Explained with ayahs 57–63
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
سورة الْاَنْبِیَآء 57
یعنی موقع پاکر جبکہ پجاری اور مجاور موجود نہ تھے، حضرت ابراہیم ان کے مرکزی بت خانے میں گھس گئے، اور سارے بتوں کو توڑ ڈالا۔
سورة الْاَنْبِیَآء 58
" اس کی طرف " کا اشارہ بڑے بت کی طرف بھی ہوسکتا ہے اور خود حضرت ابراہیم کی طرف بھی۔ اگر پہلی بات ہو تو یہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے ان کے عقائد پر ایک طنز کا ہم معنی ہے۔ یعنی اگر ان کے نزدیک واقعی یہ خدا ہیں تو انہیں اپنے بڑے خدا کے متعلق یہ شبہ ہونا چاہیے کہ شاید بڑے حضرت ان چھوٹے حضرتوں سے کسی بات پر بگڑ گئے ہوں اور سب کا کچومر بنا ڈالا ہو۔ یا پھر بڑے حضرت سے یہ پوچھیں کہ حضور۔ آپ کی موجودگی میں یہ کیا ہوا ؟ کون یہ کام کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
فَجَــعَلَهُمْ جُذٰذًا، جذاد جِذٌّ بکسر الجیم کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑے کے ہیں مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے توڑ کر ان سب بتوں کے ٹکڑے کردیئے۔
اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ ، یعنی صرف بڑے بت کو بغیر توڑے ہوئے چھوڑ دیا، اس کا بڑا ہونا یا تو حسی اعتبار سے ہو کہ اپنے جسم اور جثے کے اعتبار سے یہ دوسرے بتوں سے بڑا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جسم اور جثے میں سب کے برابر ہونے کے باوجود یہ بت ان بت پرستوں کے عقیدہ میں سب سے بڑا مانا جاتا ہو۔
لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ ، اس میں الیہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ ضمیر ابراہیم ؑ کی طرف راجع ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں ایسا ہی بیان کیا گیا اور اس کے…
Read the full tafseer →بالآخر جو لوگ حضرت ابراہیم کے رجحانات اور ان کو مذکورہ بالا دعوت اور ان کے چیلنج سے آگاہ تھے انہوں نے بتایا کہ یہ اسی نوجوان کی حرکت ہو سکتی ہے جس کو ابراہیم کہتے ہیں، ہم نے اس کو ان بتوں کا ذکر تحقیر کے ساتھ کرتے سنا ہے۔ تحقیر کے الفاظ انہوں نے بھی اسی طرح حذف کردیئے جس طرح آیت 36 میں یہ حذف ہیں۔ اس حذف کی بلاغت ہم وہاں واضح کرچکے ہیں۔ انہوں نے اپنے معبودوں کی شان میں گویا نقل کفر، کو بھ گوارا نہیں کیا۔
حضرت ابراہیم نے بتوں کے ساتھ جو معاملہ کرنے کی دھمکی دی تھی وہ بقید قسم ڈنکے کی چوٹ دی تھی۔ وہ کوئی ڈھکی چھیت بات نہیں تھی۔ ان کی دعوت توحید بھی بالکل برملا اور آشکارا تھی۔ بہت سے لوگ ان کی…
Read the full tafseer →60۔ 1 ان میں سے بعض نے کہا کہ وہ نوجوان ابراہیم ؑ ہے نا، وہ ہمارے بتوں کے خلاف باتیں کرتا ہے، معلوم ہوتا ہے یہ اس کی کارستانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
25: جیسا کہ سورة صافات :88 میں آنے والا ہے وہ کوئی جشن کا دن تھا جس میں ساری قوم شہر چھوڑ کر کہیں جایا کرتی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے ساتھ جانے سے معذرت کرلی تھی۔ اور جب سارے لوگ چلے گئے تو بت خانے میں جا کر سارے بتوں کو توڑ ڈالا، صرف ایک بڑے بت کو چھوڑ دیا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی کلہاڑی بھی اس کی گردن میں لٹکا کر چھوڑ دی۔ اس عمل سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھ سکیں۔ اور یہ سوچیں کہ جو بت خود اپنا دفاع نہیں کرسکتے، وہ دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ بڑے بت کو چھوڑنے کی مصلحت اس سوال و جواب سے واضح ہوگی جو آیت نمبر 63 میں آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
