابطوں ‘ تمام حرکات و سکنات ‘ اور تمام مسائل میں انسانی زندگی کی تنظیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام روز مرہ کے انسانی آداب بھی سکھاتا ہے جس طرح وہ عمومی فرائض اور بڑے بڑے معاملات کی تعلیم دیتا ہے وہ ان تمام امور کے اندر نظم اور یکجہتی پیدا کرتا ہے اور زندگی کے تمام امور کو اللہ کی سمت موڑ دیتا ہے۔
یہ سورة اس امر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سورة میں ایک طرف تو اسلام کے قوانین وحد ود بتائے گئے ہیں اور دوسری طرف ایک جگہ بسنے والے انسانوں کے باہم ملاقات کے آداب سکھائے گئے…
Read the full tafseer →7 یعنی لونڈی، غلام، چار رکوع پہلے مسئلہ استیذان (اجازت لینے) کا ذکر تھا۔ یہ اسی کا تتمہ ہے۔ درمیان میں خاص خاص مناسبتوں سے دوسرے مضامین آگئے۔
1 ان تین وقتوں میں عموماً زائد کپڑے اتار دیے جاتے ہیں یا سونے جاگنے کا لباس تبدیل کیا جاتا ہے اور بیوی کے ساتھ مصاحبت بھی بیشتر ان ہی اوقات میں ہوتی ہے کبھی فجر سے قبل یا دوپہر کے وقت آدمی غسل کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی مطلع نہ ہو۔ اس لیے حکم دیا کہ ان تین وقتوں میں نابالغ لڑکوں اور لونڈی غلام کو بھی اجازت لے کر آنا چاہیے۔ باقی وقتوں میں ان کو اجانب کی طرح اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں۔ الا یہ کہ کوئی شخص اپنی مصلحت سے دوسرے اوقات میں بھی…
Read the full tafseer →اب سورت کے آخر میں معاشرتی و سماجی معاملات کے بارے میں دوبارہ کچھ ہدایات دی جا رہی ہیں۔ مضامین کی ترتیب کے اعتبار سے اس سورت کی مثال ایک ایسے خوبصورت ہار کی سی ہے جس کے درمیان میں ایک بہت بڑا ہیرا ہے اور اس کے دونوں اطراف میں موتی جڑے ہوئے ہیں۔ سورت کا پانچواں رکوع جو اس کا وسطی رکوع ہے اس طرح شروع ہوتا ہے : اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط۔ یہ اس سورت کی آیت 35 ہے جو سورت کے تقریباً وسط میں کوہ نور ہیرے کی مانند ہے اور اس کے دونوں اطراف میں معاشرتی و سماجی احکام موتیوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ…
Read the full tafseer →87 اس آیت سے پھر وہی معاشرتی احکام شروع ہو رہے ہیں جو اس سورت کا اصل موضوع ہے۔ اس آیت میں عورات کا لفظ عورت کی جمع ہے۔ یہ لفظ ان الفاظ سے ہے جو کسی دوسری زبان میں منتقل ہو کر بالکل جداگانہ مفہوم اختیار کرلیتے ہیں۔ ہماری زبان میں تو عورت مرد کی تانیث یا مادہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جبکہ عربی زبان میں (جس زبان کا یہ لفظ ہے) عورت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کو کھلا رکھنا یا اس کا کھلا رہنا انسان کے لئے باعث ننگ و عار ہو۔ اور انسان اسے چھپانا ضروری سمجھتا ہو (مفرادت امام راغب) اور مردوں کی مادہ کے لئے نساء کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی سورة کی آیت نمبر 31 میں یہ دونوں الفاظ اکٹھے استعمال ہوئے ہیں۔…
Read the full tafseer →117۔ عام آنے جانے والوں، عاقلوں، بالغوں، آزادوں کے واسطے حکم اوپر گزر چکا ہے کہ گھروں میں جب آئیں اجازت لے کر آئیں۔ اب حکم مل رہا ہے مملوکوں کے لیے، غلاموں اور کنیزوں کے لیے، جنہیں گھروں میں بار بار آنے جانے کی ضرورت رہتی ہے نیز نابالغ بچوں کے لیے جو بلاضرورت بھی گھر کے اندر چکر لگاتے رہتے ہیں، ان کے لیے اس عام حکم کی پابندیاں دشوار تھیں، اب ان کے باب میں حکم الگ نازل ہورہا ہے۔ اللہ اللہ ! مسلمان کے گھر کی اندرونی راحت کا اہتمام کس درجہ مد نظر ہے۔ کیسے کیسے جزئیات تک کے احکام اس غرض کے لیے صادر ہورہے ہیں ! (آیت) ” الذین ملکت ایمانکم “۔ پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔
118۔ (کہ یہ تین وقت عام طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
