Explained with ayahs 92–94
تمام شریعتوں کی روح توحید
فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51ۭ) 23۔ المؤمنون :51) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48ۙ) 5۔ المآئدہ :48) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے۔ پھر لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
سورة الْاَنْبِیَآء 91
" تم " کا خطاب تمام انسانوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے انسانو، تم سب حقیقت میں ایک ہی امت اور ایک ہی ملت تھے، دنیا میں جتنے نبی بھی آئے وہ سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے، اور وہ اصل دین یہ تھا کہ صرف ایک اللہ ہی انسان کا رب ہے اور اکیلے اللہ ہی کی بندگی و پرستش کی جانی چاہیے۔ بعد میں جتنے مذاہب پیدا ہوئے اور اسی دین کو بگاڑ کر بنا لیے گئے۔ اس کی کوئی چیز کسی نے لی، اور کوئی دوسری چیز کسی اور نے، اور پھر ہر ایک نے ایک جز اس کا لیکر بہت سی چیزیں اپنی طرف سے اس کے ساتھ ملا ڈالیں۔ اس طرح یہ بیشمار ملتیں وجود میں آئیں۔ اب یہ خیال کرنا کہ فلاں نبی فلاں مذہب کا بانی تھا اور فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
یہاں تک انبیاء (علیہم السلام) کے قصص اور واقعات اور ان کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل کا بیان تھا۔ اصول مثلاً توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت، سب انبیاء (علیہم السلام) میں اصول مشترک ہیں جو ان کی دعوت کی بنیاد ہے جیسا کہ واقعات مذکورہ میں ان حضرات کی سب کوششوں کا محور توحید حق سبحانہ و تعالیٰ کا مضمون تھا۔ اگلی آیات میں بطور نتیجہ قصص توحید کا اثبات اور شرک کی مذمت کا بیان ہے۔
اے لوگو (اوپر جو انبیاء (علیہم السلام) کا طریقہ و عقیدہ توحید کا معلوم ہوچکا ہے) یہ تمہارا طریقہ ہے (جس پر تم کو رہنا واجب ہے) کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کو اختلاف…
Read the full tafseer →یعنی سب کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی تو جو عمل تو جو عمل صالح کریں گے، شرائط آنکہ وہ ایمان اور توحید پر قائم ہوں، وہ اطمینان رکھیں کہ ان کی سعی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم ان کو بھرپور صلہ دیں گے۔ ان کی ایک ایک نیکی کو ہم نوٹ کر رکھیں گے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ ان کا کوئی عمل ہماری یادداشت سے رہ جائے۔ بس یہ شرط ہے کہ وہ ایمان کے ساتھ انجام دیا گیا ہو۔ ہم اس حقیقت کی وضاحت بار بار کرچکے ہیں کہ خدا کے ہاں عمل صرف وہی مقبول ہے جو ایمان کے ساتھ صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کے لئے کیا جائے۔ جو عمل خدا کے لئے نہ کیا جائے اس کی خدا کے ہاں کوڑی کے برابر بھی وقعت نہیں ہے اگرچہ وہ ہجرت و جہاد ہی کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
93۔ 1 یعنی دین توحید اور عبادت رب کو چھوڑ کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ایک گروہ تو مشرکین اور کفار کا ہوگیا اور انبیاء و رسل کے ماننے والے بھی گروہ بن گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی عیسائی، کوئی کچھ اور اور بدقسمتی سے یہ فرقہ بندیاں خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہوگئیں اور یہ بھی بیسیوں فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ان سب کا فیصلہ، جب یہ بارگاہ الٰہی میں لوٹ کر جائیں گیں۔ تو وہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
43: مراد حضرت مریم ؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ ؑ کو بغیر باپ کے پیدا کرکے انہیں اپنی قدرت کاملہ کی ایک عظیم نشانی بنادیا تھا۔
Read the full tafseer →فمن یعمل من اصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ وانا لہ کتبون (21 : 93) ” پھر جو نیک عمل کرے گا اس حال میں کہ وہ مومن ہو ، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی اور اسے ہم لکھ رہے ہیں۔ “ یہ ہے قانون عمل اور جزائے عمل۔ عمل صالح اگر قاعدہ ایمان کے اوپر مبنی ہو تو نہ اس کا انکار ہوگا اور نہ اس کی ناقدری ہوگی۔ وہ اللہ کے ہاں لکھا جا چکا ہوگا اور اس میں سے کوئی چیز لکھنے سے چھوٹ نہیں سکتی۔
