Explained with ayahs 78–82
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 75
سورة سَبَا میں اس کی تفصیل یہ آئی ہے وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہ وَمَنْ یَّزِغُ مِنْھُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَاب السَّعِیْرِ۔ ہ۔ یَعْمَلُوْنَ لَہ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رَّاسِیَاتٍ ........... فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّہُمْ عَلٰ مَوْتِہٖ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ تَاْکَلُ مِنْسَاَتَہ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُھِیْنِ " اور جنوں میں سے ایسے جن ہم نے اس کے لیے مسخر…
Read the full tafseer →سلیمان ؑ کیلئے تسخیر جنات و شیاطین
وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَيَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ ۚ وَكُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَ ، یعنی ہم نے سلیمان ؑ کے لئے مسخر کردیا شیاطین جن میں سے ایسے لوگوں کو جو دریاؤں میں غوطہ لگا کر سلیمان ؑ کے لئے جواہرات نکال کر لاتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے جن میں سے بعض کا ذکر دوسری آیات میں آیا ہے۔ يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ وَجِفَانٍ كَالْجَــوَابِ ، یعنی بناتے ہیں حضرت سلیمان کے لئے محرابیں اور شاندار مکانات اور مورتیں اور پتھر کے بڑے بڑے پیالے جو حوض کی طرح کام دیں ان سے سلیمان بڑی مشقت…
Read the full tafseer →حضرت سلیمان نے مفسد عناصر کو تعمیر و تمدن استعمال کیا
شیاطین سے مراد وہ شیاطین جن ہیں جن کو حضرت سلیمان نے مسخر کر رکھا تھا۔ قرآن اور تورات دونوں سے ثابت ہے کہ ان کے پاس انسانوں، جنوں اور پرندوں کی باقاعدہ فوج تھی جس کی پریڈ ہوتی رہتی تھی۔ مثلاً فرمایا ہے۔ وحشر لسلمین جنودہ من الجن والانس والطیر فھم یوزعون (نمل 18) (اور سلیمان کے قبضہ میں جنوں، انسانوں اور پرندوں کی فوجیں تھیں جن کا جائزہ ہوتا رہتا تھا) سورة نمل میں حضرت سلیمان کی فوج کے ایک عفریت جن کا بھی ذکر ہے جس نے ان سے کہا کہ اگر حضور کا حکم ہو تو میں ملکہ سبا کا تخت آپ کے دربار سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں۔ یہ جن سمندروں میں غوطہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
82۔ 1 جنات بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع تھے جو ان کے حکم سے سمندروں میں غوتے لگاتے اور موتی اور جواہر نکال لاتے، اسی طرح دیگر عمارتی کام، جو آپ چاہتے کرتے تھے۔
82۔ 2 یعنی جنوں کے اندر جو سرکشی اور فساد کا مادہ ہے، اس سے ہم نے سلیمان ؑ کی حفاظت کی اور وہ ان کے آگے سرتابی کی مجال نہیں رکھتے تھے۔
Read the full tafseer →36: شریر جنات سے مراد وہ جنات ہیں جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا تھا، اور وہ ان کے حکم سے دریا میں غوطے لگا کر موتی نکالتے اور حضرت سلیمان ؑ کو لا کردیتے تھے۔ اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے جن کی کچھ تفصیل انشاء اللہ سورة سبا : 13 میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ولسلمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (12 : 28) ” اور سلیمان کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ‘ ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے ‘ ان سب کے نگران ہم ہی تھے “۔
سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں بہت سی باتیں ‘ بہت سی روایات اور بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ ان میں سے اکثر یا تو اسرائیلیات سے لی گئی ہیں یا اوہام و تخیلات کا نتیجہ ہیں۔ لیکن روایات کے اس صحرا میں ہم نے اپنے آپ کو بےراہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم…
