بلا شوہر اولاد
حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے۔ قرآن میں کریم میں عموما حضرت زکریا ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ کے قصے کے ساتھ ہی ان کا قصہ بیان ہوتا رہا ہے۔ اس لئے کہ ان لوگوں میں پورا رابط ہے۔ حضرت زکریا ؑ پورے بڑھاپے کے عالم میں آپ کی بیوی صاحبہ جوانی سے گزری ہوئی اور پوری عمر کی بےاولاد ان کے ہاں اولاد عطا فرمائی۔ اس قدرت کو دکھا کر پھر محض عورت بغیر شوہر کے اولاد کا عطا فرمانا یہ اور قدرت کا کمال ظاہر کرتا ہے۔ سورة آل عمران اور سورة مریم میں بھی یہی ترتیب ہے مراد عصمت والی عورت سے حضرت مریم ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
سورة الْاَنْبِیَآء 88
مراد ہیں حضرت مریم علیہا السلام۔
سورة الْاَنْبِیَآء 89
حضرت آدمی ؑ کے متعلق بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَراً مِّنْ طِیْنٍ ہ فَاِذَا سَوَّیْتْہ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ سَاجِدِیْنَ (ص۔ آیات 71۔ 72) " میں مٹی سے ایک بشر بنا رہا ہوں، پس (اے فرشتو) جب میں اسے پورا بنا لوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا "۔ اور یہی بات حضرت عیسیٰ کے متعلق مختلف مقامات پر فرمائی گئی ہے۔ سورة نساء میں فرمایا رَسُوْلُ اللہِ وَ کَلِمَتُہ اَلْقٰھَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحً مِّنْہُ ، (آیت 171) " اللہ کا رسول اور اس کا فرمان جو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ان بی بی (مریم کے قصہ) کا بھی تذکرہ کیجئے جنہوں نے اپنے ناموس کو (مردوں سے) بچایا (نکاح سے بھی اور ناجائز سے بھی) پھر ہم نے ان میں (بواسطہ جبرئیل علیہ السلام) اپنی روح پھونک دی (جس سے ان کو بےشوہر کے حمل رہ گیا) اور ہم نے ان کو اور ان کے فرزند (عیسیٰ علیہ السلام) کو دنیا جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کاملہ کی) نشانی بنادیا (کہ ان کو دیکھ سن کر سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے وہ بغیر باپ کے بھی اولاد پیدا کرسکتا ہے اور بغیر ماں اور باپ کے بھی جیسا کہ آدم ؑ
Read the full tafseer →یہ حضرت مریم کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر نہایت تفصیل کے ساتھ سورة مریم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ان کا نام نہیں لیا ہے اس لئے کہ ان کی جو صفت مذکور ہوئی ہے وہ ایک ایسی صفت ہے جس کا موصوف و مصداق ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ یہ اس صفت کے ساتھ ان کے اختصاص کی دلیل ہے۔
احصنت فرجھا کا مفہوم
احصنت فرجھا کو اس کے عام لغوی مفہوم میں نہ لیجیے۔ احصن فوجہ عربی زبان میں اسی طرح کا ایک محاورہ ہے جس طرح بدالثلمۃ وتق الفتق جبرالکر وغیرہ بہت سے محاورات ہیں۔ ان محاورات میں الفاظ کے لغوی مفہوم کا اعتبار نہیں بلکہ اس مفہوم کا اعتبار ہوتا ہے جس کے لئے یہاستعمال ہوئے ہیں۔ احصن فرجہ کا مفہوم قحصن من السوہ اس نے…
Read the full tafseer →91۔ 1 یہ حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کا تذکرہ ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
43: مراد حضرت مریم ؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ ؑ کو بغیر باپ کے پیدا کرکے انہیں اپنی قدرت کاملہ کی ایک عظیم نشانی بنادیا تھا۔
Read the full tafseer →والتی …للعلمین (91)
یہاں مریم کے نام کو بھی حذف کردیا گیا ہے کیونکہ انبیاء کے تذکرے کے سلسلے میں ان کے بیٹے کا ذکر اصل مقصود تھا۔ آپ کا تذکرہ ان کے حالات کے ذیل میں آگیا اور آپ کی صرف اس صفت کو یہاں دہرایا گیا جس کا تعلق آپ کے بیٹے کے ساتھ ہے۔
