24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک عظیم سورت ہے ہم نے اس کو نازل کیا ہے اور اس کو (تم پر) فرض کیا ہے اور ہم نے اس میں بڑی روشن آیات نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

آیت 1 سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰہَا وَفَرَضْنٰہَا ” سورت کے آغاز کا یہ انداز تمام سورتوں میں منفرد ہے۔ ”سُوْرَۃٌ“ کا لفظ یہاں پر بطور اسم نکرہ استعمال ہوا ہے۔ اس کو اگر تفخیم کے لیے مانا جائے تو اس کے معنی یوں ہوں گے کہ یہ ایک عظیم سورت ہے۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور تمہیں نہ روکے ان کے ساتھ مہربانی اللہ کے دین (کی تنفیذ) کے معاملے میں اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور یوم آخرت پر اور چاہیے کہ ان دونوں کی اس سزا کے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے

وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ ” یہ اللہ کے دین اور اس کی شریعت کا معاملہ ہے۔ ایسے معاملے میں حد جاری کرتے ہوئے کسی کے ساتھ کسی کا تعلق ‘ انسانی ہمدردی یا فطری نرم دلی وغیرہ کچھ بھی آڑے نہ آنے پائے۔ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ج ” یہ غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے حد ہے جو نص قرآنی سے ثابت ہے۔ البتہ شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا رجم ہے جو سنت رسول ﷺ سے ثابت ہے اور قرآن کے ساتھ ساتھ سنت رسول ﷺ بھی شریعت اسلامی کا ایک مستقل بالذاتّ ماخذ ہے۔ رجم کی سزا کا قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ شریعت موسوی علیہ السلام میں یہ سزا موجود تھی اور حضور ﷺ نے سابقہ شریعت کے ایسے احکام جن کی قرآن میں نفی نہیں کی گئی اپنی امت میں جوں کے توں جاری فرمائے ہیں۔ ان میں رجم اور قتل مرتد کے احکام خاص طور پر اہم ہیں۔ شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے رجم کی سزا متعدد احادیث ‘ رسول اللہ ﷺ کی سنت ‘ خلفائے راشدین کے تعامل اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ” اس حد کو عام پبلک میں کھلے عام جاری کرنے کا حکم ہے۔ اس سے یہ اصول ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اسلامی شریعت دراصل تعزیرات اور حدود کو دوسروں کے لیے لائقِ عبرت بنانا چاہتی ہے۔ اگر کسی مجرم کو جرم ثابت ہونے کے بعد چپکے سے پھانسی دے دی جائے اور لوگ اسے ایک خبر کے طور پر سنیں تو ان کے ذہنوں میں اس کا وہ تاثر قائم نہیں ہوگا جو اس سزا کے عمل کو براہ راست دیکھنے سے ہوگا۔ اگر کسی مجرم کو سرعام تختہ دار پر لٹکایا جائے تو اس سے کتنے ہی لوگوں کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ چناچہ اسلامی شریعت سزاؤں کے تصور کو معاشرے میں ایک مستقل سدراہ deterrent کے طور پر مؤثر دیکھنا چاہتی ہے۔ اس میں بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ ایک کو سزا دی جائے تو لاکھوں کے لیے باعث عبرت ہو۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زانی مرد کو روا نہیں کہ وہ نکاح کرے مگر کسی زانیہ ہی سے یا مشرکہ سے اور زانیہ عورت بھی اس لائق نہیں کہ اس سے کوئی نکاح کرے مگر صرف بدکار مرد یا کوئی مشرک۔ اور حرام کردیا گیا ہے یہ (زانی اور زانیہ سے نکاح) مؤمنین پر

آیت 3 اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃًز ” یہ حکم قانون کے درجے میں نہیں بلکہ اخلاق کے درجے میں ہے۔ یعنی اس شرمناک اور گھناؤنے جرم کا ارتکاب کر کے اس شخص نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی پاک دامن ‘ عفتّ مآب مؤمنہ کے لائق ہے ہی نہیں۔ چناچہ اسے چاہیے کہ وہ اس قانونی بندھن کے لیے بھی اپنے جیسی ہی کسی بدکار عورت یا پھر مشرکہ عورت کا انتخاب کرلے۔
Ayah 24:4

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر وہ نہ لاسکیں چار گواہ تو ایسے لوگوں کو لگاؤ اسّی کوڑے اور آئندہ کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی لوگ فاسق ہیں

آیت 4 وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ” ”محصنات“ ُ سے مراد خاندانی عورتیں بھی ہیں اور منکوحہ عورتیں بھی۔ گویا عورتوں کے حق میں احصان حفاظت کا حصار کی دو صورتیں ہیں۔ جو عورتیں کسی معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہیں وہ اپنے اس خاندان کی حفاظت کے حصار میں ہیں اور جو کسی کے نکاح کی قید میں ہیں انہیں اپنے خاوند اور نکاح کے اس تعلق کی حفاظت حاصل ہے۔ اس طرح خاندانی منکوحہ خا تون کو دوہرا ”اِحصان“ حاصل ہوتا ہے۔ چناچہ اگر کوئی شخص کسی پاکدامن خاندانی یا منکوحہ عورت پر زنا کا الزام لگائے اور : وَّلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًاج وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ” اگر کوئی شخص کسی پاکدامن خاتون پر بدکاری کا الزام لگائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چار چشم دیدگواہ پیش کرے۔ اگر وہ اس میں ناکام رہتا ہے تو اس کے اس الزام کو بہتان تصور کیا جائے گا ‘ اور زنا کے بہتان کی سزا کے طور پر اسے اسّی 80 کوڑے لگائے جائیں گے۔ شریعت میں اسے ”حد قذف“ کہا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ سزا زنا کی سزا سو کوڑے کے قریب ہی پہنچ جاتی ہے۔ اس میں بظاہر یہ حکمت نظر آتی ہے کہ خواہ مخواہ برائی کی تشہیر نہ ہو۔ دراصل برائی کا چرچا بھی معاشرے کے لیے برائی ہی کی طرح زہر ناک ہے اور شریعت کا مقصود اس زہرناکی کا سدباب کرنا ہے۔ اس سلسلے میں شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کہیں ایسی غلطی کا ارتکاب ہو تو قصور وار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لیکن اگر کسی قانونی سقم کی وجہ سے یا گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث جرم ثابت نہ ہوسکتا ہو اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو پھر بہتر ہے کہ اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی جائے اور برائی کی تشہیر کر کے معاشرے کی فضا میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے سے اجتناب کیا جائے۔
Ayah 24:5

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو تو بہ کرلیں اس کے بعد اور اپنی اصلاح کرلیں تو یقیناً اللہ غفور ہے رحیم ہے

آیت 5 اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا ج فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ” مثلاً کسی شخص پر قذف کی حد جاری کی گئی اور اسلامی عدالت میں طویل عرصے تک اس کی گواہی بھی ناقابل قبول رہی ‘ لیکن سزا ملنے کے بعد اس شخص نے اللہ کے حضور توبہ کرلی اور اپنی پرانی روش کو مستقل طور پر تبدیل کرلیا۔ اس کے مثبت رویے کو دیکھتے ہوئے معاشرے میں پھر سے اسے ایک با اعتماد ‘ صالح اور پرہیزگار مسلمان کے طور پر تسلیم کرلیا گیا۔ اب ایسے شخص پر سے گواہی کے ناقابل قبول ہونے کی قدغن ختم ہوسکتی ہے۔
Ayah 24:6

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگائیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے سوا اور گواہ نہ ہوں تو ایسے ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ اللہ کی قسم کے ساتھ چار بار گواہی دے کہ وہ یقیناً سچا ہے

