Al-Anbiyaa 21:68

Al-Anbiyaa · from ayah 68

21:68

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَانْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۟قَالُوۡا حَرِّقُوۡهُ وَانْصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ

(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Burn him and support your gods - if you are to act."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:68

انہوں نے کہا "جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے خداؤں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے : آگ میں جلا ڈالو اس شخص کو، اور اپنے خداؤں کی مدد کرو، اگر تم میں کچھ کرنے کا دم خم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کروں اگر تمہیں کرنا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: اس کو جلا دو اور اپنے (تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو، اگر تم کرنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ بولے : اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو ابراہیم کو جلا ڈالو اور (اس طرح) اپنے معبودوں کی امداد کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا کہ اس کو آگ میں جلا دو اور اپنے معبودوں کی حمایت میں اٹھو، اگر کچھ کرنے کا اردانہ ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے کہا جلا ڈالو اس شخص کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ لوگ) بولے انہیں جلا دو اور اپنے ٹھاکروں کا بدلہ لے لو اگر تمہیں (کچھ) کرنا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : جلا ڈالو اسے اور مدد کرو اپنے معبودوں کی ! اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تب وہ کہنے لگے کہ اگر تمہیں اس سے اپنے معبودوں کا بدلہ لینا ہے تو اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "Burn him, and come to the support of your gods, if you are going to do anything."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :(O people) burn him and help your gods, if you are to take action.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :(O people) burn him and help your gods, if you are to take action.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Burn him and help your gods, if you will be doing."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They cried: Burn him and stand by your gods, if ye will be doing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Burn him and support your gods - if you are to act."

— Saheeh International

They said, "Burn him to ashes if you want to help your gods".

— Muhammad Sarwar

They said: Burn him and help your gods, if you are going to do (anything).

— Muhammad Habib Shakir

They said: burn him, and succour your gods, if ye will be doing.

— Abdul Majid Daryabadi

They said, "Burn him and protect your gods, If ye do (anything at all)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–70

آگ گلستان بن گئی یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آجاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آکر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کرلیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کردیں یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفا ہوجائے تو ابراہیم ؑ کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا لکڑیوں سے پر کیا اور انبار کھڑا کرکے اس میں آگ لگائی روئے زمین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–68

سورة الْاَنْبِیَآء 61 اصل میں نُکِسُوْا عَلیٰ رُءُوْسِھِمْ (اوندھا دیے گئے اپنے سروں کے بل) فرمایا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ انہوں نے خجالت کے مارے سر جھکا لیے۔ لیکن موقع و محل اور اسلوب بیان اس معنی کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ صحیح مطلب، جو سلسلہ کلام اور انداز کلام پر نظر کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے، یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا جواب سنتے ہی پہلے تو انہوں نے اپنے دلوں میں سوچا کہ واقعی ظالم تو تم خود ہو، کیسے بےجس اور بےاختیار معبودوں کو خدا بنائے بیٹھے ہو جو اپنی زبان سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان پر کیا بیتی اور کون انہیں مار کر رکھ گیا، آخر یہ ہماری کیا مدد کریں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–68

حضرت ابراہیم ؑ کا قول جھوٹ نہیں بلکہ ایک کنایہ تھا اس کی تفصیل و تحقیق بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ یعنی جب ابراہیم ؑ کو ان کی برادری نے گرفتار کرکے بلایا اور ان سے اقرار لینے کے لئے سوال کیا کہ کیا آپ نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ بلکہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہے تم خود ان سے دریافت کرلو اگر یہ بول سکتے ہوں۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو حضرت ابراہیم ؑ نے خود کیا تھا پھر اس سے انکار اور ان کے بڑے کی طرف منسوب کرنا بظاہر خلاف واقعہ ہے جس کو جھوٹ کہا جاتا ہے حضرت خلیل اللہ کی شان اس سے بالا و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مذہبی عدالت سے حضرت ابراہیم کے لئے حکم سزا جب پجاریوں اور مندر کے پروہتوں نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کا سارا کاروبار پیشوائی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ نہ ان کا کوئی بھرم رہ گیا ہے نہ ان کے معبودوں کا تو اپنے عوام کو اکسایا کہ یہ وقت اپنے معبودوں کی حمایت میں اٹھنے کا ہے۔ اگر اس وقت اس نوجوان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی گئی تو آبائو اجداد کا دین تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے اس اپیل کا عوام پر اثر ہوا اور حضرت ابراہیم کے خلاف اقدام سے متعلق کچھ تجویزیں بھی سامنے آئیں لیکن ان تجویزوں سے پروہتوں کو اطمینان نہیں ہوا۔ انہوں نے ابھارا کہ اگر اس شخص کے خلاف سچ مچ کوئی مئوثر کارروائی کرنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 68–70

68۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے جب یوں اپنی حجت تمام کردی اور ان کی ضلالت و حماقت کو ایسے طریقے سے ان پر واضح کردیا کہ وہ لاجواب ہوگئے۔ تو چونکہ وہ توفیق ہدایت سے محروم تھے اور کفر و شرک نے ان کے دلوں کو بےنور کردیا تھا۔ اس لئے بجائے اس کے کہ وہ شرک سے بعض آجاتے، الٹا ابراہیم ؑ کے خلاف سخت اقدام کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اپنے معبودوں کی دہائی دیتے ہوئے انھیں آگ میں جھونک دینے کی تیاری شروع کردی، چناچہ آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا اور اس میں حضرت ابراہیم ؑ کو کہا جاتا ہے کہ منجنیق (جس سے بڑے پتھر پھینکے جاتے ہیں) کے ذریعے سے پھینکا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے لئے ٹھنڈی اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 65–68

27: حضرت ابراہیم ؑ نے بتوں کی حقیقت بتانے کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا، اس نے انہیں کم از کم اپنے دل میں سوچنے پر مجبور کردیا، اور ان کے دل نے گواہی دی کہ قصور در اصل ہمارا ہی ہے۔ لیکن مدتوں سے جمے ہوئے عقیدے کو چھوڑنے کی جرأت نہ ہوئی، لاجواب ہو کر سر تو جھکا دیا، لیکن کہا یہ کہ یہ بات تو تم بھی جانتے ہو، اور ہم بھی پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–69

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ فعلین (86) ” ‘۔ کیا ہی زبردست خدا ہیں کہ بیچاروں کی نصرت ان کے پجاری کررہے ہیں ‘ وہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہی نہیں۔ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں ‘ نہ اپنے بندوں کی۔ انہوں نے تو یہ حکم دیا کہ اسے جلا دو لیکن دوسری جانب سے بھی ایک حکم صادر ہوا ‘ یہ اصل حاکم مطلق کا حکم تھا ‘ اس نے پہلے حکم کو باطل کردیا۔ قلنا ینار کونی بردا وسلم ا علی ابرھیم (96) ” ہم نے کہا ” اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر “۔ چناچہ ان کا جلایا وہا الائو ابراہیم کے لیے ٹھنڈا بھی ہوگیا اور ان کے لیے سلامتی کا موجب بنا ‘ یہ کیسے ؟ یہ سوال صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) والے الائو کے بارے میں کیوں پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی بحث و مناظرہ میں تو اس سے جیت نہیں سکتے۔ اب صرف ایک ہی صورت ہے کہ (جو معبود ہماری بلکہ خود اپنی مدد نہیں کرسکتے) ہم ان کی مدد کریں اور ان کے دشمن کو سخت ترین سزا دیں۔ اگر ایسا نہ کرسکے تو ہم نے کچھ کام نہ کیا۔ چناچہ اس مشورہ کے موافق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلانے کی سزا تجویز ہوئی۔ گویا جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے بت توڑ کر ان کے دل جلائے تھے، یہ ان کو آگ میں جلا ڈالیں۔ آخر ظالموں نے جمع ہو کر نہایت اہتمام اور بےرحمی کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سخت بھڑکتی ہوئی آگ کی نذر کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 66–68

آیت 68 قَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِہَتَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ” چنانچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس میں ڈال دیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 عقلی میدان میں جب قوم حضرت ابراہیم کے سامنے نادم اور لاجواب ہوگئی تو اب ڈنڈے کے استعمال کی باتیں ہونے لگیں۔ اور جہلاء کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ جب دلیل و حجت کے میدان میں پٹ جائیں تو ضد بازی پر اتر آتے ہیں اور انہی اکثریت کے بل بوتے پر قوت کے استعمال پر اتر آتے ہیں۔ اب صورت حال یہ تھی کہ حضرت ابراہیم کا باپ آزر خود بت تراش، بت فروش اور عراق کے بادشاہ نمرود کا درباری مہنت تھا۔ اب اگر وہ حضرت ابراہیم کی بات مانتا تو اس کا روزگار۔ اس کی آمدنی کے ذرائع اور دربار میں اس کا مرتبہ و مقام سب کچھ ختم ہوتا تھا۔ لہذا قوم کے لوگوں سے بڑھ کر آزر ہی حضرت ابراہیم اور آپ کے دین کا دشمن بن گیا تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

