Explained with ayahs 78–82
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 70
اس واقعے کا ذکر بائیبل میں نہیں ہے، اور یہودی لٹریچر میں بھی ہمیں اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ مسلمان مفسرین نے اس کی جو تشریح کی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص کے کھیت میں دوسرے شخص کی بکریاں رات کے وقت گھس گئی تھیں۔ اس نے حضرت داؤد کے ہاں استغاثہ کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کی بکریاں چھین کر اسے دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان نے اس سے اختلاف کیا اور یہ رائے دی کہ بکریاں اس وقت تک کھیت والے کے پاس رہیں جب تک بکری والا اس کے کھیت کو پھر سے تیار نہ کر دے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھایا تھا۔ مگر چونکہ مقدمے کی یہ تفصیل قرآن میں بیان نہیں ہوئی ہے…
Read the full tafseer →فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ ، فَفَهَّمْنٰهَا کی ضمیر بظاہر مقدمہ اور اس کے فیصلہ کی طرف راجع ہے اور معنی یہ ہیں کہ جو فیصلہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ تھا اللہ تعالیٰ نے وہ حضرت سلیمان کو سمجھا دیا۔ اس مقدمہ اور فیصلہ کی صورت اوپر خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کا فیصلہ بھی ازروئے قانون شرعی غلط نہیں تھا مگر جو فیصلہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کو سمجھایا اس میں فریقین کی رعایت اور مصلحت تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ پسندیدہ قرار دیا گیا۔ امام بغوی نے حضرت ابن عباس اور قتادہ اور زہری سے اس واقعہ کی روایت اس طرح کی ہے کہ دو شخص حضرت داؤد ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
آگے کا مضمون …… آیات 94-78
اوپر کی آیات میں، ایک تاریخی ترتیب کے ساتھ، ان انبیائے عظام کا ذکر ہوا جو ملتوں اور امتوں کے بانی ہوئے، اب آگے ایک صفاتی ترتیب کے ساتھ ان انبیاء کا ذکر آ را ہے جو اپنی صفات اور اپنے کردار کے اعتبار سے پوری انسانیت کے لئے نمونہ ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا جو بادشاہی اور درویشی کے امتزاج کی بہترین مثال تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے شوکت دنیا عطا فرمائی لیکن وہ اس کے فتنوں میں مبتلا ہونے کے بجائے برابر خدا کے شکر گزار رہے اور اپنی تمام صلاحیتیں اور اپنے تمام وسائل و ذرائع انہوں نے اپنے رب ہی کی رضا جوئی میں صرف کئے۔…
Read the full tafseer →79۔ 1 مفسرین نے یہ قصہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص کی بکریاں، دوسرے شخص کے کھیت میں رات کو جا گھسیں اور اس کی کھیتی چر چگئیں۔ حضرت داؤد ؑ نے جو پیغمبر کے ساتھ حکمران بھی تھے فیصلہ دیا کہ بکریاں، کھیت والا لے لے تاکہ اس کے نقصان کی تلافی ہوجائے۔ حضرت سلیمان ؑ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ بکریاں کچھ عرصے کے لئے کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھائے اور کھیتی بکری والے کے سپرد کردی جائے تاکہ وہ کھیتی کی آب پاشی اور دیکھ بھال کرکے، اسے صحیح کرے، جب وہ اس حالت میں آجائے جو بکریوں چرنے سے پہلے تھی تو کھیتی، کھیتی والے کو اور بکریاں، بکری والے کو واپس کردی جائیں۔…
Read the full tafseer →32: چونکہ حضرت داؤد ؑ کا فیصلہ اصل قانون کے مطابق تھا۔ اور حضرت سلیمان ؑ کی تجویز باہمی رضامندی سے ایک صلح کی صورت تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں کے بارے میں یہ فرمایا کہ ہم نے علم اور حکمت دونوں کو عطا کی تھی، لیکن مصالحت کی جو صورت حضرت سلیمان ؑ نے تجویز کی اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی سمجھ انہیں ہم نے عطا فرمائی تھی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مقدمے کے دوران قانونی فیصلہ حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ فریقین آپس کی رضا مندی سے مصالحت کی
33: اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو بہت دلکش آواز عطا فرمائی تھی، اور معجزے کے طور پر یہ خصوصیت بخشی تھی کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو پہاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
