Al-Anbiyaa 21:83

Al-Anbiyaa · from ayah 83

21:83

وَاَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۟ۚۖوَاَيُّوۡبَ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‌

اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention] Job, when he called to his Lord, "Indeed, adversity has touched me, and you are the Most Merciful of the merciful."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:83

اور یہی (ہوش مندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایّوبؑ کو دی تھی یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ "مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایوب ؑ کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ایوب کو دیکھو ! جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : مجھے یہ تکلیف لگ گئی ہے، اور تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ایوب (علیہ السلام کا قصّہ یاد کریں) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف چھو رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ایوب، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک میں، مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہی نعمت ہم نے ایوب کو بھی دی تھی جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا : مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ایوب پر بھی ہم نیح رحمت کی۔ جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مبتلائے آزار ہوں اور تو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ایوب کو بھی یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے روگ لگ گیا ہے اور تو ہی اے میرے مالک ! سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ایوب (کا تذکرہ کیجیے)۔ جب کہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو تو سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ایوب (پر بھی ہمارا فضل ہوا) جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بہت زیادہ تکلیف پہنچی ہے اور تو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ایوب نے جب اپنے رب سے دعا کی کہ مجھ پر تکلیف پڑی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنیوالا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We bestowed (the same wisdom, judgement and knowledge) upon Job. Recall, when he cried to his Lord: "Behold, disease has struck me and You are the Most Merciful of those that are merciful."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (remember) Ayyub (Job), when he called his Lord saying, :Here I am, afflicted by pain and You are the most merciful of all the merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

And (remember) Ayyub (Job), when he called his Lord saying, :Here I am, afflicted by pain and You are the most merciful of all the merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) Ayyub, when he cried to his Lord: "Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Job, when he cried unto his Lord, (saying): Lo! adversity afflicteth me, and Thou art Most Merciful of all who show mercy.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention] Job, when he called to his Lord, "Indeed, adversity has touched me, and you are the Most Merciful of the merciful."

— Saheeh International

When Job prayed, "Lord, I have been afflicted with hardships. Have mercy on me; You are the Most Merciful of those who have mercy,

— Muhammad Sarwar

And Ayub, when he cried to his Lord, (saying): Harm has afflicted me, and Thou art the most Merciful of the merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And Ayyub! recall what time he cried unto his Lord: verily hurt hath touched me, and Thou art the Most Merciful of the mercifuls.

— Abdul Majid Daryabadi

And (remember) Job, when He cried to his Lord, "Truly distress has seized me, but Thou art the Most Merciful of those that are merciful."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:83

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–84

آزمائش اور مصائب ایوب ؑ حضرت ایوب ؑ کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال و متاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ کی ایک بیوی صاحبہ ؓ کے اور کوئی آپ کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 76 حضرت ایوب کی شخصیت، زمانہ، قومیت، ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے۔ جدید زمانے کے محققین میں سے کوئی ان کو اسرائیلی قرار دیتا ہے، کوئی مصری اور کوئی عرب۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ سے پہلے کا ہے، کوئی انہیں حضرت داؤد و سلیمان کے زمانے کا آدمی قرار دیتا ہے، اور کوئی ان سے بھی متاخر۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سِفْرِ ایوب یا صحیفہ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل ہے۔ اسی کی زبان، انداز بیان، اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں، نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر۔ اور اس سِفْرِ ایوب کا حال یہ ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–84

خلاصہ تفسیر اور ایوب (علیہ السلام کے قصے کا تذکرہ کیجئے جب کہ انہوں نے (مرض شدید میں مبتلا ہونے کے بعد) اپنے رب کو پکارا کہ مجھ کو یہ تکلیف پہنچ رہی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں (تو اپنی مہربانی سے میری یہ تکلیف دور کر دیجئے) تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور (بغیر ان کی درخواست کے) ہم نے ان کا کنبہ (یعنی اولاد جو ان سے غائب ہوگئے تھے (قالہ الحسن کذا فی الدار المنثور) یا مر گئے تھے (کما قال غیرہ) عطا فرمایا (اس طرح سے کہ وہ اس کے پاس آگئے یا بایں معنی کہ اتنے ہی اور پیدا ہوگئے، قالہ عکرمہ کما فی فتح المنان) اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 83–84

