Explained with ayahs 64–67
اپنی حماقت سے پریشان کافر
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہوگیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کرکے بات بنائی کہ آپ جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ بت بےزبان ہیں ؟ عاجزی حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا اب حضرت خلیل اللہ ؑ کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ فوراً فرمانے لگے کہ بےزبان بےنفع وضرر چیز کی عبادت کیسی ؟ تم کیوں اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
سورة الْاَنْبِیَآء 61
اصل میں نُکِسُوْا عَلیٰ رُءُوْسِھِمْ (اوندھا دیے گئے اپنے سروں کے بل) فرمایا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ انہوں نے خجالت کے مارے سر جھکا لیے۔ لیکن موقع و محل اور اسلوب بیان اس معنی کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ صحیح مطلب، جو سلسلہ کلام اور انداز کلام پر نظر کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے، یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا جواب سنتے ہی پہلے تو انہوں نے اپنے دلوں میں سوچا کہ واقعی ظالم تو تم خود ہو، کیسے بےجس اور بےاختیار معبودوں کو خدا بنائے بیٹھے ہو جو اپنی زبان سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان پر کیا بیتی اور کون انہیں مار کر رکھ گیا، آخر یہ ہماری کیا مدد کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
حضرت ابراہیم ؑ کا قول جھوٹ نہیں بلکہ ایک کنایہ تھا اس کی تفصیل و تحقیق
بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ یعنی جب ابراہیم ؑ کو ان کی برادری نے گرفتار کرکے بلایا اور ان سے اقرار لینے کے لئے سوال کیا کہ کیا آپ نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ بلکہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہے تم خود ان سے دریافت کرلو اگر یہ بول سکتے ہوں۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو حضرت ابراہیم ؑ نے خود کیا تھا پھر اس سے انکار اور ان کے بڑے کی طرف منسوب کرنا بظاہر خلاف واقعہ ہے جس کو جھوٹ کہا جاتا ہے حضرت خلیل اللہ کی شان اس سے بالا و…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم کا بھرپور وار
حضرت ابراہیم اپنے حریفوں کو جس مقام پر لانا چاہتے تھے ان کو انہوں نے وہاں لاک کھڑا کیا۔ وہ پکار اٹھے کہ یہ تو بلوتے نہیں تو ان سے کس طرح ان کا حال پوچھا جائے ! ان کے اس اعتراف کے بعد حضرت ابراہیم نے ان پر بھرپور وار کیا۔ فرمایا کہ پھر تم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جو نہ تم کو کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کوئی نقصان ! یہ تقریر ظاہر ہے کہ بتوں کی بےبسی کو اس طرح آشکارا کردینے کے بعد جتنی مئوثر ہو سکتی تھی اس کے بغیر اتنی مئوثر نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کے بغیر اگر یہی بات ان کے سامنے لائی جاتی تو وہ اس کے جواب میں سویا تین بنا سکتے تھے لیکن اب جب کہ وہ پاش پاش ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65۔ 1 پھر اے ابراہیم ؑ تو ہمیں یہ کیوں کہہ رہا ہے کہ ان سے پوچھو اگر یہ بول سکتے ہیں، جب کہ تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولنے کی طاقت سے محروم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
27: حضرت ابراہیم ؑ نے بتوں کی حقیقت بتانے کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا، اس نے انہیں کم از کم اپنے دل میں سوچنے پر مجبور کردیا، اور ان کے دل نے گواہی دی کہ قصور در اصل ہمارا ہی ہے۔ لیکن مدتوں سے جمے ہوئے عقیدے کو چھوڑنے کی جرأت نہ ہوئی، لاجواب ہو کر سر تو جھکا دیا، لیکن کہا یہ کہ یہ بات تو تم بھی جانتے ہو، اور ہم بھی پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
قال افتعبدون۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (66 : 76) ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سے ان کی دل تنگی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قدرے غصے میں نظر آتے ہیں اور ان کو سخت تعجب ہے کہ یہ لوگ اس قدر پوچ اور غیر معقول فکر و عمل میں پڑے ہوئے ہیں۔
اب ان لوگوں کا رد عمل بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی ہٹ دھرمی اب انہیں سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ ان کا حال اس شخص جیسا ہوگیا جس کے پاس دلیل کچھ نہ ہو ‘ اور دلیل کی کمزوری اور کمی وہ تشدد کے ذریعہ پوری کررہا ہے۔ چناچہ یہ لوگ بھی اب تشدد پر اتر آئے اور یہ فیصلہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