والتی احصنت فرجھا (21 : 91) ” جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی۔ “ یعنی اس نے اسے کسی قسم کی مباشرت سے بچایا۔ احصان اپنے قانونی استعمال میں نکاح کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ شادی شدہ ہونا دراصل فحاشی سے بچنے اور پاکدامنی اختیار کرنے کی بہترین صورت ہے۔ یہاں یہ لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو ہر قسم کی مباشرت سے بچانا خواہ قانونی یا غیر…
Read the full tafseer →6 یعنی حلال و حرام دونوں طریقوں سے محفوظ تھی۔
7 یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو " روح اللہ " کے لقب سے ملقب ہیں اس کے پیٹ میں پرورش کیا۔
8 ان کا " نشانی " ہونا سورة آل عمران اور سورة مریم میں بیان ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 91 وَالَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا ”
یعنی پوری طرح سے پاک دامن رہیں۔
فَنَفَخْنَا فِیْہَا مِنْ رُّوْحِنَا ”
یعنی حرف ”کُن“ بیٹے کی پیدائش کا ذریعہ بن گیا۔
Read the full tafseer →81 جب اللہ تعالیٰ حضرت آدم کا پتلا بنا کر اسے سنوار لیا تو اس میں اپنی روح سے پھونکا جس سے انسان میں قوت ارادہ اختیار اور قوت تمیز و استنباط ودعیت کی گئی۔ پھر توالد و تناسل کے ذریعہ یہی اوصاف تمام اولاد آدم میں منتقل ہوئے اور یہ اوصاف ایسے ہیں جو کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائے جاتے۔ بعد ازاں اللہ نے اپنی روح کو حضرت مریم کے ہاں بھیجا۔ یہی روح حضرت مریم کے سامنے متمثل ہو کر ایک تندرست انسان کی شکل بن گئی۔ اسی روح نے اپنے آپ کو حضرت مریم کے سامنے تیرے پروردگار کا رسول کہا اور اسی روح نے (جو مفسرین کے قول کے مطابق جبریل) حضرت مریم سے کہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں…
Read the full tafseer →125۔ (مردوں سے تمامتر یعنی نکاح سے بھی اور ناجائز صورتوں سے بھی) مراد مریم بنت عمران (علیہا السلام) ہیں۔ حاشیے سورة آل عمران پ 3 میں گزر چکے۔ یہود جو گندے الزامات آپ پر لگا چکے تھے اور جو آج تک ان کی کتابوں میں منقول چلے آتے ہیں ان کے پیش نظرایسی ہی وضاحت وتصریح سے آپ کی صفائی پیش ہونے کی ضرورت تھی ،
126۔ (بہ واسطہ جبرئیل اور اس سے ان کو بےشوہر حمل رہ گیا) (آیت) ” نفخنا فیھا من روحنا “۔ نفخ روح تو ہر انسان کے لئے ہوتا رہتا ہے، یہ نفخ روح ایک خاص طریقہ پر، معمول عام سے الگ، بہ واسطہ جبرئیل کیا گیا، اس کی تفصیلی کیفیت نہ معلوم ہوسکتی ہے، نہ معلوم کرنے کی ضرورت۔ یہاں تفہیم قرآنی کے سلسلہ میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اور یاد کرو ایوب (علیہ السلام) کی حالت کو اذ نادیٰ ربہ ایوب سے بدل ہے، جبکہ ان کو ان کے تمام مال و اولاد کو ہلاک کرکے اور ان کے جسم کو پارہ پارہ کرکے اور ان کی بیوی کے علاوہ تمام لوگوں کے ان کو تین سالوں یا سات سالوں یا اٹھارہ سالوں تک چھوڑ دینے اور ان کو تنگ زندگی کے ذریعہ آزمایا گیا انی ہمزہ کے فتحہ اور با کی تقدیر کے ساتھ ہے، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف لاحق ہوگئی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو ان کے اہل یعنی اولاد…
Read the full tafseer →والتی احصنت فرجہا اور اس عورت کو یاد کرو جس نے اپنی شرمگاہ کو (حلال اور حرام دونوں سے محفوظ رکھا اس سے مراد مریم بنت عمران ہیں (جو دوشیزہ اور پاکدامن تھیں۔ مترجم) ۔
