Explained with ayahs 71–75
ہجرت خلیل ؑ
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
سورة الْاَنْبِیَآء 67
" حکم اور علم بخشنا " بالعموم قرآن مجید میں نبوت عطا کرنے کا ہم معنی ہوتا ہے۔ " حکم " سے مراد حکمت بھی ہے، صحیح قوت فیصلہ بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سند حکمرانی (Authority) حاصل ہونا بھی۔ رہا " علم " تو اس سے مراد وہ علم حق ہے جو وحی کے ذریعہ عطا کیا گیا ہو۔ حضرت لوط کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو۔ الاعراف، آیات 80 تا 84۔ ھود۔ آیات 69 تا 83۔ الحجر، آیات 57 تا 76۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
خلاصہ تفسیر
اور لوط (علیہ اسلام) کو ہم نے حکمت اور علم (مناسب شان انبیاء) عطا فرمایا اور ہم نے ان کو اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے گندے گندے کام کیا کرتے تھے (جن میں سے سب سے بدتر لواطت تھی اور بھی بہت سے بیہودہ اور برے افعال کے یہ لوگ عادی تھی۔ شراب خوری، گانا بجانا، داڑھی کٹانا، مونچھیں بڑھانا، کبوتر بازی، ڈھیلے پھینکنا، سیٹی بجانا، ریشمی لباس پہننا، اخرجہ اسحاق بن بشر والخطیب وابن عساکر عن الحسن مرفوعا کذا فی الروح) بلاشبہ وہ لوگ بڑے بد ذات بدکار تھے اور ہم نے لوط کو اپنی رحمت میں (یعنی جن بندوں پر رحمت ہوتی ہے ان میں) داخل کیا (کیونکہ) بلاشبہ وہ بڑے (درجہ کے) نیکوں میں سے تھے (بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 75-74
حضرت لوط پر حکم اور حلم کا انعام
اوپر حضرت لوط کا ذکر حضرت ابراہیم کے تعلق سے آیا تھا۔ اب یہ ان کا مستقل ذکر فرمایا کہ ان کو بھی ہم نے حکم اور علم عطا کیا۔ ’ حکم ‘ سے مراد فیصلہ کی قوت و صلاحیت ہے اور علم سے مراد علم نبوت ہے پہلی چیز عقل و فطرت کی پاکیزگی کا ثمرہ ہے، دوسری چیز وحی الٰہی کی برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو منصب نبوت کے لئے انتخاب فرمایا وہ نخل فطرت کے بہترین ثمر تھے۔ انہوں نے اپنی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ یہاں تک کہ ان کا باطن نور حکمت سے منور ہو کر نو روحی کے اخذ و اکتساب کے قابل ہوگیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو نور وحی سے فیضیاب فرمایا تو وہ نور علی نور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
72۔ 1 نَا فِلَۃ، زائد کو کہتے ہیں، یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے تو صرف بیٹے کے لئے دعا کی تھی، ہم نے بغیر دعا مذید پوتا بھی عطا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
30: بستی سے مراد سدوم اور اس کے ملحقات ہیں۔ (تفسیرعثمانی)
یوں تو یہ قوم بہت سے گندے کاموں میں مبتلا تھی، لیکن ان کی جس گھناؤنی حرکت کا قرآن کریم نے خاص طو رپر ذکر کیا ہے وہ ہم جنس پرستی یعنی مردوں کا مردوں سے جنسی لذت حاصل کرنا ہے، اس کا مفصل تذکرہ سورة ہود (11۔ 77، 83) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ولوطا۔۔۔۔۔۔۔۔ انہ من الصلحین (47 : 57) ” ‘۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اس سے پہلے مفصل گزرچکا ہے۔ یہاں اس کی طرف بالکل مجمل اشارہ ہوا ہے۔ عراق سے شام تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) دونوں ایک ساتھ آئے۔ انہوں نے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ اہل سدوم خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے تھے ۔ مرد مردوں کے ساتھ اعلانیہ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے اور اس میں کوئی ہرج نہ سمجھتے تھے۔ چناچہ یہ گائوں پوری آبادی سمیت ہلاک کردیا گیا۔
انھم کانوا قوم سوء فسقین (12 : 47) ” درحقیقت یہ بہت ہی بری فاسق قوم تھی “۔ لوط (علیہ السلام) اور آپ کی پوری فیملی ماسوائے ان کی بیوی کے ‘ بچا لئے…
Read the full tafseer →3 یعنی حکمت و حکومت اور علم و فہم جو انبیاء کی شان کے لائق ہو۔
4 بستی سے مراد " سدوم " اور اس کے ملحقات ہیں۔ وہاں کے لوگ خلاف فطرت افعال کے مرتکب اور بہت سے گندے کاموں میں مبتلا تھے۔ ان کا قصہ پہلے کئی جگہ گزر چکا۔
Read the full tafseer →آیت 74 وَلُوْطًا اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا ”
حکم سے حکمت ‘ فہم اور قوت فیصلہ مراد ہے۔
وَّنَجَّیْنٰہُ مِنَ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبآءِثَ ط ”