آیت نمبر 58 تا 61
ترجمہ : اے ایمان والو تمہارے مملوکوں کو یعنی غلام اور باندیوں کو اور ان کو جو تم میں سے حد بلوغ کو نہیں پہنچے آزادوں میں سے، مگر عورتوں کے معاملہ سے واقف ہوگئے ہیں تین مرتبہ یعنی تین اوقات میں اجازت لینی چاہیے، صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر میں یعنی دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور نماز عشاء کے بعد یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں (ثلٰثُ ) کے رفع کے ساتھ اس وجہ سے کہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور مبتداء کے بعد مضاف محذوف ہے، اور مضاف الیہ مضاف کے قائم مقام ہوگیا ہے، ایھی اوقات ثلٰثِ عورتٍ لکم اور (ثلٰث) نصب کے ساتھ، اس کے قبل اوقات کو مقدر مان کر حال یہ ہے کہ اپنے…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرت اے اہل ایمان ! تمہارے مملوک (یعنی باندی غلام) اور تمہارے وہ لڑکے بالے جو جوانی کو نہیں پہنچے تین اوقات میں
اجازت لے کر تمہارے پاس داخل ہوا کریں۔
اس آیت میں احکام سابقہ کی تکمیل کی طرف پھر بیان کو لوٹا یا گیا ہے کُمْ (اگرچہ ضمیر خطاب مذکر ہے لیکن اس) سے مراد مرد و عورت دونوں ہیں تغلیباً مذکر کی ضمیر ذکر کی گئی ہے۔
بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری غلام کو دوپہر کے وقت حضرت عمر ؓ : کو بلانے کے لئے بھیجا ‘ غلام حضرت عمر ؓ کے پاس (گھر کے اندر) پہنچا تو ایسی حالت میں دیکھا…
Read the full tafseer →(58) اے ایمان والو تمہارے پاس آنے کے لیے تمہارے چھوٹے غلاموں کو اور تمہارے آزادوں کو جو ابھی تک حد بلوغ کو نہیں پہنچے، تین وقتوں میں اجازت لینی چاہیے ایک تو صبح صادق کے وقت نماز صبح سے پہلے اور دوپہر کو آرام کے وقت ظہر کی نماز پڑھنے تک اور تیسرے نماز عشاء کے بعد سے صبح صادق تک، یہ تین وقت تمہارے پردہ اور خلوت کے ہیں، حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا تھا کہ میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان تینوں خلوت کے وقتوں میں ہمارے بچوں اور خادموں کو بلااجازت آنے کی ممانعت فرما دے چناچہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
ان اوقات کے علاوہ پھر بلااجازت آنے جانے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت مرحمت فرما دی، چناچہ فرمایا کہ ان…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۔۔ : یہاں سے پھر انھی احکام کی تکمیل کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو آیت (34) تک بیان ہو رہے تھے۔ اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھیں گھر میں داخلے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں اور یہ بھی کہ تین اوقات میں انھیں بھی اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، آدمی کے لونڈی و غلام اور نابالغ بچے۔ انھیں داخلے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں، کیونکہ گھروں میں ان کا آنا جانا کثرت سے ہوتا ہے اور ان پر اجازت کی پابندی لگانے سے دشواری اور تنگی پیدا ہوتی ہے۔ ”طَوّٰفُوْنَ عَلَيْكُمْ“ میں یہی حکمت بیان ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم…
Read the full tafseer →یٰٓــاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (اے ایمان والو ! چاہیے کہ اجازت طلب کریں وہ لوگ جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں) اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ غلام یا غلام اور لونڈیاں اجازت لے کر گھر میں داخل ہوں۔ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الحُلُمَ مِنْکُمْ (اور تمہارے وہ لڑکے جو ابھی جوانی کو نہیں پہنچے) آزاد لڑکوں میں سے جو بچے ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے۔
