Explained with ayahs 95–97
یافت کی اولاد
ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ حضرت نوح ؑ کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہوجائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں حدب کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 92
اس آیت کے تین مطلب ہیں
ایک یہ کہ جس قوم پر ایک مرتبہ عذاب الہٰی نازل ہوچکا ہو وہ پھر کبھی نہیں اٹھ سکتی۔ اس کی نشاۃ ثانیہ اور اس کی حیات تو ممکن نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ ہلاک ہوجانے کے بعد پھر اس دنیا میں اس کا پلٹنا اور اسے دوبارہ امتحان کا موقع ملنا غیر ممکن ہے۔ پھر تو اللہ کی عدالت ہی میں اس کی پیشی ہوگی۔
تیسرے یہ کہ جس قوم کی بد کاریاں اور زیادتیاں اور ہدایت حق سے پیہم رو گردانیں اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اسے پھر رجوع اور توبہ وانابت کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اس کے لیے پھر یہ ممکن نہیں رہتا کہ ضلالت سے ہدایت کی طرف پلٹ…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ ، اس جگہ لفظ حرام بمعنے ممتنع شرعی کے ہے جس کا ترجمہ خلاصہ تفسیر میں ناممکن سے کیا گیا ہے اور لَا يَرْجِعُوْنَ میں اکثر حضرات مفسرین کے نزدیک حرف لا زائد ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو بستی اور اس کے آدمی ہم نے ہلاک کردیئے ہیں ان کے لئے محال ہے کہ وہ پھر لوٹ کر دنیا میں آجائیں اور بعض حضرات مفسرین نے لفظ حرام کو اس جگہ بمعنی واجب قرار دے کر لا کو اپنے معروف معنی نفی کے لئے رکھا ہے اور مفہوم آیت کا یہ لکھا ہے کہ واجب ہے اس بستی پر جس کو ہم نے عذاب سے ہلاک کردیا ہے کہ وہ دنیا میں نہیں لوٹیں گے (قرطبی) آیت کا مطلب یہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون ……… آیات 112-95
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ انذار کے اسی مضمون کی، جس سے ورہ کا آغاز فرمایا تھا، ایک نئے اسلوب سے آخر میں پھر یاد دہانی فرما دی ہے اور اس خاتمہ کی تمہید بھی بعینہ اسی لفظ سے شروع کی ہے جس لفظ سے سورة کا آغاز ہوا ہے۔ شروع میں فرمایا تھا۔ اقترب للناس حسابھم یہاں جب اسی مضمون کو از سر نو لیا تو فرمایا و اقترب الوعد الحق اس طرح قرآن اپنے نظم کی طرف خود رہنمائی کردیتا ہے۔ اکثر سورتوں میں یہ اسلوب موجود ہے۔ استاذ امام اس اسلوب کو عود علی البدئا سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سورة کے مطالب کے پھیلائو میں اگر اصل مدعا نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے تو وہ از سر نو…
Read the full tafseer →95۔ 1 جیسا کہ ترجمے میں واضح ہے۔ یا پھر لَا یَرْجِعُوْنَ میں لَا زائد ہے، یعنی جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا، اس کا دنیا میں پلٹ کر آنا حرام ہے۔
Read the full tafseer →44: کافر لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد دوبارہ زندگی آنے والی ہے تو جو کافر پہلے مرچکے ہیں انہیں زندہ کرکے ابھی ان کا حساب کیوں نہیں لے لیا جاتا ؟ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے کہ حساب و کتاب اور جزاء وسزا کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اس سے پہلے کسی کا زندہ ہو کر اس دنیا میں آجانا ممکن نہیں ہے۔
Read the full tafseer →وحرم علی قریۃ اھلکنھا انھم لایرجعون (21 : 95) ” اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا وہ پلٹ کر نہ آئے گی۔ “
یہاں ہلاک شدہ بستیوں کا ذکر فرمایا جاتا ہے ، خصوصیت کے ساتھ ، اس لئے کہ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ
کل الینارجعون (21 : 93) ” سب ہماری طرف پلٹ کر آنے والے ہیں۔ “ بعض اوقات ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ جن بستیوں کو دنیا میں ہلاک کردیا گیا ہے شاید وہ ہمیشہ کے لئے ختم کردی گئیں اور وہ پلٹ کر نہ آئیں گی اور ان کا حساب و کتاب ختم ہوگیا اس لئے یہاں دوبارہ تاکید کی جاتی ہے کہ یہ بستیاں ضرور واپس لوٹ کر قیامت میں آئیں گی اور نہ ان کا آنا حرام ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہلاک شدہ بستیاں نہ…