وداود و سلیمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (87 : 28) ”
کھیت کا وہ کیا قصہ تھا جس کے بارے میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے فیصلہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ دو آدمی حضرت دائود کے پاس آئے۔ ایک کھیت کا مالک تھا یعنی فصل کا اور انگور کے باغ کا اور دوسرا بکریوں کا ۔ کھیت کے مالک نے کہا کہ اس شخص کی بکریاں رات کے وقت میرے کھیت میں پھیل گئیں اور انہوں نے سب کچھ کھالیا اور کھیت میں کچھ نہ رہا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے فیصلہ دیا کہ وہ باغ کے بدلے اس شخص کی بکریاں لے لے۔ بکریوں والے صاحب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئے اور ان کے سامنے قصہ دہرایا اور انہیں بتایا کہ حضرت دائود (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
8 حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے صاحبزادے ہیں، اور خود نبی ہیں دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حکومت، قوت فیصلہ اور علم و حکمت عنایت فرمائے تھے۔ حضرت سلیمان بچپن ہی میں اس قدر غیر معمولی سمجھ کی باتیں کرتے تھے کہ سننے والے حیران رہ جائیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش ہوا کہ ایک شخص کے کھیت میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں آ گھسیں کھیتی کا نقصان ہوا، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ دیکھ کر کہ بکریوں کی قیمت اس مالیت کے برابر ہے جس کا کھیت والے نے نقصان اٹھایا تھا، یہ فیصلہ کیا کہ بکریاں کھیتی والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان نے فرمایا…
Read the full tafseer →آیت 79 فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیْمٰنَج ”
فیصلے کے وقت حضرت سلیمان علیہ السلام بھی شہزادے کی حیثیت سے دربار میں موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقدمے کا ایک حکیمانہ حل ان کے ذہن میں ڈال دیا۔ چناچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس مسئلے کا حل یہ بتایا کہ بکریاں عارضی طور پر کھیتی والے کو دے دی جائیں ‘ وہ ان کے دودھ وغیرہ سے فائدہ اٹھائے۔ دوسری طرف بکریوں کے مالک کو حکم دیا جائے کہ وہ اس کھیتی کو دوبارہ تیار کرے۔ اس میں ہل چلائے ‘ بیج ڈالے ‘ آبپاشی وغیرہ کا بندوبست کرے۔ پھر جب فصل پہلے کی طرح تیار ہوجائے تو اسے اس کے مالک کے سپرد کر کے وہ اپنی بکریاں واپس لے لے۔
وَّسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ…
Read the full tafseer →66 اب دیکھئے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) دونوں نبی ہیں۔ اور دونوں کو اللہ نے قوت فیصلہ بھی عطا کی تھی اور علم نبوت بھی۔ اس کے باوجود حضرت داؤد سے فیصلہ میں اجتہادی غلطی ہوگئی۔ یعنی قاضی خواہ نہایت نیک نیتی سے فیصلہ کرے اس سے اجتہادی غلطی کا امکان ہے۔ اب اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
حسن بصری کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان دونوں کو قوت فیصلہ اور علم دیا تھا۔ پھر اللہ نے سلیمان کی تو تعریف کی اور داؤد پر ملامت نہیں کی اگرچہ وہ فیصلہ درست نہ تھا اور قرآن میں اللہ تعالیٰ ان دونوں پیغمبروں کا ذکر نہ کرتا تو میں سمجھتا ہوں کہ قاضی لوگ تباہ…
Read the full tafseer →100۔ یہاں یہ ارشاد نہیں کہ صحیح فیصلہ بذریعہ وحی حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر القاء کیا گیا تھا، متبادر یہ ہوتا ہے کہ اصابت رائے وصحت فہم کی قوت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زائد عطا ہوئی تھی اور اس میں کیا شک کہ سلیمان (علیہ السلام) کی حکمت و دانائی، خوش فہمی اور قوت فیصلہ آج تک یہود ومسیحی اقوام میں بہ طور ضرب المثل کے چلی آتی ہے۔ عارفین نے یہاں سے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ صحت نظر وجودت قیاس بھی محض فضل ربانی ہے۔ چناچہ اسے اپنی طرف منسوب کرکے فرمایا کہ ہم نے سجادیا، سمجھا دیا۔” صورت مقدمہ کی یہ تھی کہ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا اس کی لاگت بکریوں کی قیمت برابر تھی، داؤد (علیہ السلام) نے ضمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور یاد کیجئے نوح (علیہ السلام) کے اس وقت کو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے اپنے قول رب لاتذر الخ کے ذریعہ بددعاء فرمائی تو ہم نے ان کی دعا قبول کی تو ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو جو کہ اس کی کشتی میں (سوار) ہوئے کرب عظیم یعنی غرق ہونے سے اور اس کی قوم کے اس کی تکذیب کرنے سے نجات دی اور ہم نے اس کی مدد کی یعنی اس کی حفاظت کی اس قوم سے جس نے ہماری ان آیتوں کی تکذیب کی جو اس کی رسالت پر دلالت کرتی تھیں تاکہ برائی کے ساتھ اس تک رسائی نہ ہوسکے یقیناً وہ برے لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا اور داؤد اور سلیمان یعنی ان…
Read the full tafseer →ففہمنہا سلیمن پس ہم نے (صحیح) فیصلہ یا فتویٰ سلیمان ( علیہ السلام) کو سمجھا دیا (ان کی سمجھ میں ڈال دیا) اس جگہ کچھ
کلام محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا۔ ہمارے سمجھانے کے مطابق سلیمان ( علیہ السلام) نے فیصلہ کردیا اور داؤد نے اپنا فیصلہ منسوخ کر کے سلیمان کا فیصلہ جاری کردیا۔
بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ اللہ نے داؤد کے لئے کتاب اللہ کی تلاوت بہت آسان کردی تھی۔ گھوڑوں پر زینیں کسنے کا حکم دے کر وہ قرآن پڑھنا شروع کرتے تھے اور زینیں کسنے نہ پاتی تھیں کہ وہ پڑھ لیتے تھے اور داؤد صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
میں کہتا ہوں اس حدیث میں قرآن سے مراد زبور ہے۔ بغوی نے حضرت ابن…
Read the full tafseer →(79) سو ہم نے اس فیصلہ کا آسان سمجھاؤ سلیمان ؑ کو دے دیا اور یوں ہم نے دونوں ہی کو حکمت اور نبوت عطا کی تھی اور ہم نے داؤد ؑ کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے، اور اسی طرح پرندوں کو بھی اور ان کے کاموں کے کرنے والے ہم تھے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ۔۔ : ”نَفَشَتْ“ کا معنی ہے جانوروں کا رات کو کھیت میں پھیل جانا اور اس کی کھیتی اور پودوں کو کھا جانا۔ ”غَنَمُ“ کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر آتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان ؑ کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے وہ نعمت ذکر فرمائی جو دونوں کو عطا ہوئی تھی اور جو بعد میں آنے والی تمام نعمتوں سے افضل ہے، چناچہ فرمایا : (وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا) ”حُكْمًا“ سے مراد قوت فیصلہ ہے اور ”عِلْمًا“ سے مراد علم شریعت ہے۔
3 ان آیات کی تفسیر رسول اللہ ﷺ سے نہیں آئی، البتہ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے نقل کیا…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکلا اتینا حکما و علما ایک قوم نے یہ تاویل کی ہے کہ حضرت دائود علیہ السلا نے اس واقعہ میں خطا نہیں کی تھی بلکہ انہیں بھی حکم اور علم عطا کیا گیا تھا انہوں نے ففھمنھا سلیمن کو حضرت سلیمن کی فضیلت پر محمول کیا ہے اور ان کی فضیلت حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے۔ والد کو بیٹے کی فضیلت زیادہ خوش کرتی ہے۔ ایک جماعت نے کہا : بلکہ حضرت دائود (علیہ السلام) اس واقعہ میں مطلوب فیصلہ نہ پا سکے اور اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی مدح فرمائی ہے کہ ان کے لیے حکم اور علم تھا تو یہ دوسرے واقعات کی طرف راجع ہے۔ رہا یہ کہ اس فیصلہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) صحیح فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
1:۔ حاکم نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ داود (علیہ السلام) کا نسب یہ تھا داود بن ایشابن عوید بن عابر یہوذابن یعقوب کی اولاد میں سے تھے داود (علیہ السلام) کا قد چھوٹا تھا آنکھیں نیلی تھیں بال تھوڑے تھے اور دل پاک تھا۔
حضرت داود (علیہ السلام) کی عدالت :
2:۔ ابن جریر نے مرہ (رح) سے (آیت) ” اذ یحکمن فی الحرث “ کے بارے میں روایت کیا کہ کھیتی اگی ہوئی تھی بکریوں نے اس کو رات کے وقت روند ڈالا وہ لوگ اپنا فیصلہ داود ع کے پاس لے آئے انہوں نے بکریوں کا فیصلہ کردیا کھیتی والوں کے لئے (یعنی بکریاں کھیتی والوں کودے دی جائیں) پھر وہ لوگ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور ان کو یہ فیصلہ بتایا تو انہوں نے…
