Al-Anbiyaa 21:69

Al-Anbiyaa · from ayah 69

21:69

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤی اِبْرٰهِیْمَ ۟ۙقُلۡنَا يٰنَارُ كُوۡنِىۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَۙ‏

ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah said, "O fire, be coolness and safety upon Abraham."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:69

ہم نے کہا "اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے فرما دیا اے آگ! تو ٹھنڈی پڑ جا اور ابراہیم ؑ کے لئے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا!

— مولانا محمد جوناگڑہی

(چنانچہ انہوں نے ابراہیم کو آگ میں ڈال دیا اور) ہم نے کہا : اے آگ ! ٹھندی ہوجا، اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم نے کہا اے آگ ! تو ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے آگ کو حکم دیا : اے آگ ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے حکم دیا کہ اے آگ تو ابراہیم کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی بن جا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب ہم نے حکم کردیا (چیخا میں جلتی اس آگ کو) کہ اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر۔

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے حکم دیا اے آگ تو ٹھنڈی اور بےگزند ہوجا ابراہیم ؑ کے حق میں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے حکم دیا کہ اے آگ ! ُ تو ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم ؑ پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا ہم نے اے آگ ! ٹھنڈی اور آرام دہ ہوجا ابراہیم کے لیے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We said: "O fire, become coolness and safety for Abraham."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We said, :O fire, be cold and safe for Ibrahim.

— Muhammad Taqi Usmani

We said, :O fire, be cold and safe for Ibrahim.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We said: "O fire! Be you cool and safety for Ibrahim!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We said: O fire, be coolness and peace for Abraham,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah said, "O fire, be coolness and safety upon Abraham."

— Saheeh International

We said to the fire, "Be cool and peaceful (with Abraham)".

— Muhammad Sarwar

We said: O fire! be a comfort and peace to Ibrahim;

— Muhammad Habib Shakir

We said: O fire! be thou cool and peace unto Ibrahim

— Abdul Majid Daryabadi

We said, "O Fire! be thou cool, and (a means of) safety for Abraham!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:69

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–70

آگ گلستان بن گئی یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آجاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آکر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کرلیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کردیں یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفا ہوجائے تو ابراہیم ؑ کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا لکڑیوں سے پر کیا اور انبار کھڑا کرکے اس میں آگ لگائی روئے زمین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 69–70

سورة الْاَنْبِیَآء 62 الفاظ صاف بتا رہے ہیں، اور سیاق وسباق بھی اس مفہوم کی تائید کر رہا ہے کہ انہوں نے واقعی اپنے اس فیصلے پر عمل کیا، اور جب آگ کا الاؤ تیار کر کے انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو اس میں پھینکا تب اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم کے لیے ٹھنڈی ہوجائے اور بےضرر بن کر رہ جائے۔ پس صریح طور پر یہ بھی ان معجزات میں سے ایک ہے جو قرآن میں بیان کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان معجزات کی اس لیے تاویلیں کرتا ہے کہ اس کے نزدیک خدا کے لیے بھی نظام عالم کے معمول (Routine) سے ہٹ کر کوئی غیر معمولی کام کرنا ممکن نہیں ہے، تو آخر وہ خدا کو ماننے ہی کی زحمت کیوں اٹھاتا ہے۔ اور اگر وہ اس طرح کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

قُلْنَا يٰنَارُكُـوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ ، اوپر گزر چکا ہے کہ آگ کے حضرت ابراہیم ؑ پر برد وسلام ہونے کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ آگ آگ ہی نہ رہی ہو بلکہ ہوا میں تبدیل ہوگئی ہو مگر ظاہر یہ ہے کہ آگ اپنی حقیقت میں آگ ہی رہی اور حضرت ابراہیم ؑ کے آس پاس کے علاوہ دوسری چیزوں کو جلاتی رہی بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کو جن رسیوں میں باندھ کر آگ میں ڈالا گیا تھا ان رسیوں کو بھی آگ ہی نے جلا کر ختم کیا مگر حضرت ابراہیم ؑ کے بدن مبارک تک کوئی آنچ نہیں آئی (کما فی بعض الروایات) تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اس آگ میں سات روز رہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر میں کبھی ایسی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگ حضرت ابراہیم کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی اس فیصلہ کے بموجب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں جالنے کی کوشش کی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی بنا دیا۔ اس کی کیا شکل ہوئی ؟ قرآن میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے لیکن اس بات میں کوئی استبعاد نہیں ہے۔ اشیاء کے خواص و اثرات تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں۔ وہ جس زہر کو جس کے لئے چاہے تریاق بنا دے اور جس تریاق کو جس کیلئے چاہے زہر بنا دے۔ اس قسم کے عجائب تصرفات قدرت ہم آج بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر خدا نے اپنے ایک پیغمبر کی حفاظت کے لگے آگ کو گلزار بنا دیا تو یہ کیا عجیب بات ہوئی !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 68–70

68۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے جب یوں اپنی حجت تمام کردی اور ان کی ضلالت و حماقت کو ایسے طریقے سے ان پر واضح کردیا کہ وہ لاجواب ہوگئے۔ تو چونکہ وہ توفیق ہدایت سے محروم تھے اور کفر و شرک نے ان کے دلوں کو بےنور کردیا تھا۔ اس لئے بجائے اس کے کہ وہ شرک سے بعض آجاتے، الٹا ابراہیم ؑ کے خلاف سخت اقدام کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اپنے معبودوں کی دہائی دیتے ہوئے انھیں آگ میں جھونک دینے کی تیاری شروع کردی، چناچہ آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا اور اس میں حضرت ابراہیم ؑ کو کہا جاتا ہے کہ منجنیق (جس سے بڑے پتھر پھینکے جاتے ہیں) کے ذریعے سے پھینکا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے لئے ٹھنڈی اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 69–70

28: اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ معجزہ دکھایا کہ آگ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کا سبب بن گئی۔ جو لوگ معجزات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، ان کا موقف در حقیقت اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ میں جلانے کی خاصیت اسی نے پیدا فرمائی ہے، اگر وہ اپنے ایک جلیل القدر پیغمبر کو دشمنوں کے ظلم سے بچانے کے لیے اس کی یہ خاصیت ختم کردے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–69

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ فعلین (86) ” ‘۔ کیا ہی زبردست خدا ہیں کہ بیچاروں کی نصرت ان کے پجاری کررہے ہیں ‘ وہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہی نہیں۔ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں ‘ نہ اپنے بندوں کی۔ انہوں نے تو یہ حکم دیا کہ اسے جلا دو لیکن دوسری جانب سے بھی ایک حکم صادر ہوا ‘ یہ اصل حاکم مطلق کا حکم تھا ‘ اس نے پہلے حکم کو باطل کردیا۔ قلنا ینار کونی بردا وسلم ا علی ابرھیم (96) ” ہم نے کہا ” اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر “۔ چناچہ ان کا جلایا وہا الائو ابراہیم کے لیے ٹھنڈا بھی ہوگیا اور ان کے لیے سلامتی کا موجب بنا ‘ یہ کیسے ؟ یہ سوال صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) والے الائو کے بارے میں کیوں پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی تکویناً آگ کو حکم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی ہوجا۔ لیکن اس قدر ٹھنڈی نہیں کہ برودت سے تکلیف پہنچنے لگے۔ ایسی معتدل ٹھنڈی ہو جو جسم وجان کو خوشگوار معلوم ہونے لگے (تنبیہ) آگ کا ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈا ہوجانا ان کا معجزہ تھا۔ معجزہ کی حقیقت یہ ہی ہے کہ حق تعالیٰ اپنی عام عادت کے خلاف سبب عادی کو مسبب سے یا مسبب کو سبب سے جدا کر دے، یہاں احراق کا سبب (آگ) موجود تھی، مگر مسبب اس پر مرتب نہ ہوا، معجزہ وغیرہ کے متعلق مفصل کلام ہم نے ایک مستقل تحریر میں کیا ہے جو رسالہ " الحمود " کے کئی نمبروں میں چھپ چکی۔ فلیراجع۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 69 قُلْنَا یٰنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَآٰی اِبْرٰہِیْمَ ” یہاں یہ نکتہ ذہنوں میں تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ فطرت کے قوانین اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور اللہ جب چاہے انہیں تبدیل کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت ان قوانین سے بالاتر ہے ‘ ان کی پابند نہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ قوانین بہت محکم ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں روز روز تبدیل نہیں کرتا۔ اگر یہ محکم اور مستقل نہ ہوتے تو نہ سائنس کا کوئی تصور ہوتا ‘ نہ کوئی ٹیکنالوجی وجود میں آسکتی۔ تمام سائنسی ایجادات اور ٹیکنالوجیز طبیعی اور کیمیائی تبدیلیوں Physical and Chemical Changes کے قوانین کے محکم اور مستقل ہونے کے باعث…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