فنفخنا پھر ہم نے پھونکا یعنی ہمارے حکم سے جبرئیل ( علیہ السلام) نے پھونک ماری۔
فیہا اس کے اندر یعنی مریم کے گریبان کے اندر جبرئیل ( علیہ السلام) نے پھونک ماری اور یہ پھونک مریم کے جسم کے اندر پہنچ گئی اور اس پھونک سے اللہ نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو پیدا کردیا۔
من روحنا اپنی روح سے یعنی اس روح سے جو ہمارے حکم سے ہے اضافت کی وجہ سے مضاف کی عظمت کا
اظہار مقصود ہے یا روح سے مراد ہیں عیسیٰ اور من روحنا میں من زائد ہے اور روحنا مفعول کے…
Read the full tafseer →(91) اور حضرت مریم ؑ کا بھی ذکر کیجیے، جنہوں نے اپنی عزت کو بچایا پھر ان کے گریبان میں ہمارے حکم سے جبریل ؑ نے ہماری روح پھونک دی اور ہم نے ان کو اور ان کے فرزند کو دنیا جہاں والوں کے لیے خاص کر بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کی نشانی بنا دی۔
Read the full tafseer →وَالَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا : یعنی اس خاتون کا بھی ذکر کر جس پر ناپاک لوگ (یہودی) تہمتیں لگاتے ہیں، حالانکہ اس نے اپنی شرم گاہ کو حرام سے محفوظ رکھا، بلکہ عبادت میں ایسی مشغول رہی کہ حلال سے بھی محفوظ رکھا، جیسا کہ فرمایا : (وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ) [ آل عمران : 47 ] ”حالانکہ کسی بشر نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کی نیک شہرت کے اظہار کے لیے اس کا نام نہیں لیا، کیونکہ سب جانتے ہیں اس سے مراد مریم بنت عمران [ ہیں۔
فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا : مراد عیسیٰ ؑ کی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کے حکم سے جبریل ؑ نے پھونکی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والتی اخصنت فرجھا یعنی مریم کو یاد کرو جس نے محفوظ رکھا اپنی عصمت کو۔ حضرت مریم کا ذکر کیا حالانکہ وہ انبیاء میں سے نہیں تھی اس لیے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر مکمل ہو اسی وجہ سے فرمایا : وجعلنھا وابنھا ایۃ للعلمین۔ آیتیں نہیں فرمایا کیونکہ کلام کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان دونوں کے امر، واقعہ اور شان کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنایا۔ زجاج نے کہا : دونوں میں نشانی ایک تھی کیونکہ حضرت مریم نے انہیں بغیر باپ کے جنم دیا تھا۔ سیبویہ کے مذہب پر تقدیر یہ ہے : وجعلنا ھا آیۃ للعالمین وجعلنا ابنھا آیۃ للعالمین پھر حذف کیا گیا اور فراء کے مذہب پر تقدیر یہ ہوگی : وجعلنا ھا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قیصر نے معاویہ ؓ کی طرف لکھا آپ پر سلام ہو اما بعد مجھے بتائیے کہ اللہ کے بندوں میں کون سب سے زیادہ عزت والا ہے اور اس کی بندیوں میں سے کون سب سے زیادہ عزت والی ہے ؟ تو انہوں نے (جواب دیتے ہوئے) ان کی طرف لکھا اما بعد تو نے میری طرف لکھا اور مجھ سے سوال کیا تو میں کہتا ہوں کہ اس کے بندوں میں سے سب سے زیادہ عزت والے آدم (علیہ السلام) ہیں (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے) ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور ان کو سارے نام سکھائے اور بندیوں میں سے سب سے زیادہ عزت والی مریم بنت عمران ہے کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ’ التی احصنت فرجھا “ یعنی جس…
Read the full tafseer →[ وَالَّتِيْٓ: اور (یاد کرو) اس خاتون کو جس نے ] [ اَحْصَنَتْ : حفاظت کی ] [ فَرْجَهَا : اپنی عصمت کی ] [ فَنَفَخْنَا : تو ہم نے پھونکا ] [ فِيْهَا : ان (خاتون) میں ] [ مِنْ رُّوْحِنَا : اپنی روح میں سے ] [ وَجَعَلْنٰهَا : اور ہم نے بنایا ان کو ] [ وَابْنَهَآ : اور ان کے بیٹے کو ] [ اٰيَةً : ایک نشانی ] [ لِـلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لئے ]