اور ایمان پر مبنی ہونا اس لئے ضروری ہے کہ ایمان اور عمل کی قدر و قیمت ہو ، اگر ایمان نہ ہو تو عمل صالح ایمان موجود ہی نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ عمل صالح ایمان کا ثمرہ ہو بلکہ وہ ایمان کا ثبوت ہو۔ ایمان زندگی کی بنیاد ہے…
Read the full tafseer →11 یعنی ہمارے پاس آکر تمام اختلافات کا فیصلہ ہوجائے گا جب ہر ایک کو اس کے کیے کی جزاء ملے گی۔ آگے اس جزاء کی تفصیل ہے۔
12 یعنی کسی کی محنت اکارت نہ جائے گی۔ نیکی کا میٹھا پھل مومن کو مل کر رہے گا۔ کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی ضائع نہ ہوگی ہر چھوٹا بڑا عمل ہم اس کے اعمال نامہ میں ثبت کردیتے ہیں جو قیامت کے دن کھول دیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 94 فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ج ”
اللہ تعالیٰ ”الشّکور“ قدر دان ہے۔ اگر کسی کے دل میں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت موجود ہے تو اس کے اخلاص اور ایثار کے مطابق اس کے ہر نیک عمل کی جزا دی جائے گی۔ ایسے کسی شخص کے چھوٹے سے عمل کی بھی ناقدری نہیں کی جائے گی۔
رہے وہ لوگ جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے لیکن نیکی اور بھلائی کے مختلف کام بھی کرتے ہیں تو اللہ کو ان کے ایسے کسی عمل سے کوئی سروکار نہیں۔ بہر حال جو کوئی بھی نیکی کا کوئی کام اللہ کی رضا اور آخرت کے اجر کی نیت کے بجائے محض دکھاوے یا کسی اور غرض کی بنا پر کرے گا تو اسے اس کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
84 یہ دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے عموماً مذہبی پیشوا قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ یہ علمائے کرام ہوں یا مشائخ عظام اور اس سے ان کا مقصد عموماً حصول مال و جاہ ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیسیوں مقامات پر فرمایا کہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر، حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہی تمام انبیاء کا مشترکہ دین تھا۔ اب یہ حضرات یہ ثابت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ انبیاء اور ہمارے بزرگان کرام سب ہی غیب کی خبریں جانتے ہیں اور اپنے اپنے مریدوں کے احوال پر حاضر و ناظر ہوتے ہیں۔ وہ بزرگ خواہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔ ان کو پکارا جائے یا ان سے فریاد کی جائے تو وہ بھی لوگوں کی فریادیں…
Read the full tafseer →130۔ (سو ایک ذرہ بھی مومن کے عمل کا ضائع نہ جائے گا اور بلااجر نہ رہے گا) (آیت) ” وھو مومن “۔ ایمان ہر حسن عمل کے لئے بنیادی شرط ہے۔ (آیت) ” انا لہ کتبون “۔ فرشتوں کی کتابت اعمال کے فعل کو یہاں اپنی جانب منسوب کرکے فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →من یعمل من الصلحت وہو مؤمن فلا کفران لسعیہ پھر جو شخص (کچھ بھی) نیکیاں مؤمن
ہونے کی حالت میں کرے گا اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی 1 ۔
مؤمن ہونے کی شرط اس لئے لگائی کہ اعمال کا ثواب پانے کی شرط ایمان ہے (بغیر ایمان کے کوئی نیکی ثواب آخرت کے قابل نہیں۔ مترجم) ایمان سے مراد ہے اللہ پر اس کے پیغمبروں پر اور پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعتوں پر ایمان رکھنا اور سب کو سچا ماننا۔
کفران سے مراد ہے ثواب نہ ملنا اور نیکی کا برباد چلا جانا جس طرح اللہ کی طرف سے بندے کی اطاعت کی شکرگزاری کا معنی ہے ثواب عطا کرنا اسی طرح ناشکری کا معنی ہے ثواب نہ دینا۔
وانا لہ کاتبون۔ اور ہم بلاشبہ اس (کے عمل اور کوشش) کو…
