Al-Anbiyaa 21:73

Al-Anbiyaa · from ayah 73

21:73

وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ ۚ— وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ ۟ۚۙوَجَعَلۡنٰهُمۡ اَئِمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ‌ۚ وَكَانُوۡا لَـنَا عٰبِدِيۡنَ

اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We made them leaders guiding by Our command. And We inspired to them the doing of good deeds, establishment of prayer, and giving of zakah; and they were worshippers of Us.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:73

اور ہم نے اُن کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعہ نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نمازوں کے قائم رکھنے اور زکوٰة دینے کی وحی (تلقین) کی، اور وه سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان سب کو ہم نے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے وحی کے ذریعے انہیں نیکیاں کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی تاکید کی تھی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے انہیں امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انہیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے انہیں (انسانیت کا) پیشوا بنایا وہ (لوگوں کو) ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف اَعمالِ خیر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے (کے احکام) کی وحی بھیجی، اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ہم نے انھیں پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک اعمال کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی کی اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا جو ہماری ہدایت کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے ان کو بھلائی کے کام نماز کے اہتمام اور زکواۃ کے ادا کرنے کی ہدیات کی اور وہ ہماری ہی بندگی کرنے والے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان کو ایسا امام بنایا تھا جو لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے اور ہم نے ان کو وحی کے ذریعے ہدایت کی تھی نیک کام کرنے کی اور خاص کر نماز قائم رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی اور وہ سب ہماری ہی عبادت کیا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان (سب) کو پیشوا بنایا ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم سے۔ اور ہم نے ان کے پاس وحی سے حکم بھیجا نیک کاموں کے کرنے کا اور نماز کی پابندی کا اور ادائے زکوٰۃ کا اور وہ ہماری ہی عبادت کرنے والے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے انہیں امام بنا دیا جو ہدایت دیتے تھے ہمارے حکم سے اور ہم نے ان ؑ کی طرف وحی کی نیک کام کرنے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی اور وہ سب کے سب ہماری بندگی کرنے والے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے ‘ ان کو نیک کام کرنے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم بھیجا اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We made them into leaders to guide people in accordance with Our command, and We inspired them to good works, and to establish Prayers and to give Zakah. They worshipped Us alone.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We made them the Imams who guided (people) under Our command, and We inspired them to do good deeds and to establish Salah and pay Zakah, and Us alone they worshipped.

— Muhammad Taqi Usmani

And We made them the Imams who guided (people) under Our command, and We inspired them to do good deeds and to establish Salah and pay Zakah, and Us alone they worshipped.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We made them leaders, guiding by Our command, and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah, and of Us (Alone) they were the worshippers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We made them chiefs who guide by Our command, and We inspired in them the doing of good deeds and the right establishment of worship and the giving of alms, and they were worshippers of Us (alone).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We made them leaders guiding by Our command. And We inspired to them the doing of good deeds, establishment of prayer, and giving of zakah; and they were worshippers of Us.

— Saheeh International

We appointed them as leaders to guide the people through Our command and sent them revelation to strive for good deeds, worship their Lord, and pay religious tax. Both of them were Our worshipping servants.

— Muhammad Sarwar

And We made them Imams who guided (people) by Our command, and We revealed to them the doing of good and the keeping up of prayer and the giving of the alms, and Us (alone) did they serve;

— Muhammad Habib Shakir

And We made them leaders, guiding by Our command; and We revealed unto them the doing of good deeds and the establishment of prayer, and the giving of poor-rate; and of Us they were the worshippers.

