Explained with ayahs 83–84
آزمائش اور مصائب ایوب ؑ
حضرت ایوب ؑ کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال و متاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ کی ایک بیوی صاحبہ ؓ کے اور کوئی آپ کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 78
سورة ص کے چوتھے رکوع میں اس کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ، " اپنا پاؤں مارو، یہ ٹھنڈا پانی موجود ہے کھانے کو اور پینے کو "۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر پاؤں مارتے ہی اللہ نے ان کے لیے ایک قدرتی چشمہ جاری کردیا جس کے پانی میں یہ خاصیت تھی کہ اس سے غسل کرنے اور اس کو پینے سے ان کی بیماری دور ہوگئی۔ یہ علاج اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کو کوئی سخت جلدی بیماری ہوگئی تھی، اور بائیبل کا بیان بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ ان کا جسم سر سے پاؤں تک پھوڑوں سے بھر گیا تھا (ایوب، باب 2، آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
خلاصہ تفسیر
اور ایوب (علیہ السلام کے قصے کا تذکرہ کیجئے جب کہ انہوں نے (مرض شدید میں مبتلا ہونے کے بعد) اپنے رب کو پکارا کہ مجھ کو یہ تکلیف پہنچ رہی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں (تو اپنی مہربانی سے میری یہ تکلیف دور کر دیجئے) تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور (بغیر ان کی درخواست کے) ہم نے ان کا کنبہ (یعنی اولاد جو ان سے غائب ہوگئے تھے (قالہ الحسن کذا فی الدار المنثور) یا مر گئے تھے (کما قال غیرہ) عطا فرمایا (اس طرح سے کہ وہ اس کے پاس آگئے یا بایں معنی کہ اتنے ہی اور پیدا ہوگئے، قالہ عکرمہ کما فی فتح المنان) اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
حضرت ایوب اور ان کا مثالی صبر
شکر کی دو اعلیٰ مثالیں پیش کرنے کے بعد اب یہ ان انبیائے کرام کا ذکر آ رہا ہے جنہوں نے صبر کی نہایت اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت ایوب کا ذکر فرمایا ہے۔ سفر ایوب سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک عوض میں حضرت ایوب ایک نہایت کامل اور راستباز انسان تھے۔ خدا نے انہیں بڑا خاندان اور بڑی دولت دے رکھی تھی۔ ان کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ سات ہزار بھیڑیں، تین ہزار اونٹ، ایک ہزار بیل اور پانچ سو بار براداری کے گدھے ان کے پاس تھے۔ ان کے نوکر چاکر بھی بیشمار تھے۔ اہل مشرق میں یا اس درجہ کا مالدار کوئی اور نہ تھا لیکن یہ تمام خدم و حشم رکھنے کے باوجود وہ…
Read the full tafseer →84۔ 1 قرآن مجید میں حضرت ایوب ؑ کو صابر کہا گیا ہے، (ۭاِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا ۭ نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ) 38۔ ص :44) اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں سخت آزمائشوں میں ڈالا گیا جن میں انہوں نے صبر شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ یہ آزمائش اور تکلیفیں کیا تھیں، اس کی مستند تفصیل تو نہیں ملتی، تاہم قرآن کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال و دولت دنیا اور اولاد وغیرہ سے نوازا ہوا تھا، بطور آزمائش اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ سب نعمتیں چھین لیں، حتٰی کہ جسمانی صحت سے بھی محروم اور بیماریوں میں گھر کر رہ گئے۔ بالآخر کہا جاتا ہے کہ 8 ا سال کی آزمائشوں کے بعد بارگاہ الٰہی…
Read the full tafseer →38: بیماری کے دوران ان کی باوفا بیوی کے سوا گھر کے بیشتر افراد حضرت ایوب ؑ کا ساتھ چھوڑ گئے تھے پھر جب انہیں صحت حاصل ہوئی تو ان کی اولاد اور پوتے پوتیوں کی تعداد ان لوگوں سے دگنی ہوگئی جو بیماری کے دوران ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔
Read the full tafseer →فاستجبنا لہ۔۔۔۔۔۔ مثلھم معھم (12 : 48) ” ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو تکلیف اسے تھی اس کو دور کردیا اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیئے بلکہ اس کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیئے “۔
ان کے جسم کو جو مرض لا حق تھا ‘ وہ دور ہوگیا اور آپ فوراً تندرست ہوگئے۔ ان کے اہل و عیال جن سے وہ محروم ہوگئے تھے اللہ نے ان کو دے دیئے اور ان جیسے اور دے دیئے۔ کہا گیا ہے کہ بیٹوں کے بدلے بیٹے دے دیئے یا بیٹے اور پوتے دے دیئے۔
رحمتہ من عندنا (12 : 48) ” اللہ کی ہر رحمت اللہ کا احسان ہے۔ صرف احسان ‘ ورنہ ہم تو مستحق نہیں ہیں۔
وذکری للعبدین (12 : 48) ” اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے “۔ آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
5 حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے دنیا میں سب طرح آسودہ رکھا تھا، کھیت، مواشی، لونڈی، غلام، اولاد صالح اور عورت مرضی کے موافق عطا کی تھی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) بڑے شکر گزار بندے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمائش میں ڈالا، کھیت جل گئے، مویشی مرگئے، اور اولاد اکٹھی دب مری، دوست آشنا الگ ہوگئے، بدن میں آبلے پڑ کر کیڑے پڑگئے ایک بیوی رفیق رہی، آخر وہ بیچاری بھی اکتانے لگتی۔ مگر حضرت ایوب (علیہ السلام) جیسے نعمت میں شاکر تھے ویسے ہی بلا میں صابر رہے۔ جب تکلیف و اذیت اور دشمنوں کی شماتت حد سے گزر گئی۔ بلکہ دوست بھی کہنے لگے کہ یقینا ایوب (علیہ السلام) نے کوئی ایسا سخت گناہ کیا ہے جس کی…
Read the full tafseer →آیت 84 فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَکَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنْ ضُرٍّ ”
آپ علیہ السلام ایک ایسی بیماری میں مبتلا تھے جس سے آپ علیہ السلام کی جلد میں تعفن پیدا ہوجاتا تھا۔ زخموں اور پھوڑوں سے بدبو آتی تھی جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے اہل خانہ تک آپ علیہ السلام کو چھوڑ گئے تھے۔
وَّاٰتَیْنٰہُ اَہْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ ”
یعنی آپ علیہ السلام کے اہل خانہ بھی آپ علیہ السلام کے پاس واپس آگئے اور آپ علیہ السلام کو اتنی ہی مزید اولاد بھی عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →74 جب حضرت ایوب اس صبر کے امتحان میں بھی پوری طرح کامیاب ہوگئے تو رحمت باری جوش میں آگئی۔ آپ کی یہی بےمطالبہ دعا یوں مقبول ہوئی کہ اللہ نے اسی مقام پر ایک چشمہ رواں کردیا۔ آپ کو صرف یہی حکم ہوا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ پاؤں مارنے کی دیر تھی کہ چشمہ پھوٹ پڑا۔ جس کا پانی میٹھا، ٹھنڈا، شفا بخش اور جلدی امراض کو دور کرنے والا تھا۔ آپ نے اس میں غسل فرمایا کرتے اور اسی کا پانی لیتے رہے۔ آپ کی بیماری، جلد کی بیماری تھی۔ جو اس طرح غسل کرنے اور پانی ملتے رہنے سے جلد ہی دور ہوگئی اور جتنا مال و دولت اور آل اولاد اللہ تعالیٰ آپ کو پہلے عطا فرمائی تھی۔ اس سے دگنی عطا فرما دی اور یہ اللہ کی رحمت اور آپ…
Read the full tafseer →112۔ یعنی تاکہ اہل تقوی و عبادت یاد رکھیں کہ صابروں کو کیسے کیسے صلے ملتے ہیں۔ (آیت) ” رحمۃ وذکری “۔ رحمت اور ذکری دونوں بطور سبب بیان ہوئے ہیں، فرق یہ ہے کہ رحمت کی حیثیت علت فاعلی مؤثر کی ہے۔ اور وہ زمانا متقدم ہے۔ اور (آیت) ” ذکری “۔ حیثیت علت غائی مؤخر کی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ماجرا رحمت تھا خود حضرت ایوب کے حق میں اور یادگار ان کے بعد والوں کے لئے کہ وہ بھی انکے نقش قدم پر چل کر ان کے سے مرتبے حاصل کریں، یعنی رحمۃ لایوب وتذکرۃ لغیرہ من العابدین لیصبروا کصبرہ (مدارک) توریت میں ہے :۔” اور خداوند نے ایوب کی طرف توجہ کی ...... اور خداوند نے ایوب کو آگے کی نسبت سے دونی دولت عنایت کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اور یاد کرو ایوب (علیہ السلام) کی حالت کو اذ نادیٰ ربہ ایوب سے بدل ہے، جبکہ ان کو ان کے تمام مال و اولاد کو ہلاک کرکے اور ان کے جسم کو پارہ پارہ کرکے اور ان کی بیوی کے علاوہ تمام لوگوں کے ان کو تین سالوں یا سات سالوں یا اٹھارہ سالوں تک چھوڑ دینے اور ان کو تنگ زندگی کے ذریعہ آزمایا گیا انی ہمزہ کے فتحہ اور با کی تقدیر کے ساتھ ہے، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف لاحق ہوگئی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو ان کے اہل یعنی اولاد…
Read the full tafseer →فاستجبنا لہ پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور فرمایا تیری دعا قبول کرلی گئی اب سجدہ سے سر اٹھا۔
فکشفنا ما بہ من ضر واتینہ اھلہ و مثلھم ومعھم اور جو کچھ اس کو دکھ تھا ہم نے
دور کردیا۔ حضرت ایوب کو حکم دیا گیا زمین پر ایڑی مارو۔ ایوب نے حکم کی تعمیل کی فوراً پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ حسب الحکم آپ نے اس میں غسل کیا غسل کرتے ہی ہر ظاہری بیماری جاتی رہی اور حسن و شباب لوٹ آیا اور چالیس قدم چلے پھر دوبارہ ایڑی مارنے کا حکم ہوا آپ نے حکم کی تعمیل کی تو ایک اور چشمہ پھوٹ نکلا جس کا پانی ٹھنڈا تھا ‘ حکم ہوا اس میں سے پانی لے کر پیو ‘ جونہی آپ نے وہ پانی پیا تمام اندرونی بیماریاں بھی دفع ہوگئیں اور مکمل…
Read the full tafseer →(84) سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور جنت میں ہم نے ان کا کنبہ جو دنیا میں ہلاک ہوگیا تھا عطا کیا اور جتنا ہلاک ہوگیا تھا اس کے برابر اس دنیا میں بھی عطا کیا یہ سب اپنی خاص رحمت کے سبب سے اور مومنین کے لیے یادگار کے سبب سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ۙوَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ۔۔ : یعنی ایوب کو یاد کرو۔ داؤد اور سلیمان ؑ کی آزمائش ان نعمتوں کے ساتھ ہوئی جن پر شکر واجب تھا، جبکہ ایوب ؑ کی آزمائش ایسی تکالیف کے ساتھ ہوئی جن پر صبر لازم تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر اور صبر لازم و ملزوم ہیں۔ صبر وہی کرسکتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ بےصبرا شاکر نہیں ہوتا اور ناشکرا صابر نہیں ہوتا۔ ان کا واقعہ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک یہاں سورة انبیاء میں اور ایک سورة ص (41 تا 44) میں۔ ایک دفعہ زیر تفسیر آیات کا ترجمہ ملاحظہ کریں، ساتھ ہی سورة ص کی آیات کا ترجمہ دیکھیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ”اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وایوب اذ نادیٰ ربہ یعنی یاد کرو ایوب کو جب پکارا انہوں نے اپنے رب کو انی مسنی الضر میرے بدن میں اور میرے مال اور اہل میں مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ حضرت اببن عباس ؓ نے فرمایا : ایوب کو اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے تھے۔ روایت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) روم کے ایک مالدار آدمی تھے۔ انتہائی نیکو کار اور متقی تھے۔ مسکینوں پر بہت رحم فرماتے تھے۔ یتیموں اور بیوائوں کی کفالت تھے۔ مہمان کی عزت کرتے تھے۔ مسافر کو مال پہنچاتے تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرنے والے تھے۔ وہ اپنی قوم کے ساتھ ایک جابر شخص کے پاس گئئے پس انہوں نے اسے ایک کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
1:۔ حاکم نے سمرہ کے طریق سے حضرت کعب ؓ سے روایت کیا کہ ایوب بن اموص اللہ کے نبی تھے۔ صبر کرنے والے، لمبے قدوالے، گھنگھریالے بالوں والے، کھلی آنکھوں والے اور اچھے اخلاق والے تھے۔ ان کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا۔ آزمائش میں مبتلا ہونے والے، صبر کرنے والے، اور آپ کی گردن چھوٹی تھی۔ سینا چوڑا تھا پنڈلیاں اور بازو موٹے تھے۔ یتیموں کو عطا فرماتے تھے اور ان کو کپڑے پہناتے تھے جہاد کرنے والے اور نصیحت کرنے والے تھے اللہ کے لئے۔