قراءت : حُلْمَ اس کو سکون لام کے ساتھ تخفیف کے طور پر پڑھا گیا ہے۔
ثَلٰثَ مَرَّاتٍ (تین مرتبہ) دن اور رات میں اور وہ اوقات یہ ہیں : مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ (فجر کی نماز سے قبل) کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
تین اوقات میں خصوصی بغاوت کی تاکید
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی اور اس کی بیوی اسماء بنت مرثدہ نے نبی ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا اسماء نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کتنی بری بات ہے ؟ کہ ایک آدمی بیوی اور اس کے شوہر کے پاس اس حال میں آتا ہے میاں اور بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوتے ہیں اور ان سے اجازت بھی نہیں لیتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملک ایمانکم ” غلاموں اور باندیوں میں سے آیت ” والذین لم یبلغوا الحلم منکم “ اور تمہارے آزاد مردوں اور عورتوں میں سے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح)…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لِيَسْتَاْذِنْكُمُ [ چاہیے کہ اجازت مانگیں تم سے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جن کے ] مَلَكَتْ [ مالک ہوئے ] اَيْمَانُكُمْ [ تمہارے داہنے ہاتھ ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] لَمْ يَبْلُغُوا [ (ابھی) نہیں پہنچے ] الْحُلُمَ [ بلوغت کو ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ۭ [ تین مرتبہ ] مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ [ فجر کی نماز کے بعد سے ] وَحِيْنَ [ اور جس وقت ] تَضَعُوْنَ [ تم لوگ رکھتے ہو (اتار کے)] ثِيَابَكُمْ [ اپنے کپڑے ] مِّنَ الظَّهِيْرَةِ [ دوپہر میں ] وَمِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَاۗءِ ڜ [ اور عشاء کی نماز کے بعد سے ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
گھروں میں داخل ہونے کے لیے خصوصی طور پر تین اوقات میں اجازت لینے کا اہتمام کیا جائے
اسی سورة نور کے چوتھے رکوع میں کسی کے پاس اندر جانے کے لیے اجازت لینے اور اجازت نہ ملنے پر واپس ہوجانے کا حکم مذکور ہے وہ حکم اجانب کے لیے ہے جن کا اس گھر سے رہنے سہنے کا تعلق نہ ہوں جس میں اندر جانے کی اجازت طلب کرنا چاہتے ہوں۔
ان دو آیتوں میں ان اقارب اور محارم کا حکم فرمایا ہے جو عموماً ایک گھر میں رہتے ہیں اور ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں اور ان سے عورتوں کو پردہ کرنا بھی واجب نہیں ہے ان میں ان بچوں کا حکم بیان فرمایا جو حد بلوغ کو نہیں پہنچے اور غلاموں کا ذکر ہے (جنہیں کام کے لیے اپنے آقا کی خدمت کے لیے بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
حکم یازدھم متعلق بہ استیذان
قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔
(ربط) آغاز سورت میں عفت وعصمت وآداب معاشرت کے متعلق احکام کا ذکر تھا جن میں ایک حکم استیذان کا تھا کہ کسی گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، اب پھر انہی احکام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان آیات میں غلاموں اور نابالغ بچوں کو اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم ہے اور شروع سورت میں جو اجازت لینے کے احکام مذکور تھے وہ اجنبیوں کے متعلق تھے کہ کسی کے مکان میں بغیر اجازت داخل ہونے کی ممانعت تھی، اب یہ آیتیں اسی گزشتہ حکم استیذان کا تتمہ اور تکملہ ہیں کہ جو لونڈی اور غلام اور نابالغ بچے گھر میں…
