Explained with ayahs 92–94
تمام شریعتوں کی روح توحید
فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51ۭ) 23۔ المؤمنون :51) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48ۙ) 5۔ المآئدہ :48) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے۔ پھر لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
سورة الْاَنْبِیَآء 91
" تم " کا خطاب تمام انسانوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے انسانو، تم سب حقیقت میں ایک ہی امت اور ایک ہی ملت تھے، دنیا میں جتنے نبی بھی آئے وہ سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے، اور وہ اصل دین یہ تھا کہ صرف ایک اللہ ہی انسان کا رب ہے اور اکیلے اللہ ہی کی بندگی و پرستش کی جانی چاہیے۔ بعد میں جتنے مذاہب پیدا ہوئے اور اسی دین کو بگاڑ کر بنا لیے گئے۔ اس کی کوئی چیز کسی نے لی، اور کوئی دوسری چیز کسی اور نے، اور پھر ہر ایک نے ایک جز اس کا لیکر بہت سی چیزیں اپنی طرف سے اس کے ساتھ ملا ڈالیں۔ اس طرح یہ بیشمار ملتیں وجود میں آئیں۔ اب یہ خیال کرنا کہ فلاں نبی فلاں مذہب کا بانی تھا اور فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
یہاں تک انبیاء (علیہم السلام) کے قصص اور واقعات اور ان کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل کا بیان تھا۔ اصول مثلاً توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت، سب انبیاء (علیہم السلام) میں اصول مشترک ہیں جو ان کی دعوت کی بنیاد ہے جیسا کہ واقعات مذکورہ میں ان حضرات کی سب کوششوں کا محور توحید حق سبحانہ و تعالیٰ کا مضمون تھا۔ اگلی آیات میں بطور نتیجہ قصص توحید کا اثبات اور شرک کی مذمت کا بیان ہے۔
اے لوگو (اوپر جو انبیاء (علیہم السلام) کا طریقہ و عقیدہ توحید کا معلوم ہوچکا ہے) یہ تمہارا طریقہ ہے (جس پر تم کو رہنا واجب ہے) کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کو اختلاف…
Read the full tafseer →خدا کے دین میں تفری پیدا کرنے والوں کو دھمکی
یہ ان لوگوں کو دھمکی ہے جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے اس دین میں بدعتیں پیدا کر کے اس کو پارہ پارہ کیا اور اب ہر گروہ اپنی اپنی ڈگر کی حمایت میں انبیاء کے لائے ہوئے اس مشترک دین کی مخالفت کر رہا ہے جو قرآن اور خدا کے آخری رسول کے ذریعہ سے ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ تم ان مخالفت کرنے والوں کی کوئی پروا، نہ کرو ان سب کی وپاسی بہرحال ہماری ہی طرف ہونی ہے کوئی اور مرجع بننے والا نہیں ہے ہم سب کے آگے اس کا کچا چٹھا رکھ دیں گے۔ کسی کی کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
93۔ 1 یعنی دین توحید اور عبادت رب کو چھوڑ کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ایک گروہ تو مشرکین اور کفار کا ہوگیا اور انبیاء و رسل کے ماننے والے بھی گروہ بن گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی عیسائی، کوئی کچھ اور اور بدقسمتی سے یہ فرقہ بندیاں خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہوگئیں اور یہ بھی بیسیوں فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ان سب کا فیصلہ، جب یہ بارگاہ الٰہی میں لوٹ کر جائیں گیں۔ تو وہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
43: مراد حضرت مریم ؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ ؑ کو بغیر باپ کے پیدا کرکے انہیں اپنی قدرت کاملہ کی ایک عظیم نشانی بنادیا تھا۔
Read the full tafseer →درس نمبر 143 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، پہلے اسباق میں اس کائنات کے اندر جاری تکوینی قوانین قدرت کا ذکر تھا ، جو اس بات کے لئے نشانی تھے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے۔ جن قوانین کے مطابق اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے ، وہ بھی ایک ہیں اور بتاتے ہیں کہ تمام رسولوں کا عقیدہ ایک ہی تھا۔ اس سبق میں مناظر قیامت اور اس کی علامات کا ذکر ہے۔ اس منظر میں مشرکین اور اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کا انجام بتایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ وحدہ متصرف اور متدبر ہے جو پوری کائنات کو چلا رہا ہے۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اقتدار اعلیٰ عطا کرنے کے لئے بھی قوانین…
Read the full tafseer →10 ہم نے تو اصول کے اعتبار سے ایک دین دیا تھا۔ لوگوں نے خود اختلاف ڈال کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرلیے اور آپس میں پھوٹ ڈال دی۔
Read the full tafseer →آیت 93 وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ ط ”
بقول اقبالؔ :
اُڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھُ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری !
یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ فَوَرَبِّکَ لَنَسْءَلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”یہ اسی طرح کی تنبیہہ ہے جس طرح ہم نے ان تفرقہ بازوں کی طرف بھیجی تھی۔ جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ تو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے پوچھ کر رہیں گے“۔ اس کیفیت کی عملی تصویر آج امت مسلمہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ہمارے ہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
84 یہ دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے عموماً مذہبی پیشوا قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ یہ علمائے کرام ہوں یا مشائخ عظام اور اس سے ان کا مقصد عموماً حصول مال و جاہ ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیسیوں مقامات پر فرمایا کہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر، حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہی تمام انبیاء کا مشترکہ دین تھا۔ اب یہ حضرات یہ ثابت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ انبیاء اور ہمارے بزرگان کرام سب ہی غیب کی خبریں جانتے ہیں اور اپنے اپنے مریدوں کے احوال پر حاضر و ناظر ہوتے ہیں۔ وہ بزرگ خواہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔ ان کو پکارا جائے یا ان سے فریاد کی جائے تو وہ بھی لوگوں کی فریادیں…
Read the full tafseer →129۔ (اور آکر دین اصلی سے اپنے انحراف کا نتیجہ دیکھ لیں گے) آیت عام ہے تمام اہل زیغ وضلال کے لئے جو توحید کی صراط مستقیم سے الگ ہٹ ہٹ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اور یاد کرو ایوب (علیہ السلام) کی حالت کو اذ نادیٰ ربہ ایوب سے بدل ہے، جبکہ ان کو ان کے تمام مال و اولاد کو ہلاک کرکے اور ان کے جسم کو پارہ پارہ کرکے اور ان کی بیوی کے علاوہ تمام لوگوں کے ان کو تین سالوں یا سات سالوں یا اٹھارہ سالوں تک چھوڑ دینے اور ان کو تنگ زندگی کے ذریعہ آزمایا گیا انی ہمزہ کے فتحہ اور با کی تقدیر کے ساتھ ہے، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف لاحق ہوگئی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو ان کے اہل یعنی اولاد…
Read the full tafseer →وتقطعوا امرہم بینہم کل الینا رجعون۔ اور انہوں نے آپس میں اپنے کام یعنی دین کو ٹکڑے
ٹکڑے کردیا۔ ہر فرقہ ہماری طرف لوٹ کر آنے والا ہے۔ امر سے مراد ہے دین۔ تقطعوا اگرچہ باب تفعل ہے لیکن باب تفعیل مراد ہے یعنی انہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور فرقے فرقے بن گئے۔ ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگا باوجودیکہ ان کے لئے اس کا جواز نہ تھا۔ ہمارے پاس لوٹ کر آنے سے یہ مراد ہے کہ ہم ان کو سزا جزا دیں گے۔
Read the full tafseer →(93) اگر لوگوں نے اس حقیقت کے باوجود اپنے درمیان اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا ہے اور یہودیوں نے علیحدہ دین اور عیسائیوں نے علیحدہ اور مجوس نے اپنا علیحدہ طریقہ اختیار کرلیا ہے تو باقی ہر ایک گروہ ہمارے پاس آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ :”تَقَطَّعُوْٓا“ باب تفعل سے ہے جو لازم ہے۔ اصل میں ”تَقَطَّعُْوْا فِي أَمْرِھِمْ“ تھا، یعنی وہ اپنے دین کے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ”فِیْ“ کو حذف کرنے کی وجہ سے ”اَمْرَھُمْ“ پر نصب آگیا۔ بعض نے فرمایا کہ یہاں ”تَقَطَّعُوْٓا“ باب تفعیل (قَطَّعُوْا) کے معنی میں ہے جو متعدی ہے، یعنی انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس معنی کی بھی گنجائش ہے، مگر پہلا معنی راجح ہے۔ یعنی سب کا دین ایک اور رب ایک ہے، اس لیے لازم تھا کہ سب ایک جماعت رہتے اور اپنے نبی کی کتاب اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھتے، مگر وہ سب کچھ جانتے ہوئے محض باہمی ضد اور…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتقطعوا امرھم بینہم یعنی دین میں تقسیم ہوگئے ؛ یہ مفہوم کلبی نے بیان کیا ہے۔ اخفش نے کہا : دین میں انہوں نے اختلاف کیا مراد مشرک ہیں۔ انہوں نے چونکہ حق کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت فرمائی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو خدا بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی۔ ازہری نے فرمایا : اس کا مطلب ہے وہ اپنے معاملہ میں پارہ پارہ و گئے۔ امرھم پر نصب فی کے حذف کے ساتھ ہے۔ اس مفہوم پر تقطع فعل لازم ہوگا اور پہلے مفہوم پر متعدی ہوگا اور مراد تمام مخلوق ہے یعنی انہوں نے اپنے اپنے دین کو پارہ پارہ کردیا اور اسے آپس میں تقسیم کرلیا کوئی موحد تھا کوئی یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ یہ تمہارا دین ایک دین ہے۔