یعنی اس بستی کے لوگ گندے کاموں میں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
61 حضرت ابراہیم نے بڑھاپے کی عمر اولاد کے لئے دعا کی تو اللہ نے حضرت اسحاق عطا فرمایا پھر حضرت ابراہیم نے بیٹے حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوئے اور تینوں ہی تھے اور یہ تو واضح ہے کہ نبی اپنے دور کا صالح ترین فرد ہوتا ہے اور ان سب انبیاء کی شریعتوں میں نماز اور زکوٰۃ ایسے ہی فرض تھی جیسے شریعت محمدیہ میں فرض کی گئی ہے البتہ جزئیات کا اختلاف ہوتا ہی رہا ہے۔
Read the full tafseer →92۔ (ان کے مرتبہ وشان کے متناسب) (آیت) ” حکما وعلما “۔ دونوں پر تنوین مرتبہ حکمت وعلم کی تعظیم وشان کے لئے ہے۔ اعلم ان ادخال التنوین علیھما یدل علی علوشان ذلک العلم وذلک الحکم (کبیر)
93۔ لوط (علیہ السلام) پر اور ان کی امت کی بدکاریوں پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے۔ ان کی اصلی اور سب سے بڑی بدکاری کا شارح تو خود لفظ لواطت ہے۔ باقی وہ قوم اور بھی اخلاقی پستیوں میں پڑی ہوئی تھی۔ روایات یہود میں آتا ہے کہ خیر و خیرات کرنا غریبوں کو کھلانا پلانا ان کی سوسائٹی میں ایک شدید جرم تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” قریۃ “ سے مراد اہل قریہ ہیں (ابن عباس ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
آیت نمبر 68 تا 75
ترجمہ : کہنے لگے اسے یعنی ابراہیم کو جلا دو اور اس کو جلا کر اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو ان کی مدد کرنی ہی ہے چناچہ ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے بہت ساری لکڑیاں جمع کیں اور ان تمام لکڑیوں میں آگ جلا دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسیوں میں مضبوط باندھا اور ان کو ایک گوپھن میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا ہم نے آگ کو حکم دے کر کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی کی چیز بن جا، چناچہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا اور آگ کی حدت ختم ہو کر صرف اس کی روشنی باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے سلاماً کہنے کی وجہ…
Read the full tafseer →ولوطا اتینہ حکما وعلما ونجینہ من القریۃ التی کانت تعمل الخبئث اور ہم نے لوط کو دیا
حکم و علم ‘ حکمت یا نبوت یا مقدمات کو (فیصل کرنے کی قوت) اور ہم نے اس کو اس بستی سے جو گندی حرکات کرتی تھی بچا لیا۔ علم سے مراد ہے اللہ کی ذات وصفات کا اور پیغمبرانہ اوصاف کا علم۔ التِّیْ کَانَتْ تَّعْمل یعنی بستی والے گندے کام کرتے تھے خبائث سے مراد ہے لواطت اور غلے مارنا اور پرندوں سے کھیلنا وغیرہ۔
انہم کانوا قوم سوء فسقین۔ بلاشبہ وہ بڑے بدکار نافرمان لوگ تھے۔ یہ جملہ سابق کلام کی علت ہے۔
Read the full tafseer →(74) اور لوط ؑ کو بھی ہم نے عقل سلیم اور نبوت عطا کی اور سدوم بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے برے برے کام کیا کرتے تھے یعنی لواطت بیشک وہ لوگ اپنے کفر میں بڑے بد ذات اور ان افعال لواطت وغیرہ میں بہت ہی بدکار تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
وَلُوْطًا اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا۔۔ : لوط ؑ کا ذکر الگ کرنے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انھیں پہلے تینوں انبیاء کے علاقے اور قوم کے علاوہ کسی دوسرے علاقے اور قوم کی طرف بھیجا گیا تھا۔ لوط ؑ کا قصہ سورة اعراف (80) ، ہود (81) اور حجر (61) میں گزر چکا ہے۔ ان کی بستی کے خبیث اعمال کا ذکر گزشتہ سورتوں کے علاوہ سورة عنکبوت (28 تا 35) اور سورة قمر (33 تا 37) وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ اس بستی کا نام سدوم مشہور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولوطاً اتینہ حکما و علماً لوط فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے جس پر بعد والا فعل دلالت کر رہا ہے۔ یعنی و آتینا لوطاً آیناہ۔ بعض علماء نے فرمایا : اصل میں اذکر لوطاً ہے۔ الحکم سے مراد نبوت ہے۔ العلم سے مراد امر دین کی معرفت ہے اور وہ علم ہے جس کے ذریعے جھگڑنے والوں کے درمیان فیصلہ کیا جاتا ہے۔ بعض نے فرمایا : علماء نے مراد فہم ہے۔ مفہوم تمام اقوال کا ایک ہی ہی ہے۔ و نجینہ من القریۃ التی کا نت تعمل الخبائث قریۃ سے مراد سدوم کا شہر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ سات شہر ہیں۔ چھ شہروں کو حضرت جبریل نے الٹ دیا تھا اور ایک شہر کو حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ کے عیال کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
