Explained with ayahs 78–82
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 72
سورة سبا میں مزید تفصیل یہ ہے وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ ، " اور ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کردیا (اور اس کو ہدایت کی) کہ پوری پوری زرہیں بنا اور ٹھیک اندازے سے کڑیاں جوڑ "۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو لوہے کے استعمال پر قدرت عطا کی تھی، اور خاص طور پر جنگی اغراض کے لیے زرہ سازی کا طریقہ سکھایا تھا۔ موجودہ زمانے کی تاریخی و اثری تحقیقات سے ان آیات کے معنی پر جو روشنی پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں لوہے کے استعمال کا دور (Iron . Age) 1200 ق م اور 1000 ق م کے درمیان شروع ہوا ہے، اور یہی حضرت داؤد کا…
Read the full tafseer →زردہ بنانے کی صنعت حضرت داؤد ؑ کو منجانب اللہ عطا کی گئی
وَعَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لفظ لبوس لغت کے اعتبار سے اسلحہ میں سے ہر چیز کو کہا جاتا ہے جو انسان اوڑھ کر یا گلے میں ڈال کر استعمال کرے۔ مراد اس جگہ آہنی زرہ ہے جو جنگ میں حفاظت کے لئے پہنی جاتی ہے دوسری آیت میں ہے وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ یعنی ہم نے ان کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا خواہ اس طرح کہ لوہا ان کے ہاتھ میں آ کر خود بخود نرم ہوجاتا ہو کہ اس کو جس طرح موڑیں مڑ جائے اور باریک یا موٹا کرنا چاہیں تو ہوجائے جیسے موم ہوتا ہے یا اس طرح کہ ان کو آگ میں پگھلا کر نرم کرنے کی تدبیر بتلا دی جو سب لوہے کے کارخانوں میں آج…
Read the full tafseer →رات کا راہب اور دن کا شہسوار
یعنی یہ زاہد شب زندہ دار یہ نہ سمجھو کہ صرف تنہائی کے گوشوں میں بیٹھ کر اللہ ہو کرنے والا ہی تھا بلکہ یہ جس طرح رات کا راہب تھا اسی طرح دن کا شہسوار بھی تھا۔ ہم نے جنگ کے حملوں سے حفاظت کے لئے اس کو ایک خاص لباس بنانے کی تعلیم دی۔ اس خاص لباس سے اشارہ زرہ کی طرف ہے۔ اس کے موجد حضرت دائود ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ زرہ کی جو اعلیٰ قسمیں حضرت دائود نے ایجاد کیں دیسی زر ہیں ان سے پہلے وجود میں نہیں آئی تھیں۔ عربی کی رزمیہ شاعری میں دائودی ساخت کی زر ہوں کا ذکر بہت آتا ہے۔ اس عہد کے دفاعی اسلحہ میں سب سے زیاہ اہمیت اسی کو حاصل رہی ہے۔ اب زمانہ بہت بدل چکا ہے۔ ان آلات و…
Read the full tafseer →80۔ 1 یعنی لوہے کو ہم نے داؤد ؑ کے لئے نرم کردیا تھا، وہ اس سے جنگی لباس، لوہے کی زریں تیار کرتے تھے، جو جنگ میں تمہاری حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد ؑ سے پہلے بھی زریں بنتی تھیں۔ لیکن وہ سادہ بغیر کنڈوں اور بغیر حلقوں کے ہوتی تھیں، حضرت داؤد ؑ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کنڈے دار حلقے والی زریں بنائیں (ابن کثیر)
Read the full tafseer →34: سورة سبا :10 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو ان کے ہاتھ میں نرم کردیا تھا اور وہ اسے جس طرح چاہتے موڑ لیتے تھے، اور لوہے کی زرہ اس طرح بناتے تھے کہ اس کے تمام خانے نہایت متوازن ہوتے تھے۔ علمائے کرام نے اس آیت کے تحت فرمایا ہے کہ اس میں ہر اس صنعت کے قابل تعریف ہونے کی طرف اشارہ ہے جو انسانوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