Read the full tafseer →13 پہلے نجات پانے والے مومنین کا ذکر تھا اس کے بالمقابل اس آیت میں ہلاک ہونے والے کافروں کا مذکور ہے یعنی جن کے لیے ہلاک اور غارت ہونا مقدر ہوچکا وہ کبھی اپنے کفر و عصیان کو چھوڑ کر اور توبہ کر کے خدا کی طرف رجوع ہونے والے نہیں۔ نہ وہ کبھی دنیا میں اس غرض سے واپس کیے جاسکتے ہیں کہ دوبارہ یہاں آکر گذشتہ زندگی کی تقصیرات کی تلافی کرلیں۔ پھر ان کو نجات و فلاح کی توقع کدھر سے ہوسکتی ہے۔ ان کے لیے تو صرف ایک ہی وقت ہے جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کریں گے اور اپنی زیادتیوں کے معترف ہو کر پشیماں ہوں گے۔ مگر اس وقت پشیمانی کچھ کام نہ آئے گی وہ وقت قیامت کا ہے جس کے مبادی قریبہ میں سے ہے…
Read the full tafseer →آیت 95 وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَآ اَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ”
اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن بستیوں پر اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہوجاتا تھا ‘ وہاں کے لوگ نبی یا رسول کے آنے کے بعد بھی کفر و شرک سے لوٹنے والے نہیں ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اتمام حجت کے لیے رسول تو بھیج دیتا تھا ‘ لیکن اس کو خوب معلوم تھا کہ کفرو شرک سے ان لوگوں کے رجوع کرنے اور ایمان لانے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ کے عذاب سے جو بستی ایک دفعہ برباد ہوگئی پھر اس کے دوبارہ آباد ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
Read the full tafseer →85 اس آیت کے کئی مطلب بیان کئے جاتے ہیں اور وہ اپنی اپنی جگہ سب ہی درست معلوم ہوتے ہیں۔ ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے واضح ہے۔ بعض مجرم بستیوں کو ہم ہلاک کرتے ہیں۔ تو یہ ان کے جرائم کا پورا بدلہ نہیں ہوتا۔ انھیں قیامت کو یقیناً ہمارے پاس حاضر ہونا ہے۔ اس وقت ہم انھیں ان کے جرائم کی سزا دیں گے اور یہ ناممکن ہے کہ وہ ہمارے پاس نہ آئیں۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف اسی بستی کو ہلاک کرتے ہیں۔ جن کے متعلق ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے برے اعمال سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ ہلاک شدہ بستیوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ہم انھیں دوبارہ زندہ کرکے واپس دنیا میں بھیج دیں۔ تاکہ وہ اب اچھے…
Read the full tafseer →131۔ (اس دنیا میں، حساب کتاب کے لئے) (آیت) ” قریۃ۔ قریۃ بہ “۔ معنی اھل قریہ ہے۔ یعنی جو مرچکے ہیں، ان کے لئے اب قیامت تک واپسی ممکن نہیں، لایرجعون الی الدنیا (کبیر۔ عن قتادۃ ومقاتل) لایرجعون الی الدنیا قبل یوم القیمۃ (ابن کثیر، عن ابن عباس ؓ وابو جعفر الباقر، وقتادۃ وغیرواحد) آیت کی ایک تفسیر یہ بھی آئی ہے کہ جن قوموں کے لئے ہلاکت علم الہی میں مقدر ہوچکی ہے وہ تو ہدایت کی جانب کسی طرح بھی رجوع نہ کریں گے۔ لایرجعون عن الشرک ولا یتولون عنہ (کبیر، عن الحسن ومجاہد) (آیت) ” اھلکنا “۔ اس دوسری تفسیر کی صورت میں اھلاک سے مراد صرف عزم اہلاک ہوگا اور (آیت) ” یرجعون “ میں رجوع سے مراد کفر سے ایمان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →و حرام علی قریۃ اھلکنھا انھم لا یرجعون حرام ہے یعنی ناممکن ہے تصور میں بھی نہیں
لایا جاسکتا۔ اَہْلَکْنٰہَا یعنی جس کو ہلاک کرنے کا ہم نے حکم دے دیا ‘ جس کو تباہ کردیا ہلاکت سے مراد ہے کفر یعنی جس بستی کو ہم نے کافر پایا اس کی نیکیوں کو اکارت نہ جانا ناممکن ہے ہم اس کے نیک اعمال کو ضرور ضائع کردیں گے یا حرام کا یہ مطلب ہے کہ اس بستی کا توبہ کرنا ناممکن ہے یا دنیا میں دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے یا سزا کے لئے ان کا قیامت کے دن زندہ کر کے نہ اٹھایا جانا ناممکن ہے۔ اس مطلب پر اَنَّہُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ کلام سابق کی علت ہوگی یعنی یہ غیر ممکن ہونا اس لئے ہے کہ ان کا توبہ کرنا اور ہماری طرف رجوع کرنا…
