Explained with ayahs 64–67
اپنی حماقت سے پریشان کافر
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہوگیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کرکے بات بنائی کہ آپ جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ بت بےزبان ہیں ؟ عاجزی حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا اب حضرت خلیل اللہ ؑ کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ فوراً فرمانے لگے کہ بےزبان بےنفع وضرر چیز کی عبادت کیسی ؟ تم کیوں اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
سورة الْاَنْبِیَآء 60
یہ آخری فقرہ خود ظاہر کر رہا ہے کہ پہلے فقرے میں حضرت ابراہیم نے بت شکنی کے اس فعل کو بڑے بت کی طرف جو منسوب کیا ہے اس سے ان کا مقصد جھوٹ بولنا نہ تھا، بلکہ وہ اپنے مخالفین پر حجت قائم کرنا چاہتے تھے۔ یہ بات انہوں نے اس لیے کہی تھی کہ وہ لوگ جواب میں خود اس کا اقرار کریں کہ انکے یہ معبود بالکل بےبس ہیں اور ان سے کسی فعل کی توقع تک نہیں کی جاسکتی۔ ایسے موقع پر ایک شخص استدلال کی خاطر جو خلاف واقعہ بات کہتا ہے اس کو جھوٹ قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ نہ وہ خود جھوٹ کی نیت سے ایسی بات کہتا ہے اور نہ اس کے مخاطب ہی اسے جھوٹ سمجھتے ہیں۔ کہنے والا اسے حجت قائم کرنے کے لیے کہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
حضرت ابراہیم ؑ کا قول جھوٹ نہیں بلکہ ایک کنایہ تھا اس کی تفصیل و تحقیق
بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ یعنی جب ابراہیم ؑ کو ان کی برادری نے گرفتار کرکے بلایا اور ان سے اقرار لینے کے لئے سوال کیا کہ کیا آپ نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ بلکہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہے تم خود ان سے دریافت کرلو اگر یہ بول سکتے ہوں۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو حضرت ابراہیم ؑ نے خود کیا تھا پھر اس سے انکار اور ان کے بڑے کی طرف منسوب کرنا بظاہر خلاف واقعہ ہے جس کو جھوٹ کہا جاتا ہے حضرت خلیل اللہ کی شان اس سے بالا و…
Read the full tafseer →ایک قدم صحیح دوسرا الٹا
یعنی حضرت ابراہیم کی اس ٹھوکر نے ان کو متنبہ کیا اور وہ اپنے باطن کی آواز اور اپنے عقل و دل کی رہنمائی کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم لوگ تو اس نوجوان کو ظالم کہتے ہو لیکن اس نے ثابت کردیا کہ ظالم وہ نہیں بلکہ ظالم تم خود ہو کہ ایسی چزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہو جو یہ صلاحیت بھی نہیں رکھتی ہیں کہ خود اپنے سر پر آئی ہوئی میبت کو دفع کرسکیں یا اس کو کسی دوسرے سے بیان ہی کرسکیں۔
Read the full tafseer →64۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کے اس جواب سے وہ سوچ میں پڑگئے اور ایک دوسرے کو لاجواب ہو کر، کہنے لگے، واقع ظالم تو تم ہی ہو، جو اپنی جان کو بچانے پر اور نقصان پہنچانے والے کا ہاتھ پکڑنے پر قادر نہیں وہ مستحق عبادت کیونکر ہوسکتا ہے ؟ بعض نے یہ مفہوم بیان کیا کہ معبودوں کی عدم حفاظت پر ایک دوسرے کو ملامت کی اور ترک حفاظت پر ایک دوسرے کا ظالم کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
26: یہ درحقیقت ان کے عقیدے پر ایک طنز تھا، وہ لوگ چونکہ بتوں کو بڑے اختیارات کا مالک سمجھتے تھے، اور بڑا بت بنانے کا مقصد یہی تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے خداؤں کے لیے سردار کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس طنز سے حضرت ابراہیم ؑ کا مقصد یہ تھا کہ جب تم اس بڑے بت کو بتوں کا سردار سمجھتے ہو اور سردار اپنے ماتحتوں کا محافظ ہوا کرتا ہے، اس لیے اگر کسی اور شخص نے چھوٹے بتوں کو توڑا ہوتا تو تمہارے اعتقاد کے مطابق یہ سردار اسے ایسا کرنے نہ دیتا، لہذا یہ احتمال تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی اور شخص بتوں کی یہ گت بنائے، اور ان کا یہ سردار چپ چاپ دیکھتا رہے، اب تمہارے اعتقاد کے مطابق ایک ہی احتمال رہ جاتا ہے کہ خود…
Read the full tafseer →فرجعوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکم انتم الظلمون (46) ” یہ ان کے اندر ایک اچھی سوچ کا آغاز تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے موقف میں بنیادی کمزوری ہے۔ وہ جو بتوں اور مورتیوں کی پوجا کررہے ہیں یہ دراصل ظلم ہے۔ پہلی مرتبہ یوں لگتا ہے کہ ان کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ جس راہ پر وہ بغیر سوچے سمجھے چل رہے ہیں وہ بہت ہی غلط ہے۔