Read the full tafseer →وعلمنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرون (12 : 08) ” اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی ‘ تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے۔ ھپر کیا تم شکر گزار ہو ؟ “ یہ زرہ کی صنعت ہے جس کے حلقے ایک دوسرے سے گزرتے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ ایک جامد چادر کی صورت میں بتائی جاتی تھیں۔ کڑیوں کا ایک دوسرے میں داخل کرکے زرہ بننا زیادہ نرم اور استعمال میں زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ زرہ کی یہ ترقی یافتہ قسم سب سے پہلے اللہ کی تعلیم سے حضرت دائود (علیہ السلام) نے ایجاد کی۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس نے دائود (علیہ السلام) کی یہ صفت سکھا کر تم پر بڑا احسان کیا کہ تم جنگ کے دوران ایک دوسرے کی مار…
Read the full tafseer →11 حق تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا موم کردیا تھا۔ اسے موڑ کر نہایت ہلکی مضبوط، جدید قسم کی زرہیں تیار کرتے تھے جو لڑائی میں کام دیں۔
12 یعنی تمہارے فائدہ کے لیے ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ذریعہ سے ایسی عجیب صنعت نکال دی، سوچو کہ تم اس قسم کی نعمتوں کا کچھ شکر ادا کرتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 80 وَعَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ ”
یہاں لباس سے مراد جنگی لباس یعنی زرہ بکتر ہے۔ گویا زرہ حضرت داؤد علیہ السلام کی ایجاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا اور انہیں یہ ہنر براہ راست سکھایا تھا۔
لِتُحْصِنَکُمْ مِّنْم بَاْسِکُمْج فَہَلْ اَنْتُمْ شَاکِرُوْنَ ”
جنگ کے دوران زرہ بکتر تلوار ‘ نیزے اور تیروں سے ایک سپاہی کی حفاظت کرتی ہے۔
Read the full tafseer →68 اس آیت سے معلوم ہوتا کہ زرہ سازی کے موجد حضرت داؤد (علیہ السلام) لیں۔ اس کی مزید تفصیل سورة سبا میں یوں ہے : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا ۭيٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ ) 34 ۔ سبأ :10) یعنی ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے لئے لوہے کو نرم بنادیا تھا اور انھیں ہدایت کی تھی کہ پورے ناپ کی زرہیں بناویں اور اس کی کڑیوں میں اندازے کے ساتھ جوڑ لگائیں۔ آپ کے لئے لوہے کو نرم کرنے کے دو معنی لئے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کے ہاتھ لوہا موم کی طرح نرم ہوجاتا تھا اور جس طرح چاہتے اس کی زنجیریں بنا کر زرہیں تیار کرلیتے تھے اور دوسری توجیہ یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →103۔ (ایک دوسرے کی زد سے) قرآن کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) زرہ کے موجد بھی ہوں اور یہ صنعت آپ سے قبل نامعلوم ہو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے دو مسئلہ ثابت ہوتے ہیں، ایک دستکاری سے معاش حاصل کرنا، دوسرے اسباب عادیہ کا استعمال توکل کے منافی نہ ہونا۔
104۔ (اس نعمت کا) صنعت زرہ سازی کو قرآن نے خاص محل نعمت میں بیان کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ فنون وصنائع حرب مطلق صورت میں حرام نہیں، بلکہ انہیں حرام ولغو مقاصد کے لئے نہ استعمال کیا جائے تو عین مستحسن وقابل قدر ہیں، (آیت) ” ھل “۔ کلمہ استفہام ہے۔ لیکن کام امر کا دے رہا ہے۔ استفھام بمعنی الامر اے فاشکرواللہ علی ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور یاد کیجئے نوح (علیہ السلام) کے اس وقت کو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے اپنے قول رب لاتذر الخ کے ذریعہ بددعاء فرمائی تو ہم نے ان کی دعا قبول کی تو ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو جو کہ اس کی کشتی میں (سوار) ہوئے کرب عظیم یعنی غرق ہونے سے اور اس کی قوم کے اس کی تکذیب کرنے سے نجات دی اور ہم نے اس کی مدد کی یعنی اس کی حفاظت کی اس قوم سے جس نے ہماری ان آیتوں کی تکذیب کی جو اس کی رسالت پر دلالت کرتی تھیں تاکہ برائی کے ساتھ اس تک رسائی نہ ہوسکے یقیناً وہ برے لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا اور داؤد اور سلیمان یعنی ان…
