Ayah 24:2قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری کے دبائو میں آ کر ادھر ادھر کی ہانکنے لگے اور ہذیانی انداز میں باتیں کریں تو کہا جاتا ہے۔ ” اھجر المریض “ ایک قول کے مطابق لفظ (سامراً ) کو واحد کے صیغے میں بیان کیا گیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ظرفیت کے معنی ادا کر رہا ہے اور تقدیر کلام اس طرح ہے ۔” لیلا تھجرون “ (تم رات کے وقت بکواس کرتے رہتے ہو) مشرکین کی عادت تھی کہ رتا کے وقت کعبہ کے ارد گرد ٹولیاں بنا کر بیٹھ جاتے اور دنیا بھر کی گپیں ہانکتے (ایک قول کے مطابق اس لفظ کے معنی اگرچہ سماء یعنی اکٹھے بیٹھ کر گپ ہانکنے کے ہیں لیکن لفظ (سامراً ) اس لئے واحد لایا گیا ہے کہ یہ مصدر کے مقام میں ہے جس طرح کہا جاتا ہے ” قوموا قیاماً (کھڑے ہو جائو)
رات کو گپیں ہانکنا شیوئہ مومن نہیں
یعنی رات کے وقت باتیں کرنے اور گپیں ہانکنے کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ شعبہ نے ابو المنہال سے، انہوں نے حضرت ابوبرزہ اسلمی سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ عشاء کی نماز سے پہلے سو جانے کو اور عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے شعبہ نے منصور سے، انہوں نے خزیمہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے یہ روایت کی ہے (الا سمو الالرجلین مضل او مسافر۔ دو شخصوں کے سوا کسی کے لئے رات کو باتیں کرنا درست نہیں ہے ایک نمازی اور دوسرا مسافر ) حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ وہ عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے سے منع کیا کرتے تھے۔ باتیں کرنے کے متعلق رخصت والی روایتیں بھی موجود ہیں۔ اعمش نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا۔ حضور ﷺ ابوبکر کے ساتھ مسلمانوں کے معاملات میں سے کسی نہ کسی معاملے پر رتا کے وقت تبادلہ خیالات کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح عمرو بن دینار اور ایوب سختیانی بھی آدھی آدھی رات تک باتیں کرتے رہتے تھے۔
مسجد میں حد جاری کرنا
امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد اور امام شافعی کا قول ہے کہ مساجد میں حدود جاری نہیں کیے جائیں گے۔ حسن بن صالح کا بھی یہی قول ہے۔ امام ابویوسف کا کہنا ہے کہ قاضی ابن ابی لیلیٰ نے مسجد میں حد جاری کی تھی۔ امام ابوحنیفہ نے ان کے اس اقدام کو غلط قرار دیا۔ امام مالک کا قول ہے کہ تادیب کے طور پر مسجد میں پانچ کوڑے وغیرہ لگا دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر سخت پٹائی مقصود ہو اور حد جاری کرتا ہو تو پھر یہ کام مسجد میں نہیں کیا جائے گا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم المل کی نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے، انہوں نے طائوس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لاتقام الحدود فی المساجد ولا یقتل یا لولدا الوالد۔ مساجد میں حدود جاری نہیں کیے جائیں گے اور بیٹے کے بدلے باپ کو قتل نہیں کیا جائے گا) حضور ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ (جنبوا مساجد کم صبیا نکم ومجا نینکم ورفع اصواتکم وشواکم وبیعکم واقامۃ حدود کم وجمود ھا فی جمعکم وضعوا علی ابوایھا المطاھر اپنے بچوں اور پاگلوں کو مساجد سے دور رکھو ان میں اپنی آوازیں بلند کرنے، خرید و فروخت کرنے اور حدود جاری کرنے سے پرہیز کرو۔ جمعہ کے دنوں میں مساجد کو دھونی دو اور مساجد کے دروازوں پر پاک کرنے والی چیزیں یعنی پانی وغیرہ رکھو) نظر اور قیاس کی جہت سے بھی مساجد میں حدود ہماری کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ وہ اس لئے کہ جب کسی شخص پر حد جاری کی جائے گی تو اس بات کا خطرہ ہوگا کہ ضربات کی تکلیف سے کہیں اس کے جسم سے ایسی نجاست وغیرہ خارج نہ ہوجائے جس سے مسجدکو پاک رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اس شخص کا حکم جو عمل قوم لوط کا ارتکاب کرتا ہے
امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ لواطت کے مرتکب کو تعزیر کی جائے گی اور اسے حد نہیں لگائی جائے گی امام مالک اور لیث بن سعد کا قول ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو سنگسار کردیا جائے گا خواہ یہ محصن ہوں یا غیر محصن ہوں۔ عثمان الیتی ، جس بن صالح، امام ابو یوسف، امام محمد اور شافعی کا قول سے کہ لواطت کی حیثیت زنا جیسی ہے حسن، ابراہیم اور عطا کا بھی یہی قول ہے۔ ابولکرحبصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لا یحل دام اموسیٰ مسلم الاباحدی ثلاث زنا بعد احصان وکفر بعد ایمان وقتل نفس بغیر نفس۔ ایک مسلمان کا خون بہانا صرف تین صورتوں میں سے ایک صورت کے اندر حلال ہوتا ہے۔ صفت احصان سے متصف ہونے کے بعد زنا کاری کرے۔ ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائے اور کسی کو ناحق قتل کردے) حضور ﷺ نے مسلمان کے قتل کو تین باتوں میں سے کسی ایک بات تک محدود کردیا۔ لواطت کا مرتکب اس سے خارج ہے اس لئے کہ لواطت زنا نہیں ہے۔
اگر لواطت کو زنا قرار دینے والے حضرات اس روایت سے استدلال کریں جس کے راوی عاصم بن عمرو ہیں، انہوں نے سہیل سے، انہوں نے ابو صالح سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الذی یعمل عمل قوم لوط فارجسموالا علی والا سقل وارجموھا جمیعا جو شخص عمل قوم لوط کا ارتکاب کرے تو اعلیٰ اور اسفل یعنی فاعل ومفعول دونوں کو رجم کردو) نیز اس روایت سے جسے الدرادردی نے عمر وبن ابی عمرو سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا من وجدتھوہ یعمل عمل قوم لوط فاقتلوا المفاعلی والمفعول بہ جس شخص کو تم عمل قوم لوط کا مرکتب پائو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو تو اس استدلال کے جواب میں کہا جائے گا کہ عاصم بن عمرو اور عمرو بن ابی عمرو دونوں ضعیف راوی ہیں۔
اس کی روایت کی بنیاد پر کوئی استدلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کسی حد کا نفاذ جائز ہے۔ یہاں یہ کہنا جائز ہے کہ اگر یہ روایت ثابت بھی ہوجاتی تو اس کے حکم پر اس وقت عمل ہوتا جب فاعل اور مفعول دونوں لواطت کو حلال سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب سب کرتے۔ ہمارا بھی یہی قول ہے کہ جو شخص اس فعل قبیح کو حلال سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے گا وہ قتل کا سزاوار قرار پائے گا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ( فاقتلوا الفاعل والمفعول بہ) اس پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں قتل کی سزا حد کے طور پر نہیں دی جارہی ہے آپ کے اس ارشاد کی حیثیت آپ کے ارشاد : (من بدل دینہ فاقتلوہ جو شخص اپنا دین تبدیل کرلے اسے قتل کردو) کی طرح ہے۔ اس لئے کہ لواطت کے مرتکب کس سزا علی الاطلاق قتل نہیں ہے بلکہ جو حضرات اسے زنا جیسا فعل قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک اس کی سزا رجم ہے بشرطیکہ مجرم محصن ہو اور جو حضرات اس فعل کو زنا کی حیثیت نہیں دیتے اور اس کے فاعل کے قتل کو واجب قرار دیتے ہیں وہ رجم کے طور پر اس پر قتل کا حکم عائد کرتے ہیں۔ اسی طرح لواطت کے مرتکب کو علی الا طلاق قتل کردینا کسی کا بھی قول نہیں ہے۔ اگر لواطت کی حیثیت زنا جیسی ہوتی تو حضور ﷺ محصن اور غیر محضن کے حکم میں فرق ضرور رکھتے۔ آپ نے ان دونوں میں فرق نہیں رکھا جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اس پر قتل کی سزا حد کے طور پر واجب نہیں کی ہے۔
ایسا شخص جو کسی چوپائے کے ساتھ جنسی عمل کا ارتکاب کرتا ہے، اس کا حکم
امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام مالک اور عثمان البتی کا قول ہے ایسے شخص کی تعزیر کی جائے گی، اس پر حد جاری نہیں ہوگی، حضرت ابن عمر ؓ سے بھی یہی قول منقول ہے۔ اوزاعی کا وقل ہے کہ اس پر حد جاری کی جائے گی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا ارشاد (لا یحل دمرا مری مسلم الا یاحدی ثلاث زنا بعداحصان وکفر بعد ایمان وقتل نفس بغیر نفس) اس فعل کے مرتکب کے قتل کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ لغت کے لحاظ سے یہ فعل زنا نہیں کہلاتا۔ اور قیاس کے طور پر اس کا اثبات جائز نہیں ہے۔ عمرو بن ابی عمرو نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من وجدتموہ علی بھیمۃ فاقتلوہ واقتلوا لبھیمۃ۔ جس شخص کو تم کسی چوپائے کے ساتھ جنسی عمل کرتے پائو اسے قتل کردو اور چوپائے کو بھی مار ڈالو) اس روایت کا راوی عمرو بن ابی عمرو ضعیف ہے۔ اس کی روایت کی بنیاد پر کوئی حجت قائم نہیں ہوسکتی۔