5 یعنی پھر تم کو ڈوب مرجانا چاہیے کہ جو مورتی ایک لفظ نہ بول سکے، کسی آڑے وقت کام نہ آسکے، ذرہ برابر نفع و نقصان اس کے اختیار میں نہ ہو، اسے خدائی کا درجہ دے رکھا ہے، کیا اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھ سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
آیت 68 قَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِہَتَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ”
چنانچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس میں ڈال دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
56 حضرت ابراہیم کے اس جواب پر مجمع میں جمع شدہ سب لوگوں کو اپنے مشکل کشاؤں کی بےبسی کا ٹھیک طور پر احساس ہوگیا اور لوگوں کے پاس ماسوائے شرمنگی اور خاموشی کے اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ لگے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کہ اب اس بات کا کیا جواب دیں۔ حضرت ابراہیم دراصل یہی کچھ چاہتے تھے اور یہ جو کچھ ہوا یہ حضرت ابراہیم کی توقعات اور منشاء کے عین مطابق تھا۔ تبلیغ اور رد شرک کا جو سنہری موقعہ اس وقت ہاتھ آیا تھا شاید اس لئے پہلے کبھی نہ آیا ہو۔ چناچہ اس وقت آپ نے اس بھرے مجمع کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ تمہارے مشکل کشا اپنا بھی دفاع نہیں کرسکتے۔ تو پھر وہ تمہاری کیا مشکلیں دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
84۔ تف ہے تمہاری مورتیوں کی بےبسی اور بیچارگی پر اور تف ہے تمہاری عقل و دانش پر کہ ایسوں کو اپنا خدا مانے ہوئے اور بنائے ہوئے ہو۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ مبغوضین فی اللہ کے ساتھ سختی سے پیش آنے کی جو عادت بعض بزرگوں کی ہوتی ہے اس کا ماخذ یہی آیت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…
Read the full tafseer →قال افتعبدون من دون اللہ ما لا ینفعکم شیئاً ولا یضرکم۔ اف لکم ولما تعبدون من دون اللہ افلا تعقلون۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تو کیا خدا کو چھوڑ کر تم ایسی چیز کی پوجا کرتے ہو جو تم کو نہ کچھ نفع پہنچاتی ہے نہ نقصان۔
تف ہے تم پر (کہ باوجود وضوح حق کے تم باطل پر جمے ہوئے ہو) اور ان پر جن کو خدا کے سوا پوجتے ہو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔
یعنی ابراہیم نے کہا کیا یہ بات جاننے کے بعد بھی کہ یہ بت نہ بولتے ہیں نہ نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں تم ان کو پوجتے ہو۔ نہ بول سکنا اور اپنے پرستاروں کو فائدہ نہ پہنچا سکنا اور پرستش نہ کرنے والوں کو ضرر پہنچانے کی طاقت نہ رکھنا ایسی کمزوری ہے جو الوہیت کے…
Read the full tafseer →(66) اس وقت حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی خوب خبر لی کہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو کہ وہ تمہاری اس عبادت کرنے میں نہ تمہیں کچھ نفع پہنچا سکے اور ترک عبادت میں تمہیں کچھ نقصان پہنچا سکے۔
Read the full tafseer →قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : ابراہیم ؑ اتنے بڑے مجمع میں ان کی زبان سے یہی کہلوانا چاہتے تھے اور سب کچھ اسی ترتیب سے ہو رہا تھا جو ابراہیم ؑ کی توقع اور خواہش کے مطابق تھی۔ ان کے لیے توحید کی دعوت اور شرک کے رد کا ایسا سنہرا موقع شاید اس سے پہلے کبھی نہ آیا ہو، چناچہ فرمایا کہ جب یہ بول ہی نہیں سکتے تو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو پھر کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کچھ فائدہ پہنچاتی ہیں اور نہ نقصان ؟ ”مَا“ کا لفظ عموماً ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…
Read the full tafseer →قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ اَفَتَعْبُدُوْنَ : تو کیا تم لوگ بندگی کرتے ہو ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ مَا : اس چیز کی جو ] [ لَا يَنْفَعُكُمْ : نفع نہیں دیتی تم کو ] [ شَـيْــــًٔا : کچھ بھی ] [ وَّلَا يَضُرُّكُمْ : اور نہ نقصان دیتی ہے تم کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
48:۔ ” قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ الخ “ جب مشرکین نے اپنے معبودوں کی بیچارگی اور بےبسی کا اقرار کرلیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی فکر و عقل کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا جب تمہیں معلوم ہے کہ یہ عاجز معبود تمہیں نہ نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں نہ نقصان پہنچانے کی تو پھر تم اللہ کے سوا ان کی کیوں عبادت کرتے ہو۔ تف تم پر اور تمہارے فعل شرک پر تم ایسے صریح احمقانہ فعل کی قباحت بھی نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–67
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔
تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ…