Read the full tafseer →وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم فہل انتم شاکرون۔ اور ہم نے اس کو
زرہ (بنانے) کی صنعت تم لوگوں کے فائدے کے لئے سکھائی تاکہ وہ تم کو لڑائی میں ایک دوسرے کی زد سے محفوظ رکھے۔ تو کیا تم (اب بھی) شکر ادا نہ کرو گے۔
لبوس ہر پہننے والی چیز کو کہتے ہیں عرفاً اس کا استعمال اسلحہ کے لئے ہوتا ہے اس جگہ لوہے کی زرہ مراد ہے قتادہ نے کہا حضرت داؤد سے پہلے زرہ سپاٹ ہوتی تھی ‘ سب سے اوّل آپ نے جال دار زرہ بنائی اور کڑیاں جوڑ کر جھول کی شکل دی۔ حدیث صحیح پہلے گزر چکی ہے کہ حضرت داؤد اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
لَکُمْسے خطاب قریش کو ہے ‘ لِتُحْصِنَکُمْتا کہ وہ صنعت یا (حلقہ دار) زرہ تم کو دشمن کے حملے…
Read the full tafseer →(80) اور ہم نے ان کو زرہ بنانے کی صنعت تم لوگوں کے نفع کے لیے سکھائی تاکہ وہ زرہ تمہیں لڑائی میں تمہارے دشمنوں کے ہتھیاروں سے بچائے، سو تم اس زرہ کی نعمت کا شکر کرو گے بھی یا نہیں۔
Read the full tafseer →وَعَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ۔۔ : ”لَبُوْسٍ“ اور ”لِبَاسٌ“ ایک ہی ہے جو موقع کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، چناچہ لڑائی کا لباس زرہ ہے۔ یہ داؤد ؑ پر تیسرا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہمراہ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کرنے کے علاوہ ان کے لیے لوہے کو بھی نرم کردیا اور انھیں اس کی تاروں اور حلقوں سے زرہیں بنانے کا ہنر سکھایا۔ چناچہ اتنی ہلکی اور عمدہ زرہیں بنانے کے موجد وہی ہیں۔ انھی سے دوسروں نے یہ فن سیکھا۔ یہ نعمت صرف انھی پر نہیں تھی، بلکہ قیامت تک تمام لڑنے والوں کے لیے نعمت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر لازم ہے، تو کیا تم شکر کرنے والے ہو ؟ یہ سوال دراصل شکر کے حکم کی تاکید ہے۔ داؤد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(آیت نمبر 80) اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم یعنی لوہے کو دائود کے لیے نرم کر کے زرہ بنانے کا ہنر سکھایا۔ عربوں کے نزدیک لبوس ہر ہتھیار کو کہتے ہیں خواہ وہ زروہ ہو یا جو شن (زرہ) ہو یا تلوار ہو یا نیزہ ہو۔ ہزلی نیزے کی تعریف کرتا ہے :
ومعی لبوس للبئیس کا نہ روق بجبھۃ ذی نعاج مخفل
اللبوس ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو پہنی جاتی ہے، ابن سکیت نے کہا :
البیس لکل حالۃ لبوسھا اما نعیمھا اما بوسھا
اللہ تعالیٰ نے یہاں لبوس سے زرہ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ لبوس بمعنی ملبوس ہے جیسے رکوب اور حلوب بمعنی مفعول استعمال ہوتا ہے۔ قتادہ نے کہا : سب سے پہلے زرہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
1:۔ حاکم نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ داود (علیہ السلام) کا نسب یہ تھا داود بن ایشابن عوید بن عابر یہوذابن یعقوب کی اولاد میں سے تھے داود (علیہ السلام) کا قد چھوٹا تھا آنکھیں نیلی تھیں بال تھوڑے تھے اور دل پاک تھا۔
حضرت داود (علیہ السلام) کی عدالت :
2:۔ ابن جریر نے مرہ (رح) سے (آیت) ” اذ یحکمن فی الحرث “ کے بارے میں روایت کیا کہ کھیتی اگی ہوئی تھی بکریوں نے اس کو رات کے وقت روند ڈالا وہ لوگ اپنا فیصلہ داود ع کے پاس لے آئے انہوں نے بکریوں کا فیصلہ کردیا کھیتی والوں کے لئے (یعنی بکریاں کھیتی والوں کودے دی جائیں) پھر وہ لوگ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور ان کو یہ فیصلہ بتایا تو انہوں نے…
