Explained with ayahs 19–22
مومن و کافر کی مثال۔
حضرت ابوذر ؓ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دوساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ (بخاری ومسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لئے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا حضرت قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ ؓ اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید۔ اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
سورة الْحَجّ 36
یہاں خدا کے بارے میں جھگڑا کرنے والے تمام گروہوں کو ان کی کثرت کے باوجود دو فریقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایک فریق وہ جو انبیاء کی بات مان کر خدا کی صحیح بندگی اختیار کرتا ہے۔ دوسرا وہ جو ان کی بات نہیں مانتا ور کفر کی راہ اختیار کرتا ہے خواہ اس کے اندر آپس میں کتنے ہی اختلافات ہوں اور اس کے کفر نے کتنی ہی مختلف صورتیں اختیار کرلی ہوں۔
سورة الْحَجّ 37
مستقبل میں جس چیز کا پیش آنا بالکل قطعی اور یقینی ہو اس کو زور دینے کے لیے اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ گویا وہ پیش آچکی ہے۔ آگ کے کپڑوں سے مراد غالباً وہی چیز ہے جسے سورة ابراہیم آیت 50 میں سَرَابِیْلُھُمْ مِنْ قَطِرَانٍ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
خلاصہ تفسیر
(جن کا ذکر اوپر آیت اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا میں ہوا ہے) یہ دو فریق ہیں (ایک مومن دوسرا کافر۔ پھر کافر گروہ کی کئی قسمیں ہیں۔ یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور بت پرست) جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں (اعتقاد اور کبھی کبھی مباحثةً بھی) باہم اختلاف کیا (اس اختلاف کا فیصلہ قیامت میں اس طرح ہوگا کہ) جو لوگ کافر تھے ان کے (پہننے کے لئے) آگ کے کپڑے قطع کئے جاویں گے (یعنی آگ ان کے پورے بدن پر اس طرح محیط ہوگی جیسے لباس، اور ان کے سر کے اوپر سے تیز گرم پانی چھوڑا جاوے گا جس سے ان کے پیٹ کی چیزیں (یعنی آنتیں) اور کھالیں سب گل جاویں گی، (یعنی یہ کھولتا ہوا تیز پانی کچھ پیٹ کے اندر چلا جاوے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
آیت (23-19)
دونوں گروہوں کے نبی ﷺ کی تفصیل ایک سوال اور اس کا جواب
اب یہ ان دونوں فریقوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جن کا ذکر اوپر آیت 17 میں گزرا وہاں صرف اس قدر اشارہ فرمایا تھا کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ان کے انجام کی تفصیل اس آیت میں بیان نہیں ہوئی تھی۔ ان آیات میں ان کے انجام کی تفصیل آرہی ہے۔
آیت 17 میں کئی گروہوں کا ذکر ہے اور یہاں ھذن خصمن کے الفاظ ہیں۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس آیت میں انہی گروہوں کی طرف اشارہ ہے تو ان کے لئے مثنیٰ کا صیغہ کیوں استعمال ہوا۔ جمع کا صیغہ کیوں نہیں استعمال ہوا ؟ اساتذ امام ؒ کا رجحان کلام عرب کی روشنی میں اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
22۔ 1 اس میں جہنمیوں کے عذاب کی کچھ تفصیل بیان کی گئی ہے جو انھیں وہاں بھگتنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
12: مسجد حرام اور اس کے آس پاس کے وہ مقامات جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں، مثلا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جگہ، منی، عرفات اور مزدلفہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں، بلکہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے وقف عام ہیں، اور ان کو عبادت کے لیے استعمال کرنے میں مقامی باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔
13: ٹیڑھی راہ نکالنے سے مراد کفر و شرک حرم کے احکام کی خلاف ورزی، بلکہ ہر قسم کا گناہ ہے۔ حرم میں جس طرح ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی طرح بعض صحابہ کرام سے منقول ہے کہ یہاں گناہوں کا وبال بھی دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
ھذن خصمن ……فیھا حریر (23)
یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔
آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
6 دوزخیوں کے سر ہتھوڑے سے کچل کر کھولتا ہوا پانی اوپر سے ڈالا جائے گا جو دماغ کے راستہ سے پیٹ میں پہنچے گا جس سے سب انتڑی اوجھڑی کٹ کٹ کر نکل پڑے گی اور بدن کی بالائی سطح کو جب پانی مس کرے گا تو بدن کا چمڑا گل کر گرپڑے گا۔ پھر اصلی حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے اور بار بار یہ ہی عمل ہوتا رہے گا۔ (كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ) 4 ۔ النسآء :56) اللّٰہم اعذنا من غضبک و عذابک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