ابن جریر نے مجاہد سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
2:۔ عبد بن حمید ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ تمہارا دین ایک اور رب تمہارا ایک ہے اور شریعت مختلف ہے۔
3:۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے تمہاری زبان ایک ہی زبان ہے۔
4:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتقطعوا امرھم بینہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے دین میں اختلاف ہے
5:۔ عبدبن حمید…
Read the full tafseer →[ وَتَقَطَّعُوْٓا : اور لوگوں نے ٹکڑے ٹکڑے کیا ] [ اَمْرَهُمْ : اپنے کام کو ] [ بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [ كُلٌّ: (وہ) سب ہیں ] [ اِلَيْنَا : ہماری طرف ہی ] [ رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے ]
(آیت۔ 93) تَقَطَّعُوْا باب تفعل ہے جس سے زیادہ تر افعال لازم آتے ہیں لیکن تَقَطَّعُوْا لازم اور متعدی، دونوں طرح آتا ہے اور قرآن مجید میں بھی یہ دونوں طرح آیا ہے۔ یہاں اَمْرَھُمْ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ متعدی ہے۔
نوٹ۔ 2: وَتَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ میں اَمْرَھُمْ کا لفظ جامع ہے۔ اس میں یہ صورتحال بھی شامل ہے کہ کچھ لوگ نَبِیِّ وقت پر ایمان نہیں لائے جس کی وجہ سے مذاہب الگ ہوگئے۔ اور اس میں ہماری موجودہ صورتحال بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
تمام حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین واحد ہے
متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور آخر میں فرمایا کہ ان حضرات کا جو دین تھا یہی تمہارا دین ہے۔ یہی دین اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے منظور فرمایا ہے۔ یہ دن توحید ہے۔ تم سب اسی دین کو اختیار کرو۔ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سب توحید کی دعوت لے کر آئے اور اسی کی دعوت دی۔ اصول دین یعنی توحید و رسالت اور معاد میں ان حضرات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب تر ہوں۔ دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ تمام انبیاء آپس میں بھائی ہیں۔ جیسے آپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
بیان اجماع انبیاء کرام بر توحید خداوند انام
قال اللہ تعالیٰ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ .... الیٰ .... وانا لہ کتبون۔
(ربط) یہاں تک حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے قصص کا بیان ہوا چونکہ یہ سب حضرات توحید کے داعی تھے اس لیے اخیر میں بطور نتیجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام توحید پر متفق رہے اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ توحید کے بارے میں اختلاف نہ کرو اور صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرو چناچہ فرماتے ہیں اے مخاطبین یہی توحید تمہاری ملت ہے درآنحالیکہ وہ ملت واحدہ ہے جس پر تمام انبیاء گزرے اس میں کسی کا کچھ اختلاف نہیں توحید پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے اور میں…
Read the full tafseer →66:۔ ” وَ تُقَطِّعُوْا اَمْرَھُمْ الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے یعنی جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور سب توحید پر متفق تھے اور سب توحید ہی کی اشاعت کرتے رہے تو پھر بعد کے لوگوں میں شرک کہاں سے آگیا ؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ بعد کے بد عمل اور ناخلف جانشینوں نے توحید میں اختلاف ڈال دیا اور دنیوی دولت اور لالچ کی وجہ سے شرک کو رواج دینے میں منہمک ہوگئے اچھا سب کو ہمارے پاس ہی آنا ہے اس لیے اپنے کیے کی سزا پالیں گے۔ یعنی دین سب کا ایک تھا سب کا کارساز بھی ایک ہی تھا۔ اور تمام پیغمبر ایک ہی ملت پر متفق تھے لیکن بعد کے لوگوں نے ملت توحید کو پارہ پارہ کردیا۔ وحاصل المعنی الملۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
زکریا (علیہ السلام) کا ذکر خیر :
