Ayahs 24:48–50جس شخص کو حاکم کی عدالت میں طلب کیا جائے اسے وہاں جانا لازم ہے
قول باری ہے : (واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون) جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر ……اپنے کسی حق کے سلسلے میں دعویٰ دائر کردے اور اسے حاکم کی عدالت میں پیش ہونے کے ۔۔۔۔۔۔۔ پر اس کے ساتھ حاکم کی عدالت میں پیش ہونا لازم ہوگا۔ اس لئے کہ قول باری : (فاذادعوا الی اللہ۔ ) کے معنی ” الی حکم اللہ “ کے ہیں یعنی جب انہیں اللہ کے حکم اور فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے، یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص حاکم کی عدالت میں پہنچ کر کسی دوسرے پر اپنے حق کا دعویٰ دائر کردے تو حاکم پر مدعا علیہ کو بلوانا اور عدالت میں حاضر کرنا لازم ہوگا۔ حاکم مدعا علیہ کے کام کاج اور مصروفیتوں میں حائل ہوکر اسے پہلے مقدمے کی پیروی کرنے کے لئے کہے گا۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں ابراہیم الحرنی نے، انہیں عبداللہ بن شبیب نے انہیں ابوبکر بن شیبہ نے، انہیں فلیح نے، انہیں محمد جعفر نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے کہ اغرجہنی نے کہا ۔ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر ایک شخص کے خلاف کھجوروں کے آدھے حصے کے سلسلے میں دعویٰ دائر کیا۔ آپ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا : ان کے ساتھ چلے جائو اور مدعا علیہ سے ان کا حق لے کر انہیں دے دو ۔ “ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی ، انہیں حسین بن اسحق التستری نے، انہیں رجاء الحافظ نے، انہیں شاہین نے، انہیں روح بن عطاء نے اپنے والد سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حضرت سمرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من دعی الی سلطان فلم یجب فھو ظالم لا حق لہ) جس شخص کو سلطان کی طرف سے بلاوا آیا اور وہ حاضر نہ ہو تو ایسا شخص ظالم ہوگا اور اس کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن عبدوس بن کامل نے، انہیں عبدالرحمن بن صالح نے ، انہیں یحییٰ نے ابو الا شہب سے اور انہوں نے حسن سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من ۔۔۔ الی حاکم من حکام المسلمین فلم یجب فھو ظالم لاحق لہ) جس شخص کو کسی مسلمان حاکم کی طرف سے بلاوا آیا اور وہ حاضر نہ ہوا تو ایسا شخص ظالم ہوگا اور اس کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں خطاب کے بھائی محمد بن بشر نے، انہیں محمد بن عباد نے، انہیں حاتم نے عبداللہ بن محمد سجل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوحدرد ؓ سے وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر ایک یہودی کے چار درہم قرض تھے۔ یہودی نے میرے خلاف حضور ﷺ کے پاس جاکر دعویٰ دائر کردیا اور کہا کہ ا س شخص کے ذمہ میرے چار درہم ہیں جو یہ دبا گیا ہے۔ آپ نے یہ سن کر مجھ سے فرمایا : ” اس کا حق اسے دے دو ۔ “ میں نے عرض کیا : ” قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، مجھے اس رقم کی ادائیگی کی استطاعت نہیں ہے۔ “ آپ نے یہ سن کر فرمایا : ” اسے اس کا حق دے دو ۔ “ میں نے پھر اپنا جملہ دہرایا۔ آپ نے پھر مجھے اسکا حق اسے دینے کا حکم دیا۔ میں اس یہودی کو ساتھ لے کر بازار کی طرف نکل گیا۔ اس وقت میری سر پر پگڑی تھی اور بدن پر ایک چادر تھی جسے میں نے ازار کے طور پر باندھ رکھا تھا۔ میں نے پگڑی کو ازار کے طو ر پر باند لیا۔ یہود ینے کہا کہ اس چادر کا میں خریدار ہوں، چناچہ اس نے چار درہم میں وہ چادر مجھ سے خرید لی۔ یہ روایات آیت کے مضمون پر یکساں طور پر دلالت کرتی ہیں۔
Ayahs 24:51–52مقدمات کے لئے عدالت بلائے تو حاضری واجب ہے
قول باری ہے : (انما کان قول المومنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم ان یقولوا سمعنا واطعنا) ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اس میں اس مضمون کی تاکید ہے جو پہلے گزرچکا ہے، وہ یہ کہ جب حاکم کی طرف سے مقدمات کے سلسلے میں بلاوا آئے تو حاضری دینا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلاوے پر حاضری دینے کو اہل ایمان کی صفت گنوایا ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو بلایا جائے اس پر ابتدائی مرحلے میں اپنے قول کے ذریعے اس بلاوے کا جاب دینا واجب ہے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ بلاوے کا حکم سن کر ” سمعنا و اطعنا “ کہے اور پھر قاصد کے ساتھ حاکم کی طرف چل دے۔
Ayahs 24:53–54قول باری ہے : (واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن امرتھم لیخرجن قل لا تقسموا طاعۃ معروفۃ) (یہ منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ” آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں۔ “ ان سے کہو ” قسمیں نہ کھائو، تمہاری طاعت کا حال معلوم ہے “۔ مجاہد کا قول ہے ۔ یہ تمہاری زبانی طاعت ہے جس کا حال معلوم ہے، یہ عقیدے کی بنیاد پر طاعت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے ان کی جھوٹی قسموں کی خبر دی ہے۔ ایک قول کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ طاعت اور بھلی بات تمہاری ان قسموں سے بہتر ہے۔
Ayahs 24:55–57خدا کی زمین میں اصل خلیفہ کون ہے ؟
قول باری ہے : (وعداللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض) اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔ اس میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت موجود ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کو ایک متعین گروہ کے ساتھ : الذین امنوا منکم وعملوالصالحات لیستخلننھم فی الارض۔ فرما کر خاص کردیا پھر اس نے اس گروہ یعنی صحابہ کرام کے ساتھ کیے گئے جس وعدے کی حضور ﷺ کے ذریعے خبر دی تھی واقعاتی طور پر وہ حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ اس میں خلفاء اربعہ کی خلافت کی صحت پر بھی دلالت موجود ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ انہیں زمین میں خلافت عطا فرمائی تھی اور غلبہ دیا تھا۔ ان میں حضرت معاویہ ؓ شامل نہیں ہیں کیونکہ آیت کے نزول کے وقت یہ ایمان نہیں لائے تھے۔
Ayahs 24:58–59غلاموں اور لونڈیوں نیز بچوں کا گھروں میں جانے کے لئے اذن طلب کرنے کا بیان
