Explained with ayahs 57–63
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 56
یعنی اگر تم استدلال سے بات نہیں سمجھتے ہو تو میں عملاً تمہیں مشاہدہ کرا دوں گا کہ یہ بےبس ہیں، ان کے پاس کچھ بھی اختیارات نہیں ہیں، اور ان کو خدا بنانا غلط ہے۔ رہی یہ بات کہ عملی تجربے اور مشاہدے سے یہ بات وہ کس طرح ثابت کریں گے، تو اس کی کوئی تفصیل حضرت ابراہیم نے اس موقع پر نہیں بتائی۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
وَتَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ ، الفاظ آیت سے ظاہر یہی ہے کہ یہ بات ابراہیم ؑ نے اپنی برادری کے سامنے کہی تھی مگر اس پر شبہ یہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے اِنِّىْ سَقِيْمٌ (میں بیمار ہوں) کا عذر کر کے ان کے ساتھ عید کے اجتماع میں جانے سے گریز کیا تھا اور جب بتوں کو توڑنے کا واقعہ پیش آیا تو برادری اس تلاش میں پڑی کہ یہ کس نے کیا۔ اگر ابراہیم ؑ کا یہ کلام پہلے ہی برادری کو معلوم تھا تو یہ سب باتیں کیسے ہوئیں اس کا جواب اوپر خلاصہ تفسیر میں یہ دیا گیا کہ ابراہیم ؑ اس خیال کے اکیلے آدمی تھے پوری برادری کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہ سمجھ کر ممکن ہے کہ ان کے کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
حضرت ابراہیم کا خاص طرز استدلال
حضرت ابراہیم نے لگے ہاتھوں، بقید قسم، لوگوں کو اپنے اس ارادہ سے بھی آگاہ کردیا کہ جب آپ لوگ یہاں سے ہٹو گے تو میں ان بتوں کے ساتھ ایک خفیہ کارروائی کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ فظ کید پر ہم مختلف مقامات میں بحث کرچکے ہیں کہ یہ کسی ایسے اقدام کے لئے بھی آتا ہے جو کسی مخالف کے خلاف اس طرح کیا جائے کہ وہ اس سے باخبر نہ ہو سکے۔
تولوامد برین کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے یہ دعوت بت خانہ کے اندر کسلی اجتماع کے موقع پر دی ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا کہ جب آپ لوگ یہاں سے گھروں کو سدھاریں گے تو میں آپ کے ان خدائوں کی مرمت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اصل اسکیم کو حضرت…
Read the full tafseer →57۔ 1 یہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے دل میں عزم کیا، بعض کہتے ہیں کہ آہستہ سے کہا جس سے مقصود بعض لوگوں کو سنانا تھا۔ مراد یہی وہ عملی کوشش ہے جو وہ زبانی وعظ کے بعد عملی اہتمام کی شکل میں کرنا چاہتے تھے۔ یعنی بتوں کی توڑ پھوڑ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
24: انہیں چونکہ توقع نہیں تھی کہ کوئی ان کے بتوں کے بارے میں ایسی بات کہہ سکتا ہے، اس لیے شروع میں انہیں یہ شک ہوا کہ شاید حضرت ابراہیم ؑ سنجیدگی سے نہیں، بلکہ مذاق کے طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →وتا للہ۔۔۔۔۔۔۔ مدبرین (75) ” ‘۔
انہوں نے ان بتوں کے بارے میں کیا فیصلہ کیا۔ اسے انہوں نے مبہم چھوڑدیا ‘ اور اس کا ذکر نہ کیا۔ سیاق کلام میں یہ وضاحت بھی نہیں ہے کہ انہوں نے آپ کو جواب کیا دیا۔ شاید وہ مطمئن ہوں کہ یہ ہمارے بتوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اس لیے انہوں نے اسے نظر انداز کردیا۔
Read the full tafseer →9 یہ بات ذرا آہستہ کہی کہ بعض نے سنی، بہتوں نے نہ سنی، جنہوں نے سنی اس کی کچھ پروا نہ کی، کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ تنہا ایک نوجوان ساری قوم کے معبودوں کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 57 وَتَاللّٰہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ ”