اس کے ساتھ شعبہ، سفیان اورک ابوعوانہ کی روایت بھی ہے جو انہوں نے عاصم سے نقل کی ہے انہوں نے، انہوں نے ابورزین سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ ” جو سخص کسی چوپائے کے ساتھ جنسی عمل کا ارتکاب کرے اس پر کوئی حد نہیں۔ “ اس روایت کو اسرائیل، ابوبکر بن عیاش، ابوالاحوص اور شریک تمام راویوں نے عاصم سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے ابوزرین سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی روایت کی ہے۔ اگر عمروبن ابی عمرو کی روایت درست ہوتی تو حضرت ابن عباس ؓ اس کے خلاف روایت نہ کرتے جبکہ انہوں نے خود دوسروں تک اس کی روایت کی ہے۔ تاہم اگر یہ روایت ثابت بھی ہوجائے تو اسے اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب اس فعل کا مرتکب اسے حلال سمجھ کر اس کا ارتکاب کرتا ہو۔
فصل
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ایک طائفہ شاذہ نے جو کسی شمار وقطار میں نہیں یعنی خوارج نے رجم کا انکار کیا ہے، حالانکہ حضور ﷺ سے رجم کا ثبوت ہے۔ آپ نے رجم کا حکم دیا تمام لوگوں نے اسے نقل کیا اور اس سلسلے میں اس کثرت سے روایت ہوئی کہ اس کے متعلق شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ امت کا اس حکم پر اجماع ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، حضرت بریدہ اسلمی اور حضرت زید بن خالد ؓ نیز دوسرے صحابہ ؓ نے رجم کے حکم کی روایت کی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے خطبہ کے دوران فرمایا تھا ” اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے کتاب اللہ میں اضافہ کردیا ہے تو میں اس حکم کو مصحف میں لکھ دیتا۔ “
درج بالا رایوں میں سے بعض حضرات نے ماعز کے رجم کا واقعہ نقل کیا ہے اور بعض نے جہینیہ اور غامدیہ (دو عورتوں کے نام جنہیں حضور ﷺ کے حکم سے ارتکاب زنا کی بنا پر رجم کردیا گیا تھا) کے رجم کی روایت بیان کی ہے۔ ماعز کے متعلق روایت کئی احکام پر مشتمل ہے۔ ایک تو یہ کہ حضور ﷺ نے انہیں تین مرتبہ واپس کردیا تھا جب انہوں نے چوتھی مرتبہ آپ کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کیا تو آپ نے یہ معلوم کیا کہ ان کی عقل ٹھکانے ہے یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا :
” اسے جنون تو نہیں ہوگیا ؟ “ صحابہ نے عرض کیا ” نہیں “۔ پھر آپ نے ان کے منہ کی بوسونگھنے کا حکم کہ کہیں شراب نہ پی رکھی ہو اور نشے میں زنا کا اعتراف کررہے ہوں۔ پھر آپ نے ان سے کہا۔” شاید تم نے صرف ہاتھ لگایا ہو، شاید تم نے صرف بوس وکنار کیا ہو ؟ “ لیکن جب وہ ارتکاب زنا کے صریح اعتراف پر اڑے رہے تو آپ نے ان کے احصان کے بارے میں سوال کیا۔ پھر جب پتھروں کی بارش کی تاب نہ لاتے ہوئے انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی اور آپ کو اس کا پتہ چلا تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : ” تم نے اسے بھاگنے کیوں نہیں دیا۔ “ آپ نے انہیں تین دفعہ واپس کیا پھر چوتھی مرتبہ اعتراف پر ان کی عقل کی درستی کے متعلق سوال کیا، یہ بات اسی پر دلالت کرتی ہے کہ حد زنا اس وقت تک واجب نہیں ہوتی جب تک مجرم چار مرتبہ اقرار نہ کرلے اس لئے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (تعافوا الحدود فیما بینکم فما بلغنی من حسدفقد وجب ۔ تم اپنے درمیان حدود کو نظر انداز کرو جس حد کے متعلق مجھے اطلاع ملے گی اس کا نفاذ واجب ہوجائے گا) اگر ایک دفعہ اقرار کی بنا پر حد واجب ہوتی تو حضور ﷺ پہلے اقرار پر بھی ماعز کے متعلق پوچھ گچھ کرتے، پھر آپ ان کے متعلق ان کے پڑوسیوں اور گھر والوں سے پوچھا کہ آیا اس کی عقل ٹھکانے ہے یا نہیں ؟
