Explained with ayahs 95–97
یافت کی اولاد
ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ حضرت نوح ؑ کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہوجائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں حدب کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 93
یاجوج و ماجوج کی تشریح سورة کہف حاشیہ 62، 69 میں کی جاچکی ہے۔ ان کے کھول دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گے کہ جیسے کوئی شکاری درندہ یکایک پنجرے یا بندھن سے چھوڑ دیا گیا ہو۔ " وعدہ حق پورا ہونے کا وقت قریب آ لگے گا " کا اشارہ صاف طور پر اس طرف ہے کہ یاجوج و ماجوج کی یہ عالمگیر یورش آخری زمانہ میں ہوگی اور اس کے بعد جلدی ہی قیامت آجائے گی۔ نبی ﷺ کا وہ ارشاد اس معنی کو اور زیادہ کھول دیتا ہے جو مسلم نے حذیفہ بن اسید الغفاری کی روایت سے نقل کیا ہے کہ " قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس علامتیں نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض، مغرب سے سورج کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ ، لفظ حَتّٰٓي سابق مضمون پر تفریع و ترتیب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آیت سابقہ میں یہ کہا گیا تھا کہ جو لوگ کفر پر مر چکے ہیں ان کا دوبارہ دنیا میں زندہ ہو کر لوٹنا ناممکن ہے اس عدم امکان کی انتہا یہ بتلائی گئی کہ دوبارہ زندہ ہو کر لوٹنا ناممکن اس وقت تک ہے جب تک کہ یہ واقعہ یاجوج ماجوج کا پیش نہ آجائے جو قیامت کی قریبی علامت ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ ہم چند صحابہ ایک روز آپس میں کچھ مذاکرہ کر رہے تھے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، دریافت فرمایا کہ کیا مذاکرہ تمہارے درمیان جاری ہے ہم نے عرض کیا…
Read the full tafseer →حتی اذا فتحت یا جرج وماجوج وھم من کل حدب ینسلون (96)
ان سے پہلے کوئی قوم بھی جو ہلاکت کی زد میں آئی ایمان لانے الی نہ بنی تو کیا ان سے توقع رکھتے ہو کہ یہ ایمان لانے والے بنیں گے !
یاجوج وماجوج کا غلبہ آثار قیامت میں سے ہے
یاجوھ ماجوج پر مفصل بحث سورة کہف کی آیات 99-98 کے تحت گزر چکی ہے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہور قیامت کے وقت یاجوج، ماجوج ہر طرف سے پل پڑیں گے اور ساری دنیا فساد سے بھرجائے گی۔ اس کی صورت کیا ہوگی ؟ یہ چیز متشابہات میں سے ہے اور متشابہات کی اصل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے۔ یہاں مقصود اس کے ذکر سے صرف یہ دکھانا ہے کہ آج جو لوگ قرآن پر ایمان لانے کے لئے مختلف…
Read the full tafseer →96۔ 1 یاجوج ماجوج کی ضروری تفصیل سورة کہف کے آخر میں گزر چکی ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی موجودگی میں قیامت کے قریب ان کا ظہور ہوگا اور اتنی تیزی اور کثرت سے یہ ہر طرف پھیل جائیں گے کہ ہر اونچی جگہ یہ دوڑتے ہوئے محسوس ہونگے۔ ان کی فساد انگیزیوں اور شرارتوں سے اہل ایمان تنگ آجائیں گے حتٰی کی حضرت عیسیٰ ؑ اہل ایمان کو ساتھ کوہ طور پر پناہ گزیں ہوجائیں گے، پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی بد دعا سے یہ ہلاک ہوجائیں گے اور ان کی لاشوں کی سڑاند اور بدبو ہر طرف پھیلی ہوگی، حتٰی کہ اللہ تعالیٰ پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں گے پھر ایک زور دار بارش نازل فرمائے گا، جس سے ساری زمین صاف ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
45: مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا اس وقت ہوگا جب قیامت آئے گی، اور اس کی ایک علامت یہ ہوگی کہ یاجوج اور ماجوج کے وحشی قبیلے بہت بڑی تعداد میں دنیا پر حملہ آور ہوں گے اور ایسا محسوس ہوگا کہ وہ ہر بلند جگہ سے پھسلتے ہوئے آرہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
حتی اذا ……فعلین (104)
سورة کہف میں قصہ ذوالقرنین کے بیان میں ہم نے یہ کہا تھا ” یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کے ساتھ قرب قیامت کے وقت کا جو ذکر آتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ قرب قیامت تاتاریوں کے نکلنے سے واقع ہوگیا ہو ، تاتاری نکلے اور آناً فاناً شرق و غرب پر چھا گئے اور انہوں نے تمام ممالک اور بادشاہوں کو روند ڈالا اس لئے کہ قرآن نے حضور اکرم ؐ کے زمانے ہی میں کہہ دیا تھا کہ و اقتربت الساعۃ ” قیامت قریب آگئی “ نیز قایمت کے قریب ہونے سے بھی ” قریب “ کا تعین نہیں ہوتا کیونکہ زمانے کا حساب انسانوں کے نزدیک اور اللہ کے نزدیک بالکل مختلف ہے۔ اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ “
یہاں اس دن کے…
Read the full tafseer →14 یعنی قیامت کے قریب نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سدّ ذوالقرنین توڑ کر " یاجوج ماجوج " کا لشکر ٹوٹ پڑے گا۔ یہ لوگ اپنی کثرت و ازدحام کی وجہ سے تمام بلندی و پستی پر چھا جائیں گے۔ جدھر دیکھو ان ہی کا ہجوم نظر آئے گا۔ ان کا بےپناہ سیلاب ایسی شدت اور تیز رفتار سے آئے گا کہ کوئی انسانی طاقت روک نہ سکے گی۔ یہ معلوم ہوگا کہ ہر ایک ٹیلہ اور پہاڑ سے ان کی فوجیں پھسلتی اور لڑھکتی چلی آرہی ہیں۔ سورة " کہف " کے آخر میں اس قوم کے متعلق ہم جو کچھ لکھ چکے ہیں اس کا ایک مرتبہ مطالعہ کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 96 حَتّٰیٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ”
قرآن میں یا جوج اور ماجوج کا ذکر اس آیت کے علاوہ سورة الکہف میں بھی آیا ہے۔ سورة الکہف کے مطالعے کے دوران اس موضوع پر تفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔ یاجوج اور ماجوج کی یلغار سے بچاؤ کے لیے ذوالقرنین کی تعمیر شدہ دیوار سے متعلق بہت واضح معلومات دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ دنیا کے نقشے میں ”دربند“ وہ جگہ ہے جہاں پر وہ دیوار تعمیر کی گئی تھی۔ دیوار اب وہاں بالفعل تو قائم نہیں ‘ مگر اس کے واضح آثار اس جگہ پر موجود ہیں۔ ان آثار سے دیوار کی dimensions کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔
آیت زیر نظر سے واضح ہوتا ہے کہ قرب…
Read the full tafseer →86 اس آیت کا سابقہ آیت سے ربط یہ ہے کہ جس دن یاجوج ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ اس وقت لازماً ان تباہ شدہ بستی والوں کو ہمارے حضور پیش ہونا پڑے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ ہمارے حضور پیش نہ ہوں۔ اس لحاظ سے پہلا مطلب ہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔
یاجوج ماجوج کے کچھ حالات تو سورة کہف کی آیت نمبر 94 کے تحت مذکور ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ۔۔ ذوالقرنین کا زمین بوس ہونا اور یاجوج ماجوج کا حملہ آور ہونا قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپس میں قیامت کے متعلق باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس…
Read the full tafseer →132۔ یعنی ہلاک شدہ قوموں کا عدم رجوع ایک خاص وقت تک کے لئے ممنوع وممتنع ہے۔ البتہ قیامت کے وقت سب از سر نو زندہ ہو کر سامنے آئیں گے اور اس وقت موعود کے قرب کی ایک خاص علامت یہ ہوگی کہ یاجوج وماجوج سد ذوالقرنین سے رہائی پاجائیں۔ چھوٹ کر نکلیں اور ہر بلند مقام سے دندناتے ہوئے ابل پڑیں، انجیل کی عبارت ابھی آگے آرہی ہے کہ ” ان کا شمار سمندر کی ریت کے برابر ہوگا۔” یاجوج وماجوج “۔ یاجوج ماجوج “ پر حاشیے سورة الکہف پ 16 میں گزر چکے۔ یاجوج وماجوج کا خروج انجیل میں بھی قرب قیامت کی علامت بتایا گیا ہے۔ چناچہ مکاشفہ یوحنا میں ہے :۔” اور جب ہزار برس پورے ہوچکیں گے تو شیطان قید سے چھوڑ دیا جائے گا، اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج وہم من کل حدب ینسلون۔ یہاں تک کہ جب یاجوج و
ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ (انتہائی کثرت کی وجہ سے) ہر بلندی (یعنی پہاڑ اور ٹیلہ) سے نکلتے معلوم ہوں گے۔
وَہُمْوہ یعنی یاجوج وماجوج۔ مِنْ کُلِّ حَدَبٍہر ابھار اور ہر ٹیلہ (کی آڑ) سے۔ یَنْسِلونپھیل پڑیں گے یاجوج اور ماجوج دو قبیلوں کے نام ہیں۔ حضرت نواس بن سمعان کی حدیث سورة کہف کی آیت فَاِذَا جَاءَ وَعْدَ رَبِّیْ جَعَلَہٗ دَکَّاءَ وَکَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاکی تفسیر میں ہم نے نقل کردی ہے اس حدیث میں آیا ہے کہ اللہ یاجوج وماجوج کو بھیج دے گا اور وہ ہر ٹیلہ کی آڑ سے پھیل پڑیں گے۔
ہر ٹیلہ کی آڑ سے پھیل پڑنے کا ذکر…
Read the full tafseer →(96) یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیے جائیں گے اور قیامت قائم ہوگی، تو اس وقت یہ لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے اور وہ یاجوج ماجوج غایت کثرت کی وجہ سے ہر ایک ٹیلا اور بلندی سے نکلتے معلوم ہوں گے اور ان کے سد ذوالقرنین (ذوالقرنین بادشاہ کی بنائی ہوئی دیوار) سے نکلنے کے وقت قیامت بالکل قریب آجائے گی۔
Read the full tafseer →حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ۔۔ : ”حَدَبٍ“ زمین کا ابھرا ہوا حصہ، اونچی جگہ، جیسے کسی کی پیٹھ ابھری ہوئی ہو تو اسے ”حَدَبَۃُ الظَّھْرِ“ کہتے ہیں۔ ”نَسَلَ“ (ض، ن) قریب قریب قدم رکھ کر نیچے کی طرف تیز دوڑنا، یعنی ہلاک ہونے والی بستیوں کے لوگوں کا دوبارہ زندہ ہونا اس وقت تک ناممکن رہے گا جب تک قیامت قائم نہ ہو، جس کی بالکل قریب نشانیوں میں سے ایک یاجوج ماجوج کا نکلنا بھی ہے۔ ان کے نکلنے کے بعد بہت جلد قیامت قائم ہوجائے گی۔ حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں : ”ایک دفعہ ہم آپس میں قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ”تم آپس میں کیا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج اس میں قول گزر چکا ہے۔ کلام میں حذف ہے یعنی جب یاجوج و ماجوج کا بند کھل جائے گا جیسے : وسئل القریۃ (یوسف :82) میں مضاف مخذوف ہے۔ و ھم من کل حدب ینسلون، حضرت ابن عباس ؓ کا فرمایا وہ ہر بلندی سے اتریں گے یعنی کثرت کی وجہ سے ہر طرف سے بھاگتے ہوئے اتریں گے۔ الحدب زمین کو بلند جگہ کو کہتے ہیں اس کی جمع الحداب ہے یہ حدبۃ الظھر (کبڑ) پیٹھ) سے ماخوذ ہے۔
عشرہ نے کہا :
فما رعشت یدای ولا أذدھانی تواترھم الی من الحداب
بعض نے فرمایا : ینسلون کا معنی ہے وہ نکلیں گے، اسی سے شاعر کا قول ہے :
فسبلی ثیابی من ثیابک تنسل
بعض نے کہا : اس کا معنی ہے تیز چلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
یاجوج ماجوج کا خروج :
1:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حتی اذا فتحت “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا اور (آیت) ” یاجوج وماجوج “ کو ہمزہ کے ساتھ۔
2:۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” وھم من کل حدب ینسلون “ کے بارے میں روایت کیا قیامت کے دن سب لوگ ہر جگہ سے آئیں گے وہ بلند ہوگی۔
3:۔ عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کل حدب “ سے مراد ہے ہر ٹیلے سے نیچے اتریں گے۔
4:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کل حدب “ سے مراد ہے ہر اونچی جگہ سے (آیت) ” ینسلون “ کہ وہ چلے آئیں گے۔
5:۔ طستی…
Read the full tafseer →[ حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [ اِذَا : جب ] [ فُتِحَتْ : کھولے جائیں گے ] [ يَاْجوجُ وَمَاجوجُ : یاجوج اور ماجوج ] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [ مِّنْ كُلِ حَدَبٍ : ہر بلندی سے ] [ يَّنْسِلُوْنَ : تیزی سے پھسلتے ہوں گے ]
ح دب
[ حَدَبًا : (س) آدمی کا کبڑا ہونا۔
حَدَبٌ کبڑا پن۔ پھر کسی زمین کی اونچی جگہ کو بھی مجازاً حَدَبٌ کہتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ 96 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
قیامت سے پہلے یاجوج و ماجوج کا نکلنا، قیامت کے دن کافروں کا حسرت کرنا اور اپنے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں جانا
ان آیات میں قرب قیامت کا، پھر وقوع قیامت کا اور قیامت کے دن اہل کفر کی ندامت اور بد حالی کا تذکرہ ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ اہل کفر برابر سر کشی میں اور کفر میں پڑے رہیں گے اور انکار حق پر اڑے رہیں گے۔ یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نکل آئیں جو ہر اونچی جگہ سے نکل کر پھیل پڑیں گے اور قیامت کا جو سچا وعدہ ہے وہ قریب ہوجائے گا۔ قیامت کے قریب آجانے پر بھی ان لوگوں کو ہوش نہ آئے گا اور حق قبول نہ کریں گے حتیٰ کہ قیامت واقع ہو ہی جائے گی۔ جب قیامت واقع ہوگی تو حیرانی اور پریشانی کی وجہ سے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–104
بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان
ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت
قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…
Read the full tafseer →69:۔ ” حتی اذا فتحت الخ “ یہ تخویف اخری ہے۔ ھم کی ضمیر سے سب لوگ مراد ہیں یا صرف یاجوج ماجوج پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ نفخہ ثانیہ کے بعد لوگ زمین کے ہر مرتفع حصے کو روندتے اور تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے موقف کی طرف دوڑیں گے دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کو آزاد کردیا جائیگا تو وہ زمین کے ہر حصہ میں پہاڑوں اور ٹیلوں کو روندتے ہوئے دنیا میں پھیل جائیں گے اور ہر طرف شر و فساد بر پا کر کے ایک تباہی مچادینگے ثم قیل فی الذین ینسلون من کل حدب انھم یاجوج و ماجوج وھو الاظھر وھو قول ابن مسعود وابن عباس و قیل جمیع الخلق فانھم یحشرون الی ارض الموقف وھم یسرعون من کل حدب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…
Read the full tafseer →حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَہُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ 96
فتح
الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65]
(ت ح )
الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں فتح المتاع ( اسباب کھولنا قرآن میں ہے ؛وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔
أج
قال تعالی: هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] : شدید الملوحة والحرارة، من قولهم : أجيج النار وأَجَّتُهَا، وقد أجّت، وائتجّ النهار . ويأجوج ومأجوج منه،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف
اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…
Read the full tafseer →حَتّٰیٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 96)
(یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نیچے اترنے لگیں گے۔ )
” حدب “ اونچی جگہ کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع ” حداب “ ہے۔ ” ینسلون “ نسلان الذئب سے ماخوذ ہے، بھیڑیئے کی سرعت رفتار کو کہتے ہیں۔
یاجوج و ماجوج سے مراد
یاجوج اور ماجوج کے متعلق تفصیلی بحث سورة کہف میں گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة کہف آیت 94۔ لیکن وہاں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین جب ایشیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچے ہیں تو وہاں پہاڑوں کے دامن میں رہنے والوں نے شکایت کی تھی کہ وقتاً فوقتاً یاجوج اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