قول باری ہے : (یایھا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرات۔ ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، لازم ہے کہ تمہارے مملوک اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں، تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں تاآخر آیت۔ لیث بن سلیم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے نیز سفیان نے ابوحصین سے اور انہوں نے ابوعبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ قول باری : (لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم ) عورتوں یعنی لونڈیوں کے ساتھ خاص ہے ، مرد یعنی غلام دن اور رات کے دوران ہر حال میں اجازت لے کر آئیں گے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بعض حضرات نے اس تاویل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عورتیں تنہا ہوں تو ان پر لفظ ” الذین “ کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ ایسے موقعہ پر ” اللائی “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس طرح یہ قول باری ہے : (واللائی یئسن من المحیض) وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر لفظ ممالیک کے ساتھ تعبیر کی جائے تو یہ استعمال درست ہوتا ہے جس طرح اس وقت بھی یہ استعمال درست ہوتا ہے جب لفظ اشخاص کے ذریعے عورتوں سے تعبیر کی جاتی ہے اسی طرح مونث کے لئے مذکر کا صیغہ لانا درست ہوتا ہے جب ممالیک کے لفظ کے ساتھ عورتوں سے تعبیر کی جائے۔ نساء کے لفظ نیز اماء کے لفظ سے تعبیر کی صورت میں یہ بات درست نہیں ہوتی۔ اس استعمال کے درست ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تذکیر وتانیث لفظ کے تابع ہوتی ہے۔ جس طرح آپ کہتے ہیں ” ثلاث مصاحن “ (تین چادریں) لیکن اگر آپ ازار یعنی تہمد سے تعبیر کریں گے تو اس کے لئے عدد اور معدود کے کے اندر تذکیر کے قاعدے کے مطابق ” ثلاثۃ ازر “ (تین تہمد) کہیں گے۔ اس لئے ظاہر بات یہ ہے کہ یہاں لونڈیاں اور غلام دونوں مراد ہیں۔ یہ بات نہیں کہ اس بنا پر غلام مراد نہ ہوں کہ انہیں تو ہر وقت اجازت لے کر اندر آنے کا حکم ہے۔ اس حکم کی یہ صورت تخلیہ کے تین اوقات میں اجازت لے کر اندر آنے کا حکم ہے، اس حکم کی یہ صورت تخلیہ کے تین اوقات میں اجازت لے کر اندر آنے کے حکم کو صرف لونڈیوں تک محدود کرنے کی موجب نہیں ہے۔ بلکہ اس میں غلام بھیداخل ہیں کیونکہ جب انہیں ہر وقت اجازت لینے کا حکم ہے تو ت خلیفہ کے ان تین اوقات میں بطریق اولیٰ اجازت لینے کا حکم ہوگا۔ اس لئے استیذان کے اس حکم میں دونوں شامل ہوں گے۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں ابن السرح اور صباح بن سفیان اور ابن عبدہ نے، (حدیث کے الفاظ ابن عبدہ کی روایت کے مطابق ہیں) ، انہیں سفیان نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اکثر لوگ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو استیذان کی آیت پر عمل پیرا ہونے کا حکم نہیں دیتے لیکن میں تو اپنی اس لونڈی کو بھی اجازت لے کر اندر آنے کا حکم دیتا ہوں۔ “ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں القعنبی نے، انہیں عبدالعزیز بن محمد نے ، عمرو ابی عمرو سے، انہوں نے عکرمہ سے کہ عراق کے چند لوگوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ آیت استیذان کے متعلق آپ کا خیال ہے۔ ہمیں اس میں جو حکم ملا ہے وہ تو اپنی جگہ ہے لیکن اس پر عمل کوئی نہیں کرتا۔ پھر ان لوگوں نے قول باری : (یا یھا الذین امنو لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم) تا (علیم حکیم) کی تلاوت کی، ان کی بات سن کر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ” اللہ بڑا حلیم ہے اہل ایمان پر بڑا رحیم ہے، وہ پردہ پوشی چاہتا ہے۔ ایسا وقت بھی آیا تھا کہ گھروں میں نہ پردے تھے اور نہ ہی کوئی آڑ، پھر کوئی نوکر، یا بچہ یا کوئی رشتہ دار یتیم بچی گھر میں ایسے وقت داخل ہوجاتی جب میاں بیوی ہم بستری میں مشغول ہوتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تخلیہ کے ان اوقات میں اجازت لے کر اندر آنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فراخی کی بنا پر گھروں میں پردے بھی لگ گئے۔ اس کے بعد پھر مجھے اس آیت پر عمل کرتا ہوا کوئی نظر نہیں آیا۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اسی روات کے بعض طرق میں جس کے راوی سلیمان بن بلال ہیں، انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے روایت کی ہے، حضرت ابن عباس ؓ کے یہ الفاظ مذکور ہیں، ” جب اللہ تعالیٰ نے فراخی اور خوش حالی عطا کردی اور لوگوں نے اپنے گھروں میں پردے لگالیے اور آڑ کھڑے کردیے تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ آیت استیذان میں اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا تھا اس پر اب عمل کرنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔ “ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بات بتائی ہے کہ آیت میں اجازت طلب کرکے اندر آنے کا حکم ایک سبب کے ساتھ تعلق رکھتا تھا جب سبب زائل ہوگیا تو حکم بھی ختم ہوگیا۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک آیت منسوخ نہیں ہوئی ہے اور اگر یہ سبب پھر پیدا ہوجائے تو حکم دوبارہ لوٹ آئے گا۔ شعبی کا قول بھی ہے کہ آیت منسوخ نہیں ہے، اس کی نظیر وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عقد سوالات کی بنا پر میراث کی فرضیت کا حکم دیا تھا چناچہ ارشاد ہے : (والذین عقدت ایمانکم فاتو ھما نصیبھم ) اور جن لوگوں سے تمہارے عہد و پیمان ہیں انہیں ان کا حصہ دو ۔ اس حکم کے تحت عقد موالات کی بنا پر لوگ ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ لیکن جب نسب کی بنیاد پر میراث کی فرضیت ہوگئی تو پھر نسبی رشتہ دار موالات کے تحت تعلق رکھنے والے انسان سے بڑھ کر میراث کے حق دار ہوگئے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ درج بالا آیت منسوخ ہوگئی بلکہ اب صورت یہ ہوگئی کہ جب نسبی رشتہ دار موجود نہیں ہوں گے تو عقد موالات کے تحت تعلق والا شخص یا اشخاص جائداد کے وارث قرار دیے جائیں گے۔
جابرین یزید نے قول باری (لیستاذنکم الذیر ملکت ایمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم) کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد وہ بچے اور بچیاں ہیں جو سمجھدار تو ہیں لیکن ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے ہیں وہ اپنے والدین کے پاس اندر آنے کے لئے تین اوقات میں اجازت حاصل کریں گے۔ فجر کی نماز سے پہلے، دوپہر کو قیلولہ کے وقت اور عشا، یعنی عتمہ کی نماز کے بعد۔ پھر یہ بچے جب بالغ ہوجانیں گے تو وہ بھی پہلے لوگوں یعنی اپنے بالغ بھائی بہنوں کی طرح اندر آنے کے وقت اجازت لے کر آئیں گے خواہ کسی وقت بھی آئیں۔ ابن جریج نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ (الذین ملکت ایمانکم) سے تمہارے غلام مراد ہیں اور (والذین کم یبلغوا الحلم منکم) سے تمہارے آزاد مراد ہیں۔ عطاء بن ابی رباح سے بھی اس قسم کی تفسیر منقول ہے۔ لیکن بعض حضرات نے اس تاویل پر تنقید کی ہے کیونکہ اپنی مالکن پر نظر ڈالنے کی حرمت کے سلسلے میں بالغ غلام کا وہی حکم ہے جو بالغ آزاد شخص کا ہے۔ پھر وہ استیذان کے حکم میں بچوں کے ساتھ کس طرح شامل ہوسکتا ہے جو سرے سے مکلف ہی نہیں ہیں۔ ان حضرات نے مزید کہا ہے کہ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ یہاں نابالغ غلام اور لونڈیاں نیز ہمارے وہ چھوٹے بچے مراد ہیں جو ابھی تک بالوغت کی حد کو نہیں پہنچے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ اس آیت کی قرات لیستاذنکم الذین لم یبلغوا الحلم مما ملکت ایمانکم کی ترتیب میں کرتے تھے۔ سعید بن جبیرا اور شعبی کا قول ہے کہ ” اس آیت پر عمل کرنے میں لوگوں نے سستی کا مظاہرہ کیا ہے ورنہ آیت منسوخ نہیں ہوگی۔ “ ابو قلابہ کا قول ہے کہ آیت کا حکم واجب نہیں ہے۔ جس طرح اس قول باری میں ہے : (واشھدوا اذا تبایعتم) اور جب تم آپس میں خریدوفروخت کرو تو گواہ بنالیا کرو۔ قاسم بن محمد کا قول ہے کہ ہر تخلیہ کے وقت اجازت طلب کرے گا اس کے بعد بالا اجازت اس کا آنا جانا ہوگا۔ “ یعنی غلام اور لونڈی تخلیہ کے اوقات نیز کپڑے اتار کر آرام کرنے کے اوقات میں اجازت لے کر اندر آئیں گے۔ کیونکہ یہ پردے اور تخلیہ کے اوقات ہیں۔ ان اوقات کے بعد اگر وہ بلا اجازت آئیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا پڑتا ہے اور نوکر چاکر نیز بچے وغیرہ اندر آنے جانے سے باز نہیں رہ سکتے۔ جس طرح حضور ﷺ نے بلی کے متعلق فرمایا ہے : (انھا من الطوافین علیکم والطوافات) بلی ان مردوں اور عورتوں میں شامل ہے جنہیں تمہارے پاس بار بار آنا پڑتا ہے یعنی بلی کو گھر میں داخل ہونے سے روکنا ناممکن ہے، ایک روایت ہے کہ کسی شخص نے حضرت عمر ؓ سے یہ پوچھا کہ آیا میں اپنی والدہ کے پاس بھی اندر اجازت لے کر جائوں ؟ “ آپ نے فرمایا ” ہاں “ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ کا بھی یہی قول ہے۔
فصل
قول باری : (والذین لم یبلغوا الحلم منکم) اس قول کے بطلان پر دلالت کرتا ہے کہ اگر ایک نوجوان کو احتلام نہ ہو تو اس کے لئے بلوغت کی حد پندرہ برس ہے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ ایک لڑکا جب حد بلوغت کو نہ پہنچا ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں پندرہ برس کی عمر کو پہنچنے والے اور نہ پہنچنے والے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ حضور ﷺ سے بھی مختلف طرق سے مروی ہے کہ (رفع القلم عن ثلاثۃ عن النائم حتی یستیقظ وعن المجنون حتی یفیق وعن الصبی حتی یحتلم) تین افراد مرفوع القلم ہیں۔ نیند میں پڑا ہوا انسان جب تک بیدار نہ ہوجائے۔ جنون کا مریض جب تک اسے افاقہ نہ جائے اور بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے آپ نے پندرہ برس کی عمر کو پہنچنے والے اور نہ پہنچنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ حضرت ابن عمر ؓ سے ایک روایت منقول ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر انہیں حضور ﷺ کے سامنے پیش کہا گیا اس وقت ان کی عمر چودہ برس تھی۔ آپ نے انہیں جنگ میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ پھر غزوہ خندق کے موقعہ پر پیش ہوئے۔ اس وقت عمر پندرہ برس تھی آپ نے انہیں جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی۔ لیکن اس روایت میں فنی لحاظ سے اضطراب ہے کیونکہ غزوہ خندق 5 ھ میں اور غزوہ احد 3 ھ میں پیش آیا تھا اس حساب سے ان دونوں کے درمیان ایک سال کا فرق نہیں ہوسکتا ۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ جنگ میں شرکت کی اجازت کا بلوغت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ ایک بالغ انسان کو جسمانی کمزوری کی بنا پر شرکت سے منع کردیا جاتا ہے اور ایک نابالغ کو جسمانی قوت کی بنا پر شرکت کی اجازت دے دی جاتی ہے کیونکہ وہ ہتھیار اٹھانے اور دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
جس طرح حضور ﷺ نے حضرت سمرہ بن جندب کو واپس کردیا تھا اور رافع بن خدیج کو لشکر میں شامل کرلیا تھا ۔ جب آپ سے یہ عرض کیا گیا کہ سمرۃ تو رافع کو کشتی میں پچھاڑ دیتے ہیں تو آپ ﷺ نے دونوں میں کشتی کرائی اور حضرت سمرہ ؓ نے حضرت رافع ؓ کو پچھاڑ دیا جس پر آپ نے انہیں جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی اور ان سے ان کی عمر کے بارے میں نہیں پوچھا۔ نیز حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں ہے ذکر ہی نہیں ہے کہ آپ نے ان سے جنگ احد یا جنگ خندق کے موقع پر شرکت کے مسئلے میں ان سے ان کی عمر پوچھی ہو بلکہ آپ نے تو جسمانی قوت وضعف کے لحاظ سے ان کی حالت کا اعتبار کیا تھا۔ اس لئے اس پر بنا پر عمر کا اعتبار کرنا غلط ہے کہ حضور ﷺ نے ایک موقعہ پر حضرت ابن عمر ؓ کو واپس کردیا تھا اور دوسرے موقعہ پر شرکت کی اجازت دے دی تھی۔ فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ احتلام ہوجانا بلوغت کی پکی علامت ہے۔ البتہ اس صورت میں اختلاف رائے ہے جب ایک نوجوان پندرہ برس کی عمر کو پہنچ گیا ہو لیکن اسے ابھی تک احتلام نہ ہوا ہو۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ ایسا لڑکا جب تک اٹھارہ سال مکمل نہیں کرلے گا اس وقت تک وہ بالغ قرار نہیں دیاجائے گا۔ لڑکی کے لئے سترہ سال کی عمر شرط ہے۔ امام ابوسیف ، امام محمد اور امام شافعی کا قول ہے کہ خواہ لڑکا ہو یا لڑکی پندرہ برس کی عمر کو پہنچ کر دونوں بالغ ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے استدلال میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کا حوالہ دیا ہے۔
ہم نے پہلے ہی بیان کردیا ہے کہ اس روایت کی اس امر پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ حد بلوغ پندرہ برس ہے۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ آپ نے حضرت ابن عمر ؓ سے نہ عمر پوچھی تھی اور نہ ہ یہ سوال کیا تھا کہ تمہیں احتلام ہوا ہے یا نہیں۔ ہماری اس وضاحت سے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ پندرہ برس کی عمر بلوغت کی حد نہیں ہے نیز ظاہر قول باری (والذین لم یبلغا الحلم منکم) بھی اس کی نفی کررہا ہے تو حد بلوغت کو ثابت کرنے کا ایک ہی طریقہ رہ گیا اور وہ یہ ہے ۔ ہم صغر یعنی کم سنی اور کبر یعنی بڑی عمر کے مفہوم سے پوری طرح آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان بلوغت رابطہ کا کام دیتی ہے۔ اس لئے اجتہاد کے ذریعے اس کا پتہ چلانا درست ہوگا۔
ہماری اس وضاحت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے بلوغت کے قائل پر کوئی اعتراض بھی وارد نہیں ہوگا جس طرح اس مجتہد پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا جو مستہلکات یعنی صرف ہوجانے والی اشیاء کی تقوی نیز مہر مثل اور ایسی دیتوں کی تعیین میں اپنے اجتہاد سے کام لیتا ہے جن کی مقداروں کے سلسلے میں شریعت کی طرف سے کوئی ہدیات اور رہنمائی یا دلیل موجود نہیں ہوتی۔
