Al-Anbiyaa 21:62

Al-Anbiyaa · from ayah 62

21:62

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُ ۟ؕقَالُوۡٓا ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُؕ

(جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Have you done this to our gods, O Abraham?"

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:62

(ابراہیمؑ کے آنے پر) اُنہوں نے پوچھا "کیوں ابراہیمؑ، تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگے! اے ابراہیم ؑ کیا تو نے ہی ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(پھر جب ابراہیم کو لایا گیا تو) وہ بولے : ابراہیم ! کیا ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت تم ہی نے کی ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا اے ابراہیم

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جب ابراہیم علیہ السلام آئے تو) وہ کہنے لگے: کیا تم نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حال کیا ہے اے ابراہیم،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا کیا تو نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے اے ابراہیم ! ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(جب ابراہیم آگئے تو) انہوں نے پوچھا : ابراہیم ! ہمارے معبودوں سے یہ کارستانی تم نے کی ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے پوچھا کہ ابراہیم ! کیا یہ حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

لانے کے بعد انہوں نے پوچھا ابراہیم کیا تم نے ہی ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ؟

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے ارے تم ہی وہ ہو جس نے ہمارے ٹھاکروں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے اے براہیم ؑ ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے پوچھا : اے ابراہیم ؑ ! کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ سب کچھ تم نے کیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب ابراہیم آئے تو انہوں (بت پرستوں) نے کہا کہ اے ابراہیم ! بھلا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام تم نے کیا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

(On Abraham's arrival) they said: "Abraham, are you he who has done this to our gods?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Is it you O Ibrahim who has done this to our gods?

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Is it you O Ibrahim who has done this to our gods?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Is it thou who hast done this to our gods, O Abraham?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Have you done this to our gods, O Abraham?"

— Saheeh International

They asked, "Abraham, did you do this to our idols?"

— Muhammad Sarwar

They said: Have you done this to our gods, O Ibrahim?

— Muhammad Habib Shakir

They said: art thou the one who hath wrought this unto our gods, O Ibrahim?

— Abdul Majid Daryabadi

They said, "Art thou the one that did this with our gods, O Abraham?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–63

کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–62

سورة الْاَنْبِیَآء 59 یہ گویا حضرت ابراہیم کی منہ مانگی مراد تھی، کیونکہ وہ بھی یہی چاہتے تھے کہ بات صرف پروہتوں اور پجاریوں ہی کے سامنے نہ ہو بلکہ عام لوگ بھی موجود ہوں اور سب دیکھ لیں کہ یہ بت جو ان کے قاضی الحاجات بنا کر رکھے گئے ہیں کیسے بےبس ہیں اور خود یہ پروہت حضرات ان کو کیا سمجھتے ہیں۔ اس طرح ان پجاریوں سے بھی وہی حماقت سرزد ہوئی جو فرعون سے سرزد ہوئی تھی۔ اس نے بھی جادوگروں سے حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرانے کے لیے ملک بھر کی خلقت جمع کی تھی اور انہوں نے بھی حضرت ابراہیم کا مقدمہ سننے کے لیے عوام کو اکٹھا کرلیا۔ وہاں حضرت موسیٰ کو سب کے سامنے یہ ثابت کرنے کا موقع مل گیا کہ جو کچھ وہ لائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–62

فَجَــعَلَهُمْ جُذٰذًا، جذاد جِذٌّ بکسر الجیم کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑے کے ہیں مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے توڑ کر ان سب بتوں کے ٹکڑے کردیئے۔ اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ ، یعنی صرف بڑے بت کو بغیر توڑے ہوئے چھوڑ دیا، اس کا بڑا ہونا یا تو حسی اعتبار سے ہو کہ اپنے جسم اور جثے کے اعتبار سے یہ دوسرے بتوں سے بڑا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جسم اور جثے میں سب کے برابر ہونے کے باوجود یہ بت ان بت پرستوں کے عقیدہ میں سب سے بڑا مانا جاتا ہو۔ لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ ، اس میں الیہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ ضمیر ابراہیم ؑ کی طرف راجع ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں ایسا ہی بیان کیا گیا اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 62–63

