Al-Anbiyaa 21:65

Al-Anbiyaa · from ayah 65

21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰی رُءُوْسِهِمْ ۚ— لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ ۟ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ‌ۚ لَـقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰٓؤُلَاۤءِ يَنۡطِقُوۡنَ

پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then they reversed themselves, [saying], "You have already known that these do not speak!"

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:65

مگر پھر اُن کی مت پلٹ گئی اور بولے "تُو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اپنے سروں کے بل اوندھے ہوگئے (اور کہنے لگے کہ) یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ بولنے چالنے والے نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر انہوں نے اپنے سر جھکا لیے، اور کہا : تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اپنے سروں کے بل اوندھائے گئے کہ تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کر دیئے گئے (یعنی ان کی عقلیں اوندھی ہوگئیں اور کہنے لگے:) بیشک (اے ابراہیم!) تم خود ہی جانتے ہو کہ یہ تو بولتے نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ اپنے سروں پر الٹے کردیے گئے، بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر لا جواب ہو کر شرم کے مارے سرنگوں ہوگئے۔ اور کہنے لگے (یہ تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ یہ (بت) بولتے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر اوندھے ہوگئے، بولے کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر مارے ندامت کے وہ اوندھے ہوگئے اپنے سروں کو جھکا کر اور کھسیانے ہو کر ابراہیم سے کہنے لگے کہ تم خود اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ بول نہیں سکتے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اپنے سروں کو جھکا لیا۔ (اے ابراہیم) تمہیں تو خوب معلوم ہے کہ یہ (ٹھاکر) کچھ بولتے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کردیے گئے تم تو جانتے ہو کہ یہ بول نہیں سکتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر شرمندہ ہو کر سر جھکا لیے اور پھر بولے تو تو جانتا ہے یہ بولتے نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then their minds were turned upside down, and they said: "You know well that they do not speak."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, hanging their heads they reversed their position (and replied to Ibrahim,) :You already knew that they do not speak.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, hanging their heads they reversed their position (and replied to Ibrahim,) :You already knew that they do not speak.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then they turned to themselves: "Indeed you know well that these speak not!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they were utterly confounded, and they said: Well thou knowest that these speak not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then they reversed themselves, [saying], "You have already known that these do not speak!"

— Saheeh International

With their heads cast down they said, "Abraham, you know that idols do not speak. How then can you ask such a question?"

— Muhammad Sarwar

Then they were made to hang down their heads: Certainly you know that they do not speak.

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter they were made to turn over upon their heads, saying, assuredly thou knowest that they speak not.

— Abdul Majid Daryabadi

Then were they confounded with shame: (they said), "Thou knowest full well that these (idols) do not speak!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 64–67

اپنی حماقت سے پریشان کافر بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہوگیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کرکے بات بنائی کہ آپ جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ بت بےزبان ہیں ؟ عاجزی حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا اب حضرت خلیل اللہ ؑ کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ فوراً فرمانے لگے کہ بےزبان بےنفع وضرر چیز کی عبادت کیسی ؟ تم کیوں اس قدر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–68

سورة الْاَنْبِیَآء 61 اصل میں نُکِسُوْا عَلیٰ رُءُوْسِھِمْ (اوندھا دیے گئے اپنے سروں کے بل) فرمایا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ انہوں نے خجالت کے مارے سر جھکا لیے۔ لیکن موقع و محل اور اسلوب بیان اس معنی کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ صحیح مطلب، جو سلسلہ کلام اور انداز کلام پر نظر کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے، یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا جواب سنتے ہی پہلے تو انہوں نے اپنے دلوں میں سوچا کہ واقعی ظالم تو تم خود ہو، کیسے بےجس اور بےاختیار معبودوں کو خدا بنائے بیٹھے ہو جو اپنی زبان سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان پر کیا بیتی اور کون انہیں مار کر رکھ گیا، آخر یہ ہماری کیا مدد کریں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–68