85۔ مجرمین کو آگ میں ڈال کر جلادینے کی سزا اس وقت مختلف قوموں کے قانون میں عام تھی۔ روایات یہود میں آتا ہے کہ بادشاہ بابل نے ایک خاص بھٹی اس کے لئے تیار کرائی۔ پانچ پانچ گز کے دور میں لکڑی کا دھیر لگا کر اس میں آگ لگائی گئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں پھینکا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–75

آیت نمبر 68 تا 75 ترجمہ : کہنے لگے اسے یعنی ابراہیم کو جلا دو اور اس کو جلا کر اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو ان کی مدد کرنی ہی ہے چناچہ ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے بہت ساری لکڑیاں جمع کیں اور ان تمام لکڑیوں میں آگ جلا دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسیوں میں مضبوط باندھا اور ان کو ایک گوپھن میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا ہم نے آگ کو حکم دے کر کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی کی چیز بن جا، چناچہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا اور آگ کی حدت ختم ہو کر صرف اس کی روشنی باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے سلاماً کہنے کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا حرقوہ وانصروا الہتکم ان کنتم فعلین۔ اور کہنے لگے اس کو (آگ سے) جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم ایسا کرنے والے ہو (تو کرو) ۔ اِنْ کُنْتُمْشرط ہے کلام سابق جزاء پر دلالت کر رہا ہے اس لئے آگے جزاء کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ یہ بات ایک شخص نے کہی جس کا نام ہنون کہا گیا ہے اللہ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک دھنستا چلا جائے گا۔ بعض نے کہا یہ بات نمرود نے کہی تھی۔ جب نمرود اور اس کی قوم کا باتفاق آراء فیصلہ ہوگیا کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں جھونک دیا جائے تو آپ کو گرفتار کر کے ایک کوٹھری میں بند کردیا گیا اور باڑہ کی طرح کا ایک احاطہ بنایا یا قریۂ کو ثی میں ایک بہت بڑا گڑھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(68) ان کا سردار نمرود یہ سن کر کہنے لگا کہ نعوذ باللہ ابراہیم ؑ کو آگ میں جلا دو اور ان سے اپنے معبودوں کا بدلہ لینے لیے اگر تمہیں کچھ کرنا ہو تو بس ان کو آگ میں ڈال دو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا حَرِّقُـوْهُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِهَتَكُمْ : یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا تو نیکی اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یا بدی غالب آجاتی ہے۔ بدی کے غلبے کی صورت میں جب اس کے پاس کوئی دلیل نہیں رہتی اور وہ مکمل طور پر لاجواب ہوجاتا ہے تو اپنے مخالف کو دھمکیاں دیتا ہے۔ دیکھیے نوح ؑ کی قوم (شعراء : 116) ، ابراہیم ؑ کو ان کے والد کی دھمکی (مریم : 46) ، لوط ؑ کی قوم (شعراء : 167) ، شعیب ؑ کی قوم (اعراف : 88) ، فرعون کی موسیٰ ؑ کو دھمکی (شعراء : 29) اور جادوگروں کو دھمکی (شعراء : 49)۔ پھر اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے لاجواب کردینے والے حریف کو ختم کرنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–73