58 مفسرین کہتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم کو الاؤ میں ڈالا جانے لگا تو جبرئیل حاضر ہوئے اور کہا کہ کہو تو آپ کی مدد کروں ؟ حضرت ابراہیم نے کہا : مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں۔ مجھے میرا اللہ کافی ہے پھر جبرئیل نے کہا : اچھا اپنے اللہ سے دعا ہی کرو حضرت ابراہیم نے فرمایا : میرا اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور مجھے یہی کافی ہے اب اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مخلص بندے کی یوں مدد فرمائی کہ آگ کو حکم دے دیا کہ ابراہیم کے لئے ٹھنڈی ہوجا مگر اتنی ٹھنڈی بھی نہیں کہ ٹھنڈک کی وجہ سے حضرت ابراہیم کو تکلیف پہنچے بلکہ صرف اس حد تک ٹھنڈی ہو کہ حضرت ابراہیم آگے کے درمیان صحیح وسالم رہ سکیں۔ یہ آگ جو کئی دنوں میں بنائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

86۔ جو خدا آگ کو جلانے کا حکم دیتا رہتا ہے، وہ اس پر بھی اسی آسانی سے قادر ہے کہ اسے نہ جلانے کا حکم دے دے، یہ کہنا کہ آگ تو جماد ولا یعقل وبے شعور ہے، اس سے خطاب کیونکر ہوگا۔ عجیب احمقانہ اعتراض ہے۔ آگ کی جمادیت، بےشعوری وغیرہ اگر ہے تو ہماری نسبت سے ہے یا خود خالق کائنات کی نسبت سے بھی ؟ (آیت) ” علی ابراہیم “۔ کی قید سے قرینہ اس کا نکلتا ہے کہ آگ کی تبدیل ماہیت نہ ہوئی ہو، وہ وہی بدستور آگ ہی ہو البتہ موذی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں نہ رہی ہو یا اس کے علاوہ بھی کوئی صورت فرض کی جائے، واقعہ خارق عادت تو بہر حال وبہر صورت تھا۔ (آیت) ” سلما “۔ حذف مضاف کے ساتھ ہے۔ یعنی سلامتی والی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–75

