Explained with ayahs 56–57
صلوۃ اور حسن سلوک کی ہدایات
اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ اسی کے لئے نمازیں پڑھتے رہو۔ اور ساتھ ہی اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ ضعیفوں، مسکینوں، فقیروں کی خبر گیری کرتے رہو۔ مال میں سے اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ نکالتے رہو۔ اور ہر امر میں اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو۔ جس بات کا وہ حکم فرمائے لاؤ جس امر سے وہ روکیں رک جاؤ۔ یقین مانو کہ اللہ کی رحمت کے حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے (اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 71) 9۔ التوبہ :71) اللہ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور بضرور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
سورة النُّوْر 83
جیسا کہ اس سلسلہ کلام کے آغاز میں ہم اشارہ کرچکے ہیں، اس ارشاد سے مقصود منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو خلافت عطا فرمانے کا جو وعدہ کیا ہے اس کے مخاطب محض مردم شماری کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جو صادق الایمان ہوں، اخلاق اور اعمال کے اعتبار سے صالح ہوں، اللہ کے پسندیدہ دین کا اتباع کرنے والے ہوں، اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو کر خالص اللہ کی بندگی و غلامی کے پابند ہوں۔ ان صفات سے عاری اور محض زبان سے ایمان کے مدعی لوگ نہ اس وعدے کے اہل ہیں اور نہ یہ ان سے کیا ہی گیا ہے۔ لہٰذا وہ اس میں حصہ دار ہونے کی توقع نہ رکھیں۔
بعض لوگ خلافت کو محض حکومت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
خلاصہ تفسیر
(اے مجموعہ امت) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں (یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے نور ہدایت کا کامل اتباع کریں) ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے) زمین میں حکومت عطا فرماوے گا جیسا ان سے پہلے (اہل ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی (مثلاً بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں پر غالب کیا پھر ملک شام میں عمالقہ جیسی بہادر قوم پر ان کو غلبہ عطا فرمایا اور مصر و شام کی حکومت کا ان کو وارث بنایا) اور (مقصود اس حکومت دینے سے یہ ہوگا کہ) جس دین کو (اللہ تعالیٰ نے) ان کے لئے پسند کیا ہے (یعنی اسلام جیسا کہ دوسری آیت میں ہے رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ…
Read the full tafseer →ان منافقین کے دلوں پر اسلام کے مخالفین خصوصاً قریش کی جو ہیبت طاری تھی یہ اس کو دور فرمایا ہے کہ ان کافروں کے متعلق یہ خیال نہ کرو کہ یہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے۔ یہ اس زمین میں بھی ہمارے قابو میں ہیں اور آخرت میں تو ان کے لئے بہر حال دوزخ ہے ہی اور یاد رکھو کہ وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →57-1یعنی آپ کے مخالفین اور مکذبین اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی گرفت کرنے پر ہر طرح قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
41: مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام نے کفار کے ظلم و ستم کا سامنا کیا تھا، اور جب وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے تو اس کے بعد بھی کافروں کی طرف ہر وقت حملوں کا خوف لاحق رہتا تھا۔ اس موقع پر ایک صاحب نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا وقت بھی آئے گا کہ ہم ہتھیار کھول کر چین سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی، اور اس میں پیشین گوئی فرمائی گئی کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو زمین پر اقتدار حاصل ہونے والا ہے، چنانچہ اس وعدے کے مطابق آنحضرت ﷺ ہی کے زمانے میں پورا جزیرہ عرب اسلام کے جھنڈے تلے آچکا تھا اور خلافت راشدہ کے دور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(واقیمو الصلوۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولبئس المصیر) (56 : 57)
