Explained with ayahs 71–75
ہجرت خلیل ؑ
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 65
یعنی بیٹے کے بعد پوتا بھی ایسا ہوا جسے نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ ۭ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً یعنی ہم نے عطا کردیا اس کو بیٹا اسحاق (ان کی دعا درخواست کے مطابق) اور اس پر زیادہ دے دیا پوتا یعقوب ؑ یعنی دعا تو صرف بیٹے کے لئے تھی اللہ نے اپنے فضل سے بیٹا بھی دیا پھر اس سے پوتا بھی اپنی طرف سے زائد عطا فرما دیا اسی لئے اس کو نافلہ کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
آیت 73-72
حضرت ابراہیم پر اللہ کا انعام
یہ اللہ تعالیٰ نے وہ انعام بیان فرمایا ہے جو ہجرت کے بعد اس نے حضرت ابراہیم پر یکے بعد دیرگے کیا۔ حضرت ابراہیم نے اللہ کی خاطر اپنی قوم اور عزیزوں کو چھوڑا تھا تو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بیٹے پوتے عطا فرمائے۔ انہوں نے جن کو چھوڑا تھا وہ نابکارو ناہنجار تھے اور اللہ نے ان کی جگہ ان کو جو دیے وہ سب ایک سے ایک بڑھ کر صالحین و اخیار میں سے تھے۔ نافلۃ سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ حضرت ابراہیم کو حضرت اسماعیل تو ان کی دعا کے صلہ میں ملے مزید برآں اللہ تعالیٰ نے ان کو اسحاق اور یعقوب بھی عطا فرمائے اور اس کے بعد نبوت کا ایک سلسلہ قائم ہوگیا۔ 1 ؎ وجعلنھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
72۔ 1 نَا فِلَۃ، زائد کو کہتے ہیں، یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے تو صرف بیٹے کے لئے دعا کی تھی، ہم نے بغیر دعا مذید پوتا بھی عطا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
29: لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، اور سورة عنکبوت آیت 29 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم میں سے تنہا وہی ان پر ایمان لائے تھے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں آگ میں ڈالنے کی سازش ناکام ہوگئی تو نمرود نے مرعوب ہو کر ان سے تعرض نہیں کیا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے بھتیجے کو لے کر عراق سے شام کے علاقے میں تشریف لے گئے۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر شام اور فلسطین کے علاقے کو برکتوں والا علاقہ قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ووھبنا لہ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدین (27 : 37) ”
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وطن ‘ اہل وطن اور قوم کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ارض مبارکہ بطور وطن عنایت فرمائی ‘ جو ان کے وطن سے زیادہ بہتر تھی ‘ اور ان کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا پوتا دیا جو بہترین ہل و عیال ثابت ہوئے۔ اور پھر ان کی اولاد سے ایک نسل کثرت سے بڑھی کہ وہ دنیا میں ایک مستقل امت بن گئی تو یہ قومچھوڑنے کا صلہ تھا اور پھر آپ کی نسل میں بڑے بڑے ائمہ پیدا ہوئے جو اللہ کے حکم سے لوگوں کو ہدایت دیتے تھے اور اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ بھلائی کے مختلف کام کریں۔ نماز قائم کریں ‘ زکوۃ دیں اور اللہ کی اطاعت اور بندگی کریں۔…
Read the full tafseer →10 یعنی بڑھاپے میں بیٹا مانگا تھا، ہم نے پوتا بھی دے دیا۔ یعنی یعقوب علیہ السلام۔
11 یعنی ابراہیم، لوط، اسحاق، یعقوب علیھم السلام اعلیٰ درجہ کے نیک بندوں میں ہیں۔ کیونکہ سب نبی ہوئے اور انبیاء سے بڑھ کر نیکی کس میں ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 72 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَط وَیَعْقُوْبَ نَافِلَۃً ط ”
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام جیسا بیٹا اور یعقوب علیہ السلام جیسا پوتا عطا فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
60 یہ واقعہ دیکھ کر بھی حضرت لوط کے سوا کوئی شخص بھی حضرت ابراہیم پر ایمان نہ لایا۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھائی ہماران کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ جب قوم سے دشمنی چھن گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو عراق سے شام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ شام کا علاقہ بابرکت اس لئے ہے کہ دنیوی لحاظ سے یہ بہت زرخیز اور شاداب خطہ زمین ہے۔ اور روحانی لحاظ سے اس لئے کہ یہی خطہ دو ہزار سال تک انبیاء کا مسکن و مدفن رہا ہے۔
