Explained with ayahs 71–75
ہجرت خلیل ؑ
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 63
بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم کا جو تذکرہ آیا ہے اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ انکی قوم میں سے صرف ایک حضرت لوط ہی ان پر ایمان لائے تھے (ملاحظہ ہو آیت 26)۔
سورة الْاَنْبِیَآء 64
یعنی شام و فلسطین کی سر زمین۔ اس کی برکتیں مادی بھی ہیں اور روحانی بھی۔ مادی حیثیت سے وہ دنیا کے زرخیز ترین علاقوں میں سے ہے۔ اور روحانی حیثیت سے وہ 2 ہزار برس تک انبیاء (علیہم السلام) کا مہبط رہی ہے۔ دنیا کے کسی دوسرے خطے میں اتنی کثرت سے انبیاء مبعوث نہیں ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →وَنَجَّيْنٰهُ وَلُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْنَ ، یعنی حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھ لوط (علیہما السلام) کو ہم نے اس زمین سے جس پر نمرود کا غلبہ تھا (یعنی عراق کی زمین) نجات دے کر ایک ایسی زمین میں پہنچا دیا جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی ہے مراد اس سے ملک شام کی زمین ہے کہ وہ اپنی ظاہری اور باطنی حیثیت سے بڑی برکتوں کا مجموعہ ہے باطنی برکت تو یہ ہے کہ یہ زمین مخزن انبیاء ہے بیشتر انبیاء (علیہم السلام) اسی زمین میں پیدا ہوئے اور ظاہری برکات آب و ہوا کا اعتدال، نہروں اور چشموں کی فراوانی پھل پھول اور ہر طرح کی نباتات کا غیر معمول نشو و نما وغیرہ…
Read the full tafseer →الارض التی برکنا افیھا للعلمین سے زرخیز و شادات علاقہ مراد یہ۔ یہ اشارہ ارض کنعان کی طرف ہے۔ یعنی جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت ابراہیم کے لئے اپنے وطن میں ٹکنا ناممکن ہوگیا تو فرمایا کہ ہم نے اس کو اور لوط کو ان کی قوموں کے شر سے نجات دی اور کنعان کے علاقے میں ان کو ٹھکانا دیا۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتجیے تھے۔ اگرچہ ان دونوں حضرات کا دائرہ دعوت الگ الگ تھا لیکن اس ہجرت میں حضرت لوط بھی ان کے ساتھ تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس ہجرت تک دونوں نے اپنی قوم ہی کو دعوت دی لیکن ہجرت کے بعد مختلف علاقوں کو اپنا مرکز بنایا یہ پتہ نہیں چلتا کہ ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم کی قوم سے کیا معاملہ ہوا۔
Read the full tafseer →71۔ 1 اس سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک ملک شام ہے۔ جسے شادابی اور پھلوں اور نہروں کی کثرت نیز انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن ہونے کے لحاظ سے بابرکت کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
29: لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، اور سورة عنکبوت آیت 29 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم میں سے تنہا وہی ان پر ایمان لائے تھے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں آگ میں ڈالنے کی سازش ناکام ہوگئی تو نمرود نے مرعوب ہو کر ان سے تعرض نہیں کیا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے بھتیجے کو لے کر عراق سے شام کے علاقے میں تشریف لے گئے۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر شام اور فلسطین کے علاقے کو برکتوں والا علاقہ قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →ونجینہ۔۔۔۔۔۔۔ فیھا للعلمین (17) ” ‘۔
یہ شام کی سرزمین ہے جس کی طرف آپ اور آپ کے بھتیجے لوط نے ہجرت کی۔ چناچہ یہ سرزمین ایک عرصے تک وحی کے نزول کا علاقہ بنی رہی۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کے کئی رسول اس علاقے میں مبعوث ہوتے رہے۔ اس علاقے میں ارض مقدسہ اور مسلمانوں کا دو سرا حرم ہے۔ اور یہی علاقہ ہے جو سرسبز و شاداب علاقہ ہے اور اس میں بڑی برکات ہیں یعنی اس علاقے میں روحانی اور مادی برکات نسلاً بعد نسل موجودر ہیں۔
Read the full tafseer →9 یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مع حضرت لوط (علیہ السلام) کے صحیح سالم ملک شام میں لے گئے جہاں بہت سی ظاہری و باطنی برکات ودیعت کی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 71 وَنَجَّیْنٰہُ وَلُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا لِلْعٰلَمِیْنَ ”
حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ علیہ السلام آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ پھر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے شام کی طرف ہجرت کی تو حضرت لوط علیہ السلام بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ آپ علیہ السلام لوگ عراق کے مشرقی علاقے کے راستے سے ہوتے ہوئے شام پہنچے۔ درمیان میں چونکہ شرق اردن وغیرہ کا علاقہ ناقابل عبور صحرا پر مشتمل تھا اس لیے شام کے شمالی علاقے سے ہوتے ہوئے اور پھر نیچے کی طرف سفر کرتے ہوئے فلسطین پہنچے اور وہاں مستقل طور پر سکونت اختیار کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
60 یہ واقعہ دیکھ کر بھی حضرت لوط کے سوا کوئی شخص بھی حضرت ابراہیم پر ایمان نہ لایا۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھائی ہماران کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ جب قوم سے دشمنی چھن گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو عراق سے شام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ شام کا علاقہ بابرکت اس لئے ہے کہ دنیوی لحاظ سے یہ بہت زرخیز اور شاداب خطہ زمین ہے۔ اور روحانی لحاظ سے اس لئے کہ یہی خطہ دو ہزار سال تک انبیاء کا مسکن و مدفن رہا ہے۔
Read the full tafseer →88۔ مراد ہے سرزمین شام جو دینی ودنیوی برکتوں اور رحمتوں کی جامع ہے۔ دینی برکتیں یہ کہ حضرات انبیاء کثرت سے اس سرزمین پر آئے اور دنیا کے پھیلے ہوئے شرک کے مقابلہ میں یہاں توحید کی اشاعت خوب ہوئی۔ اور دنیوی برکتوں سے اس ملک کی خوشگوار وصحت بخش آب وہوا اور اس سرزمین کی سرسبزی وشادابی ہے۔ توریت میں بھی شام کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ (آیت) ” ولوطا “۔ حضرت لوط (علیہ السلام) آپ کے بھتیجے تھے، اور آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ فریق مخالف کے ملک کو چھوڑ کر ہجرت کرجانا تو کل کے منافی نہیں، بلکہ سنت انبیاء کے موافق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
آیت نمبر 68 تا 75
ترجمہ : کہنے لگے اسے یعنی ابراہیم کو جلا دو اور اس کو جلا کر اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو ان کی مدد کرنی ہی ہے چناچہ ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے بہت ساری لکڑیاں جمع کیں اور ان تمام لکڑیوں میں آگ جلا دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسیوں میں مضبوط باندھا اور ان کو ایک گوپھن میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا ہم نے آگ کو حکم دے کر کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی کی چیز بن جا، چناچہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا اور آگ کی حدت ختم ہو کر صرف اس کی روشنی باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے سلاماً کہنے کی وجہ…
Read the full tafseer →ونجینہ ولوطا الی الارض التی برکنا فیہا للعلمین۔ اور ہم ابراہیم ( علیہ السلام) کو اور لوط ( علیہ السلام) کو بچا کر اس زمین
کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا جہان والوں کے لئے خیر و برکت رکھی تھی۔ برکت سے مراد ہے سرسبزی ‘ باغات ‘ درختوں اور پھلوں کی کثرت۔ منجملہ برکات کے یہ بھی ہے کہ بکثرت انبیاء کی بعثت اس سرزمین پر ہوئی۔ حضرت ابی بن کعب نے ارض مبارکہ کہنے کی یہ وجہ بیان کی کہ وہاں شیریں پانی کی کثرت ہے اور صخرۂ بیت المقدس کے نیچے سے ایک چشمہ جاری ہے۔
بغوی نے بروایت قتادہ بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت کعب ؓ سے فرمایا تم مدینہ میں منتقل کیوں نہیں ہوجاتے وہ تو رسول اللہ ﷺ کا مقام ہجرت ہے اور روضۂ…
Read the full tafseer →(71) اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو آگ سے اور لوط ؑ کو خسف سے بچا کر ان دونوں کو سرزمین مقدس فلسطین اور اردن کی طرف بھیج دیا جس میں ہم نے دنیا جہان والوں کے لیے پانی اور پھلوں کی بھی برکت رکھی تھی۔
Read the full tafseer →وَنَجَّيْنٰهُ وَلُوْطًا۔۔ : اس واقعہ کو دیکھ کر لوط ؑ ابراہیم ؑ پر ایمان لے آئے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (26) اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھا تھا اسی طرح ابراہیم اور لوط ؑ دونوں کو ان ظالموں کے پنجے سے بحفاظت نکال کر شام کی طرف ہجرت کرنے کی آسانی عطا فرمائی۔ یہ بھی عظیم احسان تھا، کیونکہ وہاں سے ان کا نکلنا آسان نہ تھا۔ شام کی طرف ہجرت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم ؑ عراق کے رہنے والے تھے۔ برکت والی زمین کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (1) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
1:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا اے مجاہد کیا تو جانتا ہے اس شخص کو جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے ساتھ جلانے کا مشورہ دیا میں نے کہا نہیں پھر انہوں نے فرمایا فارس کے دیہاتیوں میں سے ایک آدمی تھا یعنی اکراد۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جمع کی گئی (لکڑی) اور ان کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے فرشتے نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے کب حکم ہوگا کہ میں بارش برساوں اور اللہ کا حکم بہت جلدی پہنچنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کونی برداوسلما “ تو زمین میں کوئی آگ…
Read the full tafseer →[ وَنَجَّيْنٰهُ : اور ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] [ وَلُوْطًا : اور لوط (علیہ السلام) کو ] [ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ : اس زمین کی طرف ] [ بٰرَكْنَا : ہم نے برکت دی ] [ فِيْهَا : جس میں ] [ لِلْعٰلَمِيْنَ : جہانوں کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
حضرت ابراہیم اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا مبارک سر زمین کی طرف ہجرت کرنا
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کے بیٹے تھے۔ ان آیات میں ان دونوں کی ہجرت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ دونوں اپنے علاقہ کو چھوڑ کر شام کے علاقہ فلسطین میں چلے گئے تھے۔ بتوں کی سر زمین کو اور بتوں کے پوجنے والوں کو چھوڑ کر اس سر زمین کے لیے ہجرت کی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے برکات رکھی ہیں۔ اور یہ برکات دنیا جہان والوں کے لیے ہیں، ان کے اس ہجرت کرنے کو نجات سے تعبیر فرمایا کیونکہ کافروں سے چھوٹ کر بابرکت سر زمین میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو اسحاق نامی بیٹا عطا کیا اور پھر اس بیٹے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
51:۔ ” وَ نَجَّیْنَاہُ وَ لُوطًا الخ “ ہم نے ابراہیم کو آگ سے بچایا۔ وہ خود نہیں بچ سکتے تھے۔ ” وَ وَھَبْنَا لَهٗ اِسْحٰق الخ “ اور ہم نے ان کو نعمت اولاد سے نوازا۔ اولاد عطا کرنا بھی ہمارا کم ہی کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّةً “ ضمیر منصوب سے حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) مراد ہیں یعنی ہم نے ان پیغمبروں کو امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہر وقت نیکی کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ ” قُلْنَا یٰنَارُ کُوْنِیْ الخ “ آگ کو ٹھنڈا ہونے کا ہم ہی نے حکم دیا۔ ” فَجَعَلْنٰھُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی…
Read the full tafseer →وَنَجَّيْنٰہُ وَلُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا لِلْعٰلَمِيْنَ 71
نجو
أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53]
( ن ج و )
اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔
وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔
لوط
لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
1 ؎ یعنی ملک شام میں لے آئے جہاں باعتبار پیداوار کے بڑی برکت ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اصلی وطن ملک عراق تھا۔
Read the full tafseer →وَنَجَّیْنٰـہُ وَلُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰـرَکْنٰافِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 71)
(اور ہم نے حضرت ابراہیم کو اور حضرت لوط کو نجات دی اس سر زمین کی طرف جسے ہم نے بابرکت بنایا تھا تمام جہان والوں کے لیے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت
بت کدے کے پجاری، پروہت اور اربابِ اقتدار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے میں ناکامی سے کوئی سبق سیکھنے کی بجائے زخمی سانپ کی طرح پہلے سے بھی زیادہ زہر اگلنے لگے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ کفر کی اتنی بڑی ناکامی اور حق کی اتنی بڑی فتح اثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ لوگ جبر و استبداد اور صدیوں کی عصبیت کی وجہ سے بولنے کی ہمت تو نہیں کریں گے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے سلامت نکل کر ہجرت کا فیصلہ کرتے ہیں۔
(فَأَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَاہُمُ الْأَسْفَلِیْنَ ) [ الصّٰفٰت : 98]
” وہ چاہتے تھے کہ ابرا ہیم (علیہ السلام) کو مار دیں لیکن ہم نے ان کو بری طرح ذلیل کردیا۔ “
(وَأَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَاہُمُ الْأَخْسَرِیْنَ ) [ الانبیاء : 70]
” انہوں نے ابرا ہیم (علیہ السلام) کو ما رناچا ہا لیکن ہم نے ان کو ناکام کردیا۔ “