Read the full tafseer →[ وَعَلَّمْنٰهُ : اور ہم نے سکھائی ان (علیہ السلام) کو ] [ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ : زرہ (بنانے) کی صنعت ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [ لِتُحْصِنَكُمْ : تاکہ وہ تمہیں بچائے ] [ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ : تمہاری جنگ میں ] [ فَهَلْ : تو کیا ] [ انتم : تم لوگ ] [ شٰكِرُوْنَ : شکر کرنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ، ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام اور انعام کا تذکرہ فرمایا ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر فرمایا تھا۔
ان کو اللہ تعالیٰ نے علم اور حکمت سے نوازا اور طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں۔ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ اور پرندے مسخر فرما دئیے جو ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر فرما دی اور جنات کو ان کا تابع کردیا۔
کھیت اور بکریوں کے مالکوں میں جھگڑا اور اس کا فیصلہ
شروع میں ایک جھگڑے کا اور اس جھگڑے کے فیصلہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
(5) قصہ داؤد و سلیمان (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ وداود وسلیمن اذ یحکمن فی الحرث .... الیٰ .... وکنالہم حفظین۔
یہ پانچواں قصہ حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں اور باوجود بادشاہت اور فرمانروائی کے خدا پرست تھے اور غایت درجہ کے عادل اور مصنف تھے۔ امیری اور فقیری اور شاہی اور درویشی دونون کے جامع تھے۔ ابوبکر و عمر کی خلافت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کی بادشاہت کا نمونہ تھی داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) نبی تھے اور اللہ کے خلیفہ تھے اور ابوبکر و عمر نبی نہ تھے، مگر اعلیٰ درجہ کے ولی تھے اور خاتم الانبیاء کے خلیفہ تھے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
55:۔ ” وَ سَخَّرْنَا مَع دَاوٗدَ الخ “ ہم نے پہاڑ اور پرندوں کو داود (علیہ السلام) کے ماتحت کردیا کہ وہ بھی ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے تھے یہ سب کچھ ہم نے کیا تھا۔ ” وَ عَلَّمْنٰھُ صنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ “ الخ اور ہم نے داؤود کو لوہے کی زرہیں بنانے کی تعلیم دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ربط آیات :
ابتداء میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلاء ان کے صبر و استقامت ، ان کے طریق تبلیغ اور مناجات کی بات ہوئی۔ اس کے بعد آپ کے صاحبزادے اسحاق (علیہ السلام) پر پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ پھر آپ کے بھتیجے اور اللہ کے نبی لوط (علیہ السلام) ان کے مصائب اور قوم کے ساتھ معاملات کا بیان ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کرتے رہے۔ آپ نے بڑی سختیاں جھیلیں ، مگر محدود آدمی ایمان لائے ، حتیٰ کہ آپ کی بیوی اور بیٹا بھی محروم ہی رہے ، آخر تنگ آکر اللہ تعالیٰ کے حضور قوم کے خلاف بددعا کی تو اللہ نے انہیں غرقابی…
Read the full tafseer →وَعَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ 0ۚ فَہَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ 80
علم ( تعلیم)
اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] ، عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [ العلق/ 4] ، وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] ، عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–80