اگر یہاں یہ کہا جائے کہ اس سے یہ لازم آیا ہے کہ جب مجتہد کسی نوعیت کی ترجیح کی بنیاد پر ایک خاص مقدار کا تعیین کردے تو یہی بات اسکی رائے میں دوسری مقداروں پر اس مقدار کی تغلیب کی موجب قرار دے دی جائے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہمیں معلوم ہے کہ عادۃ پندرہ برس کی عمر بلوغت کی حد ہوتی ہے اور ایسے امور جن کے تعین میں عادات کا اعتبار کیا جاتا ہے ان میں کمی بیشی کی گنجائش ہوتی ہے ، ہمیں ایسے افراد بھی ملتے ہیں جو بارہ برس کی عمر میں بالغ ہوجاتے ہیں۔ ہم نے یہ بات واضح کردی ہے کہ پندرہ برس کی عمر جو بلغت کی معتاد عمر ہے اس میں کمی بیشی کی گنجائش ہوتی ہے۔ امام ابوحنیفہ نے بلوغت کے اس معتاد عمر میں اضافہ کو اس میں کمی کی طرح قرار دیا ہے۔ یہ اضافہ تین برس کا ہوتا ہے۔ جس طرح حضور ﷺ نے حمتہ ؓ بنت جحش سے یہ فرما کر کہ ( تخیضین فی علم اللہ ستا اوسبعا کما تحیض النساء فی کل شھر۔ ) اللہ کے علم کے مطابق تم حیض کے چھ یا سان دن گزارو گی جس طرح عورتیں ہر ماہ گزارتی ہیں۔ جب عورتوں کے حیض کے معتاد مقداد چھ یا سات دن مقرر کردی تو یہ حکم اس امر کا مقتضی ہوگیا کہ یہ مدت ساڑھے چھ دنوں کی بن جائے کیونکہ ساتویں دن کا معاملہ مشکوک ہوگیا تھا جس کا اظہار حضور ﷺ نے اپنے قول (ستا وسبعا) کے ذریعے فرمادیا ہے پھر ہمارے نزدیک یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ معتادمدت سے کم کی مقدار ساڑھے تین دن ہوتی ہے کیونکہ ہمارے نزدیک حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ اس طرح معتاد مدت پر اضافہ اس مدت سے کم کے مقابل قرار دیا گیا۔ اس بنا پر ہماری زیر بحث نساد یعنی بلوغت کے بارے میں معتاد مدت پر اضافہ کا اسی طرح اعتبار کرنا واجب ہوگیا۔
لڑکے کی بلوغت کب ہوگی ؟
امام ابوحنیفہ سے لڑکے کی بلوغت کے لئے انیس سال کی روایت بھی منقول ہے اسے ہم اٹھارہ سال پورا کرکے انیسویں سال میں داخل ہونے پر محمول کریں گے۔
انبات یعنی موئے زیر ناف اُگ آنے پر بلوغ یا عدم بلوغ کے حکم کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب نے اسے بلوغت کی نشانی قرار نہیں دیا ہے جبکہ امام شافعی اسے نشانی قرار دیتے ہیں۔ ظاہر قول باری (والذین لم یبلغوا الحلم منکم) احتلام نہ ہونے کی صورت میں انبات کو بلوغت قرار دینے کی اسی طرح نفی کرتی ہے جس طرح پندرہ برس کی عمر کو بلوغت قرار دینے کی نفی کررہا ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ کا قول (رفع القلم عن ثلاث……وعن الصبی حستی یحتلم) بھی اس کی نفی کررہا ہے۔ استفاضہ کی بنیاد پر اس حدیث کا درجہ مقبول حدیث کا ہے اس پر سلف اور سب کا عمل رہا ہے کہ نائم، مجنون اور بچہ مرفوع القلم ہوتے ہیں۔
جن حضرات نے انبات کو بلوغت کی نشانی قرار دیا ہے انہوں نے عبدالملک بن عمیر کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ انہوں نے یہ روایت عطیہ القرظی سے نقل کی ہے اور عطیہ نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے بنوقریضہ کے تمام لوگوں کو قتل کردینے کا حکم دیا تھا جن کے موئے پر زیر ناف اگ آئے تھے اور جن کے نہیں اگے تھے انہیں زندہ رہنے دیا تھا۔ عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ لوگوں نے میری تفتیش بھی کی، اور میرے اندار انبات نہ پاکر مجھے زندہ رہنے دیا۔ یہ اسی روایت ہے کہ اس کی بنیاد پر کوئی شرعی مسئلہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حدیث کا راوی عطیہ مجہول ہے اور صرف اسی روایت میں اس کا نام آتا ہے۔ خاص طور پر جبکہ یہ روایت آیت سے متصادم ہے نیز حدیث سے بھی جس میں احتلام کے بغیر کی نفی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ روایت کے الفاظ مختلف ہیں۔ بعض طرق میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تمام لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا جن کے موئے زبر ناف پر استرا پھر چکا تھا۔ اور بض طرق کے الفاظ یہ ہے کہ جن کے ازارسبز ہوں یعنی ازار کے نیچے موئے زیر ناف اگا ہو۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ایک انسان اس حالت کو اسی وقت پہنچتا ہے جب وہ بالغہوچکا ہو۔ اور راستہ کا استعمال اسی وقت ہوتا ہے جب انسان پورا مرد بن جاتا ہے۔ آپ نے انبات اور استہ 7 کے استعمال کی عمر کی اس حد تک پہنچ جانے کے لئے کنایہ قرار دیا جس کا ہم نے عمر کے سلسلے میں ذکر کیا ہے یعنی اٹھارہ برس یا اس سے زائدعقبہ ؓ بن عامر اور ابوبصرہ ؓ غفاری کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے مال غنیمت میں اس شخص کا حصہ بھی رکھا تھا جس کا موئے زیر ناف اگ آیا تھا۔ لیکن اس روایت کی اس امر پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ انہوں نے انبات کو بلوغت قرار دیا تھا کیونکہ بچوں کو مال غنیمت میں سے رضح یعنی کچھ تھوڑا سا دے دینا بھی جائز ہوتا ہے ۔ سلف کے ایک گروہ سے طول قامت کے اعتبار کی روایت بھی منقول ہے۔ لیکن فقہاء نے اس اعتبار کو قبول نہیں کیا ہے۔
محمد بن سیرین نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس ایک لڑکا چوری کے الزام میں پکڑ کر لایا گیا۔ آپ نے اس کی قد کی پیمائش کا حکم دیا۔ پیمائش ایک پورہ کم نکلی آپ نے اسے چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ قتادہ نے خلاص سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ جب ایک لڑکا پانچ بالشت کا ہوجائے تو اس پر حد جاری ہوجائیں گے۔ اس سے قصاص لیا جائے گا اور اس کے قاتل سے بھی قصاص لیا جائے گا اور اگر پانچ بالشت سے کم قد کے لڑکے کو کوئی شخص لڑکے کے گھر والوں کی اجازت کے بغیر اپنے ساتھ جرم میں شریک کرلے گا تو وہ تاوان بھرے گا۔ ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن الزبیر ؓ کے پاس عمر بن ابی ربیعہ کے ایک مزدور کو پکڑ کر لایا گیا جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور فرمایا کہ حضرت عمر ؓ نے انہیں اہل عراق کے ایک لڑکے کے متعلق چوری کے سلسلے میں لکھا تھا کہ اس کے قد کی پیمائش کی جائے۔ پیمائش کرنے پر وہ ا کی پورہ کم نکلا چناچہ اس کا نام نمیلہ پڑگیا۔ انملہ انگلی کے پورے کو کہتے ہیں۔ ان روایات پر ابوبکر حبصاص تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اقوال شاذہ ہیں اور ان کی اسانید بھی ضعیف ہیں۔ سلف سے ایسے اقوال کا وجود بعید از قیاس ہے۔ کیونکہ قد کی لمبائی یا کوتاہی نہ تو بلوغت کے ثبوت پر دلالت کرتی ہے اور نہ ہی اس کی نفی پر ۔ اس لئے کہ ایک انسان بیس برس کا ہوکر بھی ٹھگنے قد کا ہوسکتا ہے اور پندرہ برس کی عمر کو پہنچنے سے قبل بلوغت سے پہلے اس کا قداونچا ہوسکتا ہے۔ قول باری (ولذین لم یبلغوا الحلم منکم) اس پر دلالت کرتا ہے کہ جو لڑکا بالغ نہ ہوا لیکن اس میں عقل و شعور پیدا ہوچکا ہوا سے شریعت کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا جائے گا اور قبائح کے ارتکاب سے روکا جائے گا اگرچہ وہ اہل تکلیف یعنی کلفین میں شمار نہیں ہوگا لیکن تعلیم کے طور پر اسے یہ حکم دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایسے لڑکوں اور لڑکیوں کو تخلیہ کے اوقات میں اجازت لے کر اندر آنے کا حکم دیا ہے۔
