Explained with ayahs 57–63
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
سورة الْاَنْبِیَآء 60
یہ آخری فقرہ خود ظاہر کر رہا ہے کہ پہلے فقرے میں حضرت ابراہیم نے بت شکنی کے اس فعل کو بڑے بت کی طرف جو منسوب کیا ہے اس سے ان کا مقصد جھوٹ بولنا نہ تھا، بلکہ وہ اپنے مخالفین پر حجت قائم کرنا چاہتے تھے۔ یہ بات انہوں نے اس لیے کہی تھی کہ وہ لوگ جواب میں خود اس کا اقرار کریں کہ انکے یہ معبود بالکل بےبس ہیں اور ان سے کسی فعل کی توقع تک نہیں کی جاسکتی۔ ایسے موقع پر ایک شخص استدلال کی خاطر جو خلاف واقعہ بات کہتا ہے اس کو جھوٹ قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ نہ وہ خود جھوٹ کی نیت سے ایسی بات کہتا ہے اور نہ اس کے مخاطب ہی اسے جھوٹ سمجھتے ہیں۔ کہنے والا اسے حجت قائم کرنے کے لیے کہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
حضرت ابراہیم ؑ کا قول جھوٹ نہیں بلکہ ایک کنایہ تھا اس کی تفصیل و تحقیق
بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ یعنی جب ابراہیم ؑ کو ان کی برادری نے گرفتار کرکے بلایا اور ان سے اقرار لینے کے لئے سوال کیا کہ کیا آپ نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ بلکہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہے تم خود ان سے دریافت کرلو اگر یہ بول سکتے ہوں۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو حضرت ابراہیم ؑ نے خود کیا تھا پھر اس سے انکار اور ان کے بڑے کی طرف منسوب کرنا بظاہر خلاف واقعہ ہے جس کو جھوٹ کہا جاتا ہے حضرت خلیل اللہ کی شان اس سے بالا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت 63-62
حضرت ابراہیم کا جواب
بالآخر مذکورہ بالا حکم کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ عام لوگوں کے سامنے، پیشوایان دین کی عدالت میں پیش کئے گئے اور ان سے سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ جرم تم نے کیا ہے ؟ حضرت ابراہیم نے نہایت تیکھے طنز اور استہزا کے انداز میں جواب دیا کہ یہ کارستانی تو انکے اس بڑے کی معلوم ہوتی ہے اور اس بارے میں مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے، آخر آپ لوگ انہی سے کیوں نہیں پوچھتے، اگر یہ بولتے ہیں تو خود ہی اپنی کہانی آپ کو سنا دیں گے !
یہ جواب دے کر حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے ان بزرگوں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں اعتراف شکست کے سوا کوئی اور راہ ان کے لئے…
Read the full tafseer →63۔ 1 چناچہ حضرت ابراہیم ؑ کو مجمع عام میں لایا گیا اور ان سے پوچھا گیا، حضرت ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ یہ کام تو اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ (ٹوٹے ہوئے بت) بول کر بتلا سکتے ہیں تو ذرا ان سے پوچھو تو سہی۔ یہ بطور اپنے مطلب کے بات کی یا انہوں نے کہا تاکہ وہ یہ بات جان لیں کہ جو نہ بول سکتا ہو نہ کسی چیز سے آگاہی کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ معبود نہیں ہوسکتا۔ نہ اس پر الہ کا اطلاق ہی صحیح ہے ایک حدیث صحیح میں حضرت ابراہیم ؑ کے اس قول بل فعلہ کبیرھم کو لفظ کذب سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے تین جھوٹ بولے دو اللہ کے لیے ایک (انی سقیم) اور دوسرا یہی اور تیسرا حضرت سارہ اپنی بیوی کو بہن کہنا (صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
26: یہ درحقیقت ان کے عقیدے پر ایک طنز تھا، وہ لوگ چونکہ بتوں کو بڑے اختیارات کا مالک سمجھتے تھے، اور بڑا بت بنانے کا مقصد یہی تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے خداؤں کے لیے سردار کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس طنز سے حضرت ابراہیم ؑ کا مقصد یہ تھا کہ جب تم اس بڑے بت کو بتوں کا سردار سمجھتے ہو اور سردار اپنے ماتحتوں کا محافظ ہوا کرتا ہے، اس لیے اگر کسی اور شخص نے چھوٹے بتوں کو توڑا ہوتا تو تمہارے اعتقاد کے مطابق یہ سردار اسے ایسا کرنے نہ دیتا، لہذا یہ احتمال تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی اور شخص بتوں کی یہ گت بنائے، اور ان کا یہ سردار چپ چاپ دیکھتا رہے، اب تمہارے اعتقاد کے مطابق ایک ہی احتمال رہ جاتا ہے کہ خود…