Read the full tafseer →[ فَفَهَّمْنٰهَا : پھر ہم نے سمجھا دیا وہ ] [ سُلَيْمٰنَ : سلیمان (علیہ السلام) کو ] [ وَكُلًّا : اور سب کو ] [ اٰتَيْنَا : ہم نے دی ] [ حُكْمًا : حکمت ] [ وَّعِلْمًا : اور علم ] [ وَّسَخَّرْنَا : اور ہم نے تابع کیا ] [ مَعَ دَاوٗدَ : دائود (علیہ السلام) کے ساتھ ] [ الْجبالَ : پہاڑوں کو ] [ يُسَبِحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے ] [ وَالطَّيْرَ : اور پرندوں کو (بھی)] [ وَكُنَا : اور ہم ہیں ] [ فٰعِلِيْنَ : کر گزرنے والے ]
ھـ م
[ فَھَمًا : (س) کسی کام یا بات کی حقیقت کو سمجھنا۔]
[ تَفْھِیْمًا : (تفعیل) سمجھانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 79]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ، ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام اور انعام کا تذکرہ فرمایا ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر فرمایا تھا۔
ان کو اللہ تعالیٰ نے علم اور حکمت سے نوازا اور طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں۔ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ اور پرندے مسخر فرما دئیے جو ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر فرما دی اور جنات کو ان کا تابع کردیا۔
کھیت اور بکریوں کے مالکوں میں جھگڑا اور اس کا فیصلہ
شروع میں ایک جھگڑے کا اور اس جھگڑے کے فیصلہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
(5) قصہ داؤد و سلیمان (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ وداود وسلیمن اذ یحکمن فی الحرث .... الیٰ .... وکنالہم حفظین۔
یہ پانچواں قصہ حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں اور باوجود بادشاہت اور فرمانروائی کے خدا پرست تھے اور غایت درجہ کے عادل اور مصنف تھے۔ امیری اور فقیری اور شاہی اور درویشی دونون کے جامع تھے۔ ابوبکر و عمر کی خلافت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کی بادشاہت کا نمونہ تھی داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) نبی تھے اور اللہ کے خلیفہ تھے اور ابوبکر و عمر نبی نہ تھے، مگر اعلیٰ درجہ کے ولی تھے اور خاتم الانبیاء کے خلیفہ تھے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
55:۔ ” وَ سَخَّرْنَا مَع دَاوٗدَ الخ “ ہم نے پہاڑ اور پرندوں کو داود (علیہ السلام) کے ماتحت کردیا کہ وہ بھی ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے تھے یہ سب کچھ ہم نے کیا تھا۔ ” وَ عَلَّمْنٰھُ صنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ “ الخ اور ہم نے داؤود کو لوہے کی زرہیں بنانے کی تعلیم دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ربط آیات :
ابتداء میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلاء ان کے صبر و استقامت ، ان کے طریق تبلیغ اور مناجات کی بات ہوئی۔ اس کے بعد آپ کے صاحبزادے اسحاق (علیہ السلام) پر پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ پھر آپ کے بھتیجے اور اللہ کے نبی لوط (علیہ السلام) ان کے مصائب اور قوم کے ساتھ معاملات کا بیان ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کرتے رہے۔ آپ نے بڑی سختیاں جھیلیں ، مگر محدود آدمی ایمان لائے ، حتیٰ کہ آپ کی بیوی اور بیٹا بھی محروم ہی رہے ، آخر تنگ آکر اللہ تعالیٰ کے حضور قوم کے خلاف بددعا کی تو اللہ نے انہیں غرقابی…
Read the full tafseer →فَفَہَّمْنٰہَا سُلَيْمٰنَ 0ۚ وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا 0ۡوَّسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ 0ۭ وَكُنَّا فٰعِلِيْنَ 79
فهم
الْفَهْمُ : هيئة للإنسان بها يتحقّق معاني ما يحسن، يقال : فَهِمْتُ كذا، وقوله : فَفَهَّمْناها سُلَيْمانَ
[ الأنبیاء/ 79] ، وذلک إمّا بأن جعل اللہ له من فضل قوّة الفهم ما أدرک به ذلك، وإمّا بأن ألقی ذلک في روعه، أو بأن أوحی إليه وخصّه به، وأَفْهَمْتُهُ :إذا قلت له حتی تصوّره، والِاسْتِفْهَامُ : أن يطلب من غيره أن يُفَهِّمَهُ.