آیت 19 ہٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّہِمْز ”
یہ سورت چونکہ رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی ‘ اس لیے ان گروہوں سے مکہ کے دو گروہ مراد ہیں۔ یعنی ایک مؤمنین کا گروہ جو حضور ﷺ پر ایمان لا چکا تھا اور دوسرا وہ گروہ جو اب تک آپ ﷺ کی مخالفت پر اڑا ہوا تھا۔ قبل ازیں آیت 11 کے ضمن میں وضاحت کی جا چکی ہے کہ سورة الحج مکی سورت ہے ‘ البتہ اس کی کچھ آیات ایسی ہیں جو سفر ہجرت کے دوران نازل ہوئیں تھیں۔
فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ط ”
کپڑے کو قطع کرنے کا ذکر کر کے لباس تیار کرنے کے عمل کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ یعنی جس طرح درزی پہلے مطلوبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
28 عہد نبوی میں یہ رواج عام تھا کہ شاہان وقت اور بڑے بڑے رئیس لوگ سونے اور جواہرات کے مرصلے زیور پہنتے تھے۔ حتیٰ کہ ہمارے زمانہ میں بھی ہندوستان کے مہاراجے اور نواب ایسے زیور اور ریشمی لباس پہنتے ہیں۔ یہاں یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اہل جنت کو وہاں ہر وہ راحت آرام اور عیش و عشرت حاصل ہوگی جس کا کوئی انسان تصور کرسکتا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کی حقیقت کو سمجھنا بھی اس وقت ناممکن ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسی ہوں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے آج تک دیکھا، نہ کانوں نے سنا۔ حتیٰ کہ کسی کے دل میں ان کا خیال تک بھی نہیں آسکتا (مسلم۔ کتاب الجنہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
28۔ (ہمیشہ کے لئے اور تمہیں کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا) یہ فرشتے اہل دوزخ سے کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…
Read the full tafseer →ولہم مقامع من حدید۔ اور ان (کو کوٹنے) کے لئے (مخصوص طور پر) لوہے کے گزر ہوں گے۔
مقامع مقمعۃ کی جمع ہے مقمعۃ حقیقت میں اس آلہ کو کہتے جس کی سخت ضرب کی وجہ سے کسی چیز کو روکا جائے۔ لیث نے کہا مقمعۃ گرز کو کہتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے یہ لفظ قَمَعْتُ رَاْسَہٗکے محاورے سے ماخوذ ہے۔ قمعتُمیں نے سخت ضرب رسید کی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا ‘ دوزخیوں کو گزروں سے مارا جائے گا اور گزر کی ضرب مستقل طور پر ہر عضو پر پڑے گی اور (ہر ضرب پر) وہ موت کو پکاریں گے۔
ابویعلیٰ ‘ ابن ابی حاتم ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوہے کا وہ گرز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19۔ 20۔ 21) یہ دو دین والے فرقے ہیں یعنی مسلمان اور یہود و نصاری جنہوں نے اپنے پروردگار کے دین کے بارے میں اختلاف کیا ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین سے زیادہ واقف ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے انکے درمیان اس طرح فیصلہ فرما دیا کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے منکر تھے یعنی یہود و نصاری ان کے لیے آگ کے کرتے اور جبے تیار کیے جائیں گے اور ان کے سر کے اوپر سے تیز کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا۔
اس سے ان کے پیٹ کی چربی اور کھال وغیرہ سب گھل جائے گی اور ان کے مارنے کے لیے لوہے کے گرم گزر ہوں گے۔
شان نزول : (آیت) ھذان خصمن“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حضرت ابوذر ؓ سے…
Read the full tafseer →وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ : ”مَّقَامِعُ“ ”مِقْمَعٌ“ کی جمع ہے، ہتھوڑے۔
Read the full tafseer →وَلَھُمْ مَّقَامِعُ (اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہتھوڑے ہونگے) خاص قسم کے کوڑے مِنْ حَدِیْدٍ (لوہے کے) جس سے ان کو ماریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
1۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت، میں سجود سے مراد ہے ان سب چیزوں کا سایہ۔ آیت وکثیر من الناس، یعنی ایمان والے لوگ، آیت وکثیر حق علیہ العذاب اور اس سے مراد کافر کے سایہ کا سجود ہے۔ حالانکہ وہ خود اس کو ناپسند کرتا ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کا سجدہ اس کا مطلب سایہ ہے۔ اور پہاڑوں کا سجدہ ان کا سایہ ہے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم روایت کیا کہ کپڑے سجدہ کرتے ہیں۔
4۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ جو کچھ آسمان میں ہے سورج، چاند…
Read the full tafseer →[ وَلَهُمْ : اور ان کے لئے ] [ مَّقَامِعُ : ہتھوڑے ہیں ] [ مِنْ حَدِيْدٍ : لوہے میں سے ]
ق م ع
[ قَمْعًا : (ف) کسی چیز کو کوٹنا۔ ذلیل کرنا۔
مِقْمَعٌ ج مَقَامِعُ ۔ کوٹنے کا آلہ۔ ہتھوڑا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 21
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
دوزخ میں کافروں کی سزا، آگ کے کپڑے پہننا سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جانا، لوہے کے ہتھوڑوں سے پٹائی ہونا
دو فریق یعنی مومنین اور کافرین نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا یعنی ایک جماعت وہ ہے جو اہل ایمان کی ہے اور ایک جماعت اہل کفر کی ہے دونوں جماعتوں میں اختلاف ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے آپس میں جنگ بھی ہے جھگڑے بھی ہیں اور قتل و قتال بھی۔ دونوں جماعتوں کی باہمی دشمنی کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے مومنین تو اللہ تعالیٰ کے لیے لڑتے ہیں مشرکین اور کافرین جو کسی درجہ میں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور مالکیت کا اقرار کرتے ہیں وہ بھی اپنے خیال میں اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے لڑتے ہیں، کیونکہ وہ بھی اپنے دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
بیان فیصلہ اختلاف ملل و امم در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادوا .... الیٰ .... الی صراط الحمید۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کا دین اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ اختلاف کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگ مختلف ہیں۔ ہر شخص اپنے کو حق اور ہدایت پر بتلاتا ہے اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس دن اہل حق کو عزت اور کرامت حاصل ہوگی اور اہل باطل کو ذلت اور اہانت ملے گی اور اس دن معلوم ہوجائیگا کہ عزت و ذلت کی مالک کون ذات ہے کہ جس کو تمام آسمان اور زمین کی چیزیں آفتاب و ماہتاب اور شجر و حجر سب سجدہ کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ (1) قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
31:۔ ” ھٰذَانِ خَصْمَانِ الخ “۔ جھگڑنے والے دو فریقوں سے مراد مومن اور کافر ہیں یعنی دلائل وبراہین سے مسئلہ توحید کے اس قدر واضح ہوجانے کے باوجود مشرکین مسلمانوں سے اپنے پروردگار کی توحید میں جھگڑتے ہیں حالانکہ یہ مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہوچکا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق ومالک اور پروردگار مانتے ہیں تو پھر اس کی صفات کارساز میں کیوں غیروں کو شریک کرتے ہیں۔
32:۔ ” فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ تا ” ذُوْقُوْا عَذاَبَ الْحَرِیْق “ یہ تخویف اخروی ہے اللہ کی توحید میں مومنوں کے ساتھ جھگڑا کرنے والے فریق کا اخروی انجام یہ ہوگا کہ جہنم میں ان کو آگ کا لباس پہنایا جائیگا اور اوپر سے ان کے سروں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ربط آیات :
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پائے جانے والے مختلف مذاہب مثلاً یہودی ، صابی ، نصاریٰ ، مجوسی ، مشرک اور اہل ایمان کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان میں سے صرف اہل ایمان ہی کامیاب ہوں گے جب کہ باقی سارے گروہ گمراہ ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ کریگا۔ تمام گمراہ فرقوں کو اس دن اپنی غلطی کا احساس ہوگا جب کہ ان کے عقیدے اور عمل کا صلہ ان کے سامنے آئے گا۔ اس دن سب کو پتہ چل جائے گا کہ دنیا میں اہل ایمان ہی حق پر تھے جو اللہ کی وحدانیت کو مانتے تھے ، اسی کی عبادت کرتے تھے۔ اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔
خدا تعالیٰ کے لئے سجدہ ریزی :
اب آج کی پہلی آیت…
Read the full tafseer →وَلَہُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ 21
قمع
قال تعالی: وَلَهُمْ مَقامِعُ مِنْ حَدِيدٍ [ الحج/ 21] جمع مِقْمَعٍ ، وهو ما يضرب به ويذلّل، ولذلک يقال : قَمَعْتُهُ فَانْقَمَعَ ، أي : کففته فكفّ ، والْقَمْعُ والقَمَعُ : ما يصبّ به الشیء فيمنع من أن يسيل . وفي الحدیث : «ويل لِأَقْمَاعِ القول» «2» أي : الذین يجعلون آذانهم كالأقماع فيتّبعون أحادیث الناس، والقَمَعُ : الذّباب الأزرق لکونه مَقْمُوعاً ، وتَقَمَّعَ الحمار : إذا ذبّ القَمَعَةُ عن نفسه .