Read the full tafseer →قال بل۔۔۔۔۔۔۔ ان کانوا ینطقون (36) ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس جواب میں چھنا ہوا مذاق تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس سنجیدہ مذاق کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے یہ جھوٹی بات کی۔ مفسرین نے اس فقرے کے اسباب اور توجیہات میں جو طویل کلام کیا ہے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو بہت ہی سادہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ لوگوں کو بتائیں کہ یہ مورتیاں اتنا بھی نہیں جانتیں کہ ان کو توڑا کس نے ہے ؟ میں نے توڑا ہے یا اس بڑے بت نے توڑا ہے ؟ جو کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ تو محض جمادات ہیں اور ان کے اندر تو قوت مدر کہ ہے ہی نہیں۔ تم آدمی ہوتے ہوئے بھی ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
1 یعنی مجھ سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ یہ فرض کرلیا جائے کہ اس بڑے گروگھنٹال نے جو صحیح سالم کھڑا ہے اور توڑنے کا آلہ بھی اس کے پاس موجود ہے، یہ کام کیا ہوگا۔ لیجئے بحث و تحقیق کے وقت بطور الزام و تبکیت میں یہ دعویٰ کیے لیتا ہوں کہ بڑے بت نے سب چھوٹوں کو توڑ ڈالا۔ اب آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ کیا دنیا میں ایسا ہوتا نہیں کہ بڑے سانپ چھوٹے سانپوں کو، بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے۔ اور بڑے بادشاہ چھوٹی سلطنتوں کو تباہ کر ڈالتے ہیں، اس لیے بہترین صورت میرے تمہارے درمیان فیصلہ کی یہ ہے کہ تم خود اپنے ان معبودوں ہی سے دریافت کرلو کہ یہ ماجرا کس طرح ہوا، اگر یہ کچھ بول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت 63 قَالَ بَلْ فَعَلَہٗق کَبِیْرُہُمْ ہٰذَا فَسْءَلُوْہُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ”
یہ جھوٹ نہیں بلکہ ”توریہ“ کا ایک انداز ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ نہیں سمجھتے تھے کہ میری اس بات کو وہ لوگ سچ سمجھ لیں گے اور وہ لوگ بھی خوب سمجھ رہے تھے کہ ان سے ایسے کیوں کہا جا رہا ہے۔ بہر حال آپ علیہ السلام کا مقصد انہیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور سوچنے پر مجبور کرنا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
55 چناچہ حضرت ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے برسر میدان لایا گیا اور ان سے پہلا سوال جو ہوا تو وہ اعتراف جرم سے متعلق تھا۔ کیونکہ جب تک مجرم کا جرم ہی ثابت نہ ہو سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم سے پوچھا یہ گیا کہ : آیا ہمارے مشکل کشاو وں کو تم ہی نہ توڑا پھوڑا ہے ؟ اس سوال کا جواب حضرت ابراہیم نے یہ دیا کہ قرینہ کی شہادت تو یہ ہے کہ یہ سب کارستانی بڑے بت کی ہے۔ جس نے کلہاڑا اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے۔ ممکن ہے بڑے خدا کو تمہارے جانے کے بعد چھوٹے خداؤں پر غصہ آگیا ہو اور اس نے انھیں تہس نہس کردیا ہو۔ اور اس سوال کا اصل حل یہ ہے کہ ان مظلوم اور ٹوٹے پھوٹے مشکل کشاؤں سے ہی پوچھ لو کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
80۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے اس وقت بھی فرمایا کہ ” جی اور کیا اور کہیں ان سے بڑے ٹھاکر جی ہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ انہیں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟” حدیث صحیح میں ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے اس قول کو کذب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور اس سے منکرین حدیث کو بخاری، مسلم، ترمذی کے خلاف ایک طومار کذب باندھنے کا موقع مل گیا ہے۔ حالانکہ بالکل صاف ظاہر ہے کہ یہ کذب صرف صورۃ تھا۔ نہ حضرت (علیہ السلام) کی نیت کسی غلط بات کہنے کی تھی نہ اس کلام سے اس بڑے مجمع میں کسی ایک متنفس کو بھی دھوکا یا مغالطہ ہوا۔ مقصود تمامتر مشرکین پر حجت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…
