Ayah 24:1احکام شرعیہ پر عمل کرنا لازمی ہے زانیہ اور زانی کی سزا سو کوڑے ہیں
اس سورت کا پانچواں رکوع (اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ ) سے شروع ہے اس لیے یہ سورت سورة النور کے نام سے موسوم اور معروف ہے اس کے شروع میں عفت اور عصمت کی حفاظت کا بیان ہے اور زنا کرنے والوں اور تہمت لگانے والوں کی سزا مذکور ہے اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے یہ سورة نازل کی اور اس میں جو احکام ہیں ان پر عمل کرنے کی ذمہ داری ڈالی ہے (قَرَضْنٰھَا) کا یہ ترجمہ اس لیے کیا گیا کہ اس سورت میں جو احکام مذکور ہیں وہ سب فرض نہیں ہیں البتہ مومن بندوں کو سب پر عمل کرنا چاہئے ان میں فرائض بھی ہیں اور غیر فرائض بھی ہیں) پھر فرمایا (وَاَنزَلْنَا فِیْہَا اٰیٰتٍ بَیِّنَاتٍ ) (اور ہم نے اس میں واضح آیات نازل کی ہیں) ان آیات میں جو احکام ہیں ان پر عمل کریں (لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ) (تاکہ نصیحت حاصل کرو) ۔
Ayah 24:2شرعی حدود میں سختی کیوں ہے
اس کے بعد زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورت کی سزا بیان فرمائی اور فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ سزا جاری کرنے میں تمہیں ان پر رحم نہ آئے۔
اللہ کے قانون کے سامنے کسی کی رو رعایت اور کسی پر کوئی رحم کرنا ترس کھانا درست نہیں ہے اللہ تعالیٰ ارحم الرحمین ہے جب اس نے سزا کا حکم دیدیا گو وہ سزا تمہاری نظروں میں سخت ہے تو اسے نافذ ہی کرنا ہے، اس نے انسان کو پیدا کیا وہ انسان کے مزاج عادت و خصلت کو پوری طرح جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ انسان اپنی طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے کون سی سزا سے زنا کاری کے جرم سے رک سکتا ہے چونکہ اس میں رانی مرد اور زانیہ عورت کی سزا کے ساتھ دوسروں کو عبرت دلانا بھی مقصود ہے اس لیے یہ بھی حکم دیا کہ جب ان کو زنا کی سزا دی جائے تو اس وقت مومنین کی ایک جماعت حاضر رہے، بہت لوگ حاضر ہوں گے تو انہیں بھی عبرت حاصل ہوگی اور سزا کا واقعہ اپنی مجلسوں اور قبیلوں میں باہر سے آنے جانے والے مسافر کی ملاقاتوں میں ذکر کریں گے تو سب میں عبرت ناک سزا کا چرچا ہوگا جس سے عمومی طور پر پورے ملک میں عفت و عصمت کی فضا بنے گی اور لوگ زنا کاری سے باز رہیں گے۔ حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ دور اور نزدیک اللہ کی حدود قائم کرو اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اللہ کے حکم کے بارے میں تمہیں نہ پکڑے (رواہ ابن ماجہ) تمہیں کسی کی ملامت نہ پکڑے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو نافذ کیا کرو، دشمن اعتراض کریں گے اس کو نہ دیکھو۔
آج کل حکومتیں مخلوق کے طعن وتشنیع سے ڈرتی ہیں اور دشمنوں کے اعتراضات کا خیال کر کے شرعی حدود قائم نہیں کرتیں۔ شرعی حدود قائم کرنے میں بہت بڑی خیر ہے حدود قائم ہوں گی تو گناہ ختم ہوں گے یا کم ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوگی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ زمین میں ایک حد قائم کی جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ چالیس دن بارش برستی رہے۔ (رواہ ابن ماجہ) یعنی چالیس دن بارش ہونے کا جو نفع ہے اس سے کہیں زیادہ خیرات و برکات کا نزول ہوگا جبکہ اللہ کی ایک حد قائم کردی جائے گی۔
موجودہ حکومتوں نے رضا مندی سے زنا کرنے کو تو قانونی طور پر جائز ہی کر رکھا ہے اور فاحشہ عورتوں کو یہ پیشہ اختیار کرنے پر لائسنس دیتی ہیں اور تھوڑی بہت جو قانونی گرفت ہے وہ زنا بالجبر پر ہے۔ لیکن بالجبر زنا کرنے والا بھی پکڑا نہیں جاتا اور اگر پکڑا گیا تو مختصر سی جیل میں رہنے کی سزا دی جاتی ہے اس سزا سے بھلا زنا کار اپنی عادت بد کہاں چھوڑ سکتا ہیں۔ جو حکومتیں ان لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جو مسلمان ہونے کے مدعی ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مجرمین پر شرعی سزائیں نافذ کرو، ڈاکوؤں کو قتل کرو، چوروں کا ہاتھ کاٹو، زنا کار مرد اور عورت کو زنا کاری کی سزا دو ، (غیر محصن ہیں تو سو کوڑے لگاؤ اگر محصن ہیں تو سنگسار کر دو ) تو اس پر ان لوگوں کو چوروں اور ڈاکوؤں اور زنا کاروں پر رحم آجاتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا ہے (وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ ) (اور تمہیں اللہ کے دین کے بارے میں ان دونوں کے ساتھ رحم کے برتاؤ کا جذبہ نہ پکڑے) اور اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ جو سراپا کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جاری فرمودہ حدود کو ظالمانہ اور وحشیانہ سزائیں کہہ دیتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ پھر بھی مسلمانی کے دعویدار ہیں، مجرمین کو شرعی سزائیں نہیں دی جاتی ہیں اس کی وجہ سے ڈاکہ اور زنا کی کثرت ہے چوریاں بھی بہت ہو رہی ہیں زنا کاری کے اڈے بھی کھلے ہوئے ہیں اور ان اڈوں کے علاوہ جگہ جگہ زنا کاری ہوتی رہتی ہے۔ اور اپنے عوام کو اور دشمنان اسلام کو راضی رکھنا چاہتے ہیں۔ اور حکومت باقی رکھنے کے جذبات لیے پھرتے ہیں جب یہ صورت حال ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد کیسے آئے فَتَذَکَّرُوْا یَآ اُولِی الْاَلْبَابِ ۔
چند مسائل متعلقہ حد زنا
مسئلہ : جو مرد و عورت آزاد ہو یعنی کسی کا مملوک نہیں عاقل ہو بالغ ہو مسلمان ہو اس کا نکاح شرعی ہوا ہو پھر آپس میں میاں بیوی والا کام بھی کیا ہو تو ایسے مرد و عورت کو محصن کہتے ہیں اگر ان میں سے کوئی زنا کرے تو اس کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا (یعنی پتھر مار مار کر) ہلاک کردینا ہے اور جو مرد و عورت محصن نہ ہو اگر وہ زنا کرے تو ان کی سزا سو کوڑے ہیں۔
مسئلہ : کوڑے لگاتے وقت یہ خیال کرلیا جائے کہ اگر مرد کوڑے لگائے جا رہے ہیں تو ستر عورت کے لیے جتنے کپڑے کی ضرورت ہے وہ اس پر باقی رہے باقی کپڑے اتار دیئے جائیں، اور اگر عورت کو کوڑے لگاتے جائیں تو اس کے عام کپڑے نہ اتارے جائیں ہاں اگر اس نے لحاف اوڑھ رکھا ہے یا کوئی اور ایسی چیز پہن رکھی ہے جو مارنے کی تکلیف سے بچا سکتی ہے تو اس کے بدن سے نکال لی جائے گی۔
مسئلہ : مرد کو کھڑا کر کے اور عورت کو بٹھا کر کوڑے لگائے جائیں۔
مسئلہ : ایسے کوڑے سے مارا جائے گا جس کے آخر میں گرہ لگی ہوئی نہ ہو اور یہ مارنا درمیانی درجہ کا ہو اور ایک ہی جگہ کوڑے نہ مارے جائیں بلکہ متفرق طور پر اعضائے جسم پر مارے جائیں البتہ سر چہرہ اور شرم گاہ پر کوئی کوڑا نہ مارا جائے۔