Read the full tafseer →3 شیاطین سے مراد سرکش جن ہیں، ان سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) دریا میں غوطہ لگواتے تاکہ موتی اور جواہر اس کی تہ میں سے نکالیں اور عمارات میں بھاری کام کرواتے اور حوض کے برابر تانبے کے لگن اور بڑی عظیم الشان دیگیں جو اپنی جگہ سے ہل نہ سکیں بنوا کر اٹھواتے تھے اور سخت سخت کام ان سے لیتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس قسم کے حیرت انگیز کام اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مادی قوتوں سے کرائے ہیں اس وقت مخفی اور روحی قوتوں سے کرائے جاتے تھے۔
4 یعنی ہم نے اپنے اقتدار کامل سے ان شیاطین کو سلیمان کی قید میں اس طرح تھام رکھا تھا کہ جو چاہتے ان سے بیگار لیتے تھے۔ اور وہ کوئی ضرر سلیمان (علیہ السلام) کو نہیں پہنچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت 82 وَمِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَہٗ ”
یعنی جناتّ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور ان کی تہوں سے موتی اور دوسری مفید چیزیں نکال کر لاتے تھے۔
وَکُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیْنَ ”
گویا وہ جن حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع تھے تو یہ بھی ہماری ہی قدرت کا کمال تھا۔
Read the full tafseer →71 جو حضرات معجزات کی تاویل کرنے کے عادی ہیں اور جب تک وہ انھیں طبعی امور کے تابع نہ بنالیں انھیں چین نہیں آتا۔ وہ اس آیت میں شیطانوں سے مراد دیہاتی طاقتور انسان لیتے ہیں۔ حالانکہ دیہاتی طاقتور لوگ بھی انسان ہی ہوتے ہیں ان کے دیہاتی یا طاقتور ہونے سے ان کی نوع نہیں بدل جاتی۔ دنیا میں جتنی بھی فلک بوس عمارتیں ہیں یا بھاری کام ہوتے ہیں۔ یہ سب کام دیہاتی طاقتور ہی سرانجام دیتے ہیں۔ یہ شہری نازنینوں کا کام نہیں ہوتا۔ اور دیہاتی طاقتور ہر بادشاہ بلکہ ہر سرماہ دار کو آسانی سے میسر آسکتے ہیں۔ پھر اس میں حضرت سلیمان کی کیا خصوصیت رہی جن کے خادمین میں اللہ نے بطور خاص جنوں کا نام لیا ہے۔
72 یعنی ہم نے…
Read the full tafseer →107۔ (سمندر اور دریا میں کہ موتی نکال نکال کرلائیں) فیخرجون من البحر الجواھر (ابن عباس ؓ شیطان سے مراد یہاں جن ہیں۔ (آیت) ” الشطین “۔ مراد جن ہیں جو اغلبا کافر تھے۔ شیطان کے لفظی مفہوم میں تو انسان، حیوان، جن ہر وہ مخلوق شامل ہے جو سرکش وخبیث ہو، ابوعبیدہ لغوی کا قول نقل ہوا ہے۔ الشیطان اسم لکل طارم من الجن والانس والحیوانات (راغب) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں اصل ہے اس قول کی کہ :۔
ع :۔ ہر کہ ترسید از حق وتقوی گزید ترسید ازوے جن وانس وہر کہ دید :
اور اگر اس کے خلاف کہیں واقع ہو تو وہ کسی عارض کی بنا پر ہوگا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تسخیر جنات و شیاطین کا ذکر روایات یہود میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور یاد کیجئے نوح (علیہ السلام) کے اس وقت کو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے اپنے قول رب لاتذر الخ کے ذریعہ بددعاء فرمائی تو ہم نے ان کی دعا قبول کی تو ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو جو کہ اس کی کشتی میں (سوار) ہوئے کرب عظیم یعنی غرق ہونے سے اور اس کی قوم کے اس کی تکذیب کرنے سے نجات دی اور ہم نے اس کی مدد کی یعنی اس کی حفاظت کی اس قوم سے جس نے ہماری ان آیتوں کی تکذیب کی جو اس کی رسالت پر دلالت کرتی تھیں تاکہ برائی کے ساتھ اس تک رسائی نہ ہوسکے یقیناً وہ برے لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا اور داؤد اور سلیمان یعنی ان…
Read the full tafseer →ومن الشیطین من یغوصون لہ ویعملون عملاً دون ذلک وکنا لہم حفظین
اور کچھ شیاطین ایسے تھے جو سلیمان کے لئے (جواہر نکالنے کی غرض سے) سمندر میں غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے اور ہم ہی ان کو سنبھالنے والے ہیں۔
اور کچھ جنات سمندروں میں غوطے مار کر آپ کے لئے جواہر نکال کر لاتے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے۔ جیسے اونچی اونچی عمارتیں اور مجسمے اور بڑے بڑے حوض اور ایک جگہ قائم رہنے والی دیگیں اور شہروں کی تعمیر اور عجیب عجیب نادر مصنوعات کی تخلیق وغیرہ۔
کُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیْنَ کا یہ مطلب ہے کہ ہم جنات کی نگرانی رکھے ہوئے تھے کہ کہیں سلیمان کی اطاعت سے سرکشی نہ کرنے لگیں…
Read the full tafseer →(82) اور شیاطین یعنی جنات میں سے بھی ہم نے ایسوں کو مسخر کردیا تھا جو سلیمان ؑ کے لیے دریاؤں میں غوطہ لگایا کرتے تھے تاکہ جواہرات اور موتی سمندروں میں سے نکال کر ان کے پاس لائیں اور وہ اس غوطہ زنی کے علاوہ سلیمان ؑ کے لیے تعمیرات کے بھی کام کیا کرتے تھے اور ان جنات کے سنبھالنے والے ہم تھے تاکہ ان میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔
Read the full tafseer → وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ : اللہ تعالیٰ نے ہوا کے علاوہ کئی شیطان جن بھی سلیمان ؑ کے تابع کردیے۔ گویا عناصر اربعہ میں سے ہوا کے علاوہ آگ سے بنی ہوئی کچھ مخلوق بھی ان کے تابع فرمان کردی گئی، پھر اس مخلوق کے ذریعے سے غوطہ خوری کے ساتھ بہت سے سمندری منافع حاصل کرنے کی استطاعت بخشی اور انھی کے ذریعے سے مٹی اور اس سے نکلنے والے پتھر وغیرہ سے ہر وہ چیز بنانا ان کی دسترس میں کردیا جو وہ بنانا چاہتے تھے۔ گویا تسخیر عناصر کی عجیب نعمت انھیں عطا فرمائی گئی۔ (بقاعی) بعض منحرف مفسرین کا کہنا ہے کہ شیاطین کا لفظ جن و انس دونوں پر آجاتا ہے، جیسا کہ سورة انعام (112) میں ”شَـيٰطِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(آیت نمبر 80) اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم یعنی لوہے کو دائود کے لیے نرم کر کے زرہ بنانے کا ہنر سکھایا۔ عربوں کے نزدیک لبوس ہر ہتھیار کو کہتے ہیں خواہ وہ زروہ ہو یا جو شن (زرہ) ہو یا تلوار ہو یا نیزہ ہو۔ ہزلی نیزے کی تعریف کرتا ہے :
ومعی لبوس للبئیس کا نہ روق بجبھۃ ذی نعاج مخفل
اللبوس ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو پہنی جاتی ہے، ابن سکیت نے کہا :
البیس لکل حالۃ لبوسھا اما نعیمھا اما بوسھا
اللہ تعالیٰ نے یہاں لبوس سے زرہ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ لبوس بمعنی ملبوس ہے جیسے رکوب اور حلوب بمعنی مفعول استعمال ہوتا ہے۔ قتادہ نے کہا : سب سے پہلے زرہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
1:۔ حاکم نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ داود (علیہ السلام) کا نسب یہ تھا داود بن ایشابن عوید بن عابر یہوذابن یعقوب کی اولاد میں سے تھے داود (علیہ السلام) کا قد چھوٹا تھا آنکھیں نیلی تھیں بال تھوڑے تھے اور دل پاک تھا۔
حضرت داود (علیہ السلام) کی عدالت :
2:۔ ابن جریر نے مرہ (رح) سے (آیت) ” اذ یحکمن فی الحرث “ کے بارے میں روایت کیا کہ کھیتی اگی ہوئی تھی بکریوں نے اس کو رات کے وقت روند ڈالا وہ لوگ اپنا فیصلہ داود ع کے پاس لے آئے انہوں نے بکریوں کا فیصلہ کردیا کھیتی والوں کے لئے (یعنی بکریاں کھیتی والوں کودے دی جائیں) پھر وہ لوگ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور ان کو یہ فیصلہ بتایا تو انہوں نے…
Read the full tafseer →[ وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ : اور (ہم نے تابع کئے) شیطانوں میں سے ] [ مَنْ : وہ جو ] [ يَّغُوْصُوْنَ : غوطے لگاتے تھے ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [ وَيَعْمَلُوْنَ : اور وہ کرتے تھے ] [ عَمَلًا : کچھ (دوسرے) کام ] [ دُوْنَ ذٰلِكَ : اس کے علاوہ ] [ وَكُنَا : اور ہم تھے ] [ لَهُمْ : ان کی ] [ حٰفِظِيْنَ : نگرانی کرنے والے ]
[ غ و ص ] غَوْصًا پانی میں غوطہ لگانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 82 ۔]
[ غَوَّاصٌ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بار بار غوطہ لگانے والا۔ وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّائٍ وَّ غَوَّاصٍ (اور شیاطین کو بھی سب کے سب عمارت تعمیر کرنے والے اور غوطے لگانے والے) ۔ 38:37]
