Ayah 24:11 سورة نور ایک عظیم الشان سورة : سو اس سورة کریمہ کے آغاز ہی میں واضح فرما دیا کہ یہ ایک عظیم الشان سورت ہے۔ یعنی سورة کی تنوین تفخیم و تعظیم کے لیے ہے۔ اور ترکیب میں یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی۔ اور اس کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت مجاہد (رح) کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مردوں کو سورة مائدہ سکھاؤ اور عورتوں کو سورة نور۔ اور حضرت حارث بن مضرب کہتے ہیں کہ حضرت عمر۔ ؓ ۔ نے ہماری طرف لکھ بھیجا کہ اپنی عورتوں کو سورة نساء، سورة نور اور سورة احزاب کی تعلیم دو ۔ (روح، فتح، قرطبی، مراغی، جمل اور معارف وغیرہ) ۔ اور یہ اس لئے کہ یہ سورة کریمہ بطور خاص ایسی تعلیمات پر مشتمل ہے جن پر دارین کی سعادت اور دنیا و آخرت کی فوز و فلاح کا انحصار ہے۔ اس سے ایک طرف تو معاشرے کی تطہیر اور باہمی تعلقات کے بارے میں ایسی عمدہ تعلیم دی گئی ہے جس سے انساب و اَعراض کی حفاظت ہوتی ہے اور فتنہ و فساد کی راہیں بند ہوتی ہیں اور بہت سی ان بیماریوں سے پناہ ملتی ہے جو افراد اور معاشرہ کو تباہ کردیتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری طرف اس میں عقیدہ توحید اور دین کے مبادی و اصول کو بھی نہایت عمدہ اور اچھوتے انداز میں سمجھایا گیا ہے ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ سو اس کی عظمت شان کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کا خاص اہتمام کیا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
2 سورة نور کی عظمت شان کے دو خاص پہلوؤں کا ذکر : سو اس کی عظمت شان کو مزید واضح کرنے کے لیے دو اور باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک { انزلناہا } کہ " اس کو ہم نے نازل کیا ہے " یعنی اس کو کوئی معمومی کلام یا کوئی ہوائی بات نہ سمجھنا۔ بلکہ یہ ہمارا اتارا ہوا کلام اور ہمارا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اس لیے اس کے ہر حکم کی تعمیل ہمارے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے کی جائے اور دوسری بات اس کی عظمت سے متعلق یہ فرمائی گئی کہ " ہم نے اس کو فرض کیا ہے "۔ یعنی ان احکام و فرامین کو جو کہ اس میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ حیثیت کوئی سفارشات کی نہیں کہ جس کا جی چاہے مانے اور جس کا جی چاہے نہ مانے، بلکہ ان سب کو ہم نے فرض اور لازم قرار دیا ہے۔ جن کو ماننا اور اپنانا ہر مومن کے لئے ضروری ہے۔ اور جب ان کو نازل کرنے والے بھی ہم اور فرض قرار دینے والے بھی ہم ہی ہیں تو پھر ان کی عظمت شان اور رفعت مکان کا کیا ٹھکانہ ہوسکتا ہے۔ پس تم لوگ اس کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھنا بلکہ اس کی ہر بات اور اس کے ہر حکم و فرمان کو ہمارے حکم واجب الاذعان کی حیثیت سے اپنانا۔ بےچون و چرا اس کی اطاعت کرنا اور خبردار رہنا کہ اس بارے کوئی سستی اور سہل انگاری و لاپرواہی راہ نہ پائے۔ اسی میں تمہارا بھلا اور سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ جبکہ اس سے اعراض و روگردانی میں سراسر خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ -
3 سورة نور کی آیات بینات کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اس میں کھلی اور صاف صاف آیتیں نازل کیں "۔ جو کہ ہماری وحدانیت اور دین حق کی عظمت کو پوری طرح اجاگر کرتی ہیں۔ تو گویا { فَرَضْنَاہَا } کا تعلق ان اوامرو احکام اور حدود وقیود سے ہے جو اس سورة کریمہ کے شروع میں ذکر فرمائے گئے ہیں۔ اور { وَاَنْزَلْنَا فِیْہَا آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ } کا تعلق توحید وقدرت خداوندی اور ان سے متعلق ان دلائل وبراہین سے ہے جو اس سورة کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ (المراغی، الکبیر وغیرہ) ۔ سو اس سورة کریمہ کے شروع میں جن احکام و ہدایات سے نوازا گیا ہے ان سے معاشرہ کے افراد کے درمیان تعلقات صحیح بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں۔ جس سے معاشرے کو سکون و اطمینان کی دولت ملتی ہے۔ امن وامان کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اس میں گھروں میں داخلے اور باہم ملاقات اور گفتگو کے بارے میں عمدہ اور پاکیزہ ترین قواعد و ضوابط ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ جس کے التزام و پابندی سے ایک پاکیزہ اور صالح معاشرہ پروان چڑھتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
4 سبق لینے کی تعلیم و تلقین : سو ان احکام و ہدایات کی غرض وغایت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ تم لوگ سمجھو اور سبق لو "۔ یعنی تاکہ تم حق اور حقیقت کو سمجھو۔ اس سے سبق لو اور اپنے لئے سعادت دارین کا سامان کرو۔ کیونکہ اس سورة کریمہ میں خاندان اور معاشرہ سے متعلق ایسی حدود اور تعزیرات کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جن پر صالح اور پاکیزہ معاشرے کے قیام کا مدارو انحصار ہے۔ اور یہی وہ چیزیں ہیں جو گزشتہ امتوں کیلئے مزلہ اقدام ثابت ہوئی ہیں۔ جس سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس امت پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اس کیلئے ان احکام کے ساتھ ساتھ ان کی خلاف ورزی کے نتائج سے بھی آگاہ فرما دیا گیا تاکہ لوگ ان نتائج سے بچنے کی فکر کریں اور بےحیائی و بدکاری کے نقصانات سے مطلع اور آگاہ ہو سکیں۔ اور ان سے محفوظ رہیں۔ سو { لعلکم تذکرون } سے اس طرف اشارہ فرما دیا گیا۔
Ayah 24:25 حدِّ زنا کا ذکر وبیان : سو اس سے زناکار مرد اور زناکار عورت کیلئے سو کوڑوں کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ جب کہ وہ غیر محصن ہوں۔ کیونکہ زانی محصن کی سزا رجم ہے۔ جس کا ثبوت احادیث و روایات سے اس قدر واضح اور قطعی ہے کہ تواتر معنوی کو پہنچا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ تواتر ایسا قطعی اور واضح ہے جیسا کہ نماز کی رکعتوں کا ثبوت یا جیسا کہ حضرت علی ؓ کی شجاعت اور حاتم طائی کی سخاوت کا ثبوت وغیرہ۔ (روح وغیرہ) ۔ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے اپنی حیات طیبہ میں خود حکم رجم پر عمل کروایا اور آپ ﷺ کے بعد حضرات خلفائے راشدین کے دور میں بھی اس پر عمل ہوا۔ اور اس کے بعد دیگر صحابہ کرام ؓ نے بھی اس پر عمل فرمایا۔ اسی لئے حضرت عمر۔ ؓ ۔ نے اس بارے میں اپنے مشہور خطبے میں تاکید فرمائی کہ خبردار رجم کا حکم اسلام کا ایک قطعی حکم ہے جس میں کسی تغییر و تبدیل کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی لئے سلف و خلف میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا سوائے خوارج کے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، محاسن، اضواء اور معارف وغیرہ وغیرہ) ۔ بہرکیف سو کوڑوں کی سزا غیر محصن زناکار کے لیے ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