2:۔ حاکم نے وہب (رح) سے راویت کیا کہ حضرت ایوب کا سلسلہ نسب یہ تھا ایوب بن اموص بن رزاح بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل۔
3:۔ ابن سعد نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے نبی…
Read the full tafseer →[ فَاسْتَجبنَا : تو ہم نے جواب دیا ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کو ] [ فَكَشَفْنَا : پھر ہم نے ہٹا دیا ] [ مَا : اس کو جو ] [ بِهٖ : ان (علیہ السلام) پر تھی ] [ مِنْ ضُرٍّ : کسی تکلیف میں سے ] [ وَّاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دیئے ان (علیہ السلام) کو ] [ اَهْلَهٗ : ان کے گھر والے ] [ وَمِثْلَهُمْ : اور ان کے جیسے (اور بھی)] [ مَّعَهُمْ : ان کے ساتھ ] [ رَحْمَةً : بطور رحمت کے ] [ مِّنْ عِنْدِنَا : اپنے پاس سے ] [ وَذِكْرٰي : اور بطور نصیحت کے ] [ لِلْعٰبِدِيْنَ : بندگی کرنے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
حضرت ایوب (علیہ السلام) کی مصیبت اور اس سے نجات کا تذکرہ
ان دو آیتوں میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کا پھر ان کے دعا کرنے کا اور دعا قبول ہونے کا اور آل اولاد کے جدا ہونے کے بعد دو گنا ہو کر مل جانے کا اجمالی تذکرہ ہے۔ سورة ص میں ان کی تکلیف اور دعا اور شفایاب ہونا مذکور ہے۔ قرآن مجید میں دونوں جگہ اجمال ہے اور اس کا ذکر نہیں ہے کہ کیا تکلیف تھی اور کیسی تکلیف تھی۔ اور کتنے دن تک رہی اور کسی صحیح صریح مرفوع حدیث میں بھی اس کی تفسیر نہیں ملتی۔ البتہ قرآن مجید کے سیاق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ تکلیف تھی اور عام طور پر جو انبیاء اور صالحین کا ابتلاء ہوتا تھا اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(6) قصہ ایوب (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الضر وانت ارحم الرحمین .... الیٰ .... وذکری للعبدین۔
یہ چھٹا قصہ ایوب (علیہ السلام) کا ہے جو طرح طرح کی مسائب سے آزمائے گئے اور بےمثال صبر فرمایا۔ ان کا صبر خود ایک مستقل معجزہ تھا حضرت ایوب (علیہ السلام) بڑے خوسحال پیغمبر تھے اللہ تعالیٰ نے طرح طرح سے آسودہ کر رکھا تھا۔ باغ اور کھیت اور مویشی اور مال و دولت اور اولاد صالح اور مرضی کے مطابق عورت وغیرہ وغیرہ دے رکھی تھیں۔ اس خوشحال میں وہ خدا کے شکر گزار بندے تھے پھر خدا تعالیٰ نے ان کو مصیبت سے آزمانا چاہا۔ مال اور اولاد اور باغ اور کھیت سب فنا ہوگئے اولاد مرگئی اور دوست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
57:۔ ” وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰي الخ “ یہ چھٹی تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ ایوب (علیہ السلام) پر ابتلا آیا۔ تو انہوں نے دفع مضرت اور کشف مصیبت کیلئے ہمیں پکارا تو ہم نے ان کو مصیبت سے نجات دیدی اور تمام کھوئی ہوئی نعمتیں ان کو واپس دیدیں۔ ” رحمةً الخ “ یہ مفعول لہ ہے یعنی ہم نے یہ سب کچھ ایوب (علیہ السلام) پر رحمت و شفقت کیلئے کیا اور تاکہ دوسرے عبادت گذار بندوں کو اس سے نصیحت و عبرت حاصل ہو اور وہ مصائب و مشکلات میں صبر کریں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مصائب و مشکلات میں استعانت و استغاثہ کریں۔ ” فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ “ ان کی دعا ہم ہی نے قبول کی۔ ” فَکَشَفْنَا “ ان کی تکلیف ہم ہی نے دور کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا اس سے پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ ہوا ، پھر دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان تمام انبیاء کو علم و حکمت سے نوازا اور خصوصی انعامات عطا فرمائے۔ ان تمام انبیاء (علیہم السلام) پر بڑی مشکلات اور مصائب آئے جن کو انہوں نے صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا۔ اللہ نے بعض دوسرے انبیاء کا بھی اسی طریقے سے ذکر کرکے حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے رفقاء کے لئے تسلی کا سامان بہم پہنچایا ہے کہ ہر اذیت اور تکلیف کو برداشت کرنا چاہیے اور دشمنوں کی کسی بدسلوکی سے گھبرانا نہیں…
