Explained with ayahs 78–82
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 74
اس کی تفصیل سورة سبا میں یہ آئی ہے وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّ یْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَ رَوَاحُھَا شَھْرٌ، " اور سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا، ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا صبح کو اور ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا شام کو "۔ پھر اس کی مزید تفصیل سورة ص میں یہ آتی ہے فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہ رَخَآءً حَیْثُ اَصَابَ۔ " پس ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے بسہولت چلتی تھی جدھر وہ جانا چاہتا "۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہوا کو حضرت سلیمان کے لیے اس طرح تابع امر کردیا گیا تھا کہ ان کی مملکت سے ایک مہینے کی راہ تک کے مقامات کا سفر بسہولت…
Read the full tafseer →وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً ، یہ جملہ سابقہ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ پر عطف ہے یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کے لئے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا جو ان کی آواز کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اسی طرح حضرت سلیمان ؑ کے لئے ہوا کو مسخر کردیا تھا جس پر سوار ہو کر وہ جہاں چاہتے بہت جلد آسانی سے پہنچ جاتے تھے اس جگہ یہ امر قابل لحاظ ہے کہ تسخیر داؤد ؑ میں تو لفظ مَعَ استعمال فرمایا کہ ان کے ساتھ پہاڑوں پرندوں کو مسخر کردیا تھا اور یہاں حرف لام کے ساتھ فرمایا کہ ہوا کو سلیمان ؑ کے لئے مسخر کردیا تھا اس میں لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دونوں تسخیروں میں فرق تھا، داؤد ؑ جب تلاوت کرتے…
Read the full tafseer →حضرت سلیمان کا عظیم بحری بیڑا
یہاں ’ ل ‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ فعل مخدوف ہے۔ سخرنالہ کا مفہم ہم اس کے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ’ ل ‘ کے صلہ کے ساتھ یہ لفظ کسی شے کا کسی کی خدمت میں لگا دنیے کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی ہم نے تند ہوائوں کو بھی مسخر کر کے سلیمان کی خدمت میں لگا دیا تھا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود کی بری قوت تو بہت تھی لیکن ان کی حکومت کی بحری قوت میں بےمثال ترقی حضرت سلیمان کے عہد میں ہوئی۔ انہوں نے ایسے باد بانی جہاز ایجاد کیے جو ہندوستان اور مغربی جزائر تک سفر کرتے تھے۔ ان کا بحری بیڑا وقت کا سب سے زیادہ طاقتور بیڑا تھا۔ بحر احمر میں اس کا مرکز ترسیس تھا جو خلیج…
Read the full tafseer →81۔ 1 یعنی جس طرح پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد ؑ کے لئے مسخر کردیئے تھے، اسی طرح ہوا حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردی گئی تھی۔ وہ اپنے وزرا سلطنت سمیت تخت پر بیٹھ جاتے تھے اور جہاں چاہتے، مہینوں کی مسافت، لمحوں اور ساعتوں میں طے کرکے وہاں پہنچ جاتے، ہوا آپ کے تخت کو اڑا کرلے جاتی۔ بابرکت زمین سے مراد شام کا علاقہ ہے۔
Read the full tafseer →35: حضرت داؤد ؑ کے لیے اللہ تعالیٰ نے لوہے جیسی سخت چیز کو نرم کردیا تھا، اور حضرت سلیمان ؑ کے لیے ہوا جیسی لطیف چیز کو۔ چنانچہ وہ اپنے تخت پر بیٹھ کر ہوا کو حکم دیتے تو وہ انہیں ان کی مرضی کے مطابق جہاں چاہتے لے جاتی تھی، اور سورة سبا : 12 میں مذکور ہے کہ وہ ایک مہینے کا فاصلہ صبح کے سفر میں، اور ایک مہینے کا فاصلہ شام کے سفر میں طے کرلیا کرتے تھے اور برکتوں والی سرزمین سے مراد شام یا فلسطین کا علاقہ ہے، اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ کہیں دور چلے جاتے تو وہ ہوا انہیں تیز رفتاری کے ساتھ واپس اپنے شہر میں لے آتی تھی جو فلسطین میں واقع تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ولسلمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (12 : 28) ” اور سلیمان کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ‘ ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے ‘ ان سب کے نگران ہم ہی تھے “۔
سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں بہت سی باتیں ‘ بہت سی روایات اور بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ ان میں سے اکثر یا تو اسرائیلیات سے لی گئی ہیں یا اوہام و تخیلات کا نتیجہ ہیں۔ لیکن روایات کے اس صحرا میں ہم نے اپنے آپ کو بےراہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم…
Read the full tafseer →1 حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دعاء کی تھی (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ) 38 ۔ ص :35) اللہ تعالیٰ نے ہوا اور جن ان کے لیے مسخر کردیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک تخت تیار کرایا تھا جس پر مع اعیان دولت بیٹھ جاتے اور ضروری سامان بھی بار کرلیا جاتا، پھر ہوا آتی، زور سے اس کو زمین سے اٹھاتی، پھر اوپر جا کر نرم ہوا ان کی ضرورت کے مناسب چلتی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ (رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ ) 38 ۔ ص :36) یمن سے شام کو اور شام سے یمن کو مہینہ کی راہ دوپہر میں پہنچا دیتی۔ تعجب ہے کہ آج عجیب و غریب ہوائی جہازوں کے زمانہ میں بہت سے زائغین اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت 82 وَمِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَہٗ ”
یعنی جناتّ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور ان کی تہوں سے موتی اور دوسری مفید چیزیں نکال کر لاتے تھے۔
وَکُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیْنَ ”
گویا وہ جن حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع تھے تو یہ بھی ہماری ہی قدرت کا کمال تھا۔
Read the full tafseer →69 پہلے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے فیصلے کا ذکر ہوا۔ بعد میں ان پر انعامات کا۔ حضرت سلیمان کو ایک معجزہ تو یہ عطا ہوا کہ تند و تیز ہوا ان کے لئے مسخر کردی گوی تھی۔ وہ ہوا کا جس طرح کا حکم دیتے وہ آپ کا تابع فرمان رہتی اور اس طرح آپ ایک ماہ کا سفر صرف چند گھنٹوں یعنی 3 سے 6 گھنٹوں کے درمیان کرلیا کرتے تھے۔ قرآن کریم کی تصریحات سے یہی کچھ ثابت ہے اور اس کی ایک توجیہہ، جو عام طور پر مشہور ہے، یہ کی گئی ہے کہ آپ نے ایک بہت بڑا تخت بنوایا تھا۔ جب آپ چاہتے اس پر خود بھی آپ کے۔۔ سلطنت بھی بیٹھ جاتے اور بھی جسے چاہتے اس پر بٹھا لیتے، پھر ہوا کو حکم دیتے تو وہ اس تخت کو اٹھا لیتی اور جب یہ تخت زمین…
Read the full tafseer →105۔ یعنی ملک شام کی طرف کہ وہ جب کبھی باہر جاتے تو واپس ہوا کے ذریعہ سے آتے تھے، حضرت داؤد (علیہ السلام) کے معجزہ تسخیر جبال کا ذکر ابھی گزر چکا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے معجزہ تسخیر ہوا کا ذکر اب آیا۔ امام رازی (رح) نے یہ لطیفہ خوب لکھا ہے کہ باپ کا مسخر کثیف ترین جسم کیا گیا یعنی پتھر اور چٹان اور بیٹے کا مسخر لطیف ترین جسم کیا گیا یعنی ہوا۔
106۔ (سو ہم جانتے تھے کہ سلیمان (علیہ السلام) کو یہ قوت دینا کس قدر مفید اور موافق مصالح ہوگا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور یاد کیجئے نوح (علیہ السلام) کے اس وقت کو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے اپنے قول رب لاتذر الخ کے ذریعہ بددعاء فرمائی تو ہم نے ان کی دعا قبول کی تو ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو جو کہ اس کی کشتی میں (سوار) ہوئے کرب عظیم یعنی غرق ہونے سے اور اس کی قوم کے اس کی تکذیب کرنے سے نجات دی اور ہم نے اس کی مدد کی یعنی اس کی حفاظت کی اس قوم سے جس نے ہماری ان آیتوں کی تکذیب کی جو اس کی رسالت پر دلالت کرتی تھیں تاکہ برائی کے ساتھ اس تک رسائی نہ ہوسکے یقیناً وہ برے لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا اور داؤد اور سلیمان یعنی ان…
Read the full tafseer →ولسلیمن الریح اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا۔ سلیمان کا عطف واؤ پر ہے اور الریح کا