Read the full tafseer →61:۔ دوسرا حصہ : اصلاح و تطہیر معاشرہ کے لیے تین قوانین، مخلصین اور منافقین کے اعمال کا تقابل، آداب رسول ﷺ اور دعوی توحید کا دوسری بار ذکر جس کی وجہ سے منافقین نے تہمت لگائی تھی۔ ” یا ایہا الذین اٰمنوا الخ “: یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ پہلے معاشرت کے تین آداب بیان کیے گئے ہیں جو بدکاری سے روکنے والے اور عفت و عصمت کی حفاظت میں ممد و معاون ہیں گویا یہ آداب ان احکام وہدایات کا تتمہ ہیں جو پہلے حصے میں مذکور ہوچکی ہیں۔ قیل ھذا رجوع الی تتمۃ الاحکام السابقۃ بعد الفراغ من الایات الدالۃ علی وجوب الطاعۃ (جامع ص 312) ۔ یہ پہلا قانون معاشرت ہے۔ تین وقت ایسے ہیں جن میں عموماً زائد کپڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں مسئلہ خلافت اور رسول کی اطاعت کا ذکر تھا اس سے پہلے توحید کے عقلی دلائل بیان کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے اللہ نے اپنے نور کی مثال بیان فرمائی۔ ایمان والوں کے انعامات اور کفر شرک کرنے والوں کے انجام کا ذکر تھا۔ ابتدائے سورة میں حدود کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نظام عصمت وعفت کی حفاظت کے لئے تعزیری قوانین بیان فرمائے تاکہ لوگ برائی اور بےحیائی سے بچ جائیں۔ اللہ نے اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا لا تتبعوا خطوت الشیطن ، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا۔ اپنے خواہش نفسانی پر چلنا بھی شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف ہے اور شیطان ہمیشہ برے راستے پر ڈالتا ہے ، لہٰذا اللہ نے اس سے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِـيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ 0ۭ مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَحِيْنَ تَضَعُوْنَ ثِيَابَكُمْ مِّنَ الظَّہِيْرَۃِ وَمِنْۢ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَاۗءِ 0 ۣۭ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ 0ۭ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْہِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَہُنَّ 0ۭ طَوّٰفُوْنَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰي بَعْضٍ 0ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ 0ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 58
استئذان
: طلب الإذن، قال تعالی: إِنَّما يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ [ التوبة/ 45] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ترکیب : ثلث مرات فی الاصل مصدرو قد استعملت ظرفافعلی ھذا نصبہا علی الظرفیۃ والعامل لیستاذنکم والقواعد جمع قاعدعن النکاح و امن القعود فقاعدۃ۔
یعنی بڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کے قابل نہ رہی ہوں اپنے گھروں میں اپنے بالائی کپڑے اتار کر بیٹھا کریں بشرطیکہ زینت یعنی وہ اعضاء جو عورتوں کی زینت ہے اور سینہ اور رانیں نہ کھول دیا کریں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ 12 منہ
تفسیر : منجملہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے ایک استیذان و اجازت کا مسئلہ بھی ہے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو ادب سکھاتا ہے جو تدبیر المنزل کے متعلق ایک بڑا اہم مسئلہ تھا جس سے آج تک تمام کتب الہامیہ خالی تھیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاذِنْـکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُـکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ط مِنْ قَـبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَحِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَکُمْ مِّنَ الظَّہِیْرَۃِ وَمِنْم بَعْدِصَلٰوۃِ الْعِشَآئِ قف ط ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّـکُمْ ط لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلاَ عَلَیْھِمْ جُنَاحٌ م بَعْدَھُنَّ ط طَوّٰفُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 58)