حضرت ابراہیم ؑ کا قول جھوٹ نہیں بلکہ ایک کنایہ تھا اس کی تفصیل و تحقیق بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ یعنی جب ابراہیم ؑ کو ان کی برادری نے گرفتار کرکے بلایا اور ان سے اقرار لینے کے لئے سوال کیا کہ کیا آپ نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ بلکہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہے تم خود ان سے دریافت کرلو اگر یہ بول سکتے ہوں۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو حضرت ابراہیم ؑ نے خود کیا تھا پھر اس سے انکار اور ان کے بڑے کی طرف منسوب کرنا بظاہر خلاف واقعہ ہے جس کو جھوٹ کہا جاتا ہے حضرت خلیل اللہ کی شان اس سے بالا و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نکس کے معنی کسی چیز کو اس طرح الٹ دینے کے ہیں کہ اس کے پائوں اوپر ہوجائیں اور اس کا سر نیچے۔ حضرت ابراہیم کی اس تنبیہ سے ذرا دیر کے لئے انہوں نے آنکھیں کھولیں تو سہی لیکن پھر اوندھے ہوگئے اور بولے کہ یہ تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں تو ہم ان سے کس طرح پوچھیں !… جو لوگ اس قسم کی جہالتوں میں مبتلا ہوتے ہیں انکے دلوں پر بھی کبھی کسی واقعہ یا تنبیہ سے ایسی روشنی پڑتی ہے کہ انہیں سیدھی راہ صاف دکھائی دینے لگتی ہے لیکن عصبیت جاہلیت آسانی سے جان چھوڑنے والی چیز نہیں ہے اس وجہ سے وہ پھر اندھے بہرے بن جاتے ہیں اور ایک قدم صحیح اٹھا کر پھر وہی الٹی چال اختیار کرلیتے ہیں جو چل رہے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 65–66

65۔ 1 پھر اے ابراہیم ؑ تو ہمیں یہ کیوں کہہ رہا ہے کہ ان سے پوچھو اگر یہ بول سکتے ہیں، جب کہ تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولنے کی طاقت سے محروم ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 65–68

27: حضرت ابراہیم ؑ نے بتوں کی حقیقت بتانے کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا، اس نے انہیں کم از کم اپنے دل میں سوچنے پر مجبور کردیا، اور ان کے دل نے گواہی دی کہ قصور در اصل ہمارا ہی ہے۔ لیکن مدتوں سے جمے ہوئے عقیدے کو چھوڑنے کی جرأت نہ ہوئی، لاجواب ہو کر سر تو جھکا دیا، لیکن کہا یہ کہ یہ بات تو تم بھی جانتے ہو، اور ہم بھی پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم نکسوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ینطقون (56) ’ واقعی پہلے فقرے میں وہ اپنے دلوں اور دماغوں کی طرف لوٹ آئے تھے اور دوسرے فقرے میں جو ہے کہ وہ اپنے سروں کو چھوڑ کر الٹے پھرے تو گویا الٹے پائوں پھرے اور اپنے سروں سے سوچ کا کام لینا بھی انہوں نے چھوڑدیا۔ پہلی حرکت اپنے ضمیر کی طرف تھی کہ سوچیں اور تدبیر کریں اور دوسری حرکت واپسی کی تھی اور سوچ اور تدبر کو ترک کر کے پھر واپس ہوئے اور ان کے منہ سے جو بےعقلی کی بات نکلی وہی ان کے خلاف حجت تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل ہی یہ تھی کہ دیکھو یہ بات بھی نہیں کرسکتے۔ جب وہ یہاں تک آگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیساحلیم الطبع شخص بھی ان پر قدرے غصہ کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی شرمندگی سے آنکھ نہیں ملا سکے تھے۔ 4 یعنی جان بوجھ کر ہم سے ایسی ناممکن بات کا مطالبہ کیوں کرتا ہے کہیں پتھر بھی بولے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 65 ثُمَّ نُکِسُوْا عَلٰی رُءُ وْسِہِمْ ج ” ایک لمحے کے لیے دلوں میں یہ خیال تو آیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی بات درست ہے اور ہم غلط ہیں ‘ مگر جاہلانہ حمیت و عصبیت کے ہاتھوں ان کی عقلیں پھر سے اوندھی ہوگئیں اور پھر سے وہ ان بےجان بتوں کا دفاع کرنے کی ٹھان کر بولے کہ ان سے ہم کیا پوچھیں :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 63–65

