Explained with ayahs 68–70
آگ گلستان بن گئی
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آجاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آکر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کرلیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کردیں یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفا ہوجائے تو ابراہیم ؑ کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا لکڑیوں سے پر کیا اور انبار کھڑا کرکے اس میں آگ لگائی روئے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
سورة الْاَنْبِیَآء 62
الفاظ صاف بتا رہے ہیں، اور سیاق وسباق بھی اس مفہوم کی تائید کر رہا ہے کہ انہوں نے واقعی اپنے اس فیصلے پر عمل کیا، اور جب آگ کا الاؤ تیار کر کے انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو اس میں پھینکا تب اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم کے لیے ٹھنڈی ہوجائے اور بےضرر بن کر رہ جائے۔ پس صریح طور پر یہ بھی ان معجزات میں سے ایک ہے جو قرآن میں بیان کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان معجزات کی اس لیے تاویلیں کرتا ہے کہ اس کے نزدیک خدا کے لیے بھی نظام عالم کے معمول (Routine) سے ہٹ کر کوئی غیر معمولی کام کرنا ممکن نہیں ہے، تو آخر وہ خدا کو ماننے ہی کی زحمت کیوں اٹھاتا ہے۔ اور اگر وہ اس طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
قُلْنَا يٰنَارُكُـوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ ، اوپر گزر چکا ہے کہ آگ کے حضرت ابراہیم ؑ پر برد وسلام ہونے کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ آگ آگ ہی نہ رہی ہو بلکہ ہوا میں تبدیل ہوگئی ہو مگر ظاہر یہ ہے کہ آگ اپنی حقیقت میں آگ ہی رہی اور حضرت ابراہیم ؑ کے آس پاس کے علاوہ دوسری چیزوں کو جلاتی رہی بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کو جن رسیوں میں باندھ کر آگ میں ڈالا گیا تھا ان رسیوں کو بھی آگ ہی نے جلا کر ختم کیا مگر حضرت ابراہیم ؑ کے بدن مبارک تک کوئی آنچ نہیں آئی (کما فی بعض الروایات)
تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اس آگ میں سات روز رہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر میں کبھی ایسی…
Read the full tafseer →پروہتوں کی سازش کی ناکامی اور حضرت ابراہیم کی ہجرت
حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں جالنے کے لئے پروہتوں نے ایک سازش کی جس کی طرف سورة صافات کی آیت 98 میں اشارہ ہے۔ انشاء اللہ ہم وہاں اس کی وضاحت کریں گے۔ پروہتوں کی یہ سازش ناکام ہوئی اور اس کے بعد حضرت ابراہیم نے اس علاقہ سے ہجرت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
68۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے جب یوں اپنی حجت تمام کردی اور ان کی ضلالت و حماقت کو ایسے طریقے سے ان پر واضح کردیا کہ وہ لاجواب ہوگئے۔ تو چونکہ وہ توفیق ہدایت سے محروم تھے اور کفر و شرک نے ان کے دلوں کو بےنور کردیا تھا۔ اس لئے بجائے اس کے کہ وہ شرک سے بعض آجاتے، الٹا ابراہیم ؑ کے خلاف سخت اقدام کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اپنے معبودوں کی دہائی دیتے ہوئے انھیں آگ میں جھونک دینے کی تیاری شروع کردی، چناچہ آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا اور اس میں حضرت ابراہیم ؑ کو کہا جاتا ہے کہ منجنیق (جس سے بڑے پتھر پھینکے جاتے ہیں) کے ذریعے سے پھینکا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے لئے ٹھنڈی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
28: اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ معجزہ دکھایا کہ آگ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کا سبب بن گئی۔ جو لوگ معجزات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، ان کا موقف در حقیقت اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ میں جلانے کی خاصیت اسی نے پیدا فرمائی ہے، اگر وہ اپنے ایک جلیل القدر پیغمبر کو دشمنوں کے ظلم سے بچانے کے لیے اس کی یہ خاصیت ختم کردے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟
Read the full tafseer →وارا دوا بہ کیدا فجعلنہم الاخسرین (07) ” ‘۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معاصر بادشاہ کا نام نمرود تھا۔ وہ عراق کے آرامیوں کا بادشاہ تھا۔ وہ اور اس کے سردار عذاب الہی سے ہلاک کردیئے گئے تھے۔ اس کی تفصیلات میں روایات کا اختلاف ہے اور ہمارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے ہم حقیقت کو پاسکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس سازش سے بچا لیا جو انہوں نے ان کے خلاف تیار کی تھی اور سازش کرنے والے خسارے میں رہے۔ ان کو کیا خسارہ ہوا اس کا ذکر یہاں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →8 یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہتے تھے، لیکن خود ناکامی، ذلت اور خسارہ میں پڑگئے حق کی صداقت برملا ظاہر ہوئی اور اللہ کا کلمہ بلند ہوا۔ قال فی البحر المحیط " قد اکثر الناس فی حکایتہ ماجریٰ لابراہیم علیہ السلام۔ والذی صح ہو ماذکرہ اللہ تعالیٰ من انہ (علیہ السلام) القی فی النار فجعلہا اللہ علیہ برداً وسلم اً "
Read the full tafseer →آیت 70 وَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا ”
ان الفاظ پر میں ایک طویل عرصے تک غور کرتارہا کہ اس سارے منصوبے میں ان کی ”چال“ آخر کون سی تھی مگر مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔ پھر یکایک ذہن اس خیال کی طرف منتقل ہوگیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وہ لوگ درحقیقت ڈرانا چاہتے تھے ‘ جلانا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو آپ علیہ السلام کے موقف سے ہٹانے کے لیے انتہائی خوفناک دھمکی دی تھی حَرِّقُوہُ کہ اسے جلا ڈالو ! ان کا خیال تھا کہ ابھی تو یہ بڑے بہادر بنے ہوئے ہیں ‘ بڑھ چڑھ کر باتیں کر رہے ہیں ‘ مگر جب انہیں آگ کے ہیبت ناک الاؤ کے سامنے لے جا کر کھڑا کیا جائے گا تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے ‘ اور آپ…
Read the full tafseer →59 یعنی مشرک تو اپنے معبودوں کی گستاخی کا اس صورت میں بدلہ لینے چاہتے تھے کہ ابراہیم کو اذیت دہ موت سے دوچار کرکے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردیں۔ لیکن آپ کا آگ کے درمیان رہ کر کئی دنوں کے بعد زندہ سلامت نکل آنا ساری قوم کے لئے ایک نیا چیلنج بن گیا اور انھیں معلوم ہوگیا کہ ابراہیم کو نقصان پہنچانا ان کے بس سے باہر ہے۔ اور یہ بات ان کے لئے اور بھی زیادہ دل شکنی کا باعث بن گئی۔
Read the full tafseer →87۔ (کہ ان کا مقصود یعنی ہلاکت ابراہیم (علیہ السلام) تو حاصل نہ ہوا۔ بلکہ الٹی حقانیت ابراہیم اور زیادہ روشن ہوگئی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
آیت نمبر 68 تا 75
ترجمہ : کہنے لگے اسے یعنی ابراہیم کو جلا دو اور اس کو جلا کر اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو ان کی مدد کرنی ہی ہے چناچہ ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے بہت ساری لکڑیاں جمع کیں اور ان تمام لکڑیوں میں آگ جلا دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسیوں میں مضبوط باندھا اور ان کو ایک گوپھن میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا ہم نے آگ کو حکم دے کر کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی کی چیز بن جا، چناچہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا اور آگ کی حدت ختم ہو کر صرف اس کی روشنی باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے سلاماً کہنے کی وجہ…
Read the full tafseer →وارادوا بہ کیدا فجعلنہم الاخسرین۔ اور ان لوگوں نے ابراہیم ( علیہ السلام) کے ساتھ برائی کرنی چاہی تھی سو ہم نے
انہی لوگوں کو ناکام کردیا۔
فَجَعَلْنٰہُمْ الْاَخْسَرِیْنَکی تشریح میں بعض لوگوں نے کہا کہ قوم نمرود کی مراد حاصل نہیں ہوئی چیزوں کے نرخ گراں ہوگئے اور مہنگائی بڑھ گئی۔ بعض نے کہا اللہ نے مچھروں کی فوج بھیج دی جس نے نمرود کا گوشت کھالیا اور ایک مچھر اس کے دماغ میں گھس گیا جس کی وجہ سے نمرود ہلاک ہوگیا محمد بن اسحاق کا بیان ہے اللہ نے جب ابراہیم کے لئے آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی بخش کردیا تو یہ منظر دیکھ کر آپ کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لے آئے لیکن نمرود اور اس کے حکام کا خوف تھا (اس لئے انہوں…
Read the full tafseer →(70) ان لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو جلانے کی کارروائی کی تھی سو ہم نے ان ہی لوگوں کو ذلیل ورسوا کردیا۔
Read the full tafseer →وَاَرَادُوْا بِهٖ كَيْدًا۔۔ : ”الْاَخْسَرِيْنَ“ اگرچہ اسم تفضیل ہے، مگر یہاں کسی سے زیادہ خسارا اٹھانے والے مراد نہیں، بلکہ یہ خاسرین میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”انتہائی خسارے والے“ کیا گیا ہے۔ اگر تفضیل کا معنی لیں تو ”أَخْسَرِیْنَ مِنْ کُلِّ خَاسِرٍ“ مراد ہوگا، یعنی ہر خسارے والے سے زیادہ خسارے والے۔ ”كَيْدًا“ خفیہ تدیبر کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کفار نے ابراہیم ؑ کو جلانے کی سازش ان سے خفیہ رکھی تھی۔ شاید ان کا مقصد یہ ہو کہ ابراہیم ؑ ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔ (ابن عاشور) ”فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِيْنَ“ میں ”ھُمْ“ اور ”الْاَخْسَرِيْنَ“ دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
1:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا اے مجاہد کیا تو جانتا ہے اس شخص کو جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے ساتھ جلانے کا مشورہ دیا میں نے کہا نہیں پھر انہوں نے فرمایا فارس کے دیہاتیوں میں سے ایک آدمی تھا یعنی اکراد۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جمع کی گئی (لکڑی) اور ان کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے فرشتے نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے کب حکم ہوگا کہ میں بارش برساوں اور اللہ کا حکم بہت جلدی پہنچنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کونی برداوسلما “ تو زمین میں کوئی آگ…
Read the full tafseer →[ وَاَرَادُوْا : اور انھوں نے ارادہ کیا ] [ بِهٖ : ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] [ كَيْدًا : چالبازی کا ] [ فَجَعَلْنٰهُمُ : تو ہم نے بنادیا ان لوگوں کو ] [ الْاَخْسَرِيْنَ : انتہائی خسارہ پانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
50:۔ ” قُلْنَا یٰنَارُالخ “ نمرود نے اسی گز لمبی اور چالیس گز چوڑی چار دیوار بنوائی اور اس میں چالیس دن تک ایندھن جمع کرایا اور اس کو آگ لگا دی جب آگ خوب مشتعل ہوگئی اور ہر طرف سے اس کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے تو حضرت ابراہیم کو اس میں پھینکا گیا جب وہ ان کو آگ میں پھینکنے کی تیاریاں کر رہے تھے اس وقت اللہ کا خلیل ماسوی اللہ سے اعراض کر کے اپنے مولیٰ و آقا سے مناجات میں مصروف تھا اور آسمان کی طرف رخ کر کے عرض کر رہا تھا۔ اللھم انت الواحد فی السماء وانا الواھد فی الارض لیس احد یعبدک غیری حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں لا الہ الا انت سبحنک رب العلمین لک الحمد ولک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی…
Read the full tafseer →وَاَرَادُوْا بِہٖ كَيْدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَخْسَرِيْنَ 70ۚ
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
اس پر اور بھی وہ نادم اور خجل ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا دو چونکہ ان وحشی قوموں میں سخت جرم کی ایسی ایسی وحشیانہ سزائیں تھیں آگ میں ڈالا اللہ تعالیٰ نے آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر سرد اور راحت کردیا۔ صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے تب تو اور بھی لوگوں کو حیرت ہوئی اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) بھی ایمان لے آئے۔ ہاران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حقیقی بھائی تھا لوط ( علیہ السلام) اس کے بیٹے تھے ہاران اپنے باپ تارا کے روبرو جس کو آزر بھی کہتے ہیں وطن ہی میں مرگیا تھا ابراہیم (علیہ السلام) خداوند کے کہنے کے موافق روانہ ہوا اور لوط بھی اس کے ساتھ چلا 2 ؎…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
قُلْنَا یٰـنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ ۔ وَاَرَادُوْابِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰـھُمُ الْاَخْسَرِیْنَ ۔ (الانبیاء : 69، 70)
(ہم نے حکم دیا، اے آگ ! تو ابراہیم کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔ انھوں نے تو ابراہیم کو گزند پہنچانے کا ارادہ کیا لیکن ہم نے ان کو ناکام بنادیا۔ )
آگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی
انھوں نے جیسے ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینکا، اللہ تعالیٰ نے دہکتے انگاروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کو حکم دیا، خبردار ! میرے خلیل کا بال بیکا نہ ہو۔ اے آگ ! ابراہیم کے لیے ٹھنڈی ہوجا، لیکن اتنی ٹھنڈی نہ ہو کہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے سلامت نکل کر ہجرت کا فیصلہ کرتے ہیں۔
(فَأَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَاہُمُ الْأَسْفَلِیْنَ ) [ الصّٰفٰت : 98]
” وہ چاہتے تھے کہ ابرا ہیم (علیہ السلام) کو مار دیں لیکن ہم نے ان کو بری طرح ذلیل کردیا۔ “
(وَأَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَاہُمُ الْأَخْسَرِیْنَ ) [ الانبیاء : 70]
” انہوں نے ابرا ہیم (علیہ السلام) کو ما رناچا ہا لیکن ہم نے ان کو ناکام کردیا۔ “