آپ کا یہ اقدام اس پر دلالت کرتا ہے کہ امام المسلمین پر حد جاری کرنے میں پوری احتیاط لازم ہے نیز یہ ضروری ہے کہ تحقیق وتفتیش کے ذریعے معاملہ کی تہ تک رسائی حاصل کی جائے۔ پھر آپ نے ماعز سے پوچھا کہ زنا کیا ہے، اس کی کیفیت کیسی ہے۔ پھر یہ بھی فرمایا ” شاید تم نے صرف ہاتھ لگایا ہے ۔ شاید تم نے صرف بوس وکنار کیا ہے۔ “ اس پوری تحقیق وتفتیش سے دو حکم اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ اول یہ کہ صرزنا کے اعتراف پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ مجرم سے زنا کی کیفیت اور اس کا مفہوم معلوم کرنے کی پوری جستجو کی جائے گی یہاں تک کہ جب وہ اس کی کیفیت ایسے انداز میں بیان کردے گا کہ اس کے بعد اس کے زنا ہونے میں کسی اختلاف کی گنجائش باقی نہیں رہ جائے گی تو پھر اس پر حد جاری کی جائے گی۔ دوم یہ کہ آپ نے ماعز سے فرمایا : ” شاید تم نے صرف اسے ہاتھ لگایا ہے، شاید تم نے صرف بوس وکنار کیا ہے۔ “ یہ فرما کر آپ نے گویا انہیں اپنے اقرار سے رجوع کرلینے کی تلقین کی۔ آپ نے (لعلک لمست۔ شاید کہ تم نے اسے صرف ہاتھ لگایا ہے) فرما کر اس طرح لمس مراد لیا ہے جس طرح مروی ہے کہ آپ نے چور سے فرمایا تھا۔ ” میرا خیال یہ نہیں کہ اس نے چوری کی ہوگی۔ “ اس کی نظیر وہ روایت ہے جو حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ موسم حج کے دوران آپ کے پاس ایک عورت لائی گئی جسے حمل ٹھہر گیا تھا، لوگوں نے کہا اس نے زنا کیا ہے۔ عورت رو رہی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے اس سے فرمایا : ” روتی کیوں ہو، عورت کے ساتھ بعض دفعہ زیادتی ہوجاتی ہے۔ “ یہ کہہ کر آپ گویا اسے تلقین کررہے تھے کہ وہ زنا بالجبر کا اقرار کرلے۔ عورت نے آپ کو بتایا کہ وہ سوئی ہوئی تھی کہ ایک مرد اس پر سوار ہوگیا۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اگر میں اس عورت کو قتل کردیتا۔ یعنی رجم کا حکم جاری کردیتا تو مجھے خطرہ تھا کہ کہیں ان دونوں جنگلوں کے درمیان آگ نہ داخل ہوجائے۔ پھر آپ نے اسے جانے دیا اور حد جاری نہیں کی۔ روایت ہے کہ جب شراحہ نے حضرت علی ؓ کے سامنے زنا کا ارتکاب کا اقرار کیا تو آپ نے اس سے فرمایا : شاید تم نے اپنے اوپر جبر کرکے یہ کام کیا ہو۔ “ اس نے جواب دیا : ” نہیں میں نے بخوشی اس فعل کا ارتکاب کیا تھا مجھے اس پر کسی نے مجبور نہیں کیا تھا۔ “ یہ سن کر آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ : ” تم لوگوں نے ماعز کو بھاگ جانے، کیوں نہیں دیا۔ “ اقرار سے رجوع کے جواز پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ جب ماعز نے اس سزا سے بچنے کی کوشش کی جس کے لئے انہوں نے شروع میں اپنی جان پیش کردی تھی تو اس موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم لوگوں نے اسے کیوں نہ بھاگ جانے دیا۔
سزا سرعام دی جائے
قول باری ہے (والیشھد عذابھما طائفۃ من المومنین اور ان کی سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے) ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ہے ۔ لفظ طائفہ کا اطلاق ایک مرد سے لے کر ایک ہزار تک پر ہوتا ہے پھر انہوں نے آیت (وان طائفتان من المومنین اقتتلوا اگر مسلمانوں کے دو گروہ لڑ پڑیں) کی تلاوت کی۔ عطاء کا قول ہے کہ طائفہ کا اطلاق دو مردوں اور ان سے زائد پر ہوتا ہے ۔ حسن اور ابوبریدہ کا قول ہے کہ طائفہ کا اطلاق دس پر ہتا ہے۔ محمد بن کعب القرظی نے قول باری (ان نعف عن طآئفۃ منکم۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کردیں گے) کی تفسیر میں کہا ہے کہ آیت کا مصداق ایک شخص تھا۔ زہری نے کہا ہے کہ ولیشھد عذابھما طائفۃ) میں تین یا اس سے زائد افراد مراد ہیں۔
قتادہ کا قول ہے مسلمانوں کے ایک گروہ کو موجود رہنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ ان کے لئے سزا کا یہ منظر نصیحت اور عبرت بن جائے۔ امام مالک اور لیث بن سعید سے منقول ہے کہ چار آدمی موجود ہوں کیونکہ گواہوں کی تعداد بھی چار ہوتی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک گروہ کی موجودگی کے سلسلے میں قتادہ نے جو بات کہی ہے وہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ ایک گروہ کی موجودگی کے سلسلے میں قتادہ نے جو بات کہی ہے وہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ سزا کا یہ منظر ان کے لئے نصیحت اور عبرت کا سبب بن جائے تاکہ خود مجرم آئندہ ایسی حرکت سے باز رہے اور دوسروں کو ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ پیدا ہوسکے۔ بہتر یہ ہے کہ اس موقعہ پر ایسے لوگوں کی موجودگی ہو جن کے ذریعے یہ بات خوب پھیلے اور دوسروں تک پہنچ جائے جس کے نتیجے میں لوگ ایسی حرکت سے باز رہیں۔ اس لئے کہ حدود کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ ان کے خوف سے لوگ اس قسم کے جرائم سے باز رہیں اور ان میں ایسے جرائم کے ارتکاب کی ہمت ہی نہ پیدا ہو۔