55 چناچہ حضرت ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے برسر میدان لایا گیا اور ان سے پہلا سوال جو ہوا تو وہ اعتراف جرم سے متعلق تھا۔ کیونکہ جب تک مجرم کا جرم ہی ثابت نہ ہو سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم سے پوچھا یہ گیا کہ : آیا ہمارے مشکل کشاو وں کو تم ہی نہ توڑا پھوڑا ہے ؟ اس سوال کا جواب حضرت ابراہیم نے یہ دیا کہ قرینہ کی شہادت تو یہ ہے کہ یہ سب کارستانی بڑے بت کی ہے۔ جس نے کلہاڑا اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے۔ ممکن ہے بڑے خدا کو تمہارے جانے کے بعد چھوٹے خداؤں پر غصہ آگیا ہو اور اس نے انھیں تہس نہس کردیا ہو۔ اور اس سوال کا اصل حل یہ ہے کہ ان مظلوم اور ٹوٹے پھوٹے مشکل کشاؤں سے ہی پوچھ لو کہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82۔ (جیسا کہ شرمندگی کے وقت انسان سرجھکا ہی لیتا ہے) لفرط اطرافھم خجلا وانکسارا (کشاف) 83۔ (سو ان سے پوچھنا ہی کیا) یہ جواب ظاہر ہے کہ بالکل مغلوبانہ لہجہ میں تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم نکسوا علی روسہم لقد علمت ما ہولآء ینطقون۔ پھر (شرمندگی کے مارے) اپنے سروں کو جھکا لیا اور (بولے) ابراہیم (علیہ السلام) تم کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ یہ (بت) کچھ بولتے نہیں ہیں۔ یعنی کچھ دیر کے لئے تو عقلوں کی طرف انہوں نے رجوع کرلیا تھا اور سمجھے تھے کہ ابراہیم کی بات درست ہے اور ہم غلطی پر ہیں لیکن پھر کفر کی طرف پلٹ گئے اور جھگڑا کرنے کی طرف لوٹ آئے اور کہنے لگے تم یہ بات تو یقیناً جانتے ہو کہ یہ بولتے نہیں ہیں ‘ بات نہیں کرتے۔ کفر کی طرف پلٹنے کو کسی چیز کو سرنگوں کرنے سے تشبیہ دی سر نیچے ٹانگیں اوپر اعلیٰ کو اسفل اور نچلے کو الٹ کر اونچا کردینا حق کو نچلا اور کفر کو سر بلند کردینا ہے۔ مَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(65) پھر شرم کے مارے اپنے سروں کو جھکا لیا اور پھر اپنی پچھلی بات پر آگئے اور نمرود کہنے لگا اے ابراہیم ؑ تمہیں تو اچھی طرح معلوم ہی ہے کہ بت کچھ بولتے نہیں تو ان سے کیا پوچھیں کہ کس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰي رُءُوْسِهِمْ۔۔ : ”نَکَسَ“ کا معنی سر کے بل الٹا کرنا ہے، یعنی سر نیچے اور پاؤں اوپر کردینا، یہ کسی بھی شخص کی بدترین حالت ہے۔ ”نُکِسَ الْوَلَدُ“ جب بچے کی ٹانگیں سر سے پہلے باہر آئیں۔ ”نُکِسَ فِی الْمَرْضِ“ تندرست ہو کر پھر بیمار ہوجانا۔ یعنی اگرچہ ابراہیم ؑ کا جواب سنتے ہی ان کے دلوں نے فیصلہ کردیا کہ ظالم تم خود ہو جو ایسے بےحس اور بےبس بتوں کو معبود بنا بیٹھے ہو جو بول کر یہ بھی نہیں بتاسکتے کہ ان پر کیا گزری، مگر پھر حق تسلیم کرنے کے بجائے ان پر ضد اور جہالت سوار ہوگئی، جس سے ان کی عقل الٹی ہوگئی اور وہ بغیر کسی حیا کے وہ بات کہنے لگے جس سے ان کی بےوقوفی اور حماقت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–73