( ق م ع ) المقامع ( مفرد مقمع ہتھوڑے قرآن پاک میں ہے : ۔ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفادِعَ وَالدَّمَ [ الأعراف/ 133] اور ان ( کے مارنے ٹھوکنے ) کے لئے لوہے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
(ف) بخاری و مسلم وغیرہما نے ابوذر سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت حمزہ و عبیدہ و علی ؓ کے اور عتبہ کے حق میں نازل ہوئی جبکہ بدر کے روز یہ دونوں فریق لڑکے کو میدان جنگ میں صف سے نکل کر لڑے اور حاکم نے بھی حضرت علی ؓ سے یوں ہی نقل کیا ہے کہ یہ آیت ہمارے حق اور ہمارے مقابل بازوں کے حق میں نازل ہوئی ہے مراد یہ کہ اس کے ہم یہی مصداق ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ ز فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ط یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُئُ وْسِہِمُ الْحَمِیْمُ ۔ یُصْھَرُبِہٖ مَا فِیْ بُطُوْنِہِمْ وَالْجُلُوْدُ ۔ وَلَھُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ ۔ کُلَّمَآ اَرَادُوْآ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْھَا ق وَذُوْقُوْا عَذابَ الْحَرِیْقِ ۔ (الحج : 19 تا 22)
(یہ دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ان میں سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے لباس تراشے جائیں گے۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ اس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے سب گل جائے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
فہم القرآن
ربط کلام : عزت، ذلّت اور ہر قسم کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر پھر بھی لوگ اس کے سوا دوسروں کے سامنے جھکنے اور انہیں ” اللہ “ کی ذات اور صفات میں شریک کرتے اور ان کے حق میں جھگڑتے ہیں، ایسے لوگوں کو آگ کا لباس اور جہنم کا کھولتا ہوا پانی ان کے سروں پر ڈالا جائے گا۔
کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالق ومالک کی تابعداری اور اس کی حمد وثنا میں لگا ہوا ہے۔ مگر انسانوں میں کثیر تعداد ایسی ہے جو نہ صرف اپنے رب کے نافرمان اور ناقدر دان ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں کچھ ان میں ذات کبریا کے منکر ہیں اور کچھ نے اس کی صفات میں دوسروں کو دخیل کر…
Read the full tafseer →21: وَلَھُمْ مَّقَامِعُ (اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہتھوڑے ہونگے) خاص قسم کے کوڑے مِنْ حَدِیْدٍ (لوہے کے) جس سے ان کو ماریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21۔ کلماارادو ان یخرجوا، ،، جب بھی وہ آگ سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو دوبارہ اس غم و تکلیف میں لوٹا دیے جائیں گے۔ اعیدوفیھا، ان کو گرزو کے ذریعے واپس لوٹایاجائے گا۔ تفسیر میں ہے کہ جہنم میں گروہ درگروہ داخل ہوں گے وہ آگ ان کو اوپر سے ڈھانپ دے گی۔ وہ اس سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔ ان کو لوہے کے گرزوں کے ساتھ ماراجائے گا، تو وہ سترسال زمین میں دھنستاچلاجائے گا۔ وذوقواعذاب الحریق، ان کو فرشتے کہیں گے اب چکھومزہ آگ کا تم جلتے رہو دردناک عذاب اور دردناک تکلیف کے ساتھ۔ زجاج نے کہا یہاں تک ایک فریق کا ذکر تھا دوسرے فریق کا تذکرہ اگلی حدیث کے ذیل میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
19۔ 24:۔ صحیحین ابوداؤد ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت علی ؓ اور ابوذر ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور شیبہ کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک انصاری جوان نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش کے لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور عبیدہ بن حارث ان ان تینوں کو مشرکوں کے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً اہل ایمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لئے فرمایا : (ان اللہ علی کل شیء شہید) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ھذن خصمن اختصموا فی ربھم) ” یہ دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