6 دین کے بارے میں کسی پر ترس نہ کھانے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تمہیں ان کے بارے میں اللہ کے دین کے معاملہ میں کوئی ترس نہیں آنا چاہیئے "۔ جس سے کہ تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ان حدوں کو ٹالنے یا ان میں تخفیف کی جسارت کرنے لگو۔ کہ جس خدائے پاک نے ان حدود کو مقرر فرمایا ہے وہ تم سے کہیں بڑھ کر مہربان ہے اور اپنے بندوں سے جتنی محبت اور رحمت و شفقت وہ رب غفور و ودود رکھتا ہے اتنی کسی اور کی طرف سے کسی کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ وحدہ لاشریک ہی سب کا خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ پس رحمت اصل میں اسی کی رحمت ہے۔ اور اس کے جملہ احکام و فرامین سراسر رحمت، نعمت، شفقت اور عین خیر و برکت ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کے نازل کردہ اور مقرر فرمودہ ان احکام و فرامین کی بجاآوری اور ان پر عمل پیرا ہونے ہی میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی جو اس دنیا کے بعد آنے والی ہے۔ اور یہ شان اس وحدہ لاشریک کے احکام و فرامین کے سوا اور کسی کے احکام کیلئے ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ پس تمہارا اے لوگو بھلا اسی میں ہے کہ تم اس کے احکام و فرامین کو صدق دل سے بجا لاؤ۔ اور جیسا اس کا حکم وارشاد ہو ویسے ہی اس کو بجا لاؤ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
7 ایمان کے ایک لازمی تقاضے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان کا تقاضا صدق دل سے احکام خداوندی کی تعمیل ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پر ایمان و یقین کا تقاضا اس کے احکام و فرامین پر صدق دل سے عمل پیرا ہونا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تم لوگ اللہ کے احکام کو صدق دل سے بجا لاؤ کہ تمہارے اس ایمان و یقین کا تقاضا یہی ہے کہ تم ان احکام کو صدق دل سے تسلیم کرو اور ان کو پوری طرح بجا لاؤ۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ ان اسلامی حدود و احکام پر صدق دل سے ایمان نہیں رکھتے وہ مسلمان نہیں اگرچہ وہ زبانی کلامی طور پر بہت کچھ دعوے کرتے ہوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس کیا خیال ہے آپ کا ان لوگوں کے بارے میں جو کہ ان اسلامی سزاؤں کو ماننے اور ان پر ایمان رکھنے کی بجائے ان کو وحشیانہ قرار دیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ اس طرح کی کفریہ باتوں کا ذکر و اظہار گاہ بگاہ، یہاں اور وہاں، ادھر اور ادھر، اعدائے حق اور دشمنان اسلام کی طرف سے طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کھلے دشمنوں کے علاوہ ان نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے بھی اس طرح کی باتیں کی اور کہی جاتی ہیں جو کہ ایسے اسلام دشمن عناصر سے مرعوب و متاثر ہیں۔ جیسا کہ پچھلے دنوں ہمارے ملک پر مسلط اس نسوانی حکومت کی طرف سے سننے اور دیکھنے میں آیا جو کہ ہماری شامت اعمال کے نتیجے میں اور اس نام نہاد مغربی جمہوریت کے صلے میں ہمارے سروں پر مسلط کردی گئی۔ جس میں انسانوں کو تولا نہیں گنا جاتا ہے۔ اور جس میں بڑی سے بڑی عالم فاضل شخصیت کا بھی ایک ووٹ ہوتا ہے اور عقل و فکر کی صلاحیتوں سے عاری ایک عام انسان اور ایک چرسی بھنگی کا بھی ایک ووٹ ہوتا ہے۔ لیکن اس طرح کے بیانات دینے کے کچھ ہی دنوں بعد نشہ اقتدار میں مست و مگن اس نسوانی حکومت کو کرسی اقتدار سے پٹخ دیا گیا ۔ والحمد للہ رب العالمین -
8 عبرت پذیری کا درس : سو عبرت پذیری کے لیے اجرائے حد کے موقعہ پر اہل ایمان کے ایک گروہ کی حاضری کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور حاضر رہے اس موقعہ پر اہل ایمان کا ایک گروہ "۔ تاکہ اس سے ایک طرف تو وہ دیکھنے والے عبرت پکڑیں اور دوسری طرف ان لوگوں کی مزید رسوائی ہو جن پر حد قائم کی جا رہی ہوتی ہے۔ کیونکہ رسوائی کا خوف سزا سے بھی بڑھ کر جرائم کو روکنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں " اَلْفَضِیْحَۃُ اَشَدُّ تَنْکِیْلًا مِّنَ الْعَذَابِ " ۔ بہرکیف اسلامی حدود و تعزیرات کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ اس سے دوسروں کو عبرت اور نصیحت حاصل ہو تاکہ جرائم اور بےراہ روی کا قلع قمع ہو۔ اسی لیے قرآن حکیم میں ان کو " نکال " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کے معنیٰ عبرتناک اور سبق آموز سزا کے آتے ہیں۔ سو اس مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ سزائیں کھلے عام اور پبلک کے سامنے ہوں اور اہل ایمان کی ایک جماعت وہاں پر موجود رہے۔ اس لیے جیلوں کی کوٹھڑیوں میں چپ چپائے دی جانے والی سزاؤں سے یہ اہم مصلحت فوت ہوجاتی ہے جو کہ اصل مقصود ہے۔
Ayah 24:39 زناکاری کے ایک طبعی میلان کا ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ زناکار کا طبعی میلان زناکار ہی کی طرف ہوتا ہے۔ یعنی یہ زنا و بدکاری کا طبعی نتیجہ و اثر بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اس منحوس عمل کا طبعی نتیجہ و اثر یہی ہوتا ہے کہ اس کا مرتکب شخص اس قابل نہیں رہتا کہ وہ کسی پاک دامن ایماندار عورت سے نکاح کرے اور نہ اس کو اس کی رغبت ہی ہوتی ہے۔ بلکہ وہ اس قابل ہے کہ اپنے ہی جیسے کسی بدکار یا اس سے بھی بڑھ کر کسی مشرک عورت سے شادی کرے کہ اس نے اپنے آپ کو مقام عز و شرف سے گرا دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کہتے ہیں " اَلْمَلِکُ لا یَکْذِبُ " ۔ " بادشاہ جھوٹ نہیں بولتا " یعنی یہ بات اس کی شان کے لائق نہیں کہ وہ بادشاہ ہو کر جھوٹ بولے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ بادشاہ جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔ ایسے ہی یہاں بھی ہے (روح وغیرہ) ۔ پس یہ ارشاد ربانی نہی اور انشاء کے طور پر نہیں بلکہ نفی اور خبر کے معنی میں ہے۔ نیز اس سے نکاح مشرک کا جواز ثابت نہیں ہوتا کہ وہ دوسری نصوص کی رو سے قطعی طور پر حرام ہے بلکہ اس سے دراصل جریمہ زنا کی خطورت اور اس کی خساست کو آشکارا فرمایا گیا ہے کہ یہاں پر زنا اور شرک کو ایک ساتھ اور ایک برابر ذکر فرمایا گیا ہے۔ جبکہ دوسرا قول حضرات اہل علم کا اس بارے میں یہ ہے کہ یہاں پر نکاح سے مراد عقد نکاح نہیں بلکہ وطی اور مباشرت ہے۔ یعنی جس کو جرم زنا کی لت لگ جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ کسی زانیہ یا اس سے بھی بڑھ کر کسی مشرک عورت سے ہی زنا کرے گا۔ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے اور علامہ شنقیطی ۔ (رح) ۔ نے اسی کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ پہلا قول صحیح نہیں۔ کیونکہ آیت کریمہ میں جو مشرک اور مشرکہ کا ذکر ہے وہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں پر نکاح سے عقد نکاح مراد نہیں ہوسکتا کہ وہ مشرک سے کسی بھی حال میں درست نہیں ہوسکتا۔ بہرحال یہاں پر یہ دونوں قول ہیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، روح وغیرہ) ۔ اور ان دونوں سے جریمہ زنا کی سنگینی واضح ہوجاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
10 اور حرام کردیا گیا اس کو ایمان والوں پر : یعنی زنا کو جب کہ { ذالک } کا مشارالیہ اسی کو قرار دیا جائے اور اس صورت میں یہ تحریم اپنے حقیقی معنوں میں ہوگی کہ زنا تو بہرحال اور قطعی طور پر حرام ہے۔ اور اگر { ذالک } کا مشارالیہ نکاح زانی کو قرار دیا جائے جیسا کہ ظاہر و متبادر ہے تو اس صورت میں اس تحریم سے مراد اس کے لغوی معنی ہوں گے نہ کہ اصطلاحی۔ یعنی منع کردینا۔ جیسا کہ { وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِع } میں ہے۔ یعنی ایماندار و پاک دامن لوگوں کو طبعی طور پر اس سے منع کردیا گیا کہ ان کو اس کی طرف رغبت ہی نہیں ہوتی۔ سو یہ بات مومن کی غیرت ایمانی کیخلاف ہے کہ وہ جان بوجھ کر کسی ایسی عورت سے نکاح کرے جو اپنے کفر اور اپنی بدکاری پر قائم ہو۔ کیونکہ اسلام کی نظر میں اصل چیز ہے پاکدامنی جو کہ مردوں میں ملحوظ ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ } اور یہی وصف عورتوں میں بھی ملحوظ ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { مُحْصِنٰتٍ غَیْرَ مُسَافِحَاتٍ } ۔ اسی لیے امام نسفی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں دراصل اہل ایمان کو بدکار عورتوں سے نکاح کرنے سے نفرت دلانا ہے مقصود ہے کہ ان کے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے اندر پاکدامن عورتوں کے سوا اور کسی طرف کوئی رغبت ہی نہیں ہونی چاہیئے۔ (المعارف، المدارک اور المحاسن وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر قسم سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 24:411 حدِّ قذف کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ تہمت لگائیں پاکدامن عورتوں پر " زنا و بدکاری کی اور اس طرح وہ ان کی عزت کو داغدار کرنے کے جرم کے مرتکب ہوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس الزام کے ثبوت کیلئے اس عورت پر زناکاری کیلئے چار گواہ پیش کریں۔ ورنہ اس پر قذف یعنی تمہت لگانے کی حد لگائی جائے گی۔ کیونکہ مسلمان کی جان کی طرح اس کی عزت و آبرو بھی قابل احترام ہے۔ جس طرح اس کی جان پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں اسی طرح اس کی عزت و آبرو میں بھی ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ سو جو لوگ شریف اور آزاد مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جرم کے چار عینی شاہد پیش کریں ورنہ ان کو قذف یعنی تہمت کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و کید سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
12 حد قذف اسی کوڑے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کو اسی کوڑے لگائے جائیں "۔ حدِّ قذف کے طور پر۔ کہ اس نے پاک دامن عورت کو بےآبرو کرنے کے جرم کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے ایک طرف تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں مومن کی عزت و آبرو کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے اور دوسری بات یہ کہ اسلام نہیں چاہتا کہ اسلامی معاشرے میں زنا اور بدکاری کے چرچے ہوں کہ اس سے اشاعت فاحشہ کی راہ کھلتی ہے۔ لہذا جب تک کسی کے پاس ایسی بات کے چار گواہ نہ ہوں وہ کسی پر ایسی تہمت نہ لگائے۔ ورنہ اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ اور اس کو یہ ذلت آمیز سزا بھگتنا ہوگی۔ اور مزید یہ کہ ایسے لوگ مردود شہادت قرار پائیں گے۔ یعنی ان کی شہادت اور گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔ اور اسلامی معاشرے میں کسی کا مردود شہادت قرار پانا بڑی ہی سخت اور سنگین سزا ہے۔ کیونکہ ایسے شخص کی عرفی حیثیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے کہ اس امت کا اصل مرتبہ و مقام اور منصب و امتیاز ہی شہداء اللہ فی الارض ہے۔ تو ایسے میں ایسا شخص گویا امت ہی سے کٹ گیا اور اس کا شرف و اعزاز ہی اس سے چھن گیا۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
13 اور ایسے لوگ فاسق ۔ و بدکار۔ ہیں ۔ والعیاذ باللہ : کہ انہوں نے ناحق طور پر دوسروں کی عزت و آبرو کو خراب کرنا کیا اور فسق و فجور کی جس گندگی سے انہوں نے ان کو ملوث و آلودہ کرنا کیا، وہ خود ان پر آن پڑی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس میں قاذف یعنی تمہت لگانے والے کیلئے تین سزاؤں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک یہ کہ ایسے شخص کو اسی کوڑوں کی حد لگائی جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو مردود الشہادۃ قرار دیا جائے۔ یعنی اس کی گواہی کبھی قبول نہ کی جائے گی۔ اور یہ اسلامی معاشرے میں ایک بڑی سخت سزا ہے۔ کیونکہ اس امت کا جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں گزرا ہے یعنی اصل امتیاز اور اعزاز ہی یہ ہے کہ یہ شہداء اللہ فی الارض کہ یہ امت اللہ کی اس زمین میں حق کی گواہ ہے۔ تو ایسے میں ایک شخص کو مردود الشہادۃ قرار دینے کا مطلب یہ ہوجاتا ہے کہ وہ اس شرف اور اعزاز سے محروم ہوگیا جو کہ اس کو امت کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے حاصل تھا۔ اور یہ تیسری سزا یہ ہے کہ ایسا شخص فاسق اور بدکار قرار پائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 24:5–714 اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کی امید : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے "۔ سو سچی توبہ پر وہ سب گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لہذا قذف کا گناہ بھی معاف ہوجائے گا اور ایسا شخص آخرت کی پکڑ سے بھی بچ جائے گا اور فسق کا لقب بھی اس سے اٹھ جائے گا۔ مگر حد ساقط نہیں ہوگی۔ کہ وہ بندے کا حق ہے۔ اس بات پر تو سب کا اجماع و اتفاق ہے۔ البتہ اس کی شہادت اور گواہی کے قبول ہونے نہ ہونے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور سفیان ثوری (رح) وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس استثناء کا تعلق اس سے نہیں ہے۔ لہذا ان کی گواہی توبہ کے بعد بھی قبول نہیں ہوگی۔ جبکہ امام شافعی (رح) وغیرہ کا کہنا ہے کہ وہ بھی استثناء میں داخل ہے۔ لہذا توبہ کے بعد ان کے مردود الشہادۃ ہونے کی سزا بھی ان سے اٹھ جائے گی اور آئندہ ان کی گواہی قابل قبول ہوگی۔ (قرطبی، مراغی، ابن کثیر، معارف وغیرہ) ۔ وَ الْمَزِیْدُ مِنَ التَّفْصِیْلِ فِی الْمُفَصِّلِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 24:8–1116 لعان والی عورت سے حدِّ زنا ٹالنے کا طریقہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ عورت اپنے آپ سے سزا کو اس طرح ٹال سکتی ہے کہ وہ یوں کہے۔ یعنی حد زنا کی سزا جو کہ خاوند کے الزام اور اس کی ان قسموں کی بناء پر اس کو لگنا تھی۔ اور جب بیوی بھی اس طرح قسمیں اٹھا لے گی تو ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے تفریق اور علیحدگی و جدائی ہوجائے گی اور اس کے بعد یہ دونوں کبھی بھی آپس میں رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہو سکیں گے۔ آگے اس جدائی اور تفریق کے بارے میں بعض حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ باہمی لعان کے نتیجے میں یہ تفریق و جدائی خود بخود واقع ہوجائے گی۔ جبکہ دوسرے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ اس کے بعد خاوند کی طلاق سے واقع ہوگی یا پھر تفریق قاضی سے۔ بہرکیف اس سے ایک طرف تو شوہر حدِّ قذف سے بچ جائے گا اور دوسری طرف دیوثی کے الزام و اتہام سے بھی۔ ادھر ایسی عورت بھی ایک طرف حد زنا سے بچ جائے گی اور دوسری طرف ان طرح طرح کی خانگی پریشانیوں سے بھی جو آئندہ اس شوہر کے گھر رہنے سے اس کو لاحق ہوسکتی تھیں ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے قرآنی تعلیمات کی عظمتوں، باریکیوں اور عنایتوں کے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ اس آیت کریمہ کے شان نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ ھلال بن امیہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ جبکہ دوسرے قول کے مطابق اس کا نزول عویمر عجلانی کے قصہ میں ہوا۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں یہ دونوں ہی قصے صحیح روایات میں وارد ہوئے ہیں اور دونوں ایک ہی زمانے میں پیش آئے ہیں۔ سو یہ دونوں ہی اس کا شان نزول بن سکتے ہیں۔ (معارف وغیرہ) ۔ اور ایسی بہت سی آیات کریمات کے بارے میں وارد و منقول ہے کہ ایک ہی آیت کریمہ کا نزول مختلف حوادث و وقائع سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ یہ آیت کریمہ اور اس کا حکم و مضمون ان سب ہی واقعات پر چسپاں ہوتا ہے۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو اس کا مصداق قرار دیا جاتا ہے۔ سو یہ اسلاف کرام کا ایک انداز و اسلوب ہے۔
Ayah 24:1221 مسلمانوں کو آپس میں حسن ظن سے کام لینے کی ہدایت وتعلیم : سو اس ارشاد سے یہ اہم اور بنیادی درس دیا گیا کہ مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد باہمی اعتماد اور کامل حسن ظن ہی پر ہونی چاہیئے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا یعنی ایمانداروں کے دین وا یمان کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اس قصے کو سنتے ہی اسے افتراء و بہتان قرار دے دیتے۔ کیونکہ مومن کا دین اس کو یہی سکھاتا ہے کہ وہ دوسرے مومن کے بارے میں ہمیشہ حسن ظن ہی سے کام لے۔ پھر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ تو اس کی سب سے بڑھ کر حق دار تھیں۔ اسی لئے روایات میں وارد ہے کہ حضرت ابو ایوب ؓ کی بیوی نے جب ان سے کہا کہ آپ نے سنا نہیں کہ لوگ حضرت عائشہ ؓ کے لئے کیا کچھ کہہ رہے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں میں نے سنا ہے۔ مگر یہ سب جھوٹ ہے۔ بھلا بتاؤ تم ایسی حرکت کرسکتی ہو ؟ اس نے کہا کہ " لا واللہ " ۔ " نہیں، اللہ کی قسم " تو پھر آپ ؓ نے فرمایا کہ عائشہ ؓ تو تم سے کہیں بہتر ہیں ۔ وہ اس طرح کی کسی حرکت کا ارتکاب کیسے کرسکتی تھیں ؟- (ابن کثیر، ابن جریر، روح، قرطبی، مدارک، فتح وغیرہ) ۔ سو اس میں یہ عظیم الشان تعلیم دی گئی کہ مسلمانوں کے باہمی تعلق کی بنیاد آپس کے اعتماد اور کامل حسن ظن پر ہونی چاہیئے۔ اور وہ اپنے کسی بھائی بہن کے بارے میں برائی کی کوئی بات سنے تو اس کو اس وقت تک قبول نہ کرے جب تک کہ اس کے بارے میں پوری تحقیق نہ کرلے۔ اس سے پہلے اس کو ایسی بات کو منہ پر لانا بھی درست نہیں۔ چہ جائیکہ وہ اس کو یونہی آگے پھیلائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 24:1322 اپنے الزام پر گواہ نہ پیش کرنے والے جھوٹے ہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب یہ لوگ اپنے الزام پر حسب ضابطہ چار گواہ نہیں لاسکے تو یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ پس جو لوگ اپنی بات پر قانونی گواہی کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے وہی جھوٹے ہیں۔ اس میں ان لوگون کیلئے سخت زجرو توبیخ ہے جنہوں نے اس قصے کو سنتے ہی اسے افتراء و بہتان قرار دینے کی بجائے اس کا آگے چرچا کیا کہ جو شخص ایسے معاملے میں چار گواہ نہیں پیش کرسکے گا وہ قطعی طور پر جھوٹا ہے اگرچہ وہ واقعے کا عینی شاہد ہی کیوں نہ ہو۔ تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کے پاس نہ چار گواہ اور نہ ہی امر واقع کا ذاتی علم و مشاہدہ کہ اصل حقیقت اور واقعہ کے اعتبار سے وہاں ایسی کوئی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں تھی۔ یہ تو سراسر کچھ بدبختوں کا گھڑا اور بنایا ہوا کھلا ایک بہتان عظیم تھا۔ تو پھر اس سے متعلق کسی علم اور مشاہدہ کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا تھا ؟ اور پھر معاملے کا تعلق بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ جیسی عفیفہ اور پاک دامن ہستی سے تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس جو لوگ اپنی بات پر قانونی گواہی کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے وہ سراسر جھوٹے ہیں۔ سو اس بہتان کے بارے میں ایسے لوگوں کی شرعی اور قانونی ذمہ داری یہ تھی کہ یہ اس پر چار گواہ پیش کرتے۔ اور جب یہ لوگ ایسا نہیں کرسکے تو خداوند قدوس کے قانون کی رو سے یہی لوگ جھوٹے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دین حنیف نے اہل ایمان کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے کیسی کیسی عظیم الشان اور حکمتوں بھری پیش بندیاں فرمائی ہیں ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ پس ہمیشہ انہی حدود اور پیش بندیوں کی پیروی کرنی چاہیے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 24:1423 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی رحمت نہ ہوتی تم لوگوں پر اور اس تواب و حکیم کی رحمت و عنایت کی برکت تم پر سایہ فگن نہ ہوتی تو یقینا تمہارا حال بہت برا ہوتا اور تم لوگوں کو بہت بڑا عذاب پہنچ کر رہتا کہ اس معاملے میں تم لوگ جس روش پر چل نکلے تھے اس کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ یہی تھا کہ تم لوگ اس طرح کے کسی ہولناک عذاب میں مبتلا ہوجاتے لیکن چونکہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت بھی دنیا و آخرت دونوں میں ہے اس لیے اس نے تم سے درگزر فرما لیا۔ سو اگر اس کی یہ رحمت نہ ہوتی۔ جو اس نے اپنے غفور و کریم اور رحمن و رحیم ہونے کی وجہ سے تم پر فرمائی اور تمہیں دنیا میں توبہ کی مہلت دی اور آخرت میں توبہ قبول کر کے تمہارے گناہوں کو معاف فرما دیا ۔ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ۔ اگرچہ اس کمزوری اور لاپرواہی کا صدور سب لوگوں سے نہیں ہوا تھا بلکہ ان میں سے کچھ ہی افراد کی طرف سے ہوا تھا لیکن یہاں خطاب پورے معاشرے سے فرمایا جارہا ہے کہ اس طرح کی کمزوریوں اور ایسے مفاسد کی نوعیت وبائی امراض کی سی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں سب ہی لوگوں کو آگاہ اور محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ ایسے مفاسد عام وباء کی شکل اختیار کرلیں اور پھر پورا معاشرہ ان کی لپیٹ میں آکر خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و انحراف سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
24 بہتان بازی کے خوفناک نتیجے کا ذکر اور اس سے تحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت نہ ہوتی دنیا و آخرت دونوں میں۔ تو یقینا تم لوگوں کو پہنچ کر رہتا بہت بڑا عذاب۔ تمہاری ان باتوں کی بناء پر جن میں تم لوگ کھو گئے تھے۔ کہ ان باتوں کی خطورت اور سنگینی کا تقاضا یہی تھا۔ مگر اللہ پاک نے اپنے کرم و احسان سے تمہیں اس سے بچا لیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تم لوگوں کو اللہ کے اس فضل و کرم کی قدر کرنی چاہیئے تاکہ آئندہ بچے رہو تم لوگ اس طرح کے ہر فتنے اور اس کے نتائجِ بد سے۔ اور مسلم معاشرہ اس طرح کے مہالک و مفاسد سے محفوظ رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ سو انسانی عظمت و حرمت کی دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں جس قدر اہمیت ہے اس کا اندازہ ان ارشادات سے کیا جاسکتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وعلی سبیل الدوام والتابید ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فانہ ہو العزیز الوہاب جل وعلا -
Ayah 24:1525 بغیر تحقیق کے بات کو آگے پھیلانے کی سنگینی و خطورت کا بیان : سو اس جرم کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور اس کی یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اس کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرتے جا رہے تھے۔ اور اس طرح بغیر کسی تحقیق و پرواہ کے تم اسے آگے پھیلاتے جا رہے تھے۔ حالانکہ تمہارا دین تمہیں یہ سکھاتا اور بتاتا ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے چلتا کردینا جھوٹ ہے ۔ " کَفٰی بَالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ " ۔ ایسے لوگوں نے اس کو ایک معمولی بات سمجھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں یہ ایک بڑی سنگین اور انتہائی ہولناک بات تھی۔ سو نقد و درایت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر اگر ہر کان پڑی بات کو آگے چلتا کردینا ایک سنگین جرم ہے کہ اس سے معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ افواہ طرازی کی مہلک روش جنم لیتی ہے اور شیطان کا بچھایا ہوا جال آگے پھیلتا جاتا ہے جس کے فتنے میں عام معاشرے کے ساتھ ساتھ ایسے افواہ طراز لوگ بھی الجھتے اور پھنستے چلے جاتے ہیں اور معاشرہ ایسے فتنوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ سو اس ارشاد سے مسلمانوں کو اسی خطرے سے آگہی بخشی گئی ہے تاکہ معاشرہ افواہ طرازی اور اس سے متعلق دوسرے فتنوں سے محفوظ رہ سکے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ تو اس کو ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے لیکن اپنے عواقب و نتائج کے اعتبار سے یہ بڑی خطرناک اور اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑی بات تھی۔
26 بہتان بازی اور الزام تراشی کی خطورت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ تو اس کو ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے لیکن اللہ کے یہاں یہ بہت بڑی بات تھی۔ کہ اس میں ہتک عزت تھی ایک عفیفہ اور پاک دامن خاتون کی اور وہ بھی خاندان نبوت کی خاتون کی۔ اور دلآزاری تھی نبیوں کے امام کی اور اس بناء پر یہ دلآزاری تھی آپ ﷺ کی امت کے ہر مومن صادق کی۔ تو اس سے بڑھ خطرناک بات اور کیا ہوسکتی ہے، ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو الزام تراشی اور بہتان بازی کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ بہت بڑی چیز ہے اور معاشرے کے فساد و بگاڑ کے ساتھ اس کا بڑا گہرا اور بنیادی تعلق ہے۔ جیسا کہ اس کا کچھ ذکر ابھی اوپر گزرا۔ سو اس کو ایک معمولی چیز سمجھ کر نظر انداز کردینے کی بجائے اس کے مفاسد کو پیش نظر رکھ کر اس سے ہمیشہ دور اور نفور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 24:1627 مسلمانوں کے ایمان کا تقاضا بہتان طرازی کی فوری تردید : سو اہل ایمان کو ان کے اس ایمانی تقاضے کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ان سے بطور تحریض و تحریک ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے سنتے ہی ایسے بہتان کی تردید کیوں نہ کی کہ تمہارے دین و ایمان اور خانہ نبوت کے تقدس اور اس کی طہارت و قداست اور عظمت شان کا تقاضا یہی تھا کہ ایسی بات سنتے ہی تم یوں کہہ دیتے کہ " اللہ کی پناہ یہ تو ایک بڑا بہتان ہے " ایسی بات تو ایک عام مومن عورت کے بارے میں بھی نہیں کہی جاسکتی تو پھر ام المومنین کے بارے میں ایسی بات منہ سے نکالنا بھی کیسے روا ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے یہ اصولی اور بنیادی تعلیم دی گئی کہ مومن صادق کو ایسی پاکیزہ ہستیوں کے بارے میں اس طرح کے کسی الزام و بہتان کو سنتے ہی اور فوری طور پر تردید کر دینی چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 24:1728 حضرت عائشہ کو برا کہنے والا مرتد واجب القتل ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو نصیحت کرتا ہے کہ پھر تم سے ایسی کوئی حرکت سرزد نہ ہونے پائے۔ سو ایمانداری کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایسے امور سے ہمیشہ بچ کر رہے کہ ایمان صادق کا تقاضا یہی ہے کہ اس طرح کے ہولناک طوفان و بہتان سے ہمیشہ اور ہر طرح سے بچا جائے اور جو ایمان والا نہیں اس کا معاملہ الگ ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اس کے بعد بھی جو شخص ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ کو تہمت لگائے اور برا کہے وہ مومن نہیں کافر ہے۔ چناچہ حضرت امام مالک ۔ (رح) ۔ سے مروی ہے کہ جو کوئی حضرت ابوبکر ؓ و عمر ؓ کو برا کہے اس کی تادیب کی جائے گی۔ اور جو کوئی حضرت عائشہ ؓ کو برا کہے اس کو قتل کیا جائے گا کہ وہ اس آیت کا منکر اور مرتد واجب القتل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (ابن جریر (رح) ، ابن کثیر (رح) ، قرطبی (رح) ، التحریر والتنویر لابن عاشور (رح) اور المعارف وغیرہ) ۔ تو پھر وہ لوگ کس طرح مومن قرار پاسکتے ہیں جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر طرح طرح سے زبان درازی کرتے اور آپ کی شان اقدس میں ایسی مغلظات بکتے ہیں جو ایک سچا مسلمان زبان پر بھی نہیں لاسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت امام مالک جیسے اساطین امت کے اس فتنے کی روشنی میں ایسے لوگ اپنے بارے میں خود سوچ اور دیکھ لیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ظالموں کو ہدایت بخشے یا پھر ان کا بیڑا غرق کر دے۔
Ayah 24:1829 اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کا بدیل ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے۔ وہ جو بھی کچھ کہتا فرماتا ہے وہ کمال علم وحکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ پس اسی کے احکام اور فرامین و ارشادات ایسے ہیں جو کہ سراسر خیر اور حقیقی کامیابی کے کفیل وضامن ہیں۔ کیونکہ وہ کامل علم اور عین حکمت پر مبنی ہیں اور ان سے انسان کی بہتری و بھلائی اور دارین کی سعادت و سرخروئی ہی مطلوب و مقصود ہے۔ ان کے واضع اور مقنن کے یہاں نہ کسی ذاتی خواہش و مقصد کا کوئی شائبہ و امکان ہوسکتا ہے اور نہ کسی سے کسی ذاتی پرخاش و رنجش کا کوئی سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ ذات اقدس و اعلیٰ اس طرح کے ہر شائبہ سے پاک اور برتر وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ شان اس وحدہ لاشریک کے احکام و قوانین کے سوا اور کسی بھی و ضعی اور انسانی ساختہ پرداختہ قانون کے لئے ممکن نہیں۔ سو جس طرح حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ذات اقدس و اعلیٰ بےمثل و بےمثال ہے اسی طرح اس کے احکام و قوانین بھی بےمثل اور بےمثال ہیں ۔ جَلَّ جَلَالُہ وَعَمَّ نَوَالُہ وَتبََارَکَ اسْمُہ وَتَعَالٰی جدہ ۔ پس اس کے احکام اور فرامین و ارشادت کو تم لوگ صدق دل سے اپناؤ اور ان کو حرزجان بناؤ کہ اسی میں تمہارا بھلا ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اس کے احکام وارشادات کا کوئی بدیل و متبادل نہ ممکن ہے نہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 24:1930 بےحیائی پھیلانے والوں کے لیے دردناک عذاب ۔ والعذاب باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل ایمان کے اندر بےحیائی پھیلانے والوں کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اہل ایمان کے اندر بےحیائی پھیلانا چاہتے ہیں ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ کیونکہ دنیا میں ان کو حد کی سزا اور تذلیل و رسوائی اور دوسری طرح طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے واسطہ پڑے گا اور آخرت میں دوزخ کا ہولناک عذاب بھگتنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو برائی اور بےحیائی کے چرچے کرنا اور اہل ایمان کے درمیان اس کو پھیلانے اور عام کرنے کی کوشش کرنا ایک سنگین جرم اور ہولناک گناہ ہے۔ منافقین اور یہود مدینہ اس دور میں اسی سنگین جرم کے درپے تھے۔ کیونکہ ان کو مسلمانوں کا اخلاقی تفوق جو دوسرے لوگوں کے دلوں میں گھر کیے جارہا تھا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ اور اسی بنا پر انہوں نے افک کا بہتان گھڑا۔ افسوس کہ اشاعت فاحشہ کا یہ سنگین جرم اور ہولناک گناہ آج کے مسلم معاشروں میں اپنے عروج و شباب پر ہے اور ٹیوی، وی سی آر وغیرہ جدید ذرائع و وسائل کے توسط سے ایسے فحش مناظر اور پروگرام دن رات پیش کیے جاتے ہیں کہ شریف انسان آنکھیں بند کرکے رہ جاتا ہے۔ اس کی علاوہ رسائل و جرائد اور دوسرے قسما قسم کے شیطانی طریقوں سے برائی و بےحیائی کو ایسے نت نئے طریقوں سے پھر لایا جا رہا ہے کہ شایہ ہی کوئی ایسا گھر اور گھرانہ ہو جو اس وبائے وبیل اور اس کے آثار و مفاسد سے محفوظ ہو۔ اور اس سے آگے بڑھ کر یہ کہ اس کے آثار و مفاسد نے معاشرے کو ایسا زہر آلود کردیا ہے کہ لوگوں کے اندر اس کی برائی و بےحیائی کا احساس ہی ختم ہوگیا ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ اور یہ بیماریوں کی بیماری اور تنزل و گراوٹ کی حد و انتہاء ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم والی اللہ المشتکی وہو المستعان فی کل شر و طغیان -