(اے ایمان والو ! لازم ہے کہ تمہارے مملوک (غلام اور لونڈیاں) اور تمہارے اندر کے وہ جو ابھی بلوغ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز
مومنوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے غلام اور ان کے نابالغ بیٹے تین اوقات میں ان سے اجازت لے کر ان کی خلوت گاہوں میں داخل ہوا کریں کیونکہ یہ تین اوقات پردہ کے اوقات ہیں۔ تینوں اوقات کے علاوہ ان کے غلاموں اور نابالغ بچوں کا خلوت گاہ میں آنے پر کوئی گناہ نہیں۔ اس اجازت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے گھر یلو کام کے لیے باربار خلوت گاہ میں آنا جانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اصول بیان کرتا ہے تاکہ تمہاری معاشرت برائی اور بےحیائی سے محفوظ رہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہر کام اور بات کو پوری طرح جانتا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت اور دانائی ہوتی ہے۔ ہاں جب نابالغ بچے…
Read the full tafseer →تین آیات کے درجات :
58: یٰٓــاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (اے ایمان والو ! چاہیے کہ اجازت طلب کریں وہ لوگ جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں) اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ غلام یا غلام اور لونڈیاں اجازت لے کر گھر میں داخل ہوں۔ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الحُلُمَ مِنْکُمْ (اور تمہارے وہ لڑکے جو ابھی جوانی کو نہیں پہنچے) آزاد لڑکوں میں سے جو بچے ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے۔
قراءت : حُلْمَ اس کو سکون لام کے ساتھ تخفیف کے طور پر پڑھا گیا ہے۔
ثَلٰثَ مَرَّاتٍ (تین مرتبہ) دن اور رات میں اور وہ اوقات یہ ہیں : مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ (فجر کی…
Read the full tafseer →آیت مبارکہ کا شان نزول۔
58۔ یا ایھا الذین آمنوالیستاذنکم ، ،، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ رسول اللہ نے ایک انصاری غلام کو دوپہر کے وقت حضرت عمر کو بلانے کے لیے بھیجا حضرت عمر کے پاس پہنچاتوایسی حالت میں دیکھا کہ حضرت عمر کو اس حالت میں دکھایاجانا ناگوار گزرا۔ اس پر یہ آیت ، والذین لم یبلغوا منکم، نازل ہوئی۔
مقاتل کا بیا ہے کہ حضرت اسماء بنت مرثد کا ایک غلام تھا جو اکثر حضرت اسماء کے پاس ایسے وقت میں آجاتا تھا کہ اس وقت غلام کا آنا حضرت اسماء کو ناگوار گزرتا تھا۔ حضرت اسماء رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول اللہ ہمارے خادم اور خدام ایسے وقت ہمارے پاس آجاتے ہیں کہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
58۔ 59:۔ شروع سورت میں ہر وقت گھر والوں سے اجازت لے کر پرائے گھر میں جانے کا حکم تھا ‘ ان آیتوں میں غلاموں اور نابالغ لڑکوں کو یہ حکم ہے کہ فجر کی نماز سے پہلے ‘ دوپہر ‘ اور عشاء کی نماز کے بعد غلام اپنے آقا کے اور نابالغ لڑکے اپنے رشتہ داروں کے گھر میں بغیر اجازت کے نہ جاویں ‘ یہ تینوں وقت لوگوں کے آرام کرنے اور ننگے کھلے رہنے کے ہیں ‘ اس واسطے ان وقتوں کے لیے یہ خاص حکم نازل فرمایا اگرچہ سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ اَلَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَا نُکُمْ میں غلام لونڈی دونوں داخل ہیں یا یہ حکم فقط غلاموں کے لیے ہے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول یہی ہے کہ اس حکم میں لونڈی داخل نہیں ہے ‘…