Read the full tafseer →قال بل فعلہ کبیرہم ہذا فسئلوہم ان کانوا ینطقون۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا بلکہ یہ کام ان کے اس
بڑے نے کیا ہے تم ان بتوں سے پوچھ دیکھو اگر یہ بول سکیں گے (تو بتادیں گے)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑے بت پر بڑا غصہ تھا اور اس سے آپ کو نفرت زیادہ تھی کیونکہ وہ لوگ اس کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اسی لئے بت شکنی کی نسبت آپ نے بڑے بت کی طرف مجازاً کردی۔ یا یوں کہا جائے کہ آپ نے بت شکنی پر تعریض اقرار نما کی استہزاء کے طرز میں خود بت توڑنے کا اقرار کرلیا۔ جیسے اگر آپ کسی ایسے آدمی کی جو خوشخط نہ ہو کوئی خوشخطی کی تحریر دیکھ کر کہیں کیا یہ تم نے لکھا ہے اور وہ جواب دے میں نے نہیں بلکہ آپ نے لکھا ہے…
Read the full tafseer →(63) حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میں نے نہیں بلکہ اس بڑے گرو نے یہ حرکت کی ہے جس کی گردن میں یہ کدال لٹکی ہوئی ہے سو ان ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں تاکہ یہ تمہیں خود بتادیں کہ کس نے ان کی پٹائی کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
قَالُوْٓا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ ھٰذَا۔۔ : لوگوں کے سوال کے جواب میں کہ اے ابراہیم ! کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے ؟ ابراہیم ؑ نے ان کے بتوں کی بےبسی و بےچارگی واضح کرنے کے لیے شدید طنز کرتے ہوئے فرمایا : ”بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں۔“ مراد خود ان کے منہ سے اس بات کا اقرار کروانا تھا کہ بت نفع یا نقصان تو دور کی بات ہے بول کر بتا بھی نہیں سکتے کہ ان کا یہ حال زار کون کر گیا ہے۔ ”فَسْـَٔــلُوْهُمْ“ (سو ان سے پوچھ لو) یعنی صحیح سالم رہنے والے ان کے اس بڑے سے پوچھو کہ اس نے بت کیوں توڑے اور اگر کسی اور نے توڑے ہیں تو اس نے اپنے ساتھیوں کا دفاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالو من فعل ھذا با لھتنا انہ لمن الظلمین۔ جب وہ اپنے میلے سے لوٹ کر آئے اور ان کے بتوں کا جو حشر ہوچکا تھا تو بحث و انکار کی حجت سے یہ کہا : من فعل۔ الخ، بعض نے فرمایا : من استفہامیہ نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر لمن الظلمین ہے یعنی ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ ارشاد ہے : سمعنا فتی یذکرھم یہ من فعل ھذا کا جواب ہے۔ قالوا میں ضمیر ان کمزور لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے حضرت ابراہیم کی بات سنی تھی یا وہ ایک شخص ہے جس نے آپ کا جملہ سنا تھا۔ یذکرھم کا معنی ہے وہ انہیں عیب لگاتا ہے اور انہیں برا بھلا کہتا ہے۔ شاید اس نے یہ کیا ہو۔ ابراہیم پر رفع کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…
Read the full tafseer →[ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ بَلْ : بلکہ ] [ فَعَلَه : کیا یہ ] [ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا : ان کے اس بڑے نے ] [ فَسْـَٔــلُوْهُمْ : تو تم لوگ پوچھو ان (خدائوں) سے ] [ ان : اگر ] [ كَانوْا : یہ سب ] [ يَنْطِقُوْنَ : بولتے ہیں ]
[ ن ط ق ](ض) مَنْطِقًا واضح کر کے بیان کرنا۔ بولنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 63 ۔
[ مَنْطِقٌ اسم ذات بھی ہے۔ کلام۔ بولی۔ یٰـاَ یُّھَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ (اے لوگو ہمیں علم دیا گیا
پرندوں کی بولی کا) 27:16]