لیکن یہ ان کے فکر و نظر کی دنیا میں ایک چمک ہی تھی۔ اندھیرا حسب سابق پھر غالب آگیا۔ ان کے مردہ دلوں کے اندر ایک دھڑکن سی پیداہوئی مگر جلد ہی وہ پھر خاموش ہو کر جمود کا شکار ہوگئے۔
Read the full tafseer →2 یعنی سمجھے کہ بیکار پتھر پوجنے سے کیا حاصل یا یہ مطلب ہو کہ تم نے خود اپنے اوپر ظلم کیا کہ باوجود ابراہیم (علیہ السلام) کی دھمکی سننے کے یوں ہی لاپروائی سے بت خانہ کھلا چھوڑ کر چلے گئے اپنے معبودوں کی حفاظت کا کوئی سامان کر کے نہ گئے کذا قال ابن کثیر۔
Read the full tafseer →آیت 64 فَرَجَعُوْٓا الآی اَنْفُسِہِمْ فَقَالُوْٓا اِنَّکُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ ”
یہ گویا ان کے ضمیر کی آواز تھی کہ ابراہیم علیہ السلام کی بات ہے تو درست ! ظالم تو تم خود ہو جو ان بےجان مجسموں کو معبود سمجھتے ہو ‘ جو خود اپنا دفاع بھی نہ کرسکے اور اب یہ بتانے سے بھی معذور ہیں کہ ان کی یہ حالت کس نے کی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
55 چناچہ حضرت ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے برسر میدان لایا گیا اور ان سے پہلا سوال جو ہوا تو وہ اعتراف جرم سے متعلق تھا۔ کیونکہ جب تک مجرم کا جرم ہی ثابت نہ ہو سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم سے پوچھا یہ گیا کہ : آیا ہمارے مشکل کشاو وں کو تم ہی نہ توڑا پھوڑا ہے ؟ اس سوال کا جواب حضرت ابراہیم نے یہ دیا کہ قرینہ کی شہادت تو یہ ہے کہ یہ سب کارستانی بڑے بت کی ہے۔ جس نے کلہاڑا اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے۔ ممکن ہے بڑے خدا کو تمہارے جانے کے بعد چھوٹے خداؤں پر غصہ آگیا ہو اور اس نے انھیں تہس نہس کردیا ہو۔ اور اس سوال کا اصل حل یہ ہے کہ ان مظلوم اور ٹوٹے پھوٹے مشکل کشاؤں سے ہی پوچھ لو کہ ان…
Read the full tafseer →81۔ یعنی سوچنے کے بعد جی میں تو قائل ہی ہوگئے کہ بیشک غلطی ہماری ہی ہے اور آپس میں کہنے بھی لگے۔ اے تتفکروا وتدبروا تذکروا (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…
Read the full tafseer →فرجعوا الی انفسہم فقالوا انکم انتم الظلمون۔ اس پر وہ لوگ اپنے جی میں سوچے پھر (آپس میں)
کہنے لگے حقیقت میں تم ہی لوگ ناحق پر ہو۔ یعنی اس وقت انہوں نے اپنی عقلوں کی طرف رجوع کیا اور غور و فکر کیا اور سمجھے کہ ابراہیم کی بات حق ہے اور ہم غلطی پر ہیں۔ اس لئے اپنے دل میں یا باہم کہنے لگے کہ تم ہی بڑا ظلم کر رہے ہو کہ جو بت بول نہیں سکتے نفع خود اپنے کو نہیں پہنچا سکتے اپنے دکھ کو دفع نہیں کرسکتے ‘ ان کی پوجا کرتے ہو۔
Read the full tafseer →(64) اس پر وہ لوگ خود کو ملامت کرنے لگے اور ان کے سردار نمرود نے ان سے کہا کہ حقیقت میں حضرت ابراہیم ؑ کے مقابلہ میں تم ہی ناحق ہو اور وہ حق پر ہیں۔
Read the full tafseer →فَرَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَنْفُسِهِمْ۔۔ : ابراہیم ؑ کی اس زبردست چوٹ نے انھیں سوچنے پر مجبور کردیا۔ سب نے اپنے دل میں غور کیا تو کہہ اٹھے کہ تم اس جوان کو خواہ مخواہ ظالم کہہ رہے ہو، ظالم تو تم خود ہو جو ایسی بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود قرار دے کر پوجتے پکارتے اور انھیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا قرار دیتے ہو، جن کی بےبسی اور بےچارگی کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو بھی دفع نہیں کرسکتے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے آپ پر گزری ہوئی مصیبت کسی دوسرے کے سامنے بیان بھی نہیں کرسکتے، تو پھر اس سے بڑھ کر ظلم اور حماقت کیا ہوسکتی ہے ؟ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرجعوا الی انفسھم یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف اس طرح لوٹے جس طرح وہ شخص رجوع کرتا ہے جس کے پاس دلیل باقی نہیں رہتی اور اپنے مقابل کی حجت کی صحت کو سمجھ لیتا ہے۔ پس انہوں نے کہا : تم ہی ظالم ہو یعنی ایسی مورتیوں کی عبادت کر کے تم ظلم کرتے ہو جو ایک لفظ بول نہیں سکتی ہیں۔ اور ایک لمحہ کے لیے اپنے آپ کی مالک نہیں ہیں۔ وہ اپنے عبادت گزاروں کو کیسے نفع دیں گے اور ان سے تکلیف کو کیسے دور کریں گی جو اپنے سر سے ہتھوڑے کے وار کو دور نہ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…