Read the full tafseer →آیت نمبر 58
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ ان کے غلام اور نابالغ بچے اجازت طلب کر کے ان کے پاس آیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کی ہے اور یہ کہ اجازت طلب کرنے والوں کے لئے پردے کے یہ تین اوقات ہیں۔ عشاء کی نماز کے بعد جب سونے کا وقت ہوتا ہے اور فجر کی نماز کے لئے بیدر ہونے سے پہلے۔ غالب حالات میں، رات کے وقت سونے والے نے معمول کے لباس کی بجائے شب خوابی کا لباس پہنا ہوتا ہے۔۔۔ البتہ دن کے وقت، قیلولہ وغیرہ میں انسان بسا اوقات اسی معمول کے لباس ہی میں ہوتا ہے۔ اس کو اپنے اس ارشاد کے ساتھ مقید کیا ہے۔ (وحین تضعون ثیابکم من الظھیرۃ) ، ، دوپہر کے وقت جب تم (قیلولہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
غلاموں اور لونڈیوں نیز بچوں کا گھروں میں جانے کے لئے اذن طلب کرنے کا بیان
قول باری ہے : (یایھا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرات۔ ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، لازم ہے کہ تمہارے مملوک اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں، تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں تاآخر آیت۔ لیث بن سلیم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے نیز سفیان نے ابوحصین سے اور انہوں نے ابوعبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ قول باری : (لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم ) عورتوں یعنی لونڈیوں کے ساتھ خاص ہے ، مرد یعنی غلام دن اور رات کے دوران ہر حال میں اجازت لے کر…
Read the full tafseer →124 مملوکوں اور نابالغوں کے لیے خاص ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے غلاموں اور نابالغ بچوں کیلئے تین اوقات میں اجازت لینا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ تینوں وہ خاص اوقات ہیں جن میں انسان تخلیہ اور تنہائی سے کام لیتا ہے۔ اوپر آیت نمبر 31 میں ارشاد فرمایا گیا کہ گھروں میں داخلے کیلئے اجازت لینے کی جو شرط عائد کی گئی ہے اس سے نابالغ بچے اور تمہارے اپنے غلام مستثنی ہیں۔ اب ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ان تین وقتوں میں یہ بھی بغیر اجازت لیے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ اوقات خاص تخلیے کے اوقات ہوتے ہیں ۔ سبحان اللہ ۔ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں دوسروں کے آرام و راحت اور ان کی سہولت و آسانی کا کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب
تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اور اسلامی معاشرہ تو ایک پاکیزہ معاشرہ ہے جسے باطل قوتیں دبا نہیں سکتیں مگر اس کی پاکیزگی اور اس کی قوت کو قائم رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے جیسے پہلے گھر آنے کے لیے آداب اور اجازت لینے کی تعلیم دی گئی تو یہاں گھر کے اندر رہنے والوں کے لیے ارشاد ہوتا ہے تمہارے لونڈی غلام نوکر چاکر اور چھوٹے بچے بھی اگر گھر کے کسی فرد کے کمرے میں جانا چاہیں تو تین اوقات ضرور اجازت لے کر جائیں ، صلوۃ فجر سے پہلے یا جب تم لوگ دوپہر کو آرام کرتے ہو اور زائد لباس وغیرہ اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد کہ یہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی بےتکلفی سے آرام کر رہا ہوتا ہے اور اپنے کمرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