قالوا سمعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابرھیم (06) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جواں سال تھے۔ ان کو اللہ نے جوانی ہی میں ہدایت دے دی تھی۔ اس لیے انہوں نے ان بتوں کی عبادت کو ایک قبیح فعل سمجھتے ہوئے ان کے بت توڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت ان کو اس بات کا حکم بذریعہ رسالت اور وحی دے دیا گیا تھا یا نہیں ؟ یا یہ کہ یہ ان پر قبل رسالت الہام ہوا تھا۔ اس نے اس الہام کی بنا پر اپنے باپ اور دوسرے لوگوں کو دعوت حق دینا شروع کردی تھی۔ یہ تو راجح بات ہے البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے ان کے لیے سمعنا فتی (12 : 06) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے۔ ایک تو ان کی تحقیر کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →12 یہ کہنے والے وہ لوگ ہوں گے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جملے سن چکے تھے۔ یعنی وہ ہی ایک شخص ہے جو ہمارے معبودوں کا ذکر برائی سے کیا کرتا ہے، یقینا یہ کام اسی نے کیا ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 60 قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُہُمْ یُقَالُ لَہٗٓ اِبْرٰہِیْمُ ”
ابراہیم علیہ السلام ہی ان کے بارے میں زبان درازی کرتا ہوا سنا گیا تھا کہ ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے ‘ انہیں خواہ مخواہ معبود بنا لیا گیا ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ شاید اسی نے یہ حرکت کی ہو !
Read the full tafseer →53 جب ان لوگوں نے میلہ سے واپس آکر اپنے مشکل کشاؤں کی یہ خستہ حالی دیکھی تو انھیں بہت دکھ ہوا۔ انھیں یہ خیال تک نہ آیا کہ بڑے بت کے کندھے پر جو کلہاڑا ہے تو شاید اسی بڑے خدا نے چھوٹے خداؤں کو تہس نہس کردیا ہو۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بت تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے، توڑا پھوڑ کا کام کیسے کرسکتے ہیں ؟ اور یہی کچھ حضرت ابراہیم انھیں سمجھنا چاہتے تھے۔ انھیں خیال آیا تو صرف یہ کہ جس کسی نے یہ کام کیا ہے وہ بڑا ظالم ہے۔ اب ان مشکل کشاؤں کی ناراضگی سے ہم پر قہر نازل ہو کے رہے گا اور اس قہر سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم اس ظالم کا سراغ لگائیں اور اسے قرار واقعی سزا دیں۔
حضرت ابراہیم چونکہ کئی…
Read the full tafseer →78۔ یہ اکا دکا کہنے والے وہی تھے جنہوں نے اس روز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ فقرہ سن لیا تھا۔ (آیت) ” یذکرھم “۔ کے معنی ہی ہیں بتوں کا ذکر برائی سے کرنا۔ یذکرھم بالکسر ویعیبھم (ابن عباس ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…
Read the full tafseer →قالوا سمعنا فتی یذکرہم یقال لہ ابراہیم۔ کہنے لگے ہم نے ایک نوجوان کو ان (بتوں) کا (برائی
کے ساتھ) تذکرہ کرتے سنا تھا اس نوجوان کو ابراہیم کہا جاتا ہے۔ یہ خبر نمرود اور اس کے اراکین سلطنت کو جب پہنچی تو۔