Read the full tafseer →89۔ یعنی صالحیت کے درجہ کمال پر تھے۔ اس تصریح کی ضرورت اس لئے پڑی کہ اہل کتاب نے اپنی کتاب میں عجیب عجیب گندے الزامات ان مقدس حضرات پر لگا رکھے ہیں۔ قرآن ان سب سے ان حضرات کی تبری کرتا ہے۔ (آیت) ” نافلۃ “۔ کے معنی علاوہ، زیادہ اور عطیہ کے پوتے کے بھی آئے ہیں۔ الولد الولد (کشاف) وھو ولد الولد (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
آیت نمبر 68 تا 75
ترجمہ : کہنے لگے اسے یعنی ابراہیم کو جلا دو اور اس کو جلا کر اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو ان کی مدد کرنی ہی ہے چناچہ ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے بہت ساری لکڑیاں جمع کیں اور ان تمام لکڑیوں میں آگ جلا دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسیوں میں مضبوط باندھا اور ان کو ایک گوپھن میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا ہم نے آگ کو حکم دے کر کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی کی چیز بن جا، چناچہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا اور آگ کی حدت ختم ہو کر صرف اس کی روشنی باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے سلاماً کہنے کی وجہ…
Read the full tafseer →ووہبنا لہ اسحاق و یعقوب نافلۃ اور ہم نے اس کو عطا کیا اسحاق اور (اس پر) مزید یعقوب۔ بعض علماء کا قول
ہے کہ عافیۃٌ کی طرۃ نافلۃ بھی مصدر ہے اور گو لفظاً اس کا فعل پہلے مذکور نہیں مگر وہبنا (کا معنی بھی عطا کرنے کے ہیں اس لئے یہ وہبنا) کا مفعول مطلق ہے۔ مجاہد اور عطاء نے کہا نافلہ کا معنی ہے عطیہ۔ اسحاق اور یعقوب دونوں اللہ کے عطاکردہ تھے اس صورت میں نافلۃ دونوں سے حال ہوگا۔ حسن اور ضحاک نے کہا نافلہ کا معنی ہے فضل (مہربانی) یعنی ہم نے اپنی مہربانی سے ابراہیم ( علیہ السلام) کو (بیٹا) اسحاق اور (پوتا) یعقوب عطا کیا۔ اس صورت میں نافلہ علت ہبہ (مفعول لہ) ہوگا۔
حضرت ابن عباس ؓ ‘ حضرت ابی بن کعب ‘…
Read the full tafseer →(72) اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو اسحاق بیٹا اور یعقوب پوتا عطا کیا اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسحاق ؑ حضرت یعقوب ؑ اور ان کی اولاد میں نبوت عطا کی۔
Read the full tafseer →وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ ۭ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً :”نَافِلَةً“ کا معنی زائد عطیہ ہے۔ اس آیت کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اسے اسحاق عطا کیا اور زائد انعام کے طور پر یعقوب (پوتا) عطا کیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب دونوں زائد انعام کے طور پر عطا کیے۔ مفسر ابن عاشور ؓ نے اس کی بہت عمدہ توجیہ فرمائی ہے کہ سورة صافات (100) میں مذکور ہے کہ جب ابراہیم ؑ ہجرت کے لیے روانہ ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی : (رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ)”اے میرے رب ! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو۔“ فرمایا : (فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ) [ الصافات : 101 ] ”تو ہم نے اسے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
1:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا اے مجاہد کیا تو جانتا ہے اس شخص کو جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے ساتھ جلانے کا مشورہ دیا میں نے کہا نہیں پھر انہوں نے فرمایا فارس کے دیہاتیوں میں سے ایک آدمی تھا یعنی اکراد۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جمع کی گئی (لکڑی) اور ان کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے فرشتے نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے کب حکم ہوگا کہ میں بارش برساوں اور اللہ کا حکم بہت جلدی پہنچنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کونی برداوسلما “ تو زمین میں کوئی آگ…