Read the full tafseer →(95) اور مکہ والوں کے لیے جیسا کہ ابوجہل اور اس کے ساتھی ہیں جن کو ہم نے کفر کے ساتھ ذلیل کیا ہے ان کے لیے توفیق اور ہدایت ناممکن ہے کہ وہ اپنے کفر کو چھوڑ کر ایمان اختیار کریں یا یہ مطلب ہے کہ مکہ والوں میں سے جن لوگوں کو ہم نے بدر کے دن تہ تیغ کرکے ہلاک کردیا ہے، ان کے لیے دنیا میں لوٹ کر آنا ناممکن ہے۔
Read the full tafseer →وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ۔۔ : اس آیت کے تین معنی ہوسکتے ہیں اور تینوں درست ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا اعجاز ہے کہ ایک آیت کئی معانی کی گنجائش رکھتی ہے۔ پہلے معنی کی صورت میں ”وَحَرٰمٌ“ کا معنی ”ممنوع“ اور ”ناممکن“ ہے اور ”لَا يَرْجِعُوْنَ“ میں ”لَا“ کا حرف زائد ہے، نفی کا معنی نہیں دے رہا، مگر بےفائدہ نہیں بلکہ ”حَرٰمٌ“ کے معنی میں جو نفی پائی جاتی ہے اس میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر فرمایا : (مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ) [ ص : 75 ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ کرے ؟“ دوسری جگہ فرمایا : (مَا مَنَعَكَ اَ لَّا تَسْجُدَ) [ الأعراف : 12 ] ”تجھے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وحرم علی قریۃ اھلکنھا انھم لا یرجعون۔ حضرت زید بن ثابت اور اہل مدینہ کی قرأت و حرام ہے یہ ابو عبید اور ابو حاتم کا اختیار ہے۔ اہل کوفہ کی قرات وحرم ہے یہ حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے حل و حلال اور حضرت ابن عبب اس اور حضرت سعید بن جبیر ؓ سے وحرم حا اور میم کے فتحہ اور را کے کسرہ کے ساتھ مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، عکرمہ اور ابوالعالیہ سے وحرم را کے ضمہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے و حرم، وحرم بھی مروی ہے۔ عکرمہ سے بھی و حرم مروی ہے۔ قتادہ اور مطر وراق سے و حرم مروی ہے یہ نو قرأتیں ہیں۔ سلمی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ یہ تمہارا دین ایک دین ہے۔
ابن جریر نے مجاہد سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
2:۔ عبد بن حمید ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ تمہارا دین ایک اور رب تمہارا ایک ہے اور شریعت مختلف ہے۔
3:۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے تمہاری زبان ایک ہی زبان ہے۔
4:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتقطعوا امرھم بینہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے دین میں اختلاف ہے
5:۔ عبدبن حمید…
Read the full tafseer →[ وَحَرٰمٌ: اور (لوٹنا) حرام ہے ] [ عَلٰي قَرْيَةٍ : کسی ایسی بستی پر ] [ اَهْلَكْنٰهَآ : ہم نے ہلاک کیا جس کو ] [ انهُمْ : کہ وہ لوگ ] [ لَا يَرْجِعُوْنَ : نہیں لوٹیں گے ]
نوٹ۔ 1: آیات۔ 95 ۔ 96 کے سرسری مطالعہ سے یہ مفہوم ذہن میں آتا ہے کہ جس بستی کو اللہ نے ہلاک کیا اس کے لوگ نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں یعنی اس کے بعد وہ لوٹ سکیں گے۔ لیکن ان آیات کا یہ مفہوم نہیں ہے۔ اگر ایک حدیث ذہن میں ہو تو آدمی کا ذہن ان آیات کے صحیح مفہوم تک پہنچ جاتا ہے۔
” ایک حدیث میں یاجوج و ماجوج کی یورش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے پورے پیٹوں کی حاملہ…
Read the full tafseer →ہلاک شدہ بستیوں کے بارے میں یہ طے شدہ بات ہے کہ وہ رجوع نہ کریں گے