جیسے ہندوؤں کے ہاں جنم اشٹمی کا میلہ ہوتا ہے ایسے ہی ان لوگوں کا بھی کوئی تہوار تھا جس میں وہ سب کسی کھلے میدان میں جا کر پوجا پاٹ کرتے تھے۔ جب وہ دن آیا تو ان کے چھوٹے بڑے ‘ مرد عورتیں سب مقررہ مقام پر چلے گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے ساتھ نہیں گئے : فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ الصّٰفٰت ”انہوں علیہ السلام نے کہا کہ میری طبیعت نا ساز ہے“۔ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا۔ چناچہ جب شہر خالی ہوگیا تو آپ علیہ السلام ایک تیشہ ہاتھ میں لے کر ان کے بت خانے میں گھس گئے :
Read the full tafseer →51 حضرت ابراہیم نے دل میں سوچا کہ یہ لوگ باتوں سے تو اپنی گمراہی کو سمجھتے نہیں۔ اب انھیں کسی عملی تجربہ سے سمجھائے بغیر چارہ نہیں۔ لہذا اللہ کی قسم کھالی۔ کہ جب یہ لوگ اپنے بتوں کے پاس سے غیر حاضر ہوئے تو پھر میں ان کے مشکل کشاؤں کی خبر لوں گا۔ اب اتفاق کی بات کہ ان کے جشن نوروز یعنی قومی میلہ کا دن قریب آگیا تو یہ سب لوگ اس میلہ پر چلے گئے۔ اور حضرت ابراہیم کو ایسا موقع میسر آگیا جس کی انھیں انتظار تھی۔
Read the full tafseer →75۔ یہ ضرور نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ فقرہ مجمع عام کو مخاطب کرکے اور پکار کر کہا ہو۔ اغلب ہے کہ زیر لب کہا ہو اور صرف آس پاس کے دو ایک شخصوں نے سن لیا ہو، فقہاء نے لکھا ہے کہ دشمن کو مغالطہ دینا جائز ہے۔ بشرطیکہ اس سے نقض عہد وتائید باطل لازم نہ آجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…
Read the full tafseer →وت اللہ لاکیدن اصنامکن بعد ان تولوا مدبرین۔ اور خدا کی قسم میں تمہارے (ان) بتوں کی گت بناؤں
گا جب تم ان کے پاس سے منہ پھیر کر چلے جاؤ گے۔
کَیْدَکا معنی ہے مکر۔ تدبیر۔ یہاں مراد ہے کہ کسی تدبیر سے میں ان کو توڑنے کی کوشش کروں گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے ت قسمیہ واؤ قسمیہ سے بدل کر آئی ہے اس میں تعجب کا معنی ہے (واو قسمیہ میں تعجب کا معنی نہیں ہوتا) چونکہ بتوں کو توڑنا یا نقصان پہنچانا ایک مشکل کام تھا بت پرستوں کو نمرود کی اور ساری قوم کی حمایت حاصل تھی نمرود کی حکومت تھی ‘ ان سب کے مقابلہ میں بت شکنی عجیب بات تھی اس لئے (بجائے واؤ کے) ت قسمیہ اور لفظ کید کا استعمال کیا۔ (جوہری کے نزدیک کسی چیز کے…
Read the full tafseer →(57) اور حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے دل میں کہا، اللہ کی قسم میں تمہارے ان بتوں کی اچھی طرح درگت بناؤں گا جب تم ان کے پاس سے اپنی عید منانے چلے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →وَتَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ۔۔ : ابراہیم ؑ نے زبان سے بتوں کی تردید کے بعد سمجھا کہ ان لوگوں کو زبانی سمجھانا کافی نہیں بلکہ ان کے دماغوں میں ان بتوں کی خدائی اور مشکل کشائی کا جما ہوا عقیدہ ختم کرنا ایک زبردست عملی کارروائی کے بغیر ممکن نہیں، جس سے ان کی بےبسی صاف واضح ہوجائے۔ چونکہ ان تک پہنچنا اور کارروائی کرنا آسان نہ تھا، تو اس کام کے لیے انھوں نے اس دن کا انتخاب فرمایا جب سب لوگوں کے جشن پر جانے سے کارروائی کا موقع مل سکتا تھا۔ دیکھیے سورة صافات (88 تا 90)۔