Ayah 24:2031 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم لوگوں پر نہ ہوتا اے مسلمانو اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا ہی نرمی کرنے والا انتہائی مہربان ہے تو تم کو ایسا دردناک عذاب آ پکڑتا۔ لیکن اس نے اپنی رحمت و عنایت سے ایسے نہیں کیا۔ بلکہ تمہیں تنبیہ فرمائی اور توبہ و استغفار کا موقع دے دیا۔ اور ایسا کوئی عذاب تم پر نازل نہیں فرمایا۔ پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے اس فضل و کرم کا شکر ادا کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 24:2132 شیطان کی پیروی سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا ایمان والو، شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہیں کرنا کہ اس کی پیروی تمہارے لیے ہلاکت و تباہی کا باعث بنے گی۔ اس سے کسی خیر کی توقع ہو ہی نہیں سکتی کہ اس نے تمہیں گمراہ کرنے اور دوزخ کی راہ پر ڈالنے کا کھلم کھلا اعلان کر رکھا ہے۔ اور وہ تم لوگوں کو علم اور حق کی روشنی سے محروم کر کے ظن و گمان اور اوہام و خرافات کے اندھیروں میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ پس تم اس کی پیروی نہ کرنا۔ بےحیائی پھیلا کر اور برائی کو فروغ دے کر۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ برائی اور بیحیائی کی تلقین کرتا ہے۔ سو جو اس کے نقش قدم پر چلا وہ ہلاک ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
33 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت تم لوگوں پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک نہ ہوتا۔ سو اس نے تمہیں فوراً نہیں پکڑا۔ بلکہ توبہ کی مہلت دی اور استغفار کی توفیق بخشی۔ جس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور ان کی میل اتر جاتی ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ قَبْلَ کُلِّ شَئٍ وَ بَعْدَ کُلِّ شَئٍ ۔ پس تم لوگوں کو چاہیئے کہ تم اس کے اس فضل و کرم کی قدر کرو اور ہمیشہ اسی کی رضاء و خوشنودی ہی کو پیش نظر رکھو کہ اس کی رضاء و خوشنودی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ وباللہ التوفیق -
34 اللہ تعالیٰ کی توفیق کی بغیر کوئی بھی پاک نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا کہ بندہ اس وحدہ لاشریک کی توفیق و عنایت کے بغیر کچھ بھی نہیں ۔ فَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِہٖ جَلَّ وَعَلَا ۔ پس جو لوگ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو پاک صاف سمجھتے ہیں اور دوسروں سے متعلق وہ ہر سنی سنائی بات کو یونہی چلتا کردیتے ہیں اور اپنی پاکیزگی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ بڑی غلط روش پر ہیں۔ ان کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیئے اور اپنی اس روش سے باز آجانا چاہیے۔ اور اگر ان کے اندر کوئی خوبی اور پاکیزگی موجود ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان سمجھ کر اس کے حضور ہدیہ تشکر امتنان پیش کرے۔ نہ یہ کہ اس کی بناء پر وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اپنی ہلاکت کا سامان کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے شرور وفتن سے ہمیشہ پاک و محفوظ اور اپنی عنایت وپناہ کے سائے میں رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
35 اللہ جسے چاہے پاک کرے : کہ اس کی مشیت جو اس کی حکمت کے مطابق ہوتی ہے ہر چیز پر حاوی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جسے چاہے پاک کردیتا ہے۔ گناہوں کی میل سے۔ جو کہ ظاہری اور حسی میل سے کہیں بڑھ کر خطرناک ہے۔ اور جن کی معافی اور صفائی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تعلیمات مقدسہ کی اتباع و پیروی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ سو بندہ کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے اور اسی سے اپنی عصمت اور پاکدامنی کی دعاء و درخواست کرتا رہے کہ طہارت و پاکیزگی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کی توفیق و عنایت اگر شامل حال نہ ہو تو کوئی بھی پاک نہیں ہوسکتا۔ پس کسی کو اپنی طہارت و پاکیزگی اور اپنے تقویٰ و پاکدامنی کا اتنا زعم و گھمنڈ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھنے لگے اور دوسروں کے بارے میں بغیر کسی تحقیق کے ہر قسم کی باتیں آگے پھیلانے لگے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 24:2236 عفو و درگزر سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے فضل و کشائش والے لوگ غریبوں اور رشتہ داروں کی مدد نہ کرنے کی قسم نہ کھائیں۔ " یَأتَل "، " إئْتِلا " سے ماخوذ ہے جو کہ " الیہ " سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ قسم کے آتے ہیں۔ اور جس کی جمع " الایا " آتی ہے۔ جیسے " سبحیۃ " کی جمع " سجایا "۔ روایات میں ہے کہ حضرت مسطح بن اثاثہ ؓ جو کہ حضرت ابوبکر صدیق ۔ ؓ ۔ کے رشتہ دار تھے اور ان کی محتاجی و ناداری کی وجہ سے حضرت صدیق اکبر ؓ ان کو خرچہ دیا کرتے تھے، قصہ افک کے موقع پر جب حضرت مسطح ؓ بھی کچھ دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کی طرح منافقین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس میں شریک ہوگئے تو حضرت صدیق اکبر۔ ؓ ۔ نے آپ ؓ کی مالی امداد بند کردی۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ تو آپ ؓ نے ان کی امداد پھر جاری فرما دی اور اس آیت کریمہ میں جو یہ ارشاد وارد ہے ۔ { اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ } ۔ " کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے ؟ " ۔ تو اس پر حضرت صدیق اکبر۔ ؓ ۔ نے فرمایا ۔ { بَلٰی وَاللّٰہِ نُحِبُّ اَنْ تَغْفِرَ لَنَا رَبَّنَا } ۔ " ہاں قسم بخدا ہم ضرور چاہتے ہیں کہ تو ہماری بخشش فرما دے اے ہمارے رب " ۔ سو اس ارشاد میں عفو و درگزر سے کام لینے کی تعلیم دی گئی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 24:2337 پاکدامن ایماندار عورتوں پر تہمت لگانا باعث لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ پاکدامن بھولی بھالی ایماندار عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر لعنت و پھٹکار ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں پر لعنت و پھٹکار ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دئے گئے۔ یہاں بھی اور وہاں بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پاکدامن بھولی بھالی ایماندار عورتوں پر تہمت لگانا ایسا سنگین جرم ہے کہ اس کے مرتکب نہ یہاں دنیا میں کوئی عزت و احترام پائیں گے نہ آخرت میں۔ دنیا میں تو عنقریب ہی ان کی جڑ کٹ کر رہے گی اور آخرت میں ان کیلئے عذاب عظیم مقرر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ پر عیب لگانے والے ان منافقین کی اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد جڑ کٹ کر رہ گئی اور ان کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوگیا ۔ والحمد للہ ۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار کا باعث اور موجب ہر عمل اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayahs 24:24–2538 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد رکھیں یہ لوگ اس یوم عظیم کو جس دن کہ ان کی اپنی زبانیں ان کیخلاف گواہی دیں گی "۔ یعنی اس روز ان کی زبانیں ان کے ارادئہ ومرضی کے مطابق نہیں بلکہ حق کے مطابق بولیں گی۔ اور سچ سچ حقیقت واقعہ بیان کردیں گی۔ جس کے بعد ان کے لئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی طرح ان کے ہاتھ پاؤں بھی انکے خلاف گواہی دیں گے۔ سو اس روز ان کے جرائم کے اثبات کیلئے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ خود انکے اندر کی یہ گواہیاں ان کے جرائم کے اثبات کیلئے کافی ہونگی۔ سو آج یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف جن سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں لگے ہوئے ہیں ان سے باز آجائیں اور اپنی روش کی اصلاح کرلیں ورنہ اپنے ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 24:2640 پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کیلئے : پس عائشہ صدیقہ ۔ ؓ و ارضاھا ۔ قطعی طور پر عفیفہ، پاک دامن اور طیبہ و طاہرہ ہیں۔ اور جو بہتان ان پر باندھا گیا ہے وہ سراسر جھوٹ اور افتراء ہے۔ کیونکہ آپ ؓ کا رشتہ زوجیت اس ذات اقدس سے وابستہ ہے جس جیسی پاکیزہ ہستی اللہ پاک کی پوری مخلوق میں نہ کوئی ہوئی، نہ ہوگی۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ پاکیزہ اخلاق عورتوں کا تعلق و لگاؤ پاکیزہ اخلاق مردوں ہی سے ہوسکتا ہے۔ اور خبیث عورتوں کا تعلق اور لگاؤ خبیث مردوں ہی کے ساتھ ہوگا اور اسی بنا پر کل قیامت کے اس یوم حساب میں جہاں پر۔ { وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ } ۔ کے مطابق نفوس کی درجہ بندی ہوگی۔ وہاں پاکیزہ عورتوں کا جوڑہ پاکیزہ مردوں سے اور خبیث عورتوں کا خبیث عورتوں مردوں سے قائم ہوگا ۔ اللہ ہمیشہ عفت و پاکبازی کی راہوں پر قائم رکھے ۔ آمین -
41 پاکیزہ لوگوں کی دشمنوں کی الزام تراشیوں سے براءت کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ پاک اور بری ہیں ان باتوں سے جو یہ بدبخت لوگ انکے بارے میں بناتے ہیں۔ ان کی پاکیزہ ہستیوں کو داغدار بنانے کے لئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ ان پاکیزہ ہستیوں کے بارے میں گندی باتیں بنانے اور پھیلانے سے ان کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے البتہ خود اپنے لیے محرومی اور عذاب کا سامان ضرور کرتے ہیں جس کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی براءت و نزاہت کو اور پکا اور منقح فرما دیا گیا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسی پاکیزہ صفات ہستیاں ان تمام خرافات اور بکواسات سے پاک اور بری ہیں جو بدطینت اور بدبخت لوگ ان کے خلاف بناتے اور پھیلاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
42 پاکیزہ لوگوں کے لیے بخشش کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا " ان کیلئے عظیم الشان بخشش بھی ہے "۔ یعنی ان کی ان چھوٹی موٹی کوتاہیوں اور لغزشوں پر جو ان سے بتقاضائے بشریت اس سے پہلے صادر ہوگئی ہوں گی ۔ سبحان اللہ ۔ جب صدق ایمان اور اخلاص عمل کی دولت نصیب ہو تو پھر کیا چاہیے۔ اور جب اس بناء پر ان کیلئے ایسی ایسی بشارتیں ہیں تو پھر انکے دشمن ان کا کیا بگاڑ سکیں گے ؟ اور یہ دو لفظ یعنی مغفرت و بخشش اور رزق کریم یعنی عمدہ اور عزت کی روزی دراصل آخرت کی تمام نعمتوں کی جامع تعبیر کے طور پر آتے ہیں جیسا کہ حضرات اہل علم نے اس کی تصریح و توضیح فرمائی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور علی وجہ التمام والکمال نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
43 اور ان کیلئے رزق کریم بھی ہے : یعنی جنت (تفسیر القاسمی وغیرہ) ۔ پس اس میں حضرت عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ کے جنتی ہونے کی بشارت ہے۔ یہاں تک واقعہ افک کا بیان پورا ہوگیا۔ اب اس کے بعد معاشرہ کی اصلاح سے متعلق بعض خاص احکام اور قواعد و ضوابط ارشاد فرمائے جاتے ہیں۔ تاکہ اس طرح اسلامی معاشرے سے ہر طرح کی برائیوں کا سد باب ہو سکے۔ بہرکیف پاکیزہ مردوں اور پاکیزہ عورتوں کا یہ جوڑا اگرچہ اس دنیا میں بھی موجود ہے لیکن اس کا کامل ظہور آخرت میں ہی ہوگا جبکہ نفوس کی درجہ بندی ایمان و عقائد اور اعمال و اخلاق کی بناء پر ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ } ۔ (تکویر : 7) ۔ سو ایمان صادق اور عمل صالح دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور اس درجے میں اور اس طور پر جو اس کو پسند ہو ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 24:2744 دوسروں کے گھر میں داخلے کی وقت سلام و استئذان کی ہدایت : سو اس ارشاد سے دوسروں کے گھروں کے اندر داخل ہونے کیلئے اجازت لینے اور سلام کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو اس میں اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم لوگ اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ تم اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو۔ یعنی تم تہذیب اور شائستہ طریقے سے اور یوں کہو " السلام علیکم اَدْخُلْ " " تم پر سلام ہو، کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ " اور یہ اجازت تین مرتبہ تک مانگے۔ اگر تین بار اجازت مانگنے پر بھی داخلے کی اجازت نہ ملے تو واپس ہوجائے اور داخلے کی یہ اجازت ہر گھر والا دوسرے گھر میں داخلے کے وقت مانگے۔ خواہ وہ گھر اپنی ماں یا بیٹی ہی کا گھر کیوں نہ ہو کہ استئذان کے مصالح اور حکمتوں کا تقاضا یہی ہے۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان، محاسن، صفوہ وغیرہ) ۔ سو اس طریقے کی پابندی میں سب کے لیے آرام و راحت کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق -