Al-Anbiyaa 21:97

Al-Anbiyaa · from ayah 97

21:97

وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ؕ— یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۟وَاقۡتَـرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَـقُّ فَاِذَا هِىَ شَاخِصَةٌ اَبۡصَارُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ؕ يٰوَيۡلَنَا قَدۡ كُنَّا فِىۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰذَا بَلۡ كُـنَّا ظٰلِمِيۡنَ

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [when] the true promise has approached; then suddenly the eyes of those who disbelieved will be staring [in horror, while they say], "O woe to us; we had been unmindful of this; rather, we were wrongdoers."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:97

اور وعدہ برحق کے پورا ہونے کا وقت قریب آ لگے گا تو یکا یک اُن لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کفر کیا تھا کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، ہم اِس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے، بلکہ ہم خطا کار تھے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور سچا وعده قریب آلگے گا اس وقت کافروں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی، کہ ہائے افسوس! ہم اس حال سے غافل تھے بلکہ فی الواقع ہم قصور وار تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور سچا وعدہ پورا ہونے کا وقت قریب آجائے گا تو اچانک حالت یہ ہوگی کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی (اور وہ کہیں گے کہ :) ہائے ہماری کم بختی ! ہم اس چیز سے بالکل ہی غفلت میں تھے، بلکہ ہم نے بڑے ستم ڈھائے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور قریب آیا سچا وعدہ تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب ہو جائے گا تو اچانک کافر لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی (وہ پکار اٹھیں گے:) ہائے ہماری شومئ قسمت! کہ ہم اس (دن کی آمد) سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ ہم ظالم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور سچا وعدہ بالکل قریب آجائے گا تو اچانک یہ ہوگا کہ ان لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا۔ ہائے ہماری بربادی ! بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے، بلکہ ہم ظلم کرنے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور سچا وعدہ (قیامت) نزدیک آجائے گا تو اس وقت کافروں کی آنکھیں یکایک پتھرا جائیں گی (اور وہ کہیں گے) افسوس ! ہم تو اس (سچے وعدہ) سے غفلت میں ہی پڑے رہے بلکہ ہم خطا کار تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور قیامت کا شدنی وعدہ قریب آگیا ہے تو ناگہاں ان لوگوں کی نگاہیں ٹنگی رہ جائیں گی جنہوں نے اس کا انکار کیا ہے۔ وہ پکاریں گے، ہائے ہماری بدبختی ! ہم اس سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ ہم خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اپنے رب کی طرف لوٹنے کا وہ سچا وعدہ نزدیک آن پہنچے گا جس کا ذکر ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے پھر یکایک یہ حالت ہوجائے گی کہ ان لوگوں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی جو اڑے ہوئے تھے اپنے کفر وباطل پر اور وہ یوں پکار رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی ہم تو اس ہولناک دن سے بالکل غفلت میں رہے بلکہ ہم تو خود ہی اپنی جانوں پر ستم ڈھانے والے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور سچا وعدہ قریب آ لگے تو بس یک بیک کافروں کی نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی ہائے ہماری کم بختی ہم اس کی طرف سے غفلت میں پڑے تھے نہیں بلکہ ہم ہی قصور وار تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قریب آ لگے گا وہ سچا وعدہ تو اس وقت کافروں کی نگاہیں پتھرا جائیں گی (وہ کہیں گے) ہائے ہماری شامت ! ہم تو اس کی طرف سے غفلت میں ہی رہے بلکہ ہم خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور قیامت کا سچا وعدہ قریب آجائے گا تو پھر کفار کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور کہنے لگیں گے کہ ہائے کم بختی ہماری ہم اس سے بیخبر رہے بلکہ ہم قصور وار تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and the time for the fulfilment of the true promise of Allah draws near, whereupon the eyes of those who disbelieved will stare in fear, and they will say: "Woe to us, we were indeed heedless of this; nay, we were wrongdoers."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the True Promise draws near, then it will so happen that the eyes of the disbelievers shall remain upraised (in terror, and they will say,) :Alas to us! We were in negligence about this; rather we were transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani

and the True Promise draws near, then it will so happen that the eyes of the disbelievers shall remain upraised (in terror, and they will say,) :Alas to us! We were in negligence about this; rather we were transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the true promise shall draw near. Then, you shall see the eyes of the disbelievers fixedly staring in horror. (They will say:) "Woe to us! We were indeed heedless of this -- nay, but we were wrongdoers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the True Promise draweth nigh; then behold them, staring wide (in terror), the eyes of those who disbelieve! (They say): Alas for us! We (lived) in forgetfulness of this. Ah, but we were wrong-doers!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [when] the true promise has approached; then suddenly the eyes of those who disbelieved will be staring [in horror, while they say], "O woe to us; we had been unmindful of this; rather, we were wrongdoers."

— Saheeh International

The Day of Judgment will then draw near and the unbelievers will stare amazedly and cry, "Woe to us! We had neglected this day. We have done wrong".

— Muhammad Sarwar

And the true promise shall draw nigh, then lo! the eyes of those who disbelieved shall be fixedly open: O woe to us! surely we were in a state of heedlessness as to this; nay, we were unjust.

— Muhammad Habib Shakir

And there shall approach the true promise; and lo! the eyes of those who disbelieved shall be staring: woe unto us! surely we have been in neglect thereof; aye! we have been the wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Then will the true promise draw nigh (of fulfilment): then behold! the eyes of the Unbelievers will fixedly stare in horror: "Ah! Woe to us! we were indeed heedless of this; nay, we truly did wrong!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:97

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 95–97

یافت کی اولاد ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ حضرت نوح ؑ کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہوجائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں حدب کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 94 " غفلت " میں پھر ایک طرح کی معذرت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی غفلت کا ذکر کرنے کے بعد پھر خود ہی صاف صاف اعتراف کریں گے کہ ہم کو انبیاء نے آ کر اس دن سے خبردار کیا تھا، لہٰذا درحقیقت ہم غافل و بیخبر نہ تھے بلکہ خطا کار تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 96–97

حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ ، لفظ حَتّٰٓي سابق مضمون پر تفریع و ترتیب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آیت سابقہ میں یہ کہا گیا تھا کہ جو لوگ کفر پر مر چکے ہیں ان کا دوبارہ دنیا میں زندہ ہو کر لوٹنا ناممکن ہے اس عدم امکان کی انتہا یہ بتلائی گئی کہ دوبارہ زندہ ہو کر لوٹنا ناممکن اس وقت تک ہے جب تک کہ یہ واقعہ یاجوج ماجوج کا پیش نہ آجائے جو قیامت کی قریبی علامت ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ ہم چند صحابہ ایک روز آپس میں کچھ مذاکرہ کر رہے تھے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، دریافت فرمایا کہ کیا مذاکرہ تمہارے درمیان جاری ہے ہم نے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت سر پر کھڑی ہے یعنی یہ جس وعدہ قیامت کو بہت دور کی بات سمجھ رہے ہیں وہ بہت دور نہیں بلکہ اس کے ظہور کا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ سورة معارج میں فرمایا ہے انھم یرونہ بعیداً ونرئہ قریباً (وہ اس کو بہت دور خیال کر رہے ہیں لیکن ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں) انسان ہر چیز کو اپنے چھوٹے پیمانوں سے ناپتا ہے اس وجہ سے اسے قیامت بہت دور معلوم ہوتی ہے۔ حالانکہ خدائی دنوں کے اعتبار سے وہ بالکل سر پر کھڑی ہے۔ یہی مضمون اس سورة کی پہلی آیت میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس کے بعض دوسرے پہلو بھی واضح کئے ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ فاذا ہی شاخصۃ ابصار الذین کفروا یعنی وہ اچانک آدھمکے گی اور اس کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

97۔ 1 یعنی یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد قیامت کا وعدہ، جو برحق ہے، بالکل قریب آجائے گا اور جب یہ قیامت برپا ہوجائے گی شدت ہولناکی کی وجہ سے کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 96–97

45: مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا اس وقت ہوگا جب قیامت آئے گی، اور اس کی ایک علامت یہ ہوگی کہ یاجوج اور ماجوج کے وحشی قبیلے بہت بڑی تعداد میں دنیا پر حملہ آور ہوں گے اور ایسا محسوس ہوگا کہ وہ ہر بلند جگہ سے پھسلتے ہوئے آرہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 96–97

حتی اذا ……فعلین (104) سورة کہف میں قصہ ذوالقرنین کے بیان میں ہم نے یہ کہا تھا ” یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کے ساتھ قرب قیامت کے وقت کا جو ذکر آتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ قرب قیامت تاتاریوں کے نکلنے سے واقع ہوگیا ہو ، تاتاری نکلے اور آناً فاناً شرق و غرب پر چھا گئے اور انہوں نے تمام ممالک اور بادشاہوں کو روند ڈالا اس لئے کہ قرآن نے حضور اکرم ؐ کے زمانے ہی میں کہہ دیا تھا کہ و اقتربت الساعۃ ” قیامت قریب آگئی “ نیز قایمت کے قریب ہونے سے بھی ” قریب “ کا تعین نہیں ہوتا کیونکہ زمانے کا حساب انسانوں کے نزدیک اور اللہ کے نزدیک بالکل مختلف ہے۔ اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ “ یہاں اس دن کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جزاء و سزا کا وعدہ جب نزدیک آلگے گا اس وقت منکروں کی آنکھیں مارے شدت ہول کے پھٹی رہ جائیں گی اور اپنی غفلت پر دست حسرت ملیں گے کہ افسوس آج کے دن ہم کیسے بیخبر رہے جو ایسی کم بختی آئی۔ کاش ہم دنیا میں اس آفت سے بچنے کی فکر کرتے۔ 2 یعنی بیخبر ی بھی کیسے کہیں، آخر انبیاء (علیہم السلام) نے کھول کھول کر آگاہ کردیا تھا۔ لیکن ہم نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ ان کا کہا نہ مانا اور برابر شرارتوں اور گناہوں پر اصرار کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 97 وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط ” انتہائی خوف کی وجہ سے انسان کی آنکھ حرکت کرنا بھول جاتی ہے۔ کفار و مشرکین قیامت کے دن اسی کیفیت سے دو چار ہوں گے۔ یٰوَیْلَنَا قَدْ کُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ہم آخرت کا انکار کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے تمام خبریں مل چکی تھیں لیکن ہم نے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور اس طرف کبھی توجہ ہی نہ کی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

87 یعنی یاجوج ماجوج کی یورش کے بعد جلد ہی قیامت بپا ہوجائے گی۔ قیامت کے واقعہ ہونے سے پہلے سب نیک لوگوں کو اٹھا لیا جائے گا۔ چناچہ عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ قیامت ان لوگوں پر قائم ہوگی جو اللہ کی مخلوق سے بدترین ہوں گے۔ (مسلم، کتاب الامارت باب الاترال طائفہ~ن~ من امتی۔۔ ) اور عبداللہ بن مسعود ؓ سے جو روایت ہے اس میں شرار المخلق کے لئے بجائے شرار الناس کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی قیامت ان لوگوں پر آئے گی جو لوگوں میں سب سے بدتر ہونگے (مسلم کتاب الفتن و شرائط الساعہ~ن)~ تو یہ بدترین لوگ جب قیامت واقع ہونے کا منظر دیکھیں گے تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ اس وقت وہ حسرت و یاس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

133۔ جب وہ وقت موعود کافروں کے خیال کے مطابق بےشان و گمان اور اچانک آپڑے گا، تو ان کی آنکھیں فرط دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، اور یہ پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری کیسی شامت تھی کہ ہم اس گھڑی کی طرف سے غفلت میں پڑے رہے۔ اور غفلت کیسی، غفلت تو جب ہوتی جب کسی نے ہم کو آگاہ نہ کیا ہوتا۔ سچی بات یہ ہے کہ قصور سرتاسر ہمارا ہے۔ ہم تنبیہ کرنے والوں کے باوجود بھی بیدار نہ ہوئے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–112

آیت نمبر 94 تا 112 ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واقترب الوعد الحق اور سچا وعدہ قریب ہوجائے گا۔ یعنی روز قیامت واو عاطفہ ہے اور اس کا عطف فتحت پر ہے۔ لیکن فراء اور علماء کی ایک جماعت ہے واو کو زائد کہا ہے اور اِقْتَرَبَکو شرط کی جزا قرار دیا ہے۔ یعنی جب یاجوج وماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے اور پھیل جائیں گے تو اس وقت قیامت قریب آجائے گی ایک اور آیت میں واؤ زائد آیا ہے اور مابعد واؤ جزاء شرط ہے فرمایا ہے فَلَمَّا اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیِنَْ وَنَادَیْنَاہُپھر جب دونوں نے مان لیا اور ابراہیم ( علیہ السلام) نے اسماعیل کو پیشانی کے بل الٹا دیا تو ہم نے اس کو پکارا۔ اس مطلب کے ثبوت کے لئے حضرت حذیفہ کی حدیث کو پیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(97) بس پھر یہ قصہ ہوگا، کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے انکار کرنے والوں کی ایک دم سے آنکھیں ذلیل و خوار ہو کر پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ اور یوں کہتے نظر آئیں گے ہائے ہماری کم بختی ہم اس دن سے غفلت میں تھے بلکہ حقیقتا ہم رسول اکرم ﷺ اور قرآن کے منکر تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ : ”اقْتَرَبَ“ ”قَرِبَ“ میں ہمزہ اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی بہت یا بالکل قریب ہوگیا۔ ”سچے وعدے“ سے مراد قیامت ہے۔ یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد مسیح ؑ مسلمانوں کو لے کر پہاڑ سے اتریں گے، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو زمین کی بیشمار برکتیں عطا فرمائے گا۔ صحیح مسلم (2937) میں ہے کہ وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک طیب ہوا ان کی بغلوں کے نیچے بھیجے گا، جو ہر مومن کی روح قبض کرلے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، جو شہوت رانی کے لیے گدھوں کی طرح ایک دوسرے پر چڑھیں گے، انھی پر قیامت قائم ہوگی۔ عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں : (لاَ تَقُوْمُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و اقترب الوعد الحق، الوعد الحق سے مراد قیامت ہے۔ فراء، کسائی وغیرہ نے کہا ہے کہ وائو زئدہ مقحمہ ہے۔ معنی یہ ہے کہ جب یاجوج و ماجوج کا بند کھل جائے گا قیامت قریب آجائے گی۔ اقترب، اذا کا جواب ہے۔ فراء نے یہ شعر اس پر کہا ہے : فلماء اجرنا ساحۃ الحث و اتتحی یعنی اس میں بھی وائو زائدہ ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و تلہ للجبین۔ و نادینہ (الصافات) نادینہ سے پہلے وائو زائد ہے۔ کسئی نے اذا کا جواب فاذا ھی شاخصۃ ہونا بھی جائز قرار دیا ہے اس صورت میں اقترب الوعد الحق اس فعل پر معطوف ہوگا جو شرط ہے۔ بصریوں نے کہا : جواب محذوف ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے : قالوا یاویلنا، یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 96–97

یاجوج ماجوج کا خروج : 1:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حتی اذا فتحت “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا اور (آیت) ” یاجوج وماجوج “ کو ہمزہ کے ساتھ۔ 2:۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” وھم من کل حدب ینسلون “ کے بارے میں روایت کیا قیامت کے دن سب لوگ ہر جگہ سے آئیں گے وہ بلند ہوگی۔ 3:۔ عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کل حدب “ سے مراد ہے ہر ٹیلے سے نیچے اتریں گے۔ 4:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کل حدب “ سے مراد ہے ہر اونچی جگہ سے (آیت) ” ینسلون “ کہ وہ چلے آئیں گے۔ 5:۔ طستی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاقْتَرَبَ : اور (جب) قریب آ لگے ] [ الْوَعْدُ الْحَقُّ : سچا وعدہ ] [ فَاِذَا : تو جب ہی ] [ هِىَ : وہ ] [ شَاخِصَةٌ: کھلی کی کھلی رہ جانے والی ہیں ] [ اَبْصَارُ الَّذِينَ : ان لوگوں کی آنکھیں جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ يٰوَيْلَنَا : (وہ کہیں گے) ہائے ہماری شامت ] [ قَدْ كُنَا : ہم رہے ] [ فِيْ غَفْلَةٍ : غفلت میں ] [ مِّنْ ھٰذَا : اس سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ كُنَا : ہم ہی تھے ] [ ظٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 96–97

قیامت سے پہلے یاجوج و ماجوج کا نکلنا، قیامت کے دن کافروں کا حسرت کرنا اور اپنے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں جانا ان آیات میں قرب قیامت کا، پھر وقوع قیامت کا اور قیامت کے دن اہل کفر کی ندامت اور بد حالی کا تذکرہ ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ اہل کفر برابر سر کشی میں اور کفر میں پڑے رہیں گے اور انکار حق پر اڑے رہیں گے۔ یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نکل آئیں جو ہر اونچی جگہ سے نکل کر پھیل پڑیں گے اور قیامت کا جو سچا وعدہ ہے وہ قریب ہوجائے گا۔ قیامت کے قریب آجانے پر بھی ان لوگوں کو ہوش نہ آئے گا اور حق قبول نہ کریں گے حتیٰ کہ قیامت واقع ہو ہی جائے گی۔ جب قیامت واقع ہوگی تو حیرانی اور پریشانی کی وجہ سے ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 95–104

بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

70:۔ ” وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الخ “ الوعد الحق سے قیامت مراد ہے وھو ما بعد النخۃ الاولی (روح ج 17 ص 92) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 94–104

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا ہِىَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝ 0ۭ يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۝ 97 وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–104

جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُالْحَقُّ فَاِذَا ھِیَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط یٰوَیْلَنَا قَدْکُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 97) (اور قریب آگیا ہے سچا وعدہ تو یکایک ان لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنھوں نے کفر کیا، وہ پکاریں گے، ہائے ہماری بدبختی ہم اس سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ ) قیامت سر پر کھڑی ہے نبی کریم ﷺ جب قریش کو قیامت کے دن کی جوابدہی سے ڈراتے تھے اور انھیں زندگی کے معاملات میں سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے تو وہ قیامت کو بہت دور کی بات سمجھتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ اولاً تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–100