حضرت ایوب اور ان کا مثالی صبر شکر کی دو اعلیٰ مثالیں پیش کرنے کے بعد اب یہ ان انبیائے کرام کا ذکر آ رہا ہے جنہوں نے صبر کی نہایت اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت ایوب کا ذکر فرمایا ہے۔ سفر ایوب سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک عوض میں حضرت ایوب ایک نہایت کامل اور راستباز انسان تھے۔ خدا نے انہیں بڑا خاندان اور بڑی دولت دے رکھی تھی۔ ان کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ سات ہزار بھیڑیں، تین ہزار اونٹ، ایک ہزار بیل اور پانچ سو بار براداری کے گدھے ان کے پاس تھے۔ ان کے نوکر چاکر بھی بیشمار تھے۔ اہل مشرق میں یا اس درجہ کا مالدار کوئی اور نہ تھا لیکن یہ تمام خدم و حشم رکھنے کے باوجود وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 82–83

82۔ 1 جنات بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع تھے جو ان کے حکم سے سمندروں میں غوتے لگاتے اور موتی اور جواہر نکال لاتے، اسی طرح دیگر عمارتی کام، جو آپ چاہتے کرتے تھے۔ 82۔ 2 یعنی جنوں کے اندر جو سرکشی اور فساد کا مادہ ہے، اس سے ہم نے سلیمان ؑ کی حفاظت کی اور وہ ان کے آگے سرتابی کی مجال نہیں رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

37: حضرت ایوب ؑ کے بارے میں قرآن کریم نے اتنا بتایا ہے کہ انہیں کوئی سخت بیماری لا حق ہوگئی تھی لیکن انہوں نے صبر و ضبط سے کام لیا، اور اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا عطا فرمائی، وہ بیماری کیا تھی ؟ اس کی تشریح قرآن کریم نے بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی، اس لیے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے، اور جو روایتیں اس سلسلے میں مشہور ہیں، وہ عام طور سے مستند نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب ذرا مصائب میں مبتلا کر کے آزمانے کا واقعہ آتا ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ۔ وایوب اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔ و ذکری للعبدین (48) ” ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ قرآن مجید کے ابتلاء کے قصوں میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت قصہ ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں یہ قصہ آیا ہے۔ یہ مجمل شکل میں آیا ہے۔ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس جگہ یہاں حضرت ایوب کی دعا اور قبولیت دعا کا ذکر ہے کہون کہ اس سورة میں موضوع اور مضمون یہ اپنے بندوں پر رحمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور آزمائش میں ان کی امداد ہے خواہ یہ آزمائش قوم کی طرف سے تکذیب کی صورت میں ہو ‘ مثلا قصہ ابراہیم ‘ لوط اور نوح (علیہم السلام) میں یا اللہ کی جانب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 83–84

5 حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے دنیا میں سب طرح آسودہ رکھا تھا، کھیت، مواشی، لونڈی، غلام، اولاد صالح اور عورت مرضی کے موافق عطا کی تھی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) بڑے شکر گزار بندے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمائش میں ڈالا، کھیت جل گئے، مویشی مرگئے، اور اولاد اکٹھی دب مری، دوست آشنا الگ ہوگئے، بدن میں آبلے پڑ کر کیڑے پڑگئے ایک بیوی رفیق رہی، آخر وہ بیچاری بھی اکتانے لگتی۔ مگر حضرت ایوب (علیہ السلام) جیسے نعمت میں شاکر تھے ویسے ہی بلا میں صابر رہے۔ جب تکلیف و اذیت اور دشمنوں کی شماتت حد سے گزر گئی۔ بلکہ دوست بھی کہنے لگے کہ یقینا ایوب (علیہ السلام) نے کوئی ایسا سخت گناہ کیا ہے جس کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 83 وَاَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ ” حضرت ایوب علیہ السلام بھی جلیل القدر نبی ہیں اور قرآن میں آپ علیہ السلام کو صابر کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شدید بیماریوں کے ذریعے آپ علیہ السلام کی آزمائش کی مگر آپ علیہ السلام ہر حال میں صابر اور شاکر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”صبرایوب ‘ ِ ‘ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ واضح رہے کہ شکوہ و شکایت اور جزع فزع صبر کے منافی ہے ‘ جس کا اظہار آپ علیہ السلام نے کبھی نہیں کیا ‘ البتہ دعا صبر کے منافی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

