Al-Anbiyaa 21:92

Al-Anbiyaa · from ayah 92

21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۖؗ— وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۟اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً  ‌ۖ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ‏

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed this, your religion, is one religion, and I am your Lord, so worship Me.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:92

یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(لوگو) یقین رکھو کہ یہ (دین جس کی یہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں) تمہارا دین ہے جو ایک ہی دین ہے، اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ لہذا تم میری عبادت کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری عبادت کرو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک یہ تمہاری ملت ہے (سب) ایک ہی ملت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک یہ ہے تمہاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ (انبیاء کی جماعت) ہی تمہاری امت ہے جو ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری ہی عبادت کرو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں تو میری ہی عبادت کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک یہ امت ہے تم سب کی ایک ہی امت اور میں رب ہوں تم سب کا پس تم سب لوگ میری ہی بندگی کروف

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک یہ ہے تمہارا طریقہ طریقہ واحد۔ اور میں تمہارا پروردگار ہوں سو تم میری ہی پرستش کرو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تم سب کا رب ہوں لہٰذا تم لوگ میری ہی بندگی کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily this community of yours is a single community, and I am your Lord; so worship Me.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, this is the fraternity of your Faith, a single Faith, and I am your Lord; so worship Me.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, this is the fraternity of your Faith, a single Faith, and I am your Lord; so worship Me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, this, your Ummah is one, and I am your Lord, therefore worship Me.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! this, your religion, is one religion, and I am your Lord, so worship Me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed this, your religion, is one religion, and I am your Lord, so worship Me.

— Saheeh International

People, you are one nation and I am your Lord. Worship Me.

— Muhammad Sarwar

Surely this Islam is your religion, one religion (only), and I am your Lord, therefore serve Me.

— Muhammad Habib Shakir

Verily this community of yours is a single community, and I am your Lord; so worship Me.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily, this brotherhood of yours is a single brotherhood, and I am your Lord and Cherisher: therefore serve Me (and no other).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 92–94

تمام شریعتوں کی روح توحید فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51ۭ) 23۔ المؤمنون :51) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48؀ۙ) 5۔ المآئدہ :48) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے۔ پھر لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–92

سورة الْاَنْبِیَآء 88 مراد ہیں حضرت مریم علیہا السلام۔ سورة الْاَنْبِیَآء 89 حضرت آدمی ؑ کے متعلق بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَراً مِّنْ طِیْنٍ ہ فَاِذَا سَوَّیْتْہ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ سَاجِدِیْنَ (ص۔ آیات 71۔ 72) " میں مٹی سے ایک بشر بنا رہا ہوں، پس (اے فرشتو) جب میں اسے پورا بنا لوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا "۔ اور یہی بات حضرت عیسیٰ کے متعلق مختلف مقامات پر فرمائی گئی ہے۔ سورة نساء میں فرمایا رَسُوْلُ اللہِ وَ کَلِمَتُہ اَلْقٰھَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحً مِّنْہُ ، (آیت 171) " اللہ کا رسول اور اس کا فرمان جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 92–94

خلاصہ تفسیر ربط آیات یہاں تک انبیاء (علیہم السلام) کے قصص اور واقعات اور ان کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل کا بیان تھا۔ اصول مثلاً توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت، سب انبیاء (علیہم السلام) میں اصول مشترک ہیں جو ان کی دعوت کی بنیاد ہے جیسا کہ واقعات مذکورہ میں ان حضرات کی سب کوششوں کا محور توحید حق سبحانہ و تعالیٰ کا مضمون تھا۔ اگلی آیات میں بطور نتیجہ قصص توحید کا اثبات اور شرک کی مذمت کا بیان ہے۔ اے لوگو (اوپر جو انبیاء (علیہم السلام) کا طریقہ و عقیدہ توحید کا معلوم ہوچکا ہے) یہ تمہارا طریقہ ہے (جس پر تم کو رہنا واجب ہے) کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کو اختلاف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انبیاء کی سرگزشت خلاصہ بحث تمام انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب بطور خلاصہ بحث کے فرمایا کہ ان تمام کی دعوت اور ان کا دین ابتداء سے انتہاء تک ایک ہی ہے اور یہ سب انبیاء ایک ہی ملت و امت ہیں اور میں ہی تمہارا رب ہوں مطلب یہ ہے کہ اگر انبیاء کے درمیان کسی نے تفریق کی ہے، ان کے لائے ہوئے دین میں کسی نے بدعتیں ایجاد کی ہیں اور خدا کی توحید میں کس نے شرک کی ملاوٹ کی ہے تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہے۔ ان نبیوں کا دامن ان چیزوں سے پاک ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