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–67

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ثُمَّ : پھر ] [ نُكِسُوْا : اوندھے ڈالے گئے ] [ عَلٰي رُءُوْسِهِمْ : اپنے سروں پر (پھر کہنے لگے)] [ لَقَدْ عَلِمْتَ : یقینا آپ (علیہ السلام) جان چکے ہیں ] [ مَا هٰٓؤُلَاۗءِ يَنْطِقُوْنَ : یہ لوگ نہیں بولتے ] [ ن ک س ](ن) نَکْسًا الٹا پھیرنا۔ اوندھا کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 65 ۔] [ نَاکِسً اسم الفاعل ہے۔ اوندھا کرنے والا۔ اِذِالْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُئُ وْسِھِمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ (جب مجرم لوگ اپنے سروں کو اوندھا کرنے والے ہیں اپنے رب کے پاس) 32:12] [ (تفعیل) تَنْکِیْسًا بتدریج الٹا پھیرنا۔ وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ (اور وہ ہم عمر دیتے ہیں جس کو (پھر) ہم الٹا پھیرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ ” ثُمَّ نُکِسُوْا الخ “ مگر تسویل و تضلیل شیطان سے بدبختی اور شقاوت نے پھر انہیں آلیا اور مہر جباریت کی وجہ سے وہ اپنی کفر و شرک کی پہلی حالت کی طرف فورًا منقلب ہوگئے۔ قال اھل التفسیر اجری اللہ تعالیٰ الحق علی لسانھم فی القول الاول ثم ادرکتھم الشقاوۃ ای ردوا الی الکفر بعد ان اقروا علی انفسہم بالظلم (مدارک ج 3 ص 64) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ یہ تو تمہیں بھی معلوم ہے اور ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ معبود بولنے کی طاقت نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود ان کو اپنا معبود سمجھتے ہیں لا یخفی علینا وعلیک ایھا المیکت انھا لاتنطق کذالک وانا انما اتکذناھا الھۃ مع العلم بالوصف (روح جلد 17 ص…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–67

ربط آیات : گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔ تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰي رُءُوْسِہِمْ۝ 0ۚ لَــقَدْ عَلِمْتَ مَا ہٰٓـؤُلَاۗءِ يَنْطِقُوْنَ۝ 65 نكس النَّكْسُ : قَلْبُ الشیءِ عَلَى رَأْسِهِ ، ومنه : نُكِسَ الوَلَدُ : إذا خَرَجَ رِجْلُهُ قَبْلَ رَأْسِهِ ، قال تعالی: ثُمَّ نُكِسُوا عَلى رُؤُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 65] والنُّكْسُ في المَرَضِ أن يَعُودَ في مَرَضِهِ بعد إِفَاقَتِهِ ، ومن النَّكْسِ في العُمُرِ قال تعالی: وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] وذلک مثل قوله : وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلى أَرْذَلِ الْعُمُرِ [ النحل/ 70] وقرئ : ننكسه «3» ، قال الأخفش : لا يكاد يقال نَكَّسْتُهُ بالتَّشْدِيدِ إلّا لما يُقْلَبُ فيُجْعَلُ رأسُهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–67

تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–66

ثُمَّ نُکِسُوْا عَلٰی رُئُ وْسِھِمْ ج لَقَدْعَلِمْتَ مَاھٰٓـؤُلَآئِ یَنْطِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 65) (پھر وہ اوندھے ہو کر (اپنی سابقہ گمراہی کی طرف) پلٹ گئے۔ بولے کہ تمہیں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح نَـکَسَ …کا معنی کسی چیز کو اس طرح الٹ دینا ہے کہ اس کے پائوں اوپر ہوجائیں اور سر نیچے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ شرم و خجالت کے مارے ان کے سر جھک گئے، یہ صحیح نہیں۔ اگر یہ کہنا ہوتا تو عبارت اس طرح ہونی چاہیے تھی نَکَسُوْ رُئُ وْسُھُمْ لیکن یہاں نُکِسُوْا عَلٰی رُئُ وْسِھِمْہے۔ اس کا معنی ہے کہ وہ اپنی مشرکانہ جہالت اور بتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–65

فہم القرآن ربط کلام : بتوں کو پاش پاش کرنے پر قوم کا رد عمل۔ قوم جب واپس پلٹی تو ان کی مسرت و شادمانی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی۔ زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے پھر دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ (قَالُوا فَأْتُوْا بِہٖ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 61] ” انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ دیکھ لیں۔ “ (فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 94] ” وہ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