عبدالمالک بن الربیع بن سبرہ الجہنی سے روایت ہے جو انہوں نے اپنے والد اور دادا کے واسطوں سے بیان کی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (اذا بلغ انعلام سبع سنین فمروہ بالصلوٰۃ واذا بلغ عشرا فاضبوہ علیھا) جب لڑکا سات برس کا ہوجائے تو اسے نماز پڑھنے کے لئے کہو اور جب اس کی عمر دس برس ہوجائے اور وہ نماز میں کوتاہی کرے تو اس کی پٹائی کرو۔
عمروبن شعیب نے اپنے والد اور دادا کے واسطوں سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے۔ (مروا صبیانکم بالصلوٰۃ اذا بلغوا سیعا واضربوھم علیھا اذا بلغوا عشرا وفرقوا بینھم فی المضاجع) جب تمہارے بچے سات برس کی ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کے لئے کہو اور جب دس برس کو پہنچ جائیں تو نماز میں کوتاہی پر ان کی پٹائی کرو۔ اس عمر میں ان کے بستر الگ الگ کردو۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نماز کے معاملے میں اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھو۔ “ نافع نے حضرت ابن عمر ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” بچہ جب اپنے دائیں بائیں میں امتیاز کرنا سیکھ لے تو وہ نماز سیکھنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ حاتم بن اسماعیل نے جعفر بن محمد سے روایت کی ہے، انہوں نے اپنے والد سے کہ علی بن الحسین بچوں کو ظہر اور عصر نیز مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھتے کا حکم دیتے تھے ۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس طرح بچے کے بغیر نماز ادا کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ بات ان کے نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
ہشام بن عروہ نے روایت کی ہے کہ عروہ اپنے بچوں کو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتے جب ان کے اندر نماز کی سمجھ پیدا ہوجاتی اور روزہ رکھنے کے لئے اس وقت کہتے جب ان میں روزہ رکھنے کی طاقت پیدا ہوجاتی۔ ابواسحاق نے عمرو بن شرجیل سے اور انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ ” جب بچہ دس برس کا ہوجائے تو اس کے نامہ اعمال میں اس کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جب تک بالغ نہ ہوجانے اس وقت تک اس کی بدیاں نہیں لکھی جاتیں۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ لڑکے کو نماز کا حکم تعلیم کے طور پر اور عادی بنانے کی خاطر دیاجاتا ہے تاکہ اسے نماز پڑھنے کی مشق ہوجائے اور بالغ ہونے کے بعد اس کے لئے نماز کی ادائیگی آسان ہوجائے اور طبیعت میں نماز کی طرف سے کم از کم بےرغبتی پیدا ہو، یہی کیفیت شراب نوشی اور دوسری منہیات سے روکنے کی بھی ہے اس لئے کہ اگر اسے بچپن ہی سے نیکیوں کا حکم نہیں دیا جائے گا اور برائیوں سے روکا نہیں جائے گا بلکہ اسے اپنی مرضی کرنے کے لئے آزادچھوڑ دیا جائے گا تو بالغ ہوکر ان برائیوں سے پیچھا چھڑانا اور نیکیوں کی طرف مائل ہونا اس کے لئے مشکل ہوجائے گا۔
قول باری ہے : (قوانفسکم واھلیکم نارا) اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچائو۔ اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے : ” انہیں ادب سکھائو اور علم پڑھائو۔ “ بچے اگرچہ مکلف نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود انہیں کفر اور شرک کے اعتقاد اور ان کے اظہار سے انہیں روکا جاتا ہے یہی بات احکام شرائع کے سلسلے میں بھی ضروری ہے۔
قول باری : (واذا بلغ الاطفال منکم الحلم) تا آخر آیت کا مفہوم یہ ہے کہ بچے جب سمجھ اور شعور کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں بھی تمام اوقات میں اجازت لے کر اندر آنا چاہیے جس طرح ان سے پہلے لوگوں کے یہ ضروری ہے جن کا ذکر اس قول باری میں ہے (لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستانسوا وتسلموا علی اھلھا) آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ احتلام بلوغت کی نشانی ہے۔
قول باری ہے : (لیس علیکم ولا علیھم جناح بعدھن طوافون علیکم بعضکم علی بعض) ان کے بعد وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر، تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے۔ یعنی تخلیہ اور پردے کے ان تین اوقات کے بعد لونڈیوں کے لئے نیز ان کے لئے جو ابھی عقل اور سمجھ کو حدکو نہ پہنچے ہوں اجازت لئے بغیر آنا درست ہے کیونکہ یہ تین اوقات تخلیہ اور کپڑوں کے بغیر آرام کے اوقات ہیں لیکن ان کے بعد تمام اوقات تن پوشی نیز ان لوگوں کے آنے کے اوقات ہیں جن کے لئے ہر دفعہ اجازت لینا اس بنا پر مشکل ہوتا ہے کہ انہیں بار بار آنا جانا پڑتا ہے۔ قول باری (طوافون علیکم بعضکم علی بعض) کا یہی مفہوم ہے۔
عشاء کی نماز کے نام کے متعلق بیان
قول باری ہے (ومن بعد صلوٰۃ العشاء۔ اور عشاء کی نماز کے بعد) حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : (لا تغلبنکم الاعراب علی اسم صلاتکم فان اللہ قال (ومن بعد صلوٰۃ العشاء) وان الاعراب یسمونھا العتمۃ وانما العتمۃ عتمۃ الابل للحلاب) بدوی لوگ تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب نہ آجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (اور عشاء کی نماز کے بعد) جبکہ بدوی اسے عتمہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ حالانکہ عتمہ اونٹوں کا دودھ نکالنے کے لئے رات کی تاریکی یا تہائی رات گزر جانے کا نام ہے۔
Ayah 24:60جوانی بیت جانے پر پردے کی تخفیف
قول باری ہے : (والقواعد من النساء اللاتی لا یرجون نکاحا) اور جو عورتیں جوانی سے گزر بیٹھی ہوں نکاح کی امیدوار نہ ہوں۔ تاآخر آیت۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ جو عورتیں جوانی کی حد سے گزر چکی ہوں اور نکاح کی امیدوار نہ ہوں ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جنہیں نکاح کی خواہش اور اس کا ارادہ بھی ہ ہو۔ ان کے کپڑوں سے چادریں مراد ہیں جنہیں وہ اتار سکتی ہیں۔ ابراہیم اور ابن جبیر کا قول ہے کہ کپڑوں سے ردا، یعنی لمبی چادر مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ ان سے چادر اور کمر پٹہ مراد ہیں۔ جابرین زید سے مروی ہے کہ یہ عورتیں اپنا دوپٹہ اور چادر اتار سکتی ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بوڑھی عورت کے بال ستر میں داخل ہیں جوان عورتوں کے بالوں کی طرح اجنبی مرد کے لئے ان پر نظر ڈالنا جائز نہیں ہے۔ اگر بوڑھی عورت سر پر دوپٹے کے بغیر نماز پڑھے گی تو جو ان عورت کی طرح اس کی نماز بھی فاسد ہوجائے گی۔ اس لئے یہ مراد لینا درست نہیں ہے کہ اجنبی مرد کے سامنے وہ سر سے دوپٹہ اتار سکتی ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے بوڑھی عورت کے لئے تنہائی میں دوپٹہ اتارنے کی اجازت دی ہے جہاں اسے کوئی دیکھ نہ رہا ہو تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ پھر اس صورت میں قواعد یعنی جوانی سے گزر بیٹھنے والی عورتوں کی تخصیص کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جوان عورت بھی خلوت کے اندر اپنا دوپٹہ تارسکتی ہے۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بوڑھی عورت کے لئے غیر مردوں کے سامنے صرف چادر اتارنے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ اس کا سرڈھکا ہوا ہو۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنا چہرہ اور ہاتھ کھلا رکھنے کی اباحت کردی ہے کیونکہ اس کے یہ اعضا شہوت کا باعث نہیں بنتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وان یستعففن خیر لھن۔ تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اس کے حق میں اچھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بوڑھی عورت کے لئے چادر اتارنے کی اباحت کردی اور ساتھ ہی یہ فرمادیا کہ اگر مردوں کے سامنے وہ اپنی چادر نہ اتارے تو یہ حیاداری اس کے حق میں بہتر ہے۔
Ayah 24:61نابینائوں سے پردے کی کیفیت
قول باری ہے : (لیس علی الاعمی حرج) ندھے کے لئے کوئی حرج نہیں۔ تاآخر آیت ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کے سبب نزول اور اس کی تاویل میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی ، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے ، انہیں ابوعبیدہ نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری (لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج ) اندھے کے لئے کوئی حرج نہیں ہے، لنگڑے کے لئے کوئی حرج نہیں اور مریض کے لئے کوئی حرج نہیں کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ جب آیت (ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل) اور تم آپس میں ایک دسوورے کا مال باطل طریقے سے نہ کھائونازل ہوئی تو مسلمانوں نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع کردیا ہے۔
کسی کے پاس جاکر کچھ کھانا حلال نہیں ہے۔ چناچہ لوگ ایک دوسرے کے پاس جاکر کچھ کھانے سے باز آگئے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت زیر بحث نازل فرمائی۔ یہ اس آیت کی ایک تاویل ہوئی۔ ہمیں جعفر بن ۔۔ سے روایت بیان کی انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریج سے اور انہوں نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر کی کچھ اپاہج ، نابینا، لنگڑے اور حاجتمند قسم کے لوگ تھے جنہیں کچھ دوسرے لوگ اپنے ساتھ گھروں کو لے آتے تھے۔ اگر ان کے گھروں میں کچھ موجود نہ ہوتا تو وہ انہیں اپنے ساتھ اپنے باپ دادا کے گھروں میں لے جاتے۔ اس بات کو ان معذور لوگوں نے پسند کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جہاں سے بھی طعام مل جائے کھانا حلال کردیا۔ آیت کی یہ دوسری تاویل ہے ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں ابن مہدی نے ابن المبارک سے اور انہوں نے معمر سے، وہ کتے ہیں کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ اندھے لنگڑے اور مریض کا بیان کیوں ذکر ہوا ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ہے کہ لوگ جب کسی غزوہ پر جاتے تو اپنے گھروں میں معذور لوگوں کو چھوڑ جاتے اور گھروں کی چابیاں ان کے حوالے کردیتے اور یہ کہہ دیتے کہ ہم نے تمہیں ان گھروں سے کھانے کی اجازت دے دی۔
لیکن یہ معذور افراد ان گھروں سے کچھ کھانا گناہ سمجھتے اور کہتے کہ مالکوں کی غیر حاضری میں ان گھروں میں داخل نہیں ہوں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں انہیں اس بات کی رخصت دے دی گئی آیت کی یہ تیسری تاویل ہے۔ ایک چوتھی تاویل بھی مروی ہے جسے سفیان نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے مقسم سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ اندھے ، لنگڑے اور مریض کے ساتھ بیٹھ کر کھانے سے پرہیز کرتے تھے کیونکہ اس صورت میں یہ لوگ اتنا نہیں کھا سکتے تھے جتنا ایک تندرست آدمی کھا لیتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن بعض اہل علم نے اس تاویل پر تنقید کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اندھے کے ساتھ بیٹھ کر کھانے میں تمہارے لئے کو حرج نہیں ہے۔ “ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اندھے سے نیز اس کے ساتھ مذکورہ لوگوں سے کھانے کے معاملے میں حرج کا ازالہ فرمایا ہے۔ یہ تو رہی اللہ کے متعلق بات جب وہ دوسرے کے مال میں سے کچھ کھالے، آیت کے متعلق سلف سے منقول توجیہات میں سے یہ بھی ایک توجیہ ہے۔ تاہم مقسم کی توجیہ احتمال بعید کی حامل ہے جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کی توجیہ بالکل واضح ہے کیونکہ قول باری ہے : (ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم۔ ) اور مل بیٹھ کر کھانا تجارت کی صورت نہیں تھی اس لئے لوگ اس سے باز آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت زیر بحث نازل کرکے اس کی اباحنت کردی۔ مجاہدنے آیت کی جو توجیہ کی ہے وہ بھی دو وجوہ سے درست ہے۔ ایک تو یہ کہ لوگوں کی عادت تھی کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور ساتھ آنے والوں کو طعام میں شریک کرلیتے تھے۔ اس عادت اور رسم کی حیثیت یہ تھی کہ گریا زبان سے اس کا ذکر کردیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اندھے، لنگڑے اور مریض کے لئے اس صورت میں کھانے کی اباحت کردی جب دوسرے لوگ انہیں اپنے ساتھ گھروں کو لے جائیں۔ اس صورت میں یہ معذور لوگ ان لوگوں کے گھروں میں یا ان کے باپ دادا کے گھروں میں جاکر کھانا کھا سکتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں طعام کی ضرورت ہوتی تھی اس زمانے میں ایسے لوگوں کی مہمان نوازی واجب تھی اور لوگوں میں یہ ضرورت مند لوگ بقدر طعام حق رکھتے تھے۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے معذوروں کے لئے اس بات کی اباحت کردی کہ وہ اجازت کے بغیر بھی لوگوں کے اموال میں بقدر ضرور ت کھاپی سکتے ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ اگر تم اپنے دوست کے گھر جاکر کھانا کھالو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ ارشاد باری ہے (او صدیقکم یا اپنے دوست کے گھر) روایت میں ہے کہ ایک بدوی حسن بصری کے پاس آیا وہاں اس نے کھانے کا دستر خوان لٹکا ہوا دیکھا۔ دستر خوان اتار کر اس نے کھانا شروع کردیا۔ یہ دیکھ کر حسن رونے لگے۔ جب ان سے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اس بدوی نے یہ کام کرکے مجھے اپنے بھائیوں کی یاد دلادی جواب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ ان کی مراد یہ تھی کہ لوگ کھانے کے معاملے میں بےتکلفی سے کا م لیتے تھے اور اجازت وغیرہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ بھی ان کی عادت اور رسم پر مبنی بات تھی جو ان لوگوں کے درمیان جاری وساری تھی۔
