Al-Anbiyaa 21:61

Al-Anbiyaa · from ayah 61

21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ ۟قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ عَلٰٓى اَعۡيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ

وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ گواہ رہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Then bring him before the eyes of the people that they may testify."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:61

انہوں نے کہا "تو پکڑ لاؤ اُسے سب کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں (اُس کی کیسی خبر لی جاتی ہے)"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ گواہ رہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

سب نے کہا اچھا اسے مجمع میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ﻻؤ تاکہ سب دیکھیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : تو پھر اس کو سب لوگوں کے سامنے لے کر آؤ، تاکہ سب گواہ بن جائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے تو اسے لوگوں کے سامنے لاؤ شاید وہ گواہی دیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ (اسے) دیکھ لیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا پھر اسے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہوجائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : پھر اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ دیکھ لیں (کہ ہم اس سے کیا کرتے ہیں)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ وہ بھی گواہ رہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہنے لگے فوراً پکڑ لاؤ اسے ان سب لوگوں کے سامنے تاکہ یہ سب دیکھ لیں اس کے اس حشر اور انجام کو

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ) بولے تو پھر اس کو سب لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ دیکھیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لوگوں نے کہا کہ پھر لاؤ اس کو سب کے سامنے تاکہ وہ گواہی دیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لائو تاکہ گواہ رہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The others said: "Bring him, then, before the eyes of the people that they may see (what will be done to him)."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Then, bring him before the eyes of the people, so that they may see .

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Then, bring him before the eyes of the people, so that they may see .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Then bring him before the eyes of the people, that they may testify."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Then bring him (hither) before the people's eyes that they may testify.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Then bring him before the eyes of the people that they may testify."

— Saheeh International

Their chiefs said, "Bring him before the eyes of the people and let them testify that he has spoken against the idols."

— Muhammad Sarwar

Said they: Then bring him before the eyes of the people, perhaps they may bear witness.

— Muhammad Habib Shakir

They said: bring him then before the eyes of the people, haply they may bear witness.

— Abdul Majid Daryabadi

They said, "Then bring him before the eyes of the people, that they may bear witness."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–63

کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–62

سورة الْاَنْبِیَآء 59 یہ گویا حضرت ابراہیم کی منہ مانگی مراد تھی، کیونکہ وہ بھی یہی چاہتے تھے کہ بات صرف پروہتوں اور پجاریوں ہی کے سامنے نہ ہو بلکہ عام لوگ بھی موجود ہوں اور سب دیکھ لیں کہ یہ بت جو ان کے قاضی الحاجات بنا کر رکھے گئے ہیں کیسے بےبس ہیں اور خود یہ پروہت حضرات ان کو کیا سمجھتے ہیں۔ اس طرح ان پجاریوں سے بھی وہی حماقت سرزد ہوئی جو فرعون سے سرزد ہوئی تھی۔ اس نے بھی جادوگروں سے حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرانے کے لیے ملک بھر کی خلقت جمع کی تھی اور انہوں نے بھی حضرت ابراہیم کا مقدمہ سننے کے لیے عوام کو اکٹھا کرلیا۔ وہاں حضرت موسیٰ کو سب کے سامنے یہ ثابت کرنے کا موقع مل گیا کہ جو کچھ وہ لائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–62

فَجَــعَلَهُمْ جُذٰذًا، جذاد جِذٌّ بکسر الجیم کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑے کے ہیں مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے توڑ کر ان سب بتوں کے ٹکڑے کردیئے۔ اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ ، یعنی صرف بڑے بت کو بغیر توڑے ہوئے چھوڑ دیا، اس کا بڑا ہونا یا تو حسی اعتبار سے ہو کہ اپنے جسم اور جثے کے اعتبار سے یہ دوسرے بتوں سے بڑا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جسم اور جثے میں سب کے برابر ہونے کے باوجود یہ بت ان بت پرستوں کے عقیدہ میں سب سے بڑا مانا جاتا ہو۔ لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ ، اس میں الیہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ ضمیر ابراہیم ؑ کی طرف راجع ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں ایسا ہی بیان کیا گیا اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت ابراہیم پر مقدمہ حضرت ابراہیم پر الزام قائم ہوجانے کے بعد قوم کے سربراہوں نے حکم دیا کہ حضرت ابراہیم کو عام لوگوں کے سامنے لا کر پبلک کی موجودگی میں ان سے پوچھ گچھ کی جائے کہ سارا معاملہ لوگوں کے سامنے آئے اور لوگ اس کے گواہ رہیں۔ یہ اہتمام اس لئے ضروری خیال کیا گیا ہوگا کہ یہ جرم ان کے نزدیک ایک سنگین جرم تھا جس کی سزا بھی ان کی شریعت میں بہت سخت تھی اس وجہ سے انہوں نے چاہا کہ اس کی تحقیقات پبلک کے سامنے ہوتا کہ لوگوں کو جرم کی شناخت کا اندازہ بھی ہو اور مجرم کو جو سزا دی جائے وہ عام عبرت کی موجب بھی ہو۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اس زمانے میں اس طرح کے مذہبی معاملات میں حکم لگانے اور فتویٰ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 61–62