92۔ 1 امۃ سے مراد یہاں دین یا ملت یعنی تمہارا دین یا ملت ایک ہی ہے اور وہ دین ہے دین توحید، جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی اور ملت، ملت اسلام ہے جو تمام انبیاء کی ملت رہی۔ جس طرح نبی ﷺ نے فرمایا ' ہم انبیاء کی جماعت اولاد علات ہیں، (جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوں) ہمارا دین ایک ہی ہے ' (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–94

43: مراد حضرت مریم ؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ ؑ کو بغیر باپ کے پیدا کرکے انہیں اپنی قدرت کاملہ کی ایک عظیم نشانی بنادیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان……فاعبدون (92) انبیاء کا گروہ ایک ہی امت اور ایک ہی جماعت ہے۔ اس کا نظریہ بھی ایک ہے اور وہ سب ایک ہی نظام زندگی کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں۔ ان سب کا رخ اللہ ہی کی طرف ہے۔ زمین پر وہ ایک امت ہیں اور آسمانوں پر ان سب کا خدا ایک ہے۔ ان سب کا شعار صرف یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ اس طرح اس سورة کے ساتھ سبق کا یہ آخری تبصرہ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے یہ کہ تمام پیغمبر کلمہ توحید کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں اور اس پوری کائنات کا نظام اس پر شاہد عادل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی خدا بھی ایک اور تمہارا اصل دین بھی ایک ہے۔ تمام انبیاء اصول میں متحد ہوتے ہیں جو ایک کی تعلیم ہے وہ ہی دوسروں کی ہے۔ رہا فروع کا اختلاف وہ زمان و مکان کے اختلاف کی وجہ سے عین مصلحت و حکمت ہے۔ اختلاف مذموم وہ ہے جو اصول میں ہو، پس لازم ہے کہ سب مل کر خدا کی بندگی کریں اور جن اصول میں تمام انبیاء متفق رہے ہیں ان کو متحدہ طاقت سے پکڑیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 92 اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًز ” اُمت ابراہیم ‘ علیہ السلام امت اسماعیل ‘ علیہ السلام امت موسیٰ علیہ السلام ‘ امت عیسیٰ علیہ السلام ٰ ‘ امت محمد ﷺ اور دوسرے تمام انبیاء کی امتیں بنیادی طور پر ایک ہی دین کی پیروکار تھیں اور یوں تمام انبیاء اور ان کے پیروکار گویا ایک ہی امت کے افراد تھے۔ اس مضمون کو سورة البقرۃ ‘ آیت 213 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف یعنی شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں ‘ مختلف گروہوں نے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

83 اس مقام پر امت کا لفظ دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ نیز اس آیت میں تمام بنی نوع انسان یکساں مخاطب ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے دین کے اصول ہمیشہ ایک ہی رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہر چیز کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہذا وہی عبادت کا مستحق ہے۔ اور اسی کو توحید کہتے ہیں۔ پھر اسی توحید کا لازمی نتیجہ یہ بھی تھا کہ اس توحید کو ماننے والوں اور صرف اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیا جائے اور اس کے خلاف کرنے والوں یعنی مشرکوں کو سخت سزا دی جائے۔ گویا روز آخرت اور جزا و سزا پر ایمان رکھنا بھی اسی عقیدہ توحید کے تسلیم کرنے کا تقاضا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ اور روزہ وغیرہ عبادت ہی کی اہم شکلیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

128۔ (جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کا اختلاف نہیں اور جس پر قائم رہنا تمہیں واجب ہے) اے ان ملۃ التوحید التی یجب ان تکونوا علیھا فکونوا علیھا (بیضاوی) اے یجب ان تکونوا علیھا (جلالین) طریقہ سے مراد عقیدۂ توحید۔ البتہ گفتگو اس میں ہے کہ یہاں خطاب کس سے ہے ایک جماعت کا خیال ہے کہ مسلمانوں سے اور (آیت) ” ھذہ “ سے مراد امت مسلمہ ہے۔ والظاھر ان خطاب لمعاصری الرسل ﷺ وھذہ الی ملۃ الاسلام (بحر) دوسرے گروہ کی رائے ہے کہ خطاب عام ہے ساری نسل انسانی کے لئے۔ اور طریقہ سے مراد ہے طریق انبیاء جن کا ذکر اوپر ہوتا چلا آتا ہے۔ ویحتمل ان تکون ھذہ اشارۃ الی الطریقۃ التی کان علیھا الانبیاء المذکورون من توحید اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–93