آیت نمبر 68 تا 75 ترجمہ : کہنے لگے اسے یعنی ابراہیم کو جلا دو اور اس کو جلا کر اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو ان کی مدد کرنی ہی ہے چناچہ ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے بہت ساری لکڑیاں جمع کیں اور ان تمام لکڑیوں میں آگ جلا دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسیوں میں مضبوط باندھا اور ان کو ایک گوپھن میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا ہم نے آگ کو حکم دے کر کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی کی چیز بن جا، چناچہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا اور آگ کی حدت ختم ہو کر صرف اس کی روشنی باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے سلاماً کہنے کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قلنا ینارکونی بردا و سلما علی ابراہیم۔ ہم نے حکم دیا اے آگ تو ٹھنڈی اور سلامتی بخش ہو جا ابراہیم کے لئے (حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر اللہ سلاماً نہ فرماتا تو آگ کی (انتہائی) سردی کی وجہ سے ابراہیم ( علیہ السلام) مرجاتے بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ سلاماً (کونی کی خبر نہیں ہے بلکہ) فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی ہم نے ابراہیم کو کامل طور پر سالم رکھا۔ بغوی نے لکھا ہے بعض آثار میں آیا ہے کہ اس روز تمام روئے زمین کی آگ بجھ گئی تھی دنیا بھر میں کوئی اس روز آگ سے فائدہ نہ اٹھا سکا اگر اللہ علیٰ ابراہیم نہ فرماتا تو ہمیشہ کے لئے آگ ٹھنڈی ہوجاتی۔ میں کہتا ہوں بظاہر آگ کی خاصیت سلب نہیں ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(69) ہم نے آگ کو حکم دیا کہ گرمی سے ٹھنڈی اور ٹھنڈک سے بےضرر ہوجا، ابراہیم ؑ کے حق میں اور اگر اللہ تعالیٰ زیادہ ٹھنڈک سے بےضرر ہونے کا حکم نہ فرماتا تو ٹھنڈک کی شدت حضرت ابراہیم ؑ کو تکلیف پہنچاتی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْنَا يٰنَارُكُـوْنِيْ بَرْدًا۔ : ”بَرْدًا“ ٹھنڈک، ”وَّسَلٰمًا“ سلامتی۔ مبالغہ کے طور پر مصدر بمعنی اسم فاعل ہے۔ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ اپنے فیصلے کے مطابق انھوں نے ابراہیم ؑ کو جلانے کا زبردست انتظام کیا، چناچہ لکڑیاں جمع کرنے کے لیے باقاعدہ ایک چار دیواری بنائی گئی، جیسا کہ فرمایا : (قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا فَاَلْقُوْهُ فِي الْجَــحِيْمِ) [ الصافات : 97 ] ”انھوں نے کہا، اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی آگ میں پھینک دو۔“ پھر جب آگ خوب بھڑک اٹھی اور اس کی تپش چاروں طرف پھیل گئی تو انھوں نے منجنیق کے ذریعے سے یا جیسے بھی ہوسکا، ابراہیم ؑ کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–73

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–73

1:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا اے مجاہد کیا تو جانتا ہے اس شخص کو جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے ساتھ جلانے کا مشورہ دیا میں نے کہا نہیں پھر انہوں نے فرمایا فارس کے دیہاتیوں میں سے ایک آدمی تھا یعنی اکراد۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جمع کی گئی (لکڑی) اور ان کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے فرشتے نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے کب حکم ہوگا کہ میں بارش برساوں اور اللہ کا حکم بہت جلدی پہنچنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کونی برداوسلما “ تو زمین میں کوئی آگ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قُلْنَا : ہم نے کہا ] [ يٰنَارُ : اے آگ ] [ كُـوْنِيْ : تو ہوجا ] [ بَرْدًا : ٹھنڈک ] [ وَّسَلٰمًا : اور سلامتی ] عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم پر ] [ ب ر د ](ن) بَرْدًا ٹھنڈا کرنا۔] [ بَرْدٌ اسم ذات بھی ہے۔ ٹھنڈک۔ سردی زیر مطالعہ آیت۔ 69 ۔] [ بَرَدٌ ٹھنڈی چیز۔ اولے۔ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ جِبَالٍ فِیْھَا مِنْ بَرَدٍ (اور وہ اتارتا ہے آسمان سے پہاڑوں میں سے جس میں کچھ اولے ہیں) 24:43] [ بَارِدٌ فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ٹھنڈا کرنے والا یعنی ٹھنڈا۔ ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ (یہ نہانے کی جگہ ہے ٹھنڈا کرنے والی اور پینے کو) 38:42]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 69–70

50:۔ ” قُلْنَا یٰنَارُالخ “ نمرود نے اسی گز لمبی اور چالیس گز چوڑی چار دیوار بنوائی اور اس میں چالیس دن تک ایندھن جمع کرایا اور اس کو آگ لگا دی جب آگ خوب مشتعل ہوگئی اور ہر طرف سے اس کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے تو حضرت ابراہیم کو اس میں پھینکا گیا جب وہ ان کو آگ میں پھینکنے کی تیاریاں کر رہے تھے اس وقت اللہ کا خلیل ماسوی اللہ سے اعراض کر کے اپنے مولیٰ و آقا سے مناجات میں مصروف تھا اور آسمان کی طرف رخ کر کے عرض کر رہا تھا۔ اللھم انت الواحد فی السماء وانا الواھد فی الارض لیس احد یعبدک غیری حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں لا الہ الا انت سبحنک رب العلمین لک الحمد ولک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–77