61۔ 1 یعنی اس کو سزا ملتی ہوئی دیکھیں تاکہ آئندہ کوئی اور یہ کام نہ کرے۔ یا یہ معنی ہیں کہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے ابراہیم ؑ کو بت توڑتے ہوئے دیکھا یا ان کے خلاف باتیں کرتے ہوئے سنا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 58–62

25: جیسا کہ سورة صافات :88 میں آنے والا ہے وہ کوئی جشن کا دن تھا جس میں ساری قوم شہر چھوڑ کر کہیں جایا کرتی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے ساتھ جانے سے معذرت کرلی تھی۔ اور جب سارے لوگ چلے گئے تو بت خانے میں جا کر سارے بتوں کو توڑ ڈالا، صرف ایک بڑے بت کو چھوڑ دیا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی کلہاڑی بھی اس کی گردن میں لٹکا کر چھوڑ دی۔ اس عمل سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھ سکیں۔ اور یہ سوچیں کہ جو بت خود اپنا دفاع نہیں کرسکتے، وہ دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ بڑے بت کو چھوڑنے کی مصلحت اس سوال و جواب سے واضح ہوگی جو آیت نمبر 63 میں آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–61

قالوا سمعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابرھیم (06) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جواں سال تھے۔ ان کو اللہ نے جوانی ہی میں ہدایت دے دی تھی۔ اس لیے انہوں نے ان بتوں کی عبادت کو ایک قبیح فعل سمجھتے ہوئے ان کے بت توڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت ان کو اس بات کا حکم بذریعہ رسالت اور وحی دے دیا گیا تھا یا نہیں ؟ یا یہ کہ یہ ان پر قبل رسالت الہام ہوا تھا۔ اس نے اس الہام کی بنا پر اپنے باپ اور دوسرے لوگوں کو دعوت حق دینا شروع کردی تھی۔ یہ تو راجح بات ہے البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے ان کے لیے سمعنا فتی (12 : 06) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے۔ ایک تو ان کی تحقیر کرنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی اس کو بلا کر برملا مجمع عام میں بیان لیا جائے۔ تاکہ معاملہ کو سب لوگ دیکھ کر خود اس کی باتیں سن کر گواہ رہیں کہ جو سزا اس کو قوم کی طرف سے دی جائے گی بیشک وہ اس کا مستحق تھا۔ یہ تو ان کی غرض تھی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصود بھی یہ ہی ہوگا کہ مجمع عام میں ان کو موقع ملے کہ مشرکین کو عاجز و مبہوت کریں اور علیٰ رؤس الاشہاد غلبہ حق کا اظہار ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 قَالُوْا فَاْتُوْا بِہٖ عَلٰٓی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ” تا کہ جن لوگوں کے سامنے اس نے گستاخانہ گفتگو کی تھی وہ اسے پہچان کر گواہی دے سکیں کہ ہاں یہی ہے وہ شخص جو ہمارے معبودوں کے بارے میں ایسی ویسی باتیں کرتا تھا اور جس نے قسم کھا کر کہا تھا کہ میں ضرور ان کے ساتھ کچھ چال چلوں گا۔ چناچہ جب آپ علیہ السلام کو سامنے لا کر تصدیق کرلی گئی تو :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 61–62

54 پھر جب اس ظالم کی نشان دہی ہوچکی تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ اس کو جو کچھ سزا دینا چاہتے ہو۔ وہ سب لوگوں کے سامنے علی الاعلان دی جانی چاہئے۔ تاکہ لوگوں کے دل اپنے معبودوں کی طرف سے ٹھنڈے ہوں اور سزا بھی ایسی عبرت ناک ہونی چاہئے کہ آئندہ کسی کو ان مشکل کشاؤں کی شان میں گستاخی کرنے کی جرأت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