اللہ کی جانب تیاری کی یہ ہیں نہایت ہی مختصر شرائط۔ اتصال باللہ ‘ تعلق باللہ اور نماز کے ذریعہ دل کو درست کرنا اور اپنائے زکوۃ کے ذریعہ بخل اور دولت پرستی کے جذبات پر قابو پانا ‘ رسو اللہ ﷺ کی اطاعت کرنا ‘ نہایت ہی خوشدلی کے ساتھ۔ چھوٹے اور بڑے معاملات میں اللہ کے احکام کو نافذ کرنا اور زندگی کا وہ منبع اختیار کرنا جو اللہ نے زندگی گزارنے کے لیے تجویز کیا ہے۔
لعلکم ترحمون (24 : 56) ” امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا “۔ یعنی زمین میں تمہیں فساد خوف ‘ بےچینی اور گمراہی سے بچائے گا۔ اور آخرت میں غضب الہی ‘ عذاب الہی اور اللہ کے انتقام سے تمہیں بچائے…
Read the full tafseer →6 یہ نیک بندوں کے بالمقابل مردود و مغضوب لوگوں کا انجام بتلایا۔ یعنی جبکہ نیکوں کو ملک کی حکومت اور زمین کی خلافت عطا کی جاتی ہے، کافروں اور بدکاروں کی ساری مکاریاں اور تدبیریں شکست ہوجاتی ہیں۔ اللہ کے ارادہ کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اگر تمام خدائی میں ادھر ادھر بھاگتے پھریں تب بھی وہ خدائی سزا سے اپنے کو نہیں بچا سکتے۔ یقینا ان کو جہنم کے جیل خانہ میں جانا پڑے گا۔
Read the full tafseer →آیت 57 لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ج ”
ان کے متعلق کسی کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ یہ زمین میں اللہ کے قابو سے باہر نکل جائیں گے۔
Read the full tafseer →86 کافر سے مراد یہاں سب غیر مسلم ہیں۔ یعنی کفار مکہ، عرب کے مشرک قبائل، مدینہ کے یہود و منافقین، یہ سب لوگ مل کر اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں تب بھی یہ لوگ اسلام کی راہ روک نہیں سکتے۔ اللہ کا دین تو یقیناً بلند ہو کے رہے گا۔ رہے یہ معاندین تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی انھیں رسوا کرے گا اور آخرت میں بھی انھیں جہنم کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
Read the full tafseer →116۔ یعنی آخرت میں تو ان کے لیے عذاب جہنم ہے ہی۔ دنیا میں بھی خیال نہ گزرے کہ ان کی چالیں خدائی تدبیروں پر غالب آسکتی ہیں۔ اور معاندین منکرین ہمارے قہر کی گرفت سے بچ کر کہیں نکل جاسکتے ہیں۔ خطاب یہاں عام ہے ہر پڑھنے والے سے (آیت) ” فی الارض “ یعنی زمین کے کسی حصہ میں بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51 تا 57
ترجمہ : ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا (عملاً ) مان لینا، یعنی ایسا کہنا ہی مومنین کی شان کے لائق ہے اور ایسے ہی لوگ اس قول کی وجہ سے فلاح پائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ کا خوف رکھے اور اس (کے عذاب) سے ڈرے یَتَّقِہِ یا کے سکون اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی اس کی اطاعت کرے پس ایسے ہی لوگ جنت پاکر بامراد ہوں گے نہایت پختگی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم فرمائیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں، آپ کہہ…
Read the full tafseer →لا تحسبن الذین کفروا معجزین فی الارض یہ مت خیال کرنا کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ زمین
پر (اللہ کو ان کی گرفت یا ان کو ہلاک کرنے سے) عاجز کردیں گے۔
وماوہم النار۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