آیت 6 وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ شُہَدَآءُ اِلَّآ اَنْفُسُہُمْ ” یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ لے اور اس کے پاس اپنے علاوہ موقع کے تین اور گواہ بھی نہ ہوں تو وہ کیا کرے ؟ چونکہ معاملہ اس کی اپنی بیوی کا ہے اس لیے وہ خاموشی اختیار کر کے اس کے ساتھ رہ بھی نہیں سکتا۔ عام حالات میں تو اگر کوئی شخص اپنے علاوہ تین چشم دید گواہوں کے بغیر کسی پر ایسا الزام لگائے تو اسے اسّی 80 کوڑوں کی سزا دی جائے گی ‘ لیکن میاں بیوی کے معاملے میں ایسی صورت حال کے لیے یہاں ایک خصوصی قانون دیا گیا ہے جسے اصطلاح میں ”لعان“ کہا جاتا ہے۔ فَشَہَادَۃُ اَحَدِہِمْ اَرْبَعُ شَہٰدٰتٍم باللّٰہِلا اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ” ایسے شخص سے تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر چار دفعہ واقعہ کی گواہی دے اور دعویٰ کرے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔
Ayahs 24:7–8

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے کہ اس پرا للہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹاہو

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور اس عورت سے یہ بات سزا کو ٹال سکتی ہے کہ وہ چار دفعہ گواہی دے اللہ کی قسم کے ساتھ کہ وہ (اس کا شوہر) یقیناً جھوٹا ہے

آیت 7 وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ” اس طرح ایسے شخص کی مذکورہ گواہی چار گواہوں کے برابر سمجھی جائے گی۔
Ayah 24:9

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچا ہو

آیت 9 وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ” اگر شوہر چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر الزام میں اپنی سچائی کی گواہی دے دے اور پانچویں دفعہ یہ بھی کہہ دے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو تو اس کی طرف سے چار گواہ پیش کرنے کا قانونی تقاضا پورا ہوگیا۔ اس کے بعد متعلقہ عورت کو صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اگر وہ اس الزام کو تسلیم کرلے یا خاموش رہے تو اس پر حد جاری کردی جائے گی ‘ لیکن اگر وہ اس سے انکار کرے تو اسے بھی اللہ کی قسم کھا کر چار مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اس کا شوہر جھوٹ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اگر وہ اپنے الزام میں سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اگر وہ عورت ایسا کہہ دے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی اور وہ دنیا کی سزا سے بچ جائے گی۔ البتہ اس کے بعد ان کے درمیان طلاق واقع ہوجائے گی اور وہ دونوں بطور میاں بیوی اکٹھے نہیں رہ سکیں گے۔
Ayah 24:10

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بہت حکمت والا ہے

وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیْمٌ “ یہاں پر کچھ الفاظ مقدرّ understood مانے گئے ہیں۔ گویا تقدیر عبارت یوں ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت تم لوگوں کے شامل حال نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ توبہ قبول فرمانے والا اور صاحب حکمت ہے تو بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں غلط راستے پر ڈال دیتا اور تم کوئی بہت بڑا قدم اٹھا لیتے۔ ان ابتدائی آیات کی صورت میں اس واقعہ کی تمہید بیان ہوئی ہے جو آگے آ رہا ہے۔
Ayahs 24:11–12

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں یہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے اسے تم اپنے لیے ُ برا نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے ان میں سے ہر شخص کے لیے وہی ہے جو گناہ اس نے کمایا اور ان میں سے جس نے اس کا بڑا بوجھ اپنے سر لیا اس کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تو مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں اپنے بارے میں اچھا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو ایک کھلا بہتان ہے

لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْط بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ط“ یہ واقعہ گویا اللہ تعالیٰ کے بہت سے احکام اور قوانین کے نزول کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اسی کی وجہ سے امت کو شریعت کے اہم امور کی تعلیم دی جائے گی۔ اس واقعہ کا خلاصہ یوں ہے : 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ غزوۂ بنی مصطلق کے لیے تشریف لے گئے۔ اس سفر میں حضرت عائشہ رض آپ ﷺ کے ہمراہ تھیں۔ آپ رض ایک الگ ہودج کجاوہ میں سفر کرتی تھیں۔ واپسی کے سفر کے دوران ایک جگہ جب قافلے کا پڑاؤ تھا آپ رض صبح منہ اندھیرے قضائے حاجت کے لیے گئیں۔ واپسی آپ رض کا ہار کہیں گرگیا اور اس کی تلاش میں آپ رض کو اتنی دیر ہوگئی کہ قافلے کے کوچ کا وقت ہوگیا۔ جن لوگوں کو آپ رض کا ہودج اونٹ پر باندھنے اور اتارنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی انہوں نے ہودج اٹھا کر اونٹ پر باندھ دیا۔ آپ رض چونکہ بہت دبلی پتلی تھیں اور آپ رض سمیت ہودج کا وزن بہت زیادہ نہیں ہوتا تھا ‘ اس لیے اٹھاتے ہوئے وہ لوگ یہ اندازہ نہ کرسکے کہ ہودج خالی ہے اور آپ رض اس میں موجود نہیں ہیں۔ بہر حال جب آپ رض پڑاؤ کی جگہ پر واپس آئیں تو قافلہ کوچ کرچکا تھا۔ واپس آکر آپ رض نے سوچا ہوگا کہ اگر پیدل قافلے کے پیچھے جانے کی کوشش کروں گی تو نہ جانے رات کے اندھیرے میں راستہ بھٹک کر کس طرف چلی جاؤں۔ اس لیے بہتر ہے کہ اسی جگہ پر بیٹھی رہوں ‘ تا وقتیکہ لوگوں کو میرے بارے میں پتا چلے کہ میں ہودج میں نہیں ہوں اور وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچ جائیں۔ چناچہ آپ رض وہیں بیٹھ گئیں۔ بیٹھے بیٹھے آپ رض کو نیند آگئی اور آپ رض وہیں زمین پر سو گئیں۔ اس زمانے میں عام طور پر سفر کے دوران ایک شخص قافلے کے پیچھے پیچھے سفر کرتا تھا تاکہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے اگر کوئی ساتھی پیچھے رہ گیا ہو تو اس کی مدد کرے یا قافلے کی کوئی گری پڑی چیز اٹھا لے۔ اس سفر کے دوران اس ذمہ داری پر حضرت صفوان بن معطل رض مامور تھے۔ وہ اجالے کے وقت قافلے کے پڑاؤ کی جگہ پر پہنچے تو دور سے انہیں ایک گٹھڑی سی پڑی دکھائی دی۔ قریب آئے تو ام المؤمنین رض کو زمین پر پڑے پایا۔ نیند کے دوران آپ رض کا چہرہ کھل گیا تھا اور حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے چونکہ انہوں نے آپ رض کو دیکھا تھا اس لیے پہچان گئے۔ حجاب کا حکم سورة الاحزاب میں ہے جو ایک سال پہلے 5 ہجری میں نازل ہوچکی تھی۔ اس سے پہلے خواتین حجاب نہیں کرتی تھیں۔ حضرت صفوان رض نے آپ رض کو دیکھ کر اونچی آواز میں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ پڑھا۔ یہ سن کر آپ رض کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے آپ رض کے سامنے اپنا اونٹ بٹھا دیا۔ آپ رض خاموشی سے سوا رہو گئیں اور وہ نکیل پکڑے آگے آگے چلتے رہے۔ جب وہ آپ رض کو لے کر قافلے میں پہنچے تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ُ خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا دیا کہ خدا کی قسم ‘ تمہارے نبی کی بیوی بچ کر نہیں آئی ! معاذ اللہ ! باقی منافقین نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور یوں یہ بےسروپا بات بڑھتے بڑھتے ایک طوفان کا روپ دھار گئی۔ منافقین کی اس سازش سے بعض بہت ہی مخلص مسلمان بھی متأثر ہوگئے ‘ جن میں حضرتّ حسان بن ثابت رض دربار نبوی ﷺ کے شاعر بھی تھے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رض کی براءت میں یہ آیات نازل فرما کر آپ رض کی پاکدامنی اور پاکبازی پر گواہی دی تو تب جا کر یہ معاملہ ختم ہوا۔ یہ واقعہ تاریخ اسلامی میں ”واقعہ افک“ کے نام سے مشہور ہے۔ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ ج“ جس کسی کا جتنا حصہ اس طوفان کے اٹھانے میں ہے اس کو اسی قدر اس کا بدلہ ملے گا۔ وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ “ اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہے ‘ جو اس بہتان کے باندھنے اور اس کی تشہیر کرنے میں پیش پیش تھا۔
Ayahs 24:13–14