مسئلہ : جس زنا کار مرد یا عورت کو رجم یعنی سنگسار کرنا ہے اسے باہر میدان میں لے جائیں جن لوگوں نے زنا کی گواہی دی تھی پہلے وہ پتھر ماریں پھر المومنین پتھر مارے اور اس کے بعد دوسرے لوگ ماریں اگر گواہ ابتداء کرنے سے انکاری ہوجائیں تو جرم ساقط ہوجائے گا اگر زانی کے اقرار کی وجہ سے سنگسار کیا جانے لگے تو پہلے امیر المومنین پتھر مارے اس کے بعد دوسرے لوگ اور عورت کو رجم کرنے لگیں تو اس کے لیے گڑھا کھود کر اس میں کھڑی کر کے رجم کریں تو یہ بہتر ہوگا۔
مسئلہ : جب کسی مرد یا عورت کے بارے میں چار شخص گواہی دیدیں کہ اس نے زنا کیا ہے اور یوں کہیں کہ ہم نے ان کو یہ عمل کرتے ہوئے اس طرح دیکھا جیسے سرمہ دانی میں سلائی ہو تو امیر المومنین یا قاضی ان چاروں گواہوں کے بارے میں تحقیق اور تفتیش کرے گا اگر ان کا سر اور علانیۃ عادل اور صالح سچا ہونا ثابت ہوجائے تو امیر المومنین یا قاضی زنا کرنے والے پر حد شرعی حسب قانون (کوڑے یا سنگسار) نافذ کر دے اگر چار گواہ نہ ہوں یا چار تو ہوں لیکن ان کا فاسق ہونا ثابت ہوجائے تو اس پر حد جاری نہ ہوگی جس کے بارے میں ان لوگوں نے زنا کی گواہی دی۔ بلکہ ان لوگوں کو حد قدف لگائی جائے گی جنہوں نے گواہی دی۔ (حد قدف سے مراد تہمت لگانے کی سزا ہے جو اسی (80) کوڑے ہیں) چند اوراق کے بعد اسی رکوع میں انشاء اللہ تعالیٰ اس کا ذکر آئے گا۔
مسئلہ : زانی کے اپنے اقرار سے بھی زنا کا ثبوت ہوجاتا ہے (مرد ہو یا عورت) جب اقرار کرنے والا عاقل بالغ ہو اور چار مجلسوں میں چار مرتبہ اقرار کرے تو قاضی اس سے دریافت کرے کہ زنا کیا ہوتا ہے اور تو نے کس سے زنا کیا اور کہاں زنا کیا اقرار کرنے والا جب یہ باتیں بتادے تو قاضی اس پر بھی حسب قواعد شرعیہ حد نافذ کر دے گا۔
دور حاضر کے مدعیان علم کی جاہلانہ باتیں
آج کل بہت سے مدعیان علم ایسے نکلے ہیں جو اپنی جہالت کے زور پر شریعت اسلامیہ میں تحریف کرنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ دشمنان اسلام اور بہت سے اصحاب اقتدار ان کی سر پرستی کرتے ہیں اور ان کو رشوت دے کر ان سے ایسی باتیں لکھواتے ہیں جو شریعت اسلامیہ کے خلاف ہوتی ہیں۔ چودہ سو سال سے تمام عوام اور خواص یہی جانتے اور سمجھتے اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلام میں زانی غیر محصن کی سزا سو کوڑے اور زانی محصن کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے۔ اپنے علم کو جاہلانہ دعاوی میں استعمال کرنے والے اب یوں کہہ رہے ہیں کہ قرآن مجید میں رجم نہیں ہے ان لوگوں سے سوال ہے کہ قرآن مجید میں یہ کہاں فرمایا ہے کہ جو کچھ قرآن میں نہ ہو وہ دین اسلام نہیں ہے قرآن نے تو یہ فرمایا ہے کہ (وَ مَآ اٰتَکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَ مَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْہٗ ) (جو کچھ رسول اللہ ﷺ دیں اسے پکڑ لو اور جس سے روکیں رک جاؤ) ۔
جب رسول اللہ ﷺ نے بعض زانیوں کو ثبوت زنا اور محصن ثابت ہونے پر سنگسار فرما دیا تو اب کس کا مقام ہے جو اس کی تردید کرے اور اسے اللہ کے دین سے نکال دے۔ حضرت عمر کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ڈال دی تھی کہ بعد میں آنے والے رجم کی سزا کے منکر ہوں گے اس لیے انہوں نے ایک دن منبر پر فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی کتاب اللہ میں جو کچھ نازل ہوا اس میں رجم یعنی سنگسار کرنے کی آیت بھی تھی ہم نے اس آیت کو پڑھا اور سمجھا اور یاد کیا رسول اللہ ﷺ نے سنگسار کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد سنگسار کیا اب میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ زمانہ دراز گزرنے پر کوئی کہنے والا یوں نہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ہم رجم کی آیت کو اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے (یہ کہہ کر وہ دین اسلام میں رجم کی مشروعیت کا منکر ہوگا) جس کی وجہ سے لوگ ایک ایسے فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوجائیں گے جسے اللہ نے مشروع فرمایا، رجم اللہ کی کتاب میں ہے (یعنی اس کی مشروعیت مسنوخ نہیں ہوئی) حق ہے اس کو مرد عورت پر جاری کی جائے گی جو محصن ہو جبکہ گواہ قائم ہوجائیں یا اقرار ہو یا کسی عورت کو حمل ہوجائے (جس حمل کی وجہ سے حد لازم ہوتی ہو) (رواہ البخاری 109) ۔ حضرت عمر نے یہ جو فرمایا رجم، اللہ کی کتاب میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آیت میں یہ مضمون تھا اس کی تلاوت منسوخ کردی گئی ہے اس کا حکم منسوخ نہیں ہوا جن حضرات نے علم اصول فقہ پڑھا ہے وہ اس کا مطلب سمجھتے ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے سورة نساء کی آیت (اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلاً ) کی طرف اشارہ ہے، اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ کی کتاب میں واضح طور پر موجود نہیں ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دین اسلام میں رجم نہیں ہے جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو مشروع فرمایا تو اللہ کی کتاب میں ہوگیا کیونکہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ اللہ کے رسول کی اطاعت کتاب اللہ کے مضمون میں شامل ہے۔
یہ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ رجم قرآن کریم میں نہیں ہے اول تو ان سے یہ سوال ہے کہ ظہر عصر اور عشاء کی چار رکعتیں مغرب کی تین اور فجر کی دو رکعتیں ہیں اسی کو کسی آیت میں دکھا دیں۔ زکوٰۃ کا کیا نصاب ہے اس کو کسی آیت سے ثابت کریں۔ کیا وجہ ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے جو اسلام میں سے ہیں قرآن مجید کی آیت تلاش نہیں کی جاتی ان پر عمل کرنے کے لیے تو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہی کافی ہے اور رجم کو دین میں مشروع سمجھنے کے لیے آیات قرآنیہ کی تلاش ہے۔ ملحد اور زندیق کا کوئی دین نہیں ہوتا اسی لیے یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ رجم اگر قرآن مجید میں نہیں ہے تو سو سو کوڑے لگانا تو ہے ارے زندیقو ! تم جن حکومتوں کے نمائندے ہو ان سے سو سو کوڑے لگواؤ اپنے ذرا سے علم کو منکرین اسلام کی تائید کے لیے خرچ کرنا اسی کو تو قرآن مجید نے (اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ) فرمایا ہے حدیث شریف میں ایسے لوگوں کے بارے میں من العلم جھلا وارد ہوا ہے۔