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–73

1:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا اے مجاہد کیا تو جانتا ہے اس شخص کو جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے ساتھ جلانے کا مشورہ دیا میں نے کہا نہیں پھر انہوں نے فرمایا فارس کے دیہاتیوں میں سے ایک آدمی تھا یعنی اکراد۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جمع کی گئی (لکڑی) اور ان کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے فرشتے نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے کب حکم ہوگا کہ میں بارش برساوں اور اللہ کا حکم بہت جلدی پہنچنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کونی برداوسلما “ تو زمین میں کوئی آگ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ حَرِّقُـوْهُ : تم لوگ جلا کر بھسم کر دو اس کو ] [ وَانصُرُوْٓا : اور تم لوگ مدد کرو ] [ اٰلِهَتَكُمْ : اپنے الہٰوں کی ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [ فٰعِلِيْنَ : (کچھ) کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49:۔ ” قَالپوْا حَرِّقُوْهُ الخ “ جب مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدلل گفتگو کے سامنے مبہوت و لاجواب ہوگئے تو اب اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے جیسا کہ باطل پرستوں کا دستور ہے اور آپس میں طے کیا کہ ابراہیم نے چونکہ ان کے معبودوں کی توہین کی ہے اور انہیں ذلیل و رسوا کیا ہے اس لیے اس فعل کی اس کو سزا دینی چاہئے اور اسے جلا کر خاک کردینا چاہئے۔ لما عجزوا عن الحاجۃ وضاقت بھم الحیل وھذا ؟ ؟ المبطل المحجوج ازبھت بالحجۃ وکانت لہ قدرۃ یفزع الی المناصیۃ (روح ج 17 ص 67) ۔ ” وَانْصُرُوْا اٰلِھَتَکم “ بتحریق ابراہیم لانہ یسبھا ویعیبھا (قرطبی ج 11 ص 303) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–77

ربط آیات : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا حَرِّقُـوْہُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِہَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ۝ 68 حرق يقال : أَحْرَقَ كذا فاحترق، والحریق : النّار، وقال تعالی: وَذُوقُوا عَذابَ الْحَرِيقِ [ الحج/ 22] ، وقال تعالی: فَأَصابَها إِعْصارٌ فِيهِ نارٌ فَاحْتَرَقَتْ [ البقرة/ 266] ، وقالُوا : حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ [ الأنبیاء/ 68] ، لَنُحَرِّقَنَّهُ [ طه/ 97] ، و ( لنحرقنّه) «3» ، قرئا معا، فَحَرْقُ الشیء : إيقاع حرارة في الشیء من غير لهيب، کحرق الثوب بالدّق «4» ، وحَرَقَ الشیء : إذا برده بالمبرد، وعنه استعیر : حرق الناب، وقولهم : يحرق عليّ الأرّم «5» ، وحرق الشعر : إذا انتشر، وماء حُرَاق : يحرق بملوحته،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–70

اس پر اور بھی وہ نادم اور خجل ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا دو چونکہ ان وحشی قوموں میں سخت جرم کی ایسی ایسی وحشیانہ سزائیں تھیں آگ میں ڈالا اللہ تعالیٰ نے آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر سرد اور راحت کردیا۔ صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے تب تو اور بھی لوگوں کو حیرت ہوئی اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) بھی ایمان لے آئے۔ ہاران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حقیقی بھائی تھا لوط ( علیہ السلام) اس کے بیٹے تھے ہاران اپنے باپ تارا کے روبرو جس کو آزر بھی کہتے ہیں وطن ہی میں مرگیا تھا ابراہیم (علیہ السلام) خداوند کے کہنے کے موافق روانہ ہوا اور لوط بھی اس کے ساتھ چلا 2 ؎…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْٓا اٰ لِھَتَـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۔ (الانبیاء : 68) (سب یک زبان ہو کر بولے) جلا ڈالو اس کو اور مدد کرو اپنی خدائوں کی اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سزا کا اعلان اہلِ باطل اور اربابِ اقتدار کا ہمیشہ یہ شیوہ رہا ہے کہ جب وہ دلائل کی جنگ ہار جاتے ہیں تو پھر تشدد پر اتر آتے ہیں بالخصوص ان کا مذہبی طبقہ جب اپنی پیشوائی کو خطرے میں دیکھتا ہے تو پھر وہ برہنہ طاقت بن کر میدان میں آجاتا ہے۔ یہاں چونکہ اقتدار اور مذہبی اجارہ دار ملی بھگت سے اس ملک پر حکومت کررہے تھے، ان کے لیے یہ بات انتہائی تشویشناک تھی کہ ان کی سیادت و امارت اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–68