1 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” وہ احتلام کی عمر کو نہیں پہنچتے مراد ہے کہ ابھی بچے ہیں۔ 2 ۔ یعنی جن میں تم تنہایا اپنی بیویوں کے ساتھ ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ غلاموں اور بچوں کا تمہارے پاس اچانک آپہنچا مناسب نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ” اکثر لوگ اس آیت پر ایمان نہیں لائے (یعنی اس پر عمل کرنے سے بےپروا ہیں) میں تو اپنی چھوٹی سی بچی کو بھی جو سامنے کھڑی ہے حکم دیتا ہوں کہ ان اوقات میں اذن لے کر آیا کرے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) 3 ۔ اگر ان کے لئے بھی ضروری کردیا جاتا کہ جب آئیں اجازت لے کر آئیں تو گھرکے کام کاج میں سخت دقت پیش آتی۔ گویا خدمت گزاری کی ضرورت کے پیش نظر اجازت دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →(24:58) لیستاذنکم۔ فعل امر واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یستاذن میں صیغہ واحد مذکر غائب کا ہے لیکن جمع مذکر غائب کے لئے استعمال ہوا ہے چاہے کہ وہ تم سے اجازت لے لیا کریں۔
(1) الذین ملکت ایمانکم۔ وہ جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے۔ یعنی تمہارے مملوک ۔ غلام۔ ملازم۔
(2) والذین لم یبلغوا الحلم منکم۔ اور تم میں سے وہ جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے۔ الحلم۔ الحلم کے معنی نفس و طبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑک نہ اٹھے۔ اس کی جمع احلام ہے حلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لے لیتے ہیں جیسا کہ مسبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
لغات القرآن : آیت نمبر 58 تا 60 :
لم یبلغوا (نہیں پہنچے۔ بالغ نہیں ہوئے) ‘ الحلم (سمجھ۔ عقل۔ شعور) ‘ مرات (مرۃ) کئی مرتبہ ۔ بار بار ‘ (تضعون) تم اتار کر رکھ دیتے ہو ‘(ثیاب (ثوب) کپڑے ‘ عورت (عورۃ) چھپانے کی چیزیں ‘(طوافون) پھرا کرتے ہیں۔ آتے جاتے رہتے ہیں ‘(الاطفال) (طفل) بچے ‘(استاذن) اجازت مانگی (القواعد) (قاعدۃ) بیٹھ رہنے والیاں۔ بڑی بوڑھیاں ‘ لایرجون (وہ امید نہیں رکھتے۔ توقع نہیں رکھتے) ‘ غیر متبرجت (ظاہرنہ کرتی ہوں) ‘ ان یستعففن (یہ کہ وہ بچپن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 58 تا 60 :
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اور احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے قاعدے طریقے مقرر فرمادیئے ہیں جن کی پابند کرنے سے…
Read the full tafseer →گھروں میں آنے اور نہ آنے کی اجازت کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ایک انصاری غلام مدلج بن عمر کو دوپہر کے وقت حضرت عمرؓ کو بلانے کے لیے بھیجا وہ غلام بغیر اجازت حضرت عمر کے مکان میں چلا گیا، جبکہ عمر ؓ بےتکلف اپنے دولت سرائے میں تشریف رکھتے تھے غلام کے اچانک چلے آنے سے آپ کے دل میں خیال ہوا کہ کاش غلاموں کو اجازت لے کر مکانوں میں داخل ہونے کا حکم ہوتا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →[56] یعنی لونڈی غلام۔
[57] یعنی ان پر الزام بلا اجازت چلے آنے میں نہیں اور تم پر الزام انھیں منع نہ کرنے میں نہیں۔
[58] یعنی تمہارے پاس آنے جانے کی ضرورت لگی ہی رہتی ہے تو باربار اجازت لینے میں تکلیف ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
غلاموں اور نوکروں کیلئے قواعد :
(ف 1) ان میں پھر سورة نور کے اصل موضوع کی طرف رجوع فرمایا ہے سورة کا اصل موضوع تمدن انسانی کے مسائل مہمتہ کو بیان کرنا ہے ، اور یہ بتانا ہے کہ اخلاق حسنہ اور عوائد رسمیہ میں کون کون سی باتیں داخل ہیں ، قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ موضوع کی تفصیلات میں بھی تنوع کو باقی رکھتا ہے ، اور صرف مسئلہ کے مالہ وما علیہ پر عموما بحث نہیں کرتا ، کیونکہ اس طریق سے قرآن سے میں جو ایک جاذبیت اور وسعت معانی ہے ، وہ جاتی رہتی ہے تنوع کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا بےتکان پڑھتا چلا جاتا ہے ، اور طبیعت میں کسی نوع کا تکدر پیدا نہیں ہوتا اور اس کی مثال…