کن گھروں سے معذور لوگ کھانا کھا سکتے ہیں
قول باری ہے : (ولا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم) اور نہ تمہارے اوپر اس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھائو یعنی……واللہ اعلم……ان گھروں سے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں جن میں یہ رہتے ہوں اور دوسروں کے عیال میں شمار ہوتے ہوں۔ مثلاً ایک شخص کی بیوی، اس کی اولاد نے اس کے نوکر چاکر اور دیگر افراد، ایسے لوگ اس شخص کے گھر سے کھاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے گھروں کی نسبت ان لوگوں کی طرف کردی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس گھر میں رہنے والے ہیں اگرچہ وہ کسی اور کے عیال میں شمار ہوتے ہیں جو گھر کا مالک ہوتا ہے کیونکہ یہ مراد لینا درست نہیں ہے کہ انسان کو اپنے مال میں سے کھانے کی اباحت کردی جائے اس لئے کہ خطاب کی ابتداء ظاہری طور پر اس بات پر مشتمل ہے کہ ایک شخص کے لئے دوسرے کے مال میں سے کھانے کی اباحت ہے۔ ارشاد باری ہے : (او بیوت ابائکم اوب بیوت امھاتکم او بیوت اخانکم او بیوت اخواتکم) یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے۔ اللہ تعالیٰ نے ان محرم اقرباء کے گھروں سے کھانے کی اباحت کردی کیونکہ عادت اور رسم یہ تھی کہ اس جیسے رشتہ داروں کو کھانے میں شریک کرلیا جاتا تھا اور ان کے لئے کوئی ممانعت نہیں تھی۔ اولاد کے گھروں سے کھانے کا ذکر نہیں ہوا اس لئے قول باری : (ولا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم) سے یہ بات از خود معلوم ہوگئی تھی اس لئے کہ ایک شخص کا مال اس کے باپ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہ : انت ومالک لا بیک تو اور تیرا مال سب کچھ تیرے باپ کا ہے۔ آپ کا یہ بھی ارشاد ہے (ان اطیب مااکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ فکلوا من کسب اولادکم) انسان کے لئے پاکیزہ ترین کھانا وہ ہے جس اس کی اپنی کمائی سے حاصل ہوا ہو، انسان کی اولاد اس کی اپنی کمائی ہے اس لئے تم اپنی اولاد کی کمائی کھائو۔ اس بنا پر آیت میں (من بیوتکم) کے ذکر پر اکتفا کرلیا گیا اور اولاد کے گھروں کے ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کیونکہ اولاد کے گھر بھی ان کے آباء کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔
گھروں کی کنجیاں کن کے سپرد کی جائیں ؟
قول باری ہے : (اوما ملکتم مغاتحہ او صدیقکم) یا ان کے گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ علی ابن ابی طلحہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قول باری (او ما صلکتم مفاتعہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو کھانا وغیرہ تیار کرنے یا جانوروں سے دودھ نکالنے یا پھل وغیرہ اتارنے کا کام سپرد کردے اور پھر اسے اس طعان یا دودھ یا پھل میں سے کھانے کی اجازت دے دے۔ عکرمہ سے اس قول باری کی تفسیر میں مروی ہے کہ جب گھر کی کنجی کسی کے سپرد کردی جائے تو ایسا کرنا درست ہوتا ہے اور اس شخص کے لئے اس گھر سے تھوڑا بہت کھا لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔ سعید نے قتادہ سے قول باری : (لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ) کی تفسیر میں یہ روایت کی ہے کہ کوئی شخص کسی کو مہمان نہیں بناتا تھا اور نہ ہی خود کسی دوسرے کے گھر سے کچھ کھاتا تھا۔ ا ایسا کرکے وہ گناہ سے بچنا چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اندھے ، لنگڑے اور مریض کو اجازت دی اور پھر تمام لوگوں کو اس کی اجازت دے دی اور فرمایا : (ولا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم) تا قول باری (او ما صلکتم مفاتحہ) یعنی ” اے ابن آدم جو کچھ تیرے پاس ہے اس میں سے اگر کچھ کھالے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ پھر ارشاد ہوا (اوصدیقکم) یعنی اگر تو اپنے دوست کے گھر چلا جائے اور اس کی اجازت کے بغیر وہاں سے کچھ کھالے تو یہ تیرے لئے حلال ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات بھی عادت اور رواج پر مبنی تھی جس کے تحت کھانے کی اجازت ہوتی تھی اس لئے معتاد طریقے کو زبان سے کہی ہوئی بات کی طرح سمجھا جاتا تھا اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بیوی شوہر سے پیشگی اجازت لئے بغیر اس کے گھر میں بچا ہوا روٹی کا کوئی ٹکڑا یا اس جیسی کوئی چیز صدقہ کردے تو اس کی اجازت تھی کیونکہ یہ ان کے درمیان ایک متعارف بات تھی اور وہ اس سے اپنی بیویوں کو روکتے نہیں تھے۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ عبدماذون یعنی ایسا غلام جسے آقا کی طرف سے تجارت وغیرہ کرنے کی اجازت ہو، اسی طرح مکاتب کسی کو اپنے کھانے میں شریک کرلیں یا ان کے پاس جو ملا ہو اس میں سے تھوڑا بہت صدقہ کردیں تو ان کے لئے آقا کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا جائز ہوتا ہے قول باری (اوصدیقکم) کی تفسیر میں اعمش نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے :” میں تو یہ سمجھے لگا ہوں کہ ایک مسلمان اپنے درہم ودینار کا اپنے مسلمان بھائی سے بڑھ کر حق دار نہیں ہوتا۔ “ عبداللہ الرصافی نے محمد بن علی سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام کا یہ تصور تھا کہ ان میں سے کوئی بات اپنے آپ کو اپنے بھائی سے بڑھ کر درہم ودینار کا حق دار نہیں سمجھتا تھا۔
اسحاق بن کثیر نے روایت کی ہے کہ انہیں الرصافی نے بتایا کہ وہ ایک دن ابوجعفر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے یہ سوال کیا کہ آیا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی آستین یا جیب میں ہاتھ ڈال کر وہاں موجود رقم لے سکتا ہے ؟ حاضرین نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا ، پھر تم آپس میں بھائی بھائی نہیں ہو۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے محرم رشتہ دار کے گھر چوری کا ارتکاب کرلے تو اس جرم پر اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ محرم رشتہ داروں کے لئے گھروں کے بغیر اجازت داخل ہونے اور ان کے ساتھ کھانے میں شریک ہونے کی اباحت کردی ہے اس بنا پر ان رشتہ داروں سے گھر کے مالکوں کا مال محفوظ جگہ میں رکھا ہوا نہیں سمجھا جائے گا۔ جبکہ قطع ید کے لئے محفوظ کیے ہوئے مال کا چرانا شرط ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اس بنیاد پر دوست کے گھر سے مال چرانے پر بھی قطع ید کی سزا نہیں ملنی چاہیے کیونکہ آیت میں دوست کے گھر سے بھی کھانے کی اباحت ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جو شخص اپنے دوست کے گھر سے مال چرانے کی نیت رکھتا ہو وہ اس کا دوست نہیں ہوتا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت قول باری : (لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تسانسوا) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ نیز حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی اس آیت کے نسخ پر دلالت کرتا ہے کہ (لا بجل مال امری مسلم الا بطیبۃ من نفسہ ) کسی مسلمان کا مال اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک وہ خوش دل کے ساتھ اسے کسی کو نہ دے دے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا آیت وخبر میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو آیت زیر بحث کے نسخ کو واجب کررہی ہو اس لئے کہ آیت زیر بحث صرف ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کا اس میں ذکر ہوا ہے جبکہ دوسری آیت باقی ماندہ تمام لوگوں کے لئے ہے جو ان پہلے لوگوں سے الگ ہیں۔ یہی کیفیت حضور ﷺ سے مروی روایت کی ہے۔