عطف الجبال پر۔ حرف عاطف ایک ہی ہے۔ کیونکہ دونوں ایک ہی عامل کے مفعول ہیں۔ بعض اہل تحقیق نے بیان کیا ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کا داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھنا بامرداؤد نہ تھا (بلکہ براہ راست اللہ کے حکم تسخیری کے ماتحت تھا اس لئے داؤد کے ساتھ لفظ مع (ساتھ) ذکر کیا اور ہوا کی رفتار بامر سلیمان ہوتی تھی۔ اس لئے لسلیمان (سلیمان کے لئے) لام کے ساتھ فرمایا۔
عاصفۃ تیز کہ تھوڑے وقت میں سلیمان کو لشکر سمیت دور لے جاتی تھی۔ اللہ نے فرمایا ہیغُدُوُّہَا شَہْرُّ َو
رَوَاحُہَا شَہْرٌ شروع آدھے دن کی رفتار ہوا ایک مہینے…
Read the full tafseer →(81) اور ہم نے سلیمان ؑ کے لیے تیز ہوا کو تابع بنادیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے، یا یہ کہ سلیمان ؑ کے حکم سے اصطخر سے اس سرزمین کی طرف چلتی، جس میں ہم نے پھلوں وغیرہ کی برکت رکھی ہے یعنی شام، اردن، فلسطین کی طرف اور ہم ہر چیز کو جانتے ہیں، اس لیے ہم نے سلیمان ؑ کے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا۔
Read the full tafseer →وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً : اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا تو اس نے نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو چھوڑ کر ان کی ساری قوم کو غرق کردیا۔ آگ کو حکم دیا تو وہ ابراہیم ؑ پر برد وسلام بن گئی۔ داؤد ؑ کے ساتھ تسبیح کے لیے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا، فرمایا : (وَّسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ) [ الأنبیاء : 79 ] مگر پانی یا آگ کو نوح یا ابراہیم ؑ کے تابع فرمان نہیں کیا، نہ پہاڑوں یا پرندوں کو داؤد ؑ کے حکم کا پابند کیا، مگر سلیمان ؑ کا خاصہ یہ ہے کہ ہوا ان کے حکم کے تابع کردی گئی، فرمایا : (تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖٓ) کہ وہ اس کے حکم سے چلتی تھی۔
عَاصِفَةًکا معنی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(آیت نمبر 80) اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم یعنی لوہے کو دائود کے لیے نرم کر کے زرہ بنانے کا ہنر سکھایا۔ عربوں کے نزدیک لبوس ہر ہتھیار کو کہتے ہیں خواہ وہ زروہ ہو یا جو شن (زرہ) ہو یا تلوار ہو یا نیزہ ہو۔ ہزلی نیزے کی تعریف کرتا ہے :
ومعی لبوس للبئیس کا نہ روق بجبھۃ ذی نعاج مخفل
اللبوس ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو پہنی جاتی ہے، ابن سکیت نے کہا :
البیس لکل حالۃ لبوسھا اما نعیمھا اما بوسھا
اللہ تعالیٰ نے یہاں لبوس سے زرہ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ لبوس بمعنی ملبوس ہے جیسے رکوب اور حلوب بمعنی مفعول استعمال ہوتا ہے۔ قتادہ نے کہا : سب سے پہلے زرہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
1:۔ حاکم نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ داود (علیہ السلام) کا نسب یہ تھا داود بن ایشابن عوید بن عابر یہوذابن یعقوب کی اولاد میں سے تھے داود (علیہ السلام) کا قد چھوٹا تھا آنکھیں نیلی تھیں بال تھوڑے تھے اور دل پاک تھا۔
حضرت داود (علیہ السلام) کی عدالت :
2:۔ ابن جریر نے مرہ (رح) سے (آیت) ” اذ یحکمن فی الحرث “ کے بارے میں روایت کیا کہ کھیتی اگی ہوئی تھی بکریوں نے اس کو رات کے وقت روند ڈالا وہ لوگ اپنا فیصلہ داود ع کے پاس لے آئے انہوں نے بکریوں کا فیصلہ کردیا کھیتی والوں کے لئے (یعنی بکریاں کھیتی والوں کودے دی جائیں) پھر وہ لوگ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور ان کو یہ فیصلہ بتایا تو انہوں نے…
Read the full tafseer →[ وَلِسُلَيْمٰنَ : اور (ہم نے تابع کیا) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ] [ الرِّيْحَ : ہوا کو ] [ عَاصِفَةً : تیزو تند ہوتے ہوئے ] [ تَجْرِيْ : وہ چلتی تھی ] [ بِاَمْرِهٖٓ: ان (علیہ السلام) کے حکم سے ] [ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ : اس زمین کی طرف ] [ بٰرَكْنَا : ہم نے برکت دی ] [ فِيْهَا : جس میں ] [ وَكُنَا : اور ہم ہیں ] [ بِكُلِ شَيْءٍ : سب چیز کا ] [ عٰلِمِيْنَ : علم رکھنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ، ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام اور انعام کا تذکرہ فرمایا ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر فرمایا تھا۔