ترکیب : جس طرح لوطا مفعول تھا ائتیا محذوف کا جس کی تفسیر اتینا مذکور ہے اسی طرح نوحا و دائود و سلیمان ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو اذکر محذوف کا مفعول کہا جاوے اذ نفشت ظرف ہو یحکمان کا مع داؤد والعامل فی مع یسبحن اور یہ حال ہے الجبال سے والطیر معطوف ہے الجبال پر وقیلھی بمعنی مع الریح منصوب ہے سخرنامقدر سے عاصفہ حال ہوا الریح سے تجری دوسرا حال من منصوب ہے سخرنا سے۔
تفسیر : :۔ یہ تیسرا قصہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ہے کہ جب ان کی قوم نے ان کو سخت تکلیف پہنچائی اور انہوں نے ہم کو کرب عظیم میں پکارا
تو اس کو اور اس کے کنبے کو کشتی میں سوار کر کے اس بلائے عظیم سے نجات دی باقی تمام قوم پر قہر الٰہی…
Read the full tafseer →وَعَلَّمْنٰـہُ صَنْعَۃَ لَـبُوْسٍ لَّـکُمْ لِتُحْصِنَـکُمْ مِّنْ م بَاْسِکُمْ ج فَھَلْ اَنْـتُمْ شٰکِرُوْنَ ۔
(الانبیاء : 80)
(ہم نے انھیں تمہارے لیے ایک خاص جنگی لباس کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تم کو جنگ میں محفوظ رکھے، تو کیا تم شکر ادا کرنے والے ہو۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) درویش بھی تھے اور شہسوار بھی
گزشتہ آیت کریمہ سے یہ تأثر ملتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی ہونے کی وجہ سے علم کے پیکر اور افتاء و قضاء کے شن اور تھے۔ آپ ( علیہ السلام) کی بیشتر توجہ لوگوں کے معاملات حل کرنے اور ان کی زندگیوں کی اصلاح پر رہتی تھی اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کو تکالیف کے ذریعے آزمایا جس میں وہ سرخرو ہوئے لیکن حضرت داؤد اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اقتدار اور اختیار دے کر آزمایا جس میں باپ، بیٹا کامیاب ہوئے۔ اس لیے بادشاہ انبیاء کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت داؤد (علیہ السلام)
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا دوسرے پارہ میں مختصر ذکر ہوچکا کہ وہ جالوت سے معرکہ آرائی میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرچکے تھے جس وجہ سے بنی اسرائیل میں وہ معزز سمجھے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ” اور خلیفۃ اللہ “ قرار دیا۔ آپ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہودا کی نسل سے ہیں۔ ابن کثیر ؓ نے…
Read the full tafseer →80: وَعَلَّمْنٰہٗ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ (اور ہم نے ان کو زرہ بنانے کی صنعت سکھائی جس میں تمہارا فائدہ تھا) یعنی لباس اور زرہیں بنانا۔ لبوس، لباس کو ہی کہتے ہیں مراد یہاں زر ہیں ہیں۔ لِتُحْصِنَکُمْ (تاکہ وہ تمہیں ایک دوسرے کی زد سے محفوظ رکھے)
قراءت : شامی، حفص نے پڑھا ہے۔ بمعنی وہ صنعت تم کو محفوظ رکھے ابوبکر اور حماد نے نون سے پڑھا ہے تاکہ ہم تم کو محفوط کریں یعنی اللہ تعالیٰ لتحصنکم دیگر قراء نے یائؔ سے پڑھا ہے وہ لباس یا اللہ عزوجل تمہیں محفوظ کریں۔ مِّنْ 0 بَاْسِکُمْ (تمہاری لڑائی سے) دشمن کی لڑائی سے فَھَلْ اَنْتُمْ شَاکِرُوْنَ (کیا تم شکر ادا کرنے والے ہو) یہ استفہام بمعنی امر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
80۔ وعلمناہ صنعتہ لبوس لکم، ، لبوس ہر پہننے والی چیز کو کہتے ہیں عرفا اس کا استعمال اسلحہ کے لیے ہوتا ہے۔ اس جگہ لوہے کی زرہ مراد ہے قتادہ نے کہا کہ حضرت داؤد سے پہلے زرہ سپاٹ ہوتی تھی سب سے اول آپ نے جال دراز زرہ بنائی اور کڑیاں جوڑ کر جھول کی شکل دی۔ حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت داؤد اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
” لتحصنکم ، ، تاکہ وہ صنعت یازرہ تم کو دشمن کے حملے سے محفوظ رکھے ۔ سدی نے کہا اسلحہ کی مار پڑنے سے تم کو محفوظ رکھے۔ من باسکم تمہارے دشمن کے حملے سے۔
