Al-Hajj 22:43

Al-Hajj · from ayah 43

22:43

وَقَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَقَوْمُ لُوْطٍ ۟ۙوَقَوۡمُ اِبۡرٰهِيۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the people of Abraham and the people of Lot

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 6 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:43

اور قوم ابراہیمؑ اور قوم لوطؑ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

— مولانا محمد جوناگڑہی

نیز ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور قومِ ابراہیم اور قومِ لوط نے (بھی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ابراہیم کی قوم نے اور لوط کی قوم نے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ابراہیم اور لوط کی قوم بھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی

— مولانا اسحاق مدنی

اور ابراہیم ؑ کی قوم اور لوط ؑ کی قوم بھی (رسولوں ؑ کی تکذیب کرچکی ہے)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and so too did the people of Abraham and the people of Lot;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the people of Ibrahim and the people of LuT (Lot),

— Muhammad Taqi Usmani

and the people of Ibrahim and the people of LuT (Lot),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the people of Ibrahim and the people of Lut,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the folk of Abraham and the folk of Lot;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the people of Abraham and the people of Lot

— Saheeh International

and the people of Abraham, Lot,

— Muhammad Sarwar

And the people of Ibrahim and the people of Lut,

— Muhammad Habib Shakir

And the people of Ibrahim and the people of Lut.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 22:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–46

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–45

خلاصہ تفسیر اور یہ (مجادلہ کرنے والے لوگ) اگر آپ کی تکذیب کرتے ہوں (تو آپ مغموم نہ ہوں کیونکہ ان لوگوں سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط اور اہل مدین بھی (اپنے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی) تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ ؑ کو بھی کاذب قرار دیا گیا (مگر تکذیب کے بعد) میں نے ان کافروں کو (چند روز) مہلت دی جیسے آج کے منکروں کو مہلت دے رکھی ہے پھر میں نے ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا ہوا۔ غرض کتنی بستیاں ہیں جن کو ہم نے (عذاب سے) ہلاک کیا جن کی یہ حالت تھی کہ وہ نافرمانی کرتی تھیں تو (اب ان کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں (یعنی ویران ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 42–44

آگے کا مضمون …… آیات 57-42 آیت 41 پر توضیحی آیات، جو بیچ میں بطور جملہ معترضہ آگئی تھیں، ختم ہوئیں۔ اب آگے کلام اپنے اصل سلسلہ سے پھر مربوط ہوگیا اور حضرات انبیائے کرام اور ان کے مکذبین کی تاریخ کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو تسلی دی گئی ہے کہ اطمینان رکھو، اللہ کا ہر وعدہ پورا ہو کے رہے گا اور اس کی ہر وعید شدنی ہے۔ اگر اس کے ظہور میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے تو یہ سنت الٰہی کے تحت ہو رہی ہے۔ اس طرح اللہ اپنے نیک بندوں کا امتحان اور ان کے مخلافین کو ڈھیل دے کر ان پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ لوگوں کے پاس آنکھیں ہوں تو اس سنت الٰہی کے آثار اس ملک میں قدم قدم پر موجود ہیں لیکن جن کے دلوں کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 42–44

44۔ 1 اس میں نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ نئی بات نہیں ہے پچھلی قومیں بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی کچھ کرتی رہی ہیں اور میں بھی انھیں مہلت دیتا رہا۔ پھر جب ان کا وقت مہلت ختم ہوگیا تو انھیں تباہ برباد کردیا گیا۔ اس میں تعریض وکنایہ ہے مشرکین مکہ کے لیے کہ تکذیب کے باوجود تم ابھی تک مؤاخذہ الہی سے بچے ہوئے ہو تو یہ نہ سمجھ لینا کہ ہمارا کوئی مؤاخذہ کرنے والا نہیں بلکہ یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے جو وہ ہر قوم کو دیا کرتا ہے لیکن اگر وہ اس اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار نہیں کرتی تو پھر اسے ہلاک یا مسلمانوں کے ذریعے سے مغلوب اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–47

26: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن اس آیت کو سمجھنے کے لیے اتنی تشریح کافی ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 42–44