اس آیت کے مفہوم میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے حرام کا معروف معنی لیا ہے۔ ای ممتنع اور بعض حضرات نے فرمایا کہ حرام معنی میں ہے واجب کے اور لا کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ وہ زائدہ ہے یا نفی کے معنی میں ہے۔ ہم نے جو اوپر ترجمہ کیا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق ہے۔ انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے وجب انھم لا یرجعون ای لا یتوبون جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کسی بستی کے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرما دیا ہے وہ آخر تک کفر پر ہی جمے رہیں گے اور توبہ نہ کریں گے۔ حتیٰ کہ ہلاک ہوجائیں گے۔
اور حضرت ابن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–104
بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان
ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت
قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…
Read the full tafseer →68:۔ ” وَ حَرَامٌ عَلیٰ قَرْیَةٍ الخ “ حرام یعنی ناممکن اور ممتنع۔ ” اَھْلَکْنَا “ یعنی ہم نے ان کی ہلاکت کا فیصلہ کردیا۔ ” لَایَرْجِعُوْنَ “ بمعنی مصدر ہے یعنی عدم رجوعھم اور مطلب یہ ہوگا کہ جزاء کے لیے ان کا ہماری طرف واپس نہ آنا ممتنع ہے یعنی ضرور ہمارے پاس آئیں گے ای ممتنع البتۃ عدم رجوعھم الینا للجزاء (روح) یا ” لا “ زائدہ اور سیف خطیب ہے یعنی جن لوگوں کی تباہی اور ہلاکت کا ہم نے فیصلہ کردیا ان کا شرک و کفر سے توبہ کر کے توحید اور اسلام کی طرف آنا ممتنع اور ناممکن ہے کیونکہ عذاب سے ہلاک کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جاتا ہے جب حجت خداوندی پوری ہوجائے اور منکرین کے دلوں پر ان کے مسلسل ضد وعناد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…
Read the full tafseer →وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَۃٍ اَہْلَكْنٰہَآ اَنَّہُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ 95
حرم
الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك :
وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً
[ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی: إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف
اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…
Read the full tafseer →وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰـھَـآ اَنَّھُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 95)
(اور ناممکن ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا ہو، وہ پھر پلٹ سکے۔ )
یہاں حرام کا معنی ممنوع ہے۔ قال الراغب الحرام الممنوع
ایک وارننگ
سابقہ آیت کریمہ میں جس طرح نوع انسانی کے لیے امید کا ایک چراغ جلایا گیا اسی طرح نوع انسانی کے لیے اس چراغ کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے ایک وارننگ بھی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت اپنی جگہ لیکن انسانوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون اس قدر بےلچک ہے کہ جب کوئی قوم اپنے وقت کے پیغمبر پر ایمان نہیں لاتی اور اس کی طرف آنے والی کتاب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
فہم القرآن
ربط کلام : صالح اعمال کرنے والوں کی قدر افزائی کا تذکرہ کرنے کے بعد برے لوگوں کے انجام کا ذکر۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں بھی سزا دی اور قیامت کے دن بھی سزا پائیں گے۔
قرآن مجید نے اس حقیقت کو مختلف الفاظ اور انداز میں کئی بار واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی، اس کی مہربانی میں کوئی شخص رکاوٹ نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس کی گرفت سے کوئی کسی کو چھڑا سکتا ہے۔ جب وہ کسی بستی یا قوم کو تباہی کے گھاٹ اتارتا ہے تو پھر کوئی نہیں جو اسے دنیا میں واپس لے آئے۔ اسی حقیقت کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ جب وہ کسی بستی کو…
Read the full tafseer →واپس لوٹنا ناممکن :