آیت 63-62 حضرت ابراہیم کا جواب بالآخر مذکورہ بالا حکم کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ عام لوگوں کے سامنے، پیشوایان دین کی عدالت میں پیش کئے گئے اور ان سے سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ جرم تم نے کیا ہے ؟ حضرت ابراہیم نے نہایت تیکھے طنز اور استہزا کے انداز میں جواب دیا کہ یہ کارستانی تو انکے اس بڑے کی معلوم ہوتی ہے اور اس بارے میں مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے، آخر آپ لوگ انہی سے کیوں نہیں پوچھتے، اگر یہ بولتے ہیں تو خود ہی اپنی کہانی آپ کو سنا دیں گے ! یہ جواب دے کر حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے ان بزرگوں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں اعتراف شکست کے سوا کوئی اور راہ ان کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 61–62

61۔ 1 یعنی اس کو سزا ملتی ہوئی دیکھیں تاکہ آئندہ کوئی اور یہ کام نہ کرے۔ یا یہ معنی ہیں کہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے ابراہیم ؑ کو بت توڑتے ہوئے دیکھا یا ان کے خلاف باتیں کرتے ہوئے سنا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 58–62

25: جیسا کہ سورة صافات :88 میں آنے والا ہے وہ کوئی جشن کا دن تھا جس میں ساری قوم شہر چھوڑ کر کہیں جایا کرتی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے ساتھ جانے سے معذرت کرلی تھی۔ اور جب سارے لوگ چلے گئے تو بت خانے میں جا کر سارے بتوں کو توڑ ڈالا، صرف ایک بڑے بت کو چھوڑ دیا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی کلہاڑی بھی اس کی گردن میں لٹکا کر چھوڑ دی۔ اس عمل سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھ سکیں۔ اور یہ سوچیں کہ جو بت خود اپنا دفاع نہیں کرسکتے، وہ دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ بڑے بت کو چھوڑنے کی مصلحت اس سوال و جواب سے واضح ہوگی جو آیت نمبر 63 میں آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یابرھیم (26) تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ان کے یہ بت ریزہ ریزہ تھے لیکن پھر بھی ان کو اصرار تھا کہ یہ ہمارے الہٰ ہیں۔ جب ابراہیم ان کے ساتھ یہ مذاق کررہے تھے وہ اکیلے تھے اور یہ لوگ بہت زیادہ تھے ۔ لیکن وہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ معاملات کو دیکھتے تھے۔ اس لیے وہ ان بےعقلوں کے سامنے مذاق ہی کرسکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان کو ایسا جواب دیا جوان جیسے لوگوں کے مناسب حال تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 62–63

1 یعنی مجھ سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ یہ فرض کرلیا جائے کہ اس بڑے گروگھنٹال نے جو صحیح سالم کھڑا ہے اور توڑنے کا آلہ بھی اس کے پاس موجود ہے، یہ کام کیا ہوگا۔ لیجئے بحث و تحقیق کے وقت بطور الزام و تبکیت میں یہ دعویٰ کیے لیتا ہوں کہ بڑے بت نے سب چھوٹوں کو توڑ ڈالا۔ اب آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ کیا دنیا میں ایسا ہوتا نہیں کہ بڑے سانپ چھوٹے سانپوں کو، بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے۔ اور بڑے بادشاہ چھوٹی سلطنتوں کو تباہ کر ڈالتے ہیں، اس لیے بہترین صورت میرے تمہارے درمیان فیصلہ کی یہ ہے کہ تم خود اپنے ان معبودوں ہی سے دریافت کرلو کہ یہ ماجرا کس طرح ہوا، اگر یہ کچھ بول…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 62–63

آیت 63 قَالَ بَلْ فَعَلَہٗق کَبِیْرُہُمْ ہٰذَا فَسْءَلُوْہُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ” یہ جھوٹ نہیں بلکہ ”توریہ“ کا ایک انداز ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ نہیں سمجھتے تھے کہ میری اس بات کو وہ لوگ سچ سمجھ لیں گے اور وہ لوگ بھی خوب سمجھ رہے تھے کہ ان سے ایسے کیوں کہا جا رہا ہے۔ بہر حال آپ علیہ السلام کا مقصد انہیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور سوچنے پر مجبور کرنا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 61–62