79۔ (اور گواہی دیں) (آیت) ” یشھدون “۔ کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک تو یہی کہ سب لوگ مشاہدہ کریں۔ یعنی یہ آکر دیکھیں کہ ہم ایسے مجرم کو کیسی سخت سزا دیتے ہیں۔ یحضرون عقابتنا (کشاف) اور دوسرے یہ کہ لوگ اس مجرم کے اقرار جرم کو سن کر ان کے گواہ بن جائیں۔ یشھدون علیہ بما سمع منہ (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا فاتوا بہ علی اعین الناس لعلہم یشہدون۔ انہوں نے کہا اگر اس نے ایسا کیا تو) اس کو لوگوں کی نظروں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ (اس کے قول و فعل کی) شہادت دیں اور بلاثبوت ہم سزا دینے کے مرتکب نہ ہوں) قتادہ حسن اور سدی نے یہی مطلب بیان کیا ہے بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اعین سے مراد ہیں سردار یعنی سرداران قوم اور حکام کے سامنے اس کو لاؤ۔ محمد بن اسحاق نے کہا یشہدون کا یہ مطلب ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں کہ اس کو ہم کیسی سخت سزا دیتے ہیں۔ غرض جب لوگ ابراہیم کے پاس آئے تو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(61) یہ سن کر نمرود نے سب سے کہا، اچھا تو اس شخص کو سب لوگوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ سب اس کی حرکت یا اس کے قول یا ی کہ اس کو جو سزا دی جائے اس پر گواہ ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰٓي اَعْيُنِ النَّاسِ : کہنے لگے، اگر ایسا ہے تو اسے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاؤ۔ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُوْنَ : اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہوجائیں کہ یہی شخص ہے جو بتوں کی برائی بیان کرتا تھا اور ان کا بندوبست کرنے کی قسمیں اٹھاتا تھا اور اس کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے کہ یہ کام بھی اسی کا ہے اور ہوسکتا ہے کہ کوئی موقع کا گواہ بھی مل جائے، جس نے اسے بت توڑتے ہوئے دیکھا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرک ہونے کے باوجود وہ لوگ ملزم پر جرم ثابت کرنا ضروری سمجھتے تھے، جو ان کے نزدیک جرم تھا۔ بقاعی ؓ لکھتے ہیں : ”اب اللہ تعالیٰ کی جناب ہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 59–63

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالو من فعل ھذا با لھتنا انہ لمن الظلمین۔ جب وہ اپنے میلے سے لوٹ کر آئے اور ان کے بتوں کا جو حشر ہوچکا تھا تو بحث و انکار کی حجت سے یہ کہا : من فعل۔ الخ، بعض نے فرمایا : من استفہامیہ نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر لمن الظلمین ہے یعنی ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ ارشاد ہے : سمعنا فتی یذکرھم یہ من فعل ھذا کا جواب ہے۔ قالوا میں ضمیر ان کمزور لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے حضرت ابراہیم کی بات سنی تھی یا وہ ایک شخص ہے جس نے آپ کا جملہ سنا تھا۔ یذکرھم کا معنی ہے وہ انہیں عیب لگاتا ہے اور انہیں برا بھلا کہتا ہے۔ شاید اس نے یہ کیا ہو۔ ابراہیم پر رفع کے بارے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–67

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ فَاْتُوْا بِهٖ : پھر تم لوگ لائو اس کو ] [ عَلٰٓي اَعْيُنِ النَاسِ : لوگوں کی آنکھوں پر (یعنی سامنے)] [ لَعَلَهُمْ : شاید وہ لوگ ] [ يَشْهَدُوْنَ : گواہی دیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43:۔ ” قَالُوْا فَاتُوْا الخ “ اب مشرکین نے کہا تو پھر اس (ابراہیم علیہ السلام) کو لوگوں کے روبرو لاؤ۔ تاکہ سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ہم اسے کس قدر عبرتناک سزا دیتے ہیں۔ ای یحضرون عقبوتنا لہ (مدارک ج 3 ص 36) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ابراہیم کو سر عام حاضر کرو تاکہ کچھ اور لوگ بھی اس کے خلاف شہادت دیں۔ انھم کرھوا ان یاخذوہ بغیر بینۃ فارادوا ان یجیئوا بہ علی اعین الناس لعلھم یشھدون علیہ بما قالہ فیکون حجۃ علیہ بما فعل وھذا قول الھسن وقتادۃ والسدی وعطا وابن عباس (ج 6 ص 163) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اس واقعہ سے یہی مقصد تھا کہ جب یہ معاملہ ان تماثیل کے تمام پجاریوں کے علم میں آئے اور ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–67