— Abdul Majid Daryabadi

And We made them leaders, guiding (men) by Our Command, and We sent them inspiration to do good deeds, to establish regular prayers, and to practise regular charity; and they constantly served Us (and Us only).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–75

ہجرت خلیل ؑ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 66 حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کے اس اہم واقعے کا بائیبل میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ ان کی زندگی کے عراقی دور کا کوئی واقعہ بھی اس کتاب میں جگہ نہیں پاسکا ہے۔ نمرود سے ان کی مڈ بھیڑ، باپ اور قوم سے ان کی کشمکش، بت پرستی کے خلاف ان کی جد و جہد، آگ میں ڈالے جانے کا قصہ، اور بالآخر ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا، ان میں سے ہر چیز بائیبل کی کتاب " پیدائش " کے مصنف کی نگاہ میں ناقابل التفات تھی۔ وہ صرف ان کی ہجرت کا ذکر کرتا ہے، مگر وہ بھی اس انداز سے کہ جیسے ایک خاندان تلاش معاش میں ایک ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں جا کر آباد ہو رہا ہے۔ قرآن اور بائیبل کا اس سے بھی زیادہ دلچسپ اختلاف یہ ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–73

وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ ۭ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً یعنی ہم نے عطا کردیا اس کو بیٹا اسحاق (ان کی دعا درخواست کے مطابق) اور اس پر زیادہ دے دیا پوتا یعقوب ؑ یعنی دعا تو صرف بیٹے کے لئے تھی اللہ نے اپنے فضل سے بیٹا بھی دیا پھر اس سے پوتا بھی اپنی طرف سے زائد عطا فرما دیا اسی لئے اس کو نافلہ کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 72–73

آیت 73-72 حضرت ابراہیم پر اللہ کا انعام یہ اللہ تعالیٰ نے وہ انعام بیان فرمایا ہے جو ہجرت کے بعد اس نے حضرت ابراہیم پر یکے بعد دیرگے کیا۔ حضرت ابراہیم نے اللہ کی خاطر اپنی قوم اور عزیزوں کو چھوڑا تھا تو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بیٹے پوتے عطا فرمائے۔ انہوں نے جن کو چھوڑا تھا وہ نابکارو ناہنجار تھے اور اللہ نے ان کی جگہ ان کو جو دیے وہ سب ایک سے ایک بڑھ کر صالحین و اخیار میں سے تھے۔ نافلۃ سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ حضرت ابراہیم کو حضرت اسماعیل تو ان کی دعا کے صلہ میں ملے مزید برآں اللہ تعالیٰ نے ان کو اسحاق اور یعقوب بھی عطا فرمائے اور اس کے بعد نبوت کا ایک سلسلہ قائم ہوگیا۔ 1 ؎ وجعلنھم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 72–74

72۔ 1 نَا فِلَۃ، زائد کو کہتے ہیں، یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے تو صرف بیٹے کے لئے دعا کی تھی، ہم نے بغیر دعا مذید پوتا بھی عطا کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–73

29: لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، اور سورة عنکبوت آیت 29 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم میں سے تنہا وہی ان پر ایمان لائے تھے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں آگ میں ڈالنے کی سازش ناکام ہوگئی تو نمرود نے مرعوب ہو کر ان سے تعرض نہیں کیا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے بھتیجے کو لے کر عراق سے شام کے علاقے میں تشریف لے گئے۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر شام اور فلسطین کے علاقے کو برکتوں والا علاقہ قرار دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 72–73