آیت نمبر 83 تا 93 ترجمہ : اور یاد کرو ایوب (علیہ السلام) کی حالت کو اذ نادیٰ ربہ ایوب سے بدل ہے، جبکہ ان کو ان کے تمام مال و اولاد کو ہلاک کرکے اور ان کے جسم کو پارہ پارہ کرکے اور ان کی بیوی کے علاوہ تمام لوگوں کے ان کو تین سالوں یا سات سالوں یا اٹھارہ سالوں تک چھوڑ دینے اور ان کو تنگ زندگی کے ذریعہ آزمایا گیا انی ہمزہ کے فتحہ اور با کی تقدیر کے ساتھ ہے، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف لاحق ہوگئی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو ان کے اہل یعنی اولاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ بیشک یہ (یعنی توحید کو ماننے اور تمام انبیاء پر ان کے زمانے میں ایمان لانے والوں کی ملت) تمہاری ملت ہے (یعنی تم سب کی ملت ایک ہی ہے۔ مترجم) اے انسانو ! تم سب پر لازم ہے کہ اسی ملت کو اختیار کرو اور اسی پر قائم رہو۔ یہ ایک ہی ملت ہے انبیاء کی ملتوں میں کوئی اختلاف نہیں اور دوسرے لوگوں کی ملتوں کا اس کے ساتھ اشتراک نہیں صرف اسی کا اتباع معتبر ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یَّقْبَلَ مِنْہُاور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا تو اس کا دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ لفظ امت اُمٌّ سے ماخوذ ہے (باب نصر) اُمٌّ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) کہ بغیر باپ کے لڑا پیدا ہوا اور مردوں میں سے بغیر کسی کے ہاتھ لگائے اور قریب آئے حضرت مریم ؑ کے ولادت باسعادت ہوئی اے لوگو یہ ہے تمہارا پسندیدہ طریقہ اور وہ ایک ہی طریقہ ہے اور حاصل یہ کہ میں تمہارا رب حقیقی وحدہ لاشریک ہوں، میری ہی اطاعت کیا کرو،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً۔۔ : بہت سے مفسرین نے یہاں امت سے مراد دین لیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کا قول نقل فرمایا : (اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ) [ الزخرف : 22 ] ”بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک امت (یعنی ایک دین) پر چلتے پایا۔“ یعنی تمہارا دین اور ملت ایک ہی ہے اور وہ ہے دین توحید، اور ”ہٰذِهٖ“ سے مراد اس سے پہلے مذکور انبیاء، نوح، ابراہیم، اسحاق، یعقوب، لوط، داؤد، سلیمان، ایوب، اسماعیل، ادریس، ذوالکفل، یونس، زکریا، مسیح ابن مریم ہیں کہ سب کا ایک ہی دین تھا اور سب توحید پر قائم تھے۔ کسی اور کو معبود، مشکل کشا، شفا دینے والا، بگڑی بنانے والا یا اولاد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ جب انبیاء کرام کا ذکر فرمایا تو فرمایا : یہ تمام توحید پر جمع تھے۔ یہاں امۃ سے مراد دین ہے اور وہ اسلام ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد و غیر ہما کا قول ہے۔ رہے مشرک تو انہوں نے تمام انبیاء کی مخالفت کی۔ وانا ربکم یعنی صرف میں ہی تمہارا پروردگار ہوں۔ فاعبدوں صرف میری عبادت کرو۔ عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے ان ھذہ امتکم واحدۃ پڑھا ہے اور یہ حسن نے ابو عمرو سے روایت کیا ہے۔ باقی قراء نے امۃ واحدۃً پڑھا ہے۔ اس پر نصب قطع کی بنا پر ہے کہ کلام مکمل کرنے کے بعد نکرہ آیا ہے۔ فراء کا قول ہے نحاس نے کہا : امۃ پر نصب حال کی بنا پر ہے یعنی حق پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 92–95