73 حضرت ایوب کس دور میں مبعوث ہوئے ؟ یا کس علاقہ میں مبعوث ہوئے ؟ آپ نے تبلیغ کا فریضہ کتنا عرصہ سرانجام دیا ؟ اور آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے کیا سلوک کیا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کی تفصیل کتاب و سنت میں مذکور ہیں۔ قیاس سے آپ کے دور نبوت کی جو تعیین کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ حضرت یوسف اور حضرت شعیب کے درمیانی زمانہ میں یعنی تقریباً ہزار قبل مسیح مبعوث ہوئے تھے۔ کتاب و سنت نے حضرت ایوب کی جس خصوصیت سے ہمیں متعارف کرایا ہے۔ وہ آپ کا صبر ہے۔ آپ کا ابتدائی زمانہ نہایت خوشحالی کا دور تھا۔ مال کی سب اقسام : اولاد، بیویاں، جائیداد غرضیکہ سب کچھ واثر مقدار میں عطا ہوا تھا اور آپ کثرت اموال و اراضی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

110۔ ایوب (علیہ السلام) اسرائیلی تو نہ تھے، اسحاقی وابراہیمی تھے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پانچویں پشت میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادہ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بڑے بھائی عیص کی اولاد میں تھے۔ توریت میں ہے کہ ” عوض کی سرزمین کے رہنے والے تھے۔ اور عوض سے متعلق علماء فرنگ کی تحقیق ہے کہ یہ عرب کے شمال ومغرب میں فلسطین کی مشرقی سرحد کے قریب کا ملک تھا۔ زمانہ آپ کا متعین نہ ہوسکا۔ علماء یہود کا بیان ہے کہ آپ کی عمر 210 سال کی ہوئی، اور آپ فرزندان یعقوب کے ہمعصر ہیں۔ پیغمبر ہونے کے ساتھ ہی آپ امیر کبیر بھی تھے اور کثیر الاولاد بھی، توریت میں ہے :۔” عوض کی سرزمین میں ایوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–93

آیت نمبر 83 تا 93 ترجمہ : اور یاد کرو ایوب (علیہ السلام) کی حالت کو اذ نادیٰ ربہ ایوب سے بدل ہے، جبکہ ان کو ان کے تمام مال و اولاد کو ہلاک کرکے اور ان کے جسم کو پارہ پارہ کرکے اور ان کی بیوی کے علاوہ تمام لوگوں کے ان کو تین سالوں یا سات سالوں یا اٹھارہ سالوں تک چھوڑ دینے اور ان کو تنگ زندگی کے ذریعہ آزمایا گیا انی ہمزہ کے فتحہ اور با کی تقدیر کے ساتھ ہے، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف لاحق ہوگئی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو ان کے اہل یعنی اولاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وایوب اذ نادی ربہ۔۔ اور ایوب کا تذکرہ کیجئے ‘ جب اس نے (مصائب میں) اپنے رب کو پکارا۔ اے رب مجھے دکھ لگ گیا ہے۔ نادی یعنی دعا کی۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا حضرت ایوب رومی تھے ‘ آپ کا جدی نسب اس طرح تھا۔ ایوب بن احرص بن رازخ بن روم بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام۔ آپ کی والدہ حضرت لوط بن ہاران کی اولاد میں سے تھیں۔ آپ اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے اللہ نے آپ کے لئے دنیا وسیع کردی تھی ‘ سرزمین شام میں ایک گھاٹی جس کے اندر میدانی زمین بھی تھی اور پہاڑی بھی آپ کی ملک تھی اونٹ ‘ گائے ‘ بیل ‘ بھینس ‘ بھیڑ ‘ بکری ‘ گھوڑے ‘ گدھے ہر قسم کے بکثرت جانور آپ کے پاس تھے ‘ پانچ جوڑ بیلوں کے کھیتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(83) اور ایوب ؑ کے قصہ کا ذکر کیجیے جب کہ انہوں نے شدید مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بہت سخت جسمانی تکلیف پہنچ رہی ہے آپ مہربانی فرمائیں اور اس تکلیف سے مجھے نجات دیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 83–84

ۙوَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ۔۔ : یعنی ایوب کو یاد کرو۔ داؤد اور سلیمان ؑ کی آزمائش ان نعمتوں کے ساتھ ہوئی جن پر شکر واجب تھا، جبکہ ایوب ؑ کی آزمائش ایسی تکالیف کے ساتھ ہوئی جن پر صبر لازم تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر اور صبر لازم و ملزوم ہیں۔ صبر وہی کرسکتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ بےصبرا شاکر نہیں ہوتا اور ناشکرا صابر نہیں ہوتا۔ ان کا واقعہ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک یہاں سورة انبیاء میں اور ایک سورة ص (41 تا 44) میں۔ ایک دفعہ زیر تفسیر آیات کا ترجمہ ملاحظہ کریں، ساتھ ہی سورة ص کی آیات کا ترجمہ دیکھیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ”اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 83–84

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وایوب اذ نادیٰ ربہ یعنی یاد کرو ایوب کو جب پکارا انہوں نے اپنے رب کو انی مسنی الضر میرے بدن میں اور میرے مال اور اہل میں مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ حضرت اببن عباس ؓ نے فرمایا : ایوب کو اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے تھے۔ روایت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) روم کے ایک مالدار آدمی تھے۔ انتہائی نیکو کار اور متقی تھے۔ مسکینوں پر بہت رحم فرماتے تھے۔ یتیموں اور بیوائوں کی کفالت تھے۔ مہمان کی عزت کرتے تھے۔ مسافر کو مال پہنچاتے تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرنے والے تھے۔ وہ اپنی قوم کے ساتھ ایک جابر شخص کے پاس گئئے پس انہوں نے اسے ایک کام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 83–86

1:۔ حاکم نے سمرہ کے طریق سے حضرت کعب ؓ سے روایت کیا کہ ایوب بن اموص اللہ کے نبی تھے۔ صبر کرنے والے، لمبے قدوالے، گھنگھریالے بالوں والے، کھلی آنکھوں والے اور اچھے اخلاق والے تھے۔ ان کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا۔ آزمائش میں مبتلا ہونے والے، صبر کرنے والے، اور آپ کی گردن چھوٹی تھی۔ سینا چوڑا تھا پنڈلیاں اور بازو موٹے تھے۔ یتیموں کو عطا فرماتے تھے اور ان کو کپڑے پہناتے تھے جہاد کرنے والے اور نصیحت کرنے والے تھے اللہ کے لئے۔ 2:۔ حاکم نے وہب (رح) سے راویت کیا کہ حضرت ایوب کا سلسلہ نسب یہ تھا ایوب بن اموص بن رزاح بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل۔ 3:۔ ابن سعد نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے نبی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَيُّوْبَ : اور (یاد کرو) ایوب (علیہ السلام) کو ] [ اِذْ : جب ] [ نَادٰي : انھوں (علیہ السلام) نے پکارا ] [ رَبَّهٗٓ: اپنے رب کو ] [ انى: کہ ] [ مَسَّنِيَ : چھوا مجھ کو ] [ الضُّرُّ : تکلیف نے ] [ وَانتَ : اور تو ہی ] [ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ : رحم کرنے والوں کا سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 83–84