65: ثُمَّ نُکِسُوْا عَلٰی رُئُ وْ سِھِمْ (پھر انہوں نے (شرمندگی سے) سر جھکا لیے۔ ) علمائے مفسرین کا بیان : پہلے قول میں اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان پر حق کو جاری کردیا۔ مگر پھر بدبختی ان پر طاری ہوگئی۔ یعنی اپنے بارے میں ظلم وناحق ہونے کا اعتراف کرکے پھر کفر کی طرف لوٹ گئے۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے۔ نکتہ : نکستۃ، قلبتہ فجعلت أسفلہ أعلاہ یعنی اسے پلٹ دیا اوندھا کردیا۔ اس کو سر کے بل کردیا۔ یعنی جب اپنے نفوس میں غور و فکر کی تو درست سوچ نے ان کی راہنمائی کی اور ضمیر کی اصل آواز بلندہوئی مگر پھر اس حالت سے پلٹ کرنا جائز جھگڑے اور ضد بازی پر اتر آئے اور کہنے لگے۔ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا ھٰٓؤُلَآئِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

65۔ ثم نکسوا علی روسھم، ، بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی زبانوں پر حق جاری کردیا ۔ پہلی بات میں پھرا ن پر بدبختی غالب آگئی ۔ یہی اس کا معنی ہے ، ثم نکسو علی روسھم، پہلے انہوں نے اپنے نفسوں کے ساتھ جو ظلم کیا اس کا اقرار کرنے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے جیسے کہاجاتا ہے۔ نکس المریض، جب وہ اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے اور وہ کہنے لگے، لقد علمت ماھولاء ینطقون، پھر ہم کیسے ان سے سوال کریں۔ جب یہ بولتے ہی نہیں۔ جب حضرت ابراہیم کی حجت مکمل ہوگئی تو ان سے کہا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 64–67

64۔ 67:۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ ان چھوٹے بتوں سے تو یہ پوچھا جائے کہ ان کو کس نے توڑا ہے اور بڑے بت سے یہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے چھوٹے بتوں کو کیوں توڑا ہے تو قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو اپنے دل میں سوچا اور آپس میں ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا کہ بغیر دیکھے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتوں کے توڑنے کا الزام لگانا حقیقت میں ایک زیادتی اور بےانصافی کی بات ہے پھر گردن جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگے ابراہیم تم کو کیا معلوم نہیں کہ یہ پتھر کے بت منہ سے نہیں بولتے ‘ قوم کے لوگوں سے یہ بات سن کر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

83 پھر وہ اوندھے ہوگئے اپنے سروں پر : یعنی زمین کی طرف سرجھکا کر ( ابن کثیر) اور لاجواب ہو کر عناد و ہٹ دھرمی اور دھمکیوں پر اتر آئے۔ اور مت مار دی گئی ان بدبختوں کی اور ان کو حق کی طرف رجوع کرنے کی توفیق پھر بھی نصیب نہ ہوسکی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " نکس " کے معنیٰ کسی چیز کو اس طرح الٹ دینے کے ہوتے ہیں کہ اس کا سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوجائیں۔ ( مدارک وغیرہ ) ۔ سو حضرت ابراہیم کی تنبیہ و تذکیر سے ان لوگوں نے ذرا دیر میں سہی پر آنکھیں کھولیں تو سہی۔ لیکن پھر اوندھے ہو کر بولے کہ ابراہیم تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ یہ بت بول نہیں سکتے تو پھر ہم ان سے اس بارے کس طرح پوچھیں۔ سو جن لوگوں کی مت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 65–68

ف 2 ۔ یعنی پہلے تو صحیح بات کی مگر پھر ان کی عقل لوندھی ہوگئی اور مجادلہ اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:65) نکسوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ نکس مصدر (باب نصر) سر کا جھکانا۔ نکسوا ان کو سرنگوں کردیا گیا۔ صاحب ضیاء القرآن علامہ قرطبی کے حوالہ سے لکھتے ہیں اس کا یہ معنی نہیں کہ شرم وخجالت کے مارے ان کے سرجھک گئے۔ کیونکہ اگر مدعا یہ ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رؤسہم اور یہاں نکسوا علی رؤسہم ہے۔ اور اس کا معنی ہے کہ اپنی مشرکانہ جہالت اور بتوں کی عبادت کی طرف لوٹنا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی معنی مروی ہے ای ادرکھم الشقاء فعا دوا الی کفرہم یعنی انہیں ان کی بدبختی نے آلیا اور پھر وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے۔ لقد علمت ای قالوا لقد علمت۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–66