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ یہ تمہارا دین ایک دین ہے۔ ابن جریر نے مجاہد سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ تمہارا دین ایک اور رب تمہارا ایک ہے اور شریعت مختلف ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے تمہاری زبان ایک ہی زبان ہے۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتقطعوا امرھم بینہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے دین میں اختلاف ہے 5:۔ عبدبن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ان : بیشک ] [ هٰذِهٖٓ: یہ ] [ اُمَّتُكُمْ : تم لوگوں کا دین ہے ] [ اُمَّةً وَّاحِدَةً : ایک ہی دین ہوتے ہوئے ] [ وَّانا : اور میں ] [ رَبُّكُمْ : تم لوگوں کا رب ہوں ] [ فَاعْبُدُوْنِ : پس تم لوگ بندگی کرو میری ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 92–93

تمام حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین واحد ہے متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور آخر میں فرمایا کہ ان حضرات کا جو دین تھا یہی تمہارا دین ہے۔ یہی دین اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے منظور فرمایا ہے۔ یہ دن توحید ہے۔ تم سب اسی دین کو اختیار کرو۔ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سب توحید کی دعوت لے کر آئے اور اسی کی دعوت دی۔ اصول دین یعنی توحید و رسالت اور معاد میں ان حضرات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب تر ہوں۔ دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ تمام انبیاء آپس میں بھائی ہیں۔ جیسے آپس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 92–94

بیان اجماع انبیاء کرام بر توحید خداوند انام قال اللہ تعالیٰ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ .... الیٰ .... وانا لہ کتبون۔ (ربط) یہاں تک حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے قصص کا بیان ہوا چونکہ یہ سب حضرات توحید کے داعی تھے اس لیے اخیر میں بطور نتیجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام توحید پر متفق رہے اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ توحید کے بارے میں اختلاف نہ کرو اور صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرو چناچہ فرماتے ہیں اے مخاطبین یہی توحید تمہاری ملت ہے درآنحالیکہ وہ ملت واحدہ ہے جس پر تمام انبیاء گزرے اس میں کسی کا کچھ اختلاف نہیں توحید پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے اور میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

64:۔ ” اِنَّ ھٰذِهٖ اُمَّتُکُمْ الخ “ یہ تمام مذکورہ دلائل نقلیہ سے متعلق ہے یعنی ان تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور وہ سارے کے سارے توحید پر متفق تھے اور سب کا یہی مسلک تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور اس کے سوا حاجات میں غائبانہ پکار کے لائق بھی کوئی نہیں۔ ” اُمَّةً “ یہاں ملت اور دین کے معنوں میں مستعمل ہے اور مراد ملت اسلام اور ملت توحید ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت ہے۔ الامۃ الملۃ وھذہ الاشارۃ الی ملۃ الاسلام وھی ملۃ جمیع الانبیاء (مدرک ج 3 ص 68) ۔ خطاب للناس قاطبۃ والاشارۃ الی ملۃ التوحید والاسلام (روح ج 17 ص 89) ۔ لما ذکر الانبیاء قال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 89–93

زکریا (علیہ السلام) کا ذکر خیر : اللہ نے کئی ایک انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرے فرمایا کہ ہم نے ان کو علم و حکمت دی اور ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا ۔ جب ان پر مصائب آئے تو انہوں نے صبر کیا تمام انبیاء اپنی حاجات اللہ ہی کے سامنے پیش کرتے تھے۔ گزشتہ آیات میں یونس (علیہ السلام) کی ابتلاء اور پھر ان کی مناجات کا ذکر تھا اور اب حضرت زکریا (علیہ السلام) اور پھر حضرت مریم ؓ اور ان کے فرزند حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آرہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے زکریا اور زکریا (علیہ السلام) کا حال بھی دیکھو۔ ہم نے ان کو علم اور حکمت دی وہ اللہ کے پاک نبی تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی جو قبول…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۝ 0ۡۖ وَاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ۝ 92 الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 87–93