Read the full tafseer →(94) سو جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کرتا ہوگا اور وہ اپنے ایمان میں سچا بھی ہوگا تو اس کے اعمال صالحہ کا ثواب ضائع نہیں جائے گا بلکہ اسے اس کے اعمال پر ثواب دیا جائے گا اور ہم اس کو بدلہ اور ثواب دینے والے ہیں اور یہ کہ ہم ان کے اعمال لکھ لیتے ہیں اور ان کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ۔۔ : یعنی ان مختلف گروہوں میں سے جو بھی اس کے مطابق کچھ عمل کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب کہ وہ اللہ تعالیٰ پر، اس کی توحید پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر، خیر و شر تقدیر پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو، تو اس کی کوشش کی کوئی ناقدری نہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو اس کے نامۂ اعمال میں درج فرمائے گا۔
مِنَ الصّٰلِحٰتِ“ میں ”مِنْ“ بعض کے معنی میں ہے۔ (ابوالسعود) یعنی جو شخص صالح اعمال میں سے کچھ اعمال کرے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے۔“ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فمن یعمل من الصلحت وھو مومن من، بعضیہ ہے جنس کے لیے نہیں ہے کیونکہ کسی مکلف کو یہ طاقت نہیں کہ وہ تمام طاعات فرض، نفل کو ادا کرے۔ معنی یہ ہے جو بھی کوئی طاعت کرے گا خواہ وہ فرض ہو یا نفل جبکہ وہ موحد مسلم ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جبکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کرنے والا ہو۔ فلا کفران لسعیہ اس کے عمل کا انکار نہیں یعنی اس کی جزا کو ضائع نہیں کیا جائے گا اور اس کی جزا کو چھپایا نہیں جائے گا۔ کفر کی ضد ایمان ہے اور کفر کا معنی نعمت کی ناشکری کرنا بھی ہے یہ شکر کی ضد ہوگا۔ وقد کفرہ کفوراً وکفراناً اور حضرت ابن مسعود ؓ کے الفاظ ہیں : فلا کفر لسعیہ ہے وانا لہ کتبون۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ یہ تمہارا دین ایک دین ہے۔
ابن جریر نے مجاہد سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
2:۔ عبد بن حمید ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ تمہارا دین ایک اور رب تمہارا ایک ہے اور شریعت مختلف ہے۔
3:۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے تمہاری زبان ایک ہی زبان ہے۔
4:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتقطعوا امرھم بینہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے دین میں اختلاف ہے
5:۔ عبدبن حمید…
Read the full tafseer →[ فَمَنْ : پھر جو ] [ يَّعْمَلْ : عمل کرے گا ] [ مِنَ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں میں سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُوَ : وہ ] [ مُؤْمِنٌ: ایمان لانے والا ہو ] [ فَلَا كُفْرَان : تو کسی قسم کی کوئی ناقدری نہیں ہوگی ] [ لِسَعْيِهٖ : اس کی سعی کی ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَهٗ : اس کو ] [ كٰتِبُوْنَ : لکھنے والے ہیں ]
نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت ایسے ہیں جیسے ایک باپ کے فرزند کہ دین سب کا ایک ہے یعنی اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ کی عبادت، گو احکامِ شرع گوناگوں ہیں۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا۔ بعض اپنے نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے۔ ہر ایک کو…
Read the full tafseer →مومن کے اعمال صالحہ کی ناقدری نہیں ہے
اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جو بھی کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے کوئی بھی نیک کام کرے گا۔ وہ اس کا بھر پور اجر پائے گا۔ کسی کے کسی بھی نیک عمل کی ناقدری نہ ہوگی۔ جس کا جو عمل ہوگا چند در چند بڑھا دیا جائے گا اور کسی نیکی کا ثواب دس نیکی سے کم تو ملنا ہی نہیں ہے۔ دس گنا تو کم سے کم ہے اور اس سے زیادہ بھی بہت بڑھا چڑھا کر ثواب ملے گا۔
(وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوْنَ ) (اور ہم ہر شخص کا عمل لکھ لیتے ہیں) جو فرشتے اعمال لکھنے پر مامور ہیں تمام اعمال لکھتے ہیں قیامت کے دن یہ اعمال نامے پیش ہوں گے۔ جو اعمال کیے تھے سب سامنے آجائیں گے۔ سورة الکہف میں فرمایا (وَ وَجَدُوْا مَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
بیان اجماع انبیاء کرام بر توحید خداوند انام