3 ابراہیم ؑ نے بتوں کے باطل ہونے کو عمل سے ثابت کرنے سے پہلے اللہ کی قسم کھا کر اپنے ارادے کا اعلان فرمایا۔ کچھ لوگ پختہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و تا للہ لا کی دن اصنامکم بتایا کہ حضرت ابراہم نے زبانی حجت پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کے بتوں کو توڑا آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر وثوق تھا اور دین کے دفاع میں تکلیف برداشت کرنے پر نفس مطمئن تھا۔ تا للہ میں تا اللہ تعالیٰ کے اسم کے ساتھ قسم اٹھانے میں مختص ہے وائو ہر ظاہر اسم کے ساتھ مختص ہے اور باء ظاہر و ضمیر کے ساتھ استعمال ہوتی ہے۔ شاعر نے کہا :
تا للہ یبق علی الایام ذوحید بمشمخر بہ الظیان و الاس
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ کی حرمت کی قسم ! میں تمہارے بتوں کا بندوبست کروں گا۔ میں ان کے ساتھ ضرور مکر کروں گا۔ الکید کا معنی مکر ہے۔ کا دہ یکیدہ کیدا و مکیدۃ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…
Read the full tafseer →[ وَتَاللّٰهِ : اور اللہ کی قسم ] [ لَاَكِيْدَنَّ : میں لازماً دائو کروں گا ] [ اَصْنَامَكُمْ : تمہارے بتوں سے ] [ بَعْدَ ان : اس کے بعد کہ (جب)] [ تُوَلُّوْا : تم لوگ منھ موڑو گے ] [ مُدْبِرِيْنَ : پیٹھ پھیرنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
40:۔ ” وَ تَاللّٰهِ لَاَکِیْدَنَّ الخ “ حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ قوم نے ان ٹھوس عقلی دلائل سے کوئی اثر نہیں لیا تو اب ایک نہایت موثر اور محسوس طریقہ سے ان کے معبودان باطلہ کی بےچارگی کو واضح کرنے کی ایک نئی اسکیم سوچی چناچہ دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا کہ تم اپنے میلے پر تو جاؤ پھر دیکھنا میں تمہارے معبودوں کی کیا گت بناتا ہوں ” فَجَعَلَھُمْ جُذَاذًا “ جب مشرکین اپنے تہوار میں شریک ہونے کے لیے شہر سے باہر چلے گئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تمام مورتیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا البتہ سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ تاکہ جب مشرکین واپس آ کر سارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر کیا اور خاص طور پر رسالت کا بیان ہوا ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے کے سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اور اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور بعض دیگر انبیائے کرام کا بیان ہوگا۔ انبیاء کے اس تذکرے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ تاہم ان کو دعوت ، طریقہ تبلیغ ، اللہ کے حضور ان کی مناجات اور ان کے ساتھ نافرمانوں کے سلوک کو بیان کیا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا ذریعہ بن سکے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →وَتَاللہِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ 57
كيد
الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان يستعمل في المذموم أكثر، وکذلک الاستدراج والمکر، ويكون بعض ذلک محمودا، قال : كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76]
( ک ی د ) الکید
( خفیہ تدبیر ) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ استد راج اور مکر بھی کبھی اچھے معنوں میں فرمایا : ۔ كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] اسی طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی ۔
صنم