فہم القرآن ربط کلام : قوم کے اقرار جرم کرلینے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انھیں ایک دفعہ پھر سمجھانا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خداداد صلاحیت اور پوری دانشمندی کے ساتھ ایک مکالمے کے ذریعے اپنی قوم کو اس مقام پر لے آئے کہ جب انھوں نے کھلے الفاظ میں اس بات کا اقرار کیا کہ اے ابراہیم ! تو جانتا ہے یہ تو پتھر اور مٹی کے بنے ہوئے بت ہیں جو بول نہیں سکتے۔ اس حقیقت کا اقرار کروانے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں پوچھا کیا پھر تم ان کے سامنے مراقبے، سجدے اور اپنی حاجات پیش کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان دے سکتے ہیں۔ تم پر اور تمہارے معبودوں پر نہایت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قومی فیصلہ : 68: قَالُوْا حَرِّقُوْہُ (کہنے لگے اس کو آگ سے جلادو) کیونکہ سزا دی جانے والی اشیاء میں سے یہ زیادہ ہولناک اور رسوا کن ہے۔ وَانْصُرُوْا ٰالِھَتَکُمْ (اور تم اپنے معبودوں کی مدد کرو) اس سے انتقام لے کر اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ (اگر تم کرنے والے ہو) تو کرو یعنی اگر تم اپنے معبودوں کی پوری مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے سب سے زیادہ خوفناک سزا کا انتخاب کرو اور وہ جلاکر خاکستر کردینا ہے۔ ورنہ تم ان کی امداد میں کوتاہی کرنے والے شمار ہوگے۔ نمبر 1۔ جس نے جلانے کا مشورہ دیا وہ نمرود تھا یا ایران کا ایک کردی جلانے کا مشورہ دینے والا تھا۔ ایک قول : یہ ہے کہ جب انہوں نے جلانے کا ارادہ کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالے جانے کا قصہ۔ 68۔ قالواحرقوہ وانصرو آلھتکم ان کنتم فاعلین۔ اور کہنے لگے کہ اس کو آگ میں جلادو اگر تم اپنے معبودوں کی مدد کرتے ہو۔ ابن عمر نے کہایہ اس شخص نے کہاجواکراد بستی کا تھا بعض نے کہا کہ اس کا نام ھیزن تھا۔ بعض نے کہا اس کا نام ہنون ہے، اللہ نے اس کو زمین میں دھنسادیا اور وہ قیامت تک دھنستا چلاجائے گا، بعض نے کہا یہ بات نمرود نے کی تھی جب نمرود اور اس کی قوم کا متفقہ فیصلہ ہوگیا کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں جھونک دیاجائے تو آپ کو گرفتار کرکے کوٹھری میں بندکردیا گیا اور باڑہ کی طرح ایک احاطہ بنایا یاقریہ کو ثی میں ایک بہت بڑا گڑھا کھودا گیا اور ٹھوس قسم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–70

68۔ 70:۔ جب عقلی حجت میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے باپ نمردو اور نمرود کے ساتھ کے لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر غالب نہ آسکے تو اس وقت ان سب لوگوں نے صلاح کر کے یہ بات نکالی کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیں۔ اس قصہ کے وقت حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی عمر سولہ برس 2 ؎ تھی۔ تفسیر سدی 3 ؎ میں ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کو ایسا اچھا سمجھتے تھے کہ ایک عورت بھی ان لوگوں میں بیمار ہوتی تھی تو یہ نذر مانتی تھی کہ اگر وہ اچھی ہوجائے گی تو ایک گٹھا لکڑیوں کا اس انبار میں ڈلوا دے گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ جب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

89 حضرت ابراہیم کو جلا دینے کا حکم : سو آخرکار مشرکوں کی طرف سے حضرت ابراہیم کو جلا ڈالنے کا حکم جاری کردیا گیا۔ سو انہوں نے کہا کہ " جلا ڈالو اس کو " اور عقل کے ماروں کا آخری جواب تشدد کی دھمکی اور ظلم و زیادتی ہی ہوتا ہے۔ سو یہ ایسے ظالموں کا ہمیشہ کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ جب حجت وبرہان کے میدان میں عاجز آجاتے ہیں تو قوت اور ظلم کی زبان پر اتر آتے ہیں۔ بقول شاعر ۔ چوں حجت نماند جفا جوئے را ۔ پرخاش برہم کشد روئے را ۔ سو ان ظالموں نے بھی حضرت ابراہیم کے اس قول حق و صدق کے جواب میں ایسا ہی کیا اور ان کی معقول باتوں اور دردمندانہ نصیحتوں پر کان دھرنے کی بجائے اپنے فرعونی لب و لہجہ میں کہا کہ ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 65–68

ف 2 ۔ یعنی پہلے تو صحیح بات کی مگر پھر ان کی عقل لوندھی ہوگئی اور مجادلہ اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 66–69

(21:69) کونی۔ فعل امر۔ واحد مؤنث حاضر۔ تو ہوجا۔ (نار سے خطاب ہے) ۔ سلما۔ کونی سلما۔ تو سلامتی کا باعث بن جا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 67–70