Read the full tafseer →[ وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا ] [ لَهٗٓ: ان (علیہ السلام) کو ] [ اِسْحٰقَ : اسحاق ] [ وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) (بھی)] [ نَافِلَةً : اضافی ہوتے ہوئے ] [ وَكُلًّا : اور سب کو ] [ جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [ صٰلِحِيْنَ : نیک ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
حضرت ابراہیم اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا مبارک سر زمین کی طرف ہجرت کرنا
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کے بیٹے تھے۔ ان آیات میں ان دونوں کی ہجرت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ دونوں اپنے علاقہ کو چھوڑ کر شام کے علاقہ فلسطین میں چلے گئے تھے۔ بتوں کی سر زمین کو اور بتوں کے پوجنے والوں کو چھوڑ کر اس سر زمین کے لیے ہجرت کی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے برکات رکھی ہیں۔ اور یہ برکات دنیا جہان والوں کے لیے ہیں، ان کے اس ہجرت کرنے کو نجات سے تعبیر فرمایا کیونکہ کافروں سے چھوٹ کر بابرکت سر زمین میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو اسحاق نامی بیٹا عطا کیا اور پھر اس بیٹے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
51:۔ ” وَ نَجَّیْنَاہُ وَ لُوطًا الخ “ ہم نے ابراہیم کو آگ سے بچایا۔ وہ خود نہیں بچ سکتے تھے۔ ” وَ وَھَبْنَا لَهٗ اِسْحٰق الخ “ اور ہم نے ان کو نعمت اولاد سے نوازا۔ اولاد عطا کرنا بھی ہمارا کم ہی کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّةً “ ضمیر منصوب سے حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) مراد ہیں یعنی ہم نے ان پیغمبروں کو امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہر وقت نیکی کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ ” قُلْنَا یٰنَارُ کُوْنِیْ الخ “ آگ کو ٹھنڈا ہونے کا ہم ہی نے حکم دیا۔ ” فَجَعَلْنٰھُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی…
Read the full tafseer →وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ 0ۭ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَۃً 0ۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ 72
وهب
الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی:
وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ
[إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19]
( و ہ ب ) وھبتہ
ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ) بخشے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
1 ؎ یعنی ملک شام میں لے آئے جہاں باعتبار پیداوار کے بڑی برکت ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اصلی وطن ملک عراق تھا۔
Read the full tafseer →وَوَھَبْنَالَـہٗٓ اِسْحٰقَ ط وَیَعْقُوْبَ نَافِلَۃً ط وَکُلاًّ جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ ۔ (الانبیاء : 72)
(اور ہم نے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق عطا کیے اور مزید براں یعقوب دیئے اور ہم نے سب کو نیک بخت کیا۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر افضال و عنایات کی بارش
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے وطن سے ہجرت فرمائی اور توحید کی جس دعوت کو ان کے اپنے برداشت نہ کرپائے اسے لے کر کنعان میں پہنچے اور پھر نہ جانے کس کس ملک اور کس کس شہر میں اس امانت کا حق ادا کرنے کے لیے مسلسل سفر کی صعوبتیں اٹھاتے اور لوگوں کی مخالفتیں برداشت کرتے رہے اور اس سفر میں حضرت لوط و کے سوا کوئی آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
فہم القرآن
ربط کلام : سفر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنا ملک، گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ یہ کمی محسوس ہوئی۔ کہ اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے۔ جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ ساتھ میرے بعد تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔
تمام مورخین نے تحریر فرمایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر سو سال اور آپ (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ ( علیہ السلام) کی عمر نوے سال تھی۔…