ر ج
[ فَرْجًا : کسی چیز میں شگاف ڈالنا۔ دراڑ پیدا کرنا۔ وَاِذَا لسَّمَائُ فُرِجَتْ (جب آسمان میں شگاف ڈالا جائے گا) 77:9]
[ فَرْجٌ ج فُرُوْجٌ۔ اسم ذات بھی ہے۔ شگاف۔ دراڑ۔ پھر کنایہ کے طور پر انسان کی شرمگاہ کے لئے بھی آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 91 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
بڑھاپے میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگنا، اور ان کی دعا قبول ہونا
یہ تین آیات ہیں ان میں پہلے تو حضرت زکریا (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا، ان کا کوئی لڑکا نہ تھا خود بھی بوڑھے تھے اور بیوی بھی بانجھ تھی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسا لڑکا عطا فرمائے جو میرا وارث ہو۔ میں اکیلا ہوں میرے بعد کوئی دینی امور کا سنبھالنے والا ہونا چاہیے۔ مجھے ایسا لڑکا عطا فرمایئے جو میرا خلیفہ بن جائے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انہیں بیٹے کی بشارت دے دی۔
دعا تو اللہ تعالیٰ سے امید باندھ کر کرلی پھر جب فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری دی تو طبعی طور پر انہیں تعجب ہوا کہ میری…
Read the full tafseer →(10) قصہ حضرت عیسیٰ و مریم (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ والتی احصنت فرجھا .... الیٰ .... وجعلنھا وانبھا ایۃ للعلمین۔
یہ دسواں قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے جس پر انبیاء کے قصوں کو ختم فرمایا اور اس سے پہلے حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ مذکور ہوا۔ ان دونوں قصوں میں غایت درجہ مناسبت ہے کہ وہاں بوڑھے مرد اور بوڑھی اور نابجھ عورت سے بچہ پیدا ہونے کا ذکر ہے اور یہاں کنواری سے بغیر شوہر کے لڑکا پیدا ہونے کا ذکر ہے جو اس سے زیادہ عجیب ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی اس عورت کا واقعہ ذکر کیجئے جس نے اپنی ناموس کی پوری اور کامل طور پر حفاظت کی تو ہم نے اس عورت کے…
Read the full tafseer →63:۔ ” وَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ الخ “ یہ دسویں تفصیلی نقلی دلیل ہے حضرت مریم صدیقہ اور حضرت مسیح (علیہما السلام) سے۔ ” اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا “ یعنی اپنے جذبات کو قابو میں رکھا اور دامن عصمت کی حفاظت کی ” وَ اَحْصَنَتْ “ یعنی عفت فامتنعت من الفاحشة (قرطبی ج 11 ص 338) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو نکاح سے باز رکھا اور کسی شادی نہ کی حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) دونوں ماں بیٹا تمام بنی آدم کے لیے ہماری قدرت کاملہ اور مشیت نافذۃ کی واضح نشانی اور دلیل تھے مریم کا بغیر مس بشر بیٹا جننا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا مخلوق کے لیے ایک اعجوبہ اور ہماری قدرت کی علامت ہے۔ وافروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
زکریا (علیہ السلام) کا ذکر خیر :