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی مصیبت اور اس سے نجات کا تذکرہ ان دو آیتوں میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کا پھر ان کے دعا کرنے کا اور دعا قبول ہونے کا اور آل اولاد کے جدا ہونے کے بعد دو گنا ہو کر مل جانے کا اجمالی تذکرہ ہے۔ سورة ص میں ان کی تکلیف اور دعا اور شفایاب ہونا مذکور ہے۔ قرآن مجید میں دونوں جگہ اجمال ہے اور اس کا ذکر نہیں ہے کہ کیا تکلیف تھی اور کیسی تکلیف تھی۔ اور کتنے دن تک رہی اور کسی صحیح صریح مرفوع حدیث میں بھی اس کی تفسیر نہیں ملتی۔ البتہ قرآن مجید کے سیاق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ تکلیف تھی اور عام طور پر جو انبیاء اور صالحین کا ابتلاء ہوتا تھا اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–84

(6) قصہ ایوب (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الضر وانت ارحم الرحمین .... الیٰ .... وذکری للعبدین۔ یہ چھٹا قصہ ایوب (علیہ السلام) کا ہے جو طرح طرح کی مسائب سے آزمائے گئے اور بےمثال صبر فرمایا۔ ان کا صبر خود ایک مستقل معجزہ تھا حضرت ایوب (علیہ السلام) بڑے خوسحال پیغمبر تھے اللہ تعالیٰ نے طرح طرح سے آسودہ کر رکھا تھا۔ باغ اور کھیت اور مویشی اور مال و دولت اور اولاد صالح اور مرضی کے مطابق عورت وغیرہ وغیرہ دے رکھی تھیں۔ اس خوشحال میں وہ خدا کے شکر گزار بندے تھے پھر خدا تعالیٰ نے ان کو مصیبت سے آزمانا چاہا۔ مال اور اولاد اور باغ اور کھیت سب فنا ہوگئے اولاد مرگئی اور دوست…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 83–84

57:۔ ” وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰي الخ “ یہ چھٹی تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ ایوب (علیہ السلام) پر ابتلا آیا۔ تو انہوں نے دفع مضرت اور کشف مصیبت کیلئے ہمیں پکارا تو ہم نے ان کو مصیبت سے نجات دیدی اور تمام کھوئی ہوئی نعمتیں ان کو واپس دیدیں۔ ” رحمةً الخ “ یہ مفعول لہ ہے یعنی ہم نے یہ سب کچھ ایوب (علیہ السلام) پر رحمت و شفقت کیلئے کیا اور تاکہ دوسرے عبادت گذار بندوں کو اس سے نصیحت و عبرت حاصل ہو اور وہ مصائب و مشکلات میں صبر کریں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مصائب و مشکلات میں استعانت و استغاثہ کریں۔ ” فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ “ ان کی دعا ہم ہی نے قبول کی۔ ” فَکَشَفْنَا “ ان کی تکلیف ہم ہی نے دور کی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–86

ربط آیات : پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا اس سے پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ ہوا ، پھر دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان تمام انبیاء کو علم و حکمت سے نوازا اور خصوصی انعامات عطا فرمائے۔ ان تمام انبیاء (علیہم السلام) پر بڑی مشکلات اور مصائب آئے جن کو انہوں نے صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا۔ اللہ نے بعض دوسرے انبیاء کا بھی اسی طریقے سے ذکر کرکے حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے رفقاء کے لئے تسلی کا سامان بہم پہنچایا ہے کہ ہر اذیت اور تکلیف کو برداشت کرنا چاہیے اور دشمنوں کی کسی بدسلوکی سے گھبرانا نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّہٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَـمُ الرّٰحِمِيْنَ۝ 83ۚۖ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 83–84

حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ ایوب (علیہ السلام) کا پانچواں قصہ ہے جس میں یہ بات پاکبازوں اور خدا کے راستبازوں کو بتلائی جاتی ہے کہ دنیا دارالمصائب ہے یہاں بڑے بڑے برگزیدے آزمائے گئے ہیں۔ ان پر طرح طرح کی مصیبتیں پڑی ہیں ایوب ( علیہ السلام) کو دیکھو مال و اسباب پر مصیبت آئی ‘ فقیر ہوگئے پھر تمام اولاد بیٹے اور بیٹیاں دفعتاً مرگئے پھر خود بھی مرض جذام میں مبتلا ہوگئے لوگ گھن کھانے لگے گاؤں سے نکال دیے گئے ‘ باہر ایک جھونپڑی میں رہتے تھے بیوی کہیں سے…محنت و مزدوری کر کے لاتیں اور ان کو کھلاتی تھیں اس پر بھی انہوں نے صبر کیا۔ اس آزمائش کی بابت کتاب ایوب 1 ؎ میں بھی اور ہمارے ہاں کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 83–84

وَاَ یُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَکَشَفْنَا مَابِـہٖ مِنْ ضُرِّ وَّاٰ تَیْنٰـہُ اَھْلَـہٗ وَمِثْلَھُمْ مَّعَہُمْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِکْرٰی لِلْعٰبِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 83، 84) (اور یاد کرو ایوب کو جب انھوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے ان کی فریاد قبول فرمائی اور ہم نے ان کی تکلیف دور کردی اور انھیں ان کے اہل و عیال بھی دیئے اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، خاص اپنے فضل سے، اور عبادت گزاروں کی یاد دہانی کے لیے۔ ) صبر کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 83–84

فہم القرآن ربط کلام : دو عظیم حکمران اور پیغمبروں کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بیان۔ تذکرہ سیدنا ایوب (علیہ السلام) حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر مبارک چار سورتوں میں سورۃ النساء : 163 الانعام : 84 الانبیاء : 83 تا 84 آ : 41 تا 44 سورۂ نساء اور سورة انعام میں صرف ان کا اسم مبارک آیا ہے سورة الانبیاء اور ص میں مختصر طور پر بیان ہوا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) پر سخت آزمائش آئی۔ بیماری اور مصائب و مشکلات نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا تھا مگر وہ صبر وشکر کے سوا کوئی بات زبان پر نہیں لائے۔ اللہ کے حضور نہ صرف عبدیت کا اظہار کرتے رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ رجوع الی اللہ میں اضافہ ہوا۔ ان کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

واقعہ ایوب۔ : 83: وَاَیُّوْبَ (اور تم ایوب کا تذکرہ کرو) یہ اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اِذْ نَادیٰ رَبَّہٗ ٓ اَنِّیْ (جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے) انہوں نے دعا کی کہ مجھے مَسَّنِیَ الضُّرُّ ۔ (تکلیف نے چھو لیا ہے۔ ) الضُر : جان میں مرض کے اثرات الضَرَّ : چیز میں تکلیف کے اثرات (نقصان مال و اولاد، بیماری وغیرہ) یا الضر بمعنی کمزوری۔ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ (اور آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ ) سوال میں نرمی کا ایسا انداز اختیار کیا جس سے رحمت الٰہی کو جوش آئے اور رب تعالیٰ کی صفت غایت رحمت سے یاد کیا اور اپنا مطلوب الفاظ میں ذکر نہ کیا۔ گویا اس طرح فرمایا آپ اس لائق ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

83۔ وایوب اذ نادی ، اور ایوب کا تذکرہ کیجئے۔ جب اس نے (مصائب میں) اپنے رب کو پکارا، اے رب مجھے دکھ لگا ہے نادی یعنی دعا کی۔ حضرت ایوب کا واقعہ۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ حضرت ایوب رومی تھے ۔ آپ کا جد نسب اسی طرح تھا۔ ایوب ابن احرص بن رازخ بن روم بن عمیص بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) ۔ آپ کی والدہ حضرت لوط بن ہاران کی اولاد میں سے تھیں۔ آپ اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے اللہ نے آپ کے لیے دنیا وسیع کردی تھی ، سرزمین شام میں ایک گھاٹی جس کے اندر میدانی زمین بھی تھی اور پہاڑ ی بھی تھی آپ کی ملک تھی ، اونٹ ، گائے ، بیل بھینس بھیڑ ، بکریاں، گھوڑے ، گدھے ہر قسم کے بکثرت جانور آپ کے پاس تھے ۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–84

83۔ 84:۔ سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد اس سورة میں اور سورة ص میں ایوب (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے اس واسطے بعضے علماء کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ہیں لیکن تاریخ ابن عساکر میں ہے 1 ؎ کہ ایوب (علیہ السلام) ‘ لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیاء ہیں ‘ اس تفسیر میں ایک جگہ یہ ذکر کردیا گیا ہے کہ ابوالقاسم علی ابن عساکر متوفی 571 ھ شام کے ثقہ اور مشہور علماء میں سے ہیں اور ان کی تاریخ دمشق اور باقی کی تصنیفات معتبر ہیں ‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت 2 ؎ ہے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–84

آیت 83 یعنی ہمارے بندے اور رسول ایوب (علیہ السلام) کا تعظیم و ثنا اور ان کی قدر و منزلت بڑھاتے ہوئے ذکر کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو صابر اور اپنی ذات سے راضی پایا۔ اور یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا اور آزمائش کے طور پر شیطان کو آپ پر مسلط کردیا گیا۔ شیطان نے آپ کے جسم پر پھونک ماری جس کے نتیجہ میں جسم پر بڑے بڑے پھوڑے بن گئے، وہ اس امتحان اور مصیبت میں مدت تک مبتلا رہے۔ اس دوران میں آپ کے گھر والے وفات پا گئے، آپ کا تمام مال چلا گیا تب حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا : (انی مسنی الضرو انت ارحم الرحمین)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 82–85

106 حضرت سلیمان کے لیے تیز ہواؤں اور جنوں کی تسخیر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے سلیمان کے لیے تیز ہواؤں اور جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا تھا " تاکہ تند و تیز ہوا ان کے تخت کو اپنے کندھوں پر لے کر چلے اور جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ غوطے لگا کر ان کے لیے ہیرے اور موتی وغیرہ نکال کرلے آئیں۔ سو شیطان سے یہاں پر مراد جن ہیں اور شیطان کا اطلاق ہر سرکش پر ہوتا ہے خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان یا حیوان۔ ( مفردات راغب ) ۔ سو اس میں یہ عظیم الشان اور انقلاب آفریں درس ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اور وہ اس سے صحیح معنوں میں ڈرتا ہے تو ہر چیز اس کی ہوجاتی ہے اور اس سے ڈرتی اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–84

سیدنا ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش تشریح : سیدنا ایوب (علیہ السلام) کی زندگی بھی حسن اخلاق ‘ صبر و استقامت اور زہد وتقویٰ کی بہترین مثال ہے۔ آپ کے نسب قوم اور زمانے میں اختلاف ہے زیادہ خیال یہی ہے کہ آپ کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کا ہے۔ آپ سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے عیسو کی نسل سے تھے۔ آپ کو اللہ نے عزت ‘ دولت ‘ شہرت ‘ صحت اور ایمان کی دولت سے مالا مال کر رکھا تھا۔ آپ اور آپ کی بیوی رحمت انتہائی نیک ‘ پرہیزگار اور شکر گزار انسان تھے۔ اللہ نے آپ کو یہ سب کچھ دے کر تو آزما لیا اب اس نے آپ کو تنگ دستی بیماری ‘ آفات ‘ مشکلات اور نقصانات سے دوچار کر کے آزمایا۔ یعنی تمام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 76–93

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔ (نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے) نیز داؤد…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 83–85

ف 11 ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ایوب ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں دے رکھی تھیں اور وہ بڑے شکر گزار بندے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کی آزمائش کے لئے تدریحاً تمام نعمتیں چھین لیں اور ساتھ ہی جسمانی امراض میں بھی مبتلا کردیا گیا مگر بایں ہمہ وہ ناشکری کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائے۔ آخر کار جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تب دعا کی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعو کو شرف قبولیت بخشا اور اپنے فضل و کرم سے دوبارہ دولت وصحت سے نوازا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:83) وایوب۔ اس سے قبل فعل اذکر مقدرہ ہے جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے واذکر عبدنا ایوب اذ نادی ربہ (38: 41) اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا۔ مسنی۔ مس واحد مذکر غائب فی ضمیر مفعول واحدمتکلم۔ پہنچی ہے مجھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 76–93

لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93 الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔ تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93 سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–84

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ ۔ (ف 1) ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے رسول نے فرمایا دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے اس عادت الٰہی کے موافق ایوب (علیہ السلام) کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کے بیٹے سب مرگئے مال سارا برباد ہوگیا خود ایسے بیمار ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے بستی کے لوگوں نے بستی کے باہر ان کو ڈال دیا سوائے ان کی بی بی کے اور کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا بعض روایتوں کے موافق تیرہ برس ، اور بعض کے موافق اٹھارہ برس تک یہی حال رہا ایک دن آپ کے کسی دوست نے یہ بات کہی کہ ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوگیا ہے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 83–84

صبرایوبی : (ف 2) صبر ایوب مشہور ہے ، بات یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) صبر و عبادت کا پیکر تھے اور ان کی نبوت کا موضوع یہ تھا کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کے متعلق عقیدت ونیاز مندی کے جذبات پیدا کریں ، اور انتہائی مصائب میں بھی ان کو اللہ کی چوکھٹ پر جھکانے کی کوشش کریں ، اور انہیں بتائیں کہ ہر حالت میں صرف اللہ کو اپنا کارساز اور چارہ گر سمجھنا چاہئے اس پیغام صبر و توکل کے لئے ضرورت تھی کہ وہ خود عملی طور پر لوگوں کے لئے نمونہ اور اسوہ ثابت ہوں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت آزمائشوں میں ڈالا یہاں تک کہ اپنے عزیز اقربا بھی ان کا ان حالات میں ساتھ نہ دے سکے مگر باوجود اس ابتلاء عظیم کے صبر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(83) اور اے پیغمبر ! ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیجئے جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کا واقعہ فرمایا جب بیماری کو عرصہ ہوگیا تب انہوں نے ایک دن دعا کی حق تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 81–83

ف 1۔ یعنی جب ملک شام سے کہیں جاتے اور پھر آتے تو یہ آنا اور اسی طرح جانا بھی ہوا کے ذریعہ سے ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) ” مسخر “ کرنے کا کیا مطلب ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اس زمانے میں بحری سفر کا سارا انحصار باد موافق ملنے پر تھا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر یہ خاص کرم فرمایا کہ وہ ہمیشہ ان کے دونوں بیڑوں کو ان کی مرضی کے مطابق ملتی تھی اور اس بات کو سورت (ص) میں اس طرح بیان فرمایا گیا کہ ” ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے بسہولت چلتی تھی جدھر وہ جانا چاہتا تھا گویا آپ کے بادبان کو ہمیشہ ہوا موافق ملتی آتے وقت بھی اور جاتے وقت بھی اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لئے اسی طرح کی سہولتیں پیدا کرتا رہتا ہے اور بادبان کا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 83–84

Commentary Story of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) The story of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) is based mostly on Jewish legends. Those which are considered as historically reliable by scholars of hadith are being reproduced here. The Holy Qur'an tells us only that he suffered from some serious disease but he endured his suffering with fortitude. Ultimately he prayed to Allah for recovery which was granted. During his illness all his family members and friends disappeared. They either died or just abandoned him to his fate. Then Allah Ta` ala restored him to complete health and gave him back all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

76. There is a wide divergence of opinion concerning the personality, period and nationality of Prophet Job. Some commentators opine that he was an Israelite, while others think that he was an Egyptian or an Arab who lived before Prophet Moses, or during the time of Prophets David and Solomon (peace be upon them all). As all these conjectures are based on the Book of Job, which is self-contradictory and against the Quran. Nothing can be said about him with certainty, but in the light of the Book of Isaiah (8th century BC) and the Book of Ezekiel (6th century BC), which are more trustworthy…

Read the full tafseer →