Read the full tafseer →72: وَوَھَبْناَ لَہٗ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ نَافِلَۃً (ہم نے اس کو عطاء کیا اسحاق اور مزید یعقوب) بعض نے کہا نافلۃ مصدر ہے۔ جیسا کہ العافیۃ۔ اگرچہ فعل لفظوں میں موجود نہیں۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی وو ھبنالہ ھبۃ ہم نے دیا دینا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ پوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بیٹامانگا اللہ تعالیٰ نے بیٹا اور یعقوب زائد عنایت فرمایا۔ جو محض فضل تھا۔
نحو : نافلۃ یہ یعقوب سے حال ہے۔ وَکُلًّا (تمام) یعنی ابراہیم، اسحاق، یعقوب۔
نحو : یہ جَعَلْنَا کا مفعول اول ہے اور دوسر امفعول صالحین ہے۔ صٰلِحِیْنَ (نیک تھے) دین اور نبوت میں۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
72۔ ووھبنالہ اسحاق و یعقوب نافلہ۔ مجاہد اور عطا نے کہا ہے کہ نافلہ کا معنی ہے عطیہ، اسحاق اور یعقوب دونوں اللہ کے عطا کردہ ہیں اس صورت میں نافلہ دونوں سے حال ہوگا۔ حسن اور ضحاک نے کہا کہ ، نافلہ کا معنی ہے کہ الصالحین، اسحاق (علیہ السلام) کے بعد حضرت یعقوب کو زیادہ ذکر کیا، یہ بیٹے کے بیٹے ہیں نافلہ بھی زیادتی کو کہتے ہیں۔ وکلا جعلنا صالحین، اس سے مراد ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
71۔ 75:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ کے صدمہ سے بچایا ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ سے بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں پہنچا دیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فقط بیٹے کی دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو بیٹا بھی دیا اور پوتا بھی دیا اور ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگوں کو نیک راہ کی سمجھ آگئی۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
95 انبیائے کرام کو بھی اولاد اللہ ہی دیتا ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اولاد دینا اللہ تعالیٰ ہی کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ حضرات انبیاء ورسل بھی اسی کے محتاج ہیں۔ یہاں پر ان انعامات کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے جن سے حضرت ابراہیم کو ہجرت کے بعد نوازا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے ابراہیم کو اسحاق جیسے عظیم الشان بیٹے اور یعقوب جیسے عظیم الشان پوتے سے نوازا " کہ بیٹے پوتے بخشنا اور اولاد کی نعمت سے نوازنا بھی ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے۔ اور حضرت ابراہیم جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ سو کتنے گمراہ اور کیسے بہکے بھٹکے ہیں وہ لوگ جو اولاد کی نعمت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یعنی جو انہوں نے مانگا نہیں تھا لیکن ہم نے اپنی طرف سے مزید انعام کے طور پر دیا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : دعا تھی بیٹے ہی کی انعام میں دیا پوتا۔ (موضح) مگر اقرب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ” نافلۃ “ کا تعلق دونوں سے ہو (کبیر)
7 ۔ یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) ، لوط ( علیہ السلام) ، اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) سب کو اپنا مطیع فرمانبردار بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
(21:72) نافلۃ۔ ابوحبان کے نزدیک یہ مصدر ہے جیسے عافیۃ وعاقبۃ اور وھبنا کے بعد بطور مصدر کے آنے کی وجہ سے منصوب ہے جیسے کہتے ہیں قعدت جلوسا۔ اور بمعنی عطاء فضل ہے یعنی ہم نے بطور عطاو فضل کے اس کو اسحاق اور یعقوب دئیے۔ یا نافلۃ بمعنی زیادۃ وفضلا ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے لئے دعا کی تھی ہم نے اسے اسحاق بیٹا بھی دیا اور مزید برآں یعقوب بھی عطا کیا بغیر سوال کے۔ اس صورت میں نافلۃ حال ہے یعقوب سے اور بدین وجہ منصوب ہے۔ نفل عبادت کو بھی نفل اسی لئے کہتے ہیں کہ فرائج اور واجبات سے زائد اور ان کے علاوہ ہے۔
کلا۔ سب کو۔ ہر ایک کو۔ کل کو۔ جعلنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ۔ کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75