ولبئس المصیر۔ اور کوئی شک نہیں کہ دوزخ برا ٹھکانہ ہے۔
ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت اسماء بنت مرثد کا ایک غلام تھا جو اکثر حضرت اسماء کے پاس ایسے وقت میں (بلا اجازت) آجاتا تھا کہ اس وقت غلام کا آنا حضرت اسماء کو ناگوار گزرتا تھا ‘ حضرت اسماء ؓ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے خادم اور غلام ایسے وقت ہمارے پاس آجاتے ہیں کہ اس وقت ان کا آنا ہم…
Read the full tafseer →(57) اے محمد ﷺ کفار مکہ کے متعلق یہ خیال مت کرنا کہ وہ عذاب الہی سے زمین میں بھی چھٹکارا پا جائیں گے اور آخرت میں تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے کہ شیاطین سمیت اس میں داخل ہوں گے۔
Read the full tafseer →لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ۔۔ : مشرکین عام طور پر ہمیشہ تعداد اور قوت میں زیادہ رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی یہی حال تھا کہ مسلمان کمزور تھے، ان سے خوف زدہ رہتے تھے، تو ایسے حالات میں ان کے لیے خلافت کا وعدہ عجیب اور ناممکن سی بات نظر آتا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ کافروں کے متعلق یہ گمان ہرگز نہ کریں کہ وہ اللہ کو مقابلے میں عاجز کردیں گے، یہ لوگ جتنی تعداد اور قوت میں ہوں، جتنی چال بازیاں اور فوجیں اکٹھی کرلیں، مقابلہ ان کا اللہ تعالیٰ سے ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ کسی صورت مقابلے میں عاجز نہیں کرسکتے۔ کعب ؓ کا شعر ہے
ھَمَّتْ سَخِیْنَۃُ أَنْ…
Read the full tafseer →لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ (ہر گز کافر لوگ گمان نہ کریں کہ وہ زمین میں ہمیں تھکا دیں گے) وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قابو نہ ہو۔
اس میں تاءؔ خطاب کیلئے ہے جو نبی اکرم ﷺ کو کیا جارہا ہے اور وہی فاعل ہے اور دو مفعول نمبر 1۔ الذین کفروا اور نمبر 2۔ معجزین ہیں۔
قراءت : شامی اور حمزہ نے یاؔء سے پڑھا ہے۔ فاعل نبی اکرم ﷺ ہی ہیں کیونکہ پہلے آپ کا تذکرہ ہوا اور الذین کفروا مفعول اول ہے جبکہ معجزین مفعول دوم ہے۔
وَمَاْوٰٹھُمُ النَّارُ (اور ان کاٹھکانہ آگ ہے)
اس کا عطف لا تحسبن الذین کفروا معجزین پر ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے۔ الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے بارء ؓ سے آیت وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور ہم شدید خوف میں تھے۔
مکہ کے مسلمانوں سے خلافت کا وعدہ
2۔ عبدبن حمید وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب مکہ مکرمہ میں تقریبا دس سال تک پوشیدہ طور پر اللہ وحدہ لاشریک اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے رہے اور وہ ڈرتے تھے کہ وہ قتال کا حکم نہیں دیے گئے تھے یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم دیے گئے وہ لوگ مدینہ منورہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قتال کا حکم فرمایا جبکہ خوف میں مبتلا تھے اور صبح شام مسلح رہتے تھے۔ پھر ان کے…
Read the full tafseer →لَا تَحْسَبَنَّ [ ہزگز گمان مت کرو ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنہوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے ] فِي الْاَرْضِ ۚ [ زمین میں ] وَمَاْوٰىهُمُ [ اور ان کا ٹھکانہ ] النَّارُ ۭ [ آگ ہے ] وَلَبِئْسَ [ اور یقینا بری ہے (وہ)] الْمَصِيْرُ [ لوٹنے کی جگہ ]
نوٹ۔ 1: یہ خطاب فرمایا رسول اللہ ﷺ کے وقت کے لوگوں کو یعنی جو ان میں اعلیٰ درجہ کے نیک اور رسول ﷺ کے کامل متبع ہیں رسول اللہ ﷺ کے بعد ان کو زمین کی حکومت دے گا اور جو دین اسلام خدا کو پسند ہے، ان کے ہاتھوں سے دنیا میں اس کو قائم کرے گا۔ گویا جیسا کہ لفظ استخلاف میں اشارہ ہے وہ لوگ محض دنیوی بادشاہوں کی طرح نہ ہوں گے بلکہ…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ) (اے مخاطب کافروں کے بارے میں یہ خیال نہ کر کہ روئے زمین میں عاجز کرنے والے ہیں) ۔