54 پھر جب اس ظالم کی نشان دہی ہوچکی تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ اس کو جو کچھ سزا دینا چاہتے ہو۔ وہ سب لوگوں کے سامنے علی الاعلان دی جانی چاہئے۔ تاکہ لوگوں کے دل اپنے معبودوں کی طرف سے ٹھنڈے ہوں اور سزا بھی ایسی عبرت ناک ہونی چاہئے کہ آئندہ کسی کو ان مشکل کشاؤں کی شان میں گستاخی کرنے کی جرأت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 62–63

80۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے اس وقت بھی فرمایا کہ ” جی اور کیا اور کہیں ان سے بڑے ٹھاکر جی ہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ انہیں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟” حدیث صحیح میں ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے اس قول کو کذب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور اس سے منکرین حدیث کو بخاری، مسلم، ترمذی کے خلاف ایک طومار کذب باندھنے کا موقع مل گیا ہے۔ حالانکہ بالکل صاف ظاہر ہے کہ یہ کذب صرف صورۃ تھا۔ نہ حضرت (علیہ السلام) کی نیت کسی غلط بات کہنے کی تھی نہ اس کلام سے اس بڑے مجمع میں کسی ایک متنفس کو بھی دھوکا یا مغالطہ ہوا۔ مقصود تمامتر مشرکین پر حجت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالواء انت فعلت ہذا بالہتنا یابرہیم۔ انہوں نے کہا اے ابراہیم کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(62) غرض کہ وہ سب کے سامنے آئے تو سب کی طرف سے ان سے نمرود نے کہا ابراہیم ؑ کیا تم نے ہمارے بتوں کی بےحرمتی کی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 62–63

قَالُوْٓا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ ھٰذَا۔۔ : لوگوں کے سوال کے جواب میں کہ اے ابراہیم ! کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے ؟ ابراہیم ؑ نے ان کے بتوں کی بےبسی و بےچارگی واضح کرنے کے لیے شدید طنز کرتے ہوئے فرمایا : ”بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں۔“ مراد خود ان کے منہ سے اس بات کا اقرار کروانا تھا کہ بت نفع یا نقصان تو دور کی بات ہے بول کر بتا بھی نہیں سکتے کہ ان کا یہ حال زار کون کر گیا ہے۔ ”فَسْـَٔــلُوْهُمْ“ (سو ان سے پوچھ لو) یعنی صحیح سالم رہنے والے ان کے اس بڑے سے پوچھو کہ اس نے بت کیوں توڑے اور اگر کسی اور نے توڑے ہیں تو اس نے اپنے ساتھیوں کا دفاع…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 59–63

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالو من فعل ھذا با لھتنا انہ لمن الظلمین۔ جب وہ اپنے میلے سے لوٹ کر آئے اور ان کے بتوں کا جو حشر ہوچکا تھا تو بحث و انکار کی حجت سے یہ کہا : من فعل۔ الخ، بعض نے فرمایا : من استفہامیہ نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر لمن الظلمین ہے یعنی ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ ارشاد ہے : سمعنا فتی یذکرھم یہ من فعل ھذا کا جواب ہے۔ قالوا میں ضمیر ان کمزور لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے حضرت ابراہیم کی بات سنی تھی یا وہ ایک شخص ہے جس نے آپ کا جملہ سنا تھا۔ یذکرھم کا معنی ہے وہ انہیں عیب لگاتا ہے اور انہیں برا بھلا کہتا ہے۔ شاید اس نے یہ کیا ہو۔ ابراہیم پر رفع کے بارے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–67

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ ءَانتَ : کیا تو نے ہی ] [ فَعَلْتَ : کیا ] [ ھٰذَا : یہ ] [ بِاٰلِهَتِنَا : ہمارے الہٰوں کے ساتھ ] [ يٰٓـاِبْرٰهِيْمُ : اے ابراہیم ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