(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ کہہ کرچپ کرادیا کہ ان بتوں ہی سے پوچھا جاوے کہ ان کو کس نے توڑا ہیی تو قوم کے لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو اپنے دل میں سوچا اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا کہ بغیر دیکھے حضرت ابراہیم کو بتوں کو توڑنے کا الزام لگانا حقیقت میں ایک زیادتی اور بےانصافی کی بات ہے پھر گردن جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگے حضرت ابراہیم تم کو کیا معلوم نہیں کہ یہ پتھر کے بت منہ سے نہیں بولتے، قوم کے لوگوں سے یہ بات سن کر حضرت ابراہیم نے ان سے کہا کہ تمہارے بت جب ایسے عاجز اور بےبس ہیں کہ جس نے ان کو صدمہ پہنچایا اس کا مقابلہ نہ کرسکے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–68

[35] ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے فرمایا، '' جی اور کیا کہیں ان کے بڑے گروہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ ان بتوں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟ ''

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–68

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تدبیر اصلاح ! : (ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ کو اگر اس حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس کے عام مفہوم کو مد نظر رکھا جائے ، جو لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مقام پر جھوٹ بولا تو طبیعت میں سخت خلجان پیدا ہوتا ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ صحیح حدیث بھی قرآن کے مخالف مفہوم کو بیان کرسکتی ہے اور یا پھر انبیاء سے کذب کا صدور ممکن ہے ، اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں ، نہ حدیث قرآن کے مخالف ہے ، اور نہ قرآن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تکذیب کا کہیں ذکر ہے ، اس سلسلہ میں ذیل کی باتیں پیش نظر رہنا چاہئیں ۔ 1۔ قرآن میں ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(65) پھر انہوں نے شرمندہ ہوکر اپنے سروں کو جھکالیا اور ابراہیم (علیہ السلام) سے بولے بلاشبہ تو یہ بات جانتا ہی ہے کہ یہ بت بولتے نہیں۔ یعنی یہ بات تو تیرے علم میں ہے کہ یہ ہمارے معبود بولا نہیں کرتے ان کی اس بےبسی کو اور عاجزی کو دیکھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور خوب کھری کھری سنائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–68

ف 6۔ اگر یہ شق فاعلیت و ناطقیت کی باطل ہے تو عجز ان کا تمہارے نزدیک مسلم ہوگیا، پھر اعتقاد الوہیت کی کیا وجہ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اعتراف ظلم کے بعد ان کی مت ماری گئی اور نہ تسلیم کی جانے والی بات کو تسلیم کرلیا : 65۔ (نسکوا) کی اصل ن ک س ہے اور نکس کے معنی ہیں کسی چیز کو سر کے بل الٹا کردینا ۔ (غ) اور مطلب اس جگہ اس کا یہ ہے کہ انہوں نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی جس دلیل کا اعتراف کیا تھا اس سے وہ پھرگئے گویا ان کی آنکھیں کھلی تھیں کہ پھر اوندھے ہوگئے لیکن ان کے اوسان ایسے خطا ہوئے کہ جو بات کبھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے اب اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگے ” تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمارے یہ معبود بات نہیں کرتے ۔ “ ان سے پوچھیں تو کیا اور پوچھیں تو کیسے ؟ حالانکہ اس سے پہلے اصل جھگڑا ہی یہ تھا کہ سیدنا ابراہیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–68

The words of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) were not untrue, but only allusions قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُ‌هُمْ هَـٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ (He said, "Rather, this is done by this chief of theirs. So, ask them if they were to speak." - 21:63) When the community of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) got hold of him and asked him to confess his guilt, he said "The big one among them has done it. Why don't you ask him, if he can speak"? The point to consider here is that the idols were broken by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and its denial and attributing the deed to the big…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–68

61. Literally the original text means: They were turned down upon their heads. Some commentators have interpreted it to mean: They hung down their heads with shame. But this does not fit in the context and the wording of the text. The right interpretation would be: When they considered the answer of Prophet Abraham (peace be upon him), they realized that they themselves were in the wrong, because they had set up helpless idols as deities, which could not even speak a word as to who had broken them. But soon after this, they were overpowered by obduracy and ignorance which perverted their…

Read the full tafseer →