زنا کاری کی مضرتیں اور عفت و عصمت کے فوائد، نکاح کی فضیلت
کافروں اور ملحدوں، زندیقوں کو اسی پر تعجب ہے کہ شریعت اسلامیہ میں زنا کو کیوں حرام قرار دیا گیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مرد و عورت کا اپنا ذاتی معاملہ ہے جس کا جس سے چاہے لذت حاصل کرلے ان لوگوں کی یہ بات جہالت ضلالت اور غوایت پر مبنی ہے یہ کہنا کہ بندوں کو اختیار ہے جو چاہیں کریں یہ بہت بڑی گمراہی ہے جب خالق کائنات جل مجدہ نے پیدا فرمایا اور سب اسی کی مخلوق اور مملوک ہیں تو کسی کو بھی اختیار نہیں ہے کہ وہ خالق اور مالک کے بتائے ہوئے قانون کے خلاف زندگی گزارے، کوئی انسان خود اپنا نہیں ہے نہ اس کے اعضاء اپنے ہیں وہ تو خالق جل مجدہ کی ملکیت ہے ان اعضاء کو قانون الہٰی کے خلاف استعمال کرنا بغاوت ہے۔
اللہ جل شانہٗ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا پھر ان کی طبعی موانست کے لیے حضرت حوا علیھا السلام کو پیدا فرمایا پھر ان سے انسانوں کی نسل کو جاری فرمایا، مرد و عورت میں جو ایک دوسرے کی طرف فطری اور طبعی میلان ہے اس کے لیے نکاح کو مشروع فرمایا اور نکاح کے اصول و قوانین مقرر فرمائے جب مرد و عورت کا نکاح ہوجائے تو آپس میں ایک دوسرے سے قانون شریعت کے مطابق استمتاع اور استلذاذ جائز ہے۔ اس میں جہاں نفسیاتی ابھار کا انتظام ہے وہاں بنی آدم کی نسل چلنے اور نسل و نسب کے پاک رکھنے اور آپس میں رحمت اور شفقت باقی رکھنے کا اور عورت کے گھر میں عزت و آبرو کے ساتھ رہنے اور گھر بیٹھے ہوئے ضروریات زندگی پوری ہونے اور عفت و عصمت سے رہنے کا انتظام ہے، مرد کما کر لائے عورت گھر میں بیٹھے اور کھائے لباس بھی شوہر کے ذمہ اور رہنے کا گھر بھی، اولاد پیدا ہو تو ماں باپ کی شفقت میں پلے بڑھے۔ کوئی چچا ہو کوئی ماموں ہو کوئی دادا ہو کوئی دادی ہو کوئی خالہ ہو کوئی پھوپھی ہو ہر ایک بچے کو پیار کرے گود میں لے اور ہر ایک اس کو اپنا سمجھے صلہ رحمی کے اصول پر سب رشتہ دار دور کے ہوں یا قریب کے آپس میں ایک دوسرے سے محبت بھی کریں مالی امداد بھی کریں نکاحوں کی مجلسوں میں جمع ہوں ولیمہ کی دعوتیں کھائیں عقیقے ہوں جب کوئی مرجائے کفن دفن میں شریک ہوں یہ سب امور نکاح سے متعلق ہیں اگر نکاح نہ ہو اور عورت مرد یوں ہی آپس میں اپنی نفسیاتی خواہشات پوری کرتے رہیں تو جو اولاد ہوگی وہ کسی باپ کی طرف منسوب نہیں ہوگی اور جب عورت زنا کار ہے تو یہ پتہ بھی نہ چلے گا کہ کس مرد کے نطفہ سے حمل قرار پایا جب باپ ہی نہیں تو بچہ کی پرورش کون کرے بچہ کو کچھ معلوم نہیں میں کس سے پیدا ہوا۔ میرے ماں باپ کون ہیں چونکہ باپ ہی نہیں اس لیے انگلینڈ وغیرہ میں بچوں کی ولدیت ماں کے نام سے لکھ دی جاتی ہے رشتہ داروں کی جو شفقتیں تھیں باپ کی جانب سے ہوں ماں کی جانب سے بچہ ان سب سے محروم رہتا ہے زنا کار عورتوں کے بھائی بہن بھی اپنی بہن کی اولاد کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جو شفقت بھری نگاہ ماں کی اولاد پر نانا نانی اور خالہ ماموں کی ہوتی ہے، ہر سمجھ دار آدمی غور کرسکتا ہے کہ نکاح کی صورت میں جو اولاد ہو اس کی مشفقانہ تربیت اور ماں باپ کی آغوش میں پرورش پانا انسانیت کے اکرام کا سبب ہے یا زنا کاروں کی اولاد کی حکومتوں والی پرورش اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت رکھتی ہے ؟
پھر جب نکاح کا سلسلہ ہوتا ہے تو ماں باپ لڑکا لڑکی کے لیے جوڑا ڈھونڈتے ہیں اور آزاد لڑکے اور لڑکیاں نفسانی خواہشات پورا کرنے کے لیے دوست (فرینڈ) تلاش کرتے پھرتے ہیں یہ عورت کی کتنی بڑی ذلت اور حقارت ہے کہ وہ گلی کوچوں میں کپڑے اتارے کھڑی رہے اور مردوں کو اپنی طرف لبھائے اور جو شخص اس کی طرف جھکے اس کو کچھ دن کے لیے دوست بنا لے پھر جب چاہے یہ چھوڑ دے اور جب چاہے وہ چھوڑ دے، اب پھر دونوں تلاش یار میں نکلے ہیں کیا اس میں انسانیت کی مٹی پلید نہیں ہوتی پھر چونکہ عورت کا کوئی شوہر نہیں ہوتا اور جن کو دوست بنایا جاتا ہے وہ قانونا اس کے خرچ کے ذمہ دار نہیں ہوتے اس لیے عورتیں خود کمانے پر مجبور ہوجاتی ہیں شو روموں پر کھڑی ہوئی مال سپلائی کرتی ہیں روڈ پر بیٹھ کر آنے جانے والے لوگوں کے جوتوں پر پالش کرتی ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ عورتوں کو یہ ذلت اور رسوائی منظور ہے اور نکاح کرکے گھر میں ملکہ بن کر بچوں کی ماں ہو کر عفت و عصمت کے ساتھ زندگی گزرانے کو ناپسند کرتی ہیں۔
اسلام نے عورت کو بڑا مقام دیا ہے وہ نکاح کر کے عفت و عصمت کی حفاظت کے ساتھ گھر کی چار دیواری میں رہے اور اس کا نکاح بھی اس کی مرضی سے ہو جس میں مہر بھی اس کی مرضی سے مقرر ہو پھر اسے ماں باپ اور اولاد اور بہن بھائی سے میراث بھی ملے۔ یہ زندگی اچھی ہے یا دربدر یار ڈھونڈتی پھریں اور زنا کرتی پھریں یہ بہتر ہے ؟
کچھ تو سوچنا چاہئے، فَاعْتِبَرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَارِ ۔
اس تمہید کے بعد اب ایک سمجھدار آدمی کے ذہن میں زنا کی شناعت اور قباعت پوری طرح آجاتی ہے اسلام کو یہ گوارا نہیں ہے کہ نسب کا اختلاط ہو پیدا ہونے والے بچوں کے باپ کا پتہ نہ چلے یا کئی شخص دعویدار ہوجائیں کہ یہ بچہ میرے نطفہ سے ہے۔
جو مرد عورت زنا کاری کی زندگی گزارتے ہیں ان سے حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں انسانیت کی اس سے زیادہ کیا مٹی پلید ہوگی کہ بچہ ہو اور اس کا باپ کوئی نہ ہو اہل نظر اسے حرامی کہتے ہوں یا کم از کم یوں سمجھتے ہوں کہ دیکھو وہ حرامی آ رہا ہے، یہ بات شریفوں کے لیے موت سے بہتر ہے لیکن اگر طبعی شرافت باقی نہ رہے دلوں میں انسانیت کا احترام نہ ہو تو معاشرہ میں حرامی حلالی ہونے کی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی۔ جن ملکوں میں زنا کاری عام ہے ان کے یہاں حرامی ہونا کوئی عیب اور حلالی ہونا کوئی ہنر نہیں۔ اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی ہماری ہاں میں ہاں ملا دیں اور قرآن سے باغی ہو کر ہماری طرح زنا کار ہوجائیں اور زنا کاری کی سزا مسنوخ کردیں بھلا مسلمان یہ کیسے کرسکتا ہے اگر کوئی مسلمان ایسا کرے گا تو اسی وقت کافر ہوجائے گا۔