اللہ نے کئی ایک انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرے فرمایا کہ ہم نے ان کو علم و حکمت دی اور ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا ۔ جب ان پر مصائب آئے تو انہوں نے صبر کیا تمام انبیاء اپنی حاجات اللہ ہی کے سامنے پیش کرتے تھے۔ گزشتہ آیات میں یونس (علیہ السلام) کی ابتلاء اور پھر ان کی مناجات کا ذکر تھا اور اب حضرت زکریا (علیہ السلام) اور پھر حضرت مریم ؓ اور ان کے فرزند حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آرہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے زکریا اور زکریا (علیہ السلام) کا حال بھی دیکھو۔ ہم نے ان کو علم اور حکمت دی وہ اللہ کے پاک نبی تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی جو قبول…
Read the full tafseer →وَالَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِيْہَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنٰہَا وَابْنَہَآ اٰيَۃً لِّـلْعٰلَمِيْنَ 91
حصن
وتَحَصَّنَ : إذا اتخذ الحصن مسکنا، ثم يتجوّز به في كلّ تحرّز،
وقوله تعالی: إِلَّا قَلِيلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ [يوسف/ 48] ، أي : تحرزون في المواضع الحصینة الجارية مجری الحصن
( ح ص ن ) الحصن
تحصن کے اصل معنی نہ تو قلعہ کو مسکن بنا لینا کے ہیں مگر مجا زا ہر قسم کا بجاؤ حاصل کرنے پر لفظ بولا جاتا ہے ۔ اسی سے درع حصینۃ ( زرہ محکم ) اور فرس حصان ( اسپ نرو نجیب کا محاورہ ہے ۔ کیونکہ زرہ بدن کے لئے اور گھوڑا اپنے سوار کے لئے ایک طرح سے بمنزلہ قلعہ کسے ہوتا ہے ۔
اور آیت کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
1 ؎ اذ وہب مغاضبا سے اگر یہ یہی مراد لیا جائے کہ خدا سے خفا ہو کر چل دیے تھے تو یہ خفگی باہمی محبت میں بیگانوں کے پیار سے زیادہ مرتبہ کہتی ہے اور فطن ان لن نقدر علیہ کے یہ معنی کہ اس خفگی میں ان کا یوں جانا گویا ان کا یہ سمجھ لینا ہے کہ ہم سے بھاگ کر چلے آئے ہیں ہم ان کو پکڑ نہ سکیں گے نہ یہ کہ درحقیقت انہوں نے ایسا گمان بھی کرلیا تھا کیونکہ وہ نبی تھے صفات باری خدا تعالیٰ سے واقف تھے ایسی باتیں عشق و محبت کی باہمی معاملات ابر رموز ہیں ایسی چھیڑ چھاڑ کا حل دفتر عشق سے ہوسکتا ہے عقل کے قانون میں اس کی گنجائش نہیں اس لیے حضرت ذی النون ( علیہ السلام) پر تنبیہ کی گئی مچھلی کے پیٹ میں جا پڑے آخر…
Read the full tafseer →وَالَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْھَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنٰـھَا وَابْنَھَـآ اٰ یَـۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 91)
(اور یاد کرو اس پاکدامن بی بی کو جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا، تو ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونکی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے کو دنیا والوں کے لیے (اپنی قدرت کی) نشانی بنادیا۔ )
حضرت مریم [ کا تذکرہ
ان عظیم شخصیتوں کا ذکر ہورہا ہے جنھوں نے ہر طرح کے ناموافق حالات میں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا اور پھر اسی کو پکارا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر اور استقامت کی لاج رکھی اور ان کی دُعائوں کو قبول فرماتے ہوئے ان کو کامیابیوں سے نوازا۔ انھیں میں سے حضرت مریم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم [ کے خالو ہیں۔ اس لیے ان کا ذکر حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بعد کیا گیا ہے۔
یہودی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے ناصرف حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی بلکہ اس کے ساتھ ہی حضرت مریم (علیہ السلام) کی پاک دامنی، شرم و حیا اور ان کے عبادت گزار ہونے کی شہادت دی۔ قرآن مجید نے اس قدر ٹھوس دلائل اور مؤثر انداز میں حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ کو بیان کیا ہے کہ اس کے بعد یہودیوں کا پراپیگنڈہ بےاثر ہو کر رہ گیا۔ یہ قرآن مجید کا عیسائیوں پر عظیم احسان…