فہم القرآن
ربط کلام : صالح اعمال کرنے والوں کی قدر افزائی کا تذکرہ کرنے کے بعد برے لوگوں کے انجام کا ذکر۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں بھی سزا دی اور قیامت کے دن بھی سزا پائیں گے۔
قرآن مجید نے اس حقیقت کو مختلف الفاظ اور انداز میں کئی بار واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی، اس کی مہربانی میں کوئی شخص رکاوٹ نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس کی گرفت سے کوئی کسی کو چھڑا سکتا ہے۔ جب وہ کسی بستی یا قوم کو تباہی کے گھاٹ اتارتا ہے تو پھر کوئی نہیں جو اسے دنیا میں واپس لے آئے۔ اسی حقیقت کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ جب وہ کسی بستی کو…
Read the full tafseer →تذکرئہ یاجوج ماجوج :
96: حَتّٰی (یہاں تک کہ) حتی کے بعد کلام بطور حکایت لایا جاتا ہے۔ اور کلام محکی ہے اور جملہ شرط و جزاء بنے گا۔ میری مراد اس سے اِذَا اور جو اس کے مابعد آرہا ہے وہ ہے : فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْ جُوْجُ (جب یا جوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا۔ ) یعنی ان کے سامنے والی دیوار کو کھول دیا جائے گا۔ مضاف کو حذف کردیا جیسا کہ مضاف کو قریۃ میں حذف کیا جاتا ہے۔
قراءت : شامی نے فتحّت پڑھا ہے۔
یاجوج و ماجوج یہ جنس انسانی کے دو قبیلے ہیں کہا جاتا ہے کہ لوگوں کے کل دس حصے ہیں ان میں سے نوؔ حصے یا جوج ماجوج ہیں۔ وَھُمْ ( اور وہ) یہ ضمیر ان لوگوں کی طرف راجع ہے جو محشر کی طرف چلائے جائیں…
Read the full tafseer →96۔ حتی اذا فتحت، ، ابن عامر ، ابوجعفر اور یعقوب نے ، فتحت، تاء کی تشدید کی ساتھ پڑھا ہے اس صورتمیں معنی تکثیر سے ہوگا اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ، یاجوج وماجوج، اس سے مراد یاجوج وماجوج کی دیوار کا کھل جانا ہے۔ وھم من کل حدب۔
حدب ہر اونچی جگہ سے اترنے کو کہتے ہیں۔ ینسلون، وہ جلدی جلدی اتریں گے ، اونچے اونچے ٹیلوں جیسے کہ بھیڑ کے بچے نمودار ہورہے ہیں اور وہ بہت تیز چلنے والے ہوں گے ۔ اس کنایہ کا ذکر کرنے کے بارے میں آئمہ مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت سے مراد یاجوج وماجوج ہیں۔ اس دلیل کی وجہ سے ہم جو نقل کرتے ہیں۔ حضرت نواس بن سمعان کی روایت ہیی کہ وہ رسول اللہ سے…
Read the full tafseer →96:۔ امام نووی اور بعض علماء نے ایک حکایت جو نقل کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو احتلام ہوگیا تھا۔ اور وہ نطفہ زمین پر گر پڑا ‘ اس خاک سے جو نسل چلی ‘ اسی کا نام یاجوج ماجوج ہے اس حکایت کی سند صحیح نہیں ہے 1 ؎‘ صحیح یہی ہے کہ یاجوج ماجوج یافث بن نوح کی اولاد ہیں اس کی تصریح مستدرک حاکم اور تفسیر ابن مردویہ کی معتبر روایت میں آئی ہے 2 ؎، دجال کا پیدا ہونا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا اور دجال کو قتل کرنا ‘ یہ سب دس نشانیاں قیامت کی جو صحیح 3 ؎ مسلم وغیرہ کی روایت میں ہیں جن نشانیوں کا ذکر مناسب طور پر ہر ایک آیت کے ساتھ آوے گا۔ ان دس نشانیوں میں سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
آیت 96
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لئے تحذیر ہے کہ وہ اپنے کفر اور معاصی پر جمے نہ رہیں۔ یاجوج و ماجوج کے کھلنے کا وقت قریب ہے اور یاجوج و ماجوج بنی آدم کے دو قبیلوں کا نام ہے۔ جب ذوالقرنین سے ان کے فساد فی الارض کا شکوہ کیا گیا تو اس نے درے کو دیوار کے ذریعے بند کر کے ان کا راستہ مسدود کردیا۔ آخری زمانے میں یہ درہ کھل جائے گا اور وہ اس طرح لوگوں کی طرف نکلیں گے جیسے اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے کہ وہ نہایت تیزی سے ہر ٹیلے سے نیچے اترتے نظر آئیں گے۔ یہ آیت کریمہ ان کی کثرت اور نہایت تیزی کے ساتھ ان کے زمین میں پھیل جانے پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت میں سرعت، یا تو اس وجہ سے ہوگی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