Read the full tafseer →[ فَرَجَعُوْٓا : تو وہ لوگ لوٹے ] [ اِلٰٓى انفُسِهِمْ : اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچ میں پڑگئے)] [ فَقَالُوْٓا : پھر ان لوگوں نے کہا ] [ انكُمْ : کہ ] [ انتم : تم لوگ ہی ] [ الظّٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →46:۔ ” فَرَجَعُوْا اِلٰی اَنْفُسِهِمْ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب سن کر مشرکین کے ہوش ٹھکانے آئے اور ان کو تنبیہ ہوئی کہ وہ ان غیر ناطق جمادات کی عبادت کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں بھلا جو اس قدر عاجز و بےبس ہوں کہ اپنی حفاظت بھی نہ کرسکیں وہ دوسروں کے کیا کام آسکتے ہیں ” اِنَّکُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ “ ای بعبادۃ من لا ینطق بلفظۃ ولا یملک لنفسہ لحظۃ و کیف ینفع عابدیہ ویدفع عنھم الباس من لا یرفع عن راسہ الف اس (قرطبی ج 11 ص 302) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–67
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔
تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ…
Read the full tafseer →فَرَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَنْفُسِہِمْ فَقَالُوْٓا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ 64ۙ
رجع
الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود،
( ر ج ع ) الرجوع
اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے
نفس
الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–67
تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…
Read the full tafseer →فَرَجَعُوْٓا اِلٰٓی اَنْفُسِھِمْ فَقَالُوْٓا اِنَّـکُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الانبیاء : 64)
(لاجواب ہوکر) اپنے دلوں میں غور کرنے لگے، پھر بولے بلاشبہ تم ہی ناحق پر ہو۔ )
حقیقت کی جھلک
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس چونکا دینے والے طنز نے ان کے دماغ کے تاروں کو شدت سے ہلایا۔ بت پرستی کی عصیبت کے پردوں میں دراڑیں پڑیں۔ دل و دماغ میں بجلی سی کوند گئی۔ متنبہ ہو کے سوچنے لگے کہ یہ نوجوان غلط نہیں کہہ رہا۔ غضب خدا کا ہم نے جنھیں خدائی کے منصب پر بٹھا رکھا ہے وہ یہ بتانے کے قابل بھی نہیں ہیں کہ انھیں اس تباہی سے دوچار کس نے کیا ہے تو وہ ہماری قسمتیں بنانے میں کیا کردار ادا کرسکیں گے۔ ہم اب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
فہم القرآن
ربط کلام : بتوں کو پاش پاش کرنے پر قوم کا رد عمل۔
قوم جب واپس پلٹی تو ان کی مسرت و شادمانی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی۔ زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے پھر دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔
(قَالُوا فَأْتُوْا بِہٖ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 61]
” انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ دیکھ لیں۔ “
(فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 94]
” وہ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “
اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ…
Read the full tafseer →64: فَرَجَعُوْٓا اِلٰٓی اَنْفُسِھِمْ (اس پر وہ اپنے دل میں سوچنے لگے) عقلوں کی طرف رجوع کیا اور دلوں میں سوچ و بچار کرنے لگے جبکہ آپ نے ان کی مخالفت شروع کی۔ فَقَالُوْٓا اِنَّکُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ (پھر آپس میں کہنے لگے حقیقت میں تم ہی لوگ ناحق پر ہو) حقیقت میں اس لئے کہ تم ان کی عبادت کرتے ہو جو بولتے بھی نہیں۔ وہ ظلم نہیں جس کو تم یہ کہہ کر ظالم قرار دے چکے۔ من فعل ھذا بالھتنا انہ لمن الظالمین ] الانبیاء : 59 [ اس لئے کہ جو اپنے سر سے کلہاڑے کو نہیں ہٹاسکے وہ اپنے عابد کی تکالیف کا کیسے ازالہ کرسکتے ؟
Read the full tafseer →تفسیر۔
64۔ فرجعوا الی انفسھم، ، اس وقت انہوں نے اپنی عقلوں کی طرف رجوع کیا اور غور و فکر کیا کہ ابراہیم کی بات حق ہے اور ہم غلطی پر ہیں۔ فقالوا ہم نہیں دیکھتے کہ جیسا کہ انہوں نے کہا، انکم انتم الظالمون، ان کی عبادت کے ساتھ جو نہ بات کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ تم ظالم ہو اوریہ شخص حاضر ہے اور یہ تمہارے معبود بھی حاضر ہیں لہذا تم ان سے سوال کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