ابوجعفر ، ابن عامر، حفص اور عاصم و یعقوب نے لتحصنکم ، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اس سے مراد صنعت کاریگری ہے ابوبکر اور عاصم نے نون کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
78۔ 82:۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے ایک قصہ کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ جب بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانی پھیل گئی تو اس کی سزا میں ملک شام کے کئی شہر قوم عمالقہ کے بادشاہ مقرر جالوت نے بنی اسرائیل سے چھین لیے اس کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا اور جالوت وطالوت کی لڑائی میں داود (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور شمویل کی وفات کے بعد نبوت ‘ بادشاہت یہ سب کچھ داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا ‘ دواد ‘ (علیہ السلام) کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
آیت 78
ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤد (علیہ السلام) کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجئے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انہیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ (اذیحکمن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم) یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہوگئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں۔ اس جھگڑے میں داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔ پس اس طرح آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
101 حضرت داؤد اور سلیمان دونوں کے لیے علم و حکمت کی نوازش : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان دونوں ہی کو علم و حکمت کی دولت سے نوازا تھا " کہ وہ دونوں ہی ہمارے پسندیدہ اور چنے ہوئے بندے تھے۔ سو ان دونوں میں سے ہر ایک کا فیصلہ صحیح اور درست تھا۔ اور ہر ایک کا فیصلہ ایک صحیح حجت اور درست نکتہ نظر پر مبنی تھا۔ حضرت داؤد نے بکریوں والے کی بکریوں کی ملکیت کو زائل کر کے ان کو کھیت والے کی ملکیت میں دے دیا تھا کہ ان کی شریعت میں اصل حکم یہی تھا۔ جیسا کہ حضرت یوسف کے قصے میں وارد ہے کہ جب حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے پوچھا کہ تمہارے دین و مذہب میں چور کی سزا کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا یہ کہ چور کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
سیدنا دائود اور سلیمان (علیہ السلام) کے کارنامے
تشریح : سیدنا دائود اور سیدنا سلیمان (علیہما السلام) دونوں باپ بیٹا تھے اور نبی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ حکمران بھی تھے۔ باقی نبیوں کی طرح آپ کو بھی کتاب آسمانی دی گئی جو زبور کے نام سے مشہور ہے اور آپ بنی اسرائیل کے حکمران تھے۔ فہم و فراست اور حکمت و دانائی اللہ کی طرف سے آپ کو ملی ہوئی تھی۔ مگر یہاں کچھ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد سیدنا دائود سے زیادہ معاملہ فہم تھے جیسا کہ اس مقدمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ بکریوں نے کھیت اجاڑ دیا تو سیدنا دائود نے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں۔ اللہ نے سیدنا سلیمان (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ سورة سبا میں ہے والنا لہ الحدید۔ اور ہم نے اس کے لئے (یعنی حضرت دائود کے لئے) لوہا نرم کردیا۔ (آیت 11) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت دائود کو لوہے کے استعمال پر خاص قدرت عنایت فرمائی تھی اور وہ جنگی اغراض کے لئے ہلکی مضبوط اور عمدہ زرہیں بنایا کرتے تھے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” اور لوہے کی زرہ بناتے فقط ہاتھ سے موڑ کر اور بناتے ہیں آگ سے۔ (موضح)