اسلام جو عفت و عصمت کا دین ہے اس کے ماننے والے شہوت پرستوں کا ساتھ کہاں دے سکتے ہیں زنا کاری میں چونکہ مزا ہے شہوت پرستی ہے اس لیے شہوت پرست اسے چھوڑنے والے نہیں ہیں، معاشرہ اسلامیہ نے زنا کی سزا سخت رکھی ہے پھر اس میں فرق رکھا گیا ہے غیر شادی شدہ مرد عورت زنا کرلے تو سو کوڑے لگانے پر اکتفا کیا گیا اور شادی شدہ شخص زنا کرے تو اس کی سزا رجم مقرر کی گئی ہے مرد ہو یا عورت، جو لوگ شہوت پرست ہیں ان کے تقاضوں پر کافر ملکوں کی پارلیمنٹوں نے نہ صرف یہ کہ مرد عورت کے لیے باہمی رضا مندی سے زنا کو قانونا جائز قرار دیدیا ہے بلکہ عورت کو بھی اجازت دیدی ہے کہ وہ کسی مرد کی بیوی بن کر رہے، ان لوگوں کو نہ انسانیت کی ضرورت ہے نہ شرافت کی نہ نسب محفوظ رکھنے کی نہ عفت و عصمت کے ساتھ جینے کی نہ عورتوں کو اچھا مقام دینے کی، شہوت پرست ہیں شہوت کے بندے ہیں اس شہوت پرستی کے نتیجے میں جو ایڈز وغیرہ کی نئی نئی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں جن سے سارا معاشرہ متاثر ہوتا جا رہا ہے اور جس کی روک تھام سے حکومتیں عاجز ہیں ان پر نظر نہیں، بس شہوت پوری ہونی چاہئے یہ ان لوگوں کا مزاج بن گیا ہے۔
یہ زنا کی کثرت، کثرت اموات کا بھی سبب ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جس قوم میں خیانت ظاہر ہوجائے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتے ہیں اور جس کسی قوم میں زنا پھیل جائے اس میں موت کی کثرت ہوگی اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں ان کا رزق کاٹ دیا جائے گا یعنی زرق کم ملے گا اور اس کی برکت ختم کردی جائے گی اور جو قوم ناحق فیصلے کرے گی ان میں قتل کی کثرت ہوگی اور جو قوم بد عہدی کریگی ان پر دشمن مسلط کردیا جائے گا۔ (رواہ مالک فی الموطا) اور حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی آبادی میں زنا اور سود خوری کا رواج ہوجائے تو ان لوگوں نے اپنی جانوں پر اللہ کا عذاب نازل کرلیا۔ (الترغیب و الترہیب (278 ج 3)
حضرت میمونہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت برابر خیر پر رہے گی جب تک کہ ان میں حرامی بچوں کی کثرت نہ ہوجائے سو جب ان میں اولاد الزنا کی کثرت ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ ان پر عنقریب عام عذاب بھیج دے گا۔ (رواہ احمد اسنادہ حسن کمافی الترعیب ص 288 ج 3)
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ایک خواب بیان فرمایا کہ اس میں بہت سی چیزیں دیکھیں ان میں ایک یہ بھی دیکھا کہ تنور کی طرح ایک سوراخ ہے اس کا اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا حصہ وسیع ہے اس کے نیچے آگ جل رہی ہے جو لوگ اس تنور میں ہیں وہ آگ کی تیزی کے ساتھ اوپر کو آجاتے ہیں جب آگ دھیمی پڑتی ہے تو نیچے کو واپس چلے جاتے ہیں یہ لوگ ننگے مرد اور ننگی عورتیں ہیں ان کی چیخ پکار کی آوازیں بھی آرہی ہیں آپ نے فرمایا کہ ان کے بارے میں میں نے اپنے ساتھیوں (حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل) سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ زنا کار مرد اور زنا کار عورتیں ہیں۔
زنا امراض عامہ کا سبب ہے
حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ اے مہاجرین ! پانچ چیزوں میں جب تم مبتلا ہوجاؤ اور خدا نہ کرے کہ تم مبتلا ہو تو پانچ چیزیں بطور نتیجہ ضرور ظاہر ہوں گی (پھر ان کی تفصیل فرمائی) (1) جب کسی قوم میں کھلم کھلا بےحیائی کا کام ہونے لگے تو اس میں ضرور طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیل جائیں گی جو ان کے باپ دادوں میں کبھی نہیں ہوئیں (2) اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے گی قحط اور سخت محنت اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعہ ان کی گرفت کی جائے گی (3) اور جو لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ روک لیں گے ان سے بارش روک لی جائے گی (حتیٰ کہ) اگر چوپائے (گائے بیل گدھا گھوڑا وغیرہ) نہ ہوں تو بالکل بارش نہ ہو۔ (4) اور جو قوم اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ دے گی اللہ ان پر غیروں میں سے دشمن مسلط فرما دے گا جو ان کی بعض مملوک چیزوں پر قبضہ کرلے گا (5) اور جس قوم کے با اقتدار لوگ اللہ کی کتاب کے خلاف فیصلے دیں گے (اور احکام خداوندی میں اپنا اختیار و انتخاب جاری کریں گے) تو وہ خانہ جنگی میں مبتلا ہوں گے۔ (ابن ماجہ)
اس حدیث پاک میں جن گناہوں اور معصیتوں پر ان کے مخصوص نتائج کا تذکرہ فرمایا ہے اپنے نتائج کے ساتھ اس زمین پر بسنے والے انسانوں میں موجود ہیں۔ سب سے پہلی بات جو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمائی یہ ہے کہ جس قوم میں کھلم کھلا بےحیائی کے کام ہونے لگیں گے ان میں ضرور طاعون پھیلے گا اور ایسی ایسی بیماریاں بکثرت ظاہر ہوں گی جو ان کے باپ دادوں میں کبھی نہ ہوئی ہوں گی۔
آج بےحیائی کس قدر عام ہے سڑکوں پارکوں کلبوں اور نام نہاد قومی اور ثقافتی پروگراموں میں، عرسوں اور میلوں میں ہوٹلوں اور دعوتی پارٹیوں میں کس قدر بےحیائی کے کام ہوتے ہیں اس کے ظاہر کرنے اور بتانے کی چنداں ضرورت ہے جاننے والے اور اخبارات کا مطالعہ کرنے والے بخوبی واقف ہیں، پھر اس بےحیائی اور فحش کاری کے نتیجے میں وبائی امراض طاعون ہیضہ انفلوئزا ایڈز پھیلتے رہتے ہیں اور ایسے ایسے امراض سامنے آ رہے ہیں جن کے طبعی اسباب اور معالجہ کے سمجھنے سے ڈاکٹر قاصر ہیں، ڈاکٹری ترقی پدیز ہے اسی قدر نئے امراض ظاہر ہوتے جاتے ہیں ان امراض کے موجود ہونے کا سبب جو خالق عالم جل مجدہ کے سچے پیغمبر ﷺ نے بتایا ہے یعنی بےحیائیوں کا پھیلنا جب تک وہ ختم نہ ہوگا نئے نئے امراض کا آنا بھی ختم نہیں ہوسکتا دور حاضر کے لوگوں کا اب یہ طریقہ ہوگیا ہے کہ ان کے نزدیک شہوت پرستی ہی سب کچھ ہے زندگی کا خلاصہ شہوت پرستوں کے نزدیک صرف یہی رہ گیا ہے کہ مرد اور عورت بغیر کسی پابندی کے آپس میں ایک دوسرے سے شہوت پوری کیا کریں پہلے تو بعض یورپین ممالک نے اس قسم کے قوانین بنا دیئے تھے لیکن اب وہ بین الاقوامی کانفرنسیں بلا بلا کر سارے عالم کے انسانوں کو اس بیہودگی میں لپیٹنا چاہتے ہیں، اصل میں بات یہ ہے کہ اس قسم کی کانفرنس منعقد کرنے والے انسانیت کے دائرہ ہی سے باہر ہوچکے ہیں اور انہیں اس پر ذرا بھی رنج نہیں ہے کہ ہم انسانیت کھو بیٹھے ہیں۔
نفس پرستوں کو لذت چاہیے انسانیت باقی رہے یا نہ رہے
یہ لوگ اس مقام پر اتر آئے ہیں کہ ہم انسان نہ رہے تو کیا حرج ہے مزہ تو ملے گا۔ انسان بننے اور انسانی تقاضے پورے کرنے میں نفس کی آزادی میں فرق آتا ہے لہٰذا انسانیت کی ضرورت کیا ہے ؟ جانور بھی تو دنیا میں رہتے ہیں اور جیتے ہیں ہم بھی جانور ہوگئے تو کیا ہوا ؟ یہ بات یہ لوگ زبان سے کہیں یا نہ کہیں ان کا طریقہ کار اور رنگ ڈھنگ ایسا ہی ہے اسی کو قرآن مجید میں فرمایا (وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَہُمْ ) (اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایسے متمتع ہوتے ہیں اور کھاتے ہیں جسے جانور کھاتے ہیں اور دوزخ کی آگ ان کا ٹھکانہ ہے) ۔