Read the full tafseer →قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَـيْــــًٔا وَّلَا يَضُرُّكُمْ 66ۭ
عبد
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–67
تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ثُمَّ نُکِسُوْا عَلٰی رُئُ وْسِھِمْ ج لَقَدْعَلِمْتَ مَاھٰٓـؤُلَآئِ یَنْطِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 65)
(پھر وہ اوندھے ہو کر (اپنی سابقہ گمراہی کی طرف) پلٹ گئے۔ بولے کہ تمہیں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
نَـکَسَ …کا معنی کسی چیز کو اس طرح الٹ دینا ہے کہ اس کے پائوں اوپر ہوجائیں اور سر نیچے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ شرم و خجالت کے مارے ان کے سر جھک گئے، یہ صحیح نہیں۔ اگر یہ کہنا ہوتا تو عبارت اس طرح ہونی چاہیے تھی نَکَسُوْ رُئُ وْسُھُمْ لیکن یہاں نُکِسُوْا عَلٰی رُئُ وْسِھِمْہے۔ اس کا معنی ہے کہ وہ اپنی مشرکانہ جہالت اور بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے اقرار جرم کرلینے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انھیں ایک دفعہ پھر سمجھانا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خداداد صلاحیت اور پوری دانشمندی کے ساتھ ایک مکالمے کے ذریعے اپنی قوم کو اس مقام پر لے آئے کہ جب انھوں نے کھلے الفاظ میں اس بات کا اقرار کیا کہ اے ابراہیم ! تو جانتا ہے یہ تو پتھر اور مٹی کے بنے ہوئے بت ہیں جو بول نہیں سکتے۔ اس حقیقت کا اقرار کروانے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں پوچھا کیا پھر تم ان کے سامنے مراقبے، سجدے اور اپنی حاجات پیش کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان دے سکتے ہیں۔ تم پر اور تمہارے معبودوں پر نہایت ہی…
Read the full tafseer →66: قَالَ (ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو حجت پیش کرتے ہوئے کہا) اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنَِ اللّٰہِ مَالَا یَنْفَعُکُمْ شَیْئًا (تو کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پھر تم ایسی چیز کی پوجا کرتے ہو جو تمہیں کچھ نہ نفع پہنچاتی ہیں) شیئًا یہ مصدر کی جگہ استعمال ہوا ہے ای نفعاً ما ذرا بھر نفع پہنچانا۔ وَّ لَا یَضُرُّکُمْ (اور نہ نقصان دے سکتی ہیں) اگر تم ان کی عبادت نہ کرو۔
Read the full tafseer →66۔ قال، ، ان کافروں کو کہا، افتعبدون من دون اللہ مالاینفعکم شیئا، اگر تم ان کی عبادت کرو گے ، ولا یضرکم، اگر تم ان کی عبادت کو چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں کچھ ضرر نہیں پہنچائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
64۔ 67:۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ ان چھوٹے بتوں سے تو یہ پوچھا جائے کہ ان کو کس نے توڑا ہے اور بڑے بت سے یہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے چھوٹے بتوں کو کیوں توڑا ہے تو قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو اپنے دل میں سوچا اور آپس میں ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا کہ بغیر دیکھے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتوں کے توڑنے کا الزام لگانا حقیقت میں ایک زیادتی اور بےانصافی کی بات ہے پھر گردن جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگے ابراہیم تم کو کیا معلوم نہیں کہ یہ پتھر کے بت منہ سے نہیں بولتے ‘ قوم کے لوگوں سے یہ بات سن کر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
85 حضرت ابراہیم کا مشرکوں پر بھرپور وار : ۔ سو مشرکوں کے اس اقرار و اعتراف کے بعد حضرت ابراہیم نے ان پر بھرپور وار کرتے ہوئے ان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ ایسی بےحقیقت چیزوں کی پوجا کرتے ہو جو نہ کوئی نفع پہنچا سکیں اپنے پجاریوں کو ان کی پوجا پاٹ پر۔ تو پھر تم لوگ آخر ان کی پوجا کیوں کرتے ہو ؟ اور ایسی بےحقیقت چیزیں جو اپنے پجاریوں کے لیے بھی کسی نفع اور فائدہ کا اختیار نہ رکھتی ہوں ان کو معبود قرار دے کر ان کی پوجا پاٹ کرنا کتنی بڑی حماقت اور کس قدر ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ معبود کی عبادت و بندگی اسی لیے کی جاتی ہے کہ وہ عابد کے کام آسکے۔ اور عبادت و بندگی پر اس کو نفع و فائدہ پہنچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
ف 2 ۔ یعنی پہلے تو صحیح بات کی مگر پھر ان کی عقل لوندھی ہوگئی اور مجادلہ اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
(21:69) کونی۔ فعل امر۔ واحد مؤنث حاضر۔ تو ہوجا۔ (نار سے خطاب ہے) ۔ سلما۔ کونی سلما۔ تو سلامتی کا باعث بن جا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70
رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔
نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 70