1:۔ ابن عساکر نے ا بوامامہ باہلی (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم میں دس عادتیں تھیں کہ جن کے ذریعہ ہو پہنچانے جاتے تھے کبوتروں سے کھیلنا، غلیل سے ڈھیلے پھینکنا، منہ سے سیٹیاں بجانا، مجلسوں میں بیٹھ کر کنکریاں پھینکنا، بالوں کو پھیلانا، مصطگی چبانا۔ چادر نیچے لٹکانا، برہنہ ہونا، مردوں سے بدکاری کرنا، شراب کی محفل سجانا اور عنقریب یہ امت ان برائیوں پر اضافہ کرے گی۔
2:۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں اور ابن عساکر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کی عادات میں سے اس قوم میں چھ عادتیں ہیں غلیلیں چلانا، سیٹیاں مارنا، ڈھیلے پھینکنا، کنکریاں مارنا، برہنہ…
Read the full tafseer →[ وَلُوْطًا : اور لوط (علیہ السلام) کو ] [ اٰتَيْنٰهُ : ہم نے دی ان کو ] [ حُكْمًا : حکمت ] [ وَّعِلْمًا : اور علم ] [ وَّنَجَّيْنٰهُ : اور ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] [ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ : اس بستی سے جو ] [ كَانتْ تَّعْمَلُ : عمل کرتی تھی ] [ الْخَـبٰۗىِٕثَ ": خباثتوں کے ] [ انهُمْ : بیشک وہ لوگ ] [ كَانوْا : تھے ] [ قَوْمَ سَوْءٍ : برائی کی قوم ] [ فٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والے ]
Read the full tafseer →حضرت لوط (علیہ السلام) پر انعام، بد کار بستی سے نجات، اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونا
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کرکے شام میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت اور علم عطا فرمایا اور نبوت سے نوازا۔ شام میں چند بستیاں تھیں جو اردن کے قریب تھیں۔ ان کی طرف انہیں مبعوث فرمایا۔ وہ لوگ بڑے بد کار تھے۔ مردوں اور لڑکوں سے شہوت زنی کرتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے برے اعمال میں مشغول رہتے تھے۔ ایک گناہ دوسرے گناہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ جب کوئی قوم مردوں سے شہوت زنی کے عمل کو اپنا لے اور اپنے رواج میں داخل کرلے تو اس کے بعد دوسرے اعمال کا ارتکاب کرنا معمولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
(3) قصہ حضرت لوط (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولوطا اتینہ حکما وعلما .... الیٰ .... انہ من الصلحین۔
یہ تیسرا قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اللہ کے عباد صالحین اور عابدین میں سے تھے اور لوط (علیہ السلام) کو ہم نے علم و حکمت عطاء کی یعنی ان کو نبوت عطاء کی۔ اور ہم نے ان کو اس بستی سے نجات دی۔ جہاں کے باشندے نہایت خبیث اور گندے کام کرتے تھے وہ بستی سدوم تھی جن افعال خبیثہ اور شنیعہ کے یہ لوگ عادی تھے ان میں سب سے زیادہ گندہ فعل لواطت تھا اور اس کے علاوہ اور بھی برے افعال کے خوگر تھے مثلاً رہزنی اور کبوتر بازی اور گانا بجانا اور شراب خوری اور ڈاڑھی کٹانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
52:۔ ” وَلُوْطًا اٰتَیْنَاہُ الخ “ یہ تیسری تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ قوم لوط جب حضرت لوط کی تبلیغ و اصلاح کے باوجود اپنی خباثت اور بدعملی سے باز نہ آئی تو اللہ نے اس پر عذاب نازل فرما کر اسے ہلاک کردیا اور حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچالیا اور اسے اپنی رحمت میں داخل کرلیا ” اٰتَیْنَاہُ حُکْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ “۔” وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا “ مجرمین کو ہلاک کرنا اور مطیعین کو بچانا ہمارا ہی کام ہے کسی دوسرے کو اس کی طاقت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی…
Read the full tafseer →وَلُوْطًا اٰتَيْنٰہُ حُكْمًا وَّعِلْمًا وَّنَجَّيْنٰہُ مِنَ الْقَرْيَۃِ الَّتِيْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَـبٰۗىِٕثَ 0ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِيْنَ 74ۙ