ووھبنا لہ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدین (27 : 37) ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وطن ‘ اہل وطن اور قوم کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ارض مبارکہ بطور وطن عنایت فرمائی ‘ جو ان کے وطن سے زیادہ بہتر تھی ‘ اور ان کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا پوتا دیا جو بہترین ہل و عیال ثابت ہوئے۔ اور پھر ان کی اولاد سے ایک نسل کثرت سے بڑھی کہ وہ دنیا میں ایک مستقل امت بن گئی تو یہ قومچھوڑنے کا صلہ تھا اور پھر آپ کی نسل میں بڑے بڑے ائمہ پیدا ہوئے جو اللہ کے حکم سے لوگوں کو ہدایت دیتے تھے اور اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ بھلائی کے مختلف کام کریں۔ نماز قائم کریں ‘ زکوۃ دیں اور اللہ کی اطاعت اور بندگی کریں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی ایسے کامل تھے کہ دوسروں کی تکمیل بھی کرتے تھے۔ 1 یعنی ان کی طرف وحی بھیجی جس میں ان امور کی تاکید تھی۔ یہ ان کا کمال علمی ہوا۔ 2 یعنی شب و روز ہماری بندگی میں لگے رہتے تھے کسی دوسری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ یہ ہی انبیاء کی شان ہوتی ہے کہ ان کا ہر کام خدا کی بندگی کا پہلو لیے ہوتا ہے۔ یہ عملی کمال ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 وَجَعَلْنٰہُمْ اَءِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا ” یعنی لوگوں کی راہنمائی اور راہبری کرتے تھے۔ وَکَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ ” یہاں آپ کو کچھ انبیاء کا تذکرہ اور ان کے اوصاف پر مشتمل آیات کا گلدستہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس ضمن میں یہ بھی مد نظر رہے کہ اس سورة میں تمام ابنیاء کا ذکر انباء الرسل کی بجائے قصص النبیینّ کے انداز میں ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 73–74

61 حضرت ابراہیم نے بڑھاپے کی عمر اولاد کے لئے دعا کی تو اللہ نے حضرت اسحاق عطا فرمایا پھر حضرت ابراہیم نے بیٹے حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوئے اور تینوں ہی تھے اور یہ تو واضح ہے کہ نبی اپنے دور کا صالح ترین فرد ہوتا ہے اور ان سب انبیاء کی شریعتوں میں نماز اور زکوٰۃ ایسے ہی فرض تھی جیسے شریعت محمدیہ میں فرض کی گئی ہے البتہ جزئیات کا اختلاف ہوتا ہی رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

90۔ (خلق کو) (آیت) ” صلحین “۔ میں ابھی یہ بیان آچکا ہے کہ یہ حضرات تکمیل نفس کے مدارج طے کئے ہوئے تھے۔ اب بیان اس کا ہورہا ہے کہ دوسروں کی بھی تکمیل کردیتے تھے۔ گویا اعلی درجہ کے صالح ہی نہ تھے۔ اعلی درجہ کے مصلح بھی تھے۔ 91۔ (آیت) ” عبدین “۔ کی تقدیم ” لنا “۔ پر تاکید و تخصیص کی مقتضی ہے، یعنی وہ بس ہماری ہی عبادت کرتے تھے، (آیت) ” صلحین “۔ میں کمال نبوت کی طرف اور (آیت) ” اوحینا الیھم فعل الخیرت “۔ میں کمال علم کی طرف اور (آیت) ” کانوا لنا عبدین “۔ میں کمال عمل کی طرف اور (آیت) ” ائمۃ یھدون “۔ میں تکمیل للخیر کی طرف اشارہ ہے۔ “ (تھانوی (رح) توریت موجودہ میں انبیاء کرام کو عموما بس اس حیثیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–75