درس نمبر 146 ایک نظر میں اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ نظریات ، عقائد اور ملت کے شعار کی مدافعت کے لئے جنگ کی اجازت ہے۔ جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کریں گے ان کو اللہ کی طرف سے پوری پوری نصرت بھی حاصل ہوگی۔ بشرطیکہ انہوں نے خود اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام حیات قائم کر رکھا ہو۔ جب یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی نصرت کے استحقاق کے لئے شرائط و فرائض کیا ہیں تو اب رسول اللہ ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ دست قدرت نے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی حمایت میں کام شروع کردیا ہے جس طرح آپ سے قبل آپ کے بھائی رسولوں کے حق میں دست قدرت نے کیا اور ہر دور میں مکذبین کو بڑی سختی سے پکڑا۔ نیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 42–44

3 جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ 4 یعنی مصر کے قبطیوں نے۔ 5 یعنی مسلمانوں کے غلبہ و نصرت کے جو وعدے کیے جا رہے ہیں، کفار اپنی موجودہ کثرت و قوت کو دیکھتے ہوئے ان کی تکذیب نہ کریں، یہ خدا کی ڈھیل ہے۔ پہلی قوموں نے بھی خدا کی چند روزہ ڈھیل سے دھوکہ کھا کر اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔ آخر جب پکڑے گئے تو دیکھ لو ان کا حشر کیسا ہوا۔ اور خدا نے اپنے عذاب سے ڈرا کر ان کی شرارتوں پر جو انکار فرمایا تھا وہ کس طرح سامنے آگیا۔ اگلی آیت میں اسی کی تفصیل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 41–43

آیت 41 اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ ” ”تمکن“ کا ذکر اس سے پہلے حضرت یوسف علیہ السلام کے حوالے سے سورة یوسف علیہ السلام کی آیت 21 اور 56 میں بھی آچکا ہے : وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِز ”اور اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کو زمین میں تمکن عطا کیا“۔ تو اپنے ان مؤمن بندوں کو اگر ہم کسی خطۂ زمین کا اختیار و اقتدار عطا کریں گے تو ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا ؟ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ” مؤمنین کو اگر کسی ملک پر حکومت کرنے کا اختیار ملے گا تو وہ اپنی پہلی ترجیح کے طور پر نماز کا نظام قائم کریں گے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی جمعہ کے قیام کا اہتمام فرمایا اور اقامت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 42–44

71 ان آیات میں ایک تو رسول اللہ ﷺ کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ کفار و مشرکین کے انکار، ضد، ہٹ دھرمی اور مخالفت کا واقعہ صرف آپ سے ہی پیش نہیں آیا بلکہ سب سابقہ انبیاء ایسے ہی حالات سے دو چار ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے مصائب پر صبر کیا تھا۔ لہذا آپ بھی صبر کیجئے۔ اور دوسرے یہاں ایک قانون بیان کیا جارہا ہے جو یہ ہے کہ انبیاء اس وقت مبعوث کئے جاتے ہیں۔ جب معاشرہ میں خاصا بگاڑ پیدا ہوچکا ہو۔ لوگ اللہ وحدہ کو بھول چکے ہوں۔ شرک کی وبا عام ہو۔ غریبوں اور کمزوروں کو ظلم و تشدد ہو رہا ہو۔ حکومت اور قیادت بڑے بڑوں کے ہاتھ میں ہو۔ ان حالات میں جب بنی آکر اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تو جن بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 42–44

79۔ یعنی آپ کی قوم جو آپ کے پیام کی اور آپ کی پیامبری کی تکذیب کررہی ہے۔ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں۔ سارے پیغمبروں کو یہی معاملہ اپنی قوم کی طرف سے پیش آتا رہا ہے۔ اور یہ تو محض تاریخ اپنا اعادہ کررہی ہے۔ نوح، عاد، ثمود، ابرھیم، لوط، مدین، موسیٰ ، ان سب حاشیے گزر چکے ہیں۔ 80۔ (یعنی وہ بڑی بڑی مہذب ومتمدن، پر قوت وپرشوکت، دولت وتمول والی قومیں تباہ وبے نشان ہی ہو کر رہیں۔ اور ان کے علوم وفنون، ان کی صناعی اور انجینئری، ان کی سپاہ اور ان کی خوش تدبیریاں کوئی بھی ہلاکت سے آڑے نہ آسکیں) (آیت) ” فاملیت “۔ عام سنت اللہ ہے یہی کی معاندوں، منکروں پر گرفت فی الفور نہیں ہوتی، بلکہ پہلے انہیں مہلت دی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–48