اس میں یہ بتادیا کہ کوئی بھی خیال کرنے والا یہ خیال نہ کرے کہ کافر لوگ زمین میں عاجز کرنے والے ہیں کیونکہ اللہ کی گرفت سے چھٹکارہ نہیں ہوسکتا اور دنیا کے کسی گوشہ میں بھاگ کر اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ اور موت تو بہر حال سب کو آنی ہی ہے۔ زمین میں جو شخص جہاں بھی ہو اپنی مقررہ اجل کے موافق اس دنیا سے چلا جائے گا اور کافر کا عذاب تو موت کے وقت سے ہی شروع ہوجاتا ہے کافروں کو جو دنیا میں عذاب ہے وہ اپنی جگہ ہے اور آخرت میں ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین
قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…
Read the full tafseer →60:۔ ” لا تحسبن الخ “ یہ منکرین توحید کے لیے تخویف اخروی ہے۔ مشرکین اس طرح بےفکر سے کفر و شرک میں منہمک اور ہمارے احکام سے بغاوت و سرکشی میں غرق ہیں گویا وہ کہیں بھاگ کر ہماری گرفت سے بچ جائینگے انہیں اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے۔ وہ جہاں بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں حاضر کرلے گا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے اس سے وہ ہرگز بچ نہیں سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافق قسم کے لوگوں کی مذمت بیان کی کہ جب ان کے تنازعات کے تصفیہ کے لئے ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ پھر اگر انہیں اپنی مطلب براری کی توقع ہو تو آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرمایا یہ بڑے ظالم قسم کے لوگ ہیں۔ ان کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا ہے۔ یا یہ شک میں سرگرداں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے ان پر زیادتی ہوگی۔ دوسری طرف اللہ نے اہل ایمان کے متعلق فرمایا کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو فوراً سمعنا واطعنا کہہ دیتے ہیں ، یعنی ہم نے سن لیا۔ اور اطاعت کے لئے حاضر ہیں۔…
Read the full tafseer →لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ 0ۚ وَمَاْوٰىہُمُ النَّارُ 0ۭ وَلَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 5 7ۧ
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214]
( ح س ب ) الحساب
اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ترکیب : یستخلفنھم ہو جواب قسم مضمر ای وعدھم واقسم لیستخلفنہم یعبدوننی حال من الذین اواستیناف، لایشرکون حال من الواو ای یعبد وننی غیر مشرکین۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں وہی فلاح پاویں گے وہی کامیاب ہوں گے۔ آخرت کی کامیابی تو متعدد مقامات پر بیان ہوچکی تھی اب یہاں دنیا کی کامیابی بیان فرماتا ہے بقولہ وعداللہ الخ اور اس وعدہ کے بعد پھر ان مسلمانوں کو کہ جن کے لیے خلافت و امامت اور زمین پر حکومت و شوکت کا وعدہ کیا ہے واقیمو الصلوۃ واتوا الزکوۃ الخ کا حکم دیتا ہے کہ زمین پر اقتدار پاکر اور سلطنت و شوکت حاصل کر کے بنی اسرائیل کی طرح خدا اور اس کے رسول…
Read the full tafseer →لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ج وَمَاْ وٰہُمُ النَّارُ ط وَلَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (النور : 57)
(یہ گمان ہرگز نہ کیجیے کہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے وہ زمین میں ہمیں عاجز کرنے والے ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔ )
کافروں کو تنبیہ