Ayah 24:3زانیہ عورت سے نکاح کا بیان
قول باری ہے (الزانی لا یکنح الا زانیۃ او مشرکۃ والزانیۃ لا ینکحھا الا زان او مشرک وحرم ذلک علی المومنین۔ زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک اور اہل ایمان پر حرام کردیا گیا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ عمر وبن شعیب نے اپنے والد سے ، انہوں نے عمرو کے دادا سے روایت کی ہے کہ مرثد بن ابی مرثد نامی ایک شخص تھا جو مکہ میں کافروں کے ہاں گرفتار شدہ مسلمانوں کو سواریوں پر بٹھا کر مدینے لایا کرتا تھا۔
مکہ میں عتاق نامی ایک ہیسوار رہتی تھی۔ جس کے اس شخص کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ مرثد نے مکہ میں پھنسے ہوئے ایک شخص کو مدینہ پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ جب وہ اس مقصد کے لئے مکہ گیا تو عناق نے اسے دیکھ لیا اور کہنے لگی کہ آج رات میرے پاس ٹھہرجائو۔ مرثد نے جو ای جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زنا حرام کردیا ہے۔ یہ سن کر اسے غصہ آگیا اور چلا کر کہنے لگی۔ خیموں میں رہنے والوں ، یہی وہ شخص ہے جو تمہارے قیدیوں کو یہاں سے مدینے پہنچاتا ہے۔ مرثد کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ پہنچا تو حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوکرعرض کیا۔ آپعناق سے نکاح کرنا پسند کریں گے ؟ “ حضور ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ درج بالا آیت کا نزول ہوگیا۔ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ ” ہم اس سے نکاح نہیں کریں گے۔ “ عمرو بن شعیب نے اس روایت میں یہ بیان کیا ہے کہ آیت کا نزول زانیہ مشرکہ کے سلستے میں ہوا ہے کہ اس کے ساتھ صرف زانی یا مشرک نکاح کرسکتا ہے۔ نیز یہ کہ مشرکہ کے ساتھ مسلمان کا نکاح زنا ہے کیونکہ مشرکہ اس کے لئے حلال ہی نہیں ہوتی۔
اس آیت کی تفسیر اور اس کے حکم کے متعلق سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں یحییٰ بن سعید اور یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید الانصاری سے، انہوں نے سعید بن المسیب سے کہ انہوں نے کہا ” اس آیت کو بعد میں آنے والی آیت (وانکحو الایامی منکم تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں ان کا نکاح کرادو ) نے منسوخ کردیا ہے ۔ کہاجاتا تھا کہ زانیہ عورت مسلمانوں کی بےنکاحی عورتوں میں سے ہے۔ “ اسی طرح سعید بن المسیب نے یہ بتایا کہ آیت منسوخ ہوچکی ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں ہمیں حجاج نے ابن جریج سے روایت سنائی۔ انہوں نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا۔ ” کچھ لوگ تھے جو زمانہ جاہلیت میں علانیہ طور پر بدکاری کا اڈا چلانے والی عورتوں کے ساتھ منہ کالا کرنا چاہتے تھے۔ ان لوگوں سے کہا گیا کہ ان کے ساتھ اب جنسی تعلق زنا ہے۔ یہ جان کر انہوں نے ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کا ارادہ کرلیا۔ “ اس طرح مجاہد نے بھی یہ بیان کیا کہ آیت کا نزول چند مخصوص عورتوں کے متعلق ہوا تھا جن کا کردار اوپر بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے اس آیت کی تفسیر میں ان کا یہ قول منقول ہے کہ ” آیت کا نزول ایک ایسے شخص کے بارے میں ہوا تھا جس نے ایک بیسوا سے اس شرط پر شادی کررکھی تھی کہ وہ اس کے اخراجات برداشت کرتی رہے گی۔ “ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے یہ بتایا کہ آیت میں نہی کہ یہ وجہ ہے یعنی یہ کہ ایک شخص کسی عورت سے اس شرط پر شادی کرے کہ وہ اس کی بدکاری کے کاروبار میں مخل نہیں ہوگا۔