[ (افعال) اِنْطَاقًا بولنے کی صلاحیت دینا۔ قوت گویائی دینا۔ اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ (ہمیں گویائی دی اس اللہ نے جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →45:۔ ” قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ الخ “ لفظ بل اضراب کے لیے ہے جو ماقبل کے خلاف ایک نئی بات بیان کرنے کیلئے لایا جاتا ہے تو اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے سوال کے جواب میں بتوں کو تورنے کے فعل سے انکار کردیا اور اس فعل کو ان کے بڑے بت کی طرف منسوب کردیا ظاہر ہے کہ یہ جھوٹ کی صورت ہے جس کی نسبت انبیاء (علیہم السلام) کی طرف محال ہے اس کے بہت سے جواب دئیے گئے جو تفسیر کبیر اور روح المعانی میں بہ تفصیل مذکور ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ ” بَلْ فَعَلَهٗ “ میں تکلم سے غیب کی طرف التفات ہے اور اس کا فاعل مقدر ہے اصل میں تھا بل فعلہ من فعلہ۔ یعنی جس نے یہ کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–67
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔
تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ…
Read the full tafseer →قَالَ بَلْ فَعَلَہٗ 0ۤۖ كَبِيْرُہُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْہُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–67
تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
قَالُوْٓائَ اَنْتَ فَعَلْتَ ھٰذَا بِاٰ لِھَتِنَا یٰٓـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَالَ بَلْ فَعَلَـہٗ صلے ق کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا فَسْئَلُوْھُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 62، 63)
(انھوں نے پوچھا کہ اے ابراہیم، کیا یہ حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کی ہے۔ حضرت ابراہیم نے جواب دیا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ حرکت کی ہوگی، سو ان سے پوچھو، اگر یہ بولتے ہوں۔ )
استفسار اور جواب
سوالوں کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) سے سوال کرنے والے اربابِ اقتدار بھی تھے اور پیشوایانِ دین بھی۔ انھوں نے نہایت حیرت اور غصے میں ڈوبے ہوئے لہجے میں پوچھا کہ ابراہیم ہمارے خدائوں کے ساتھ تم نے یہ حرکت کی ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
فہم القرآن
ربط کلام : بتوں کو پاش پاش کرنے پر قوم کا رد عمل۔
قوم جب واپس پلٹی تو ان کی مسرت و شادمانی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی۔ زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے پھر دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔
(قَالُوا فَأْتُوْا بِہٖ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 61]
” انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ دیکھ لیں۔ “
(فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 94]
” وہ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “
اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ…
Read the full tafseer →63: قَالَ (ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا) بَلْ فَعَلَہٗ (بلکہ اس کو کیا ہے)
قراءت : کسائی اس پر وقف کرتے ہیں ای فعلہ من فعلہ۔
نحو : اس میں فاعل محذوف ہے اور وہ جائز نہیں اور یہ جائز ہے کہ فعل کی اسناد اس فتٰی کی طرف کی جائے جو اس آیت میں ہے سمعنا فتًی یذکرھم نمبر 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کی جائے جن کا تذکرہ اس آیت میں ہے۔ یٰٓاِ براہیم پھر کہا کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا (بڑا انکا یہ ہے) یہ مبتدا اور خبر ہے۔
اکثر کا قول : فعلہٗ پر وقف نہیں اور کبیرھمؔ اس کا فاعل ہے اور ھٰذا اس کی صفت ہے یا بدل ہے اور فعل کی نسبت کبیرہُم کی طرف کی گئی اور مقصود اپنی ذات کیلئے اس کو پختہ کرنا ہے۔ اور ثابت کرنا…