64۔ 67:۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ ان چھوٹے بتوں سے تو یہ پوچھا جائے کہ ان کو کس نے توڑا ہے اور بڑے بت سے یہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے چھوٹے بتوں کو کیوں توڑا ہے تو قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو اپنے دل میں سوچا اور آپس میں ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا کہ بغیر دیکھے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتوں کے توڑنے کا الزام لگانا حقیقت میں ایک زیادتی اور بےانصافی کی بات ہے پھر گردن جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگے ابراہیم تم کو کیا معلوم نہیں کہ یہ پتھر کے بت منہ سے نہیں بولتے ‘ قوم کے لوگوں سے یہ بات سن کر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →81 حضرت ابراہیم کی ضرب حق کا مشرکوں پر اثر : کہ اس سے انہوں نے اپنے دلوں میں خود اپنے آپ سے یا ایک دوسرے سے کہا کہ یقینا تم لوگ خود ہی ظالم ہو۔ یعنی { انفسہم } کے یہ دونوں مطلب بن سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگ اپنے دلوں میں اس طرح سوچنے لگے۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ انہوں نے باہم ایک دوسرے سے اس طرح کہا۔ سو اس طرح حضرت ابراہیم کی ضرب حق کا ان لوگوں پر وقتی طور پر اثر ہوا لیکن پھر بھی وہ اوندھے ہوگئے اور حق کی طرف لوٹنے کی بجائے کفر و شرک کے اسی مہیب اور تباہ کن گڑھے میں گرگئے ۔ والعیاذ باللہ -
82 مشرکوں کا اپنے ظلم کا اقرار و اعتراف : سو انہوں نے خود اپنے آپ کو یا ایک دوسرے کو خطاب کر کے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ ظاہر ہے کہ حجرت ابراہیم نے یہ بات تعریض اور کنایہ کے طور پر فرمائی اور تنز کیا کہ تم تو ان بتوں کو نفع و نقصان کے مالک سمجھتے ہو تو اگر یہ بولتے ہیں تو خود انہی سے دریافت کرلو کہ انہیں توڑنے کا کام کس نے کیا ہے ؟ مگر اس آیت میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا یہ فرمانا کہ ” یہ کام ان کے بڑے بت نے کیا ہے “ اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے چونکہ جھوٹ ہے اس بنا پر نبی ﷺ نے اسے جھوٹ ہی کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے : ” ان ابراھیم لم یکذب غیر ثلاث “ کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے صرف تین موقعوں پر جھوٹ بولا ہے ایک ان کا کہنا کہ ” میں بیمار ہوں “…
Read the full tafseer →(21:64) فرجعوا الی انفسہم۔ انہوں نے اپنے آپ کی طرف رجوع کیا۔ اپنے دلوں میں سوچنے لگے۔ ایک دوسرے سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے۔ انکم انتم الظلمون۔ یہ بات ان بت پرستوں نے آپس میں ایک دوسرے کو کہی۔ بیشک تم ہی غلط کار۔ زیاں کار و ستمگار ہو۔ غلط راستہ پر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70
رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔
نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 70
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ کہہ کرچپ کرادیا کہ ان بتوں ہی سے پوچھا جاوے کہ ان کو کس نے توڑا ہیی تو قوم کے لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو اپنے دل میں سوچا اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا کہ بغیر دیکھے حضرت ابراہیم کو بتوں کو توڑنے کا الزام لگانا حقیقت میں ایک زیادتی اور بےانصافی کی بات ہے پھر گردن جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگے حضرت ابراہیم تم کو کیا معلوم نہیں کہ یہ پتھر کے بت منہ سے نہیں بولتے، قوم کے لوگوں سے یہ بات سن کر حضرت ابراہیم نے ان سے کہا کہ تمہارے بت جب ایسے عاجز اور بےبس ہیں کہ جس نے ان کو صدمہ پہنچایا اس کا مقابلہ نہ کرسکے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
[35] ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے فرمایا، '' جی اور کیا کہیں ان کے بڑے گروہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ ان بتوں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟ ''