آیت نمبر 39 تا 48 ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقوم ابراہیم وقوم لوط۔ اور قوم ابراہیم (ابراہیم ( علیہ السلام) کو) اور قوم لوط (لوط کو)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 42–43

(42۔ 43) اور اے محمد ﷺ اگر یہ قریش آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح، نوح ؑ کی اور قوم ہود، ہود ؑ کی اور قوم صالح، صالح ؑ کی اور قوم ابراہیم، ابراہیم ؑ کی اور قوم لوط، لوط ؑ کی اور قوم شعیب بھی شعیب ؑ کی تکذیب کرچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 42–44

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ۔۔ : آیت کے شروع میں ”واؤ“ کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے اور وہ محذوف جملہ اور یہ مذکور جملہ دونوں ترغیب و ترہیب پر مشتمل پچھلی آیات کا حاصل بیان کر رہے ہیں۔ وہ جملہ یہ ہے : ”فَاِنْ آمِنُوْا بِکَ مَکَّنَّاھُمْ فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ یُّکَذِّبُوْکَ أَخَذْتُھُمْ“ ”پس اگر وہ (یہ سب کچھ سن کر) تجھ پر ایمان لے آئیں تو ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا۔“ پہلا جملہ سننے والے کی سمجھ کے سپرد کرکے حذف کردیا ہے اور ”وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ“ کا اس پر عطف ڈالا ہے۔ (بقاعی) قرآن مجید میں بعض مقامات پر اس حذف شدہ جملے جیسے جملے مذکور بھی ہیں،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–45

یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے یعنی آپ سے پہلے انبیاء بھی جھٹلائے گئے پس انہوں نے صبر کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا آپ ان کی اقتدار کریں اور صبر کریں۔ وکذب موسیٰ فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ علیہ اللسلام کو جھٹلایا رہے بنو اسرائیل تو انہوں نے آپ کو نہ جھٹلایا اسی وجہ سے اس کا ماقبل پر عطف نہیں کیا ورنہ ہوتا وقوم موسیٰ ، فاملیت للکفرین یعنی سزا کو ان سے مؤخر کیا گیا۔ ثم اخذتھم پھر میں نے انہیں سزا دی۔ فکیف کان نکیر۔ استفہام بمعنی تغیری ہے یعنی دیکھو کیسے میں نے ان نعمتوں کو عذاب اور ہلاک کے ساتھ بدلا تھا جن نعمتوں میں وہ تھے، اسی طرح میں قریش کے مکذبین کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–44

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین اخرجوا من دیارہم سے مراد ہے مکہ سے مدینہ کی طرف آیت بغیر حق، یعنی محمد ﷺ ا اور آپ کے اصحاب کو ہجرت پر مجبور کرنا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت آیت الذین اخرجو من دیرہم بغیر حق، ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور اس کے بعد ہم کو نکالا گیا ہمارے گھروں سے ناحق۔ پھر ہم کو اللہ تعالیٰ نے حکومت دی زمین میں (یعنی مدینہ منور میں) تو ہم نے نماز کو قائم کیا اور ہم نے زکوٰۃ کو ادا کیا۔ اور ہم نے نیکی کا حکم کیا اور برائی سے روکا تو یہ آیت میرے اور میرے اصحاب کے بارے میں ہے۔ 3۔ ابن جریر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَقَوْمُ اِبْرٰهِيْمَ : اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ] [ وَقَوْمُ لُوْطٍ : اور لوط (علیہ السلام) کی قوم ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–46

ہلاک شدہ بستیوں کی حالت اور مقام عبرت ان آیات میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں نے جھٹلا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد (جو حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور قوم ثمود (جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے لوگ (جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے) ان سب نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان حضرات نے صبر کیا اور دعوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–51