نوٹ۔ 1: آیات۔ 78 سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ، ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام اور انعام کا تذکرہ فرمایا ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر فرمایا تھا۔
ان کو اللہ تعالیٰ نے علم اور حکمت سے نوازا اور طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں۔ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ اور پرندے مسخر فرما دئیے جو ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر فرما دی اور جنات کو ان کا تابع کردیا۔
کھیت اور بکریوں کے مالکوں میں جھگڑا اور اس کا فیصلہ
شروع میں ایک جھگڑے کا اور اس جھگڑے کے فیصلہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
(5) قصہ داؤد و سلیمان (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ وداود وسلیمن اذ یحکمن فی الحرث .... الیٰ .... وکنالہم حفظین۔
یہ پانچواں قصہ حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں اور باوجود بادشاہت اور فرمانروائی کے خدا پرست تھے اور غایت درجہ کے عادل اور مصنف تھے۔ امیری اور فقیری اور شاہی اور درویشی دونون کے جامع تھے۔ ابوبکر و عمر کی خلافت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کی بادشاہت کا نمونہ تھی داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) نبی تھے اور اللہ کے خلیفہ تھے اور ابوبکر و عمر نبی نہ تھے، مگر اعلیٰ درجہ کے ولی تھے اور خاتم الانبیاء کے خلیفہ تھے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
56:۔ ” وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ الخ “ یہ مع داؤود پر معطوف ہے ای سخرنا لہ الریح الخ (روح) ۔ یعنی ہم ہی نے اپنے حکم سے ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان بنادیا اور ہم ہی ہر چیز کو جاننے والے ہیں دوسرا کوئی نہیں۔ ” وَ مِنَ الشَّیَاطِیْنِ مَنْ یّغُوْصُوْنَ الخ “ الریح پر معطوف ہے اور من الشیاطین اس کا بیان ہے یعنی ہم نے جنوں کو مسخر کردیا کہ وہ اس کے حکم کے مطابق کام کرتے تھے۔ ” وَ کُنَّا لَھُمْ حَافِظِیْنَ “ لیکن سرکشی اور طغیان سے جنوں کو بچانا اور ان پر کنٹرول رکھنا یہ ہمارا کام تھا تاکہ وہ شر و فساد نہ کریں۔ داؤود و سلیمان (علیہما السلام) پر یہ تمام احسانات و انعامات ہم نے کیے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ربط آیات :
ابتداء میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلاء ان کے صبر و استقامت ، ان کے طریق تبلیغ اور مناجات کی بات ہوئی۔ اس کے بعد آپ کے صاحبزادے اسحاق (علیہ السلام) پر پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ پھر آپ کے بھتیجے اور اللہ کے نبی لوط (علیہ السلام) ان کے مصائب اور قوم کے ساتھ معاملات کا بیان ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کرتے رہے۔ آپ نے بڑی سختیاں جھیلیں ، مگر محدود آدمی ایمان لائے ، حتیٰ کہ آپ کی بیوی اور بیٹا بھی محروم ہی رہے ، آخر تنگ آکر اللہ تعالیٰ کے حضور قوم کے خلاف بددعا کی تو اللہ نے انہیں غرقابی…
Read the full tafseer →وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَہٗ وَيَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ 0ۚ وَكُنَّا لَہُمْ حٰفِظِيْنَ 82ۙ
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112]
( ش ط ن ) الشیطان
اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور…
Read the full tafseer →3 ؎ الخوض غوطہ نعان ورآب 12 منہ
Read the full tafseer →وَمِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَـہٗ وَیَعْمَلُوْنَ عَمَلاً دُوْنَ ذٰلِکَ ج وَکُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیْنَ ۔ (الانبیاء : 82)