فہم القرآن ربط کلام : آیت 94 میں صالح اعمال لوگوں کا اجر بیان ہوا۔ اس کے بعد برے لوگوں کا بیان ہوا۔ برے لوگوں کی برائیوں میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرنے کی بجائے دوسروں کی عبادت اور تابعداری کرتے تھے قیامت کے دن ایسے عابد اور معبود جہنم میں پھینکیں جائیں گے۔ سب سے بڑی برائی ” اللہ “ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانا اور قیامت کے دن کا انکار کرنا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے کفار اور مشرکن کا معاملہ چکا یا جائے گا۔ رب ذوالجلال مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائے گا کہ آج تم اور تمہارے معبود جنہیں تم مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہوئے پکارا کرتے تھے سب کو جہنم میں جھونکا جا رہا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت اور اس کا منظر : 97: وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ (اور سچا وعدہ قریب ہوجائے گا) الوعدؔ سے قیامت مراد ہے۔ فائدہ : اور اذاکا جواب۔ فَاِذَا ھِیَ ہے یہ اذا مفاجات کیلئے ہے اور جزاء پر فاء کی جگہ آتا رہتا ہے جیسا کہ اس ارشاد میں : اذا ھم یقنطون ] الروم : 36 [ جب فاء بھی آگیا تو جزاء کے شرط کے ساتھ متصل ہونے میں دونوں نے تعاون کیا پس مزید تاکید ہوگئی اگر اس طرح کہا جاتا : فہی شاخصۃ یا اذاھی شاخصۃ تو تب بھی درست ہوتا۔ ھی ؔ یہ ضمیر مبہم ہے اس کی وضاحت الا بصار کر رہا ہے۔ اور اس کی تفسیر شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہے۔ کہ کافروں کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہونگی۔ یعنی پلکیں اونچی ہونگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 97۔ واقترب الوعد الحق، ، حق سے مراد قیامت ہے۔ فراء اور ایک علماء کی جماعت کا قول ہے کہ واؤ زائدہ ہے اوراقترب کو شرط کی جزاء قرار دیا ہے اس کا معنی یہ ہوگا کہ جب یاجوج ماجوج کو کھول دیاجائے گا، اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے اور پھیل جائیں گے تو اس وقت قیامت قریب آجائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، فلمااسلما وتلہ للجبین ونادیناہ ، ہم نے اس کو آواز دی۔ اس پر دلیل جو حضرت حذیفہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کسی نے بچھڑا پالا ہوگاتوخروج یاجوج وماجوج کے بعد وہ بچھڑا سواری کے قابل نہیں ہوگا کہ قیامت آجائے گی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ واؤ زائدہ ہے اور مابعد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

97:۔ اوپر یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ یاجوج ماجوج کا نکلنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایسی نشانی ہے کہ جس کے بعد قیامت کے قائم ہونے کے سچے وعدہ کا وقت نزدیک آپہنچے گا اور جس دن اس سچے وعدہ کا ظہور ہوجائے گا تو اس دن کی آفتوں کو دیکھ کر دہشت کے مارے ان منکرین حشر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاویں گی اور اس دن کی آفتوں سے غافل رہنے پر پچھتاویں گے اور کہیں گے کہ اللہ کے رسولوں نے ہمیں ان آفتوں کا حال جو بتلایا اور ہم نے ان کو جھٹلا دیا ‘ حقیقت میں ہم نے یہ اپنے حق میں بڑا ظلم کیا ہے 1 ؎‘ صحیح مسلم میں حذیفہ بن اسید سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے آفتاب کے مغرب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 96–97

آیت 96 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لئے تحذیر ہے کہ وہ اپنے کفر اور معاصی پر جمے نہ رہیں۔ یاجوج و ماجوج کے کھلنے کا وقت قریب ہے اور یاجوج و ماجوج بنی آدم کے دو قبیلوں کا نام ہے۔ جب ذوالقرنین سے ان کے فساد فی الارض کا شکوہ کیا گیا تو اس نے درے کو دیوار کے ذریعے بند کر کے ان کا راستہ مسدود کردیا۔ آخری زمانے میں یہ درہ کھل جائے گا اور وہ اس طرح لوگوں کی طرف نکلیں گے جیسے اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے کہ وہ نہایت تیزی سے ہر ٹیلے سے نیچے اترتے نظر آئیں گے۔ یہ آیت کریمہ ان کی کثرت اور نہایت تیزی کے ساتھ ان کے زمین میں پھیل جانے پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت میں سرعت، یا تو اس وجہ سے ہوگی کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 96–97

129 یاجوج ماجوج کے غلبہ و ظہور کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایسے ہی رہیں گے یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج نکل پڑیں گے "۔ یعنی قیامت کے اس وقت موعود تک ایسے تباہ شدہ لوگ ایسے ہی رہیں گے۔ اور قیامت کی قریبی علامتوں میں سے ایک علامت یاجوج ماجوج کا خروج ہے جس کے بعد قیامت کا وقوع ایسے ہوجائے گا جیسا کہ وہ حمل دار مادہ جس کا وقت پورا ہوچکا ہو۔ اور کوئی پتہ نہیں کہ وہ کس وقت بچے کو جنم دے دے ۔ کما روی ذالک عن ابن مسعود ۔ (زاد المسیر) ۔ واللہ المسؤل لکل ما یحب ویرضاہ جل وعلا ۔ سو کسی قوم کی ہلاکت کے فیصلے کے بعد یا اس کے ہلاک ہوجانے کے بعد قیامت تک کسی کیلیے اس دنیا میں لوٹ آنا ممکن نہیں۔ (…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 96–103