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ کہہ کرچپ کرادیا کہ ان بتوں ہی سے پوچھا جاوے کہ ان کو کس نے توڑا ہیی تو قوم کے لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو اپنے دل میں سوچا اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا کہ بغیر دیکھے حضرت ابراہیم کو بتوں کو توڑنے کا الزام لگانا حقیقت میں ایک زیادتی اور بےانصافی کی بات ہے پھر گردن جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگے حضرت ابراہیم تم کو کیا معلوم نہیں کہ یہ پتھر کے بت منہ سے نہیں بولتے، قوم کے لوگوں سے یہ بات سن کر حضرت ابراہیم نے ان سے کہا کہ تمہارے بت جب ایسے عاجز اور بےبس ہیں کہ جس نے ان کو صدمہ پہنچایا اس کا مقابلہ نہ کرسکے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
[35] ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے فرمایا، '' جی اور کیا کہیں ان کے بڑے گروہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ ان بتوں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟ ''
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تدبیر اصلاح ! :
(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ کو اگر اس حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس کے عام مفہوم کو مد نظر رکھا جائے ، جو لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مقام پر جھوٹ بولا تو طبیعت میں سخت خلجان پیدا ہوتا ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ صحیح حدیث بھی قرآن کے مخالف مفہوم کو بیان کرسکتی ہے اور یا پھر انبیاء سے کذب کا صدور ممکن ہے ، اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں ، نہ حدیث قرآن کے مخالف ہے ، اور نہ قرآن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تکذیب کا کہیں ذکر ہے ، اس سلسلہ میں ذیل کی باتیں پیش نظر رہنا چاہئیں ۔
1۔ قرآن میں ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →(66) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ تم کو کوئی فائدہ اور نفع پہنچا سکیں اور نہ تم کو کوئی نقصان پہنچا سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
ف 6۔ اگر یہ شق فاعلیت و ناطقیت کی باطل ہے تو عجز ان کا تمہارے نزدیک مسلم ہوگیا، پھر اعتقاد الوہیت کی کیا وجہ۔
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم ایسوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان !
66۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کہ مشرکین نے آدھی بات تو خود تسلیم کرلی ہے لہذا ایک قدم ان کو اور آگے لے چلو ۔ آج سے پہلے تو وہ یہ بات بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ہمارے یہ معبود نہ سن سکتے ہیں اور نہ ہماری پکار کا جواب دے سکتے ہیں بلکہ بڑے دھڑلے سے کہتے تھے ہمارے یہ معبود ہماری پکار بھی سنتے ہیں اور ہمیں جواب بھی دیتے ہیں لیکن آج انہوں نے یہ بات خود تسلیم کرلی اور کہہ دیا کہ اے ابراہیم ! تو جانتا ہے کہ یہ نہ ہماری سنتے ہیں اور نہ ہی جواب دیتے ہیں ، اب ان سے استفسار کیا جا رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
The words of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) were not untrue, but only allusions
قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَـٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ (He said, "Rather, this is done by this chief of theirs. So, ask them if they were to speak." - 21:63) When the community of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) got hold of him and asked him to confess his guilt, he said "The big one among them has done it. Why don't you ask him, if he can speak"?
The point to consider here is that the idols were broken by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and its denial and attributing the deed to the big…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
61. Literally the original text means: They were turned down upon their heads. Some commentators have interpreted it to mean: They hung down their heads with shame. But this does not fit in the context and the wording of the text. The right interpretation would be: When they considered the answer of Prophet Abraham (peace be upon him), they realized that they themselves were in the wrong, because they had set up helpless idols as deities, which could not even speak a word as to who had broken them. But soon after this, they were overpowered by obduracy and ignorance which perverted their…
Read the full tafseer →