(اور شیاطین میں سے بھی ہم نے اس کے لیے مسخر کردیئے تھے جو ان کے لیے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے اور ہم ہی ان کے نگہبان تھے۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو کمالات بخشے اور جن نعمتوں سے نوازا ان میں سے ایک نعمت کا سابقہ آیت میں ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کے لیے ہَوائوں کو مسخر کردیا تھا۔ اب اس آیت کریمہ میں دوسری نعمت کا ذکر ہورہا ہے کہ جنات بھی آپ ( علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیئے گئے تھے۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے ہونہار صاحب زادے کا ذکر۔
(وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْر) [ السباء : 12]
اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا صبح کو اور ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا شام کو۔ “
مزید تفصیل سورة ص میں بیان فرمائی۔ (فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَُ ) [ ص : 36] ” پس ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جدھر وہ جانا چاہتا اس کے حکم کے مطابق بسہولت چلتی تھی۔ “ بائیبل اور جدید تاریخی تحقیقات سے اس مضمون پر جو روشنی پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →82: وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ (اور کچھ شیاطین ایسے تھے) اور ہم نے بعض سرکش شیاطین کو آپ کے تابع کردیا۔ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَہٗ (جو آپ کے لئے غوطہ لگاتے) سمندروں میں تاکہ ان میں سے آپ کے حکم کے مطابق موتی نکالیں اور دیگر جو اشیاء سمندر کی تہہ میں ہوتی ہیں ان کو نکال لائیں۔ وَیَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِکَ (اور اس کے علاوہ دیگر کام بھی کرتے تھے) غوطہ خوری کے علاوہ جن کا تذکرہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ مثلاً قلعے، بےجان مورتیاں، محلات، بڑی بڑی دیگیں، اور لگن وغیرہ۔
وَکُنَّا لَھُمْ حٰفِظِیْنَ (اور ہم ہی ان کو سنبھالنے والے تھے) کہ وہ ان کے حکم سے ٹیڑھا پن اختیار کریں۔ نمبر 2۔ اس حکم کو تبدیل کریں…
Read the full tafseer →تفسیر۔
82۔ ومن الشیطان ، ، اور ہم نے شیطان کو بھی حضرت سلیمان کے لیے مسخر کردیا تھا، من یغوصون لہ، وہ سمندر کے نیچے داخل ہوتے اور وہاں سے موتی نکال لاتے ۔ ویعملون عملا دون ذالک ، اور اس کام کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے۔ یعملون لہ مایشاء من محاریب وتماثیل، وکنالہ حافظین۔ ہم جنات کی نگرانی رکھے ہوئے تھے کہ کہیں وہ آپ کے حکم سے نکل نہ جائیں زجاج نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نگرانی رکھتے تھے کہ کہیں بنائی ہوئی چیزوں کو تباہ نہ کردیں۔
جب حضرت سلیمان کسی جن کو کسی آدمی کے ساتھ کام پر بھیجتے تو آدمی سے فرمادیتے جب اس کام سے یہ فارغ ہوجائے تو اس کو کسی اور کام پر لگادیناایسا نہ ہو کہ یہ کیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
78۔ 82:۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے ایک قصہ کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ جب بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانی پھیل گئی تو اس کی سزا میں ملک شام کے کئی شہر قوم عمالقہ کے بادشاہ مقرر جالوت نے بنی اسرائیل سے چھین لیے اس کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا اور جالوت وطالوت کی لڑائی میں داود (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور شمویل کی وفات کے بعد نبوت ‘ بادشاہت یہ سب کچھ داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا ‘ دواد ‘ (علیہ السلام) کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
آیت 78
ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤد (علیہ السلام) کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجئے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انہیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ (اذیحکمن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم) یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہوگئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں۔ اس جھگڑے میں داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔ پس اس طرح آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