44:۔ ” قَالُوْا ءَ اَنْتَ فَعَلْتَ الخ “ اس سے پہلے اندماج ہے ای فاتوا بہ یعنی وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سر عام لے آئے اور ان سے سوال کیا۔ اے ابراہیم ! کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کچھ کیا ہے ؟ اس سوال سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے اس فعل کا اقرار کرلیں گے تو وہ انہیں حسب منشاء سزا دے سکیں گے مگر ان کا مقصد پورا نہ ہوا اور معاملہ برعکتس ہوگیا اور الٹے کود ذلیل ورسوا ہوئے (من الکبیر ) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–67

ربط آیات : گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔ تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا ءَ اَنْتَ فَعَلْتَ ھٰذَا بِاٰلِہَتِنَا يٰٓـاِبْرٰہِيْمُ۝ 62ۭ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–67

تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 62–63

قَالُوْٓائَ اَنْتَ فَعَلْتَ ھٰذَا بِاٰ لِھَتِنَا یٰٓـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَالَ بَلْ فَعَلَـہٗ صلے ق کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا فَسْئَلُوْھُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 62، 63) (انھوں نے پوچھا کہ اے ابراہیم، کیا یہ حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کی ہے۔ حضرت ابراہیم نے جواب دیا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ حرکت کی ہوگی، سو ان سے پوچھو، اگر یہ بولتے ہوں۔ ) استفسار اور جواب سوالوں کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) سے سوال کرنے والے اربابِ اقتدار بھی تھے اور پیشوایانِ دین بھی۔ انھوں نے نہایت حیرت اور غصے میں ڈوبے ہوئے لہجے میں پوچھا کہ ابراہیم ہمارے خدائوں کے ساتھ تم نے یہ حرکت کی ہے ؟…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–65

فہم القرآن ربط کلام : بتوں کو پاش پاش کرنے پر قوم کا رد عمل۔ قوم جب واپس پلٹی تو ان کی مسرت و شادمانی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی۔ زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے پھر دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ (قَالُوا فَأْتُوْا بِہٖ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 61] ” انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ دیکھ لیں۔ “ (فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 94] ” وہ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

62: جب انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو لا حاضر کیا تو قَالُوْٓائَ اَنْتَ فَعَلْتَ ھٰذَا بِاٰ لِھَتِنَا یٰٓاِبْرٰھِیْمُ (انہوں نے کہا اے ابراہیم کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے۔ )

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–63

57۔ 63:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں زید بن اسلم وغیرہ کی روایتوں سے ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر جو قصہ ہے سورة والصافات کے قصے کے ملانے سے اس سب قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب ابرہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آزر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہئے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے ‘ بتوں کے توڑنے کے سال میں جب وہ میلہ کا وقت آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 61–62

79 ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے حاضر کرنے کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم کا ذکر آنے پر انہوں نے کہا کہ لاؤ اس کو سب لوگوں کے سامنے تاکہ یہ سب دیکھ لیں۔ سو اس طرح علمبرداران کفر و شرک کی طرف سے حضرت ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے لانے کا حکم دے دیا گیا۔ سو مت کے مارے ان مشرکوں نے اپنے معبودوں کی اس درگت سے سبق لینے اور راہ حق و ہدایت کی طرف رجوع کرنے کی بجائے حضرت ابراہیم کے بارے میں حکم دیا کہ لے آؤ اس کو سب لوگوں کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں اس کے اس حشر وانجام کو جو اس کے ساتھ ہم کریں گے۔ نیز وہ گواہی دیں اس جرم کی جس کا ارتکاب اس شخص نے کیا ہے۔ یعنی یہ لفظ " شہود " سے بھی ہوسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 61–63

ف 8 ۔ یا ان کو جو سزا دی جائے اسے آنکھوں سے دیکھ لیں۔ لفظ ” یشھدون “ کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (کبیرا)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 62–63

(21:63) آیت میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع بت ہیں جو بڑے بت کے اردگرد ٹکڑے ٹکڑے ہوئے پڑے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–63