مکہ مکرمہ کی اراضی کا حکم اور اس کے مکانات کو اجارے پر دینے کا بیان
قول باری ہے (والمسجد الحرام الذی جعلنا لا للناس سواء ن العاکف فیہ والباد اور اس مسجد حرام کی زیارت میں بھی مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے بنایا ہے جسمیں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں) اسماعیل بن مہاجر نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ کا ارشاد ہے (مکۃ مناخ لاتباع ربا عھا ولد تو اجر بیو تھا مکہ مکرمہ اونٹوں کے بٹھانے کی جگہ ہے یعنی لوگوں کے قیام کا مقام ہے اس کے قطعات اراضی نہ فروخت کئے جائیں اور نہ ہی اس کے مکانات کو اجاڑے پر دیا جائے گا یعنی کرائے پر چڑھایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
48 کافروں کے عذاب کی شدت اور ہولناکی کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پگھل پگھل جائے گا وہ سب کچھ جو کہ ان کے پیٹوں کے اندر ہوگا اور ان کی کھالیں بھی "۔ اور جلنے اور پگھلنے کے بعد یہ سب کچھ دوبارہ اسی طرح ہوجائے گا اور اس طرح ان کو ملنے والا یہ عذاب مسلسل جاری رہے گا۔ یعنی ایسا نہ ہوگا کہ آگ سے جل کر یہ ختم ہوجائیں اور جان چھوٹ جائے۔ جیسا کہ دنیا میں آگ سے جلنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ بلکہ وہاں وہ جلتے ہی رہیں گے اور مرنے بھی نہیں پائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { لَا یَقْضٰی عَلَیْھِمْ فَیَمُوْتَوْا وَلَا یَخَفّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِہَا } ۔ (فاطر : 36) ۔ بلکہ اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
آخرت میں عذاب کا نقشہ
تشریح : ان دو گروہوں کا ذکر ہے ایک مومن اور دوسرا کافر۔ تو کفار کے لیے جو نقشہ عذاب کا کھینچا گیا ہے جو ان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر دیا جائے گا واقعی رونگٹے کھڑے کرنے والا عذاب ہوگا۔ اللہ کبھی نہ دکھائے اور ہمیشہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ دوسرا گروہ جو مومن ہے اس کے انعامات کا ذکر یوں کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 5 ۔ گزشتہ زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس زینت اور اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لئے کنگن اور موتی پہنا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اہل ایمان کو جنت میں شاہانہ لباس پہنچایا جائے گا۔
6 ۔ حریر سے مراد خالص ریشم ہے جس کا استعمال مردوں کے لئے دنیا میں حرام ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا اسے وہ آخرت میں نہ پہنایا جائے گا “ اس بارے میں اور بھی کئی احادیث ثابت ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(22:20) یصھر۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب صھر مصدر (باب فتح) پگھلادیا جائے گا۔ گلا دیا جائے گا۔ صھر گرم چیز۔ صھر رشتہ داری۔ اپنائیت ۔ خسر الی رشتہ دار اصھار (افعال) داماد بنانا۔ نکاح یا نسب کے ساتھ ملا لینا۔ مصاھرۃ دامادی اور سمدھیانہ۔ فجعلہ نسبا وصھرا۔ پھر اس کو خاندان والا۔ سسرال والا بنایا۔
الجلود۔ جلد کی جمع۔ کھالیں ۔ چمڑے۔ ای وتصھر بہ الجلود اور گل جائیں گے ان کے چمڑے ۔ ان کی کھالیں۔ الف لام قائم مقام اضافت ہے۔ ای جلودہم۔ مقامع۔ مقمع کی جمع۔ اسم آلہ۔ گرز۔ ہتھوڑے۔ مقمع ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے۔ جس سے پیٹ پیٹ کر کسی کو مطیع اور مقہور کیا جائے۔ اسی سے ہے قمعتہ فانقمع (باب انفعال) میں نے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 :
ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