اللہ نے کئی ایک انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرے فرمایا کہ ہم نے ان کو علم و حکمت دی اور ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا ۔ جب ان پر مصائب آئے تو انہوں نے صبر کیا تمام انبیاء اپنی حاجات اللہ ہی کے سامنے پیش کرتے تھے۔ گزشتہ آیات میں یونس (علیہ السلام) کی ابتلاء اور پھر ان کی مناجات کا ذکر تھا اور اب حضرت زکریا (علیہ السلام) اور پھر حضرت مریم ؓ اور ان کے فرزند حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آرہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے زکریا اور زکریا (علیہ السلام) کا حال بھی دیکھو۔ ہم نے ان کو علم اور حکمت دی وہ اللہ کے پاک نبی تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی جو قبول…
Read the full tafseer →وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَيْنَہُمْ 0ۭ كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَ 93ۧ
قطع
القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ،
( ق ط ع ) القطع
کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا
أمر
الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
1 ؎ اذ وہب مغاضبا سے اگر یہ یہی مراد لیا جائے کہ خدا سے خفا ہو کر چل دیے تھے تو یہ خفگی باہمی محبت میں بیگانوں کے پیار سے زیادہ مرتبہ کہتی ہے اور فطن ان لن نقدر علیہ کے یہ معنی کہ اس خفگی میں ان کا یوں جانا گویا ان کا یہ سمجھ لینا ہے کہ ہم سے بھاگ کر چلے آئے ہیں ہم ان کو پکڑ نہ سکیں گے نہ یہ کہ درحقیقت انہوں نے ایسا گمان بھی کرلیا تھا کیونکہ وہ نبی تھے صفات باری خدا تعالیٰ سے واقف تھے ایسی باتیں عشق و محبت کی باہمی معاملات ابر رموز ہیں ایسی چھیڑ چھاڑ کا حل دفتر عشق سے ہوسکتا ہے عقل کے قانون میں اس کی گنجائش نہیں اس لیے حضرت ذی النون ( علیہ السلام) پر تنبیہ کی گئی مچھلی کے پیٹ میں جا پڑے آخر…
Read the full tafseer →وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَہُمْ ط کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 93)
(اور انھوں نے اپنا دین پارہ پارہ کر ڈالا، ہر ایک کو ہماری ہی طرف لوٹنا ہے۔ )
دین میں اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ
مختلف مذاہب اور مختلف گروہ لوگوں کے باہمی بگاڑ کا نتیجہ ہیں۔ لوگوں نے دین میں نئی نئی بدعتیں ایجاد کیں اور ہر گروہ نے اپنی خواہشات کو دین میں داخل کردیا۔ اس طرح سے دین کو پارہ پارہ اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ نبی آخرالزماں ﷺ کی تشریف آوری کے بعد نوع انسانی کے لیے ازسرنو ایک بنیاد فراہم کردی گئی ہے۔ دین کو کامل کردیا گیا ہے، تمام شریعتوں کو جامع اور کامل شکل میں ایک شریعت کی صورت میں ڈھال دیا گیا ہے۔ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
فہم القرآن
ربط کلام : سولہ انبیاء کرام کا ایک ہی عقیدہ اور ایک جیسا کردار ہونے کی بنا پر انہیں ایک ہی امت کے افراد قرار دیا گیا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل ترین جدوجہد، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اقتدار و اختیار، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اور عبادت گزاری، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت ادریس اور حضرت ذالکفل (علیہ السلام) کا حوصلہ اور ان کی سیرت طیبہ، حضرت یونس (علیہ السلام) کی آزمائش اور اپنے رب کے حضور آہ و زاریاں، حضرت زکریا (علیہ السلام) کی اپنے رب سے اپنے وارث کے لیے دعائیں، حضرت مریم [ کی پاکدامنی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق…
Read the full tafseer →93: وَتَقَطَّعُوْآ اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ (اور انہوں نے آپس میں اپنا کام ٹکڑے ٹکڑے کردیا) اصل کلام اس طرح ہے تقطعتم تم نے ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ البتہ کلام کا رخ مخاطب سے غائب کی طرف پھیرا گیا جیسا کہ التفات کا طریقہ ہے مطلب یہ ہے انہوں نے اپنے دین کے معاملے کو اپنے مابین ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ اور جماعتیں بن گئیں پھر ان کو ڈرایا کہ یہ فرقے مختلف ہیں۔
کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ (تمام ہماری طرف لوٹنے والے ہیں) پس ہم ان کو ان کے اعمال پر بدلہ دیں گے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