129 یاجوج ماجوج کے غلبہ و ظہور کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایسے ہی رہیں گے یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج نکل پڑیں گے "۔ یعنی قیامت کے اس وقت موعود تک ایسے تباہ شدہ لوگ ایسے ہی رہیں گے۔ اور قیامت کی قریبی علامتوں میں سے ایک علامت یاجوج ماجوج کا خروج ہے جس کے بعد قیامت کا وقوع ایسے ہوجائے گا جیسا کہ وہ حمل دار مادہ جس کا وقت پورا ہوچکا ہو۔ اور کوئی پتہ نہیں کہ وہ کس وقت بچے کو جنم دے دے ۔ کما روی ذالک عن ابن مسعود ۔ (زاد المسیر) ۔ واللہ المسؤل لکل ما یحب ویرضاہ جل وعلا ۔ سو کسی قوم کی ہلاکت کے فیصلے کے بعد یا اس کے ہلاک ہوجانے کے بعد قیامت تک کسی کیلیے اس دنیا میں لوٹ آنا ممکن نہیں۔ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–103
یاجوج ماجوج کا ظہور قیامت کی نشانی
تشریح : قیامت کے قریب ہونے یا قیامت آنے کی دس نشانیاں رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یا جوج و ماجوج کا دنیا میں پھیل جانا بھی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں سورة کہف کی آیات 93 سے 98 تک میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح بادشاہ گزرا ہے جس نے دنیا کے شمالی پہاڑوں کے درمیان سیسہ پلائی دیوار اس غرض سے بنوائی تھی کہ ان کے پیچھے ایک شیطان فطرت قوم یاجوج ماجوج رہتی تھی اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ وہ اس دیوار کو ہر وقت توڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب وہ اس دیوار کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ تاکہ انہیں توبہ یا امتحان کا ایک اور موقع دیا جائے۔ ذوالفقرنین کی روک اور یا جوج ماجوج کے قصے کے لئے دیکھئے (کہف رکوع 11)
2 ۔ یعنی ہر بلند مقام سے دندناتے ہوئے نکلیں گے۔
Read the full tafseer →(21:96) حتی۔ جب تک کہ۔ یہاں تک کہ۔ فتحت یاجوج وما جوج۔ یہاں مراد یاجوج وماجوج کے بند کے کھول دئیے جانے سے ہے۔ مضاف محذوف ہے۔ جیسے کہ آیت 95 میں قریۃ کا مضاف اھل محذوف ہے۔
حدب۔ حدب یحدب (سمع) حدب مصدر۔ آدمی کا کبڑا ہونا۔ الحدبۃ کبڑا پن۔ کہتے ہیں فی ظھرہ حدبۃ اس کی پیٹھ میں خمیدگی ہے۔ الحدبۃ من الارض بلند وسخت زمین۔
ینسلون۔ مضارع جمع مذکر غائب نسل ینسل (ضرب) ونسل ینسل (نصر) سے۔ نسل ونسل ونسلان۔ مصدر۔ تیز چلنا۔ تیز دوڑنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–103
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103
لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 103
فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(ف 1) حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے موافق آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ نافرمانی کے سبب سے جس بستی والوں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا ایسے لوگوں پر قیامت تک دنیا میں پھر آنا انتظام الٰہی میں حرام ٹھہرچکا ہے ایسے نافرمان لوگ جب مرجاتے ہیں اور منکر نکیر کے جواب کے لیے ان کے جسم میں روح اللہ کے حکم سے آجاتی ہے تو ایسے لوگوں کاٹھکانہ ان کو دوزخ دکھاکر اللہ کے فرشتے ان سے یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اسی ٹھکانے میں رہنے کے لیے تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اس وقت ایسے لوگ دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک کام کرنے کی تمناظاہر کرتے ہیں تو ان کو یہی جواب ملتا ہے کہ اب دنیا میں قیامت تک دوبارہ جاناممن نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