انسان کو جو اللہ تعالیٰ نے عقل و فہم سے نواز اور اسے جو شرف بخشا اس شرف کی وجہ سے اسے اونچا رکھنے کے لیے احکام عطا فرمائے۔ اس کے لیے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا اور کچھ چیزوں کو حلال قرار دیا۔ مرد اور عورت کا آپس میں استمتاع بھی حلال ہے لیکن نکاح کرنے کے بعد، پھر اس نکاح اور انعقاد نکاح کے بھی قوانین ہیں تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نکاح کرتے تھے۔ سوائے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے کہ ان دونوں حضرات نے نہ نکاح کیا نہ عورتوں سے استمتاع کیا۔ افسوس ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کی جو قومیں دعویٰ کرنے والی ہیں وہ ان کی طرف بغیر نکاح کے عورتوں سے استمتاع کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آخری زمانے میں جب آسمان سے تشریف لائیں گے تو دجال کو قتل کریں گے اور نکاح بھی فرمائیں گے آپ کی اولاد بھی ہوگی (کماذ کرہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء) جب وہ تشریف لائیں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے اور اس طرح اپنے عمل سے دین نصرانیت کو باطل قرار دیں گے۔ (رواہ مسلم)
فائدہ : قرآن مجید میں عموماً عورتوں کو مردوں ہی کے صیغے میں شریک کر کے احکام شرعیہ بتائے گئے ہیں مثلا جہاں جہاں (یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اَمَنُوْا) ہے اس میں گو اسم موصول مذکر ہے لیکن عورتوں کو بھی ان کا مضمون شامل ہے اور جہاں کہیں صیغہ تانیث لایا گیا وہاں مردوں کا ذکر مقدم ہے جیسا کہ (اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُوْمِنَاتِ ) (الایۃ) اور جیسے (وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَھُمَا) لیکن زنا کی حد بیان کرتے ہوئے دو باتیں زیادہ قابل توجہ ہیں اول تو یہ کہ صرف مذکر کا صیغہ لانے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ الزانیہ مستقل ذکر کیا گیا دوسرا الزانیہ کو الزانی پر مقدم فرمایا ہے۔
اب کسی بھی مرد یا عورت کو یہ شبہ کرنے کی گنجائش نہیں رہی کہ شاید زنا کی حد جاری کرنا مردوں ہی کے ساتھ مخصوص ہو۔ نیز قرآن مجید کے انداز بیان سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ عورتوں میں زنا کی رغبت بنسبت مردوں کے زیادہ ہے ان کی حفاظت کا زیادہ اہتمام کیا جائے چوری میں مرد پیش پیش ہوتے ہیں اس لیے سورة مائدہ کی آیت میں لفظ السارق کو مقدم فرمایا اور زنا کی طرف مائل ہونے میں عورتوں کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اس لیے حد زنا بیان فرماتے ہوئے پہلے لفظ الزانیۃ کو مقدم فرمایا۔
فائدہ : شریعت اسلامیہ نے جو زنا کی حد مقرر فرمائی ہے بظاہر یہ سخت ہے اور سختی اس لیے ہے کہ لوگوں کی عفت و عصمت محفوظ رہے اور اس جرم کی طرف لوگوں کا میلان نہ ہو، اگر کسی غیر محصن کو لوگوں کی ایک جماعت کے سامنے کوڑے لگائے جائیں اور کسی محصن کو سنگسار کردیا جائے اور اس کی شہرت ہوجائے تو برس ہا برس کے لیے دور دراز علاقوں کے رہنے والوں کے لیے ایک ہی سزا عبرت کا سامان بن جائے گی۔
اسلام نے اول تو ایسے احکام وضع کیے ہیں جن پر عمل کرنے سے زنا کا صدور ہی آسان نہیں نظروں پر پابندی ہے عورتوں کی بےحجابی پر پابندی ہے نا محرموں سے پردہ ہے محرم بد نفس سے بھی پردہ کا حکم ہے ان سب امور کے باو جود زنا صادر ہوجائے تو اس کی سزا کے لیے ویسی شرطیں لگائی ہیں جن کا وجود میں آنا ہی مشکل ہے اگر چار گواہ گواہی دیں کہ ہم نے فلاں مرد و عورت کو اس طرح زنا کرتے ہوئے دیکھا جیسے سرمہ دانی میں سلائی ہو تب زنا کا ثبوت ہوگا، ظاہر ہے ایسے چار گواہ ملنا عادتاً ناممکن ہے ہاں اگر کوئی مرد عورت زنا کا اقرار کرلے تو اس پر سزا جاری ہوگی لیکن اس میں بھی امیر المومنین اور قاضی کو حکم دیا گیا کہ معمولی شبہات پر حد کو ساقط کردیں مقصود لوگوں کی پٹائی کرنا اور سنگسار کرنا نہیں بلکہ زنا سے بچانا مقصود ہے اس سب کے باو جود پھر بھی کوئی شخص زنا کے جرم میں پکڑا جائے تو اصول شریعت کے مطابق اس کا زنا ثابت ہوجائے تو امیر المومنین اور قاضی لا محالہ اس پر حد جاری کر دے گا۔ کیونکہ یہ شخص مسلمانوں کے معاشرے کا ایک ایسا عضو ہے جو بالکل ہی سڑ چکا ہے جسے کاٹے بغیر جسم کی اصلاح ممکن نہیں رہتی۔ لوگ زنا کی سزا کی سختی کو تو دیکھتے ہیں اس سزا کی حکمتوں کو نہیں دیکھتے۔
Ayah 24:3اس آیت کی تفسیر میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں اوپر ترجمہ سے جو مطلب ظاہر ہو رہا ہے صاحب بیان القرآن نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ و نقلہ صاحب الروح عن النسیابوری فقال قال النسیابوری انہ احسن الوجوہ فی الایۃ سبحانہ (الزانی لا ینکح) حکم مؤسس علی الغالب المعتاد جئی بہ لزجر المومنین عن نکاح الزوانی بعد زجر ھم عن الزنا و ذلک ان الفاسق الخبیث الذی من شانہ الزنا و القبح لا یرغب غالبا فی نکاح الصوالح من النساء اللاتی علی خلاف صفتہ وانما یرغب فی فاسقۃ خبیثۃ من شکلہ اوفی مشرکۃ و الفاسقۃ الخبیثۃ المسافحۃ کذالک لا یرغب فی نکاحھا الصلحاء من الرجال و ینفرون عنھا وانما یرغب فیھا من ھو من شکلھا من الفسقۃ و المشر کین، و نظیر ھذا الکلام لا یفعل الخیر الاتقی فانہ جار مجرمی الغالب، و معنی التحریم علی المؤمنین علی ھذا قیل التنزیہ و عبربہ عنہ للتغلیظ۔
اور بعض حضرات نے خبر کو بمعنی النہی لیا ہے اور یہ مطلب بتایا ہے کہ کسی زانی کو زانیہ یا مشرکہ کے علاوہ کسی عورت سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں اسی طرح زنا کار عورت کو کسی غیر زانی اور غیر مشرک سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں اور مومنین کے لیے حرام ہے کہ کسی زانیہ یا مشرکہ سے نکاح کریں۔ جن حضرات نے یہ بتایا ہے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ حکم ہجرت کے ابتدائی دور میں تھا بعد میں زانی اور زانیہ کے بارے میں تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور مشرک اور مشرکہ کے بارے میں باقی رہا یعنی زانی مرد غیر زانی عورت سے نکاح کرسکتا ہے جبکہ مومن ہوں اور کسی مومن عورت سے اور کسی مومنہ کا کسی مشرک سے جائز نہیں۔ ان حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ (وَاَنکِحُوْا الْاَیَامَی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ ) سے اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا، بعض حضرات نے آیت کا نزول بتاتے ہوئے بعض قصے بھی نقل کیے ہیں اور یہ قصے نقل فرما کر جو کچھ فرمایا ہے وہ بھی قول اول یعنی منسوخ تسلیم کرنے کی طرف راجع ہوتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے اور حضرت مجاہد اور عطا بن ابی رباح اور قتادہ اور زہری اور شعبی (تابعین کرام) نے فرمایا ہے کہ جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے اور ان کے پاس اموال نہیں تھے۔ تنگ دست بھی تھے اور کنبہ قبیلہ بھی نہ تھا تو اس وقت انہیں مال اور ٹھکانے کی ضرورت تھی مدینہ منورہ میں فاحشہ عورتیں تھیں جو مال لے کر زنا کرتی تھیں ان کے پاس پیسہ بھی بہت تھا یہ فقراء مہاجرین جو مکہ معظمہ سے آئے تھے انہوں نے ان سے نکاح کرنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی جس میں مصلحت یہ تھی کہ یہ عورتیں ان پر خرچ کریں گی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان عورتوں سے نکاح کرنے سے منع فرما دیا۔ اسی طرح کے اور بھی قصے ہیں جو حضرت عکرمہ سے منقول ہیں۔ (معالم التنزیل ص 323 ج 3)
Ayahs 24:4–5پاک دامن عورتوں کو تہمت لگانے والوں کی سزا
اسلام میں مومن مرد و عورت کی آبرو کی بڑی حیثیت ہے اگر کوئی مرد یا کوئی عورت کسی پاک دامن مرد یا عورت کو صاف لفظوں میں زنا کی تہمت لگا دے مثلا یوں کہہ دے کہ اے زانی، اے رنڈی، اے فاحشہ اور جسے تہمت لگائی ہے وہ قاضی کے ہاں مطالبہ کرے کہ فلاں شخص نے مجھے ایسے ایسے کہا ہے تو قاضی اسے اسی کوڑوں کی سزا دے گا۔ فقہاء کی اصطلاح میں اس کو حد قذف کہتے ہیں۔ یہ کوڑے متفرق طور پر اعضاء جسم پر مارے جائے گے اور اس کے کپڑے نہ اتارے جائیں گے جو عام طور سے پہنے ہوتے ہیں البتہ روئی کے کپڑے یا پوستین یا ایسی چیز جو چوٹ لگنے سے مانع ہو اس کو اتار لیا جائے گا۔
تہمت لگانے والے کی یہ جسمانی سزا ہوئی اس کے علاوہ ایک سزا اور بھی ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کو حد قذف لگائی گئی اس شخص کی گواہی کبھی بھی کسی بارے میں بھی مقبول نہیں ہوگی اگر اس نے توبہ کرلی تو توبہ سے گناہ تو معاف ہوجائے گا لیکن گواہی کے قابل پھر بھی نہ مانا جائے گا۔ اس کا یہ عزت کا مقام ہمیشہ کے لیے چھین لیا گیا کہ وہ کبھی کسی معاملہ میں گواہ بنے، حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک آیت بالا کا یہی مفہوم ہے (اِلاَّ الَْذِیْنَ تَابُوْا) جو استثنا ہے ان کے نزدیک (وَ لاَ تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَھَادَۃً اَبَدًا) سے استثناء نہیں ہے بلکہ (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ ) سے استثناء ہے یعنی توبہ کرنے سے فسق کا حکم ختم ہوجائے گا لیکن فیھا بین العباد وہ گواہ بننے کے بلند مقام سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگیا۔
Ayahs 24:6–10جو لوگ اپنی بیویوں کی تہمت لگائیں ان کے لیے لعان کا حکم
کوئی مرد عورت کو زنا کی تہمت لگا دے اور اپنی بات کے سچا ثابت کرنے کے لیے چار گواہ پیش نہ کرسکے تو اس تہمت لگانے والے پر حد قذف جاری ہوگی یعنی اسے اسی کوڑے لگائے جائیں گے (جس کی تفصیل اوپر گزری) لیکن اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے بارے میں یوں کہے کہ اس نے زنا کیا ہے اور عورت اس کو جھٹلائے اور شوہر کے پاس چار گواہ نہیں ہیں تو گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کو حدقذف نہیں لگائی جائے گی بلکہ امیر المومنین یا قاضی شوہر سے کہے گا کہ تو لعان کر یا یہ اقرار کر کہ تو نے جھوٹی تہمت لگائی ہے اگر وہ دونوں میں سے کسی بات پر راضی نہ ہو تو قاضی اسے بند کر دے گا۔ یہاں تک کہ لعان کرنے پر راضی ہوجائے یا یوں کہے کہ میں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے اگر اس دوسری بات کا اقرار کرے تو پھر اسے حد قذف لگائی جائے گی، اگر وہ اپنے نفس کو نہیں جھٹلاتا اور اسے برابر اس بات پر اصرار ہے کہ میری بیوی نے زنا کیا ہے تو قاضی دونوں کے درمیان لعان کرنے کا حکم دے گا۔
لعان کا طریقہ :
لعان کا طریقہ یہ ہے کہ مرد کھڑا ہوگا اور چار مرتبہ یوں کہے گا اشھد باللّٰہ انی لمن الصادقین فما رمیت ھذا من الزنا (میں اللہ کو گواہ بنا کر قسم کھاتا ہوں کہ میں اس عورت کے بارے میں جو کہہ رہا ہوں کہ اس نے زنا کیا ہے میں اس بات میں سچا ہوں) یا پھر پانچویں مرتبہ یوں کہے لعنت اللہ علیہ ان کان من الکذبین فیما رمی ھذا من الزنا (اس عورت کے بارے میں جو میں نے کہا ہے کہ اس نے زنا کیا اس بارے میں اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو) پانچویں مرتبہ جب لفظ ھذہ (اس عورت) کے الفاظ ادا کرے تو ہر مرتبہ عورت کی طرف اشارہ کرے جب مرد پانچوں مرتبہ مذکورہ الفاظ کہہ چکے تو اس کے بعد عورت چار مرتبہ کہے اشھد باللہ انہ لمن الکاذبین فیھا رمانی بہ من الزنا (میں اللہ کو گواہ بنا کر قسم کھاتی ہوں کہ اس مرد نے جو مجھے زنا کی تہمت لگائی ہے اس بارے میں یہ جھوٹا ہے) پھر پانچوں مرتبہ یوں کہے ان غضب اللہ علیھا ان کان من الصادقین فیھا رمانی بہ من الزنا (مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو اگر یہ اپنی اس بات میں سچا ہو جو اس نے میری طرف زنا کی نسبت کی ہے) ۔
جب دونوں لعان کرلیں تو اب قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کر دے گا۔ اور یہ تفریق کرنا طلاق بائن کے حکم میں ہوگا۔ اور اگر لعان اس لیے تھا کہ نومولودہ بچہ کے بارے میں شوہر نے یوں کہا تھا کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے تو لعان کے بعد تفریق کرنے کے ساتھ ساتھ قاضی اس بچہ کا نسب اس مرد سے ختم کر دے گا اور یہ حکم نافذ کر دے گا کہ یہ بچہ اپنی ماں کا ہے اس عورت کے شوہر کا نہیں ہے۔ لعان کرنے کے بعد اگر شوہر اپنی تکذیب کر دے یعنی یوں کہہ دے کہ میں نے جھوٹی تہمت لگائی تھی تو پھر قاضی اسے حد قذف یعنی اسی کوڑے لگا دے گا۔
حدیث کی کتابوں میں عویمر عجلانی اور ھلال بن امیہ ؓ کے اپنی اپنی بیوی سے لعان کرنے کا تذکرہ ملتا ہے صحیح بخاری ص 799 وص 1800 صحیح بخاری کتاب التفسیر ص 695 میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ھلال بن امیہ نے جو اپنی بیوی کے بارے میں یوں کہا کہ اس نے فلاں شخص سے زنا کیا ہے تو آیات لعان (وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ ) (الایات) نازل ہوئیں۔
لعان کی کچھ شرائط ہیں جو فقہ کی کتابوں میں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ بیوی نا بالغہ نہ ہو دیوانی نہ ہو اور شوہر نا بالغ اور دیوانہ نہ ہو اور اگر گونگا شوہر اشاروں سے اپنی بیوی کو تہمت لگا دے تو اس کی وجہ سے قاضی لعان کا حکم نہیں دے گا وفیہ شرائط آخر۔
Ayah 24:11حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگائے جانے کا واقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی برأت کا اعلان۔
ان آیات میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکرہ ہے اور اس موقعہ پر جو منافقین نے برا کردار انجام دیا اس کا ذکر ہے اور بعض مسلمان جو اپنی سادگی میں ان کے ساتھ ہو لیے اور بعض دیگر مسلمان جنہوں نے احتیاط سے کام نہ لیا ان کو تنبیہ اور نصیحت فرمائی ہے۔
رسول اللہ ﷺ سفر میں تشریف لے جاتے اور ازواج مطہرات میں سے کسی کو ساتھ لے جانا ہوتا تو قرعہ ڈال لیتے تھے۔ 6 ھ میں آپ غزوہ بنی مصطلق کے لیے تشریف لے گئے اس سفر میں حضرت عائشہ ؓ آپ کے ساتھ تھیں یہ ایک ہودج میں سوار رہتی تھیں ھودج ایک قسم کا ڈبہ سا ہوتا تھا جس میں ایک دو آدمی بیٹھ سکتے تھے اس کو اونٹ کی کمر پر رکھ دیا جاتا تھا۔ واپسی میں جب مدینہ طبیہ کے قریب پہنچے اور تھوڑی سی مسافت رہ گئی تو آخری شب میں روانگی کا اعلان کردیا گیا یہ اعلان روانگی سے پہلے کردیا جاتا تھا تاکہ اہل ضرورت اپنی ضرورتوں سے فارغ ہو کر تیار ہوجائیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے جب اعلان سنا تو قضائے حاجت کے لیے ذرا دور چلی گئیں (جنگل میں تو ٹھہرے ہوئے تھے ہی اور دیگر اصحاب کرام بھی تھے جن میں مرد بھی تھے اس لیے دور جانا مناسب معلوم ہوا) واپس آئیں تو دیکھا کہ گلے میں جو ہار تھا وہ کہیں گرگیا ہے اس کو تلاش کرنے کے لیے گئیں تو واپسی میں تاخیر ہوگئی اب جو اپنی جگہ واپس پہنچیں تو قافلہ روانہ ہوچکا تھا۔ اونٹ پر ہودج رکھنے والوں کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ یہ خالی ہے جسے ہمیشہ اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے اسی طرح انہوں نے اس وقت بھی ہودج کو اونٹ پر رکھ دیا انہیں یہ خیال نہ آیا کہ اس میں ام المومنین نہیں ہیں، جس کی وجہ خود حضرت عائشہ نے یہ بتائی کہ زیادہ خوراک کھانے کو نہیں ملتی تھی بدن ہلکا تھا زیادہ بوجھل نہیں تھا تو ہودج اٹھانے والوں کو خالی ہونے کا احساس نہ ہوا۔ ان کے اونٹ کو قافلہ کے دوسرے اونٹوں کے ساتھ روانہ کردیا۔
حضرت عائشہ ؓ اپنی جگہ تشریف لائیں تو دیکھا کہ قافلہ موجود نہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھ دی وہ چادر اوڑھ کر وہیں لیٹ گئیں اور خیال کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب دیکھیں گے کہ میں ہودج میں نہیں ہوں تو مجھے تلاش کرنے کے لیے یہیں واپس آئیں گے۔ ادھر ادھر کہیں جانے میں خطرہ ہے کہ آپ کو تلاش میں دشواری ہو۔ اسی اثنا میں ان کی آنکھ لگ گئی اور وہیں سو گئیں۔
صفوان بن معطل سلمی ایک صحابی تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اس کام پر مقرر فرمایا تھا کہ لشکر کی روانگی کے بعد پیچھے سے آیا کریں (اس میں یہ مصلحت تھی کہ کسی کی کوئی چیز گری پڑی ہو تو اٹھا کرلیتے آئیں) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب وہ وہاں پہنچے جہاں میں سو رہی تھی تو انہیں ایک انسان نظر آیا انہوں نے دیکھ کر مجھے پہچان لیا کیونکہ انہوں نے نزول حجاب سے پہلے مجھے دیکھا تھا انہوں نے مجھے دیکھا تو (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ) پڑھا، ان کی اس آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی چادر سے چہرہ ڈھانک لیا (اس سے ان جاہلوں کی بات کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ چہرہ کا پردہ نہیں ہے) وہ قریب آئے اور اپنی اونٹنی کو بٹھا دیا میں اونٹنی کے اگلے پاؤں پر اپنا قدم رکھ کر سوار ہوگئی اس کے بعد وہ اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے آگے آگے پیدل چلتے رہے دوپہر کے وقت میں لشکر کے پاس پہنچ گئے اس وقت لشکر پڑاؤ ڈال چکا تھا۔ لشکر کے ساتھیوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا یہ منافقوں کا سردار تھا اس نے تہمت لگا دی (کہ یہ دونوں قصدا پیچھے رہ گئے تھے اور ان دونوں نے تنہائی میں کچھ کیا ہے) زیادہ بات کو اچھالنے اور لیے لیے پھرنے اور چرچا کرنے میں اس عبداللہ کا بڑا ہاتھ تھا اس کے ساتھ دوسرے منافق بھی تھے اور سچے مسلمانوں میں سے دو مرد اور ایک عورت بھی اس بات میں شریک ہوگئے تھے مرد تو حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ تھے اور عورت حمنہ بنت جحش تھیں یہ ام المومنین حضرت زینب کی بہن تھیں۔
حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ ہم مدینہ منورہ تو پہنچ گئے لیکن مجھے بات کا پتہ نہیں چلا میں بیمار ہوگئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے وہ مہربانی محسوس نہیں کرتی تھی جو پہلے تھی آپ تشریف لاتے تھے تو گھر کے دوسرے افراد سے پوچھ لیتے تھے کہ اس کا کیا حال ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ باہر کیا باتیں چل رہی ہیں اسی اثنا میں یہ ہوا کہ میں مسطح کی والدہ کے ساتھ رات کو قضائے حاجت کے لیے نکلی اس وقت گھروں کے قریب بیت الخلاء نہیں بنائے گئے تھے۔ قضائے حاجت کے لیے آبادی سے باہر رات کے وقت میں جایا کرتے تھے، میں مسطح کی والدہ کے ساتھ جا رہی تھی کہ ان کی چادر میں ان کا پاؤں پھسل گیا ان کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا کہ مسطح ہلاک ہو میں نے کہا یہ تو آپ نے ایسے شخص کے لیے برے الفاظ کہہ دیئے جو غزوہ بدر میں شریک ہوا تھا، وہ یہ سن کر کہنے لگیں کیا تو نے سنا ہے جو لوگ کہہ رہے ہیں (ان کہنے والوں میں مسطح بھی تھے) اس کے بعد انہوں نے مجھے تہمت لگانے والوں کی باتیں بتائیں جس سے میرے مرض میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا جب میں اپنے گھر واپس آئی تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور حسب عادت اسی طرح دوسرے افراد سے دریافت فرمایا کہ اس کا کیا حال ہے میں نے عرض کیا مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے ماں باپ کے یہاں چلی جاؤں آپ نے اجازت دیدی تو میں اپنی میکے چلی آئی، والدہ سے میں نے پوچھا کہ لوگوں میں کیا باتیں چل رہی ہیں انہوں نے کہا کہ بیٹا تم تسلی رکھو جس عورت کی سوتنیں ہوتی ہیں اس کے ساتھ (حسد میں) ایسا ہوا ہی کرتا ہے میں نے کہا سبحان اللہ واقعی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ باتیں اڑائی جا رہی ہیں۔ اس کے بعد میں رات بھر روتی رہی ذرا دیر کو آنسو نہ تھمے اور مجھے ذرا سی نیند بھی نہ آئی اور اس کے بعد بھی روتے روتے یہ حال ہوگیا کہ میں نے سمجھ لیا کہ میرا جگر پھٹ جائے گا، اسی پریشان حال میں رات دن گزرتے رہے اور ایک مہینہ تک رسول اللہ ﷺ پر میرے بارے میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، میں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضرور بری فرما دے گا اور خیال یوں تھا کہ رسول اللہ ﷺ کوئی خواب دیکھ لیں گے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے بری فرما دیں گے میں اپنے نفس کو اس لائق نہیں سمجھتی تھی کہ میرے بارے میں قرآن مجید میں کوئی آیت نازل ہوگی۔
ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف رکھتے تھے کہ آپ پر وحی نازل ہوگئی اور آپ کو پسینہ آگیا جو وحی کے وقت آیا کرتا تھا یہ پسینہ ایسا ہوتا تھا کہ سردی کے دنوں میں بھی پسینے کے قطرے ٹپک جاتے تھے جو موتیوں کی طرح ہوتے تھے جب آپ کی یہ حالت دور ہوئی تو آپ ہنس رہے تھے آپ نے سب سے پہلے یہ کلمہ فرمایا کہ اے عائشہ اللہ کی تعریف کر اللہ تعالیٰ نے تیری برأت نازل فرما دی اس وقت جو آیتیں نازل ہوئیں ان کی ابتداء (اِِنَّ الَّذِیْنَ جَاءُوا بالْاِِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ ) تھی۔
مسطح جو تہمت لگانے والوں میں شریک ہوگئے تھے یہ حضرت ابوبکر ؓ کے رشتہ دار تھے (مسطح کی والدہ سلمہ حضرت ابوبکر کی خالہ زاد بہن تھیں اس اعتبار سے مسطح ان کے بھانجے ہوئے) حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان کا خیال رکھتے تھے اور ان پر مال خرچ کیا کرتے تھے جب حضرت عائشہ کی برأت کی آیات نازل ہوئیں تو حضرت ابوبکر نے قسم کھالی کہ اللہ کی قسم میں اب مسطح پر کبھی بھی خرچ نہ کروں گا اس پر آیت شریفہ (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم میں کبھی بھی اس کا خرچہ نہیں روکوں گا۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 364، ج 2 ص 594، ج 2 ص 696 بعض الاجزاء)
جو آیات حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی برأت میں نازل ہوئیں ان کی ابتداء اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُ وْا بالْاِفْکِ سے ہے جن میں یہ بتایا ہے کہ جو لوگ تہمت لے کر آئے ہیں یہ تم ہی میں کا ایک گروہ ہے، روایات حدیث میں اس بارے میں عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کا مخلص مسلمانوں میں حضرت حسان بن ثابت حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت جحش کے نام مذکور ہیں۔ ان کو (عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ ) فرمایا کہ تم میں سے ایک جماعت نے تہمت لگائی ہے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین گو دل سے مسلمان نہیں تھا لین چونکہ ظاہراً اسلام کا دعوی کرنے والوں میں سے تھا اس لیے لفظ منکم میں اسے بھی شامل کرلیا گیا۔ (منافقین پر ظاہری طور پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور وہ بھی اپنے کو اہل ایمان میں شمار کرتے تھے) بات کے اٹھانے اور پھیلانے میں تو عبد اللہ بن ابی آگے آگے تھا سادہ لوحی کی وجہ سے مذکورہ بالا تین مخلص مسلمان بھی تہمت لگانے والی بات میں شریک ہوگئے تھے۔ بعد میں تینوں مخلصین تو تائب ہوگئے تھے لیکن عبداللہ بن ابی اور دوسرے منافقین اپنی بات پر جمے رہے انہوں نے توبہ نہیں کی۔
(لاَ تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَکُمْ بَلْ ھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ ) (تم اس تہمت والی بات کو اپنے لیے شر نہ سمجھو بلکہ تمہارے لیے بہتر ہے) یہ خطاب آنحضرت سید عالم ﷺ کو اور حضرت عائشہ کو اور ان کے والدین کو حضرت صفوان کو اور تمام مومنین کو شامل ہے مطلب یہ ہے کہ یہ جو واقعہ پیش آیا ہے اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ اپنے حق میں اسے اچھا سمجھو۔ بظاہر واقعہ سے صدمہ تو پہنچا لیکن اس صدمہ پر صبر کرنے سے جو اجر ثواب ملا اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات ملیں ان سب میں تمہارے لیے خیر ہے اور اس میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی برأت نازل فرمائی یہ آیات قیامت آنے تک مدرسوں میں پڑھائی جاتی رہیں گی اور برابر نمازوں میں ان کی تلاوت ہوتی رہے گی۔
(لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ مَا اکْتَسَبَ مِنَ الْاِِثْمِ ) (ہر شخض کے لیے گناہ کا وہ ہی حصہ ہے جو اس نے کمایا) یعنی اس بارے میں جتنا جس نے حصہ لیا وہ اسی قدر گناہ کا مرتکب ہوا اور اسی تناسب سے عذاب کا مستحق بنا، سب سے بڑا گناہ گار وہ ہے جس نے اس بہتان کو تراشا اور اس کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہا۔ بعض سادہ لوح اس کے ساتھی بن گئے اور بعض سن کر خاموش رہ گئے انہیں خاموش رہ جانے کی بجائے فوراً تردید کرنا لازم تھا۔
(وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہُ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) (اور ان میں جس نے اس بہتان میں بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے) جس نے بہتان میں بڑا حصہ لیا تھا وہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین تھا عذاب عظیم سے دوزخ کا عذاب مراد ہے اور دنیا میں بھی اسے دوھری سزا دی گئی۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ معجم طبرانی حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب آیت برأت نازل ہوئی تو سرور عالم ﷺ مسجد میں تشریف لے آئے اور حضرت عبیدہ بن جراح ؓ کو طلب فرمایا انہوں نے لوگوں کو جمع کیا پھر آپ نے حاضرین کو آیت برأت سنائی اور آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس پر دو حدیں جاری فرمائیں یعنی دو بار 80، 80 کوڑے لگوائے اور آپ نے حسان اور مسطح اور حمنہ کو بھی بلایا ان پر بھی حد جاری فرمائی ان پر ایک حد جاری کی یعنی ہر ایک کو اسی کوڑے لگائے گئے۔ فقیل ان عبداللہ لم یحدو لم یقرو ھذا قول غیر صحیح لان علم اتیان بار بعۃ شھداء کاف لاجراء حدا لقذف و لا ینظر فی ذالک الی الاقر و قال بعضھم انہ لم یحدا حد من اھل الافک و ھذا ایضاً لا یصح لما ذکرنا و لان امیر المومنین اذا ثبت عندہ الحد لا یجو زلہ الغاۂ و کان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم مبینا للا حکام بالقول والعملوی بعد منہ ﷺ لا نہ مامور من اللہ تعالیٰ و لما ان الالغاء الغاء لحق المقذوف و لا یظن بہ ﷺ ان یمسک الحد عن من وجب علیہ الحد و یبطل حق المقذوف۔