ربط آیات : گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔ تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا فَاْتُوْا بِہٖ عَلٰٓي اَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَشْہَدُوْنَ۝ 61 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے عين ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ «3» ، وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا [ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–67

تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا فَاْ تُوْا بِہٖ عَلٰٓی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَشْھَدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 61) (انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے پکڑ کر لائو تاکہ وہ بھی گواہ رہیں۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر مقدمہ قوم کے سربراہوں اور مذہبی پروہتوں نے حکم دیا کہ انھیں لوگوں کے سامنے گرفتار کرکے لائو تاکہ اس کے جرم کی تحقیق لوگوں کے سامنے کی جائے اور پھر اس کی سزا کو بھی تمام لوگ اپنی نگاہوں سے دیکھیں اور لوگوں کے سامنے جا کر گواہی دیں کہ وہ شخص جس نے ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ جسارت کی تھی وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ ان نام نہاد خدائوں سے چونکہ سب لوگوں کا عقیدت و محبت اور بندگی کا رشتہ تھا تو جس نے ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–65

فہم القرآن ربط کلام : بتوں کو پاش پاش کرنے پر قوم کا رد عمل۔ قوم جب واپس پلٹی تو ان کی مسرت و شادمانی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی۔ زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے پھر دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ (قَالُوا فَأْتُوْا بِہٖ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 61] ” انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ دیکھ لیں۔ “ (فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 94] ” وہ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

61: قَالُوْا (انہوں نے کہا) یعنی نمرود اور اس کی قوم کے دیگر سرداروں نے کہا : فَاْتُوْا بِہٖ (پس تم اس کو لائو) ابراہیم کو حاضر کرو۔ عَلٰٓی اَعْیُنِ النَّاسِ (لوگوں کے سامنے) یہ محلاً حال ہے بمعنی معایناً و مشاھداً لوگوں کے سامنے اور منظر عام عوام پر۔ لَعَلَّھُمْ یَشْھَدُوْنَ (تاکہ وہ شہادت دیں) اس بات کی جو اس کے متعلق سنا جارہا ہے۔ نمبر 2۔ جو اس نے کہا گویا انہوں نے بلا دلیل ان کو سزا دینا ناپسند کیا۔ نمبر 2۔ ہماری طرف سے ملنے والی سزا پر قوم کے لوگ حاضر ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

61۔ قالوافاتو بہ علی اعین الناس ، ، نمرود نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ اس کے قول فعل کی شہادت دیں۔ لعلھم یشھدون، کہ یہ کام اس ہی نے کیا، اس پر یہ گواہی دیں کیونکہ ان کے مذہب میں بغیر گواہوں کے کسی کو پکڑا نہیں جاتا، یہی حسن، قتادہ اور سدی کا بیان ہے ۔ محمد بن اسحاق نے اس کا ترجمہ یوں کیا کہ ، یشھدون، کا مطلب یہ ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں کہ ہم ان کو کیسی سخت سزادیتے ہیں ، غرض لوگ جب ابراہیم کے پاس آئے تو کہنے لگے : کہ کیا تونے ہمارے معبودوں کا یہ حشر برپا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–63

57۔ 63:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں زید بن اسلم وغیرہ کی روایتوں سے ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر جو قصہ ہے سورة والصافات کے قصے کے ملانے سے اس سب قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب ابرہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آزر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہئے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے ‘ بتوں کے توڑنے کے سال میں جب وہ میلہ کا وقت آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 61–62

79 ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے حاضر کرنے کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم کا ذکر آنے پر انہوں نے کہا کہ لاؤ اس کو سب لوگوں کے سامنے تاکہ یہ سب دیکھ لیں۔ سو اس طرح علمبرداران کفر و شرک کی طرف سے حضرت ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے لانے کا حکم دے دیا گیا۔ سو مت کے مارے ان مشرکوں نے اپنے معبودوں کی اس درگت سے سبق لینے اور راہ حق و ہدایت کی طرف رجوع کرنے کی بجائے حضرت ابراہیم کے بارے میں حکم دیا کہ لے آؤ اس کو سب لوگوں کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں اس کے اس حشر وانجام کو جو اس کے ساتھ ہم کریں گے۔ نیز وہ گواہی دیں اس جرم کی جس کا ارتکاب اس شخص نے کیا ہے۔ یعنی یہ لفظ " شہود " سے بھی ہوسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 61–63