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے اور نہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” نکاح سے ہم بستری مراد ہے۔ “ ابن شبرمہ نے عکرمہ سے اس آیت کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” جس وقت کوئی انسان زنا کاری کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ اپنی جیسی زنا کا عورت کے ساتھ منہ کالا کرتا ہے۔ “ حضرت ابن عباس ؓ کے غلام شعبہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بدکاری کا اڈہ چلانے والی عورتیں ہوتی تھیں وہ اپنے دروازوں پر جھنڈیاں آویزاں کردیتی تھیں جس طرح جانوروں کا علاج کرنے والے کیا کرتے تھے۔ ان جھنڈیوں کی وجہ سے وہ عورتیں پہچانی جاتیں اور لوگ ان کے پاس شہوت رانی کے لئے آتے جاتے۔ معمر نے ابراہیم نخعی سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ نکاح سے وہ جماع مراد ہے جو ارتکاب زنا کی صورت میں ہوتا ہے عروہ بن الزبیر سے بھی اسی قسم کی روایت منقول ہے۔ ابوبکر حبصاص ان آراء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان تمام حضرات نے آیت کے مفہوم کے متعلق یہ رائے دی ہے کہ اس میں زنا کے فعل میں دونوں کی شرکت کی خبر دی گئی ہے۔
اس معاملے میں عورت بھی مرد کی طرح ہے جب مرد زانی ہوگا تو عورت بھی اس کی طرح زانیہ ہوگی بشرطیکہ اس نے بخوشی اس فعل قبیح کے ارتکاب کی خاطر اس کی بات مان لی ہو۔ جب عورت زانیہ ہوگی تو مرد بھی اس کی طرح زانی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کے ذریعے زنا کے فعل قبیح میں دونوں کی یکسانیت کا حکم بیان فرمادیا جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حدزنا اور آخرت کی سزا کے استحقاق میں بھی دونوں کا حکم یکساں ہوگا۔ نیز قطع سوالات اور اس قسم کے دوسرے احکامات میں بھی دونوں یکساں ہوں گے۔ اس میں ایک اور قول بھی مروی ہے۔ عاصم الاحول نے حسن بصری سے آیت کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” جس شخص کو حد لگ چکی ہو وہ صرف اسی عورت سے نکاح کرے گا جسے حدلگ چکی ہو۔ “
زانیہ عورت سے نکاح کرنے کے بارے میں سلف کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، مجاہد، سلیمان بن یسار، سعید بن جبیر اور دیگر حضرات سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرلے اور کوئی اور شخص بھی اس کے ساتھ یہ فعل بد سرانجام دے دے تو پہلے زانی کے لئے اس کے ساتھ نکاح کرلینا جائز ہوگا۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، حضرت براء ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے (ایک روایت کے مطابق) مروی ہے کہ جب تک یہ دونوں اکٹھے رہیں گے زانی ہی رہیں گے۔ حضرت علی ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ جب کوئی شوہرزنا کا ارتکاب کرے گا تو اس کی بیوی سے اسے علیحدہ کردیا جائے گا ۔ یہی حکم اس صورت میں بھی ہوگا جب بیوی زنا کا ارتکاب کرے گی۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جن حضرات نے زانیہ عورت سے نکاح کی ممانعت کردی ہے انہوں نے اس آیت کو اسی معنی پر محمول کیا ہے جبکہ فقہاء امصار نکاح کے جواز پر متفق ہیں نیز یہ کہ زنا زانیہ بیوی کو اس کے شوہر کے لئے حرام کردینے کا موجب نہیں ہوتا نہ ہی میاں بیوی کے درمیان علیحدگی واجب ہوتی ہے۔ قول باری (الزانی لا ینکح الا زانیۃ) یا تو جملہ خبر یہ کی صورت میں ہے جو اس کے حقیقی معنی ہیں یاجملہ انشائیہ کی صورت میں ہے اور نہی نیز تحریم پر دلالت کررہا ہے۔ پھر نکاح کے ذکر سے یا تو ہم بستری مراد ہے یا عقد نکاح۔ اب اس فقرے کو جملہ خبر یہ کہ صورت دے کر خیر کے معنوں پر محمول کرنا ممتنع ہے۔ اگرچہ فقرے کے حقیقی معنی یہی ہیں۔ اس امتناع کی وجہ یہ ہے کہ ہم زانی مردوں اور زانیہ عورتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ فقرہ خبر کی صورت میں نہیں ہے۔ اس لئے یہ بات ثابت ہوگئی کہ فقرہ میں حکم اور اور نہی مراد ہے۔ جب بات اس طرح ہے تو اب یا تو ہم بستری مراد ہوگی یا عقد نکاح۔ جبکہ لغت میں نکاح کے حقیقی معنی وطی اور ہم بستری کے ہیں۔ ہم نے یہ بات کئی مواقع پر بیان کی ہے۔ اس لئے اب اسے وطی کے معنوں پر محمول کرنا واجب ہوگیا ۔ جس طر ح حضرت ابن عباس اور آپ کے ہم خیال مفسرین سے مروی ہے کہ نکاح سے جماع مراد ہے۔ نکاح کو عقد نکاح کے معنوں کی طرف کسی دلالت کی بنا پر پھیرا جاسکتا ہے اس لئے کہ نکاح کا یہ مجازی معنی ہے نیز یہ کہ جب حقیقی مراد ہونا ثابت ہوگیا تو اب مجازی معنی کا دخول منتفی ہوگیا۔ نیز اگر نکاح سے عقدنکاح مرادہوتا تو شوہر یا بیوی کے ارتکاب زنا کی بنا پر دونوں کے درمیان علیحدگی واجب نہ ہوتی اس لئے کہ میاں بیوی دونوں ہی پر زانی ہونے کے وصف کا اطلاق ہوتا تھا کیونکہ آیت زانیہ عورت کے ساتھ زانی مرد کے نکاح کی اباحت کی مقتضی ہے اس لئے یہ بات واجب ہوتی کہ عورت کے لئے اس مرد کے ساتھ نکاح کا جواز ہوجائے جس کے ساتھ اس نے منہ کالا کیا تھا۔ پیشتر اس سے کہ دونوں تائب ہوجاتے نیز یہ کہ زوجیت کی حالت میں میاں یا بیوی کی زناکاری ان دونوں کے درمیان علیحدگی کی موجب نہ بنتی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کسی بھی اہل علم نے یہ مسلک اختیار کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی واجب ہوجاتا کہ زنا کار مرد کے لئے مشرکہ سے نکاح کرنا اور زنا کار عورت کے لئے مشرک سے نکاح کرنا جائز ہوجائے۔ جب کہ یہ بات متفقہ طورپر جائز نہیں ہے۔ نیز یہ کہ مشرک عورتوں سے نکاح کرنا اور مشرک مردوں کے نکاح میں مسلمان عورتوں کو دنیا حرام اور منسوخ ہے۔ اس لئے آیت دو باتوں میں سے ایک پر دلالت کرتی ہے یا تو نکاح سے جماع مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور آپ کے ہم خیال مفسرین سے مروی ہے یا آیت کا حکم منسوخ ہے جیسا کہ سعید بن المسیب سے مروی ہے۔
آیا زنا سے نکاح باطل ہوجاتا ہے ؟
زنا سے نکاح باطل نہیں ہوتا اس پر بعض حضرات اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جس کے راوی ہارون بن ریاب ہیں۔ انہوں نے عبیداللہ بن عبید سے اسے نقل کیا ہے اسی طرح عبدالکریم الجرزی نے ابوالزبیر سے سے اس کی روایت کی ہے۔ دونوں سندوں میں صحابی کا واسطہ نہیں ہے اس لئے یہ مرسل روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میری بیوی لامس یعنی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی۔ حضور ﷺ نے سا شخص کو اپنی سے تعلقات زن وشو باقی رکھنے کا حکم دیا۔ ان حضرات نے اس شخص کے قول کو ان معنوں پر محمول کیا ہے کہ اس کی بیوی کسی ایسے شخص کو نہیں روکتی جو اس کے ساتھ زنا کرنا چاہتا ہے۔ تاہم اہل علم نے اس تاویل کو انتہائی طور پر ناپسند کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ روایت درست مان لی جائے تو اس کے اصل معنی یہ ہوں گے کہ اس شخص نے اپنی بیوی کو احمق اور بیوقوف قرار دیا ہے نیز اس میں سمجھ بوجھ کی کمی کی نشاندہی کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ اس کے مال کو ضائع ہونے سے نہیں بچا سکتی یعنی وہ اس کے مال کو کسی مانگنے والے سے روکتی ہے اور نہ ہی چور سے اسے محفوظ رکھتی ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ روایت کی یہ تاویل اولیٰ ہے اس لئے کہ اس کے الفاظ کے یہی حقیقی معنی ہیں جبکہ لمس کو وطی اور ہم بستری پر محمول کرنا کنایہ اور مجاز ہے۔ اس کے برعکس جن معنوں پر ہم نے روایت کو محمول کیا ہے وہ اولیٰ ہے نیز حضور ﷺ کی نسبت سے زیادہ مناسب ہے جیسا کہ حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ ؓ کا قول ہے کہ ” جب تمہیں حضور ﷺ سے کوئی روایت پہنچے تو اسے ان معنوں پر محمول کرو یعنی اس کے متعلق ان معنوں کا تصور کرو جو ہدایت سے زیادہ قریب۔ زیادہ پر لطف اور زیادہ مبنی بر تقویٰ ہوں۔ “
اگر یہ کہا جائے کہ قول باری (اولمستم النساء یا تم نے عورتوں سے ملامت کی ہو۔ ) یہاں جماح کو لمس قرار دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ ا س شخص نے حضور ﷺ سے یہ نہیں کہا کہ اس کی بیوی کسی لامس کو نہیں روکتی بلکہ یہ کہا کہ اس کی بیوی کسی لامس کے ہاتھ کو نہیں روکتی ، یہ بھی نہیں کہا کہ وہ کسی لامس کی شرمگاہ کو نہیں روکتی۔ ارشاد باری ہے (ولو نزلنا علیک کتابا فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم اگر ہم تم پر کوئی کتاب کاغذ میں لکھی ہوئی نازل کرتے اور پھر وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو لیتے) اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ لمس کے حقیقی معنی ہاتھ لگانا اور ہاتھ سے چھونا ہے۔ جریرا الخطفی کسی گروہ پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے :
الستم لئاما اذترومون جارھم
ولولا ھمولم تمنعوا کف لامس
کیا تم لوگ کمینے اور قابل مذمت نہیں ہو جبکہ تم ان کے پڑوسی پر ظلم ڈھانے کا قصد کررہے ہو اور اگر وہ لوگ نہ ہوتے اور تمہاری مدد نہ کرتے تو تم خود کسی ہاتھ لگانے والے کو ہاتھ کو بھی روک نہ سکتے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر ہے کہ شاعر نے یہاں لمس سے وطی مراد نہیں لی ہے بلکہ اس کی مراد یہ ہے کہ تم لوگ خود تو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا دفعیہ نہیں کرسکتے اور اپنے امول کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے بچا نہیں سکتے تو پھر تم ان کے پڑوسی پر ظلم کرنے کا ارادہ کیسے کرتے ہو ؟