Read the full tafseer →فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَكَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنْ ضُرٍّ وَّاٰتَيْنٰہُ اَہْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِكْرٰي لِلْعٰبِدِيْنَ 84
استجاب
والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] ، وقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ ایوب (علیہ السلام) کا پانچواں قصہ ہے جس میں یہ بات پاکبازوں اور خدا کے راستبازوں کو بتلائی جاتی ہے کہ دنیا دارالمصائب ہے یہاں بڑے بڑے برگزیدے آزمائے گئے ہیں۔ ان پر طرح طرح کی مصیبتیں پڑی ہیں ایوب ( علیہ السلام) کو دیکھو مال و اسباب پر مصیبت آئی ‘ فقیر ہوگئے پھر تمام اولاد بیٹے اور بیٹیاں دفعتاً مرگئے پھر خود بھی مرض جذام میں مبتلا ہوگئے لوگ گھن کھانے لگے گاؤں سے نکال دیے گئے ‘ باہر ایک جھونپڑی میں رہتے تھے بیوی کہیں سے…محنت و مزدوری کر کے لاتیں اور ان کو کھلاتی تھیں اس پر بھی انہوں نے صبر کیا۔
اس آزمائش کی بابت کتاب ایوب 1 ؎ میں بھی اور ہمارے ہاں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
وَاَ یُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَکَشَفْنَا مَابِـہٖ مِنْ ضُرِّ وَّاٰ تَیْنٰـہُ اَھْلَـہٗ وَمِثْلَھُمْ مَّعَہُمْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِکْرٰی لِلْعٰبِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 83، 84)
(اور یاد کرو ایوب کو جب انھوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے ان کی فریاد قبول فرمائی اور ہم نے ان کی تکلیف دور کردی اور انھیں ان کے اہل و عیال بھی دیئے اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، خاص اپنے فضل سے، اور عبادت گزاروں کی یاد دہانی کے لیے۔ )
صبر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فہم القرآن
ربط کلام : دو عظیم حکمران اور پیغمبروں کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بیان۔
تذکرہ سیدنا ایوب (علیہ السلام)
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر مبارک چار سورتوں میں
سورۃ النساء : 163 الانعام : 84 الانبیاء : 83 تا 84 آ : 41 تا 44
سورۂ نساء اور سورة انعام میں صرف ان کا اسم مبارک آیا ہے سورة الانبیاء اور ص میں مختصر طور پر بیان ہوا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) پر سخت آزمائش آئی۔ بیماری اور مصائب و مشکلات نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا تھا مگر وہ صبر وشکر کے سوا کوئی بات زبان پر نہیں لائے۔ اللہ کے حضور نہ صرف عبدیت کا اظہار کرتے رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ رجوع الی اللہ میں اضافہ ہوا۔ ان کے…
Read the full tafseer →قبولیت ِدُعا :
84: فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ (پس ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا) ہم نے ان کی نداء کا جواب دیا۔ فَکَشَفْنَا مَابِہٖ مِنْ ضُرٍّ (پس ہم نے جو کچھ رکھا تھا اس کو دور کردیا) یعنی اس پر انعام کرتے ہوئے ان کی تکلیف کو کھول دیا۔ وَّاٰتَیْنٰہُ اَھْلَہٗ وَمِثْلَھُمْ مَّعَھُمْ (اور ہم نے ان کو ان کے بیوی بچے اور اتنے ہی اور بھی عطاء کردیئے)