95: وَحَرٰمٌ (اور ناممکن ہے)
قراءت : خلف اور حفص کے علاوہ کوفی قراء نے اس کو حِرمٌ پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں لغات ہیں جیسے وَحَلَالٌ اور یہ معنی کے لحاظ سے اس کی ضد میں۔ حرام ؔ سے یہاں مراد وہ جس کا وجود ممتنع ہو۔
عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَآ اَنَّہُمْ لَایَرْجِعُوْنَ (ان بستیوں کیلئے ان کو ہم نے فنا کردیا کہ وہ دنیا میں لوٹ کر آئیں) مطلب یہ ہے یہ بات ہلاک کئے ہوئے کیلئے ناممکن ہے کہ وہ بعث کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف نہ لوٹے۔ نمبر 2۔ ناممکن ہے اس بستی کیلئے جس کو ہم نے تباہ کردیا یعنی ہلاک کرنا مقر ر کردیا یا ہلاکت کا حکم کردیا کہ وہ ان اعمال کی طرف لوٹ آئیں جن کا پہلی آیت میں…
Read the full tafseer →95۔ و حرام علی قریۃ ، حمزہ کسائی ، ابوبکر نے حرم حاء کے کسرہ کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور باقی قراء نے الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں دونوں لغات ہیں۔ جیسے ، حلہ و حلال ہے۔
ابن عباس کا قول ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس بستی کو ہم نے تباہ کردیا اس کا دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں اس مطلب پر لایرجعون میں لام زائدہ ہوگا۔ اھلکناھا ، کہ جس بستی کو ہم ہلاک کردیں وہ واپس لوٹ کرآئے۔ اس صورت میں لاصلہ، ہوگا، اور دوسرے قراء نے کہا کہ حرام بمعنی واجب کے ہے۔ اس صورت میں لاثانیہ ہوگا۔ معنی یہ ہوگا کہ واجب ضروری ہے کہ ہم ان بستی والوں کو ہلاک کریں اور ان کے نیک اعمال ختم نہ کریں۔ انھم لایرجعون، دنیا کی…
Read the full tafseer →95:۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ نافرمانی کے سبب سے جس بستی والوں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا ایسے لوگوں پر قیامت سے پہلے دنیا میں پھر آنا انتظام الٰہی میں حرام ٹھہر چکا ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس کے اس قول کے موافق مَامَنَعَکَ اَنْ لاَّ تَسْجُدَ میں جس طرح حرف ما کے بعد تاکید کے لیے حرف لا بڑھایا گیا ہے۔ اسی طرح لَاَ یَرْجعُوْنَ میں لاَ حرف فقط حَرَامٌ کی تاکید کے لیے بڑھایا گیا ہے قَدْ اَفْلَحَ الْمُئوْمِنُوْنَ میں آوے گا کہ ایسے نافرمان لوگ جب مرجاتے ہیں اور منکر نکیر کے جواب کے لیے ان کے جسم میں روح پھر اللہ کے حکم سے آجاتی ہے تو ایسے لوگوں کا دوزخ کا…
Read the full tafseer →آیت 95
یعنی ان بستیوں کا، جنہیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا، اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی خاطر اس دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں، پس ان کے لئے واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں جنہیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا۔ اس لئے مخاطبین کو ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے جو ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔۔۔. مبادا کہ یہ اعمال انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور اس وقت اس ہلاکت سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لئے تلافی اور استدراک کے وقت اس قسم کے کاموں سے باز آجانا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
125 ایمان باللہ قبولیت عند اللہ کے لیے اولین شرط : سو ایمان کے بغیر کسی کا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں۔ کیونکہ ایمان و عقیدہ بنیادی شرط ہے اعمال کی قبولیت کے لیے۔ اس کے بغیر کسی بھی عمل کی اللہ پاک کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس کی مثال یوں سمجھی جائے کہ جس طرح اکیلے صفر کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوسکتی خواہ وہ کتنے ہی صفر کیوں نہ ہوں لیکن جب ان کے ساتھ کوئی ہندسہ لگ جائے تو وہ سب ہی صفر قیمتی بن جاتے ہیں۔ سو ایسے ہی ایمان و عقیدے کے بغیر کسی بھی عمل کی کوئی قدر و قیمت نہیں لیکن ایمان و عقیدہ کے بعد سب ہی اعمال قیمتی بن جائیں گے ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
لوگوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا
تشریح : جب ہم نے اتنے انبیائے کرام کے متعلق پڑھ لیا تو ہمیں اچھی طرح یہ معلوم ہوگیا کہ تمام انبیاء نے ایک ہی تعلیم دی یعنی توحید کی تعلیم مگر بدنصیبی انسان کی کہ اس نے اپنے اپنے دنیاوی مفادات کے مطابق اصلی تعلیمات کو بدل کر اپنے اپنے عقیدے اور مرضی کے مطابق بالکل الٹ پلٹ کردیا۔ حالانکہ تمام انسان ایک اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ سب برابر ہیں سوائے ان لوگوں کے جو نیک کام کرتے ہیں اور اللہ کو ایک مانتے ہیں ان کو رب العزت نے دنیا میں بھی اعلیٰ درجات دیے اور آخرت میں بھی ان کا مقام بلند ہوگا۔ صاف صاف اور بار بار یہ اعلان قرآن پاک میں اور قرآن سے پہلی کتابوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 9 ۔ یعنی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ کر مکتلف گروہوں میں بٹ گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی اور کوئی بت پرست وغیرہ۔
10 ۔ اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ توحید کی اصل راہ چھوڑنے کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا رہا ؟
Read the full tafseer →(21:95) وھرام علی قریۃ اھلکنھا انہم لا یرجعون۔ اور حرام ہے (ناممکن ہے) کہ جس بستی کو (اہل بستی کو) ہم نے ہلاک کردیا (اس کے باشندے) پھر لوٹ کر آجائیں یہاں لا نفی کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہے وہ ہرگز ہرگز نہیں پلٹے گی۔ اس رجعت کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اس تباہ شدہ بستی (یا اہل بستی کی) حیات نو۔ یعنی جب وہ ایک دفعہ ہلاک کردی گئی تو اس کی نشاۃ ثانیہ ناممکن ہے۔ وہ صرف اب قیامت کے روز ہی اٹھائی جائے گی۔
(2) ان کا توبہ کی طرف رجوع ناممکن ہے تا آنکہ قیامت کا دن آجائے اور اس وقت ان کا رجوع بےفائدہ ہوگا کیونکہ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا۔
(3) ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–103
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103
لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 103
فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(ف 1) حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے موافق آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ نافرمانی کے سبب سے جس بستی والوں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا ایسے لوگوں پر قیامت تک دنیا میں پھر آنا انتظام الٰہی میں حرام ٹھہرچکا ہے ایسے نافرمان لوگ جب مرجاتے ہیں اور منکر نکیر کے جواب کے لیے ان کے جسم میں روح اللہ کے حکم سے آجاتی ہے تو ایسے لوگوں کاٹھکانہ ان کو دوزخ دکھاکر اللہ کے فرشتے ان سے یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اسی ٹھکانے میں رہنے کے لیے تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اس وقت ایسے لوگ دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک کام کرنے کی تمناظاہر کرتے ہیں تو ان کو یہی جواب ملتا ہے کہ اب دنیا میں قیامت تک دوبارہ جاناممن نہیں…
Read the full tafseer →[58] جن کا ہلاک اور غارت ہونا مقدر ہوچکا وہ کبھی اپنے کفر و عصیان کو چھوڑ کر اور توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع ہونے والے نہیں۔ نہ کبھی وہ دنیا میں اس غرض سے واپس بھیجے جاسکتے ہیں کہ دوبارہ یہاں آ کر گزشتہ زندگی کے گناہوں کی تلافی کرلیں۔ ان کے لئے تو صرف ایک ہی وقت ہے جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی طرف رجوع کریں گے اور اپنے گناہوں کے معترف ہو کر پشیمان ہوں گے مگر اس وقت پشیمانی کچھ کام نہ آئے گی کیونکہ وہ وقت قیامت کا ہوگا جس کی علامات میں سے ایک علامت یاجوج ماجوج کا خروج ہے جن کا ذکر اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی جن لوگوں کا فسق وفجور انتہا تک پہنچ جاتا ہے ، عذاب الہی کے مستحق ہوتے ہیں ، وہ عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد رجوع کی صلاحیت نہیں رکھتے ، ان میں پھر دنیا میں لوٹ جانے کی قوت نہیں رہتی ، گو وہ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک موقعہ اور دیا جائے ، مگر اللہ کا ہی فیصلہ ہے کہ عذاب کے بعد ان کے حق میں کوئی رعایت ملحوظ نہ رکھی جائے کیونکہ عذاب آنا ہی اس وقت ہے جبکہ انسانی گناہ حدود اصلاح ورجوع سے تجاوز کر جائیں ۔
Read the full tafseer →(95) اور ہم جن بستیوں کے باشندوں کو فناکر چکے ہیں ان کے لئے یہ بات مقرر ہوچکی ہے اور طے شدہ ہے کہ وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یعنی جزا و سزا کے لئے جو دوبارہ زندگی ہوگی وہ اس عالم کے لئے نہیں بلکہ دوسرے عالم کے لئے ہے۔ جس کے واقع ہونے کی بعض علامات کا آگے ذکر ہے۔
خلاصہ یہ کہ دوبارہ زندگی یقینی ہے یہ نہیں جیسا کہ منکرین سمجھتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا ہی نہیں اور یہ بات بھی نہیں جیسا کہ منکرین مطالبہ کرتے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آجاتی بلکہ اس کا ایک وقت موعود ہے جب وہ وقت موعود آجائے گا تو ابتداء میں اس کی علامات ظاہر ہونگی۔ ان علامات میں سے یا جوج ماجوج کا خروج بھی ہے ہم نے فنا ترجمہ کیا ہے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ف 7۔ جس سے ان حضرات کی کمال عبودیت اور ہماری کمال معبودیت ثابت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →ہماری طرف سے جب ہلاکت کا حکم آجائے تو وہ کبھی واپس نہیں ہوتا :
95۔ زیر نظر آیت میں مرنے والوں کے متعلق فیصلہ موت ہو چکنے کے بعد واپس نہ ہونے کا قانون بیان کیا گیا ہے فرمایا جس آبادی کے لئے ہم نے ہلاکت ٹھہرا دی تو اس کے لئے ممکن نہیں کہ اس فیصلہ کو کسی کے لئے روک دیا جائے یا فیصلہ صادر ہو چکنے کے بعد کبھی وہ دوبارہ لوٹایا جاسکے خواہ وہ ایک انسان ہو یا ایک قوم یا ایک بستی یا ایک علاقہ کے ہزاروں اور لاکھوں لوگ ہوں جب وہ ایک بار ہلاک کردیئے گئے تو اب دوبارہ پیدا ہو کر کے یا زندہ کرکے اس دنیا میں نہیں لائے جاسکتے کیونکہ یہ قانون الہی کے خلاف ہے اور یہ بات طے ہے کہ اپنے قانون کے خلاف اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وَحَرَامٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (It is banned for (the people of) a town We destroyed that they come back - 21:95.) Commentators have given two different meanings to this verse. One, that the town and its people which Allah Ta` ala has destroyed cannot come back to life. The second explanation is that it is binding on the town which Allah has destroyed that it shall not return to this world. (Qurtubl) Thus the meaning of the verse is that the door of repentance is closed after death, and it is no more possible for someone to return to this world and atone…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
92. The Arabic text of (verse 95) may be interpreted in three ways.
(I) The community which is once destroyed by the scourge of Allah can never have a second or new life.
(2) After its destruction, its people are not given a second chance for their test, then they shall be presented in the court of Allah for final judgment.
(3) When a community transgresses the last limits in its wickedness, injustices and disobedience, and Allah ordains to destroy it, no other chance of repentance is given to it because it becomes incapable of turning back to right guidance.
Read the full tafseer →