آیت نمبر 68 تا 75 ترجمہ : کہنے لگے اسے یعنی ابراہیم کو جلا دو اور اس کو جلا کر اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو ان کی مدد کرنی ہی ہے چناچہ ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے بہت ساری لکڑیاں جمع کیں اور ان تمام لکڑیوں میں آگ جلا دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسیوں میں مضبوط باندھا اور ان کو ایک گوپھن میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا ہم نے آگ کو حکم دے کر کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی کی چیز بن جا، چناچہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا اور آگ کی حدت ختم ہو کر صرف اس کی روشنی باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے سلاماً کہنے کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلنہم ائمۃ یہدون بامرنا اور بنایا ہم نے ان کو (بھلائیوں اور صحیح افکار و اعمال میں لوگوں کا) پیشوا جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کو ہدایت کرتے تھے۔ (ہمارے دین کا راستہ بتاتے تھے) ۔ واوحینا الیہم فعل الخیرت واقام الصلوۃ وایتاء الزکوۃ وکانوا لنا عبدین۔ اور ہم نے ان کے پاس حکم بھیجا نیک کام کرنے کا اور (خصوصاً ) نماز کی پابندی کا اور زکوٰۃ ادا کرنے کا اور وہ ہماری ہی عبادت کرنے والے تھے۔ خیرات یعنی وہ باتیں جو بذات خود بھی اچھی ہیں اور شریعت نے بھی ان کو اچھا قرار دیا ہے اِقَام الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآء الزَّکوٰۃِکا عطف فِعْلَ الْخَیْرٰتِپر ہے۔ زکوٰۃ اور صلوٰۃ خصوصیت کے ساتھ اچھے اور اہم امور ہیں ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(73) اور ہم نے ان سب کو مقتدا بنایا کہ ہمارے حکم و اطاعت کی طرف مخلوق کو دعوت دیا کرتے تھے ، اور ہم نے ان کے پاس نیک کاموں کے کرنے کا یا یہ کہ توحید کی طرف دعوت دینے کا خصوصا نماز کی پابندی کا اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم بھیجا اور وہ لوگ ہماری خوب اطاعت کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا : یعنی وہ صرف خود ہی ہر لحاظ سے درست اور ہمارے مکمل فرماں بردار نہ تھے، بلکہ وہ اپنی قوم کے پیشوا بھی تھے جو ہماری وحی کے مطابق دوسروں کو بھی حق کی طرف دعوت دیتے تھے۔ معلوم ہوا اصل ہدایت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو اور جو ائمہ اللہ کے حکم کے بغیر حکم دیں تو وہ ہدایت کے امام نہیں، گمراہی کے امام ہیں۔ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ۔۔ : یعنی صالحیت اور امامت کے علاوہ ہم نے انھیں اپنی وحی سے بھی سرفراز فرمایا۔ ”فِعْلَ الْخَيْرٰتِ“ میں اگرچہ تمام نیک اعمال آجاتے ہیں مگر اسلام لانے کے بعد اللہ کے حقوق میں سے سب سے اہم عمل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–73

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–73

1:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا اے مجاہد کیا تو جانتا ہے اس شخص کو جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے ساتھ جلانے کا مشورہ دیا میں نے کہا نہیں پھر انہوں نے فرمایا فارس کے دیہاتیوں میں سے ایک آدمی تھا یعنی اکراد۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جمع کی گئی (لکڑی) اور ان کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے فرشتے نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے کب حکم ہوگا کہ میں بارش برساوں اور اللہ کا حکم بہت جلدی پہنچنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کونی برداوسلما “ تو زمین میں کوئی آگ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَجَعَلْنٰهُمْ : اور ہم نے بنایا ان سب کو ] [ اَىِٕمَّةً : ایسے امام جو ] [ يَّهْدُوْنَ : ہدایت دیتے تھے ] [ بِاَمْرِنَا : ہمارے حکم سے ] [ وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی کی ] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ : بھلائیوں کے عمل کرنے کی ] [ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ : اور نماز کے قائم کرنے کی ] [ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوةِ : اور زکٰوۃ کے پہنچانے کی ] [ وَكَانوْا : اور وہ سب تھے ] [ لَنَا : ہماری ہی ] [ عٰبِدِيْنَ : بندگی کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–73

حضرت ابراہیم اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا مبارک سر زمین کی طرف ہجرت کرنا حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کے بیٹے تھے۔ ان آیات میں ان دونوں کی ہجرت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ دونوں اپنے علاقہ کو چھوڑ کر شام کے علاقہ فلسطین میں چلے گئے تھے۔ بتوں کی سر زمین کو اور بتوں کے پوجنے والوں کو چھوڑ کر اس سر زمین کے لیے ہجرت کی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے برکات رکھی ہیں۔ اور یہ برکات دنیا جہان والوں کے لیے ہیں، ان کے اس ہجرت کرنے کو نجات سے تعبیر فرمایا کیونکہ کافروں سے چھوٹ کر بابرکت سر زمین میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو اسحاق نامی بیٹا عطا کیا اور پھر اس بیٹے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–73