(ھ م ) الفھم انسان کی اس ذہنی قوت کا نام جس سے وہ مطالب کو بہتری اور عمدگی کے ساتھ اخذکر لیتا ہے اور فھمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–80
ترکیب : جس طرح لوطا مفعول تھا ائتیا محذوف کا جس کی تفسیر اتینا مذکور ہے اسی طرح نوحا و دائود و سلیمان ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو اذکر محذوف کا مفعول کہا جاوے اذ نفشت ظرف ہو یحکمان کا مع داؤد والعامل فی مع یسبحن اور یہ حال ہے الجبال سے والطیر معطوف ہے الجبال پر وقیلھی بمعنی مع الریح منصوب ہے سخرنامقدر سے عاصفہ حال ہوا الریح سے تجری دوسرا حال من منصوب ہے سخرنا سے۔
تفسیر : :۔ یہ تیسرا قصہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ہے کہ جب ان کی قوم نے ان کو سخت تکلیف پہنچائی اور انہوں نے ہم کو کرب عظیم میں پکارا
تو اس کو اور اس کے کنبے کو کشتی میں سوار کر کے اس بلائے عظیم سے نجات دی باقی تمام قوم پر قہر الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
وَدَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ اِذْیَحْکُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْنَفَشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ ج وَکُنَّا لِحُکْمِھِمْ شٰھِدِیْنَ ۔ فَفَھَّمْنٰـھَا سُلَیْمٰنِ ج وَکلُاًّ اٰ تَیْنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا ز وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَالْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَالطَّیْرَ ط وَکُنَّا فٰعِلِیْنَ ۔ (الانبیاء : 78، 79)
(اور حضرت دائود اور حضرت سلیمان پر بھی ہم نے اپنا فضل کیا، یاد کرو جب وہ دونوں ایک کھیتی کے مقدمے کا فیصلہ کررہے تھے جبکہ اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں شب میں جا پڑی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ کررہے تھے۔ سو ہم نے سمجھادیا وہ معاملہ سلیمان (رح) کو اور ہم نے ان سب کو بخشا تھا حکم اور علم، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کو تکالیف کے ذریعے آزمایا جس میں وہ سرخرو ہوئے لیکن حضرت داؤد اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اقتدار اور اختیار دے کر آزمایا جس میں باپ، بیٹا کامیاب ہوئے۔ اس لیے بادشاہ انبیاء کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت داؤد (علیہ السلام)
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا دوسرے پارہ میں مختصر ذکر ہوچکا کہ وہ جالوت سے معرکہ آرائی میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرچکے تھے جس وجہ سے بنی اسرائیل میں وہ معزز سمجھے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ” اور خلیفۃ اللہ “ قرار دیا۔ آپ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہودا کی نسل سے ہیں۔ ابن کثیر ؓ نے…
Read the full tafseer →79: فَفَھَّمْنٰھَا (پس ہم نے سمجھا دیا) وہ فیصلہ یا فتویٰ ۔ سُلَیْمٰنَ (سلمان (علیہ السلام) کو )
دلیل : اس میں دلیل ہے کہ اس میں مصیب سلیمان (علیہ السلام) تھے۔
واقعہ : بکریوں نے ایک شخص کے کھیت کو رات کے وقت چرواہے کی عدم موجودگی میں چر کر برباد کردیا۔ فریقین حضرت دائود (علیہ السلام) کی خدمت میں فیصلہ لائے۔ آپ نے حکم دیا کہ بکریاں کھیت والوں کو دیدیں جائیں اس لئے کہ نقصان ان بکریوں کی قیمت کے برابر تھا۔
سلیمان (علیہ السلام) نے کہا جبکہ ان کی عمر صرف گیارہ برس تھی۔ اس کے علاوہ دوسری بات فریقین کیلئے زیادہ مناسب ہے۔ پس ان کو تاکید کی گئی کہ وہ ضروری فیصلہ کریں۔ تو انہوں نے کہا میرا خیال یہ ہے…
Read the full tafseer →79۔ ففھمناھا سلیمان، ، ہم نے حضرت ابراہیم کو اس فیصلہ کا طریقہ سکھادیا۔ وکلا ، اس سے مراد داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ہیں۔ اتینا ، حکما وعلما، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اگر یہ آیت نہ ہوتی تو فیصلہ کرنے والے ہلاک ہوجاتے لیکن ٹھیک تعریف کرنے والوں کی اللہ نے تعریف کی ہے اور اس اجتہاد کی تعریف کی ہے۔