حكم
والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58]
( ح ک م ) حکم
الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
1 ؎ یعنی ملک شام میں لے آئے جہاں باعتبار پیداوار کے بڑی برکت ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اصلی وطن ملک عراق تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
وَلُوْطًا اٰ تَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا وَّنَجَّیْنٰـہُ مِنَ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓـئِثَط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمَ سَوْئٍ فٰسِقِیْنَ ۔ وَاَدْخَلْنٰـہُ فِیْ رَحْمَتِـنَا ط اِنَّـہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔
(الانبیاء : 74، 75)
(ہم نے حضرت لوط کو قوت فیصلہ اور علم کی نعمت عطا فرمائی اور ہم نے انھیں اس بستی سے نجات دی جس بستی کے رہنے والے خبائث کا ارتکاب کرتے تھے، وہ لوگ تھے ہی نافرمان۔ اور ہم نے لوط کو خاص اپنی رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ نیک بختوں میں سے تھے۔ )
حضرت لوط (علیہ السلام) پر عنایات
حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر سابقہ آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے اور نبی حضرت لوط (علیہ السلام) کا تعارف۔
حضرت لوط (علیہ السلام) جناب ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے آپ نے اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تائید فرمائی جب عوام اور حکومت نے متفقہ فیصلہ کر کے آپ کو آگ میں جھونک دیا تھا۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو صحیح وسالم آگ سے نکالا تو کوئی بھی ایمان نہ لایا سوائے لوط (علیہ السلام) کے۔
” لوط (علیہ السلام) کے سوا ابراہیم (علیہ السلام) پر کوئی ایمان نہ لایا۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کی طرف ہجرت کررہا ہوں یقیناً اللہ عزیز اور حکیم ہے۔ “ [ العنکبوت : 26]
حضرت لوط (علیہ…
Read the full tafseer →74: وَلُوْطًا (اور لوط (علیہ السلام) کو) یہ اس فعل کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر اتیناہ حکمًا کررہا ہے۔ اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا (ہم نے ان کو حکمت و علم عنایت فرمایا) حکم سے مراد حکمت ہے اور وہ ایسے فعل کو کہتے ہیں جس میں عمل ضروری ہو۔ نمبر 1۔ جھگڑے کا فیصلہ۔ نمبر 2۔ نبوت۔
عِلْمًا (اور علم) یعنی سمجھ وَّ نَجَّیْنٰـہُ مِنَ الْقَرْیَۃِ (اور ہم نے ان کو ایسی بستی سے نجات دی) القریۃ سے اہل قریہ مراد ہیں۔ اور مراد اس سے سدوم ہے۔ الَّتِیْ کَانَتْ تَّعْمَلُ الْخٰبٰٓئِثَ (جو کہ گندی حرکات کرتی تھی) لواطت، گندی ہوا زور سے چھوڑنا، گزرنے والوں کو کنکریاں مارنا وغیرہ۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
74۔ ولوطا آتیناہ ، اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو دیا۔ بعض نے کہا کہ یادکرو لوط کو کہ ہم نے ان کو عطا کیا۔ حکما، مقدمات کے درمیان فیصلے کرنے کا علم، وعلما، ونجیناہ من القریۃ التی کانت تعمل الخبائث، اس سے مراد بستی سدوم ہے۔ اس بستی والے لوگ لواطت کرتے تھے اور بڑی بڑی مجلسوں میں دبر سے اونچی آواز (گوز) نکالتے تھے اور یہ لوگ ایسے اعمال کرتے تھے جو شریعت میں منع کردہ ہیں۔ انھم کانوا قوم سوء فاسقین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
71۔ 75:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ کے صدمہ سے بچایا ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ سے بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں پہنچا دیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فقط بیٹے کی دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو بیٹا بھی دیا اور پوتا بھی دیا اور ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگوں کو نیک راہ کی سمجھ آگئی۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 74-75