Read the full tafseer →(21:80) صنعۃ لبوس۔ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر علمنا کا مفعول ثانی۔ اور مفعول اول ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو زرہ بنانے کا ہنر سکھایا۔ لبوسلو ہے کی کڑیوں سے بنی ہوئی زرہ۔ اصل میں لبوسہر لباس کو کہتے ہیں فعول بمعنی مفعول۔ مثل مشہور ہے
البس لکل حالۃ لبوسھا ۔ اما نعیمھا واما بؤسھا
(ہر حال میں اس حالت کے مناسب لباس پہنو۔ سکھ کی حالت ہو یا دکھ کی) ۔
لتحصنکم۔ لام تعلیل کی ہے۔ تحصن مضارع واحد مؤنث غائب احصان مصدر احصان مختلف معانی کے لئے آتا ہے لیکن ہر ایک میں روکنے اور بچائو کا پہلو ہوتا ہے ۔ وہ تم کو بچائے وہ تم کو بچاتی ہے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ لتحصنکم تاکہ وہ تم کو بچائے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
حضرت داؤد ، حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) ان آیتوں میں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا، سورة بقرہ میں گزرچکا ہے کہ جالوت اور طالوت کی لڑائی میں حضرت داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت وبادشاہت یہ سب کچھ حضرت داؤد کے خاندان میں آگیا حضرت داؤد کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک شخص کی کھیتی دوسرے شخص کی بکریاں رات کو چر گئیں جب یہ جھگڑا حضرت داؤد کے روبرو پیش ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے مطابق حضرت داؤد نے اس جھگڑے کا فیصلہ کچھ یوں کیا کہ وہ بکریاں کھیتی والے شخص سے دلادیں اسی قوم کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کا حال سن کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
[41] قصہ یہ تھا کہ ایک شخص کی بکریاں رات کے وقت کسی دوسرے کے کھیت میں جا پڑی تھیں اور کھیت چر گئی تھیں۔ کھیت والے نے داؤد (علیہ السلام) کی عدالت میں دعویٰ دائر کردیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ بکریاں مالک سے چھین کر کھیت والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اختلاف کیا اور یہ رائے دی کہ بکریاں اس وقت تک کھیت والے کے پاس رہیں جب تک بکریوں کا مالک اس کے کھیت کو پھر سے نہ تیار کر دے۔ اس کے متعلق ارشاد ہوا کہ یہ فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا تھا۔ یہاں اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ انبیاء باوجود نبی ہونے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی صلاحیتیں پانے کے انسان ہی تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
اللہ کی اپنے بندوں پر بو قلمون رحمتیں :
(ف 1) ان سب آیات میں اللہ تعالیٰ کی بوقلمون نعمتوں کا ذکر ہے کہ کس طرح کسی کسی بندے کو نوازا گیا ، داؤد وسلیمان (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد ہے ، کہ دونوں کو ہم نے پیغمبرانہ فراست عطا کر رکھی تھی ، مگر وقت نظر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اجتہاد بڑھ گیا ، قصہ یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس دو فریق آئے ایک کا باغ تھا ، اور دوسرے کی بکریاں باغ والے نے کہا ، رات کو اس کی بکریوں نے میرے باغ کا ستیاناس کردیا ہے ، اس سے ہر جانہ دلوائیے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا ، تم اس کی بکریاں چھین لو ، یہ اس غفلت وبے پرواہی کی سزا ہے جس کی وجہ سے…