روایت تفسیریہ میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) رومی تھے۔ آپ اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کے سات بیٹے اور سات بیٹیاں اور تین ہزار اونٹ، سات ہزار بکریاں، پانچ سو بیلوں کی جوڑیاں جن کے پیچھے پانچ غلام ہر غلام کی بیوی بیٹے اور کھجور کے باغات…
Read the full tafseer →تفسیر۔
84۔ فاستجبنالہ فکشفنا مابہ من ضر۔ تکلیف سے ان کو دور اس طرح کیا کہ اللہ عزوجل نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپناپاؤں زمین پر مارو جب انہوں نے پاؤں زمین پر مارا تو ایک چشمہ جاری ہوگیا جس کا پانی ٹھنڈا تھا ان کو حکم دیا کہ اس پانی سے غسل کرلیں حضرت ایوب نے ایسا ہی کیا اللہ نے ان کی ظاہری بیماری کو دور کردیا۔ جب انہوں نے اس چشمہ سے پانی پیا اندرونی تمام بیماریاں ختم ہوگئی پھر اس کے بعد تمام لوگوں سے حسین جمیل ہوگئے۔ واتنیہ اھلہ و مثلہ معھم، اس بارے میں مفسرین کا آپس میں اختلاف ہے۔
یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماابن مسعود قتادہ، حسن اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
83۔ 84:۔ سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد اس سورة میں اور سورة ص میں ایوب (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے اس واسطے بعضے علماء کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ہیں لیکن تاریخ ابن عساکر میں ہے 1 ؎ کہ ایوب (علیہ السلام) ‘ لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیاء ہیں ‘ اس تفسیر میں ایک جگہ یہ ذکر کردیا گیا ہے کہ ابوالقاسم علی ابن عساکر متوفی 571 ھ شام کے ثقہ اور مشہور علماء میں سے ہیں اور ان کی تاریخ دمشق اور باقی کی تصنیفات معتبر ہیں ‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت 2 ؎ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت 83
یعنی ہمارے بندے اور رسول ایوب (علیہ السلام) کا تعظیم و ثنا اور ان کی قدر و منزلت بڑھاتے ہوئے ذکر کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو صابر اور اپنی ذات سے راضی پایا۔ اور یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا اور آزمائش کے طور پر شیطان کو آپ پر مسلط کردیا گیا۔ شیطان نے آپ کے جسم پر پھونک ماری جس کے نتیجہ میں جسم پر بڑے بڑے پھوڑے بن گئے، وہ اس امتحان اور مصیبت میں مدت تک مبتلا رہے۔ اس دوران میں آپ کے گھر والے وفات پا گئے، آپ کا تمام مال چلا گیا تب حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا : (انی مسنی الضرو انت ارحم الرحمین)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
106 حضرت سلیمان کے لیے تیز ہواؤں اور جنوں کی تسخیر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے سلیمان کے لیے تیز ہواؤں اور جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا تھا " تاکہ تند و تیز ہوا ان کے تخت کو اپنے کندھوں پر لے کر چلے اور جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ غوطے لگا کر ان کے لیے ہیرے اور موتی وغیرہ نکال کرلے آئیں۔ سو شیطان سے یہاں پر مراد جن ہیں اور شیطان کا اطلاق ہر سرکش پر ہوتا ہے خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان یا حیوان۔ ( مفردات راغب ) ۔ سو اس میں یہ عظیم الشان اور انقلاب آفریں درس ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اور وہ اس سے صحیح معنوں میں ڈرتا ہے تو ہر چیز اس کی ہوجاتی ہے اور اس سے ڈرتی اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
سیدنا ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش
تشریح : سیدنا ایوب (علیہ السلام) کی زندگی بھی حسن اخلاق ‘ صبر و استقامت اور زہد وتقویٰ کی بہترین مثال ہے۔ آپ کے نسب قوم اور زمانے میں اختلاف ہے زیادہ خیال یہی ہے کہ آپ کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کا ہے۔ آپ سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے عیسو کی نسل سے تھے۔ آپ کو اللہ نے عزت ‘ دولت ‘ شہرت ‘ صحت اور ایمان کی دولت سے مالا مال کر رکھا تھا۔ آپ اور آپ کی بیوی رحمت انتہائی نیک ‘ پرہیزگار اور شکر گزار انسان تھے۔ اللہ نے آپ کو یہ سب کچھ دے کر تو آزما لیا اب اس نے آپ کو تنگ دستی بیماری ‘ آفات ‘ مشکلات اور نقصانات سے دوچار کر کے آزمایا۔ یعنی تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ف 11 ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ایوب ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں دے رکھی تھیں اور وہ بڑے شکر گزار بندے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کی آزمائش کے لئے تدریحاً تمام نعمتیں چھین لیں اور ساتھ ہی جسمانی امراض میں بھی مبتلا کردیا گیا مگر بایں ہمہ وہ ناشکری کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائے۔ آخر کار جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تب دعا کی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعو کو شرف قبولیت بخشا اور اپنے فضل و کرم سے دوبارہ دولت وصحت سے نوازا۔
Read the full tafseer →(21:84) استجبنا لہ۔ ہم نے اس کی فریاد سن لی۔ ہم نے اس کی دعا قبول کرلی۔ استجابۃ (استفعال) مصدر۔
کشفنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے دور کردیا۔ ہم نے ہٹادی۔ الکشف یہ کشفت (باب ضرب) الثوب عن الوجہ کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پردہ ہٹانے کے ہیں۔ مجازا غم و اندوہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ فکشفنا عنک غطاءک (50:22) پس ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا۔ اور ان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو (6:17) اور اگر خدا تم کو سختی پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دوسرا دور کرنے والا نہیں ہے۔
واتینہ اھلہ۔ اور ہم نے عطا کئے اس کو اس کے گھر والے۔ اہلہ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر اتینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ ۔
(ف 1) ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے رسول نے فرمایا دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے اس عادت الٰہی کے موافق ایوب (علیہ السلام) کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کے بیٹے سب مرگئے مال سارا برباد ہوگیا خود ایسے بیمار ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے بستی کے لوگوں نے بستی کے باہر ان کو ڈال دیا سوائے ان کی بی بی کے اور کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا بعض روایتوں کے موافق تیرہ برس ، اور بعض کے موافق اٹھارہ برس تک یہی حال رہا ایک دن آپ کے کسی دوست نے یہ بات کہی کہ ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوگیا ہے…
Read the full tafseer →[44] ایوب (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور نہایت خوشحال پیغمبر تھے اور خوشحالی میں بھی اللہ کے شکرگزار بندے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مصیبت سے آزمایا۔ مال و اولاد سب فنا ہوگئے اور ان کے جسم پر پھوڑے نمودار ہوگئے لیکن اس حال میں بھی وہ اللہ کا شکر کرتے رہے اور امتحان میں پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی بدحالی کو خوشحالی میں بدل دیا بلکہ ان کی خوشحالی میں افزونی عطا فرمائی۔
[45] تاکہ وہ اس واقعہ سے بلاؤں پر صبر کرنے اور اس کے ثواب عظیم سے باخبر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
صبرایوبی :