قال اللہ تعالیٰ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ .... الیٰ .... وانا لہ کتبون۔
(ربط) یہاں تک حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے قصص کا بیان ہوا چونکہ یہ سب حضرات توحید کے داعی تھے اس لیے اخیر میں بطور نتیجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام توحید پر متفق رہے اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ توحید کے بارے میں اختلاف نہ کرو اور صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرو چناچہ فرماتے ہیں اے مخاطبین یہی توحید تمہاری ملت ہے درآنحالیکہ وہ ملت واحدہ ہے جس پر تمام انبیاء گزرے اس میں کسی کا کچھ اختلاف نہیں توحید پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے اور میں…
Read the full tafseer →67:۔ ” فَمَنْ یَّعْمَلْ الخ “ ایمان و توحید والوں اور نیکو کاروں کے لیے بشارت اخروی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…
Read the full tafseer →فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَمُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِہٖ 0ۚ وَاِنَّا لَہٗ كٰتِبُوْنَ 94
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات والعمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف
اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…
Read the full tafseer →فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَلاَ کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ج وَاِنَّا لَـہٗ کٰتِبُوْنَ ۔
(الانبیاء : 94)
(پس جو شخص نیک عمل کرے گا اس حال میں کہ وہ مومن ہو تو اس کے کام کی ناقدری نہیں ہوگی اور ہم اس کے لیے (اس کے اعمال کو) لکھنے والے ہیں۔ )
بہت بڑی بشارت
گزشتہ امتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیائے کرام اور رسولانِ گرامی تشریف لاتے رہے اور مختلف ادوار میں انسانوں کی اصلاح کے لیے مقدور بھر مساعی انجام دیتے رہے، لیکن نزول قرآن کے وقت دنیا کا یہ حال ہے کہ اہل دنیا نے انسانی شیرازہ بندی اور اللہ تعالیٰ کے دین کی وحدت کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہر دردمند دل…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اختلافات سے بچ کر نیک اعمال کرنے والوں کی جزا
انبیاء (علیہ السلام) اور حضرت مریم [ کا ذکر کرنے کے بعد ہر انسان کے لیے یہ اصول واضح کردیا گیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اپنے رب کے برگزیدہ بندے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بڑے بڑے مراتب سے سرفراز فرمایا تھا۔ لیکن جو شخص بھی عقیدہ توحید پر رہتے ہوئے نیک اعمال کرے گا اس کے کسی نیک عمل کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے نیک آدمی کی ہر نیکی لکھی جا رہی ہے۔ لکھنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی طرف فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے ہاں مومن کی نیکی کی کتنی قدر ہے۔ سورة النساء آیت 147…
Read the full tafseer →94: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ (جو شخص بھی نیکیاں کرے) ذرا بھر وَھُوَمُؤْمِنٌ (اس حال میں کہ وہ مومن ہو) جس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ فَلاَ کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ (اس کی کوشش کی ناقدری نہ کی جائے گی) یعنی اس کی کوشش مقبول و منظو رہے۔ کفرانؔ یہ محرومی ثواب میں ایک مثال ہے۔ جیسا کہ شکر عطاء میں ایک حالت ہے بلاغت میں اضافہ کیلئے جنس کی نفی کی گئی ہے۔ وَاِنَّا لَہٗ (اور بیشک ہم اس کے لئے) اس کوشش یعنی ہمارے حکم کی حفاظت و نگہبانی کو کَاتِبُوْنَ (لکھنے والے ہیں) اس کے صحیفہ عمل میں پس اس پر اس کو ثواب دیں گے۔
Read the full tafseer →94۔ فمن یعمل من الصالحات وھو مومن فلاکفرفان لسعیہ، اس کی کوشش کا انکار نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی اس کے عمل کو باطل قرار دیاجائے گا، بلکہ اس کا ثواب دیاجائے گا۔ وانالہ کاتبون۔ اس کے عمل کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بعض نے کہا کہ شکرگزاری کا مطلب ہے ثواب عطا کرنا اور کفران سے مراد ثواب کانہ ملنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