ف 8 ۔ یا ان کو جو سزا دی جائے اسے آنکھوں سے دیکھ لیں۔ لفظ ” یشھدون “ کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (کبیرا)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:61) فاتوا بہ۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ لائو اسے۔ حاضر کرو اسے۔ اتیان مصدر باب ضرب۔ علی اعین الناس۔ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ لوگوں کے روبرو۔ یشھدون۔ مضارع جمع مذکر غائب شھادۃ مصدر (تاکہ) وہ گواہ رہیں (تاکہ) وہ دیکھیں مشاہدہ کریں۔ اول صورت میں اس امر کے گواہ رہیں کہ وہ اقرار جرم کرتا ہے۔ دوسری صورت میں دیکھیں کہ ہم مجرم کو کیسے سزا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–63

(ف 1) تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آذر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہے حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے اس سال جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں نہیں گئے اور دبی ہوئی آواز میں سے بتوں کو توڑنے کی قسم کھائی، جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے قوم کے لوگوں کے بستی سے باہر چلے جانے کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–61

پیغمبرانہ استعداد : (ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ، بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(61) یہ بات سن کر وہ لوگ کہنے لگے اچھا اس ابراہیم (علیہ السلام) کو عام لوگوں کے سامنے لائو تاکہ اور لوگ بھی گواہ ہوجائیں۔ یعنی جن لوگوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برا کہنے کا علم نہ تھا۔ انہوں نے کہا ہوگا یا سب نے کہا ہوگا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو لائو اس سے دریافت کیا جائے اور وہ اس حرکت کا اقرار کرے تو سب لوگ اس کے اقرار پر گواہ ہوجائیں اور جب لوگ گواہ ہوجائیں گے تو مقدمہ مضبوط ہوجائے گا اور حاکم اس کو سزا دے سکے گا۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلایا گیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دریافت کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–62

ف 5۔ بڑا بت جو جثے میں یا ان لوگوں کی نظروں میں معظم ہونے میں بڑا تھا اس کو چھوڑ دیا، جس سے ایک قسم کا استہزاء مقصود تھا کہ ایک کے سالم اور دوسروں کے قطع و برید سے ابہام ہوتا ہے کہ کہیں اسی نے تو سب کی خبر نہیں لی، پھر جب وہ قطع و برید کرنے والے کی تحقیق کریں گے اور اس صنم کبیر پر احتمال بھی نہ کریں گے تو ان کی طرف سے اس کے عجز کا اعتراف بھی ہوجاوے گا۔ اور حجت اور لازم تر ہوجاوے گی، پس انتہاء یہ الزام و اضمام ہے، اور مقصود مشترک اثبات عجز ہے بعض کا انکار سے اور ایک کا ان کے اقرار سے۔ غرض ایک کو اس مصلحت سے چھوڑ کر سب کو توڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو سب کے سامنے لا کر اس سے پوچھ گچھ کرنے کا فیصلہ : 61۔ اب قوم کے مذہبی اور سیاسی و ڈیرے اکٹھے ہوگئے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بھری مجلس میں بلا کر پوچھنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان کے اس فیصلہ سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے دلوں میں یہ خطرہ تھا کہ کہیں یہ معاملہ ہمارے بڑے خاندانوں کی آپس کی چپقلش کا باعث نہ بن جائے اس لئے جو کچھ ہو سب لوگوں کے سامنے ہو تاکہ ہر آدمی یہ جان سکے کہ کس فریق نے اس نوجوان کے متعلق کیا بات کی ہے اور وہ خود کیا کہہ رہا ہے گویا اقرار و انکار جو کچھ بھی ہو سب کے سامنے ہوجائے اور اس کو چھوڑا جانا ہے تو اتفاق رائے سے ہوا اور اگر وہ کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–62

فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا (21:58) The word جُذَاذً is the plural for جُذَ. which means fragment or piece. Thus its meaning is that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) broke the idols into small pieces. إِلَّا كَبِيرً‌ا لَّهُمْ (Save the big one of them - 21:58) That is, only the biggest idol was left intact and all the rest were broken. It is possible that the one which was left unbroken was either bigger in size or higher in esteem with the unbelievers. لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْ‌جِعُونَ (So that they may come back to him - 21:58) There can be three explanations to this expression. One, if the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–62

59. This was exactly what Prophet Abraham (peace be upon him) expected to happen. He wished that the matter should not remain confined to the priests and the attendants but the common people also should be present there to witness that their deities were helpless and their priests were deluding them about their powers. The priests committed the same folly as was later committed by Pharaoh when he arranged an encounter between Prophet Moses (peace be upon him) and the magicians in the open in front of the multitudes of the common people, and the former got an opportunity to show publicly the…

Read the full tafseer →