اہل ایمان کے لیے اس واقعہ میں بہت سے اسباق عبرت ہیں۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے باپ اور دو سرے لوگوں نے نیچا دکھا نے کی کوشش کی لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کامیاب اور…
Read the full tafseer →قوم کی ناکامی اور ابراہیم ( علیہ السلام) کی کامیاب ہجرت :
70: وَ اَرَادُوْا بِہٖ (اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق بری تدبیر کی) جلانے کی کَیْدًافَجَعَلْنٰـھُمُ الْاَخْسَرِیْنَ (پس ہم نے ان کو ناکام کردیا) اللہ تعالیٰ نے نمرود اور اس کی قوم پر مچھر بھیج دیئے جنہوں نے ان کے گوشت کھا لئے اور ان کے خون پئے اور مچھر نمرود کے دماغ میں داخل ہوگیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔
Read the full tafseer →70۔ وارادو بہ کیدا فجعلناھم الاخسرین، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی کوشش خسارے میں پڑگئی اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا اس کا کچھ حاصل نہ ہوا اور بعض نے کہا کہ اللہ نے مچھروں کی فوج بھیج دی جو اس پر اور اس کے گھروالوں پر عذاب بن گئی جس نے ان کے گوشت کھالیے اور ان کا خون چوس لیا اور ان مچھروں میں سے ایک مچھر اس کے دماغ میں گھس گیا جو اس کی ہلاکت کا سبب بنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
68۔ 70:۔ جب عقلی حجت میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے باپ نمردو اور نمرود کے ساتھ کے لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر غالب نہ آسکے تو اس وقت ان سب لوگوں نے صلاح کر کے یہ بات نکالی کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیں۔ اس قصہ کے وقت حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی عمر سولہ برس 2 ؎ تھی۔ تفسیر سدی 3 ؎ میں ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کو ایسا اچھا سمجھتے تھے کہ ایک عورت بھی ان لوگوں میں بیمار ہوتی تھی تو یہ نذر مانتی تھی کہ اگر وہ اچھی ہوجائے گی تو ایک گٹھا لکڑیوں کا اس انبار میں ڈلوا دے گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
91 آتش نمرود کا حضرت ابراہیم کے لیے سراسر سلامتی بن جاتا : سو حضرت ِحق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے آگ کو حکم ہوا کہ " ٹھنڈی ہوجا تو اے آگ اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر "۔ یعنی اتنی زیادہ ٹھنڈی بھی نہ ہوجانا کہ ابراہیم ٹھٹھر جائیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے یہ ارشاد نہ ہوا ہوتا تو وہ آگ اتنی ٹھنڈی ہوجاتی کہ حضرت ابراہیم اس میں ٹھٹھر کر رہ جاتے اور اس ٹھنڈک سے ان کی موت واقع ہوجاتی۔ اور اگر { علی ابراہیم } نہ فرمایا جاتا تو اس ارشاد ربانی کی تعمیل میں دنیا بھر کی تمام آگیں سب لوگوں کے لیے اور ہمیشہ کے لیے ٹھنڈی ہو کر رہ جاتیں۔ ( ابن کثیر، فتح القدیر اور مدارک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ف 3 ۔ یعنی جب سب کی رائے یہی ٹھہری کہ آگ کا آلائو تیار کرکے ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس میں پھینک دیا جائے اور پھر واقعی انہوں نے اپنے اس ماراوہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ابراہیم کو آگ میں پھینک دیا تو ہم نے آگ کو حکم دیا…
4 ۔ آگ کو صرف ٹھنڈی ہوجانے ہی کا حکم نہیں دیا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو تکلیف نہ ہو بلکہ ٹھنڈی ہوجانے کے ساتھ راحت رساں ہوجانے کا بھی حکم دیا۔ کذا قابل ابن عباس ؓ وابوالعالیہ (ابن کثیر) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا گیا مگر اللہ تعالیٰ نے خرق عبادت کے طور پر ان کو بچالیا۔ اس مقام پر مفسرین نے بہت سی حکایات نقل کی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے آگ…
Read the full tafseer →(21:70) کیدا۔ بری تدبیر (ملاحظہ ہو 21:57) ۔ الاخسرین۔ زیادہ نقصان میں رہنے والے۔ زیادہ گھاٹا پانے والے۔ اخسر کی جمع۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70
رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔
نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 70
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالنے کا قصہ اور آگ کے گلزار ہونے کا ذکر۔
(1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے قوم کے لوگ اگرچہ بت پرستی کی برائی کو سمجھ گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں وہ لوگ دوزخی ٹھہر چکے تھے اس لیے بجائے اس کے وہ لوگ حضرت ابراہیم کی نصیحت کی کچھ قدر کرتے ، انہوں نے حضرت ابراہیم کے بارے میں یہ بات نکالی کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈال دیں اور اپنے معبودوں کا ان سے بدلہ لیں اس لیے کہ تمہارے معبودوں کے ساتھ گستاخی کی ہیے اگر تمہیں کرنا ہے تو کر گزرو، پھر آپ کو ایک مکان میں قید کرلیا اور قریہ کو ثی میں ایک عمارت بنوائی اور ایک ماہ تک بکوشش تمام قسم قسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