92۔ 94:۔ امت کے معنی ایسی جماعت کے ہیں ‘ جس کے سب آدمی ایک ہی مقصد پر جمے ہوئے ہوں ‘ اس مطلب کے ادا کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہاں امت کے معنی دین کے لیے ہیں ‘ حاصل ان معنوں کا یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے ‘ اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں ‘ ضرورت وقتیہ کے لحاظ سے فقط حلال و حرام کے احکام بدلتے رہے ہیں جس کی ہر ایک نبی کی شریعت کہتے ہیں لیکن اصل دین کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اصل دین کے حساب سے سب انبیاء اس طرح سے ایک ہیں جس طرح ایک باپ کی اولاد میں بھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
آیت 91
یعنی مریم علیہھا السلام کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجئے ! فرمایا، (والتی احصنت فرجھا) یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم علیھا السلام نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم علیھا السلام کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : (انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا) (مریم : 91/81) ” میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
125 ایمان باللہ قبولیت عند اللہ کے لیے اولین شرط : سو ایمان کے بغیر کسی کا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں۔ کیونکہ ایمان و عقیدہ بنیادی شرط ہے اعمال کی قبولیت کے لیے۔ اس کے بغیر کسی بھی عمل کی اللہ پاک کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس کی مثال یوں سمجھی جائے کہ جس طرح اکیلے صفر کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوسکتی خواہ وہ کتنے ہی صفر کیوں نہ ہوں لیکن جب ان کے ساتھ کوئی ہندسہ لگ جائے تو وہ سب ہی صفر قیمتی بن جاتے ہیں۔ سو ایسے ہی ایمان و عقیدے کے بغیر کسی بھی عمل کی کوئی قدر و قیمت نہیں لیکن ایمان و عقیدہ کے بعد سب ہی اعمال قیمتی بن جائیں گے ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
لوگوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا
تشریح : جب ہم نے اتنے انبیائے کرام کے متعلق پڑھ لیا تو ہمیں اچھی طرح یہ معلوم ہوگیا کہ تمام انبیاء نے ایک ہی تعلیم دی یعنی توحید کی تعلیم مگر بدنصیبی انسان کی کہ اس نے اپنے اپنے دنیاوی مفادات کے مطابق اصلی تعلیمات کو بدل کر اپنے اپنے عقیدے اور مرضی کے مطابق بالکل الٹ پلٹ کردیا۔ حالانکہ تمام انسان ایک اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ سب برابر ہیں سوائے ان لوگوں کے جو نیک کام کرتے ہیں اور اللہ کو ایک مانتے ہیں ان کو رب العزت نے دنیا میں بھی اعلیٰ درجات دیے اور آخرت میں بھی ان کا مقام بلند ہوگا۔ صاف صاف اور بار بار یہ اعلان قرآن پاک میں اور قرآن سے پہلی کتابوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 9 ۔ یعنی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ کر مکتلف گروہوں میں بٹ گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی اور کوئی بت پرست وغیرہ۔
10 ۔ اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ توحید کی اصل راہ چھوڑنے کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا رہا ؟
Read the full tafseer →(21:94) کفران۔ کفر یکفر سے مصدر ہے۔ نعمتوں سے ناشکری۔ انکار کرنا۔ نعمت یا کوشش کی ناقدردانی۔ لا کفران لسعیہ اس کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی ! اس کی کوشش اکارت نہیں جائے گی۔ اس کی کوشش کی ناقدری نہیں جائے گی۔ یعنی اس کی ہر کوشش کی کما حقہ قدروقیمت لگائی جائے گی۔
انا لہ کاتبون۔ ہم تو اس کے ہر فعل وعمل کو لکھے جا رہے ہیں اس لئے اس کے عمل میں سے ذرہ برابر بھی بغیر قدروقیمت کے نہ رہے گا۔ یہاں فرشتوں کی کتابت اعمال کو اپنی جانب منسوب کر کے فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–103