آخر میں کافروں کو تنبیہ کی گئی ہے اور بالواسطہ منافقین کو سوچنے کا موقع دیا گیا ہے کہ جو لوگ ” وہ یہود ہوں یا مشرکینِ عرب “ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس سرزمین پر اللہ تعالیٰ کے دین کو آگے بڑھنے سے روک دیں گے اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ جو مسلمانوں کے ساتھ حکومت اور غلبے کا وعدہ کرچکا ہے اس کے ایفا میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے سیاسی اقتدار کی ضمانت۔
اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان بندوں کو خوش خبری دی گئی کہ تم ہی کامیاب ہونے والے ہو۔ کامیابی سے مراد صرف آخرت کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی خلافت یعنی سیاسی اقتدار بھی اس میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پہلے بندوں کے ساتھ بھی تھا اور آئندہ آنے والے نیک لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔ نہ صرف تابع فرمان لوگوں کو اقتدار عطا کیا جائے گا بلکہ جس دین کی وجہ سے ان کی مخالفت کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ دین کو عملی طور پر بھی نافذ کرے گا اور مسلمانوں کا خوف دور کرکے انہیں ہر اعتبار سے استحکام اور امن وامان عطا…
Read the full tafseer →57: لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ( ہرگز کافر لوگ گمان نہ کریں کہ وہ زمین میں ہمیں تھکا دیں گے) وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قابو نہ ہو۔
نحو : اس میں تاءؔ خطاب کیلئے ہے جو نبی اکرم ﷺ کو کیا جارہا ہے اور وہی فاعل ہے اور دو مفعول نمبر 1۔ الذین کفروا اور نمبر 2۔ معجزین ہیں۔
قراءت : شامی اور حمزہ نے یاء سے پڑھا ہے۔ فاعل نبی اکرم ﷺ ہی ہیں کیونکہ پہلے آپ کا تذکرہ ہوا اور الذین کفروا مفعول اول ہے جبکہ معجزین مفعول دوم ہے۔
وَمَاْوٰٹھُمُ النَّارُ (اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے)
نحو : اس کا عطف لا تحسبن الذین کفروا معجزین پر ہے۔ گویا کلام اس…
Read the full tafseer →57۔ لاتحسبن الذین کفروا، ، عامر اور حمزہ نے ، لایحسبن ، یاء کے ساتھ پڑھا ہے کافر لوگ یہ گمان نہ کریں اپنے اوپر ، معجزین فی الارض ، دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں خطاب حضرت محمد کو ہے کہ اے محمد آپ گمان نہ کریں کہ یہ کافر لوگ آپ کو عاجز کردیں گے۔ وماواھم النار ولبئس المصیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
56۔ 57:۔ اوپر حکومت اور امن کے عطا فرمانے کی خوشخبری کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اس خوشخبری کا وقت آنے تک ایماندار لوگوں کو چاہیے کہ اللہ کے رسول کی نصیحت کے موافق بدنی اور مالی عبادت میں لگے رہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس خوشخبری کے ظہور کا وقت جلدی دکھادے ‘ اوپر کی خوشخبری کے سننے کہ بعد یہ خیال گزر سکتا تھا کہ اب تک تو دشمنوں کا غلبہ چلا آتا ہے پھر ایک دفعہ ہی یہ سب دشمن کیونکر مغلوب ہوجاویں گے اور مسلمانوں کو حکومت کس طرح مل جاوے گی اس واسطے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر لوگوں کو سمجھایا کہ ان دشمنوں پر اللہ تعالیٰ کوئی دنیوی عذاب بھیجے تو ان کو دنیا بھر میں کہیں بھاگنے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
آیت نمبر 56)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے تمام ارکان، شرائط اور آداب کے ساتھ قائم کرنے اور اس مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا کیا اور ان کو اس مال پر خلیفہ بنایا کہ وہ یہ مال محتاجوں اور ان لوگوں پر خرچ کریں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوٰۃ کے ضمن میں کیا ہے اور یہ دو عبادات سب سے زیادہ جلیل القدر عبادات ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد، اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کی جامع ہیں پھر اس حکم پر عطف کے ساتھ عام حکم دیا، فرمایا : (واطیعو الرسول) ، ، اور اطاعت کرو رسول کی۔ ، ، یعنی او امر کی تعمیل اور نواہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