تسلیۂ رسالت مآب وتہدید کفار بر استعجال عذاب ووعدہ مغفرت و رزق کریم برائے اہل طاعت ووعید عذاب جحیم برائے اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ وان یکذبوک فقد کذبت قبلہم قوم نوح .... الیٰ .... اولئک اصحب الجحیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے جدال و قتال اور ان کی ایزاء رسانی کی بناء پر مسلمانوں کو جہاد قتال کی اجازت دی گئی اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کفار کی مخالفت اور تکذیب اور عداوت سے ملول نہ ہوں ہمیشہ سے عام انبیاء کی تکذیب ہوتی چلی آئی ہے اور کافروں نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا اور یہ کافر ملک شام کو جاتے ہوئے راستہ میں ان مقامات سے گزرتے ہیں جہاں ان پر عذاب نازل ہوا تھا پھر بھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–43

57:۔ ” وَ اِنْ یُّکَذِّبُوْکَ الخ “ اگر مشرکین مکہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور دلائل واضحہ اور حسن تبلیغ کے باوجود مسئلہ توحید کو نہیں مانتے تو آپ پریشان اور آزردٔ خاطر نہ ہوں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر موسیٰ (علیہ السلام) تک مشرکین کا حال ملاحظہ فرما لیجیے اس دوران میں جتنے بھی پیغمبر دنیا میں بھیجے گئے کفار و مشرکین نے ہمیشہ ان کی دعوت کو ٹھکرایا اوراقوال و افعال سے ان کو ہر قسم کی تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں۔ نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب موسیٰ اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) سے ان کی قوموں نے یہی سلوک کیا جو اس وقت آپ کی قوم آپ کے ساتھ کر رہی ہے یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کافروں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–45

ربط آیات : گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں بیت اللہ شریف کی تعمیرنو کا ذکر ہوا ، اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یہ کہ بیت اللہ کو زائرین کے لئے پاک صاف رکھا جائے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اعلان حج کا حکم بھی دیا اور پھر حج کے بعض احکامات اور قربانی کے مسائل بیان فرمائے۔ پھر ایمان داروں کے دفاع کی ذمہ داری اٹھائی گئی۔ پھر مظلوم مسلمانوں کو جنت کی اجازت دی گئی اور اللہ نے ان سے نصرت کا وعدہ فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا فلسفہ بھی بیان کیا کہ اگر وہ بعض ظالموں کو بعض دوسروں کے ذریعے دفع نہ کرتا تو دنیا میں اس قدر فتنہ و فساد برپا ہوتا کہ کوئی عبادت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَوْمُ اِبْرٰہِيْمَ وَقَوْمُ لُوْطٍ۝ 43ۙ لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط، فمن طریق الاشتقاق، فإنّه اشتقّ من لفظ لوط الناهي عن ذلک لا من لفظ المتعاطین له . ( ل و ط ) لوط ( حضرت لوط (علیہ السلام) ) یہ اسم علم ہے لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کی محبت دل میں جاگزیں اور پیوست ہوجانے کے ہیں ۔ حدیث میں ہے ۔ (115) الولد الوط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–48

مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–44

وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوْدُ ۔ لا وَ قَوْمُ اِبْرٰھِیْمَ وَقَوْمُ لُوْطٍ ۔ لا وَّاَصْحٰبُ مَدْیَنَ ج وَکُذِّبَ مُوْسٰی فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ ج فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ۔ (الحج : 42، 43، 44) ( اور اگر یہ کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں ( تو تعجب کی بات نہیں) پس جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود۔ اور قوم ابراہیم، قوم لوط۔ اور مدین کے لوگوں نے بھی۔ اور موسیٰ کی بھی تکذیب کی گئی۔ تو میں نے ان کافروں کو کچھ ڈھیل دی ( جب وہ باز نہ آئے) تو پھر میں نے انھیں پکڑ لیاتودیکھو کیسی ہوئی میری پھٹکار۔ ) آنحضرت ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور ” اللہ “ کے دیے ہوئے ضابطۂ حیات کو اختیار نہ کیا ان کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء اکرام کے ذریعے لوگوں کو ایک ضابطہ حیات عطا فرمایا جس کے بنیادی اصول یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے اپنا معبود اور حاکم تسلیم کریں اور اس کے دیے ہوئے نظام حیات کو خود اپناؤ اور اس کے بندوں پر اس کا نفاذ کریں۔ جس کے بنیادی اصولوں کا پچھلی آیت میں بیان ہوچکا ہے۔ کا مل اور جامع ہدایات کے باوجود دنیا کی بڑی بڑی اقوام نے اللہ کی توحید کا انکار کیا اور اس کے دئیے ہوئے ضابطہ حیات کو ٹھکرایا۔ جن میں سر فہرست قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سابقہ اقوام کے حالات سے عبرت پکڑو : 43: وَ قَوْمُ اِبْرٰھِیْمَ (اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) نے) ابراہیم (علیہ السلام) کو وَقَوْمُ لُوْطٍ (اور قوم لوط نے) لوط (علیہ السلام) کو