Read the full tafseer →63۔ قال، ابراہیم نے کہا کہ ، بل فعلہ کبیرھم ھذا، حضرت ابراہیم کو بڑے بت پر غصہ تھا اور آپ کو اس سے نفرت بھی زیادہ تھی کیونکہ لوگ اس کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اور ابراہیم کا ارادہ ان پر حجت قائم کرنا تھا اسی وجہ سے انہوں نے پوچھا، فاسئلوھم ان کانواینطقون، کہ ان سے پوچھو کہ یہ فعل کس کا ہے ؟۔
حضرت ابراہیم کا بتوں کو توڑنے کا واقعہ۔
حضرت ابراہیم کو بڑے بت پر بڑا غصہ تھا، اور اس سے آپ کو نفرت زیادہ تھی کیونکہ وہ لوگ اس کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اس لیے بت شکنی کی نسبت آپ نے بڑے بت کی طرف مجازا کردی، یایوں کہاجائے کہ آپ نے بت شکنی پر تعریض اقرار نما کی استہزاء کے طرز میں خود بت توڑنے کا اقرار کرلیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–63
57۔ 63:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں زید بن اسلم وغیرہ کی روایتوں سے ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر جو قصہ ہے سورة والصافات کے قصے کے ملانے سے اس سب قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب ابرہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آزر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہئے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے ‘ بتوں کے توڑنے کے سال میں جب وہ میلہ کا وقت آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →80 حضرت ابراہیم کی مشرکوں کے ضمیروں پر ایک اور دستک : کہ آپ نے انکے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ کارروائی انکے اس بڑے گرو نے کی ہوگی جو کلہاڑا اٹھائے خود صحیح وسالم کھڑا ہے۔ اور باقی سب چورہ چورہ ہوچکے ہوئے ہیں۔ اور جب تم اس کو کرتا دھرتا مانتے اور اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھتے ہو تو پھر اس کی موجودگی میں دوسروں کا یہ حشر ہوا تو آخر کیوں ہوا ؟ اور یہ کیوں کھڑا دیکھتا رہا ؟۔ تو اس طرح حضرت ابراہیم نے ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑا اور ان کو ایک اور دستک دی تاکہ وہ سوچیں کہ وہ بت پرستی کے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ کس قدر سنگین جرم ہے۔ اور یہ انسانیت کی کس قدر توہین و تذلیل ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
ف 8 ۔ یا ان کو جو سزا دی جائے اسے آنکھوں سے دیکھ لیں۔ لفظ ” یشھدون “ کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (کبیرا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
(21:63) آیت میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع بت ہیں جو بڑے بت کے اردگرد ٹکڑے ٹکڑے ہوئے پڑے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70
رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔
نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 70
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–63
(ف 1) تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آذر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہے حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے اس سال جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں نہیں گئے اور دبی ہوئی آواز میں سے بتوں کو توڑنے کی قسم کھائی، جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے قوم کے لوگوں کے بستی سے باہر چلے جانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
[35] ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے فرمایا، '' جی اور کیا کہیں ان کے بڑے گروہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ ان بتوں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟ ''
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تدبیر اصلاح ! :