93۔ وتقطعو ا امرھم بینھم۔ وہ دین میں اختلاف کرنے لگے تو وہ ٹکڑے ٹکڑے (فرقہ فرقہ ) ہوگئے کلبی کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے دین میں تفرقہ بازی شروع کردی۔ ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے لگے اور وہ ایک دوسرے پر گناہ ڈالنے لگے۔ تقطع یہاں پر تقطیع کے معنی میں ہے۔ کل الینا راجعون۔ ہم ان کو ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
92۔ 94:۔ امت کے معنی ایسی جماعت کے ہیں ‘ جس کے سب آدمی ایک ہی مقصد پر جمے ہوئے ہوں ‘ اس مطلب کے ادا کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہاں امت کے معنی دین کے لیے ہیں ‘ حاصل ان معنوں کا یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے ‘ اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں ‘ ضرورت وقتیہ کے لحاظ سے فقط حلال و حرام کے احکام بدلتے رہے ہیں جس کی ہر ایک نبی کی شریعت کہتے ہیں لیکن اصل دین کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اصل دین کے حساب سے سب انبیاء اس طرح سے ایک ہیں جس طرح ایک باپ کی اولاد میں بھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
آیت 91
یعنی مریم علیہھا السلام کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجئے ! فرمایا، (والتی احصنت فرجھا) یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم علیھا السلام نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم علیھا السلام کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : (انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا) (مریم : 91/81) ” میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →123 خداوند قدوس کے دین میں تفریق کا شکوہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سب کے باوجود لوگوں نے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا اپنے دین کو ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اپنی اپنی اہوا و اَغراض کے مطابق انہوں نے دین کے نام سے طرح طرح کے طریقے ایجاد کرلیے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس بنیادی حقیقت کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا کہ دین سب لوگوں کا ایک ہی دین تھا جو کہ توحید خداوندی کی اساس پر قائم و استوار ہے۔ اور اس بنیادی حقیقت کو بھلا کر اور اس کو پس پشت ڈال کر انہوں نے اپنی اہوا واغراض کے مطابق دین فطرت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر گروہ اپنی مرضی کے ٹکڑے لے کر چل پڑا اور سی پر مست و مگن ہوگیا۔ اور اس طرح وہ دارین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
لوگوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا
تشریح : جب ہم نے اتنے انبیائے کرام کے متعلق پڑھ لیا تو ہمیں اچھی طرح یہ معلوم ہوگیا کہ تمام انبیاء نے ایک ہی تعلیم دی یعنی توحید کی تعلیم مگر بدنصیبی انسان کی کہ اس نے اپنے اپنے دنیاوی مفادات کے مطابق اصلی تعلیمات کو بدل کر اپنے اپنے عقیدے اور مرضی کے مطابق بالکل الٹ پلٹ کردیا۔ حالانکہ تمام انسان ایک اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ سب برابر ہیں سوائے ان لوگوں کے جو نیک کام کرتے ہیں اور اللہ کو ایک مانتے ہیں ان کو رب العزت نے دنیا میں بھی اعلیٰ درجات دیے اور آخرت میں بھی ان کا مقام بلند ہوگا۔ صاف صاف اور بار بار یہ اعلان قرآن پاک میں اور قرآن سے پہلی کتابوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 9 ۔ یعنی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ کر مکتلف گروہوں میں بٹ گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی اور کوئی بت پرست وغیرہ۔
10 ۔ اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ توحید کی اصل راہ چھوڑنے کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا رہا ؟
Read the full tafseer →(21:93) تقطعوا ماضی جمع مذکر غائب تقطع (تفعل) مصدر۔ انہوں نے کاٹ دیا۔ انہوں نے توڑدیا۔ انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا
امرہم۔ ای امر دینہم۔ اپنے دین کے معاملہ کو۔ اپنے دین کے کام کو۔ یعنی اپنے دین کو۔ وتقطعوا امرہم بینہم۔ انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ یعنی اختلافات کو جگہ دی پھر ایک گروہ ایک بات پر جم گیا۔ دوسرے نے دوسری بات کو گرہ میں باندھ لیا۔ علی ہذا القیاس۔ اختلفوا فی الدین فصا روا فرقا واحزابا حتی لعن بعضہم بعضا وتبرا بعضہم من بعض (الخازن) دین میں اختلاف کرنے لگے اور فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے لگے۔ اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
(ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس نے یہاں امت کے معنی دین کے کیے ہیں کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں لیکن جن لوگوں کی ہدایت ک لیے انبیاء بھیجے گئے انہوں نے انبیاء کی نصیحت کو نہیں مانا اور ایک دین کے بہت کے دین ٹھہرائے مثلا کوئی ستارہ پرست وآتش پرست، پھر فرمایا ایک دن یہ سب اللہ کے روبروحاضر ہوں گے اور ایماندار کے نیک عمل کی جزارائیگاں نہ جاوے گی کیونکہ دس گنا سے لے کر سات سوگنا اور اس سے بھی زیادہ اجر جن نیکیوں کا ہے وہ سب نیکیاں دفتر الٰہی میں صبح وشام لکھی جاتی ہیں اسی طرح بد لوگ اپنی بدی کی سزا سے کس طرح بچ نہ سکیں گے کہ ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
[57] اس وقت وہ اصل دین سے انحراف کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
(ف 2) اللہ کا سچا اور اصلی دین اسلام ہے ، جس میں اس کی توحید و تفرید کا اعلان ہے جس میں اس ذات پاک کی ربوبیت کی تلقین ہے ، جو تمام انسانوں کو ایک وحدت میں منسلک کرنا چاہتا ہے ، اور جس کی غرض وغایت یہ ہے کہ نوع انسانی کے دماغی افق کو بلند اور تابناک بنا دیا جائے ، اس کے بعد جتنے فرقے اور گروہ ہیں ، اور جس قدر مذہبی ودینی جماعتیں ہیں سب گمراہی اور ضلالت میں ہیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تمہاری قوم ہی ایک سچی اور اطاعت شعار قوم ہے ، اور یہ لوگ جنہوں نے اپنے وجود کو مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بانٹ لیا ہے مجرم ہیں ، یہ سب کے سب ہمارے پاس آئیں گے ، اس وقت ہم انہیں…
Read the full tafseer →(93) اور لوگوں نے آپس میں اختلاف ڈال کر اپنے کام کو اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لیا لوگوں نے آپس میں۔ یہ سب ہماری طرف واپس ہونے والے ہیں۔
یعنی لوگوں نے دین کی وحدت کو پارا پارا کرکے آپس میں تقسیم کرلیا اور باہم بانٹ لیا ان سب کو ہماری طرف واپس آنا ہے واپسی پر ہم ان کو بتائیں گے اور جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے تھے ان کی حقیقت ان پر واضح کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ف 7۔ جس سے ان حضرات کی کمال عبودیت اور ہماری کمال معبودیت ثابت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →افسوس ! لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے آخر سب کو لوٹ کر ایک ہی طرف جانا ہے :
93۔ غور کرو کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک قرآن کریم نے بیسیوں دعوتوں کا نام بہ نام ذکر کیا اور ان سب دعوتوں کو ایک ایک کرکے دیکھتے جاؤ اور بتاؤ کہ یہ سب توحید اور عقیدہ آخرت کی تعلیم دیتے رہے ہیں یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ ہر ایک نے یہی دعوت دی تو اس پر قیاس کرلو باقی رسولوں اور نبیوں نے بھی یقینا یہی دعوت دی خواہ وہ دنیا کے کسی خطہ میں پیدا ہوئے اور دنیا کی کسی قوم نے ان کو مانا اور یہ بھی کہ جن کی تعلیم نہ ہوگی یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول و نبی نہیں ہوں گے ۔ اس سے لامحالہ یہ ثابت ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
Commentary
So far the Surah deals with the stories of the prophets and several basic as well as minor principles relevant to those stories. The basic beliefs such as Oneness of God, prophethood and the day of Resurrection are common to all prophets and are the foundation of their invitation to the people to follow the True Faith.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
91. In this verse, the addressees are the entire mankind. It means: O mankind, in reality all of you belonged to one community and had one and the same religion and all the Prophets brought one and the same creed which was this: Allah alone is the Lord of all mankind, therefore they should worship Him alone. But afterwards the people corrupted this creed and invented and adopted the things they liked and mixed their own theories, whims and practices in it. This brought into being countless communities and religions. Thus it is absolutely wrong to say that a particular Prophet was the founder…
Read the full tafseer →