قول باری ہے :(لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا) اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھائو یا الگ الگ ۔ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بنو خزیمہ کے قبیلہ کنانہ کا ہر فرد یہ سمجھتا تھا کہ تنہا بیٹھ کر کھانا کھانا حرام ہے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ اونٹوں کا گلہ ہانکتے ہانکتے ایک شخص بھوک سے تڑپ اٹھتا لیکن جب تک اسے کھانے میں شرکت کرنے والا کوئی نہ مل جاتا اس وقت تک وہ کچھ نہ کھاتا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر درج بالا آیت نازل فرمائی۔ ولید بن مسلم نے روایت کی ہے، انہیں وحشی بن حرب نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے والد وحشی سے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام نے ایک دفعہ آپ سے عرض کیا کہ ہم کھانا تو کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو۔ “ انہوں نے اثبات میں جواب دیا ۔ اس پر آپ نے فرمایا : ایک ساتھ بیٹھ کر کھائو اور کھانے پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس کھانے میں برکت ڈال دے گا۔ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ (جمیعا او اشتاتا) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص اپنے گھر میں فقیر کو بھی کھانے میں شریک کرلے۔ ابو صالح کا قول ہے کہ جب کسی کے گھر کوئی مہمان آتا تو وہ ان کے ساتھ مل کر کھانے کے سوا تنہا بیٹھ کر کھانے کو گناہ سمجھتے تھے۔ ایک قول کے مطابق ہر انسان کو اس بات کا خطرہ رہتا کہ اگر وہ دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ خودوسرے آدمی سے زیادہ نہ کھالے اس بنا پر ہر شخص دوسرے کے ساتھ مل کر کھانے سے پرہیز کرتا۔
ابوبکر حبصاص اس تاویل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس تاویل کا بھی احتمال موجود ہے۔ اس مفہوم پر قول باری : (ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیر وان تخالطوھم فاخوانکم) اور پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے کہو، جس طرز عمل میں ان کے لئے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہتر ہے اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں۔ دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے لئے اپنے طعام کے ساتھ یتیم کے طعام کو ملا کر اکٹھے بیٹھ کر کھانے کی اباحت کردی۔ اس طرح یہ قول باری بھی ہے : (فابعثوا احدکم بورقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا ازکی طعاما فلیاتکم برزق منہ) چلو اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لئے لائے۔ چاندی کا سکہ ان سب کا تھا اور طعان ان سب کے درمیان مشترک تھا اور انہوں نے اس کھانے کو اکٹھے بیٹھ کر تناول کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی۔ اسی طرح یہ قول باری بھی ہے : (لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا) ممکن ہے کہ ا س سے مراد یہ ہو کہ تمام لوگ کھانا درمیان میں رکھ کر اکٹھے مل کر کھالیں جس طرح سفر پر جانے والے لوگ کرتے ہیں کہ گروہ کا ہر شخص مساوی رقم ادا کرتا ہے اور سب مل کر اس رقم سے تیار شدہ کھانا کھالیتے ہیں۔ اس میں یہ خیال نہیں رکھا جاتا کہ کس نے زیادہ کھالیا اور کس نے کم، اسے مناہدہ کہتے ہیں۔
گھروں میں داخل ہوتے وقت سلام کہیں
قول باری ہے : (فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عندالل مبارکۃ طیبۃ) البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دعائے خیر ، اللہ کی طرف سے مقرر قرمائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ ، معمر نے حسن سے روایت کی ہے کہ مفہوم یہ کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو سلام کیا کرو جس طرح یہ قول ہے : (ولا تقتلوا انفسکم) اور تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔ مفہوم یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ معمر نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ بیوت سے مراد مسجدیں ہیں، جب تم مسجد میں داخل ہو تو یہ کہو ” السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔ “ (ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو) نافع نے حضرت عمر ؓ کے متعلق روایت کی ہے کہ وہ جب مسجد میں داخل ہوتے تو کہتے ” (بسم اللہ السلام علی رسول اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ کے رسول پر سلام) جس کسی گھر میں داخل ہوتے اور وہاں کوئی موجود ہوتا تو کہتے ” السلام علیکم “ اور اگر گھر خالی ہوتا تو فرماتے ” السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین “ زہری کا قول ہے کہ (فسلموا علی انفسکم) کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم اپنے ھگر میں داخل ہو تو اہل خانہ کو السلام علیکم کہو کیونکہ تم جن لوگوں کو سلام کہتے ہو ان میں سب سے بڑھ کر اس سلام کے حق دار تمہارے اہل خانہ ہیں، اور جب تم خالی گھر میں داخل ہو تو السلام علینا وعلی ٰ عباد اللہ الصالحین “ کہو ہر شخص کو اس کا حکم دیا گیا ہے اور ہمیں یہ روایت ملی ہے کہ فرشتے اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جب آیت کے الفاظ میں ان تمام توجیہات کا احتمال موجود ہے جو سلف سے منقول ہیں تو اس سے ضروری ہے کہ عموم لفظ کے دائرے میں یہ تمام مراد لی جائیں۔ قول باری (تحیۃ من عنداللہ مبارکۃ طیبۃ) کا مفہوم یہ کہ لفظ السلام، اللہ کی طرف سے تحیت ہے کیونکہ اللہ ہی نے اس کا حکم دیا ہے۔ یہ تحیت بہت برکت والی اور پاکیزہ ہے کیونکہ یہ سلامتی کی دعا پر مشتمل ہے اس لئے اس دعا کا اثر اور اس کی منفعت ختم نہیں ہوگی۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ قول باری : (فاذا حییتم بتحیۃ فجبوا باحسن منھا اور دوھا) اور جب احترام کے ساتھ تمہیں کوئی سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح ، میں سلام مراد ہے۔