Read the full tafseer →(58) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو تمہارے لونڈی اور غلام تم میں کے وہ ہوشیار لڑکے جو ابھی حد بلوغ کو نہیں پہنچے اور بالغ نہیں ہوئے ان کو چاہئے کہ وہ تین اوقات میں تمہارے پاس تم سے اجازت لیکر آئیں ایک تو صبح کی نماز سے پہلے اور ایک جب تم دوپہر کے وقت اپنے کپڑے اتار کر رکھ دیا کرتے ہو اور ایک عشاء کی نماز کے بعد یہ مذکورہ تین وقت تمہارے پردے کے اوقات ہیں ان اوقات کے علاوہ بلااجازت آنے جانے میں نہ تم پر کوئی الزام ہے اور نہ ان لونڈی غلاموں اور نابالغ لڑکوں پر کوئی الزام ہے کیونکہ یہ لوگ بکثرت خدمت کی غرض سے تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس کوئی کسی کے پاس۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی یہ اوقات چونکہ عادة اور غالبا تخلیہ اور استراحت کے ہیں، ان میں اکثر آدمی بےتکلفی سے رہتے ہیں، اس لئے اپنے مملوکین اور نابالغ بچوں کو سمجھا دو کہ بےاطلاع اور اجازت لئے بغیر تمہارے پاس نہ آیا کریں۔
(فائدہ) کچھ تخصیص تین وقت کی نہیں اس وقت عادت اسی کے موافق تھی، باقی جہاں جیسی ضرور ہو وجود علت پر مدار ہے۔
5۔ پس سب مصالح اور حکمتوں پر اس کی نظر ہے، اور احکام میں ان کی رعایت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کے لئے پردے کے احکام کی پہلی اور ابتدائی صورت :
92۔ لونڈی غلام اور گھر میں کام کاج کرنے والے لوگوں کی آمدورفت لازم وضروری ہے اور نابالغ بچوں کا آنا جانا بھی ناگزیر ہے اس لئے اگر ان کو بھی ہر وقت گھر میں آنے جانے کی اجازت حاصل کرنی پڑے گی تو بہت مشکل ہوجائے گی اس لئے گھر والوں اور ان سب لوگوں کے لئے جن کا گھر بھی آنا جانا ضروری ہے انکی سہولت کے پیش نظر تین اوقات مقرر کردیئے گئے کہ ان اوقات میں اجازت حاصل کیے بغیر وہ اندر داخل نہ ہوں تاکہ میاں بیوی اپنے محبت آمیز تعلقات سے تسکین حاصل کرسکیں جو تین اوقات کئے گئے ہیں یہ بالکل فطری ہیں پہلا وقت وہ جب عادت کے مطابق کھانے پینے سے فارغ ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
Commentary
It has been described in the beginning of this Surah that the injunctions of Surah Nur mostly relate to prevention of obscenity and vulgarity. Under the same sequence some injunctions regarding social etiquette and mutual meetings are also enjoined. After that the injunctions about Hijab for women are prescribed.
The injunction for relatives and mahrams for seeking permission at specific timings
Earlier in this Surah the social etiquette and manners for mutual meetings were described in verses 27, 28 and 29 under the heading 'injunctions on seeking permission', where it was…
Read the full tafseer →85. From here again, the commandments for social life are being resumed. It is just possible that this portion of Surah An-Noor was revealed at a later date.
86. According to the majority of commentators and jurists, this refers to both male and female slaves. Ibn Umar and Mujahid, however, have expressed the opinion that it refers to the male slaves only. But in view of the commandment that follows there appears to be no reason for making this distinction. Violation of one’s privacy by his children is as undesirable as by his female slaves. All jurists agree that the commandment given in…
Read the full tafseer →