106 حضرت سلیمان کے لیے تیز ہواؤں اور جنوں کی تسخیر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے سلیمان کے لیے تیز ہواؤں اور جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا تھا " تاکہ تند و تیز ہوا ان کے تخت کو اپنے کندھوں پر لے کر چلے اور جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ غوطے لگا کر ان کے لیے ہیرے اور موتی وغیرہ نکال کرلے آئیں۔ سو شیطان سے یہاں پر مراد جن ہیں اور شیطان کا اطلاق ہر سرکش پر ہوتا ہے خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان یا حیوان۔ ( مفردات راغب ) ۔ سو اس میں یہ عظیم الشان اور انقلاب آفریں درس ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اور وہ اس سے صحیح معنوں میں ڈرتا ہے تو ہر چیز اس کی ہوجاتی ہے اور اس سے ڈرتی اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
سیدنا دائود اور سلیمان (علیہ السلام) کے کارنامے
تشریح : سیدنا دائود اور سیدنا سلیمان (علیہما السلام) دونوں باپ بیٹا تھے اور نبی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ حکمران بھی تھے۔ باقی نبیوں کی طرح آپ کو بھی کتاب آسمانی دی گئی جو زبور کے نام سے مشہور ہے اور آپ بنی اسرائیل کے حکمران تھے۔ فہم و فراست اور حکمت و دانائی اللہ کی طرف سے آپ کو ملی ہوئی تھی۔ مگر یہاں کچھ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد سیدنا دائود سے زیادہ معاملہ فہم تھے جیسا کہ اس مقدمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ بکریوں نے کھیت اجاڑ دیا تو سیدنا دائود نے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں۔ اللہ نے سیدنا سلیمان (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ شیطانوں سے مراد سرکش جن ہیں۔ دیکھئے سورة سبا : 21
Read the full tafseer →(21:82) ومن الشیطن۔ ای وسخرنا لہ (لسلیمن) من یغوصون لہ من الشیطن۔ اور ہم نے اس کے فرمانبردار بنا دئیے جنوں میں سے وہ جو اس کے لئے (سمندر میں) غوطہ لگاتے تھے (موتی وغیرہ نکال کر لاتے تھے) ۔ شیطان کا لفظ ویسے تو سرکش وخبیث انسان ، حیوان، جن کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں اس سے مراد جن ہے۔
یغوصون۔ مضارع جمع مذکر غائب غوص مصدر (باب نصر) وہ غوطہ مارتے تھے۔ دون ذلک۔ اس کے علاوہ۔ حفظین۔ حفاظت کرنے والے۔ نگہبانی کرنے والے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ یہاں مراد ہے سنبھالنے والے۔ ای حفظین من ان یزیغوا عن امرہ اس امر کی نگہبانی کرنے والے کہ وہ اس کے حکم سے رو گردانی نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
حضرت داؤد ، حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) ان آیتوں میں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا، سورة بقرہ میں گزرچکا ہے کہ جالوت اور طالوت کی لڑائی میں حضرت داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت وبادشاہت یہ سب کچھ حضرت داؤد کے خاندان میں آگیا حضرت داؤد کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک شخص کی کھیتی دوسرے شخص کی بکریاں رات کو چر گئیں جب یہ جھگڑا حضرت داؤد کے روبرو پیش ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے مطابق حضرت داؤد نے اس جھگڑے کا فیصلہ کچھ یوں کیا کہ وہ بکریاں کھیتی والے شخص سے دلادیں اسی قوم کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کا حال سن کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