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 42–43

42۔ وان یکذبوک ، اگر آپ کو یہ جھٹلاتے ہیں ، فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد وثمود، آپ سے پہلے اقوام بھی اپنے انبیاء کو جھٹلاچ کی ہے اس لیے آپ اس وجہ سے غم نہ کھائیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 39–44

39۔ 44:۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو مشرکین مکہ صحابہ ؓ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اور صحابہ ؓ جب آنحضرت ﷺ سے ان تکالیف کا ذکر کرتے تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ صبر کرو مجھے ابھی لڑائی کا حکم خدا کی طرف سے نہیں ہے ‘ جس وقت مکہ سے ہجرت کا حکم آنحضرت کو ہوگیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو قرینہ سے معلوم ہوگیا کہ مشرکین مکہ پر اب کوئی وبال ضرور آئے گا اس لیے حضرت ابوبکر صدیق نے انا للہ پڑھی اور فرمایا ‘ قریش نے نبی وقت کو مکہ سے نکال دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–46

آیت 42 اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٓ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے (فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد وثمود۔ وقوم ابراہیم و قوم لوط۔ واصحب مدین وکذب موسی) ” بلاشبہ ان سے پہلے قوم نوح نے، عاد وثمود نے، قوم ابراہیم و قوم لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی۔ “ (فاملیت للکفرین) یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–52

تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 41–45

87 فریضہ نماز کی عظمت و اہمیت : سو اس سے معلوم ہوا کہ فریضہ ٔ نماز سب سے اہم فریضہ اور اولین عبادت ہے، اسی لیے زمین میں اقتدار ملنے کے بعد سب سے پہلی ذمہ داری اسی کے بارے میں عائد ہوتی ہے، اور یہ اللہ پاک کا ارشاد فرمودہ اور عائد کردہ ایک ایسا عظیم الشان فریضہ ہے جو کہ ایمان لانے کے بعد ایک مومن پر سب سے پہلے عائد ہوتا ہے، اور اس کی محافظت مومن کی اولین ذمہ داری، اور اس کے عقیدہ و ایمان کا بنیادی تقاضا ہے، اسی لئے حضرت عمر ؓ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد اپنے ولاۃ امور کو اس کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا، اَلَا اِنَّ اَہَمَّ اُمُوْرِکُمْ عِنْدِیْ الصَّلٰوۃُ فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–51

لڑائی کی اجازت تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–48

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ (جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ) اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 43–44

7 ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ 8 ۔ یا تو آرام و عزت کی زندگی گزار رہے تھے یا پھر ایسے تباہ ہوئے کہ نام و نشان تک مٹ گیا۔ ’ نکیر ‘(جس کا ترجمہ پلٹنے سے کیا گیا ہے) کا پورا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کی بری روش کو ناپسند کرتے ہوئے اس کی خوشالی کو بدحالی سے بدل ڈالا جائے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 42–44

(22:42 تا 44) ان یکذبون۔ میں ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔ اے رسول اللہ ﷺ ۔ اگر کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں (تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ جواب شرط محذوف ہے) فائدہ :۔ ان آیات کی مندرجہ ذیل توضیحات قابل ذکر ہیں ! (1) ان یکذبوک۔ جملہ شرطیہ ہے لیکن جواب شرط محذوف ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ ّ (2) عاد اور ثمود کے ساتھ لفظ قوم نہیں آیا کیونکہ یہ قومیں ان ناموں کے ساتھ مشہور ہیں اس لئے قوم ہود یا قوم صالح نہیں کیا۔ اسی طرح اصحاب مدین کے ساتھ ان کے پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر نہیں ہوا۔ (3) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں کذب فعل مجہول لا کر بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–48