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت داؤد کا فیصلہ اجتہاد سے تھا یانص کے ساتھ۔ اسی کے ذریعے سے سلیمان نے فیصلہ کیا۔ بعض نے کہا کہ حضرت سلیمان نے اجتہاد کے ساتھ فیصلہ کیا ہے اور بعض نے کہا کہ انبیاء کرام کے لیے بھی اجتہاد کرنا جائز ہے تاکہ ان کو بھی مجتہدین کا ثواب حاصل ہوجائے۔
مگریہاں پر حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
78۔ 82:۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے ایک قصہ کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ جب بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانی پھیل گئی تو اس کی سزا میں ملک شام کے کئی شہر قوم عمالقہ کے بادشاہ مقرر جالوت نے بنی اسرائیل سے چھین لیے اس کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا اور جالوت وطالوت کی لڑائی میں داود (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور شمویل کی وفات کے بعد نبوت ‘ بادشاہت یہ سب کچھ داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا ‘ دواد ‘ (علیہ السلام) کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
آیت 78
ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤد (علیہ السلام) کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجئے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انہیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ (اذیحکمن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم) یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہوگئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں۔ اس جھگڑے میں داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔ پس اس طرح آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
101 حضرت داؤد اور سلیمان دونوں کے لیے علم و حکمت کی نوازش : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان دونوں ہی کو علم و حکمت کی دولت سے نوازا تھا " کہ وہ دونوں ہی ہمارے پسندیدہ اور چنے ہوئے بندے تھے۔ سو ان دونوں میں سے ہر ایک کا فیصلہ صحیح اور درست تھا۔ اور ہر ایک کا فیصلہ ایک صحیح حجت اور درست نکتہ نظر پر مبنی تھا۔ حضرت داؤد نے بکریوں والے کی بکریوں کی ملکیت کو زائل کر کے ان کو کھیت والے کی ملکیت میں دے دیا تھا کہ ان کی شریعت میں اصل حکم یہی تھا۔ جیسا کہ حضرت یوسف کے قصے میں وارد ہے کہ جب حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے پوچھا کہ تمہارے دین و مذہب میں چور کی سزا کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا یہ کہ چور کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
سیدنا دائود اور سلیمان (علیہ السلام) کے کارنامے
تشریح : سیدنا دائود اور سیدنا سلیمان (علیہما السلام) دونوں باپ بیٹا تھے اور نبی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ حکمران بھی تھے۔ باقی نبیوں کی طرح آپ کو بھی کتاب آسمانی دی گئی جو زبور کے نام سے مشہور ہے اور آپ بنی اسرائیل کے حکمران تھے۔ فہم و فراست اور حکمت و دانائی اللہ کی طرف سے آپ کو ملی ہوئی تھی۔ مگر یہاں کچھ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد سیدنا دائود سے زیادہ معاملہ فہم تھے جیسا کہ اس مقدمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ بکریوں نے کھیت اجاڑ دیا تو سیدنا دائود نے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں۔ اللہ نے سیدنا سلیمان (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ اس واقعہ کی تفصیل مفسرین نے عموماً یہ بیان کی ہے کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس دو آدمی مقدمہ لے کر آئے۔ ایک کہنے لگا کہ اس شخص کی بکریاں رات کے وقت میرے کھیت میں گھس کر ساری کھیتی چرگئی ہیں۔ حضرت دائود نے نقصان اور بکریوں کی قیمت کا اندازہ لگا کر فیصلہ دیا کہ تم اس کی بکریاں لے لو۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اس فیصلہ سے اختلاف کیا اور کہا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں کہ ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزارہ کرے اور بکریوں والے کو کھیت سپرد کردیا جائے کہ آبپاشی وغیرہ سے اس کی اصلاح کرے۔ یہاں تک کہ جب کھیت اپنی پہلی حالت پر آجائے تو کھیت اور بکریاں اپنے…