یاجوج ماجوج کا ظہور قیامت کی نشانی تشریح : قیامت کے قریب ہونے یا قیامت آنے کی دس نشانیاں رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یا جوج و ماجوج کا دنیا میں پھیل جانا بھی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں سورة کہف کی آیات 93 سے 98 تک میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح بادشاہ گزرا ہے جس نے دنیا کے شمالی پہاڑوں کے درمیان سیسہ پلائی دیوار اس غرض سے بنوائی تھی کہ ان کے پیچھے ایک شیطان فطرت قوم یاجوج ماجوج رہتی تھی اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ وہ اس دیوار کو ہر وقت توڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب وہ اس دیوار کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–112

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ” یاجوج ماجوج “ کا خروج قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگا۔ اسی کو آنحضرت ﷺ نے اپنی متعدد احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیات نہ دیکھ لو۔ پھر آپ ﷺ نے دس نشانیاں بیان فرمائیں۔ جن میں ایک یاجوج ماجوج کا ظاہر ہونا تھی۔ (مسلم) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت عسیٰ کا نزول اور خانہ کعبہ کا حج وعمرہ کرنا یاجوج ماجوج کے ظاہر ہونے کے بعد ہوگا۔ (بخاری) 4 ۔ کافر پہلے تو اپنے غافل ہونے کا ذکر کریں گے پھر خود ہی اعتراف کرلیں گے کہ ہم قصور وار نہ تھے اور یہ مختلف مواطن میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:97) اقترب۔ ماضی بمعنی مضارع مستقبل واحد مذکر غائب اقترات افتعال مصدر وہ قریب آ لگے گا۔ الوعد الحق۔ موصوف صفت۔ سچا وعدہ۔ واقترب الوعد الحق۔ اس جملہ کا عطف فتحت یا جوج وما جوج پر ہے شاخصۃ۔ کھلی کی کھلی رہ جانے والی۔ شخص یشخص (فتح) شخوص سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث شخص بصرہ اس کی آنکھ پتھرا گئی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے تشخص فیہ الابصار (14:42) جبکہ دہشت کے سبب نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی۔ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ ابصار۔ آنکھیں۔ بینائیاں۔ بصر کی جمع ہے۔ بصر آنکھ اور بینائی دونوں کو کہتے ہیں۔ بینائی بھی آنکھ کی ہو یا دل کی ہو دونوں کو بصرکہا جاسکتا ہے۔ فاذاھی شاخصۃ ابصار الذین کفروا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 94–103

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103 لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 94 تا 103 فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قیامت کا ذکر ۔ بت پرستوں کا حشر۔ (ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب یاجوج ماجوج نکلیں گے تو ان کی کیفیت یہ ہوگی کہ تمام عالم میں پھریں گے اور تمام دریاؤں کا پانی پی جائیں گے اور خشک وتر جو کچھ پائیں گے کھائیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی برکت سے سب کو ہلاک کردے گا، اسوقت اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ قریب ہوجائے گا اور قیامت قائم ہوگی تو اسوقت کافروں کی کیفیت یہ ہوگی کہ خوف اور دہشت کے مارے رحمت کے انتظار میں اوپر کی طرف ٹکٹکی بندھ جائے گی اور وہ کہیں گے ہمارے حال پر افسوس ہے ہم غفلت میں تھے اور اس حال سے بیخبر تھے اور بیخبر کیا تھے بلکہ ظالم تھے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 96–100