51:۔ ” وَ نَجَّیْنَاہُ وَ لُوطًا الخ “ ہم نے ابراہیم کو آگ سے بچایا۔ وہ خود نہیں بچ سکتے تھے۔ ” وَ وَھَبْنَا لَهٗ اِسْحٰق الخ “ اور ہم نے ان کو نعمت اولاد سے نوازا۔ اولاد عطا کرنا بھی ہمارا کم ہی کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّةً “ ضمیر منصوب سے حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) مراد ہیں یعنی ہم نے ان پیغمبروں کو امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہر وقت نیکی کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ ” قُلْنَا یٰنَارُ کُوْنِیْ الخ “ آگ کو ٹھنڈا ہونے کا ہم ہی نے حکم دیا۔ ” فَجَعَلْنٰھُمُ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–77

ربط آیات : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنٰہُمْ اَىِٕمَّۃً يَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْہِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوۃِ۝ 0ۚ وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ۝ 73ۙۚ إِمام : المؤتمّ به، إنسانا كأن يقتدی بقوله أو فعله، أو کتابا، أو غير ذلک محقّا کان أو مبطلا، وجمعه : أئمة . وقوله تعالی: يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ [ الإسراء/ 71] أي : بالذي يقتدون به، الامام وہ ہے جس کی اقتداء کی جائے خواہ وہ انسان ہو یا اس کے قول وفعل کی اقتداء کی جائے یا کتاب وغیرہ ہو اور خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے حق پر ہو یا باطل پر ہو اس کی جمع ائمۃ افعلۃ ) ہے اور آیت :۔ { يَوْمَ نَدْعُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–75

1 ؎ یعنی ملک شام میں لے آئے جہاں باعتبار پیداوار کے بڑی برکت ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اصلی وطن ملک عراق تھا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَعَلْنٰـھُمْ اَئِمَّـۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْھِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَـآئَ الزَّکٰوۃِ ج وَکَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 73) (اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انھیں بھلائی کے کام اور نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ ادا کرنے کی ہدایت کی، اور وہ ہماری ہی بندگی کرنے والے تھے۔ ) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کا مزید کرم یہ ہوا کہ انھیں جو اولاد عطا فرمائی انھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا امام بنایا۔ مشرقِ وسطیٰ اور بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کے دین کی رہنمائی اور اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–73

فہم القرآن ربط کلام : سفر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنا ملک، گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ یہ کمی محسوس ہوئی۔ کہ اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے۔ جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ ساتھ میرے بعد تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ تمام مورخین نے تحریر فرمایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر سو سال اور آپ (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ ( علیہ السلام) کی عمر نوے سال تھی۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

73: وَجَعَلْنٰـھُمْ اَئِمَّۃً (اور ہم نے ان کو دین میں مقتدی بنایا۔ ) یَّھْدُوْنَ (وہ راہنمائی کرتے ہیں) لوگوں کی بِاَمْرِنَا (ہمارے حکم سے) ہماری وحی کرنے سے وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْھِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ (اور ہم نے ان کے پاس حکم بھیجا نیک کام کرنے کا) اور خیرات تمام اعمال صالحہ ہیں جو افعال خیر میں شامل ہیں اور بھلائی کے کام بار بار کیے جائیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآئَ الزَّکٰوۃِ ( اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا) اور اصل میں یہ عبارت اقامۃ الصلوۃ ہے البتہ مضاف الیہ کو ھاؔ کا بدل قرار دیا۔ وَکَانُوْا لَنَاعٰبِدِیْنَ (اور وہ ہماری عبادت کرنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