1 ؎ اذ وہب مغاضبا سے اگر یہ یہی مراد لیا جائے کہ خدا سے خفا ہو کر چل دیے تھے تو یہ خفگی باہمی محبت میں بیگانوں کے پیار سے زیادہ مرتبہ کہتی ہے اور فطن ان لن نقدر علیہ کے یہ معنی کہ اس خفگی میں ان کا یوں جانا گویا ان کا یہ سمجھ لینا ہے کہ ہم سے بھاگ کر چلے آئے ہیں ہم ان کو پکڑ نہ سکیں گے نہ یہ کہ درحقیقت انہوں نے ایسا گمان بھی کرلیا تھا کیونکہ وہ نبی تھے صفات باری خدا تعالیٰ سے واقف تھے ایسی باتیں عشق و محبت کی باہمی معاملات ابر رموز ہیں ایسی چھیڑ چھاڑ کا حل دفتر عشق سے ہوسکتا ہے عقل کے قانون میں اس کی گنجائش نہیں اس لیے حضرت ذی النون ( علیہ السلام) پر تنبیہ کی گئی مچھلی کے پیٹ میں جا پڑے آخر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اَمَّـۃً وَّاحِدَۃً صلے ز وَّاَنَا رَبُّـکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (الانبیاء : 92) (یہ تمہاری امت، ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں تو میری ہی عبادت کرو۔ ) خلاصہ بحث اس آیت کریمہ میں تمام انسانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ تم نے مذکورہ آیات میں جو مختلف انبیائے کرام کا تذکرہ پڑھا ہے اس سے ممکن ہے تمہیں یہ غلط فہمی ہو کہ ان میں سے ہر پیغمبر اپنی الگ امت کا بانی رہا ہے اور ہر پیغمبر نے اپنی امت کو ایک الگ دین سکھایا ہے۔ اس لحاظ سے دنیا میں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں ان کے اختلاف کا سبب درحقیقت مختلف انبیائے کرام ہیں۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 92–93

فہم القرآن ربط کلام : سولہ انبیاء کرام کا ایک ہی عقیدہ اور ایک جیسا کردار ہونے کی بنا پر انہیں ایک ہی امت کے افراد قرار دیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل ترین جدوجہد، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اقتدار و اختیار، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اور عبادت گزاری، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت ادریس اور حضرت ذالکفل (علیہ السلام) کا حوصلہ اور ان کی سیرت طیبہ، حضرت یونس (علیہ السلام) کی آزمائش اور اپنے رب کے حضور آہ و زاریاں، حضرت زکریا (علیہ السلام) کی اپنے رب سے اپنے وارث کے لیے دعائیں، حضرت مریم [ کی پاکدامنی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

92: اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ (بیشک یہ تمہاری ملت ہے) الامۃؔ ملت کے معنی میں ہے۔ ھذہؔ کا مشار الیہ ملت اسلام ہے اور یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت ہے۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (ایک ہی ملت ہے) یہ حال ہے یعنی ایک ہی ملت ہے جس میں دوسروں کا اشتراک نہیں۔ اور اس میں عامل وہ ہے جس پر اسم اشارہ دلالت کر رہا ہے۔ یعنی ملت اسلام ہی تمہاری وہ ملت ہے جس پر قائم رہنا تمہارے لئے ضروری ہے اور تم اس سے قطعاً انحراف اختیار نہ کرو اس بات کی طرف ایک حلت ہونا اور مختلف نہ ہونا اشارہ کررہا ہے۔ وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ (اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو) میں نے اپنے اختیار سے تمہاری تربیت کی پس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

92۔ ان ھذہ امتکم۔ تمہاری ملت اور تمہارے دین پر ہی ہیں۔ امۃ واحدہ، اور وہ ایک دین اسلام ہے۔ سلام کے علاوہ تمام ادیان باطل ہیں لفظ امت ام سے ماخوذ ہے ۔ ام کا معنی ہے قصد کرنا جو جماعت ایک مقصد پر متفق ہو یا دین وسنت پر متفق ہو اس کو امت کہا جاتا ہے ، وانا ربکم فاعبدون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 92–94

92۔ 94:۔ امت کے معنی ایسی جماعت کے ہیں ‘ جس کے سب آدمی ایک ہی مقصد پر جمے ہوئے ہوں ‘ اس مطلب کے ادا کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہاں امت کے معنی دین کے لیے ہیں ‘ حاصل ان معنوں کا یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے ‘ اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں ‘ ضرورت وقتیہ کے لحاظ سے فقط حلال و حرام کے احکام بدلتے رہے ہیں جس کی ہر ایک نبی کی شریعت کہتے ہیں لیکن اصل دین کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اصل دین کے حساب سے سب انبیاء اس طرح سے ایک ہیں جس طرح ایک باپ کی اولاد میں بھائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 91–94

آیت 91 یعنی مریم علیہھا السلام کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجئے ! فرمایا، (والتی احصنت فرجھا) یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم علیھا السلام نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم علیھا السلام کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : (انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا) (مریم : 91/81) ” میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