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول لوط (علیہ السلام) کی مدح وثناء ہے کہ وہ شریعت کا علم رکھتے تھے، نیز یہ کہ وہ لوگوں کے درمیان صواب اور راستی کے ساتھ فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قوت کی طرف مبعوث فرمایا وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے انہیں ان کی بدکاریوں اور فواحش سے روکتے تھے۔ پس وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر انہوں نے ان کی دعوت پر لبیک نہ کہی۔ تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کردیا (کانوا قوم سوء فسقین) کیونکہ وہ بڑے ہی برے اور فاسق لوگ تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے داعی کو جھٹلایا اور انہیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
95 انبیائے کرام کو بھی اولاد اللہ ہی دیتا ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اولاد دینا اللہ تعالیٰ ہی کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ حضرات انبیاء ورسل بھی اسی کے محتاج ہیں۔ یہاں پر ان انعامات کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے جن سے حضرت ابراہیم کو ہجرت کے بعد نوازا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے ابراہیم کو اسحاق جیسے عظیم الشان بیٹے اور یعقوب جیسے عظیم الشان پوتے سے نوازا " کہ بیٹے پوتے بخشنا اور اولاد کی نعمت سے نوازنا بھی ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے۔ اور حضرت ابراہیم جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ سو کتنے گمراہ اور کیسے بہکے بھٹکے ہیں وہ لوگ جو اولاد کی نعمت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
سیدنا لوط (علیہ السلام) کی نبوت اور نجات کا تذکرہ
تشریح : سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر الاعراف آیات 80 تا 84 ھود ‘ آیات 69 تا 83 ۔ الحجر ‘ آیات 57 تا 76 میں تفصیلاً ہوچکا ہے۔ آپ کو علم و حکمت اور دانائی دی گئی تھی آپ کو بھی عراق سے نکال کر شام و فلسطین کی سرزمین میں پناہ دی گئی۔ یہ سرزمین دینی و دنیاوی دونوں لحاظ سے مبارک اور بابرکت ہے۔ کیونکہ یہ انتہائی زرخیز علاقہ اور روحانی لحاظ سے یوں کہ 2 ہزار برس تک یہ علاقہ انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن رہا۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کو گندی قوم سے نکالا اس قوم پر عذاب الٰہی آیا۔ اور ان کے لیے فرمایا ” اور اسے ہم نے اپنی رحمت میں لے لیا ‘ وہ نیک بختوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
ف 8 ۔ یعنی صرف کود ہی فرمانبردار نہ تھے بلکہ ہمارے وحی کے مطابق دوسروں کو بھی حق کی طرف دعوت دیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ ہر قسم کی دعوت دارشاد کا کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
(21:72) نافلۃ۔ ابوحبان کے نزدیک یہ مصدر ہے جیسے عافیۃ وعاقبۃ اور وھبنا کے بعد بطور مصدر کے آنے کی وجہ سے منصوب ہے جیسے کہتے ہیں قعدت جلوسا۔ اور بمعنی عطاء فضل ہے یعنی ہم نے بطور عطاو فضل کے اس کو اسحاق اور یعقوب دئیے۔ یا نافلۃ بمعنی زیادۃ وفضلا ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے لئے دعا کی تھی ہم نے اسے اسحاق بیٹا بھی دیا اور مزید برآں یعقوب بھی عطا کیا بغیر سوال کے۔ اس صورت میں نافلۃ حال ہے یعقوب سے اور بدین وجہ منصوب ہے۔ نفل عبادت کو بھی نفل اسی لئے کہتے ہیں کہ فرائج اور واجبات سے زائد اور ان کے علاوہ ہے۔
کلا۔ سب کو۔ ہر ایک کو۔ کل کو۔ جعلنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ۔ کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75
نجینا ہم نے نجات دی۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ نافلۃ عطیہ، ضرورت سے زائد۔ ائمۃ (امام) رہنما، پیشوا۔ فعل الخیرات بھلائیوں کے کام، نیک کام۔ حکم حکمت، نبوت۔ الخبائت گندگیاں، بدکاریاں۔
تشریح :- آیت نمبر 71 تا 75
گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مشرکین نے آگ کے الاؤ میں جھونک دیا تھا اور اتنی زبردست آگ میں پھینکنے کے بعد وہ اس سے مطمئن تھے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے گل و گلزار بنا دیا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ حضرت ابراہیم اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں (کہ جہاں کثرت سے انبیاء (علیہ السلام) ہوئے) پہنچادیا اور حضرت ابراہیم نے فقط بیٹے کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگ کو نیک راہ کی سمجھ آگئی اور نماز زکوۃ اور ہر طرح کے نیک کاموں کے بجالانے کا حکم دیا اور اپنی ذات سے بھی اس حکم کی انہوں نے پوری تعمیل کی جب حضرت ابراہیم نے ہجرت کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