[59] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة کہف حاشیہ 33 صفحہ 698۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–100
یاجوج وماجوج :
(ف 3) یاجوج وماجوج کی تفصیلات گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں ، مختصر یوں سمجھ لیجئے کہ قوموں کی بدعقیدگی اور مظالم کا ایک طوفان اٹھے گا ، جو نظام عالم کو تہ وبالا کر دے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ مذہب کی وقت دلوں سے اٹھ جائے گی ، دینداری کے خلاف جنگ کی جائے ، اور نظام کائنات کی بنیادیں محض ہوس وجوع پر رکھی جائیں گی ، جب انسانوں میں شریر اور بدباطن لوگ رہ جائیں گے ، اور صرف مادیت کی حکومت ہوگی ۔
ان حالات میں بطور انتقام اللہ تعالیٰ ایک قوم کو تباہی و غارت گری کے لئے انسانوں پر مسلط کردیں گے ، تاکہ یہ بات ثابت ہو کہ انتہا مادیت کے معنے آخری تباہی کے ہیں ۔
حل لغات :
کفران : ضیاع ،…
Read the full tafseer →(96) یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور ہر بلندی سے پھیلتے اور دوڑتے چلے آئیں یعنی یاجوج و ماجوج جو اس وقت سد سکندری سے بند ہیں ان کو کھول دیا جائے اور وہ ہر بلندی یعنی پہاڑوں پر سے اترتے اور نکلتے چلے آئیں یعنی ان کی کثرت اتنی ہوگی کہ ہر طرف وہی چلتے پھرتے معلوم ہوں گے بالائی مقامات سے اترتے اور میدانی مقامات سے نکلتے چلے آئیں اور ہر طرف وہی دکھائی دیں گے۔
ینسلون فرمایا تاکہ سرعت سیر معلوم ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ف 7۔ جس سے ان حضرات کی کمال عبودیت اور ہماری کمال معبودیت ثابت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →یاجوج ماجوج کا غلبہ قیامت کے آثار میں سے ہے ؟ ۔
96۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے یاجوج ماجوج دو قبیلے ہیں۔ مشرق ومغرب میں دو پہاڑوں میں یہ محصور ہیں نہ تو پہاڑوں پر چڑھنے اترنے کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی پہاڑوں کے اندر سے باہر آنے کا کوئی راستہ ۔ صرف ان پہاڑوں کے جنوب میں سمندر کی طرف کا راستہ تھا ذوالقرنین نے وہاں لوہے کی ایک بہت بڑی دیوار بنا دی ہے اور یہ یاجوج ماجوج ان پہاڑوں کے اندر محصور ہیں اور اس آہنی دیوار کے توڑنے پھوڑنے میں رات دن لگے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس دیوار کی حفاظت فرما رہا ہے قرب قیامت میں جب اللہ چاہے گا تو یاجوج ماجوج اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ (Until when the Ya'juj and Ma'juj (Gog and Magog) are released, while they run down from every height - 21:96.) In the previous verse it was said that those who died in a state of unbelief will never return to this world. The phrase "until the Ya'juj and Ma'juj appear", really means that such people will never return, because the appearance of Ya'juj and Ma'juj will be a sign of near approach of the Dooms Day.
It is reported in Sahih of Muslim through Sayyidna Hudhaifah ؓ that he and some other Sahabah ؓ ، were…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
92. The Arabic text of (verse 95) may be interpreted in three ways.
(I) The community which is once destroyed by the scourge of Allah can never have a second or new life.
(2) After its destruction, its people are not given a second chance for their test, then they shall be presented in the court of Allah for final judgment.
(3) When a community transgresses the last limits in its wickedness, injustices and disobedience, and Allah ordains to destroy it, no other chance of repentance is given to it because it becomes incapable of turning back to right guidance.
Read the full tafseer →