نجینا ہم نے نجات دی۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ نافلۃ عطیہ، ضرورت سے زائد۔ ائمۃ (امام) رہنما، پیشوا۔ فعل الخیرات بھلائیوں کے کام، نیک کام۔ حکم حکمت، نبوت۔ الخبائت گندگیاں، بدکاریاں۔
تشریح :- آیت نمبر 71 تا 75
گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مشرکین نے آگ کے الاؤ میں جھونک دیا تھا اور اتنی زبردست آگ میں پھینکنے کے بعد وہ اس سے مطمئن تھے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے گل و گلزار بنا دیا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ حضرت ابراہیم اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں (کہ جہاں کثرت سے انبیاء (علیہ السلام) ہوئے) پہنچادیا اور حضرت ابراہیم نے فقط بیٹے کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگ کو نیک راہ کی سمجھ آگئی اور نماز زکوۃ اور ہر طرح کے نیک کاموں کے بجالانے کا حکم دیا اور اپنی ذات سے بھی اس حکم کی انہوں نے پوری تعمیل کی جب حضرت ابراہیم نے ہجرت کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
[37] مراد ہے سرزمین فلسطین جو دینی اور دنیوی برکتوں سے مالامال ہے۔ دینی برکتیں یہ کہ اس سرزمین میں کثرت سے انبیاء مبعوث ہوئے اور دنیوی برکتیں اس ملک کی صحت بخش آب و ہوا اور سرسبزی و شادابی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
ابراہیم (علیہ السلام) کا کامل ایمان :
(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب بتوں کی تذلیل وتوہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا ، توبت پرستوں کے حلقہ میں کھلبلی مچ گئی ، انہوں نے بالاتفاق کہا ، بتوں اور دیوتاؤں کے خلاف اس قسم کا جہاد ناقابل برداشت ہے یہ بہت بڑا گناہ ہے ، اس کی سزا سوائے اس کے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ آگ میں جھونک دیا جائے ، اور کچھ نہیں ، چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں ، اس کو آگ میں ڈال دو ، الاؤ میں جھونک دو ، اور پھونک دو اگر اللہ کی مشیت کچھ اور تھی ادھر یہ انتظام ہو رہے تھے ، کہ توحید کی حمایت کی پاداش میں اللہ کے ایک بندے کو زندگی سے محروم کردیا جائے دوسری جانب…
Read the full tafseer →(72) اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحٰق (علیہ السلام) عطا کیا اور مزید برآں یعقوب (علیہ السلام) نامی پوتا بھی دیا اور ہم نے ان سب کو نکوکار بنایا۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) نام بیٹا اور یعقوب (علیہ السلام) نامی نبی رہ یعنی پوتا عطا فرمایا اور ان کو نیک کیا یعنی سب کو پیغمبر بنایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی زمین شام جس میں آسودگی خوب ہے۔
دعا تھی بیٹے ہی کی انعا میں دیا پوتا۔ 12۔ نافلہ کے معنی غنیمت عطیہ۔ جو چیز واجب نہ ہو اور لڑکے کا لڑکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
ف 4۔ اعلی درجہ کی نیکی کا مصداق عصمت ہے جو بشر میں خواص نبوت سے ہے، پس مراد یہ ہے کہ ان سب کو نبی بنایا۔
Read the full tafseer →ہجرت کے بعد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اولاد اور اولاد در اولاد عطا کی :
72۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب عراق سے ہجرت کر کے نکلے تو اس وقت آپ کی اہلیہ سیدہ سارہ بھی آپ کے ساتھ تھیں اور اس ہجرت کے راستہ سے سیدہ ہاجرہ بھی آپ کو بادشاہ مصر نے اپنی بیٹی کی خدمت کے لئے آپ کے ساتھ کردیں جس سے آپ نے نکاح کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) کی بشارت سنائی اور اس بشارت کے بعد موعود بیٹا پیدا ہوا لیکن ابھی تک سیدہ سارہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی ۔ زیر نظر آیت میں جس بیٹے کی خوشخبری سنائی گئی یہ بیٹا سارہ ہی کے بطن اطہر سے پیدا ہونے کی خبر دی گئی تھی ، الحمد للہ کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً (And We blessed him with Ishaq and Ya` qub as gift - 21:72) That is, Allah Ta` la had bestowed upon him the son Ishaq (علیہ السلام) as per his supplication and in addition to that a grandson Ya` qub (علیہ السلام) as a gift. This is why he is referred to as نَافِلَةً nafilah which originally means 'extra'.
Read the full tafseer →65. That is, We made his son a Prophet and his grandson too.
Read the full tafseer →