(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ کو اگر اس حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس کے عام مفہوم کو مد نظر رکھا جائے ، جو لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مقام پر جھوٹ بولا تو طبیعت میں سخت خلجان پیدا ہوتا ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ صحیح حدیث بھی قرآن کے مخالف مفہوم کو بیان کرسکتی ہے اور یا پھر انبیاء سے کذب کا صدور ممکن ہے ، اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں ، نہ حدیث قرآن کے مخالف ہے ، اور نہ قرآن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تکذیب کا کہیں ذکر ہے ، اس سلسلہ میں ذیل کی باتیں پیش نظر رہنا چاہئیں ۔
1۔ قرآن میں ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →(63) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا نہیں بلکہ یہ کام اس بڑے دیوتا اور بڑے بت نے کیا ہے اگر یہ پتھر کے معبود بول سکتے ہوں تو ان سے دریافت کرلو اور ان سے پوچھ لو۔ یعنی بظاہر یہ احتمال قوی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حرکت اس بڑے بت نے کی ہے میرے متعلق یہ خیال کرنا کہ یہ میرا فعل ہے اس قسم کے احتمال کی گنجائش نہیں ہے۔
بہرحال ! جب یہ معبود ہیں اور تم ان میں قوۃ فاعلیت سمجھتے ہو تو اس احتمال پر کیوں بحث نہیں کرتے کہ اس بڑے معبود نے محض رقابت کی وجہ سے ان چھوٹے معبودوں کو توڑا ہے اور اس سے بھی آسان طریقہ تحقیق کا یہ ہے کہ اگر یہ بولتے ہوں تو خود انہی سے پوچھ لو کہ تم کو کس نے توڑا ہے۔
مفسرین نے اس موقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
ف 6۔ اگر یہ شق فاعلیت و ناطقیت کی باطل ہے تو عجز ان کا تمہارے نزدیک مسلم ہوگیا، پھر اعتقاد الوہیت کی کیا وجہ۔
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو اس بڑے صاحب سے کیوں نہیں پوچھ لیتے ؟
63۔ پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ان معبودان باطل کے پرخچے اڑائے تھے اور ان کا قتل عام کیا ” اس نے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے لیکن ان کے ایک بڑے کو چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ اس کی طرف لوٹیں ۔ “ (21 : 58) اس طرح آپ نے جس مقصد کے لئے یہ کام کیا تھا اس کو حاصل کرنے کے لئے ان کو اس وقت یہ جواب دیا کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو ان سب سے کیوں نہیں پوچھتے پھر یہ جو کچھ ہوا ہے اس بڑے ” شمس “ نے نہ کیا ہوگا جو خود ٹھیک ٹھاک کھڑا ہے ، چلو اس سے پوچھ لو تو اس سے سوال کرتے ہو اور کہتے ہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
The words of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) were not untrue, but only allusions
قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَـٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ (He said, "Rather, this is done by this chief of theirs. So, ask them if they were to speak." - 21:63) When the community of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) got hold of him and asked him to confess his guilt, he said "The big one among them has done it. Why don't you ask him, if he can speak"?
The point to consider here is that the idols were broken by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and its denial and attributing the deed to the big…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
60. The very sentence,“So ask them, if they can speak”, is a clear proof that it was not a lie when Prophet Abraham (peace be upon him) said:“But this has done it, biggest of them, this one”. What he intended by this was to make them realize and confess that their idols were helpless because they could do nothing to protect themselves and could not even speak. It is clear that when a person poses an unreal question for the sake of argument in order to bring home the fact that the position taken by the other party is untenable, it cannot be considered as a lie; firstly, because the speaker…
Read the full tafseer →