خدا کی زمین میں اصل خلیفہ کون ہے ؟
قول باری ہے : (وعداللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض) اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔ اس میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت موجود ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کو ایک متعین گروہ کے ساتھ : الذین امنوا منکم وعملوالصالحات لیستخلننھم فی الارض۔ فرما کر خاص کردیا پھر اس نے اس گروہ یعنی صحابہ کرام کے ساتھ کیے گئے جس وعدے کی حضور ﷺ کے ذریعے خبر دی تھی واقعاتی طور پر وہ حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ اس میں خلفاء اربعہ کی خلافت کی صحت پر بھی دلالت موجود ہے…
Read the full tafseer →122 کافر اور منکر لوگ اللہ کی گرفت و پکڑ سے کبھی باہر نہیں ہوسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کافروں کے بارے میں تم کبھی یہ گمان بھی نہ کرنا کہ وہ ہمیں عاجز کریں گے ہماری اس زمین میں "۔ کہ وہ ہماری گرفت اور پکڑ سے بھاگ نکلیں گے۔ ہرگز نہیں۔ ہم جب چاہیں اور جہاں اور جیسے چاہیں ان کو پکڑ سکتے ہیں۔ ہماری گرفت اور ہماری قدرت کی حدود سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ ہم نے جو ان کو ڈھیل دے رکھی ہے تو وہ ہماری حکمت کا تقاضا ہے تاکہ اسطرح ایسے لوگ اپنے پیمانہ جرم کو لبریز کریں اور اس کے نتیجے میں یہ بالآخر اپنے آخری اور ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائیں اور اپنے کیے کرائے کا پورا بدلہ پاکر رہیں۔ جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب
تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
(نفاذ اسلام اہل ایمان کا کام ہے)
اہل ایمان کی شان تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ ورسول کے مطابق فیصلہ قبول کرنے کا کہا جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہمیں منظور ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں یعنی نفاذ اسلام یا اسلامی قانون کی راہ میں صرف لوگوں کی منافقت حائل ہوتی ہے اور اہل ایمان فورا عملی زندگی میں اسلامی قانون اپناتے ہیں اور اسلامی قانون اپنانے اور اختیار کرنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔
(نجات ابدی کی چار شرائط)
کہ یہ اصولی بات ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی یعنی فرائض ادا کیے ” ورسولہ ‘ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع کیا ۔ (آیت) ” ویخش اللہ “ اور گذشتہ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
1 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” وہ احتلام کی عمر کو نہیں پہنچتے مراد ہے کہ ابھی بچے ہیں۔ 2 ۔ یعنی جن میں تم تنہایا اپنی بیویوں کے ساتھ ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ غلاموں اور بچوں کا تمہارے پاس اچانک آپہنچا مناسب نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ” اکثر لوگ اس آیت پر ایمان نہیں لائے (یعنی اس پر عمل کرنے سے بےپروا ہیں) میں تو اپنی چھوٹی سی بچی کو بھی جو سامنے کھڑی ہے حکم دیتا ہوں کہ ان اوقات میں اذن لے کر آیا کرے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) 3 ۔ اگر ان کے لئے بھی ضروری کردیا جاتا کہ جب آئیں اجازت لے کر آئیں تو گھرکے کام کاج میں سخت دقت پیش آتی۔ گویا خدمت گزاری کی ضرورت کے پیش نظر اجازت دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →(24:57) لا تحسبن۔ فعل نہی بانون تاکید واحد مذکر حاضر۔ تو ہرگز خیال نہ کر۔ الذین کفروا۔ مفعول ۔ تو ہرگز خیال نہ کر کہ کا فر لوگ
معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ ہر ادینے والے۔ عاجز بنا دینے والے۔ یعنی اللہ کو اپنے ارادہ سے باز رکھنے والے۔ ماوہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ٹھکانا۔ اوی یاوی (ضرب) کا مصدر ہے یہاں اسم ظرف مکان استعمال ہوا ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع الذین کفروا ہے۔ المصیر۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ اسم ظرف مکان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 57 :
وعد (وعدہ کرلیا) استخلف (پہلوں کا جانشین بنایا) ‘ یمکنن ( وہ ضرور جمادے گا) ‘ ارتضی (اس نے پسند کیا) ‘ لاتحسبن ( ہرگز گمان نہ کریں گے) ‘ معجزین ( عاجز کرنے والے۔ بےبس کرنے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 55 تا 57 :
اعلان نبوت کے بعد کفارو مشرکین عرب نے دین اسلام ‘ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کا راستہ روکنے کے لئے ہر وہ کوشش کر ڈالی جس سے اسلام کے اس پودے کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ لیکن نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے ان تمام جار حانہ اور ظالمانہ کو ششوں کا نہایت صبر و استقلال ‘ حلم و تحمل اور برداشت سے ڈٹ کر مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان مسلمانوں کو جن کے لیے خلافت اور امامات اور زمین پر حکومت و شوکت کا وعدہ کیا ہے یہ حکم کہ زمین پر خلیفہ بن کر بنی اسرائیل کی طرح نہ ہوجانا، نماز پنج وقت ادا کرنا، اور زکوۃ اموال دینا، اور حکم رسول کی اطاعت کرنا، تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس خوش خبری کے ظہور کا وقت جلدی دکھادے۔ مسلمانوں کو اوپر کی خوش خبری کے سننے کے بعد یہ خیال گزرا کہ اب تک تو دشمنوں کا غلبہ چلاجاتا ہے پھر ایک دفعہ ہی یہ سب دشمن کیونکر مغلوب ہوجائیں گے اور مسلمانوں کو حکومت کس طرح مل جائے گی اس واسطے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر ایمان دار لوگوں کو سمجھایا کہ یہ خیال بھی نہ کرنا کہ کافر ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
[54] یعنی اسلام۔
[55] اس ارشاد سے مقصود منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خلافت عطا فرمانے کا جو وعدہ کیا ہے اس کے مخاطب محض مردم شماری کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جو صادق الایمان ہوں، اخلاق و اعتبار کے لحاظ سے صالح ہوں، اللہ کے پسندیدہ دین کا اتباع کرنے والے ہوں اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو کر خالص اللہ کی بندگی و غلامی کے پابند ہوں۔ ان صفات سے عاری اور محض زبان سے ایمان کے مدعی لوگ نہ اس وعدے کے اہل ہیں اور نہ ہی ان سے کہا ہی گیا ہے۔
اس جگہ ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ یہ وعدہ خلافت بعد کے مسلمانوں کو تو بالواسطہ پہنچتا ہے لیکن بلاواسطہ اس کے مخاطب وہ لوگ تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(ف 3) وعدہ استخلاف کے بعد اس آیت میں نہایت جامعیت کے ساتھ وہ پروگرام بتلایا ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے خلافت ونیابت الہیہ کا منصب حاصل ہو سکتا ہے ، اور وہ پروگرام نماز اور زکوۃ کی تنظیم ہے ، رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے ، مسلمان اگر نماز کی روحانی واجتماعی برکات سے آگاہ ہوجائیں ، اور زکوۃ کی تنظیم کرلیں ، اور یہ طے کرلیں ، کہ ان کی زندگی اسوہ رسول کے کے مطابق ہوگی ، تو یقین جانئے ، آج ہی ان کی ہر قسم کی ذلتیں اور نحوستیں عزتوں اور سعادتوں سے بدل سکتی ہیں ۔