یاجوج وماجوج : (ف 3) یاجوج وماجوج کی تفصیلات گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں ، مختصر یوں سمجھ لیجئے کہ قوموں کی بدعقیدگی اور مظالم کا ایک طوفان اٹھے گا ، جو نظام عالم کو تہ وبالا کر دے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ مذہب کی وقت دلوں سے اٹھ جائے گی ، دینداری کے خلاف جنگ کی جائے ، اور نظام کائنات کی بنیادیں محض ہوس وجوع پر رکھی جائیں گی ، جب انسانوں میں شریر اور بدباطن لوگ رہ جائیں گے ، اور صرف مادیت کی حکومت ہوگی ۔ ان حالات میں بطور انتقام اللہ تعالیٰ ایک قوم کو تباہی و غارت گری کے لئے انسانوں پر مسلط کردیں گے ، تاکہ یہ بات ثابت ہو کہ انتہا مادیت کے معنے آخری تباہی کے ہیں ۔ حل لغات : کفران : ضیاع ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(97) اور سچا وعدہ قریب آپہنچا تو یکایک اس وقت یہ قصہ ہوگا کہ کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ کہتے ہوں گے ہائے ہماری خرابی ہم اس دن کے واقعات سے بڑی غفلت میں تھے نہیں بلکہ مہ ہی گنہگار اور قصوروار تھے۔ یعنی یاجوج اور ماجوج کے خروج کے ایک عرصہ بعد صور پہلی مرتبہ پھونکا جائے گا اور اس کے کچھ عرصہ کے بعد جب دوسرا نفخہ صور ہوگا تو لوگوں کی حیرت اور خوف کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ حسرت و ندامت سے کہتے ہوں گے ہائے ہماری کم بختی ہم اس دن سے بڑی غفلت میں تھے بلکہ ہم ہی ظالم تھے یعنی اس دن کا انکار کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خبر پہنچی تھی جان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 97–101

ف 1۔ حاصل یہ ہوا کہ اس وقت منکرین رجوع بھی رجوع کے قائل ہوجاویں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اوپر قرب قیامت کا ذکر تھا اب قیامت کا ذکر کیا جا رہا ہے : 97۔ قیامت کیا ہے ؟ اس کا جواب قبل ازیں کئی بار دیا جا چکا ہے کہ دنیا کے اس نظام کو درہم برہم کرکے ایک نیا نظام چلانے کا نام قیامت ہے لیکن ایک انسان جب اور جس دور میں بھی اس دنیا میں پیدا ہوا اور اپنا مقررہ وقت پورا کر کے چلتا بنا اس کی قیامت تو گویا قائم ہوگئی کیونکہ اس دنیا کے نظام میں اس کو دوبارہ نہیں لایا جائے گا بلکہ وہ عالم برزخ میں ہے اور اس وقت تک وہیں رہے گا جب تک اس نظام کو مکمل طور پر بدل نہ دیا جائے جس کا نام دارالعمل ہے اور آنے والے نظام کا نام اسلام کی نگاہ میں دارالجزاء رکھا گیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 96–97

حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ (Until when the Ya'juj and Ma'juj (Gog and Magog) are released, while they run down from every height - 21:96.) In the previous verse it was said that those who died in a state of unbelief will never return to this world. The phrase "until the Ya'juj and Ma'juj appear", really means that such people will never return, because the appearance of Ya'juj and Ma'juj will be a sign of near approach of the Dooms Day. It is reported in Sahih of Muslim through Sayyidna Hudhaifah ؓ that he and some other Sahabah ؓ ، were…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

93. For the details about Gog and Magog, see (E.Ns 62 and 69 of Surah Al-Kahf). They will be let loose in the sense that they will swoop down on the regions of the earth like a beast of prey which is set free from its cage suddenly. The time of the fulfillment of the true promise will come on the eve of Resurrection and the appearance of Gog and Magog will be a sign of it. In a tradition related in Muslim, by Huzaifah bin Asid Ghifari, the Prophet (peace be upon him) said: Resurrection will not take place until ten signs appear: (1) The smoke. (2) Dajjal. (3) Daabat-ul-Ard. (4) Rising of the…

Read the full tafseer →