ربط آیات : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْنَا يٰنَارُ كُـوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓي اِبْرٰہِيْمَ۝ 69ۙ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ برد أصل البرد خلاف الحر، فتارة يعتبر ذاته فيقال : بَرَدَ كذا، أي : اکتسب بردا، وبرد الماء کذا، أي : أكسبه بردا، نحو : 48- ستبرد أکبادا وتبکي بواکيا «4» ويقال : بَرَّدَهُ أيضا، وقیل : قد جاء أَبْرَدَ ، ولیس بصحیح «5» ، ومنه البَرَّادَة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–70

اس پر اور بھی وہ نادم اور خجل ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا دو چونکہ ان وحشی قوموں میں سخت جرم کی ایسی ایسی وحشیانہ سزائیں تھیں آگ میں ڈالا اللہ تعالیٰ نے آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر سرد اور راحت کردیا۔ صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے تب تو اور بھی لوگوں کو حیرت ہوئی اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) بھی ایمان لے آئے۔ ہاران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حقیقی بھائی تھا لوط ( علیہ السلام) اس کے بیٹے تھے ہاران اپنے باپ تارا کے روبرو جس کو آزر بھی کہتے ہیں وطن ہی میں مرگیا تھا ابراہیم (علیہ السلام) خداوند کے کہنے کے موافق روانہ ہوا اور لوط بھی اس کے ساتھ چلا 2 ؎…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 69–70

قُلْنَا یٰـنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ ۔ وَاَرَادُوْابِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰـھُمُ الْاَخْسَرِیْنَ ۔ (الانبیاء : 69، 70) (ہم نے حکم دیا، اے آگ ! تو ابراہیم کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔ انھوں نے تو ابراہیم کو گزند پہنچانے کا ارادہ کیا لیکن ہم نے ان کو ناکام بنادیا۔ ) آگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی انھوں نے جیسے ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینکا، اللہ تعالیٰ نے دہکتے انگاروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کو حکم دیا، خبردار ! میرے خلیل کا بال بیکا نہ ہو۔ اے آگ ! ابراہیم کے لیے ٹھنڈی ہوجا، لیکن اتنی ٹھنڈی نہ ہو کہ اسے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں قوم اور حکومت کا انتہائی اقدام : ابھی خاص وعام کے ساتھ یہ کشمکش جاری تھی کہ حکومت وقت نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا۔ جب حاکم وقت نمرود کے پاس مکمل رپورٹ پہنچی تو وہ آپے سے باہر ہوگیا۔ چناچہ اسے فکر لاحق ہوئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی خدائی کا انکار کرتا ہے تو میری خدائی کب تسلیم کرتا ہوگا۔ فوراً حکم صادر کیا کہ ابراہیم جہاں کہیں ہو، اسے فی الفور میرے حضور میں پیش کیا جائے۔ باپ، رشتہ دار، پوری قوم یہ چاہتی تھی یہ تحریک دب جائے اور اس کے داعی کو عبرت ناک سزا سے دو چار کیا جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حاکم وقت کے سامنے جاتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آگ کو حکم : 69: قُلْنَا یٰنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا (اور ہم نے کہا اے آگ تو ٹھنڈی اور سلامتی بخش ہوجا) ای ذات بردٍوسلامٍ ٹھنڈک و سلامتی والی۔ پس اس میں مبالغہ کیا گیا گویا کہ آگ کی ذات ہی ٹھنڈک اور سلامتی تھی۔ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ (ابراہیم (علیہ السلام) پر) مراد یہ تھی تو ٹھنڈی ہوجاپس ابراہیم تجھ سے سلامت رہیں گے۔ قول ابن عباس ؓ : اگر یہ نہ کہا جاتا تو وہ اپنی ٹھنڈک سے ان کو ہلاک کردیتی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ سے اس کی طبیعت احراقی اور حرارت سلب کرلی اور اس کی روشنی باقی رکھی اور چمک باقی رہی جیسا کہ پہلے تھی اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کاٹھنڈا ہوجانا۔ 69۔ قلناینارکونی برداوسلما علی ابراہیم، ،(ہم نے حکم دیا اے آگ توٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا ابراہیم کے لیے ) حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمای اگر اللہ سلامانہ فرماتا تو آگ کی (انتہائی سردی کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) مرجاتے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا کہ سلاما (کونی) کی خبر نہیں ہے بلکہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی ہم نے ابراہم کو کامل طور پر سالم رکھا، بغوی نے لکھا ہے کہ بعض آثار میں آیا ہے کہ اس روز تمام روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوجاتی میں کہتاہوں بظاہرآگ کی خاصیت سلب نہیں ہوئی تھی جلانے کی خاصیت حسب معمول موجود تھی لیکن حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–70