اہل ایمان کے لیے اس واقعہ میں بہت سے اسباق عبرت ہیں۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے باپ اور دو سرے لوگوں نے نیچا دکھا نے کی کوشش کی لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کامیاب اور…
Read the full tafseer →71: وَنَجَّیْنٰـہٗ (اور ہم نے اس کو نجات دی) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو وَلُوْطًا ( اور لوط کو) یہ ان کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے ہاران بھی عراق میں رہتے تھے۔ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا لِلْعٰلِمِیْنَ (اور ان کو اس سرزمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا جہاں والوں کیلئے خیر و برکت رکھی تھی) اس سے مراد سرزمین شام اور اس سرزمین کی برکات نمبر 1۔ انبیاء (علیہم السلام) کی کثرت جن کے دینی آثار دنیا میں پھیلے سرسبز اور زرخیز سرزمین ہے جس میں غنی و فقیر کا گزر اوقات خوب ہے۔ دوسرا قول زمین میں جو بھی میٹھا پانی ہے۔ اس کی اصل صخرہ بیت المقدس سے پھوٹتی ہے۔
روایت تفسیر یہ میں ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →71۔ ونجیناہ ولوطا، ، حضرت ابراہیم کو نمرود سے اور ان کی قوم کو عراق کی سرزمین سے نجات دی۔ الی الارض التی بارکنافیھا للعالمین، اس سے شام مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت عطا فرمائی۔ سرسبزی، کثرت اشجار، اور کثرت پھل اور نہروں کے ساتھ اور ان برکتوں میں سے کہ ان کی نسل سے بہت سے انبیاء کو مبعوث فرمایا ، حضرت ابی بن کعب نے ارض مبارکہ کہنے کی یہ وجہ بیان کی کہ وہاں شیریں پانی کی کثرت ہے اور صخرہ بیت المقدس کے نیچے سے ایک چشمہ جاری ہے۔
ارض شام کی فضیلت۔
بروایت قتادہ بیان کیا کہ حضرت عمر نے حضرت کعب سے فرمایا تم مدینہ میں منتقل کیوں نہیں ہوجاتے وہ تو رسول اللہ کا مقام ہجرت ہے اور روضہ مبارک بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
71۔ 75:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ کے صدمہ سے بچایا ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ سے بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں پہنچا دیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فقط بیٹے کی دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو بیٹا بھی دیا اور پوتا بھی دیا اور ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگوں کو نیک راہ کی سمجھ آگئی۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →93 حضرات انبیائے کرام بھی اللہ ہی کے محتاج : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام کے حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ اور وہ سب بھی اپنی بےمثال عظمت شان کے باوجود اسی وحدہ لا شریک کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہوتے ہیں ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے نجات دی ان کو بھی اور لوط کو بھی " کہ نجات دینا اور مشکلات و مصائب سے بچا نکالنا ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے کہ حاجت روا اور مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ اولیائے و صالحین اور انبیاء ومرسلین تک سب کے سب ہمارے ہی محتاج ہیں۔ اور جب ابو الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ ۔ (علیہ السلام) ۔ بھی مصائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی شام و فلسطین کی سرزمین جو روحانی اور مادی دونوں قسم کی برکتون سے مالا مال ہے۔ ( سورة اسرار :1) معلوم ہوا کہ قوم سے مقابلہ اور پھر آگ میں ڈالے جانے کا واقع ارض بابل میں پیش آیا تھا۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(21:71) نجیناہ (ہم نے اس کو نجات دی) میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ابراہیم ہے۔ برکنا۔ ہم نے برکت دی۔ ہم نے بابرکت بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75
نجینا ہم نے نجات دی۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ نافلۃ عطیہ، ضرورت سے زائد۔ ائمۃ (امام) رہنما، پیشوا۔ فعل الخیرات بھلائیوں کے کام، نیک کام۔ حکم حکمت، نبوت۔ الخبائت گندگیاں، بدکاریاں۔
تشریح :- آیت نمبر 71 تا 75
گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مشرکین نے آگ کے الاؤ میں جھونک دیا تھا اور اتنی زبردست آگ میں پھینکنے کے بعد وہ اس سے مطمئن تھے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے گل و گلزار بنا دیا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ حضرت ابراہیم اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں (کہ جہاں کثرت سے انبیاء (علیہ السلام) ہوئے) پہنچادیا اور حضرت ابراہیم نے فقط بیٹے کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگ کو نیک راہ کی سمجھ آگئی اور نماز زکوۃ اور ہر طرح کے نیک کاموں کے بجالانے کا حکم دیا اور اپنی ذات سے بھی اس حکم کی انہوں نے پوری تعمیل کی جب حضرت ابراہیم نے ہجرت کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