[36] الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے آگ کا الاؤ تیار کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں پھینک دیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں ٹھنڈی اور بےضرر ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
ابراہیم (علیہ السلام) کا کامل ایمان :
(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب بتوں کی تذلیل وتوہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا ، توبت پرستوں کے حلقہ میں کھلبلی مچ گئی ، انہوں نے بالاتفاق کہا ، بتوں اور دیوتاؤں کے خلاف اس قسم کا جہاد ناقابل برداشت ہے یہ بہت بڑا گناہ ہے ، اس کی سزا سوائے اس کے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ آگ میں جھونک دیا جائے ، اور کچھ نہیں ، چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں ، اس کو آگ میں ڈال دو ، الاؤ میں جھونک دو ، اور پھونک دو اگر اللہ کی مشیت کچھ اور تھی ادھر یہ انتظام ہو رہے تھے ، کہ توحید کی حمایت کی پاداش میں اللہ کے ایک بندے کو زندگی سے محروم کردیا جائے دوسری جانب…
Read the full tafseer →(70) اور ان مشرکوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ فریب کا ارادہ کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہا اور ان کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا مگر ہم نے انہی مشرکوں کو ناکام کردیا اور ان کو نقصان میں ڈال دیا۔
یعنی انہوں نے ہمارے خلیل کے ساتھ بری چال چلنی چاہی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا لیکن ان کا کید اور مکر خود ان پر الٹ گیا اور ان کو نقصان اٹھانے والے خسارہ پانے والے ہم نے بنادیا اور ان کو ہلاک ہونے والوں میں سے کردیا نمرود جیسے جابر کی حکومت ختم کردی گئی اور ان پر مچھروں کا عذاب مسلط کردیا گیا۔
Read the full tafseer →ف 2۔ کہ ان کا مقصود حاصل نہ ہوا، بلکہ اور بالعکس حقانیت ابراہیم (علیہ السلام) کا زیادہ ثبوت ہوگیا۔
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے ایک مخفی چال چلنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی :
70۔ مذہبی لیڈروں اور سیاسی راہنماؤں نے مل کر اور سارے عوام کی حمایت حاصل کر کے ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف ایک سارش اختیار کی تھی اور خیال کیا تھا کہ اس سازش سے بچ کر ابراہیم کبھی نہیں نکل سکے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اس پتنگ کی ڈور قطع کردی اور پھر کیا ہوا کہ ع ۔
ہتھوں چھٹی ڈور محمد گڈی وا اڑائی ۔
اس طرح جب ان کا سارا کیا کرایا دھرے کا دھرا رہ گیا اور ان کی یہ چال مکمل طور پر ناکام ہوگئی تو آپ نے پورے زور کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ :
(آیت) ” وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّہِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ (We said, "0 fire, be cold and safe for Ibrahim." - 21:69) As stated above, one explanation of the fire becoming cool and comfortable for Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) could be that it ceased to be fire and changed into a pleasant breeze. However, the more plausible explanation is that the fire remained as fire but did not touch the body of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، although it burnt other things around him, so much so that it even burnt down the rope which bound him.
According to some historic versions he remained in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
62. Though this is one of those miracles which have been clearly stated in the Quran, there are people who try to prove that there was no such miracle at all. According to this passage (Ayats 68-70), Prophet Abraham (peace be upon him) was actually threatened to be burnt alive and he was accordingly thrown into the burning fire, but Allah ordered the fire to become cool and harmless for him. In the face of the clear words of the Quran, these people deny this miracle because according to them it is impossible even for Allah to go beyond the routine of the physical laws. They say that miracles…
Read the full tafseer →