ان کو اللہ تعالیٰ نے علم اور حکمت سے نوازا اور طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں۔ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ اور پرندے مسخر فرما دئیے جو ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر فرما دی اور جنات کو ان کا تابع کردیا۔
کھیت اور بکریوں کے مالکوں میں جھگڑا اور اس کا فیصلہ
شروع میں ایک جھگڑے کا اور اس جھگڑے کے فیصلہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
(5) قصہ داؤد و سلیمان (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ وداود وسلیمن اذ یحکمن فی الحرث .... الیٰ .... وکنالہم حفظین۔
یہ پانچواں قصہ حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں اور باوجود بادشاہت اور فرمانروائی کے خدا پرست تھے اور غایت درجہ کے عادل اور مصنف تھے۔ امیری اور فقیری اور شاہی اور درویشی دونون کے جامع تھے۔ ابوبکر و عمر کی خلافت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کی بادشاہت کا نمونہ تھی داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) نبی تھے اور اللہ کے خلیفہ تھے اور ابوبکر و عمر نبی نہ تھے، مگر اعلیٰ درجہ کے ولی تھے اور خاتم الانبیاء کے خلیفہ تھے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
56:۔ ” وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ الخ “ یہ مع داؤود پر معطوف ہے ای سخرنا لہ الریح الخ (روح) ۔ یعنی ہم ہی نے اپنے حکم سے ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان بنادیا اور ہم ہی ہر چیز کو جاننے والے ہیں دوسرا کوئی نہیں۔ ” وَ مِنَ الشَّیَاطِیْنِ مَنْ یّغُوْصُوْنَ الخ “ الریح پر معطوف ہے اور من الشیاطین اس کا بیان ہے یعنی ہم نے جنوں کو مسخر کردیا کہ وہ اس کے حکم کے مطابق کام کرتے تھے۔ ” وَ کُنَّا لَھُمْ حَافِظِیْنَ “ لیکن سرکشی اور طغیان سے جنوں کو بچانا اور ان پر کنٹرول رکھنا یہ ہمارا کام تھا تاکہ وہ شر و فساد نہ کریں۔ داؤود و سلیمان (علیہما السلام) پر یہ تمام احسانات و انعامات ہم نے کیے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ربط آیات :
ابتداء میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلاء ان کے صبر و استقامت ، ان کے طریق تبلیغ اور مناجات کی بات ہوئی۔ اس کے بعد آپ کے صاحبزادے اسحاق (علیہ السلام) پر پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ پھر آپ کے بھتیجے اور اللہ کے نبی لوط (علیہ السلام) ان کے مصائب اور قوم کے ساتھ معاملات کا بیان ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کرتے رہے۔ آپ نے بڑی سختیاں جھیلیں ، مگر محدود آدمی ایمان لائے ، حتیٰ کہ آپ کی بیوی اور بیٹا بھی محروم ہی رہے ، آخر تنگ آکر اللہ تعالیٰ کے حضور قوم کے خلاف بددعا کی تو اللہ نے انہیں غرقابی…
Read the full tafseer →وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِيْ بِاَمْرِہٖٓ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا 0ۭ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ 81
الرِّيحُ معروف،
وهي فيما قيل الهواء المتحرّك . وعامّة المواضع الّتي ذکر اللہ تعالیٰ فيها إرسال الرّيح بلفظ الواحد فعبارة عن العذاب، وكلّ موضع ذکر فيه بلفظ الجمع فعبارة عن الرّحمة، فمن الرِّيحِ : إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً [ القمر/ 19] ، فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَجُنُوداً [ الأحزاب/ 9] ، مَثَلِ رِيحٍ فِيها صِرٌّ [ آل عمران/ 117] ، اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ [إبراهيم/ 18] . وقال في الجمع : وَأَرْسَلْنَا الرِّياحَ لَواقِحَ [ الحجر/…
Read the full tafseer →3 ؎ یعنی ملک شام و فلسطین 13 منہ
2 ؎ عاصفۃ شدیدۃ الھبوب و خفیفہ یقال اعصفت الریح اذا اشدت 12 منہ۔
Read the full tafseer →وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖٓ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰـرَکْنَا فِیْھَا ط وَکُنَّا بِکُلِّ شَیْئٍ عٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 81)