[37] مراد ہے سرزمین فلسطین جو دینی اور دنیوی برکتوں سے مالامال ہے۔ دینی برکتیں یہ کہ اس سرزمین میں کثرت سے انبیاء مبعوث ہوئے اور دنیوی برکتیں اس ملک کی صحت بخش آب و ہوا اور سرسبزی و شادابی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
ابراہیم (علیہ السلام) کا کامل ایمان :
(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب بتوں کی تذلیل وتوہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا ، توبت پرستوں کے حلقہ میں کھلبلی مچ گئی ، انہوں نے بالاتفاق کہا ، بتوں اور دیوتاؤں کے خلاف اس قسم کا جہاد ناقابل برداشت ہے یہ بہت بڑا گناہ ہے ، اس کی سزا سوائے اس کے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ آگ میں جھونک دیا جائے ، اور کچھ نہیں ، چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں ، اس کو آگ میں ڈال دو ، الاؤ میں جھونک دو ، اور پھونک دو اگر اللہ کی مشیت کچھ اور تھی ادھر یہ انتظام ہو رہے تھے ، کہ توحید کی حمایت کی پاداش میں اللہ کے ایک بندے کو زندگی سے محروم کردیا جائے دوسری جانب…
Read the full tafseer →(71) اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کو ایک ایسی سرزمین کی طرف بچا کرلے گئے جس میں ہم نے اقوام (علیہ السلام) عالم کیلئے ہر قسم کی برکتیں رکھی ہیں یعنی دشمنوں کی ایذا رسانی سے بچاکر اور لوط (علیہ السلام) جو ان کی تصدیق کرنے والے اور ان کے بھتیجے تھے ان کو بھی ان سے بچا کر ملک عراق سے ملک شام پہنچا دیا جہاں ظاہری اور باطنی برکتیں رکھی ہیں اور مختلف اقوام عالم ان برکتوں سے بہرہ مند ہیں یعنی پھلوں کی کثرت اور بےثمار انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا مدفن اور ان کی شرائع کا فیض جس سے اقوامِ عالم کو روشنی اور روحانیت نصیب ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ دنیوی بھی کہ فواکہ وجوب بکثرت پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی اس سے منتفع ہوسکتے ہین، اور دینی بھی کہ بکثرت وہاں انبیاء (علیہم السلام) ہوئے جن کے شرائع کی برکت دور دور عالم میں پھیلی، یعنی انہوں نے ملک شام کی طرف باذن الہی ہجرت فرمائی۔
Read the full tafseer →ہم نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) دونوں کو برکت دیئے گئے علاقہ کی طرف نکال دیا :
71۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں نے جو طوفان بدتمیزی اٹھایا تھا اور جو خفیہ چال چلی تھی اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو جب اس سے مکمل طور پر ان کو محفوظ رکھا تو اس کے لئے طریقہ وہی اختیار فرمایا جو دوسرے سارے نبیوں اور رسولوں کے لئے سنت اللہ جاری وساری رہی کہ آپ کو اس علاقہ سے ہجرت کا حکم دے دیا اور اس طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کے ساتھ چلتے چلاتے شام و فلسطین کی زمین کی طرف نکل آئے اور اس زمین کو اللہ نے دینی…
Read the full tafseer →وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ
And We rescued him and Lut towards the land We blessed for all the worlds. - 71
That is, We delivered Sayyidna Ibrahim and Sayyidna Lut (علیہ السلام) from the land ('Iraq) where Namrud ruled and sent them to the peaceful land of Syria where our bounties were in abundance, not only for the locals but for the people of the world. Syrian land abounds both inwards and outwards bounties of Allah Ta ala. Inward bounties in the sense that many prophets were born in this land, and outward bounty in the sense that it…
Read the full tafseer →63. According to the Bible, Prophet Abraham (peace be upon him) had two brothers, Nahor and Haran; Prophet Lot was the son of Haran (Gen. 11:26), and he was the only person to believe in Prophet Abraham (peace be upon him). (Surah Al-Ankaboot, Ayat 26).
64. The blessed land refers to Syria and Palestine, which contains both material and spiritual blessings. It is one of the most fertile regions in the world. Moreover, it was blessed for two thousand years with more Prophets than any other region of the world.
Read the full tafseer →