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت تک زانیہ عورت سے نکاح کرنا اور اسے نکاح کے تحت رکھنا محفوظ رو ممنوع ہے جب تک وہ زنا کاری کا دھندا کرتی رہے۔ اگر چہ اس کا یہ فعل قبیح نکاح کو فاسد کرنے میں موثر نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اہل ایمان محصن عورتوں اور اہل کتاب خواتین سے نکاح کی اباحت کی ہے چناچہ ارشاد ہے (والمحصنات من المومنات و المحصنات من الذین اوتو الکتب من قبلکم۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال میں خواہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی) یعنی ان میں سے پاک دامن خواتین۔ نیز اگر زانیہ عورت سے زناکاری کے دھندے کی حالت میں نکاح کرلیا جائے تو اس میں یہ خطرہ موجود ہوگا کہ اس کے پیٹ سے کوئی ولدالزنا پیدا ہوگا اور وہ اسے اپنے شوہر کی طرف منسوب کرکے اس کا اسے وارث بنادے گی۔
جن لوگوں نے زانیہ عورت سے نکاح کی اجازت دی ہے ان کی اس اجازت کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب ایسی عورت زناکاری سے تائب ہوکر یہ دھندا چھوڑ چکی ہو۔ عورت کی زنا کاری میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کو واجب نہیں کرتی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بیوی پر تہمت زنا لگانے والے شوہر کے ساتھ اسے لعان کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے بعد دونوں کی علیحدگی کا فرمان جاری کیا ہے۔ اگر عورت کے اندر زنا کاری کا وجود علیحدگی کو واجب کردیتا تو پھر شوہر کی طرف سے اس پر زنا کی تہمت لگتے ہی علیحدگی واقع ہوجاتی اس لئے کہ شوہر نے علیحدگی واجب کرنے والے امر کا اعتراف کرلیا تھا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر شوہر یہ اعتراف کرلیتا ک ہ اس کی بیوی درحقیقت اس کی رضاعی بہن ہے یا اس کے باپ نے اس کے ساتھ ہمبستری کی تھی تو اس کے اس اعتراف کے ساتھ ہی دونوں کے درمیان علیحدگی ہوجاتی ۔
اگر یہ کہا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لعان کے بعد علیحدگی کا حکم دے دیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ زنا کاری تحریم کی موجب ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو لعان کی بنا پر علیحدگی واجب نہ ہوتی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر صورت حال تمہارے قول کے مطابق ہوتی تو نفس قذف کے ساتھ ہی علیحدگی واجب ہوجاتی، لعان کی بنا پر علیحدگی کے وجوب کی نوبت ہی نہ آتی۔ لیکن جب نفس قذف یعنی زنا کی تہمت لگاتے ہی علیحدگی واجب نہیں ہوئی تو اس سے معترض کے قول کے فساد پر دلالت حاصل ہوگئی۔
اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ لعان کی بنا پر علیحدگی واقع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لعان کی حیثیت عورت کے خلاف زنا کی گواہی دینے کی طرح ہے۔ جب عورت کے خلاف لعان کی بنا پر فیصلہ دے دیا گیا تو اس کے ساتھ ہی زنا کی وجہ سے علیحدگی کا حکم بھی دے دیا گیا۔ اس نکتے کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ نکتہ بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ عورت کے خلاف اکیلے شوہر کی زنا کی گواہی عورت کو زانیہ قرار دینے کی موجب نہیں ہوتی جس طرح شوہر کے خلاف اکیلی بیوی کی یہ گواہی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے، عورت پر تہمت کے سلسلے میں شوہر کو جھوٹا قرار دینے کی موجب نہیں بنتی کیونکہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کی دوسرے کے خلاف دی گئی گواہیوں میں سے کوئی گواہی دوسری گواہی کے مقابلہ میں اولیٰ نہیں ہوتی۔ اگر شوہر کے متعلق یہ حکم ہوتا کہ بیوی کے خلاف اس کی زنا کی گواہی کو قبول کرلیا جائے اور اس سے یہ ضروری ہوجاتا کہ اس گواہی کے تحت اس پر حد زنا جاری کردی جائے۔ جب عورت کو اس گواہی کی بنا پر حد نہیں لگتی تو یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ شوہر کے کہنے کی بنا پر عورت کے متعلق یہ حکم نہیں لگایا جاتا کہ وہ زانیہ ہے۔