Read the full tafseer →(60) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے ایک نوجوان آدمی کو جس کا نام ابراہیم ؑ ہے ان بتوں کا برائی اور ذلت کے ساتھ ذکر کرتے سنا ہے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا سَمِعْنَا فَـتًى يَّذْكُرُهُمْ۔۔ : بتوں کو توڑنے کا مجرم تلاش کرنے میں انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ جن لوگوں نے وہ تقریر سنی تھی، جو ابراہیم ؑ نے اپنے والد اور قوم کے سامنے کی تھی اور جس میں انھوں نے صاف اعلان کیا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں ضرور تمہارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو سنا ہے جو ان (بتوں) کا ذکر کر رہا تھا، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ ان مشرکوں کا ابراہیم ؑ کی تحقیر کا انداز دیکھیے، وہ انھیں ابراہیم نامی ایک غیر معروف جوان بتا رہے ہیں، حالانکہ ابراہیم ؑ جیسی شخصیت گمنام ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ بھلا سورج یا چاند بھی چھپے رہ سکتے ہیں ؟ پھر وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالو من فعل ھذا با لھتنا انہ لمن الظلمین۔ جب وہ اپنے میلے سے لوٹ کر آئے اور ان کے بتوں کا جو حشر ہوچکا تھا تو بحث و انکار کی حجت سے یہ کہا : من فعل۔ الخ، بعض نے فرمایا : من استفہامیہ نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر لمن الظلمین ہے یعنی ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ ارشاد ہے : سمعنا فتی یذکرھم یہ من فعل ھذا کا جواب ہے۔ قالوا میں ضمیر ان کمزور لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے حضرت ابراہیم کی بات سنی تھی یا وہ ایک شخص ہے جس نے آپ کا جملہ سنا تھا۔ یذکرھم کا معنی ہے وہ انہیں عیب لگاتا ہے اور انہیں برا بھلا کہتا ہے۔ شاید اس نے یہ کیا ہو۔ ابراہیم پر رفع کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…
Read the full tafseer →[ قَالُوْا : کچھ لوگوں نے کہا ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ فَـتًى: ایک ایسے نوجوان کو جو ] [ يَّذْكُرُ : ذکر کرتا ہے (یعنی باتیں بناتا ہے)] [ هُمْ : ان (خدائوں) کی ] [ يُقَالُ : کہا جاتا ہے ] [ لَهٗٓ: اس کو ] [ اِبْرٰهِيْمُ : ابراہیم ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →42:۔ ” قَالُوْا سَمِعْنَا الخ “ ان میں سے بعض نے کہا کہ ابراہیم نامی ایک نوجوان ہے وہ ان کا ذکر کر رہا تھا یہ اسی کی حرکت معلوم ہوتی ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ ” یذکرھم “ کا مطلب یہ ہے کہ ایک نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے ہر وقت ہمارے ان معبودوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور ان کی توہین کرتا رہتا ہے اور ہمیشہ کہتا رہتا ہے کہ یہ عبادت اور پکار کے لائق نہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اس لیے اندازہ یہی ہے کہ سب کچھ اسی نے کیا ہوگا بہت سے مفسرین نے اسی کو ترجیح دی ہے ” سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُھُمْ “ یعیبھم فلعلہ الذی فعل ذلک بھم (روح ج 17 ص 63) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–67
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔
تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ…
Read the full tafseer →قَالُوْا سَمِعْنَا فَـتًى يَّذْكُرُہُمْ يُقَالُ لَہٗٓ اِبْرٰہِيْمُ 60ۭ
سمع
السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا .
ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ
[ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–67
تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…
Read the full tafseer →قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُھُمْ یُقَالُ لَـہٗٓ اِبْرٰھِیْمُ ۔ (الانبیاء : 60)
(چند آدمیوں نے کہا) ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے ایسے لوگ جنھیں ان سے گفتگو کا موقع مل چکا تھا یا آپ ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرچکے تھے وہ کسی حد تک آپ ( علیہ السلام) کے خیالات سے آگاہ تھے لیکن انھوں نے آپ ( علیہ السلام) کی باتوں کو کبھی سنجیدہ اہمیت نہیں دی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ایک سر پھرے نوجوان کی غیرذمہ دارانہ باتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ انھیں اس بات کا تو گمان بھی نہیں ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
فہم القرآن
ربط کلام : بتوں کو پاش پاش کرنے پر قوم کا رد عمل۔
قوم جب واپس پلٹی تو ان کی مسرت و شادمانی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی۔ زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے پھر دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔
(قَالُوا فَأْتُوْا بِہٖ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 61]
” انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ دیکھ لیں۔ “
(فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 94]
” وہ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “
اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ…
Read the full tafseer →60: قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُھُمْ یُقَالُ لَہٗ اِبْرٰھِیْمُ (انہوں نے کہا ہم نے ایک نوجوان کو ان بتوں کا برائی سے تذکرہ کرتے سنا تھا۔ اس نوجوان کو ابراہیم کہا جاتا ہے) یہ دونوں جملے فتیؔ کی صفت ہیں۔ البتہ پہلا جملہ یذکر ھم ہے جس کا معنی عیب جوئی کرنا ہے۔ اس کا سمع سے تعلق ضروری ہے کیونکہ تم اس طرح نہیں کہتے سمعت زیدًا اور پھر خاموش ہوجائیں جب تک کوئی ایسی چیز کا ذکر نہ ہو جو مسموع ہو۔ بخلاف دوسرے جملے کے اس کے لئے یہ لازم نہیں۔ ابراہیمؔ یقال کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ مراد اسم ہے مسمّیٰ نہیں یعنی وہ شخص جس کا یہ نام بولا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →60۔ قالو، وہ لوگ کہنے لگے جن لوگوں نے حضرت ابراہیم سے یہ بات سنی تھی، وتا اللہ لاکیدن اصنامکم، ، سمعنا فتی یذکرھم، ہم ایسے جوان کو جانتے ہیں جو ہمارے معبودوں پر عیب اور برائی کررہا تھا۔ یقال لہ ابراہیم۔ ان لوگوں کا گمان تھ ا کہ اسی نے ہی ایسا کیا ہے۔ پھر نمرود اور اس کے بڑے بڑے اشراف اور اس کی قوم حضرت ابراہیم کے پاس پہنچی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–63
57۔ 63:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں زید بن اسلم وغیرہ کی روایتوں سے ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر جو قصہ ہے سورة والصافات کے قصے کے ملانے سے اس سب قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب ابرہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آزر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہئے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے ‘ بتوں کے توڑنے کے سال میں جب وہ میلہ کا وقت آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
78 مشرکوں کی تجہیل و تحمیق کے ایک اور معرکے کا انتظام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت ابراہیم نے موقعہ پاتے ہی ان کے ان تمام بتوں کو پاش پاش کردیا سوائے انکے بڑے کے۔ کہ اس کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور اس سے پوچھیں کہ یہ کیا بات ہے کہ یہ سب تو ٹوٹے پڑے ہیں اور تو صحیح سلامت ہے ؟ اور کلہاڑا بھی تو نے اٹھا رکھا ہے ؟۔ سو اس طرح ان بتوں کا عجز اور ان کی بےحقیقتی ان کے سامنے واضح ہوجائے گی۔ اور شاید اس طرح ان لوگوں کو راہ حق کی طرف رجوع نصیب ہوجائے۔ سو اس طرح حضرت ابراہیم نے ان مشرکوں کی تجہیل و تحمیق کے ایک موقعہ کا انتظام فرما دیا تاکہ ان کی جہالت اور حماقت سب کے سامنے اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ف 6 ۔ یعنی جب وہ بتوں کی پوجا پاٹ کرکے واپس ہوگئے۔
7 ۔ یہ بات دریافت کرنے کے لئے کہ ان بتوں کو کس نے توڑا ؟ یہاں لوگوں پر طنز اور ستہزا ہے اور اگر ” الیہ “ کی ضمیر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے لئے قرار دی جائے تو مقصد یہ ہوگا کہ انہیں ان لوگوں سے صاف صاف بات کرنے کا موقع ملے یا یہ مطلب ہے کہ شاید وہ گمراہی کو چھوڑ کر میری راہ (یعنی توحید) اختیار کرلیں۔ (رازی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