Read the full tafseer →(80) اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو تمہارے لئے زرہ کا بنانا سکھایا تاکہ وہ زرہ تمہاری لڑائی میں تم کو محفوظ رکھے سو کیا تم اس نعمت کا شکر بجالائوگے حضرت دائود (علیہ السلام) کو زرہ بنانا سکھایا پرانے زمانے کی لڑائی میں یہ زرہ بڑے بچائو کا کام دیتی تھی یہ ایک قسم کا کرتہ ہوتا تھا جو لوہے تاروں سے بنا جاتا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا چونکہ نرم ہوجاتا تھا۔ اس لئے وہ بےتکلف بدون آگ کے یہ کام کیا کرتے تھے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ زبور پڑھنے کے وقت پہاڑ اور جانور بھی انہیں کی سی آواز پڑھتے اور لوہے کی زرہ بناتے فقط ہاتھ سے موڑ کر اور لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
ف 6۔ صورت مقدمہ کی یہ تھی کہ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا اس کی لاگت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی، داود (علیہ السلام) نے ضمان میں کھیت والے کو وہ بکریاں دلوا دیں، اور اصل قانون شرعی کا یہی مقتضا تھا، جس میں مدعی اور مدعی علیہ کی رضا بھی شرط نہیں، مگر چونکہ اس میں بکری والوں کا بالکل ہی نقصان ہوتا تھا اس لئے سلیمان (علیہ السلام) نے بطور مصالحت کے جو کہ موقوف تھی تراضی جانبین پر یہ صورت جس میں دونوں کی سہولت اور رعایت تھی تجویز فرمائی کہ چند روز کے لئے بکریاں تو کھیت والے کو دے دی جائیں کہ ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزر کرے اور بکری والوں کو وہ کھیت سپرد کیا جاوے کہ اس کی خدمت آب پاشی وغیرہ سے…
Read the full tafseer →دادؤ (علیہ السلام) زرہیں بنانے کے کام میں بہت ماہر تھے :
80۔ زرہ کیا ہے ؟ زرہ لوہے کی کڑیاں بنا کر ان کو کرتہ کی شکل میں جوڑنے کا نام ہے اور یہ زرہیں پہن کر میدان جنگ میں لوگ نکلتے تھے تاکہ تیر وتلوار سے محفوظ رہیں ۔ اس جگہ اس کے ذکر کی یہاں اس لئے ضرورت پیش آئی کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) نبوت و رسالت کا پیغام بھی لوگوں تک پہنچاتے تھے اور اپنے ہاتھ سے محنت کرکے روزی بھی کماتے تھے جس پر ان کی گزران چلتی تھی لیکن نبیوں میں سے دادؤ (علیہ السلام) باوجود وقت کے بادشاہ ہونے کے بھی زرہیں بنانے کا کام کرتے تھے اور اس مزدوری سے وہ گزر اوقات کرتے تھے اور سلطنت ومملکت کے مالیہ…
Read the full tafseer →The art of making armor was granted to Sayyidna Dawud (علیہ السلام) by Allah Ta` ala
وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ (And We taught him making of armor as dress for you - 21:80) Lexically, the word لَبُوسٍ is used for anything which is worn in the neck for protection. Here it is used for armor which is used in battle for protection against enemy. In another verse Allah Ta` ala says وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ that is 'We softened for him iron'- 34:10). This means that either the iron used to become soft like wax in Sayyidna Dawud (علیہ السلام) hands or he was taught to heat it up to…
Read the full tafseer →72. According to (Surah Saba, Ayats 10-11), it was like this: And We made the iron soft for him (and commanded him): Make coats of mail complete in every way, and arrange the plates properly. This shows that Allah had made Prophet David an expert in the use of iron, and had especially taught him the art of an armorer for defense purposes. This fact is confirmed by archaeological and historical researches, for according to these the iron age in the world started between 1200 and 1000 BC and this was precisely the period of Prophet David. At first the Hittites in Syria and Asia Minor, who…
Read the full tafseer →