Read the full tafseer →تذکرئہ مریم۔ :
91: وَالَّتِیْ (اور یاد کرو اس عورت کو) عبارت اس طرح ہے : اذکر التی اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا (جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی) حلال و حرام ہر دو سی۔ فَنَفَخْنَافِیْھَا مِنْ رُّوْحِنَا (پھر ہم نے پھونکا اس کے اندر اپنی روح کو) ہم نے اس میں روح مسیح کو جاری کردیا۔ نمبر 2۔ ہم نے جبرئیل کو حکم دیا انہوں نے مریم کے گریبان میں پھونک ماری۔ پھر اس پھونک سے عیسیٰ کو مریم کے بطن میں پیدا کردیا۔ اضافت روح کی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف کیلئے فرمائی ہے۔
وَجَعَلْنٰہَا وَابْنَھَآاٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو جہان والوں کیلئے نشانی بنادیا) ایۃؔ…
Read the full tafseer →91۔ والتی احصنت فرجھا “ حرام اشیاء سے اس کی حفاظت کی۔ اس سے مراد مریم بنت عمران ہیں۔ فنفخنافیھا من روحنا، ہم نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اس کے سینہ بند میں پھونک ماریں اور پھر اس پھونک کے ذریعے ہم ان کے پیٹ سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو پیدا کریں گے۔ روح کی اضافت ان کی طرف کی عیسیٰ کی شرافت کی وجہ سے ۔ وجعلنا ھاوابنھا آیۃ للعالمین، اپنی کمال قدرت کی دلیل مخلوق کے سامنے واضح کرنا تھی کہ اللہ بغیر باپ کے اولاد دے سکتا ہے۔ یہاں پر، آیہ، واحد کا ذکر کیا، تثنیہ کا ذکر نہیں کیا۔ آیتین ، یا آیتان، نہیں فرمایا کیونکہ کلام کا معنی یہ ہیہ کہ ہم نے ان دونوں کی شان اور دونوں کے حکم کو…
Read the full tafseer →91۔ مریم (علیہا السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سورة آل عمران اور سورة مریم میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے مریم (علیہا السلام) کو جو دو حیض آئے تھے ان میں آخری حیض سے فارغ ہو کر جب وہ سب سے الگ نہانے کو گئیں اور پردہ ڈال کر نہانے کا ارادہ کیا تو ایک خوبصورت مرد کی شکل میں جبرئیل (علیہ السلام) ان کو نظر آئے۔ مریم (علیہا السلام) نے مرد کی شکل دیکھ کر یہ کہا کہ اے شخص اگر تو پرہیز گار آدمی ہے تو میں تیرے بد ارادہ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے مریم (علیہا السلام) کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ اے مریم میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
آیت 91
یعنی مریم علیہھا السلام کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجئے ! فرمایا، (والتی احصنت فرجھا) یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم علیھا السلام نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم علیھا السلام کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : (انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا) (مریم : 91/81) ” میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →118 حضرت مریم بتول کا ذکر جمیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پاک دامن خاتون کا بھی ذکر کرو جس نے اپنی عصمت و ناموس کو محفوظ رکھا۔ پھر ہم نے اس کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے ان کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل قرار پا گیا تھا۔ اور حضرت عیسیٰ جیسے پاکیزہ بچے نے معجزانہ طور پر بغیر باپ کے ان کے بطن سے جنم لیا تھا۔ سو حضرت عیسیٰ ایک پاکیزہ انسان تھے جو ایک پاکیزہ والدہ ماجدہ کے بطن سے بغیر والد کے واسطے کے محض حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی خاص قدرت و عنایت سے پیدا ہوئے تھے۔ پس جن یہود بےبہبود نے آنجناب کے نسب طاہر میں طعن کا ارتکاب کیا انہوں نے کفر کو اپنا کر اپنے لیے جہنم کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