Read the full tafseer →(21:79) ففھمنھا۔ فہم یفہم تفہیم (تفعیل) سمجھانا۔ فھمناہم نے سمجھا دیا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب وہ معاملہ جو زیر تجویز تھا۔ یعنی کھیت کا بکریوں نے چر جانا۔ یہ مفعول اول ہے۔ سلیمن مفعول ثانی۔ کلا۔ ای کل واحد منہما۔ ان دونوں میں ہر ایک کو۔ حکما وعلما۔ ملاحظہ ہو (21:74) متذکرہ بالا۔
سخرنا مع داوٗد الجبال یسبحن والطیر۔ الطیر کا عطف الجبال پر ہے۔ مع۔ سخرنا کا بھی متعلق ہوسکتا ہے۔ اور یسبحن کا بھی لفظا پہلا احتمال قوی ہے اور معنا دوسرا مع متعلق بسخرنا اویسبحن والاول اقوی لفظا والثانی معنا (مظہری بحوالہ ضیاء القرآن) الجبال والطیر دونوں سخرنا کے مفعول ہیں اور یسبحن الجبال سے موضع حال میں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
حضرت داؤد ، حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) ان آیتوں میں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا، سورة بقرہ میں گزرچکا ہے کہ جالوت اور طالوت کی لڑائی میں حضرت داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت وبادشاہت یہ سب کچھ حضرت داؤد کے خاندان میں آگیا حضرت داؤد کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک شخص کی کھیتی دوسرے شخص کی بکریاں رات کو چر گئیں جب یہ جھگڑا حضرت داؤد کے روبرو پیش ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے مطابق حضرت داؤد نے اس جھگڑے کا فیصلہ کچھ یوں کیا کہ وہ بکریاں کھیتی والے شخص سے دلادیں اسی قوم کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کا حال سن کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
[41] قصہ یہ تھا کہ ایک شخص کی بکریاں رات کے وقت کسی دوسرے کے کھیت میں جا پڑی تھیں اور کھیت چر گئی تھیں۔ کھیت والے نے داؤد (علیہ السلام) کی عدالت میں دعویٰ دائر کردیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ بکریاں مالک سے چھین کر کھیت والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اختلاف کیا اور یہ رائے دی کہ بکریاں اس وقت تک کھیت والے کے پاس رہیں جب تک بکریوں کا مالک اس کے کھیت کو پھر سے نہ تیار کر دے۔ اس کے متعلق ارشاد ہوا کہ یہ فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا تھا۔ یہاں اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ انبیاء باوجود نبی ہونے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی صلاحیتیں پانے کے انسان ہی تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
اللہ کی اپنے بندوں پر بو قلمون رحمتیں :
(ف 1) ان سب آیات میں اللہ تعالیٰ کی بوقلمون نعمتوں کا ذکر ہے کہ کس طرح کسی کسی بندے کو نوازا گیا ، داؤد وسلیمان (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد ہے ، کہ دونوں کو ہم نے پیغمبرانہ فراست عطا کر رکھی تھی ، مگر وقت نظر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اجتہاد بڑھ گیا ، قصہ یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس دو فریق آئے ایک کا باغ تھا ، اور دوسرے کی بکریاں باغ والے نے کہا ، رات کو اس کی بکریوں نے میرے باغ کا ستیاناس کردیا ہے ، اس سے ہر جانہ دلوائیے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا ، تم اس کی بکریاں چھین لو ، یہ اس غفلت وبے پرواہی کی سزا ہے جس کی وجہ سے…