(ف 1) تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آذر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہے حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے اس سال جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں نہیں گئے اور دبی ہوئی آواز میں سے بتوں کو توڑنے کی قسم کھائی، جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے قوم کے لوگوں کے بستی سے باہر چلے جانے کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–68

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تدبیر اصلاح ! : (ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ کو اگر اس حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس کے عام مفہوم کو مد نظر رکھا جائے ، جو لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مقام پر جھوٹ بولا تو طبیعت میں سخت خلجان پیدا ہوتا ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ صحیح حدیث بھی قرآن کے مخالف مفہوم کو بیان کرسکتی ہے اور یا پھر انبیاء سے کذب کا صدور ممکن ہے ، اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں ، نہ حدیث قرآن کے مخالف ہے ، اور نہ قرآن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تکذیب کا کہیں ذکر ہے ، اس سلسلہ میں ذیل کی باتیں پیش نظر رہنا چاہئیں ۔ 1۔ قرآن میں ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(62) ان لوگوں نے کہا کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ توڑ پھوڑ کی حرکت اے ابراہیم (علیہ السلام) تو نے کی ہے۔ یعنی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ توہین آمیز سلوک کیا تو نے کیا ہے۔ اے ابراہیم (علیہ السلام) !

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–62

ف 5۔ بڑا بت جو جثے میں یا ان لوگوں کی نظروں میں معظم ہونے میں بڑا تھا اس کو چھوڑ دیا، جس سے ایک قسم کا استہزاء مقصود تھا کہ ایک کے سالم اور دوسروں کے قطع و برید سے ابہام ہوتا ہے کہ کہیں اسی نے تو سب کی خبر نہیں لی، پھر جب وہ قطع و برید کرنے والے کی تحقیق کریں گے اور اس صنم کبیر پر احتمال بھی نہ کریں گے تو ان کی طرف سے اس کے عجز کا اعتراف بھی ہوجاوے گا۔ اور حجت اور لازم تر ہوجاوے گی، پس انتہاء یہ الزام و اضمام ہے، اور مقصود مشترک اثبات عجز ہے بعض کا انکار سے اور ایک کا ان کے اقرار سے۔ غرض ایک کو اس مصلحت سے چھوڑ کر سب کو توڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو مجلس میں طلب کرلیا گیا اور سرعام ان سے پوچھا گیا : 62۔ اے ابراہیم ہمارے ان معبودوں سے تو نے یہ حرکت کی ہے ؟ بلاشبہ اس کا مختصر جواب تو یہ تھا کہ ہاں ! میں ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے لیکن اس جواب سے ایسا قدم اٹھانے کا جو اصل مقصد تھا وہ سارے کا سارا فوت ہوجاتا ہے اور کوئی عقل مند یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ ایسا مختصر جواب دے کہ جو اتنا بڑا اقدام کرنے کا اصل مقصد ہے اس کو پس پشت ڈال دیا جائے اور نہ یہ اقدام اس لئے کیا گیا تھا کہ اس کو کرنے کے بعد اس سے بالکل پہلو تہی کی جائے اور اس بات کو اسی جگہ ختم کردیا جائے اس لئے آپ نے ان کو یہ نہیں کہا کہ میں تو تمہیں پہلے ہی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–62

فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا (21:58) The word جُذَاذً is the plural for جُذَ. which means fragment or piece. Thus its meaning is that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) broke the idols into small pieces. إِلَّا كَبِيرً‌ا لَّهُمْ (Save the big one of them - 21:58) That is, only the biggest idol was left intact and all the rest were broken. It is possible that the one which was left unbroken was either bigger in size or higher in esteem with the unbelievers. لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْ‌جِعُونَ (So that they may come back to him - 21:58) There can be three explanations to this expression. One, if the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–62

59. This was exactly what Prophet Abraham (peace be upon him) expected to happen. He wished that the matter should not remain confined to the priests and the attendants but the common people also should be present there to witness that their deities were helpless and their priests were deluding them about their powers. The priests committed the same folly as was later committed by Pharaoh when he arranged an encounter between Prophet Moses (peace be upon him) and the magicians in the open in front of the multitudes of the common people, and the former got an opportunity to show publicly the…

Read the full tafseer →