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تدبیر اصلاح ! :
(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ کو اگر اس حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس کے عام مفہوم کو مد نظر رکھا جائے ، جو لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مقام پر جھوٹ بولا تو طبیعت میں سخت خلجان پیدا ہوتا ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ صحیح حدیث بھی قرآن کے مخالف مفہوم کو بیان کرسکتی ہے اور یا پھر انبیاء سے کذب کا صدور ممکن ہے ، اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں ، نہ حدیث قرآن کے مخالف ہے ، اور نہ قرآن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تکذیب کا کہیں ذکر ہے ، اس سلسلہ میں ذیل کی باتیں پیش نظر رہنا چاہئیں ۔
1۔ قرآن میں ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →(64) پھر وہ مشرک اپنے دلوں کی جانب متوجہ ہوئے اور سوچنے لگے اور آپس میں کہنے لگے اس میں شک نہیں کہ تم ہی ناحق پر ہو۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس کہنے پر کہ اگر یہ بولتے ہیں تو ان ہی سے پوچھ لو وہ مشرک سوچ میں پڑگئے اور آپس میں یوں کہنے لگے کہ تم ہی ناحق پر ہو، یعنی بت پرستی کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سمجھے کہ پتھر پوجنا کیا حاصل۔ 12
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ تم ہی ناحق پر ہو یعنی جب تم نے یہ دیکھا تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تمہارے معبودوں کا مخالف ہے تو تم بت خانے کو کھلا چھوڑ کر چلے گئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
ف 6۔ اگر یہ شق فاعلیت و ناطقیت کی باطل ہے تو عجز ان کا تمہارے نزدیک مسلم ہوگیا، پھر اعتقاد الوہیت کی کیا وجہ۔
Read the full tafseer →وہ لوگ ابراہیم کی بات سن کر اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور اپنے ظلم کو پہچان گئے :
64۔ بات کسی قدر واضح اور صاف ہوگئی کہ اس وقت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے مخالفین ومعاندین نے جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو سنا تو وہ چونک گئے اور ان کی ضمیر نے ان کو وہ لعن طن کیا کہ وہ سرنگوں ہوگئے اور عقل کی جوتی نے ان کو خوب سر کو ٹے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم لوگ تو اس نوجوان کو ظالم کہتے ہو لیکن اس نے تو ثابت کردیا کہ ظالم وہ نہیں بلکہ ظالم تم ہی ہو کہ ایسی چیزوں کو معبود ‘ حاجت روا اور مشکل کشا بنائے بیٹھے ہو جو یہ صلاحیت بھی نہیں رکھتیں کہ خود اپنی ذات پر آئی مصیبت کو بھی دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
The words of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) were not untrue, but only allusions
قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَـٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ (He said, "Rather, this is done by this chief of theirs. So, ask them if they were to speak." - 21:63) When the community of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) got hold of him and asked him to confess his guilt, he said "The big one among them has done it. Why don't you ask him, if he can speak"?
The point to consider here is that the idols were broken by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and its denial and attributing the deed to the big…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
60. The very sentence,“So ask them, if they can speak”, is a clear proof that it was not a lie when Prophet Abraham (peace be upon him) said:“But this has done it, biggest of them, this one”. What he intended by this was to make them realize and confess that their idols were helpless because they could do nothing to protect themselves and could not even speak. It is clear that when a person poses an unreal question for the sake of argument in order to bring home the fact that the position taken by the other party is untenable, it cannot be considered as a lie; firstly, because the speaker…
Read the full tafseer →