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالنے کا قصہ اور آگ کے گلزار ہونے کا ذکر۔ (1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے قوم کے لوگ اگرچہ بت پرستی کی برائی کو سمجھ گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں وہ لوگ دوزخی ٹھہر چکے تھے اس لیے بجائے اس کے وہ لوگ حضرت ابراہیم کی نصیحت کی کچھ قدر کرتے ، انہوں نے حضرت ابراہیم کے بارے میں یہ بات نکالی کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈال دیں اور اپنے معبودوں کا ان سے بدلہ لیں اس لیے کہ تمہارے معبودوں کے ساتھ گستاخی کی ہیے اگر تمہیں کرنا ہے تو کر گزرو، پھر آپ کو ایک مکان میں قید کرلیا اور قریہ کو ثی میں ایک عمارت بنوائی اور ایک ماہ تک بکوشش تمام قسم قسم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–68

[35] ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے فرمایا، '' جی اور کیا کہیں ان کے بڑے گروہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ ان بتوں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟ ''

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–68

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تدبیر اصلاح ! : (ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ کو اگر اس حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس کے عام مفہوم کو مد نظر رکھا جائے ، جو لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مقام پر جھوٹ بولا تو طبیعت میں سخت خلجان پیدا ہوتا ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ صحیح حدیث بھی قرآن کے مخالف مفہوم کو بیان کرسکتی ہے اور یا پھر انبیاء سے کذب کا صدور ممکن ہے ، اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں ، نہ حدیث قرآن کے مخالف ہے ، اور نہ قرآن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تکذیب کا کہیں ذکر ہے ، اس سلسلہ میں ذیل کی باتیں پیش نظر رہنا چاہئیں ۔ 1۔ قرآن میں ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(68) وہ مشرک آپس میں کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کا بدلہ لو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو یہ کرو۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا کر ختم کردو اور اپنے ٹھاکروں کی مدد کرو کیونکہ یہ تو کچھ کر ہی نہیں سکتے اور چونکہ ان کے ساتھ ابراہیم (علیہ السلام) نے بڑی گستاخی کی ہے اس لئے اس سے بدلہ لو اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو بس یہ کام کرو۔ چناچہ یہی طے ہوا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے ایندھن جمع کیا گی ایک احاطہ بنوایا گیا۔ آگ روشن کی گئی جب شعلے بھڑک گئے تو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو منجنیق میں بٹھا کر اس آگ میں ڈالا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–68

ف 6۔ اگر یہ شق فاعلیت و ناطقیت کی باطل ہے تو عجز ان کا تمہارے نزدیک مسلم ہوگیا، پھر اعتقاد الوہیت کی کیا وجہ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے مخالفین نے آپ کو سزا دینے اور اپنے معبودوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا : 68۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کو جس طرح دبایا اس کا ذکر آپ پیچھے تین چار آیتوں میں بڑی تفصیل کے ساتھ پڑچکے ۔ عقل وفکر کے ساتھ وہ لوگ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو کوئی جواب نہ دے سکے اور آخر کار انہوں نے آپس میں مل کر مشورہ کیا کہ معبودوں کا حشر بھی آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے اور جس طرح اس نے ہم کو لاجواب کردیا ہے یہ بات بھی تمہاری آنکھیں دیکھ رہی ہیں اب اگر کوئی بھرپور وار کر کے ابراہیم اور اس کے حواریوں کا دفاع نہ کیا گیا تو یہ لوگ تو نہ آپ کو چھوڑیں گے اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–68

The words of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) were not untrue, but only allusions قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُ‌هُمْ هَـٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ (He said, "Rather, this is done by this chief of theirs. So, ask them if they were to speak." - 21:63) When the community of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) got hold of him and asked him to confess his guilt, he said "The big one among them has done it. Why don't you ask him, if he can speak"? The point to consider here is that the idols were broken by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and its denial and attributing the deed to the big…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–68

61. Literally the original text means: They were turned down upon their heads. Some commentators have interpreted it to mean: They hung down their heads with shame. But this does not fit in the context and the wording of the text. The right interpretation would be: When they considered the answer of Prophet Abraham (peace be upon him), they realized that they themselves were in the wrong, because they had set up helpless idols as deities, which could not even speak a word as to who had broken them. But soon after this, they were overpowered by obduracy and ignorance which perverted their…

Read the full tafseer →