(21:58) جذاذا۔ ریزہ ریزہ۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ بروزن فعال بمعنی مفعول ہے جذ مصدر سے باب نصر۔ توڑنا۔ کاٹنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70
رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔
نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 70
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–63
(ف 1) تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آذر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہے حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے اس سال جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں نہیں گئے اور دبی ہوئی آواز میں سے بتوں کو توڑنے کی قسم کھائی، جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے قوم کے لوگوں کے بستی سے باہر چلے جانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
[33] یعنی اس بڑے بت سے پوچھیں کہ ان چھوٹے بتوں کا کیا حال ہے، یہ کیسے ٹوٹے ؟ یا یہ مطلب ہے کہ وہ
ابراہیم (علیہ السلام) سے دریافت کریں اور آپ کو حجت قائم کرنے کا موقع ملے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
پیغمبرانہ استعداد :
(ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ،
بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔
حل لغات…
Read the full tafseer →(60) انہی لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہم نے ایک نوجوان کوسنا ہے کہ وہ ان بتوں کا برائی کے ساتھ ذکر کرتا ہے اس نوجوان کو ابراہیم (علیہ السلام) کہا جاتا ہے۔ یعنی اس کا نام ابراہیم (علیہ السلام) ہے وہ نوجوان ان معبودوں کا تذکرہ برائی کے ساتھ کرتا ہے۔ شاید یہ نام بتانے والے وہ لوگ ہوں گے جن کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تم چلے جائوگے تو میں ان مورتیوں سے بھگتوں گا اور ان کی خبر لوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 5۔ بڑا بت جو جثے میں یا ان لوگوں کی نظروں میں معظم ہونے میں بڑا تھا اس کو چھوڑ دیا، جس سے ایک قسم کا استہزاء مقصود تھا کہ ایک کے سالم اور دوسروں کے قطع و برید سے ابہام ہوتا ہے کہ کہیں اسی نے تو سب کی خبر نہیں لی، پھر جب وہ قطع و برید کرنے والے کی تحقیق کریں گے اور اس صنم کبیر پر احتمال بھی نہ کریں گے تو ان کی طرف سے اس کے عجز کا اعتراف بھی ہوجاوے گا۔ اور حجت اور لازم تر ہوجاوے گی، پس انتہاء یہ الزام و اضمام ہے، اور مقصود مشترک اثبات عجز ہے بعض کا انکار سے اور ایک کا ان کے اقرار سے۔ غرض ایک کو اس مصلحت سے چھوڑ کر سب کو توڑ دیا۔
Read the full tafseer →انہوں نے آپس میں کہا کہ ایک ابراہیم نام کا نوجوان کچھ اس طرح کی باتیں کرتا ہے :
60۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کسی معمولی خاندان کے ایک فرد نہیں تھے بلکہ ایک بہت بڑے گھرانے کے فرد تھے جو مذہبی حیثیت سے بھی اور سیاسی حیثیت سے بھی ایک بہت مضبوط گھرانہ تھا اس کے ایک فرد تھے اس لئے باقاعدہ مشورہ طے کرنے کے بعد بالآخر یہ بات کہی گئی کہ ایک نوجوان جس کو ابراہیم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس کے رجحانات ایسے ایسے تھے اور اس اس طرح کا چیلنج کیا کرتا ہے ممکن ہے کہ یہ اس کی حرکت ہو کیونکہ وہی ایک ہے جو ہمارے ان معبودوں کا نام تحقیر کے ساتھ لیتا ہوا سنا گیا ہے بلکہ وہ یہ چیلنج اس سے قبل کرچکا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا (21:58) The word جُذَاذً is the plural for جُذَ. which means fragment or piece. Thus its meaning is that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) broke the idols into small pieces.
إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ (Save the big one of them - 21:58) That is, only the biggest idol was left intact and all the rest were broken. It is possible that the one which was left unbroken was either bigger in size or higher in esteem with the unbelievers.
لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ (So that they may come back to him - 21:58) There can be three explanations to this expression. One, if the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
57. This was that practical proof. In the absence of the priests and attendants, Prophet Abraham (peace be upon him) entered their central Temple and broke all the idols to pieces.
58. The pronoun in the original text may be translated into it or him. In the former case, it will refer to the chief idol and in the latter to Prophet Abraham (peace be upon him). In the first case, it will imply a subtle sarcasm in order to make them realize that their creed of idol worship was foolish, for obviously the chief idol could not break the minor idols. In the second case, it will refer to Prophet…
Read the full tafseer →