[38] حکم سے مراد فیصلے کی قوت و صلاحیت ہے اور علم سے مراد علم نبوت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو لوگ اس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے لئے دنیا کی تمام لذتوں اور رشتوں کو قربان کردیتے ہیں ، وہ ان کو دنیا میں خیروبرکت کا بڑا حصہ دار بنا دیتا ہے ، اور ان کو عام دنیا داروں سے کسی طرح کم حیثیت میں نہیں رہنے دیتا ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ تیاگ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت سے نوازا اور اولاد صالح عطا کی ، جو سب کے سب منصب قیادت و امامت پر فائز ہوئے اور اس سے بڑھ کر اور کیا مسرت ہوسکتی ہے ، کہ ایک شخص اپنی اولاد کو اپنے سامنے کامیاب وکامران دیکھے اسی طرح ارشاد فرمایا کہ ہم نے لوط کو جو ابراہیم (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →(74) اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو حکمت یعنی نبوت اور علم عطا فرمایا اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اس شہر سے بچا نکالا جس شہر کے لوگ ناپاک اور گندے کام کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ لوگ بہت برے اور بدکار تھے۔
یعنی سدوم کی بستیوں میں حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبی بناکربھیجا تھا وہاں کے لوگ ہر قسم کی برائی اور بدکاریوں میں مبتلا تھے یہ سمجھاتے رہے مگر وہ باز نہ آئے ان کی بیوی بھی کافروں سے مل گئی۔ جب وہ ہر طرح ان کے درپے آزاد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بستی والوں پر عذاب بھیجا اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو عذاب سے قبل بچالیا۔ عام طور سے یہ لوگ اغلام بازی، ڈاکہ ڈالنا، لوگوں کو لوٹنا، مسافروں کو غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
ف 4۔ اعلی درجہ کی نیکی کا مصداق عصمت ہے جو بشر میں خواص نبوت سے ہے، پس مراد یہ ہے کہ ان سب کو نبی بنایا۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) کو علم و حکمت دیئے جانے کا مختصر ذکر :
74۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے اور بھائی حاران کے بیٹے تھے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے اور آپ ہی کے ساتھ اپنے وطن سے ہجرت کی تھی اور ان کی بیوی بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کرکے آئی تھی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس بیوی نے آپ کی مخالفت کی اور وہ آپ کے ساتھ ہجرت کے لئے نہ نکلی وہ یقینا کوئی دوسری بیوی ہوگی جو اس ہجرت کے بعد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ آپ نے کی تھی اس کے بعد اس سے نکاح کیا ہوگا جو اس قوم سے تعلق رکھتی تھی جس قوم کی طرف آپ کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
Commentary
The name of the city from which Sayyidna Lut (علیہ السلام) was saved and which has been mentioned in these verses was Sodom. There were seven other townships under this city which were thrown upside down by Jibra'il (علیہ السلام) except one which was left intact for Lut (علیہ السلام) and his followers. (Ibn ` Abbas, Qurtubl)
تَّعْمَلُ الْخَبَائِثَ (21:74) خَبَائِثَ (Khaba'ith) is the plural of خَبِئیثَہ meaning wickedness. Too many wicked things collectively are called Khaba'ith (خَبَائِثَ ). Their most abominable practice in which even the animals do not indulge, was sodomy or…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
67. The original Arabic word hukm is very comprehensive. It means judgment, wisdom and discretion, and authority from Allah. Ilm stands for the revealed knowledge of the truth. Thus, We bestowed hukm and ilm on Lot. We appointed Lot as a Prophet. (For the story of Lot, see (Surah Al-Aaraf, Ayats 80-84); (Suran Younus, Ayats 70-83); (Surah Al-Hijr, Ayats 57-74)and the E.Ns there of).
Read the full tafseer →