68۔ 70:۔ جب عقلی حجت میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے باپ نمردو اور نمرود کے ساتھ کے لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر غالب نہ آسکے تو اس وقت ان سب لوگوں نے صلاح کر کے یہ بات نکالی کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیں۔ اس قصہ کے وقت حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی عمر سولہ برس 2 ؎ تھی۔ تفسیر سدی 3 ؎ میں ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کو ایسا اچھا سمجھتے تھے کہ ایک عورت بھی ان لوگوں میں بیمار ہوتی تھی تو یہ نذر مانتی تھی کہ اگر وہ اچھی ہوجائے گی تو ایک گٹھا لکڑیوں کا اس انبار میں ڈلوا دے گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ جب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 69–70

91 آتش نمرود کا حضرت ابراہیم کے لیے سراسر سلامتی بن جاتا : سو حضرت ِحق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے آگ کو حکم ہوا کہ " ٹھنڈی ہوجا تو اے آگ اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر "۔ یعنی اتنی زیادہ ٹھنڈی بھی نہ ہوجانا کہ ابراہیم ٹھٹھر جائیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے یہ ارشاد نہ ہوا ہوتا تو وہ آگ اتنی ٹھنڈی ہوجاتی کہ حضرت ابراہیم اس میں ٹھٹھر کر رہ جاتے اور اس ٹھنڈک سے ان کی موت واقع ہوجاتی۔ اور اگر { علی ابراہیم } نہ فرمایا جاتا تو اس ارشاد ربانی کی تعمیل میں دنیا بھر کی تمام آگیں سب لوگوں کے لیے اور ہمیشہ کے لیے ٹھنڈی ہو کر رہ جاتیں۔ ( ابن کثیر، فتح القدیر اور مدارک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 69–70

ف 3 ۔ یعنی جب سب کی رائے یہی ٹھہری کہ آگ کا آلائو تیار کرکے ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس میں پھینک دیا جائے اور پھر واقعی انہوں نے اپنے اس ماراوہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ابراہیم کو آگ میں پھینک دیا تو ہم نے آگ کو حکم دیا… 4 ۔ آگ کو صرف ٹھنڈی ہوجانے ہی کا حکم نہیں دیا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو تکلیف نہ ہو بلکہ ٹھنڈی ہوجانے کے ساتھ راحت رساں ہوجانے کا بھی حکم دیا۔ کذا قابل ابن عباس ؓ وابوالعالیہ (ابن کثیر) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا گیا مگر اللہ تعالیٰ نے خرق عبادت کے طور پر ان کو بچالیا۔ اس مقام پر مفسرین نے بہت سی حکایات نقل کی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے آگ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 66–69

(21:69) کونی۔ فعل امر۔ واحد مؤنث حاضر۔ تو ہوجا۔ (نار سے خطاب ہے) ۔ سلما۔ کونی سلما۔ تو سلامتی کا باعث بن جا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 67–70

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالنے کا قصہ اور آگ کے گلزار ہونے کا ذکر۔ (1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے قوم کے لوگ اگرچہ بت پرستی کی برائی کو سمجھ گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں وہ لوگ دوزخی ٹھہر چکے تھے اس لیے بجائے اس کے وہ لوگ حضرت ابراہیم کی نصیحت کی کچھ قدر کرتے ، انہوں نے حضرت ابراہیم کے بارے میں یہ بات نکالی کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈال دیں اور اپنے معبودوں کا ان سے بدلہ لیں اس لیے کہ تمہارے معبودوں کے ساتھ گستاخی کی ہیے اگر تمہیں کرنا ہے تو کر گزرو، پھر آپ کو ایک مکان میں قید کرلیا اور قریہ کو ثی میں ایک عمارت بنوائی اور ایک ماہ تک بکوشش تمام قسم قسم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 69–70