[43] موتی اور مونگے نکالنے کی غرض سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(ف 1) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا مستخر کی ، اس کے معنی یہ ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) فضا اور جو سے (محدود مقام تک) حسب منشاء استفادہ کرلیتے تھے ، اور ان کو اس پر ضبط اور کنٹرول حاصل تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کے پاس ایک تخت تھا ، جو ہوا میں اڑتا تھا ، اور شام سے یمن اور یمن سے شام تک اس کی پرواز ہوتی تھی ، تو کیا یہ تسخیر طیاروں کی صورت میں تھی ؟ واضح طور پر اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا ، مگر متبادر معنے جو سمجھ میں آتے ہیں ، وہ یہی ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس طیارہ کی قسم کی کوئی چیز تھی ، اور وہ ان کی اپنی ایجاد تھی جس کی وجہ سے وہ ہواؤں میں اڑتے پھرتے…
Read the full tafseer →(82) اور شیاطین یعنی جنات میں سے بعضے شیاطین بھی سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کئے جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے سمندر میں غوطہ لگاتے تھے اور اس غوطہ خوری کے علاوہ دوسرے کام بھی کیا کرتے تھے اور ہم ان جنات کی حفاظت اور نگہبانی کرنے والے تھے بعض جنات بھی تابع تھے چونکہ یہ جنات بڑے شریر تھے اس لئے فرمایا کہ ہم ان کی نگہبانی کرتے تھے کہ وہ شرارت نہ کرنے پائیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شیطانوں سے غوطہ لگواتے جواہر دریا سے نکلواتے جہاں آدمی کا مقدور نہیں اور عمارت میں بھاری کام ان سے کرواتے اور سفر میں حوض برابر لگن تانبے کے اور کنویں برابر دیگیں اٹھالے چلتے اور ان میں کھانا پکاتے اور سخت سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ف 1۔ یعنی جب ملک شام سے کہیں جاتے اور پھر آتے تو یہ آنا اور اسی طرح جانا بھی ہوا کے ذریعہ سے ہوتا تھا۔
Read the full tafseer →بڑے بڑے قوی ہیکل اور سرکش لوگوں کو سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا تابع بنا دیا گیا :
82۔ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے لئے بحر یعنی سمندروں کو مسخر کرنے کا ذکر آیا ہے تو اس کے مختلف شعبوں کا ذکر بھی کردیا گیا ۔ فرمایا کتنے ہی سرکش تھے جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے غوطہ زنی کرتے تھے اور سمندر سے بڑی بڑی قیمتی چیزیں نکال لاتے تھے اور ان کو شیطان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم اقوام سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے شعبہ میں بہت تیز تھے اور آج کل اس کے لئے پورا ایک محکمہ کام کر رہا ہے جو اسی کی ترقی پذیر صورت ہے اور اسی طرح غوطہ زنی باقاعدہ ایک فن تشکیل پا چکا ہے جو سمندر کی تہہ میں…
Read the full tafseer →Subservience of Jinns and shaitans to Sulayman (علیہ السلام)
وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ (And from the devils, (We subjugated for him) those who dived in water for him and did jobs other than that. And We were the One who kept watch over them. - 21:82) That is, Allah made the satan jinn subservient to Sulayman (علیہ السلام) and they used to dive in the rivers fishing pearls for him. Apart from this, they used to perform other jobs for him, some of which are mentioned in other verses.
يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ…
Read the full tafseer →75. The subjection of satans has been explained in (Surah Saba, Ayats 12-13). Incidentally, these verses of the Quran clearly show that the satans and jinns who worked for Prophet Solomon belonged to quite a different genus from human beings. Therefore, it is wrong to pervert the Quran to prove that they were human beings as some modernist commentators have tried to do. It is obvious from the wording of the Quran and the context in which the story of the jinns has been related, that they were not human beings. Had they been so this would have been no special favor to Solomon, because human…
Read the full tafseer →