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103
لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 103
فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
(ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس نے یہاں امت کے معنی دین کے کیے ہیں کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں لیکن جن لوگوں کی ہدایت ک لیے انبیاء بھیجے گئے انہوں نے انبیاء کی نصیحت کو نہیں مانا اور ایک دین کے بہت کے دین ٹھہرائے مثلا کوئی ستارہ پرست وآتش پرست، پھر فرمایا ایک دن یہ سب اللہ کے روبروحاضر ہوں گے اور ایماندار کے نیک عمل کی جزارائیگاں نہ جاوے گی کیونکہ دس گنا سے لے کر سات سوگنا اور اس سے بھی زیادہ اجر جن نیکیوں کا ہے وہ سب نیکیاں دفتر الٰہی میں صبح وشام لکھی جاتی ہیں اسی طرح بد لوگ اپنی بدی کی سزا سے کس طرح بچ نہ سکیں گے کہ ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
[57] اس وقت وہ اصل دین سے انحراف کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →(ف 1) مقصود یہ ہے کہ کوئی شخص کسی فرقے اور کسی عقیدے کے ساتھ تعلق رکھے ، اگر وہ اسلام کے حقائق تسلیم کرلے اور اپنی زندگی کو سنوار لے ، تو وہ نجات کا مستحق ہے ، اور اس کی مساعی عنداللہ مشکور ہیں ۔
Read the full tafseer →(94) پس جو شخص نیک عمل کا پابند رہتا ہے اور نیک کام کرتا رہتا ہے بشرطیکہ وہ مومن اور صحیح ایمان رکھنے والا ہو تو ایسے شخص کی محنت ضائع نہ ہوگی اور اس کی سعی کو نظر انداز نہیں کی جائے گی اور ہم اس کی محنت اور سعی کو لکھ لیا کرتے ہیں اور اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ یعنی جو سعی اور دوڑ دھوپ اور اعمالِ صالح کے بجالانے میں کوشش کرتا ہے وہ سب نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے وہی نامۂ اعمال قیامت میں ظاہر ہوجائے گا اور اس کے موافق اجر ملے گا اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ف 7۔ جس سے ان حضرات کی کمال عبودیت اور ہماری کمال معبودیت ثابت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ پر ایمان لانے کے بعد نیک عمل کرنے والوں کے کبھی اعمال ضائع نہیں ہوں گے :
94۔ پھر اس ایک ہی آیت کے اندر صاف واضح کردیا کہ نجات وسعادت کا قانون کیا ہے ؟ یعنی قوموں کے اس تقطع اور گروہوں کے اس تفرق کے بعد بھی قانون نجات وسعادت کیا ہے ؟ فرمایا وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی یہی ہے کہ (آیت) ” فمن یعمل من الصالحات وھو مؤمن فلا کفران لسعیہ “۔ نجات کی شرط صرف دو باتیں ہیں ایمان اور عمل صالح جس انسان نے نیک عمل کئے اور اس کے اندر ایمان بھی ہوا تو اس کی سعی کبھی رائیگاں جانے والی نہیں ضروری ہے کہ مقبول ہو فمن کے زور پر غور کرو یہودی کہتے تھے کہ ” کونوا ھودا “ اور نصاری کہتے تھے ” کو نو نصاری “ قرآن کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
Commentary
So far the Surah deals with the stories of the prophets and several basic as well as minor principles relevant to those stories. The basic beliefs such as Oneness of God, prophethood and the day of Resurrection are common to all prophets and are the foundation of their invitation to the people to follow the True Faith.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
91. In this verse, the addressees are the entire mankind. It means: O mankind, in reality all of you belonged to one community and had one and the same religion and all the Prophets brought one and the same creed which was this: Allah alone is the Lord of all mankind, therefore they should worship Him alone. But afterwards the people corrupted this creed and invented and adopted the things they liked and mixed their own theories, whims and practices in it. This brought into being countless communities and religions. Thus it is absolutely wrong to say that a particular Prophet was the founder…
Read the full tafseer →