120 لفظ " امت " کا معنیٰ و مفہوم اور حضرات انبیاء کے ایک امت ہونے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بیشک ۔ ان حضرات کی ۔ یہ امت جس کا ذکر ہوا ایک ہی امت ہے "۔ " امت " اس جماعت اور گروہ کو بھی کہا جاتا ہے جو ایک ہی عقیدہ و دین رکھتے ہوں۔ جیسا کہ سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اُمَّۃٌ یَّہْدُوْنَ بالَحَقِّ وَبِہ یَعْدِلُوْنَ } ۔ (الاعراف :181) ۔ یا جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا گیا ۔ { وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ } ۔ (آل عمران :104) اسی طرح " امت " کے اس لفظ کا اطلاق اس گروہ کے مقتدا و پیشوا پر بھی ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 85–92

مختلف انبیائے کرام کا تذکرہ تشریح : ان تمام واقعات میں بہت سی نصیحتیں ہیں گو کہ مخاطب سیدنا محمد ﷺ کو ہی کیا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں سیدنا اسماعیل کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ان کو سخت آزمائشوں سے واسطہ پڑا اسی سلسلہ میں خانہ کعبہ کا ظہور ہوا آپ کو مذبوح (ذبح کیے گئے) کا لقب ملا حج پر قربانی انہی کی یاد میں کی جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کو نبوت دی گئی آپ کے مکمل حالات سورة مریم میں گزر چکے ہیں۔ سیدنا ادریس (علیہ السلام) بھی نیکی و پارسائی میں کسی سے کم نہ تھے اور پھر ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ہیں۔ یہ سب اللہ کے مقبول ترین بندے تھے کیونکہ انہوں نے خود کو اللہ کے لیے ہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 76–93

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔ (نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے) نیز داؤد…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کا اختلاف نہیں ہے سو اسی کو اختیار کرنا اور اسی پر قائم رہنا تمہیں واجب ہے۔ مراد ہے مذہب توحید یعنی اسلام… یہاں ” امۃ “ کے معنی دین یا مذہب کے ہیں جیسا کہ سورة زخف (آیت 22) میں ہے۔ ” انا وجدنا اباونا علیٰ امۃ “ کہ ہم نے اپنے آبا و اجداد کو ایک امت (یعنی دین) پر چلتے پایا۔ (قرطبی، شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:92) امۃ۔ امت۔ جماعت۔ مدت۔ طریقہ۔ دین۔ ہر وہ جماعت جس میں کسی قسم کا کوئی رابطہ اشتراک موجود ہوا سے امت کہتے ہیں خواہ یہ اتحاد مذہبی وحدت کی بناء پر ہو۔ یا جغرافیائی اور عصری وحدت کی بنا پر اور خواہ اس رابطہ میں امت کے اپنے اختیار کو دخل ہو یا نہ ہو امت کے مجازی معنی طریقہ ودین کے ہیں۔ عرب والے بولتے ہیں فلان لا امۃ لہ یعنی فلاں کا کوئی طریقہ یا دین نہیں۔ یہاں اس آیت میں مراد دین ہی ہے۔ ان ھذہ امتکم تحقیق یہی تمہارا دین (دین توحید) ہے یعنی تمام متذکرہ بالا انبیاء کا یہی عقیدہ توحید رہا ہے۔ امۃ واحدۃ نصب بوجہ امتکم سے حال کی وجہ سے ہے۔ یہاں خطاب کس سے ہو رہا ہے اس کے متعلق دو اقوال ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 76–93

لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93 الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔ تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93 سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 92–94

(ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس نے یہاں امت کے معنی دین کے کیے ہیں کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں لیکن جن لوگوں کی ہدایت ک لیے انبیاء بھیجے گئے انہوں نے انبیاء کی نصیحت کو نہیں مانا اور ایک دین کے بہت کے دین ٹھہرائے مثلا کوئی ستارہ پرست وآتش پرست، پھر فرمایا ایک دن یہ سب اللہ کے روبروحاضر ہوں گے اور ایماندار کے نیک عمل کی جزارائیگاں نہ جاوے گی کیونکہ دس گنا سے لے کر سات سوگنا اور اس سے بھی زیادہ اجر جن نیکیوں کا ہے وہ سب نیکیاں دفتر الٰہی میں صبح وشام لکھی جاتی ہیں اسی طرح بد لوگ اپنی بدی کی سزا سے کس طرح بچ نہ سکیں گے کہ ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[56] یعنی دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے تھے وہ سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے یعنی یہ کہ اللہ ہی کائنات کا رب ہے اور صرف اسی کی بندگی کرنی چاہئے۔ بعد میں جتنے مذاہب پیدا ہوئے وہ اصل دین کو بگاڑ کر بنا لئے گئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 92–93