مسلمانوں اور مشرکوں کا جھگڑا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔
(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ حضڑت ابوذرغفاری سے منقول ہے کہ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ آیت چھ آدمیوں کی شان میں ہے جو کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک جوان انصار نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا، انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر نبی ﷺ نے امیر حمزہ عنہ اور حضرت علی اور عبیدہ بن حارث عنہ کو ان تینوں مشرکوں کے مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
[16] مراد ہے کلمہ طیبہ۔
[17] یعنی اسلام کی راہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
بیت اللہ کی حرمت :
(ف 1) کفار اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ صادر فرمانے کے بعد اب بیت اللہ کی عزت و حرمت کا بیان ہے ، بتایا ہے کہ یہ لوگ کس درجہ محروم اور قسی القارب ہیں ، کہ مسلمانوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، اور بیت اللہ تک جانے نہیں دیتے ، تاکہ مسلمان آزادانہ اپنے مناسک ادا کرسکیں ،
بات یہ تھی کہ حضور ﷺ سال حدیبیہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے ، تاکہ وہاں پہنچ کر کھلے بندوں اپنی عقیدت ونیاز مندی کا اظہار کریں ، مگر مکہ والوں نے حدیبیہ کے مقام میں حضور ﷺ کو روک لیا ، اور آگے نہ بڑھنے دیا ۔
قرآن حکیم نے ان کے اس فعل کی مذمت فرمائی ہے اور کہا ہے کہ بیت اللہ…
Read the full tafseer →(21) اور ان منکروں کو مارنے کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ف 9۔ باوجود تمام مخلوقات کے منقاد ہونے کے آدمی جو خاص درجہ کی عقل رکھتا ہے ان میں سب منقاد نہیں۔
Read the full tafseer →دوزخیوں کی سرکوبی کے لئے وہاں ہتھوڑے بھی استعمال کئے جائیں گے :
21۔ دوزخ کو ہم نے گزشتہ کئی ایک مقامات پر چوہوں کے پنجرہ سے تشبیہہ دی ہے جو محض اس لئے دی تھی کہ پنجرہ میں چوہا خود داخل ہوجاتا ہے اور نہایت آسانی کے ساتھ داخل ہوجاتا ہے لیکن وہ سوجتن کرے تو واپس نہیں نکل سکتا اور یہی حال دوزخیوں کا ہے کہ وہ داخل ہوتے وقت تو کتنی آسانی کے ساتھ داخل ہوتے جا رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن جب وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو قطعا نہیں نکل پائیں گے عذاب تو یہ بھی کم نہیں تھا لیکن ان کے عذاب میں مزید اضافہ اس طرح ہوگا کہ جب وہ نکلنے کی کوشش میں سر اوپر کریں گے تو اوپر سے ان پر لوہے کے ہتھوڑے یا گرز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
Commentary
هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا (These are two opponents who have disputed about their Lord - 22:19). This verse, with its general words, deals with two sets of people, namely the Muslims and the infidels whether they belong to the earliest times or to later ages. However, the particular event in the background of which it was revealed about two groups of men who faced each other in combat on the battleground of Badr. Sayyidna Hamzah and ` Ubaidah ؓ stepped out of the Muslim ranks, whereas ` Utbah bin Rabi'ah, his son Walid and his brother Shaibah came out to challenge them. In the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
36. Here all the disputants about Allah have been divided into two main categories in spite of their large numbers.
(1) Those who believe in the message of the Prophets and adopt the righteous way of life.
(2) Those who reject their message and follow different ways of disbelief, though they may have countless differences and disputes among themselves.
37. See (Ayat 50 and E.N. 58 of Surah Ibrahim) for explanation.
Read the full tafseer →