73۔ وجعلناھم آئمۃ یھدون بامرنا، ، ہم نے ان کو بھلائیوں اور اعمال میں لوگوں کا پیشوا بنایاجو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کو ہدایت کرتے تھے اور ہمارے دین کا راستہ بتاتے تھے۔ واوحینا الیھم فعل الخیرات۔ وہ عمل جس نے شریعت کو اچھا قرار دیا تھا۔ واقام الصلوۃ نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وایتاء الزکوۃ، زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا۔ وکانولنا عابدین، وہ عبادت کرنے اور موحد ہونے میں مخلق تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–75

71۔ 75:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ کے صدمہ سے بچایا ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ سے بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں پہنچا دیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فقط بیٹے کی دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو بیٹا بھی دیا اور پوتا بھی دیا اور ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگوں کو نیک راہ کی سمجھ آگئی۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 72–75

95 انبیائے کرام کو بھی اولاد اللہ ہی دیتا ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اولاد دینا اللہ تعالیٰ ہی کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ حضرات انبیاء ورسل بھی اسی کے محتاج ہیں۔ یہاں پر ان انعامات کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے جن سے حضرت ابراہیم کو ہجرت کے بعد نوازا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے ابراہیم کو اسحاق جیسے عظیم الشان بیٹے اور یعقوب جیسے عظیم الشان پوتے سے نوازا " کہ بیٹے پوتے بخشنا اور اولاد کی نعمت سے نوازنا بھی ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے۔ اور حضرت ابراہیم جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ سو کتنے گمراہ اور کیسے بہکے بھٹکے ہیں وہ لوگ جو اولاد کی نعمت کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 73–75

ف 8 ۔ یعنی صرف کود ہی فرمانبردار نہ تھے بلکہ ہمارے وحی کے مطابق دوسروں کو بھی حق کی طرف دعوت دیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ ہر قسم کی دعوت دارشاد کا کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 72–75

(21:72) نافلۃ۔ ابوحبان کے نزدیک یہ مصدر ہے جیسے عافیۃ وعاقبۃ اور وھبنا کے بعد بطور مصدر کے آنے کی وجہ سے منصوب ہے جیسے کہتے ہیں قعدت جلوسا۔ اور بمعنی عطاء فضل ہے یعنی ہم نے بطور عطاو فضل کے اس کو اسحاق اور یعقوب دئیے۔ یا نافلۃ بمعنی زیادۃ وفضلا ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے لئے دعا کی تھی ہم نے اسے اسحاق بیٹا بھی دیا اور مزید برآں یعقوب بھی عطا کیا بغیر سوال کے۔ اس صورت میں نافلۃ حال ہے یعقوب سے اور بدین وجہ منصوب ہے۔ نفل عبادت کو بھی نفل اسی لئے کہتے ہیں کہ فرائج اور واجبات سے زائد اور ان کے علاوہ ہے۔ کلا۔ سب کو۔ ہر ایک کو۔ کل کو۔ جعلنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ۔ کل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–75

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75 نجینا ہم نے نجات دی۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ نافلۃ عطیہ، ضرورت سے زائد۔ ائمۃ (امام) رہنما، پیشوا۔ فعل الخیرات بھلائیوں کے کام، نیک کام۔ حکم حکمت، نبوت۔ الخبائت گندگیاں، بدکاریاں۔ تشریح :- آیت نمبر 71 تا 75 گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مشرکین نے آگ کے الاؤ میں جھونک دیا تھا اور اتنی زبردست آگ میں پھینکنے کے بعد وہ اس سے مطمئن تھے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے گل و گلزار بنا دیا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–75

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ حضرت ابراہیم اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں (کہ جہاں کثرت سے انبیاء (علیہ السلام) ہوئے) پہنچادیا اور حضرت ابراہیم نے فقط بیٹے کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگ کو نیک راہ کی سمجھ آگئی اور نماز زکوۃ اور ہر طرح کے نیک کاموں کے بجالانے کا حکم دیا اور اپنی ذات سے بھی اس حکم کی انہوں نے پوری تعمیل کی جب حضرت ابراہیم نے ہجرت کی تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 71–73