Read the full tafseer →(57) اے مخاطب یہ خیال نہ کر کہ یہ جو منکر ہیں اور جنہوں نے کفر و انکار کاشیوہ اختیار کررکھا ہے یہ کہیں زمین میں بھاگ کر ہم کو تھکادیں گے اور آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور یقیناً وہ دوزخ بہت بری باز گشت ہے اور واپس جانے کی بہت بری جگہ ہے۔ یعنی یہ خیال نہ کر کہ منکر کسی حصہ زمین میں بھاگ کر ہم کو تھکا دیں گے یا ہرادیں گے بلکہ دنیا میں مقہور و ذلیل ہوں گے اور آخرت میں ان کا مرجع اور ٹھکانا دوزخ کی آگ ہے اور وہ آگ بازگشت کی بہت ہی بری جگہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 7۔ یعنی ہدایت کا کامل اتباع کریں۔
1۔ مثلا بنی اسرائیل کو قبطیوں پر غالب کیا، پھر عمالقہ پر غلبہ دیا، اور مصر و شام کی حکومت دی۔
2۔ یعنی دین کے خلاف طریقہ اختیار کرے۔
3۔ اس آیت میں مجموعہ امت سے وعدہ ہے ایمان و عمل صالح پر حکومت دینے کا، جس کا ظہور خود عہد نبوی سے شروع ہو کر خلافت راشدہ تک متصلا ممتد رہا، چناچہ جزیرہ عرب آپ کے زمانہ میں اور دیگر ممالک زمانہ خلافت راشدہ میں فتح ہوگئے، اور بعد میں وقتا فوقتا گو اتصال نہ ہو دوسرے صلحاء ملوک و خلفاء کو حق میں اس وعدہ کا ظہور ہوتا رہا، اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔
Read the full tafseer →کفار کی پروا نہ کرو کہ وہ تم کو تھکا دیں گے وہ تو جہنم کا ایندھن ہیں :
91۔ وعدہ الہی کی ایک صورت کہ اگر تم نے مذکورۃ الصدر اصولوں کی پابندی کی جن کی وجہ سے وہ خلافت قائم ہوئی ہے تو کوئی غیر مسلم قوم تم پر غالب نہ آسکے گی اور ان بدبختوں کا ٹھکانا تو جہنم ہے اس لئے ان کو ذلیل ورسوا کرنے کے لئے تم ہر وقت ضروری آلات سے مسلح رہو۔
آیات ماسبق سے معلوم ہوگیا کہ خلافت اسلامی کے بقاوقیام کا مرکزی نقطہ شریعت کی پابندی ہے کہ آپس میں اتفاق رہے اور اختلاف نہ ہونے پائے ، پردے کے احکام کی غرض بھی یہی تھی کہ مسلمانوں میں کسی قسم کی بداخلاقی پیدا نہ ہونے پائے مگر عموما ایسا ہوتا ہے کہ حکومت مل جانے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
Commentary
Background of Revelation
Qurtubi has reported on authority of Abul ` Aliyah that the Holy Prophet ﷺ stayed in Makkah for ten years after commencement of revelation and declaration of prophethood, during which time there was a constant fear of the infidels and disbelievers. Then after the Hijrah to Madina also there was a ceaseless danger of attacks from the disbelievers. So, someone asked the Holy Prophet ﷺ "Would a time come to us when we will be able to live in peace without wearing our weaponry?' The Holy Prophet ﷺ replied ` Yes, the time is coming very soon'. On that occasion…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
83. As has been hinted in the beginning of this discourse, this means to warn the hypocrites that the promise of Allah to bestow successorship in the land is not meant for those people who are Muslims only in name, but for those who are true in faith, pious in character, sincere in devotion and who follow Allah’s religion in letter and spirit eschewing every tinge of shirk. Those who lack these qualities and pay mere lip service to Islam are neither worthy of this promise nor its addressees. Therefore they should entertain no hope of having any share in it.
Some people interpret Khilafat…
Read the full tafseer →