(ف 2) صبر ایوب مشہور ہے ، بات یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) صبر و عبادت کا پیکر تھے اور ان کی نبوت کا موضوع یہ تھا کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کے متعلق عقیدت ونیاز مندی کے جذبات پیدا کریں ، اور انتہائی مصائب میں بھی ان کو اللہ کی چوکھٹ پر جھکانے کی کوشش کریں ، اور انہیں بتائیں کہ ہر حالت میں صرف اللہ کو اپنا کارساز اور چارہ گر سمجھنا چاہئے اس پیغام صبر و توکل کے لئے ضرورت تھی کہ وہ خود عملی طور پر لوگوں کے لئے نمونہ اور اسوہ ثابت ہوں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت آزمائشوں میں ڈالا یہاں تک کہ اپنے عزیز اقربا بھی ان کا ان حالات میں ساتھ نہ دے سکے مگر باوجود اس ابتلاء عظیم کے صبر…
Read the full tafseer →(84) لہٰذا ! ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس کو جو تکلیف اور دکھ تھا اس کو دور کردیا اور ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو اس کے بال بچے دیدیئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی عطا فرمائے یہ سب اپنی رحمت خاص اور مہربانی کے سبب سے عطا فرمایا اور اس لئے کہ عبادت کرنے والوں کے لئے ایک یادگار ہو۔ حضرت ایوب علیہ السلا اچھے خوشحال پیغمبروں میں سے تھے کسی سخت بیماری میں مبتلا ہوئے اولاد مرگئی یا کہیں گم ہوگئی۔ بہرحال ! ان تمام مصائب پر صبر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی دعائے صحت قبول فرمائی جو اولاد گم ہوگئی تھی وہ واپس ملی یا مرگئی تھی وہ زندہ کرکے عطا ہوئی اتنی ہی اولاد اور دی گئی یا اولاد کے ہاں اولاد…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی عابدین یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ صابرو نکو کیسی جزا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت 82 کی بقیہ تفسیر)
ان آیات کریمات کو قصہ اور کہانی کے طور پر نہیں بیان کیا گیا بلکہ اسلامی حکومتوں اور حکمرانوں کے لئے بطور سبق پیش کیا گیا ہے لیکن افسوس کہ اس طرف آج تک کسی نے بھی توجہ نہیں کی اور اس معجزانہ کلام سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا گیا اس وقت زیادہ بحث وتمحیث کی ضرورت نہیں بلکہ اختصار ہی سے سب کچھ بیان کیا جارہا ہے جو بیان کیا جا رہا ہے اس میں ہمارے حکمرانوں کے لئے یہ سبق بھی تھا کہ وہ باہر کے ممالک کا دورہ حتی الامکان کم کریں اور اپنے ہاں آنے کی دوسروں کو دعوت دیں اور ان کے آنے پر ان کی رہائش اور ان کے دوسرے سارے انتظامات کو بہتر سے بہتر پیش کرنے کے باوجود کوئی بات ایسی نہ ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
Commentary
Story of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام)
The story of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) is based mostly on Jewish legends. Those which are considered as historically reliable by scholars of hadith are being reproduced here. The Holy Qur'an tells us only that he suffered from some serious disease but he endured his suffering with fortitude. Ultimately he prayed to Allah for recovery which was granted. During his illness all his family members and friends disappeared. They either died or just abandoned him to his fate. Then Allah Ta` ala restored him to complete health and gave him back all…
Read the full tafseer →78. How his disease was cured has been explained in (Surah Suad, Ayat 42): Stamp the ground with your foot: here is cool water for you to wash with and to drink. From this it appears that no sooner did he stamp the ground than a spring gushed forth. He took bath and drank the water and was cured of his disease. The nature of the treatment hints that he was suffering from a skin disease. This is confirmed by the Bible as well. Satan smote Job with sore boils from the sole of his foot unto his crown. (Job, 2:7).
79. It will be worthwhile to compare the high character of Prophet Job as given in…
Read the full tafseer →