[36] الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے آگ کا الاؤ تیار کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں پھینک دیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں ٹھنڈی اور بےضرر ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–72

ابراہیم (علیہ السلام) کا کامل ایمان : (ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب بتوں کی تذلیل وتوہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا ، توبت پرستوں کے حلقہ میں کھلبلی مچ گئی ، انہوں نے بالاتفاق کہا ، بتوں اور دیوتاؤں کے خلاف اس قسم کا جہاد ناقابل برداشت ہے یہ بہت بڑا گناہ ہے ، اس کی سزا سوائے اس کے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ آگ میں جھونک دیا جائے ، اور کچھ نہیں ، چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں ، اس کو آگ میں ڈال دو ، الاؤ میں جھونک دو ، اور پھونک دو اگر اللہ کی مشیت کچھ اور تھی ادھر یہ انتظام ہو رہے تھے ، کہ توحید کی حمایت کی پاداش میں اللہ کے ایک بندے کو زندگی سے محروم کردیا جائے دوسری جانب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(69) اس وقت ہم نے آگ کو حکم دیا اے آگ ٹھنڈی اور راحت و آرام ہوجا ابراہیم (علیہ السلام) پر یعنی ٹھنڈی ہوجا مگر نہ اتنی کہ یخ بن جائے جس سے ہمارے ابراہیم (علیہ السلام) کو تکلیف ہو بلکہ ایک معتدل کیفیت ہو جس سے ابراہیم (علیہ السلام) کو راحت اور آرام میسر ہو۔ علیٰ ابراہیم (علیہ السلام) فرمایا ورنہ حضرت حق تعالیٰ کے اس حکم کے بعد تمام عالم کی ہی آگ بےکار ہوجاتی۔ علیٰ ابراہیم (علیہ السلام) کہنے سے صرف اس آگ پر اثر ہوا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جلانے کو روشن کی گئی تھی۔ کہتے ہیں آگ میں احراق اور جلانا باقی نہ رہا البتہ روشنی باقی تھی۔ (واللہ اعلم)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی نہ سوزاں رہ گر گزند حرارت کا پہنچے اور نہ بہت یخ ہوجا کہ گزند برودت کا پہنچے، بلکہ مثل ہوائے معتدل کے بن جا، چناچہ ایسا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جلائی گئی آگ کو حکم ہوا کہ ٹھنڈی ہوجا : 69۔ خیر وشر کا مالک صرف اور صرف ایک اللہ ہے ۔ شر کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے جس نے خیر کو مخلوق بنایا ہے ۔ انسان آزمائش میں ہے اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو خیر سے آزمائے اور چاہے تو شر سے دونوں طرح کی آزمائشوں کے لئے اس کا قانون کام کر رہا ہے اور جب تک یہ نظام قائم ہے وہ اپنا کام کرتا رہیگا ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی داستانوں سے یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ کوئی حالت بھی پیش آئے اس ذات الہ کو نہ بھولو جو طلب کرنا ہے اس سے طلب کرو اور جس شر سے بچنا چاہتے ہو اس سے پناہ مانگو اگر کہیں تمہاری زندگی کا شر سے مقابلہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

قُلْنَا يَا نَارُ‌ كُونِي بَرْ‌دًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ (We said, "0 fire, be cold and safe for Ibrahim." - 21:69) As stated above, one explanation of the fire becoming cool and comfortable for Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) could be that it ceased to be fire and changed into a pleasant breeze. However, the more plausible explanation is that the fire remained as fire but did not touch the body of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، although it burnt other things around him, so much so that it even burnt down the rope which bound him. According to some historic versions he remained in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

62. Though this is one of those miracles which have been clearly stated in the Quran, there are people who try to prove that there was no such miracle at all. According to this passage (Ayats 68-70), Prophet Abraham (peace be upon him) was actually threatened to be burnt alive and he was accordingly thrown into the burning fire, but Allah ordered the fire to become cool and harmless for him. In the face of the clear words of the Quran, these people deny this miracle because according to them it is impossible even for Allah to go beyond the routine of the physical laws. They say that miracles…

Read the full tafseer →