[37] مراد ہے سرزمین فلسطین جو دینی اور دنیوی برکتوں سے مالامال ہے۔ دینی برکتیں یہ کہ اس سرزمین میں کثرت سے انبیاء مبعوث ہوئے اور دنیوی برکتیں اس ملک کی صحت بخش آب و ہوا اور سرسبزی و شادابی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–77

(ف 1) اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو لوگ اس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے لئے دنیا کی تمام لذتوں اور رشتوں کو قربان کردیتے ہیں ، وہ ان کو دنیا میں خیروبرکت کا بڑا حصہ دار بنا دیتا ہے ، اور ان کو عام دنیا داروں سے کسی طرح کم حیثیت میں نہیں رہنے دیتا ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ تیاگ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت سے نوازا اور اولاد صالح عطا کی ، جو سب کے سب منصب قیادت و امامت پر فائز ہوئے اور اس سے بڑھ کر اور کیا مسرت ہوسکتی ہے ، کہ ایک شخص اپنی اولاد کو اپنے سامنے کامیاب وکامران دیکھے اسی طرح ارشاد فرمایا کہ ہم نے لوط کو جو ابراہیم (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(73) اور ہم نے ان سب کو لوگوں کا پیشوا بنایا اور امام بنایا کہ یہ لوگ ہمارے حکم کے موافق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور خلق خدا کو ہدایت کیا کرتے تھے اور ہم نے ان سب کے پاس بھلائی اور نیک کام کرنے اور نماز کی پابندی اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم بھیجا اور یہ سب ہماری عبادت میں لگے رہتے تھے۔ یعنی پیشوا تھے لوگ ان کی اقتداء کرتے تھے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے تھے یعنی نبی تھے ہمارے فرستادے تھے ان کو ہم نے ہی رہنمائی اور ہدایت کے لئے مقرر کیا تھا اور ان کے سب کے پاس ہم نے بھلے کام کرنے کا اور خاص طور پر نماز کی پابندی اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم بھیجا تھا یعنی ان کو وحی کی گئی تھی کہ بھلے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 72–75

ف 4۔ اعلی درجہ کی نیکی کا مصداق عصمت ہے جو بشر میں خواص نبوت سے ہے، پس مراد یہ ہے کہ ان سب کو نبی بنایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کے مناقب قرآن کریم کی زبان میں : 73۔ صالح اور نیک اولاد کا میسر آنا بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے اور یہ انعام بھی اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کے بعد خوب کیا کہ اولاد دی اور وہ ایسی اولاد تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی تعریف فرمائی کہ وہ سب کے سب ہدایت دینے والے تھے اور نیکی وتقوی اور ورع میں ایک سے ایک بڑھ کر تھے ‘ اسحاق کیا تھے کہ اسمعیل تھے اور اسمعیل کیا تھے کہ اسحاق تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل اور کرم سے اس طرح نوازا کہ ان کی اولاد اور اولاد در اولاد کو اللہ تعالیٰ نے نبی ورسول مبعوث کیا پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–73

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً (And We blessed him with Ishaq and Ya` qub as gift - 21:72) That is, Allah Ta` la had bestowed upon him the son Ishaq (علیہ السلام) as per his supplication and in addition to that a grandson Ya` qub (علیہ السلام) as a gift. This is why he is referred to as نَافِلَةً nafilah which originally means 'extra'.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

66. This important event of the life of Prophet Abraham (peace be upon him) has found no mention whatever in the Bible. In fact nothing about his life in Iraq, his conflict with Nimrod, his father and the community at large, his efforts to eradicate idolatry, the incident of his being cast into the fire, which ultimately led to his forced exile from the country, is mentioned anywhere in the Bible. The Bible merely mentions his migration, and that too, in a manner as if a family was migrating from one country to another in search of livelihood. There is another interesting difference between…

Read the full tafseer →