(اور ہم نے سلیمان کے لیے تندو تیز ہوا کو مسخر کردیا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جسے ہم نے برکت دی ہے، اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر انعامات
حضرت دائود (علیہ السلام) پر انعامات کے ذکر کے بعد ان انعامات کا ذکر کیا جارہا ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر کیے گئے۔ ان پر پہلا انعام یہ ہوا کہ ہوا کو آپ ( علیہ السلام) کے تابع فرمان کردیا گیا۔ اس آیت کریمہ میں تندوتیز ہوا کا ذکر ہے لیکن سورة ص میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے ہونہار صاحب زادے کا ذکر۔
(وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْر) [ السباء : 12]
اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا صبح کو اور ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا شام کو۔ “
مزید تفصیل سورة ص میں بیان فرمائی۔ (فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَُ ) [ ص : 36] ” پس ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جدھر وہ جانا چاہتا اس کے حکم کے مطابق بسہولت چلتی تھی۔ “ بائیبل اور جدید تاریخی تحقیقات سے اس مضمون پر جو روشنی پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →تسخیرِ ریح اور تسخیر شیاطین :
81: وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ (اور سلیمان (علیہ السلام) کیلئے ریح کو) یعنی ہم نے ان کے لئے ریح کو مسخر کیا۔ عَاصِفَۃً (تیز ) ۔
نحو : یہ حال ہے بہت تیز چلنا۔ دوسرے مقام پر اس کی صفت الرؔ خاء سے کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ ہوا آپ کے اختیار سے چلی تھی۔ کسی وقت تیز اور دوسرے وقت نرم۔ آندھی کی طرح نہ ہوتی تھی بلکہ نرم و خو شگوار۔
تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ (وہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے چلتی) ہٗ کی ضمیر سلیمان (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا (اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت دی ہے) برکت نہروں کی کثرت، درختوں اور پھلوں کی کثرت سے۔ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
80۔ وعلمناہ صنعتہ لبوس لکم، ، لبوس ہر پہننے والی چیز کو کہتے ہیں عرفا اس کا استعمال اسلحہ کے لیے ہوتا ہے۔ اس جگہ لوہے کی زرہ مراد ہے قتادہ نے کہا کہ حضرت داؤد سے پہلے زرہ سپاٹ ہوتی تھی سب سے اول آپ نے جال دراز زرہ بنائی اور کڑیاں جوڑ کر جھول کی شکل دی۔ حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت داؤد اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
” لتحصنکم ، ، تاکہ وہ صنعت یازرہ تم کو دشمن کے حملے سے محفوظ رکھے ۔ سدی نے کہا اسلحہ کی مار پڑنے سے تم کو محفوظ رکھے۔ من باسکم تمہارے دشمن کے حملے سے۔
ابوجعفر ، ابن عامر، حفص اور عاصم و یعقوب نے لتحصنکم ، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اس سے مراد صنعت کاریگری ہے ابوبکر اور عاصم نے نون کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
78۔ 82:۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے ایک قصہ کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ جب بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانی پھیل گئی تو اس کی سزا میں ملک شام کے کئی شہر قوم عمالقہ کے بادشاہ مقرر جالوت نے بنی اسرائیل سے چھین لیے اس کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا اور جالوت وطالوت کی لڑائی میں داود (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور شمویل کی وفات کے بعد نبوت ‘ بادشاہت یہ سب کچھ داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا ‘ دواد ‘ (علیہ السلام) کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
آیت 78
ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤد (علیہ السلام) کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجئے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انہیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ (اذیحکمن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم) یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہوگئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں۔ اس جھگڑے میں داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔ پس اس طرح آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