(ف 2) اللہ کا سچا اور اصلی دین اسلام ہے ، جس میں اس کی توحید و تفرید کا اعلان ہے جس میں اس ذات پاک کی ربوبیت کی تلقین ہے ، جو تمام انسانوں کو ایک وحدت میں منسلک کرنا چاہتا ہے ، اور جس کی غرض وغایت یہ ہے کہ نوع انسانی کے دماغی افق کو بلند اور تابناک بنا دیا جائے ، اس کے بعد جتنے فرقے اور گروہ ہیں ، اور جس قدر مذہبی ودینی جماعتیں ہیں سب گمراہی اور ضلالت میں ہیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تمہاری قوم ہی ایک سچی اور اطاعت شعار قوم ہے ، اور یہ لوگ جنہوں نے اپنے وجود کو مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بانٹ لیا ہے مجرم ہیں ، یہ سب کے سب ہمارے پاس آئیں گے ، اس وقت ہم انہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(92) لوگو ! یہ ان حضرات مذکورہ کا طریقہ اور دین تمہارا طریقہ اور دین ہے دراسخالی کہ وہ ایک ہی طریقہ اور ایک ہی دین ہے اور وہ یہ کہ میں تمہارا پروردگار ہوں پس میری ہی عبادت کیا کرو۔ یعنی حق تعالیٰ عام خطاب فرماتا ہے کہ انبیائے مذکورہ کا توحید الٰہی کے بارے میں جو طریقہ تھا وہی تمہاری ملت اور طریقہ ہے جو حقیقت میں اصولی اعتبار سے ایک ہی ہے اور تم کو بھی وہی دین اور طریقہ اختیارکرنا چاہئے اور اس دین اور ملت کا ماحصل یہ ہے کہ تمہارا پروردگار میں ہی ہوں۔ لہٰذا عبادت بھی صرف میری ہی کرو۔ ظاہر ہے کہ توحید میں تمام انبیاء (علیہم السلام) کا ایک ہی طریقہ ہے۔ البتہ فروغ میں زمانے کی ضروریات کے لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 90–96

ف 7۔ جس سے ان حضرات کی کمال عبودیت اور ہماری کمال معبودیت ثابت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سارے انبیاء ورسل ایک ہی امت وجماعت تھے سب اللہ کی بندگی کرتے تھے : 92۔ تمام انبیاء ورسل کا مختصر ذکر کرنے کے بعد بطور خلاصہ ارشاد فرمایا کہ ” بلاشبہ تم سب کی امت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تم سب کا پروردگار ہوں “ اس سے یہ بات واضح کردی کہ اصل دین شروع سے لے کر آج تک ایک ہی چلا آرہا ہے اور فروعات کا اختلاف قدرتی ہے جس کو رہنا ضروری ہے اور یہ کہ اصولوں میں اختلاف شروع سے آج تک نہیں ہوا لیکن لوگوں نے اصولوں اور فروعات کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی اور جب یہ رسل وانبیاء سب ایک امت ہیں تو ان کی ساری قومیں کیونکر ایک امت نہ ہوں گی لیکن افسوس یہ کہ جن لوگوں کو یہ ہدایت دی گئی تھی آج وہی اس کے خلاف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–94

Commentary So far the Surah deals with the stories of the prophets and several basic as well as minor principles relevant to those stories. The basic beliefs such as Oneness of God, prophethood and the day of Resurrection are common to all prophets and are the foundation of their invitation to the people to follow the True Faith.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–92

88. That is, Mary (peace be upon her). 89. It should be noted that the incident of the birth of Prophet Jesus (peace be upon him) was not different from that of Prophet Adam, because the wording of the Arabic text in the two cases is almost identical: See (Surah Suad, Ayats 71-72). Besides this in (verse 91), almost similar words have beets used in regard to the birth of Jesus (peace be upon him). See also (Surah An-Nisa, Ayat l71) and(Surah At-Tahrim, Ayat 12). Allah Himself has stated that the birth of Prophet Jesus (peace be upon him) was just like the birth of Prophet Adam: In the sight…

Read the full tafseer →