مختلف انبیائے کرام کا تذکرہ
تشریح : ان تمام واقعات میں بہت سی نصیحتیں ہیں گو کہ مخاطب سیدنا محمد ﷺ کو ہی کیا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں سیدنا اسماعیل کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ان کو سخت آزمائشوں سے واسطہ پڑا اسی سلسلہ میں خانہ کعبہ کا ظہور ہوا آپ کو مذبوح (ذبح کیے گئے) کا لقب ملا حج پر قربانی انہی کی یاد میں کی جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کو نبوت دی گئی آپ کے مکمل حالات سورة مریم میں گزر چکے ہیں۔ سیدنا ادریس (علیہ السلام) بھی نیکی و پارسائی میں کسی سے کم نہ تھے اور پھر ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ہیں۔ یہ سب اللہ کے مقبول ترین بندے تھے کیونکہ انہوں نے خود کو اللہ کے لیے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی نکاح سے بھی اور ناجائز صورتوں سے بھی۔ یہاں احصان (عصمت قائم رکھنے) کا لفظ عام معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ قرآن نے متعدد مقامات پر تصریح کی ہے کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) نے نہ نکاح کیا اور نہ وہ حرام کاری کی مرتکب ہوئیں۔ (مریم : 02)
6 ۔ مراد ہے حضرت عسیٰ ( علیہ السلام) کی۔ وہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل ( علیہ السلام) نے پھونکی تھی لیکن تعظیم و تشریف کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے پھونکنے کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ مزید دیکھئے (نساء : 171)
7 ۔ قدرت الہٰی کی پیدائش بن باپ کے ہوئی تھی۔ اگر حضرت مریم شادی شدہ ہوتیں اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش باپ ہوئی ہوتی تو ان کی کیا…
Read the full tafseer →(21:91) والتی۔ ای واذکر التی۔ اور یا دکر اس (خاتون) کو جس نے ۔۔
احصنت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ احصان (افعال) مصدر، اس عورت نے حفاظت کی (یعنی اپنی عصمت وعفت کی حفاظت کی) نیز ملاحظہ ہو (21:80) ۔
فرجھا۔ مضاف (بحالت نصب) ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ اپنی شرمگاہ الفرجۃ والفرج کے معنی دو چیزوں کے درمیان شگاف کے ہیں۔ جیسے دیوار میں شگاف یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کی کشادگی۔ کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرمگاہ پر بولاجاتا ہے خواہ مرد کی ہو یا عورت کی۔ قرآن مجید میں آیا ہے لفروجہم حفظون۔ (23:5) وہ (مرد) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور ویحفظن فروجھن (24:31) اور وہ (عورتیں) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →(ف 1) سورة مریم میں اس قصہ کی تفصیل زیادہ ہے اس لیے سورة مریم کی آیتیں گویا اس آیت کی تفسیر ہیں مریم کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو سب جہاں والوں کے لیے عبرت اور قدرت کانمونہ بنایا کہ بن باپ کے فرزند دکھایا بالخصوص بنی اسرائیل کو۔
Read the full tafseer →[45] مراد ہیں مریم (علیہ السلام) ۔
[55] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔
Read the full tafseer →مسیح (علیہ السلام) اللہ کی نشانی ہیں :
(ف 1) حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی روح کی نفخ سے تعبیر کیا ہے ، کیونکہ ان کو خرق عادات کے طور پر پیدا کیا گیا ، اور اس لئے بھی کہ ان کا درجہ ومقام بہت بلند تھا ، یہودیوں کو یہ بتلانا مقصود ہے ، کہ تمہارے ظنون فاسدہ بےدینی اور الحاد پر مبنی ہیں ، ورنہ مریم عفیفہ اور مسیح ناصری اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک نشانی ہیں ۔
Read the full tafseer →(91) اور اس پاک دامن عورت کا بھی ذکر کیجئے جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو اقوام عالم کے لئے بہت بڑا نشان بنایا۔ یعنی حضرت مریم (علیہ السلام) جو ایک پاک دامن عورت تھیں ان کا بھی ذکر کیجئے انہوں نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی وساطت سے ان میں اپنی روح پھونک دی اور وہ بغیر کسی بشر کے حاملہ ہوگئیں اور ان کے ہاں حضرت عیسیٰ روح اللہ پیدا ہوئے اور ہم نے حضرت مریم اور ان کے صاحبزادے روح اللہ کو اقوام عالم کے لئے ایک زبردست اور بہت بڑانشان مقرر کیا تاکہ دنیا جہان والے یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ف 7۔ جس سے ان حضرات کی کمال عبودیت اور ہماری کمال معبودیت ثابت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →سیدہ مریم کا بغیر نام لئے ذکر فرمایا کہ اس نے عصمت کی حفاظت کی اور رواج کو توڑ کر رکھ دیا :
91۔ وہ عورت جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی وہ کون تھی ؟ وہ سیدہ مریم بنت عمران تھی جو سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ تھی جس نے قوم کے رواج کے خلاف قدم اٹھایا اور اس دلیری سے اٹھایا کہ قوم دیکھتی کی دیکھتی ہی رہ گئی اور اس نے قومی نظریہ کے خلاف اللہ تعالیٰ کے قانون کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا ۔ سیدہ مریم منذورہ تھیں اور یہود کے رواج کے مطابق جو مرد و عورت ہیکل کی نذر کی جاتی شادی اس کے لئے ممنوع قرار دی گئی تھی لیکن یہ بات موسوی شریعت کی نہ تھی بلکہ قومی رواج تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی اس بندی کو وہ قوت…
Read the full tafseer →Commentary
This verse directs the Holy Prophet ﷺ to tell his people the story of the pious lady who controlled her passions and then through Jibra'il (علیہ السلام) Allah had breathed His Spirit into her and she gave birth to a son (Sayyidna ` Isa علیہ السلام) who was a symbol of Allah's Divine Power that He can cause babies to be born without a father, and also without both the parents as in the case of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
88. That is, Mary (peace be upon her).
89. It should be noted that the incident of the birth of Prophet Jesus (peace be upon him) was not different from that of Prophet Adam, because the wording of the Arabic text in the two cases is almost identical: See (Surah Suad, Ayats 71-72). Besides this in (verse 91), almost similar words have beets used in regard to the birth of Jesus (peace be upon him). See also (Surah An-Nisa, Ayat l71) and(Surah At-Tahrim, Ayat 12). Allah Himself has stated that the birth of Prophet Jesus (peace be upon him) was just like the birth of Prophet Adam: In the sight…
Read the full tafseer →