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 48 : کذبت (جھٹلایا گیا) ‘ املیت (میں نے مہلت۔ میں نے ڈھیل دی) ‘ نکیر (میرا ) انکار ‘ کأین (کتنی ہی) ‘ قریۃ (آبادی۔ بستی) خاویۃ (گرنے والی) ‘ عروش (عرش) (چھتیں) ‘ بئر (کنواں) ‘ معطلۃ (بےکار) ‘ قصر (محل) ‘ مشید (چونے سے بنائی گئی مضبوط عمارت) ‘ لم یسیروا (وہ نہ چلے) ‘ لاتعمی (اندھی نہیں ہوتی) ‘ الصدور (صدر) (سینہ) ‘ یستعجلون (وہ جلدی کررہے ہیں) ‘ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا) ‘ الف سنۃ (ایک ہزار سال) ‘ تعدون (تم گنتے ہو شمار کرتے ہو) ‘ الی (میری طرف) ‘ المصیر (ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ تشریح آیات نمبر 42 تا 48 : آپ نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ کفار و مشرکین نبی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–44

جہاد کا حکم۔ مہاجرین کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : کفار مکہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کو روز مرہ ہاتھ اور زبان سے شدید تکلفیں دیتے اور آزار پہنچاتے رہتے تھے اور صحابہ نبی ﷺ کے پاس اسحال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سرپھٹا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے کسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے روزمرہ اس قسم کی شکایتیں حضور کی خدمت میں پہنچتی تھی اور اصحاب کرام کفار کے مظالم کی نبی ﷺ کے دربار میں فریاد کرتے نبی ﷺ یہ فرمایا کرتے کہ صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے جب نبی ﷺ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ ان پر بہت ظلم کیا گیا ہے اللہ ان کی مدد فرمائے گا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–46

[36] ادبی زبان میں احساسات، جذبات، خیالات، بلکہ قریب قریب تمام ہی افعال دماغ، سینے اور دل ہی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں حتیٰ کہ کسی چیز کے '' یاد ہونے '' کو بھی یوں کہتے ہیں کہ وہ تو میرے سینے میں محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–45

(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قانون کی وضاحت فرمائی ہے کہ باطل کو زیادہ دیر تک قیام نہیں ہوتا ، ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑ کے اور معاندین کو باوجود ان کی قوت و شوکت کے صفحہ ہستی سے ہٹا دیا جائے ۔ ارشاد ہے کہ مکذبین اور حق کو جھٹلانے والے تاریخ کے صفحات کو الٹ کر دیکھیں ، ٹوٹے ہوئے مقامات ملاحظہ کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ تکذیب رسل کا انجام کتنا ہولناک ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–44

ف 6۔ پس مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر یہ کیونکر کوئی کہہ سکتا ہے کہ انجام بھی ان کا یہی رہے گا، بلکہ ممکن ہے کہ اس کا عکس ہوجاوے چناچہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم ابراہیم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اور قوم لوط نے لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا : 43۔ اور اسی طرح قوم ابراہیم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اور قوم لوط نے لوط (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا تھا اور ان ساری اقوام کا ذکر آپ پیچھے بہت تفصیل سے پڑھ چکے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ان کے مفصل بیانات اور ان انبیاء کرام کی دعوتوں کا ذکر گزر چکا ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی اس لئے کیا گیا کہ مکہ کے لوگ اس وقت بھی اپنے آپ کو ابراہیمی کہلاتے تھے حالانکہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم کو مکمل طور پر بھلا کر ایک نئی شکل اختیار کرلی گئی تھی تاہم نام وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–45

Qur’ anic prophecy about the Rightly Guided Caliphs ( خُلفأے راشدین ) and its fulfillment الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ (Those who, when We give them power in the land - 22:41) In this verse the word (those) refers to those people who have been mentioned in the preceding verse: الَّذِينَ أُخْرِ‌جُوا مِن دِيَارِ‌هِم بِغَيْرِ‌ حَقٍّ (Those are the ones who were expelled from their homes without any just reason - 22:40). Referring to such people the verse says that if they are placed in authority in this world, they will use it to promote good deeds, will set up prayers, pay the…

Read the full tafseer →