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

کیوں نہیں وہ لے کر آئے اس پر چار گواہ تو جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں تو ضرور تمہیں پہنچتا بہت بڑا عذاب اس معاملے کے باعث جس کا تم نے چرچا کیا تھا

آیت 13 لَوْلَا جَآءُ وْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ ج“ اس طرح کے الزام کے ثبوت کے لیے چار گواہ پیش کرنے کا حکم اس سے پہلے سورة النساء ‘ آیت 15 میں نازل ہوچکا تھا سورۃ النساء 4 ہجری میں نازل ہوچکی تھی۔ چناچہ ان لوگوں کے لیے لازمی تھا کہ چار گواہ پیش کرتے ورنہ خاموش رہتے۔ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓءِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ ” چار گواہوں کی عدم موجود گی میں اسلامی قانون کے مطابق وہ لوگ جھوٹے ہیں۔
Ayahs 24:15–18

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم لے رہے تھے اسے اپنی زبانوں سے اور تم اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں تھا اور تم اسے معمولی سمجھ رہے تھے جبکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات تھی

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا تو تم کہتے کہ ہمارے لیے جائز نہیں ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں (اور کہتے کہ) اے اللہ ! ُ تو پاک ہے یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ تم دوبارہ کبھی بھی ایسی کوئی حرکت مت کرنا اگر تم مؤمن ہو

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کر رہا ہے۔ اللہ سب کچھ جاننے والا بہت حکمت والا ہے

آیت 15 اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ ” ادھر سے بات سن کر ادھر پہنچا دینا انسانی کمزوری ہے اور اسی انسانی کمزوری کی وجہ سے کوئی بھی ہیجان انگیز بات ”منہ سے نکلی کو ٹھے چڑھی“ کے مصداق دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ” اس بارے میں جتنی باتیں تھیں سب سنی سنائی تھیں ‘ ان کے پیچھے نہ کوئی علمی ثبوت تھا اور نہ کوئی گواہ۔ وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَیِّنًاق وَّہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ ” کسی بھی مسلمان خاتون پر اس طرح کی تہمت لگا دینا بہت قبیح حرکت ہے ‘ چہ جائیکہ ”بازی بازی با ریش بابا ہم بازی !“ کے مصداق اُمّ المومنین رض زوجۂ رسول کو ایسی تہمت کا ہدف بنا لیا جائے۔ اللہ کے نزدیک یہ حرکت کس قدر ناپسند یدہ ہوگی !
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بےحیائی کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

آیت 19 اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌلا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط ” یعنی وہ لوگ جو مختلف حربوں سے معاشرے میں بےحیائی کو عام کرتے ہیں۔ آیت کے الفاظ اشاعت فحش کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ آج کل اس کا بہت بڑا ذریعہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ہے۔ کمرشل اشتہارات میں عورتوں کی نیم عریاں تصاویر دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ برائی کی اشاعت یوں بھی ہو رہی ہے کہ ناجائز تعلقات کے سیکنڈلز کی تشہیر کی جاتی ہے اور بغیر کسی معقول اور مناسب تحقیق کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی کرامت سے ان کی خبریں دنیا بھر میں گھر گھر پہنچ جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ چھوٹی عمر کے بچے اور بچیاں بھی ایسے بےہودہ سکینڈلز کو پڑھتے ‘ سنتے اور اس موضوع پر اپنی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔ بہر حال ایسے واقعات کو خبر بنا کر شائع کردینا بہت بڑا جرم ہے اور جو لوگ بھی اس کے ذمہ دار ہیں وہ اس آیت کے مصداق ہیں۔ شریعت کا حکم تو یہ ہے کہ اگر کہیں کوئی غلطی ہوئی بھی ہے تو حتی الوسع برائی کا چرچا نہ کیا جائے۔ لیکن اگر قانونی تقاضے پورے ہوتے ہوں تو مجرموں کو کٹہرے میں ضرور لایا جائے اور انہیں ایسی سزا دلوائی جائے کہ ایک کو سزا ہو اور ہزاروں کے لیے باعث عبرت ہو۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم لوگوں پر نہ ہوتی اور یہ کہ یقیناً اللہ بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

آیت 20 وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ ” تو یہ جو طوفان اٹھایا گیا تھا اس کے نتائج بہت دور تک جاتے۔ اس مفہوم کے الفاظ یہاں محذوف ہیں۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو اور جو کوئی شیطان کے ِ نقش قدم کی پیروی کرے گا تو شیطان تو اسے بےحیائی اور برائی ہی کا حکم دے گا اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی پاک نہ ہوسکتا لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے۔ اور اللہ سب کچھ سننے والا ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے

وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَازَکٰی مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًالا ” یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور اس کی رحمت ہے کہ وہ تم لوگوں کی برائیوں کی ستر پوشی کرتا رہتا ہے اور اس طرح تمہارے راہ راست پر آنے کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ کیونکہ اگر انسان کی برائی کا پردہ ایک دفعہ چاک ہوجائے تو وہ ڈھیٹ بن جاتا ہے اور اس میں اصلاح کی گنجائش نہیں رہتی۔ چناچہ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والوں کی فوری پکڑ نہیں کرتا اور اس طرح ان کے لیے اصلاح اور توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور قسم نہ کھا لیں تم میں سے فضیلت اور کشادگی والے لوگ اس پر کہ وہ (اپنے اموال میں سے) دیں قرابت داروں کو مساکین کو اور مہاجرین کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِص ” یہاں فضیلت اور کشادگی کے روحانی اور مادی دونوں پہلو مراد ہیں ‘ یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان ‘ نیکی اور مال و دولت میں فضیلت دے رکھی ہے۔ اس آیت میں اشارہ حضرت ابوبکر صدیق رض کی طرف ہے۔ بدقسمتی سے آپ رض کے ایک قریبی عزیز مسطح بن اثاثہ بھی مذکورہ بہتان کی مہم میں شریک ہوگئے تھے۔ وہ انتہائی غریب اور نادار تھے۔ آپ رض ان کے خاندان کی کفالت کرتے اور ہر طرح سے ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیق رض ان کے اس رویے سے بہت رنجیدہ ہوئے کہ اس شخص نے نہ رشتہ داری کا لحاظ کیا ‘ نہ میرے احسانات کوّ مد نظر رکھا اور بغیر سوچے سمجھے میری بیٹی پر بہتان لگانے والوں کے ساتھ شریک ہوگیا۔ چناچہ آپ رض نے غصے میں آکر قسم کھالی کہ آئندہ میں اس شخص کی بالکل کوئی مدد نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رض کی اس قسم پر گرفت فرمائی کہ اس شخص سے جو غلطی ہوئی سو ہوئی ‘ لیکن آپ رض تو بھلائی اور احسان کی روش ترک کرنے کی قسم مت کھائیں ! یہ رویہّ کسی طرح بھی آپ رض کی فضیلت و مرتبت کے شایان شان نہیں۔ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ” خطا تو کسی بھی شخص سے ہوسکتی ہے۔ تم سب لوگ خطائیں کرتے ہو اور اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف کرتا رہتا ہے۔ اگر تم لوگ اپنے لیے یہ پسند کرتے ہو کہ اللہ تمہاری خطائیں معاف کر دے تو پھر تمہیں بھی چاہیے کہ تم دوسروں کی خطاؤں کو معاف کردیا کرو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت سنتے ہی حضرت ابوبکر رض نے بےساختہ کہا : بَلٰی وَاللّٰہِ اِنَّا نُحِبُّ اَنْ تَغْفِرَلَنَا یَارَبَّنَا ”کیوں نہیں ! اللہ کی قسم ‘ اے ہمارے پروردگار ! ہم ضرور یہ پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں معاف کر دے“۔ چناچہ انہوں نے فوری طور پر اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور حضرت مسطح رض سے پہلے کی طرح بھلائی اور احسان کا رویہ اختیار کرنے لگے۔
Ayah 24:23

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

یقیناً وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن بیخبر مؤمنات پر ان پر پھٹکار ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

آیت 23 اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِص وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ” ”غافِلات“ سے مراد ایسی سیدھی سادھی ‘ بھولی بھالی ‘ معصوم عورتیں ہیں جن کے دل پاک ہیں ‘ جو ان معاملات سے بالکل بیخبر ہیں کہ بدچلنی کیا ہوتی ہے۔ ایسی باتیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔
Ayah 24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن ان کے خلاف گواہی دیں گی ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں اس بارے میں کہ جو عمل وہ کرتے رہے تھے

آیت 24 یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ” شَھِدَکے بعد جب عَلٰی آتا ہے تو یہ کسی کے خلاف شہادت دینے کا مفہوم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے حوالے سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ انسان کا جسم اور اس کے تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ اگر وہ اپنے کسی عضو کو اللہ کی نافرمانی یا گناہ کے کسی کام میں استعمال کرتا ہے تو وہ عضو اپنی جگہ احتجاج تو کرتا ہے مگر انسان کی حکم عدولی نہیں کرتا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعضاء کو اس کے تابع کر رکھا ہے۔ لیکن قیامت کے دن یہ اعضاء اس طرح انسان کے تابع نہیں رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے خلاف گواہ بن کر اس کے گناہوں کی ایک ایک تفصیل کے بارے میں بتائیں گے۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

جس دن اللہ ان لوگوں کو پورا پورا دے گا ان کا واقعی بدلہ اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے کھول کر بیان کرنے والا

آیت 25 یَوْمَءِذٍ یُّوَفِّیْہِمُ اللّٰہُ دِیْنَہُمُ الْحَقَّ ” یہاں پر لفظ ”دین“ بدلے کے معنی میں آیا ہے ‘ جیسے سورة الفاتحہ میں ”یَوْمِ الدِّیْنِ“ کے معنی ہیں ”بدلے کا دن۔“
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں نا پاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لیے ہیں اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لیے یہ لوگ بری ہیں ان باتوں سے جو لوگ کہتے ہیں ان کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے

لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ ” یہ ایک اصولی بات فرمائی گئی کہ ناپاک اور بدکردار مردو زن ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتے ہیں اور پاک باز مرد و زن ایک دوسرے سے طبعی مناسبت رکھتے ہیں۔ اس کی نوعیت بھی درحقیقت ایک اخلاقی تعلیم کی ہے ‘ جیسا کہ قبل ازیں آیت 3 میں بھی اخلاقی تعلیم دی گئی تھی کہ زانی مرد صرف زانیہ یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے اور اسی طرح ایک زانیہ بھی صرف کسی زانی اور مشرک سے ہی نکاح کرے۔ دراصل ان ہدایات سے مراد اور مدعایہ ہے کہ اسلامی معاشرے کا مجموعی مزاج اس قدر پاکیزہ ہو ‘ اس کی اخلاقی حس اتنی جاندار ہو اور اس کی اخلاقی اقدار اس حد تک استوار ہوں کہ کسی بھی غلط کار فرد کے لیے ‘ چاہے وہ مرد ہو یا عورت ‘ مسلم معاشرے میں کوئی جگہ نہ ہو۔ ایسا فرد خود اپنی نظروں میں ذلیل ہو کر معاشرے سے مکمل طور کٹ کر رہ جائے۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو حتیٰ کہ ان کی رضا معلوم کرلو اور گھر والوں کو سلام کرلو یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

ان آیات میں متعدد ایسے معاشرتی احکام دیے گئے ہیں جو ایک صاف ستھرا انسانی معاشرہ قائم کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں ‘ جس میں فحاشی اور بےحیائی کے لیے جگہ پانے کا دور دور تک کوئی امکان نہ ہو۔ اس سلسلے میں سورة بنی اسرائیل کا یہ حکم بڑا جامع اور بہت بنیادی نوعیت کا ہے : وَلاَ تَقْرَبُوا الزِّنآی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃًط وَسَآءَ سَبِیْلاً ”تم زنا کے قریب بھی مت پھٹکو ‘ یہ کھلی بےحیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے“۔ اس سے اسلام کا مدعا و منشا واضح ہوتا ہے کہ وہ انسانی معاشرے میں ہر اس فعل اور طریقے کاِ سد بابّ کرنا چاہتا ہے جو فواحش کے زمرے میں آتا ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی نقطہ نظر کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو الگ الگ جنسوں یعنی عورت اور مرد کی صورت میں پیدا کر کے ایک حکمت اور مقصد کے تحت ان میں سے ہر ایک کے لیے اپنی مخالف جنس میں بےپناہ کشش رکھی ہے۔ یہ کشش یعنی جنسی خواہش ایک ایسا منہ زور گھوڑا ہے جسے ہر وقت لگام دے کر قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ چناچہ اسلام نے ہر ایسا اقدام کیا ہے جو انسان کے جنسی جذبے کو ایک خاص ڈسپلن کا پابند رکھنے میں معاون ہو اور ہر وہ راستہ بند کرنا ضروری سمجھا ہے جس پر چل کر انسان کے لیے جنسی بےراہ روی کی طرف مائل ہونے کا ذرا سا بھی احتمال ہو۔ یہی فکر و فلسفہ اسلام کے معاشرتی نظام کا بنیادی ستون ہے اور اس ستون کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے قرآن میں ایسے جامع اور دو ررس قسم کے احکام جاری کیے گئے ہیں جو ایسے معاملات سے متعلق چھوٹی چھوٹی جزئیات تک کا احاطہ کیے نظر آتے ہیں۔ ان میں گھر کی چار دیواری کا تقدس ‘ شخصی تخلیے privacy کا تحفظ ‘ ستر کا التزام ‘ پردے کا اہتمام ‘ غضِّ بصر سے متعلق ہدایات ‘ مخلوط محافل و مواقع کی حوصلہ شکنی جیسے احکام و اقدامات شامل ہیں۔ آیت 27 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَآٰی اَہْلِہَا ط ” گھر کی چار دیواری کے تقدس اور اس کے مکینوں کے تخلیے privacy کے آداب کو ملحوظ رکھنے کے لیے یہ تاکیدی حکم ہے ‘ یعنی کسی کو کسی دوسرے کے گھر میں اس کی رضامندی اور اجازت کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اجازت لینے اور رضامندی معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ملاقات کے لیے آنے والا شخص دروازے کے باہر سے اونچی آواز میں ”السلام علیکم“ کہے اور پوچھنے پر اپنی پہچان کرائے تاکہ اہل خانہ اسے اندر آنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں فیصلہ کرسکیں۔ ایسا ہرگز نہ ہو کہ کوئی کسی کے گھر میں بےدھڑک چلا آئے۔
Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر تم اس گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو اس میں داخل نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں اجازت دے دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو تم لوٹ جایا کرو یہ طریقہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے

آیت 28 فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْہَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْہَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ ج ” گویا خالی گھر میں بھی اس کے مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ” آپ کسی سے ملاقات کا وقت طے کیے بغیر اس کے گھر پہنچ گئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ کو وقت دینا اس کا فرض ہے ‘ حالانکہ ممکن ہے اس وقت وہ صاحب آرام کر رہے ہوں ‘ کسی دوسرے کام میں مصروف ہوں یا کسی مجبوری کے باعث آپ سے ملاقات کرنے سے معذور ہوں۔ چناچہ اگر اندر سے اطلاع دی جائے کہ صاحب خانہ کے لیے اس وقت آپ سے ملاقات کرنا ممکن نہیں اور یہ کہ آپ پھر کسی وقت تشریف لائیں تو ایسی صورت میں آپ بغیر برا مانے واپس چلے جائیں۔ آپ کو ایسے ریمارکس دینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ بہت متکبر شخص ہے ‘ میں اس سے ملنے گیا تو اس نے ملاقات سے ہی انکار کردیا۔ البتہ ایسی کسی بھی صورت حال سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ آپ پیشگی اطلاع دے کر اور وقت ملاقات طے کر کے کسی سے ملنے کے لیے جائیں۔
Ayahs 24:29–30

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم غیر رہائشی گھروں میں (بغیر اجازت) چلے جاؤ جن میں تمہارے لیے کچھ سامان ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) مؤمنین سے کہیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ یقیناً اللہ باخبر ہے اس سے جو کچھ وہ کرتے ہیں

آیت 29 لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ط ” اس سے مراد دکانیں ‘ سٹور اور گودام وغیرہ ہیں۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ” قانون کی اصل روح کو سمجھنا اور اس کے مطابق اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ دراصل گھر میں بلا اجازت داخل ہونے سے منع کرنے کا مقصد گھر میں سکونت پذیر خاندان کی privacy کے تقدس کو یقینی بنانا ہے۔ لہٰذا کسی دکان یا گودام پر اس قانون کے اطلاق کا کوئی جواز نہیں ہے کہ آدمی دکان کے دروازے پر اس لیے کھڑا رہے کہ جب تک مالک مجھے اجازت نہیں دے گا میں اندر نہیں جاؤں گا۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مؤمن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور وہ اپنی زینت کا اظہار نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہوجائے اور چاہیے کہ وہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے ُ بکلّ مار لیا کریں اور وہ نہ ظاہر کریں اپنی زینت کو (وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں کسی پر) سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپوں کے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں (بھتیجوں) کے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں (بھانجوں) کے یا اپنی (جان پہچان کی) عورتوں کے یا ان کے جن کے مالک ہیں ان کے داہنے ہاتھیا ایسے زیردست مردوں کے جو اس طرح کی غرض نہیں رکھتے یا ان لڑکوں کے جو عورتوں کے مخفی معاملات سے ابھی ناواقف ہیں اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مار کر نہ چلیں کہ ان کی اس زینت میں سے کچھ ظاہر ہوجائے جسے وہ چھپاتی ہیں اور اے اہل ایمان ! تم سب کے سب مل کر اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّص ” اپنے معمول کے لباس کے اوپر وہ اپنی اوڑھنیوں کو اس طرح لپیٹے رکھیں کہ ان کے گریبان اور سینے ڈھکے رہیں۔ خُمُر جمع ہے ‘ اس کا واحد خمار ہے اور اس کے معنی اوڑھنی دوپٹہ کے ہیں۔ سورة الاحزاب ‘ آیت 59 میں خواتین کے لباس کے حوالے سے جلابِیب کا لفظ آیا ہے جس کی واحد جلباب ہے۔ ہمارے ہاں ”جلباب“ کا مترادف لفظ چادر ہے۔ چناچہ یوں سمجھئے کہ دوپٹہ اور چادر دونوں ہی عورت کے لباس کا لازمی حصہ ہیں۔ عرب تمدن میں اسلام سے پہلے اگرچہ عورت کے لیے چہرے کا پردہ رائج نہیں تھا مگر چادر اور اوڑھنی اس دور میں بھی عورت کے لباس کا لازمی حصہ تھیں۔ اوڑھنی وہ ہر وقت اوڑھے رہتی تھی گھر کے اندر رہتے ہوئے بھی جبکہ گھر سے باہر نکلنا ہوتا تو چادر اوڑھ کر نکلتی تھی۔ البتہ وہ اوڑھنی اس انداز سے لیتی تھیں کہ گریبان کا ایک حصہ کھلا رہتا تھا جس سے گلا اور سینہ صاف نمایاں ہوتا تھا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا کہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے ُ بکلّ مار لیا کریں تاکہ ان کے گریبان اور سینے اچھی طرح ڈھکے رہیں۔ زمانہ قبل از اسلام میں عربوں کے ہاں چادر نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں کے لباس کا بھی لازمی حصہ تھی۔ چادر مرد کی عزت کی علامت سمجھی جاتی اور چادر کے معیار سے کسی شخص کے مقام و مرتبے کا تعین بھی ہوتا تھا۔ معمولی چادر والے شخص کو ایک عام آدمی جبکہ قیمتی دوشالہ اوڑھنے والے کو معزز اور اہم آدمی سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح کسی کے کاندھے سے اس کی چادر کا کھینچنا یا گھسیٹنا اس کو بےعزت و بےتوقیر کرنے کی علامت تھی۔ چادر کا یہی تصور اس حدیث قدسی میں بھی ملتا ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے : اَلْکِبْرِیَاءُ رِدَاءِیْ 1 ”تکبر میری چادر ہے“۔ یعنی جو شخص تکبر کرتا ہے وہ گویا میری چادر گھسیٹ رہا ہے۔ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ ” آگے اس حکم سے استثناء کے طور پر مردوں کی ایک طویل فہرست دی جا رہی ہے جن کے سامنے عورت بغیر حجاب ‘ کھلے چہرے کے ساتھ آسکتی ہے۔ مقام غور ہے کہ اگر عورت کے چہرے کا پردہ لازمی نہیں ہے تو محرم مردوں کی یہ طویل فہرست بیان فرمانا معاذ اللہ ! کیا ایک بےمقصد مشق excercise in futility ہے ؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت میں عورت کے چہرے کا پردہ لازمی ہے اور اس حکم سے جن مردوں کو استثناء حاصل ہے وہ یہ ہیں : اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَآءِہِنَّ ” باپ کے مفہوم میں چچا ‘ ماموں ‘ دادا اور نانا بھی شامل ہیں۔ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآءِہِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِہِنَّ ” یعنی شوہر کا وہ بیٹا جو اس کی دوسری بیوی سے ہے وہ بھی نا محرم نہیں ہے۔ اَوْ نِسَآءِہِنَّ ” یعنی عام عورتیں بھی نا محرم تصور کی جائیں گی۔ البتہ اپنے میل جول اور جان پہچان کی عورتیں اس استثنائی فہرست میں شامل ہیں۔ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ ” یعنی غلام اور لونڈیاں۔ لیکن اکثر اہل سنت علماء کے نزدیک یہ حکم صرف لونڈیوں کے لیے ہے اور غلام اس میں شامل نہیں ہیں۔ اَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ ” یعنی ایسے زیردست لوگ جو صرف خدمت گار ہوں اور اپنی عمر یا زیردستی و محکومی کی بنا پر خواتین خانہ کے متعلق کوئی بری نیت دل میں نہ لاسکیں۔ اس شرط پر پورا اترنے والے مرد بھی اس استثنائی فہرست میں شمار ہوں گے۔ مثلاً ایسے خاندانی ملازمین جو کئی پشتوں سے گھریلو خدمت پر مامور ہوں۔ پہلے باپ ملازم تھا ‘ پھر اس کا بیٹا بھی اسی گھر میں پلا بڑھا اور بچپن سے ہی گھر کی خواتین کی خدمت میں رہا۔ ایسے لڑکے یا مرد سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ گھر کی خواتین کے بارے میں برا خیال ذہن میں لائے۔ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِص ” یعنی وہ نا بالغ لڑکے جن میں عورتوں کے لیے فطری رغبت ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ یہ ان محرم لوگوں کی فہرست ہے جن کے سامنے عورت بغیر حجاب کے آسکتی ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں مزید ذہن نشین کر لیجیے : پہلی یہ کہ اس آیت میں اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہوجائے کے الفاظ سے بعض لوگ چہرہ مراد لیتے ہیں ‘ جو بالبداہت بالکل غلط ہے۔ سورة الاحزاب میں وارد احکام حجاب اور احادیث نبویہ کی رو سے عورت کے لیے چہرے کا پردہ لازمی ہے۔ عہد نبوی ﷺ میں حکم حجاب آجانے کے بعد عورتیں کھلے منہ نہیں پھرتی تھیں۔ میرے نزدیک ان قرآنی الفاظ سے مراد نسوانی جسم کی ساخت یا اس کی ایسی کوئی کیفیت ہے جسے عورت چھپانا چاہے بھی تو نہیں چھپا سکتی۔ مثلاً کسی خاتون نے برقعہ پہن رکھا ہے ‘ چہرے کے پردے کا اہتمام بھی کیا ہے مگر اس کے لمبے قد کی کشش یا متناسب جسم کی خوبصورتی اس سب کچھ کے باوجود بھی اپنی جگہ موجود ہے ‘ جو بہرحال چھپائے نہیں چھپ سکتی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ محرموں کے سامنے عورت کو صرف چہرے کے پردے کے بغیر آنے کی اجازت ہے۔ ستر کے کسی حصے کو ان کے سامنے بھی کھولنے کی اسے اجازت نہیں اس میں صرف اس کے خاوند کو استثناء حاصل ہے۔ واضح رہے کہ عورت کے چہرے ‘ پہنچوں سے نیچے ہاتھوں اور ٹخنوں سے نیچے پیروں کے سوا اس کا تمام جسم اس کے ستر میں شامل ہے۔ چناچہ کسی عورت کو کھلے بالوں کے ساتھ یا مذکورہ تین اعضاء کے علاوہ جسم کے کسی حصے کو کھلا چھوڑ کر اپنے والد ‘ بھائی یا بیٹے کے سامنے بھی آنے کی اجازت نہیں۔ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ ط ” عورت کی چال ایسی نہ ہو جس کی وجہ سے چادر یا برقعے کے باوجود اس کے بناؤ سنگھار ‘ زیورات وغیرہ میں سے کسی قسم کی زینت کے اظہار کا امکان ہو۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور نکاح کردیا کرو بیواؤں کا اپنے میں سے اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو ذی صلاحیت ہوں اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ بہت وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے

آیت 32 وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ ” یہ بہت اہم حکم ہے۔ خصوصی طور پر ہمارے اس معاشرے کے لیے اس میں بہت بڑی راہنمائی ہے جہاں ہندوانہ رسم و رواج کے اثرات کے باعث بیوہ کا نکاح کرنا معیوب اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ خوشی سے کوئی شخص بھی نکاح نہیں کرنا چاہتا۔ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآءِکُمْ ط ” تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو سمجھ دار ہوں اور ان کے کردار کے بارے میں بھی تمہیں اعتماد ہو ان کے آپس میں نکاح کردیا کرو۔ غلاموں اور کنیزوں کے نکاح ان کے آقاؤں کی اجازت سے ہوں گے اور جب کسی کنیز کا نکاح ہوجائے گا تو پھر اس کے آقا کو اس کے ساتھ تمتعّ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط ” چنانچہ یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان میں مہر وغیرہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں تو نکاح کیونکر کریں ! وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ” وہ بہت کشادگی والا ہے اور اپنے بندوں کے احوال واقعی سے بخوبی واقف بھی ہے۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ کوئی انسان اپنی تنگ دستی کو اپنے نکاح کے راستے کی رکاوٹ نہ سمجھے۔ اسے امید رکھنی چاہیے کہ اس کی بیوی اپنی قسمت اور اپنا رزق اپنے ساتھ لے کر آئے گی اور یہ کہ نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے اس کے لیے رزق کا کوئی نیا دروازہ کھول دے گا۔
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور خود کو بچائے رکھیں وہ لوگ جو نکاح کی قدرت نہ پائیں یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو مکاتبت کرنا چاہیں تمہارے مملوکوں میں سے تو ان سے مکاتبت کرلیا کرو اگر تم سمجھو کہ ان میں بھلائی ہے اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کیا کرو جبکہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہیں تاکہ تم حاصل کرو دنیا کی زندگی کا سامان اور اگر کوئی انہیں مجبور کرے گا تو یقیناً اللہ ان کے جبر کے بعد بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے

آیت 33 وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِکَاحًا ” جو لوگ نکاح کرنے کی بالکل استطاعت نہ رکھتے ہوں ‘ یعنی ان کے پاس نہ تو مہر ادا کرنے کے لیے کچھ ہو ‘ نہ نان نفقہ کے لیے کوئی ذریعہ معاش ہو اور نہ ہی سر چھپانے کے لیے کسی قسم کی چھت کا بندوبست ‘ تو ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرتے رہیں اور اپنی خواہشات کو اپنے قابو میں رکھیں۔ وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ” آقا اور غلام کے درمیان آزادی کے معاہدے کو مکاتبت کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ غلام کی خواہش اور آقا کی رضا مندی سے طے پاتا تھا کہ آقا اگر اپنے غلام کو آزاد کر دے تو وہ ایک مقررہ مدت تک طے شدہ رقم اپنے آقا کو معاوضے کے طور پر ادا کرے گا۔ فَکَاتِبُوْہُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًاق ” اگر تم میں سے کسی کو اپنے غلام پر اعتماد ہو کہ وہ اپنا معاہدہ پورا کرے گا اور بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا تو اسے ضرور ایسا معاہدہ کرلینا چاہیے۔ اس حکم سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن نے ہر اس اقدام کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ہر وہ راستہ کھولنے کا اہتمام کیا ہے جس سے تدریجاً غلاموں کو آزادی میسر آئے اور غلامی کا خاتمہ ہو سکے۔ وَّاٰتُوْہُمْ مِّنْ مَّال اللّٰہِ الَّذِیْٓ اٰتٰٹکُمْ ط ” یعنی جن غلاموں نے مکاتبت کی ہو تم لوگ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے ان کی زیادہ سے زیادہ مالی معاونت کیا کرو تاکہ وہ جلد از جلد مقررہ رقم ادا کر کے آزاد ہوسکیں۔ وَلَا تُکْرِہُوْا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا ” اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ خود پاک دامن نہ رہنا چاہتی ہوں تو ان کو مجبور کرنے کی اجازت ہے۔ ”اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا“ کی قید یہاں بطورشرط کے نہیں بلکہ صورت واقعہ کی تعبیر کے لیے ہے۔ لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط ” عربوں کے ہاں یہ بھی رواج تھا کہ وہ اپنی باندیوں سے پیشہ کرواتے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھاتے تھے۔ چناچہ اس حکم سے زمانہ جاہلیت کی اس شرمناک روایت کو بھی ختم کردیا گیا۔ اسی طرح قبل از اسلام عربوں میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ وہ اپنے باپ کی بیواؤں یعنی سوتیلی ماؤں سے بھی نکاح کرلیا کرتے تھے۔ اس قبیح رسم کے خاتمے کا حکم سورة النساء کی آیت 22 میں دیا گیا ہے۔ گویا قبل از اسلام عرب معاشرے میں جو معاشرتی برائیاں پائی جاتی تھیں ایک ایک کر کے ان کی اصلاح کردی گئی۔ وَمَنْ یُّکْرِہْہُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْم بَعْدِ اِکْرَاہِہِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ” اگر کوئی اپنی باندی کو بدکاری پر مجبور کرے گا اور خود اس باندی کی مرضی اس میں شامل نہیں ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس کی مجبوری کے باعث اس کے گناہ کو معاف فرما دے گا اور اس گناہ کا وبال اس پر ہوگا جس نے اسے اس کام کے لیے مجبور کیا ہوگا۔
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے نازل کردی ہیں تمہاری طرف یہ روشن آیات اور ان لوگوں کے احوال بھی جو تم سے پہلے تھے اور اہل تقویٰ کے لیے نصیحت بھی

آیت 34 وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّمَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ” جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے جو غلط عقائد گھڑ رکھے تھے اور ان کے اندر جو جو معاشرتی برائیاں پائی جاتی تھیں ہم نے ان سب کی نشان دہی بھی اس کتاب میں کردی ہے۔ وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ” سورۂ یونس کی آیت 57 میں بھی قرآن کو موعظہ نصیحت قرار دیا گیا ہے : قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ”آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے۔“
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق اس (طاق) میں ایک روشن چراغ ہے وہ چراغ شیشے (کے فانوس) میں ہے اور وہ شیشہ ایک چمکدار ستارے کی مانند ہے وہ (چراغ) جلایا جاتا ہے زیتون کے ایک مبارک درخت سے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربیقریب ہے کہ اس کا روغن (خود بخود) روشن ہوجائے چاہے اسے آگ نے ابھی چھوا بھی نہ ہو روشنی پر روشنی اللہ ہدایت دیتا ہے اپنے نور کی جس کو چاہتا ہے اور اللہ یہ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں (کی راہنمائی) کے لیے جبکہ اللہ تو ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے

یہ اس سورت کا پانچواں رکوع ہے جو اپنے مضامین کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب کے دوسرے حصے میں ایمان کی بحث کے ضمن میں ایک اہم درس درس 7 اس رکوع پر مشتمل ہے۔ اس رکوع کی پہلی آیت آیت 35 قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں سے ہے۔ سورة الاحزاب اور سورة النور کا آپس میں جوڑا ہونے کا تعلق ہے۔ ان دونوں سورتوں کے درمیان بہت سی دوسری مناسبتوں اور مشابہتوں کے علاوہ ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ سورة الاحزاب کی آیت 35 بھی اسی موضوع پر ہے ‘ یعنی ایمان اور اسلام کی کیفیات کے حوالے سے یہ دونوں آیات قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں سے ہیں۔ اس رکوع میں ایمان کے حوالے سے انسانوں کی تین اقسام زیر بحث آئی ہیں۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ کے آغاز میں بھی دعوت حق کے رد عمل کے حوالے سے تین قسم کے انسانوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ دراصل دین کی دعوت اور اسلامی تحریک کے جواب میں کسی بھی معاشرے کے اندر عام طور پر تین طرح کا رد عمل سامنے آتا ہے۔ کچھ لوگ تو نتائج و عواقب سے بےپروا ہو کر اس دعوت پر دل و جان سے لبیک کہتے ہیں اور پھر اپنے عمل سے اپنے ایمان اور دعویٰ کی سچائی ثابت بھی کردکھاتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کچھ لوگ دوسری انتہا پر ہوتے ہیں۔ وہ تعصبّ ‘ حسد ‘ ضد اور تکبر کی وجہ سے انکار اور مخالفت پر کمر کس لیتے ہیں اور آخر دم تک اس پر ڈٹے رہتے ہیں۔ ان کے علاوہ معاشرے میں ایک تیسری قسم کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ پورے یقین اور خلوص کے ساتھ اس دعوت کو قبول بھی نہیں کرتے اور کچھ دنیوی مفادات اور متفرق وجوہات کے پیش نظر مکمل طور پر اسے رد بھی نہیں کرتے۔ جب حالات کچھ ساز گار ہوں تو اہل حق کا ساتھ دینے کے لیے تیار بھی ہوجاتے ہیں ‘ لیکن جونہی کوئی آزمائش آتی ہے یا قربانی کا تقاضا سامنے آتا ہے تو فوراً اپنی راہ الگ کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی دلی کیفیات اور کردار کا نقشہ سورة الحج کی آیت 11 میں یوں کھینچا گیا ہے : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍج فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُ ناطْمَاَنَّ بِہٖج وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖج خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَط ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ”اور لوگوں میں سے کوئی وہ بھی ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے کنارے پر رہ کر ‘ تو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچے تو اس کے ساتھ مطمئن رہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو منہ کے بل الٹا پھرجائے۔ یہ خسارہ ہے دنیا اور آخرت کا ‘ یہ بہت ہی بڑی تباہی ہے۔“ زیر مطالعہ آیات میں ایک دوسرے زاویے سے معاشرے کے تین کرداروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں پہلی قسم ایسے سلیم الفطرت انسانوں کی ہے جن کے دلوں میں اللہ کی معرفت فطری طور پر پائی جاتی ہے۔ پھر جب وحی کے پیغام تک ان کی رسائی ہوتی ہے تو وہ اس کے فیوض و برکات سے بھی بہترین انداز میں مستفیض ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ان کا باطن ایمان حقیقی کے نور سے جگمگا اٹھتا ہے۔ ایسے لوگوں کی اس کیفیت کو یہاں ”نورٌ علٰی نُور“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دوسری انتہا پر وہ لوگ ہیں جن کے دل نور ایمان سے محروم ہیں۔ وہ خالص دنیا پرست انسان ہیں جن کے دامن جھوٹ موٹ کی نیکیوں سے بھی خالی ہیں۔ ان کے دلوں میں زندگی بھر نفسانی خواہشات کے علاوہ کسی اور خیال اور جذبے کا گزر تک نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کی اس کیفیت کا نقشہ ”ظُلُمٰتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ“ کے الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان ایک تیسرا کردار بھی ہے ‘ جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ اس کردار کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے دل اگرچہ حقیقی ایمان سے محروم ہیں ‘ لیکن وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے یا دنیوی اغراض و مقاصد کے لیے نیکی کے کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے نیک اعمال کو یہاں سراب سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ ” نور سے مراد یہاں نور ایمان ہے ‘ یعنی اللہ پر ایمان کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے : فِیْہَا مِصْبَاحٌط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط ” وہ چراغ شیشے کے فانوس میں رکھا گیا ہے ‘ جیسے پچھلے زمانے میں شیشے کی چمنیوں میں چراغ رکھے جاتے تھے۔ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ ” اس مثال میں انسانی سینے کو طاق اور دل کو چراغ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ انسانی پسلیوں کا ڈھانچہ ‘ جسے ہم سینہ کہتے ہیں ‘ یہ نیچے سے چوڑا اور اوپر سے تنگ ہونے کی وجہ سے پرانے زمانے کے طاق سے مشابہت رکھتا ہے۔ ڈایا فرام diaphragm جو نچلے دھڑ کے اندرونی حصے abdominal cavity کو سینے کے اندرونی حصے chest cavity سے علیحدہ کرتا ہے اس طاق کا گویا فرش ہے جس کے اوپر یہ چراغ یعنی دل رکھا گیا ہے۔ یہ دل ایک بندۂ مؤمن کا دل ہے جو نور ایمان سے جگمگا رہا ہے۔ یہ نور ایمان مجموعہ ہے نور فطرت جو اس کی روح کے اندر پہلے سے موجود تھا اور نوروحی کا۔ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍلا ” کسی درخت پر جس سمت سے دھوپ پڑتی ہو ‘ اسی سمت کے حوالے سے وہ شرقی یا غربی کہلاتا ہے۔ اگر کوئی درخت کسی اوٹ میں ہو یا درختوں کے ُ جھنڈ کے اندر ہو تو اس پر صرف ایک سمت سے ہی دھوپ پڑ سکتی ہے۔ اس لحاظ سے ایسا درخت یا شرقی ہوگا یا غربی۔ لیکن یہاں ایک مثالی درخت کی مثال دی جا رہی ہے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ وہ نہ تو کسی اوٹ میں ہے اور نہ ہی درختوں کے جھنڈ میں ‘ بلکہ وہ کھلے میدان میں بالکل یکہ و تنہا کھڑا ہے اور پورے دن کی دھوپ مسلسل اس پر پڑتی ہے۔ اس مضمون کی اہمیت یہ ہے کہ زیتون کا وہ درخت جس پر زیادہ سے زیادہ دھوپ پڑتی ہو اور مشرق و مغرب دونوں سمتوں سے پڑتی ہو ‘ اس کے پھلوں کا روغن بہت صاف ‘ شفاف اور اعلیٰ معیار کا ہوتا ہے۔ یَّکَادُ زَیْتُہَا یُضِیٓئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ ط ” گویا وہ آگ کے چھوئے بغیر ہی بھڑک اٹھنے کے لیے تیار ہے۔ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط ” یعنی جب اسے آگ دکھائی جائے تو وہ بھڑک اٹھتا ہے اور نورٌ علیٰ نور کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ خوبصورت مثال ایمان کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے اور میں نے مختلف مواقع پر اس مثال کی وضاحت بہت تفصیل سے کی ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ فطرت انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت یا اس پر ایمان کی کیفیت پیدائشی طور پر موجود ہے ‘ مگر دنیا میں رہتے ہوئے یہ معرفت ماحول اور حالات کے منفی اثرات کے باعث عام طور پر غفلت اور مادیت کے پردوں میں چھپ کر شعور سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ البتہ کچھ لوگ اس حد تک سلیم الفطرت ہوتے ہیں کہ ان کے اندر معرفت خداوندی خارجی حالات کے تمام تر منفی اثرات کے باوجود بھی مسلسل اجاگر اور فعال رہتی ہے۔ فطری معرفت کی اس روشنی کے بعد انسانی ہدایت کا دوسرا بڑا ذریعہ یا منبع وحی الٰہی ہے۔ وحی کے ذریعہ حاصل ہونے والی ہدایت بنیادی طور پر انسانی فطرت کے اندر پہلے سے موجود غیر فعال اور خوابیدہ dormant ایمان اور معرفت خداوندی کو بیدار اور فعال activate کرنے میں مدد دیتی ہے۔ چناچہ جب وحی کا پیغام لوگوں تک پہنچتا ہے تو اس پر ہر انسان کا رد عمل اس کی فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کسی انسان کی فطرت میں تکدر ہے تو وہ وحی کے اس پیغام کی طرف فوری طور پر متوجہ نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کی فطرت کی کثافت کو دور کرنے اور اس کے اندر فطری طور پر موجود معرفت خداوندی کو غفلت کے پردوں سے نکال کر شعور کی سطح پر لانے کے لیے وقت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری طرف ایک سلیم الفطرت انسان وحی کے پیغام کو پہچاننے میں ذرہ بھر تأمل و تاخیر نہیں کرتا۔ فطری معرفت اس کے اندر چونکہ پہلے سے شعوری سطح پر موجود ہوتی ہے اس لیے نور وحی جونہی اس کے سامنے آتا ہے اس کے دل کا آئینہ جگمگا اٹھتا ہے اور وہ فوراً اس پیغام کی تصدیق کردیتا ہے۔ ایسے لوگ پیغام وحی کی فوری تصدیق کی وجہ سے ِ ”صدیقین“ ّ کہلاتے ہیں۔ اس حوالے سے نبی مکرم ﷺ کا یہ فرمان بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ : ”میں نے جس کسی کو بھی ایمان کی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ توقف یا تردّد ضرور کیا ‘ سوائے ابوبکر رض کے ‘ جنہوں نے ایک لمحے کا بھی توقف نہیں کیا“۔ سورة التوبہ کی آیت 100 میں جن خوش نصیب لوگوں کو : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کا خطاب ملا ‘ یہ وہی لوگ تھے جن کی فطرت کے آئینے غیر معمولی طور پر شفاف تھے۔ دوسری طرف اسی ماحول میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کی فطرت کے تکدرّ کو دور کرنے کے لیے اضافی وقت اور محنت کی ضرورت پڑی۔ ایسے لوگ بعد میں اپنی اپنی طبیعت کی کیفیت اور استطاعت کے مطابق ”سابقون الاولون“ کی پیروی کرنے والوں کی صف میں شامل ہوتے رہے۔ ان لوگوں کا ذکر اسی آیت میں وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍا کے الفاظ میں ہوا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں دی گئی مثال کو سمجھنے کے لیے تیل کی مختلف اقسام کے فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پرانے زمانے میں تیل کے دیے جلائے جاتے تھے۔ ہمارے ہاں عام طور پر ان میں سرسوں کا تیل جلایا جاتا تھا جسے کڑوا تیل کہا جاتا تھا۔ یہ تیل زیادہ کثیف ہونے کی وجہ سے دیا سلائی دکھانے پر بھی آگ نہیں پکڑ سکتا۔ چناچہ اسے کپڑے یا روئی کے فتیلے بتی کی مدد سے جلایا جاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں پٹرول بھی ایک تیل ہے جو جلنے کے لیے ہر وقت بیتاب رہتا ہے اور چھوٹی سی چنگاری بھی اگر اس کے قریب آجائے تو بھڑک اٹھتا ہے۔ جلنے کے اعتبار سے جس طرح کڑوے تیل اور پٹرول میں فرق ہے اسی نوعیت کا فرق انسانی طبائع میں بھی پایا جاتا ہے۔ چناچہ مذکورہ مثال میں اعلیٰ قسم کے زیتون سے حاصل شدہ انتہائی شفاف تیل گویا ”صدیقین“ کی فطرت سلیم ہے جو وحی الٰہی کے نور سے مستفیض ہونے اور ”نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ“ کی کیفیت کو پانے کے لیے ہر وقت بےتاب و بےچین رہتی ہے۔ گویا انسانی روح ایک نورانی یا ملکوتی چیز ہے۔ اس ملکوتی روح سے جب وحی یا قرآن کے نور کا اتصال ہوتا ہے تو نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍکی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اسی کیفیت سے نور ایمان وجود میں آتا ہے ‘ جس سے بندۂ مؤمن کا دل منور ہوتا ہے۔ وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَال للنَّاسِط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ” یہ مثال لوگوں کو سمجھانے کے لیے بیان کی گئی ہے ‘ کیونکہ انسانی ذہن ایسے لطیف حقائق کو براہ راست نہیں سمجھ سکتا۔۔ اب آئندہ آیات میں ان لوگوں کے کردار و عمل کی جھلک دکھائی جا رہی ہے جن کے دل نور ایمان سے منور ہوتے ہیں۔
Ayahs 24:36–37

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) ان گھروں میں (پائے جاتے ہیں) جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بلند کیا جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے وہ تسبیح کرتے ہیں اللہ کی ان (مساجد) میں صبح اور شام

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

وہ جواں مرد جنہیں غافل نہیں کرتی کسی قسم کی کوئی تجارت یا خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے (اس سب کچھ کے باوجود بھی) وہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں اس دن کے تصور سے جس دن الٹ جائیں گے دل اور نگاہیں

آیت 36 فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗلا ” ان گھروں سے مراد مساجد ہیں اور انہیں بلند کرنے کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ مساجد کی تعمیر اس انداز اور ایسی جگہوں پر کی جائے کہ وہ پوری آبادی میں بہت نمایاں اور مرکزی حیثیت کی حامل ہوں اور دوسرے یہ کہ ان کے معنوی ترفعّ کو یقینی بنایا جائے اور ہر قسم کی معنوی نجاست سے انہیں پاک رکھا جائے۔ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْہَا بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ” یہ صاحب ایمان لوگ جن کے دلوں میں نور ایمان کی قندیلیں روشن ہیں وہ اللہ کے ان گھروں میں صبح و شام اس کا ذکر اور اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