Read the full tafseer →(79) پھر ہم نے اس قضیے کے فیصلے کی آسان شکل سلیمان (علیہ السلام) کو سمجھا دی اور ہم نے دونوں ہی کو فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور سمجھ عطا فرمائی تھی اور دونوں ہی کو حکمت اور علم عطا فرمایا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو اور پرندوں کو دائود (علیہ السلام) کا تابع کردیا تھا کہ وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اور یہ سب کچھ ہم ہی کرنے والے تھے۔ آسان شکل وہی جو مصالحت کی اوپر مذکور ہوئی دونوں کو حکمت و علم دیا گیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
پھر دونوں باپ بیٹوں کے فیصلوں میں بلاوجہ کی موشگافیاں کرنا کچھ مفید نہیں۔ پھر دونوں کو جن نعمتوں سے نوازا تھا ان کو علیحدہ علیحدہ بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
ف 6۔ صورت مقدمہ کی یہ تھی کہ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا اس کی لاگت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی، داود (علیہ السلام) نے ضمان میں کھیت والے کو وہ بکریاں دلوا دیں، اور اصل قانون شرعی کا یہی مقتضا تھا، جس میں مدعی اور مدعی علیہ کی رضا بھی شرط نہیں، مگر چونکہ اس میں بکری والوں کا بالکل ہی نقصان ہوتا تھا اس لئے سلیمان (علیہ السلام) نے بطور مصالحت کے جو کہ موقوف تھی تراضی جانبین پر یہ صورت جس میں دونوں کی سہولت اور رعایت تھی تجویز فرمائی کہ چند روز کے لئے بکریاں تو کھیت والے کو دے دی جائیں کہ ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزر کرے اور بکری والوں کو وہ کھیت سپرد کیا جاوے کہ اس کی خدمت آب پاشی وغیرہ سے…
Read the full tafseer →سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کی تصدیق اور داؤد (علیہ السلام) کے مناقب :
79۔ قرآن کریم کی زیر نظر آیت نے سلیمان (علیہ السلام) کے اس فیصلہ کی تصدیق کردی کہ دونوں باپ بیٹے نے جو فیصلہ کیا تھا اس میں سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ زیادہ صحیح تھا کیونکہ قدرت نے دونوں ہی چیزوں میں نفع اور بڑھنے کی صلاحیت رکھی تھی اس صلاحیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا جو یقینا ایک مہینہ بھر میں مکمل بھی ہوگیا ہوگا کیونکہ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض فصل خصوصا وہ جن کو بکریاں بھی چر سکتی ہیں اس میں اتنی صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ پندرہ بیس دن کے بعد یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک دوبارہ صحت مند ہوجائے اور عین ممکن ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ (So We enabled Sulayman to understand it - 21:79). This expression means that Allah Ta` ala had made known to Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) the judgment which was better. Although the judgment passed by Sayyidna Dawud (علیہ السلام) was not in conflict with religious jurisprudence, but the one adjudged by Sulayman (علیہ السلام) was inspired by Allah and was therefore, more appropriate because it benefitted both the parties without hurting either.
Imam Baghawi (رح) has reported this story on authority of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and Qatadah and Zuhri that two…
Read the full tafseer →70. There is no mention of this event in the Bible, nor in the Jewish literature. According to the Muslim commentators, it happened like this: The goats of one person entered into the field of another person at night. The latter brought his complaint to Prophet David who decided that the strayed goats should be given to the owner of the field. Prophet Solomon, however, differed with this and opined that the goats should remain with the owner of the field up to the time that the former tilled and prepared the field as before. In regard to this Allah says: We led Solomon to the right decision.…
Read the full tafseer →