101 حضرت داؤد اور سلیمان دونوں کے لیے علم و حکمت کی نوازش : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان دونوں ہی کو علم و حکمت کی دولت سے نوازا تھا " کہ وہ دونوں ہی ہمارے پسندیدہ اور چنے ہوئے بندے تھے۔ سو ان دونوں میں سے ہر ایک کا فیصلہ صحیح اور درست تھا۔ اور ہر ایک کا فیصلہ ایک صحیح حجت اور درست نکتہ نظر پر مبنی تھا۔ حضرت داؤد نے بکریوں والے کی بکریوں کی ملکیت کو زائل کر کے ان کو کھیت والے کی ملکیت میں دے دیا تھا کہ ان کی شریعت میں اصل حکم یہی تھا۔ جیسا کہ حضرت یوسف کے قصے میں وارد ہے کہ جب حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے پوچھا کہ تمہارے دین و مذہب میں چور کی سزا کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا یہ کہ چور کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
سیدنا دائود اور سلیمان (علیہ السلام) کے کارنامے
تشریح : سیدنا دائود اور سیدنا سلیمان (علیہما السلام) دونوں باپ بیٹا تھے اور نبی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ حکمران بھی تھے۔ باقی نبیوں کی طرح آپ کو بھی کتاب آسمانی دی گئی جو زبور کے نام سے مشہور ہے اور آپ بنی اسرائیل کے حکمران تھے۔ فہم و فراست اور حکمت و دانائی اللہ کی طرف سے آپ کو ملی ہوئی تھی۔ مگر یہاں کچھ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد سیدنا دائود سے زیادہ معاملہ فہم تھے جیسا کہ اس مقدمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ بکریوں نے کھیت اجاڑ دیا تو سیدنا دائود نے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں۔ اللہ نے سیدنا سلیمان (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ اس کی تفسیر میں حجرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ایک تخت تیار کرایا تھا جس میں مع اعیان سلطنت بیٹھ جاتے اور ضروری سامان بھی رکھ لیتے پھر ہوا آتی اور اسے اڑالے جاتی۔ جب وہ چاہتے ہوا تیز چلتی اور جب چاہتے دھیمی۔ صبح سے زوال تک وہ ایک ماہ کی مسافت اور زوال سے شام تک ایک ماہ کی مسافت طے کرتی۔ نیز دیکھئے سورة سبا آیت 211 اور سورة ص آیت 53 تا 63 (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(21:81) ولسلیمن الریح۔ ای وسخرنا لسلیمن الریح اس صورت میں سخرنا فعل محذوف ہے۔ یا یہ جملہ معطوف ہے اور اس کا عطف جملہ سابقہ وسخرنا مع داود الجبال ہے اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو فرمانبردار بنادیا۔
عاصفۃ۔ باد تند۔ زور کی ہوا۔ عصف اسم فاعل واحد مؤنث یہ الریح سے حال ہے جب وہ تیزی سے چلتی ہے، کہتے ہیں عصفت الریح۔ جب وہ تیزی سے چلتی ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاء حیث اصاب (38:36) پھر ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم کے مطابق جہاں وہ چاہتے نرمی سے چلتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہوا پر مکمل تسخیر عطا کی چاہیں تو تیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
حضرت داؤد ، حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) ان آیتوں میں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا، سورة بقرہ میں گزرچکا ہے کہ جالوت اور طالوت کی لڑائی میں حضرت داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت وبادشاہت یہ سب کچھ حضرت داؤد کے خاندان میں آگیا حضرت داؤد کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک شخص کی کھیتی دوسرے شخص کی بکریاں رات کو چر گئیں جب یہ جھگڑا حضرت داؤد کے روبرو پیش ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے مطابق حضرت داؤد نے اس جھگڑے کا فیصلہ کچھ یوں کیا کہ وہ بکریاں کھیتی والے شخص سے دلادیں اسی قوم کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کا حال سن کر اپنی…
Read the full tafseer →[42] یعنی فلسطین جس پر حاشیہ گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(ف 1) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا مستخر کی ، اس کے معنی یہ ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) فضا اور جو سے (محدود مقام تک) حسب منشاء استفادہ کرلیتے تھے ، اور ان کو اس پر ضبط اور کنٹرول حاصل تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کے پاس ایک تخت تھا ، جو ہوا میں اڑتا تھا ، اور شام سے یمن اور یمن سے شام تک اس کی پرواز ہوتی تھی ، تو کیا یہ تسخیر طیاروں کی صورت میں تھی ؟ واضح طور پر اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا ، مگر متبادر معنے جو سمجھ میں آتے ہیں ، وہ یہی ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس طیارہ کی قسم کی کوئی چیز تھی ، اور وہ ان کی اپنی ایجاد تھی جس کی وجہ سے وہ ہواؤں میں اڑتے پھرتے…
Read the full tafseer →(81) اور سیلمان (علیہ السلام) کے لئے ہم نے زور سے چلنے والی ہوا کو تابع کردیا تھا کہ وہ ہوا ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے ہر قسم کی برکتیں رکھی ہیں اور ہم ہر چیز سے باخبر ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زیر فرمان ہوا کو کردیا تھا اور وہ ان کے تخت کو اڑا کرلے جاتی تھی اور ایک مہینہ کی مسافت دوپہر دن میں طے ہوجاتی تھی۔
برکت والی زمین سے مراد ملک شام ہے جہاں کی سرزمین ظاہر و باطن کی برکتوں سے لبریز ہے ہم ہر چیز سے باخبر ہیں یعنی ہوا کو تابع کردینا بھی ہماری مصلحت کا تقاضہ تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک تخت بنایا تھا بہت بڑا اپنے سارے کارخانوں سے اور لوگوں سے اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ف 1۔ یعنی جب ملک شام سے کہیں جاتے اور پھر آتے تو یہ آنا اور اسی طرح جانا بھی ہوا کے ذریعہ سے ہوتا تھا۔
Read the full tafseer →سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تند ہواؤں کو مسخر کردینے کا ذکر :
81۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” ہم نے تند ہواؤں کو بھی سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کردیا تھا ۔ “ اس میں اس بات کی وضاحت کردی کہ سلیمان (علیہ السلام) کے دور میں آپ کے بنائے ہوئے بحری بیڑے چلنے لگے تھے گویا داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں جو بری فوج کے لئے سروسامان تیار کئے گئے اور نئے نئے آلات تیار ہوئے وہ تو اپنی جگہ پر سلیمان (علیہ السلام) کے دور سلطنت میں مزید ترقی کی طرف گامزن ہو ہی رہے تھے لیکن سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں مزید ترقی یہ ہوئی کہ بری فوج کے سروسامان کے اضافہ کے ساتھ بحری فوج اور بحری بیڑے بھی تیار…
Read the full tafseer →وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً (And for Sulayman [ We subjugated ] the violent wind - 21:81) This sentence is a continuation of an earlier verse وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ (And with Dawad We subjugated - 21:79). Thus it means that just as Allah Ta’ ala had made birds and hills subservient to Dawud (علیہ السلام) who used to sing in praise of Allah while he recited the Zabur, in the same way He made the wind subservient to Sulayman (علیہ السلام) who used to fly on its wings swiftly wherever he wanted to go. It is worth noting here that while describing subservience of birds and hills for…
Read the full tafseer →74. This is also explained in (Surah Saba, Ayat 12): And for Solomon We had subjected the wind which covered a month’s journey in the morning and a month’s journey in the evening, and in (Surah Suad, Ayat 36): So We subjected the wind to him. It blew softly at his bidding wherever he wanted it to blow. Thus it is clear that the wind was so subjected to Prophet Solomon that the voyages to places at one month’s sea journey could be performed conveniently, because a favorable wind was always blowing for his ships to and from those places.
It is confirmed by the Bible that Prophet Solomon had…
Read the full tafseer →