الصَّنَمُ : جُثَّةٌ متّخذة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–67
تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…
Read the full tafseer →وَتَاللّٰہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ (الانبیاء : 57)
(اور اللہ کی قسم میں تمہارے ان بتوں کے ساتھ ایک تدبیر کروں گا اس کے بعد کہ تم یہاں سے پیٹھ پھیرتے ہوئے چلے جاؤ گے۔ )
کَیْد… خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں۔ یعنی مخالف کیخلاف اسے نقصان پہنچانے کے لیے اس طرح اقدام کرنا کہ وہ اس سے باخبر نہ ہوسکے۔ جوہری لکھتے ہیں کُلُّ شَیْ ئٍ تُعَالِجُہٗ اَنْتَ تَکِیْدُہٗ ۔ کسی چیز کے متعلق برا ارادہ کرنے کو بھی کید کہتے ہیں۔ کَادَ اَیْ اَرَادَہٗ بِسُوْئٍ (المنجد)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اچھوتا اندازِ تبلیغ
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بت خانے کے اندر یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ نبوت کا پہلا اور مرکزی پیغام ” توحید “ ہے جس بنا پر انہوں نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے ” اللہ “ کی توحید پیش فرمائی اور بتوں کی بےثباتی ثابت کی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا لہٰذا سب سے پہلے باپ کے سامنے عقیدہ توحید پیش کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز ان کا گھر بنا ہوا ہے۔ لہٰذا حق کا تقاضا تھا کہ پیغامِ حق کی ابتداء اپنے گھر سے کی جاتی۔ چناچہ مؤثر دلائل اور پوری دل سوزی کے ساتھ توحید کی دعوت پہلے باپ کی خدمت میں پیش فرمائی…
Read the full tafseer →57: وَتَاللّٰہِ اور اللہ کی قسم ! یہ اصل میں واللہ ؔ ہے۔ اور تاء میں تعجب کا معنی ہے گویا انہوں نے اپنے ہاتھ سے اس تدبیر کی کامیابی پر تعجب کیا کیونکہ بتوں کو توڑنا آسان کام نہ تھا بلکہ ایک مشکل کام تھا کیونکہ بت پرستوں کو نمرود وساری قوم کی حمایت حاصل تھی۔ نمرود خود بہت طاقتور بادشاہ تھا۔
لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ (میں تمہارے بتوں کی گت بنائوں گا) ضرور ان کو توڑ ڈالوں گا۔ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْٓا مُدْبِرِیْنَ (جب کہ تم ان سے منہ پھیر کر چلے جائو گے) اس کے بعد کہ تم ان کو چھوڑ کر اپنے تہوار اور میلے پر چلے جائو گے۔ یہ بات آپ نے قوم سے خفیہ کہی اس کو ایک آدمی نے سنا۔ پس آپ نے تعریض کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →57۔ وتا اللہ لاکیدن اصنامکم، ان کو توڑنے کی کوئی تدبیر کروں گا۔ بعد ان تولوا مدبرین، یعنی جب ان کو پیچھے چھوڑ کرمیلے میں چلے جاؤ گے تو میں ان کو نقصان پہنچانے اور توڑنے کی کوئی تدبیر کروں گا۔
مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم نے یہ بات چپکے سے کہی تھی سوائے ایک شخص کے اور کوئی نہیں سن سکا، تھا، اسی نے یہ بات پھیلا دی کہ اس نے کہا تھا کہ ایک نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے ، بتوں کا ذکر کررہا تھا ہم نے خود سنا تھا۔ سدی نے کہا کہ قوم نمرود کا سالانہ تہوار ایک میلہ ہوتا تھا جب وہ میلہ سے واپس آتے تھے تو سیدھے بتوں کے پاس آتے تھے ان کو سجدے کرتے تھے پھر گھروں کو جاتے تھے۔ حسب معمول جب میلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–63
57۔ 63:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں زید بن اسلم وغیرہ کی روایتوں سے ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر جو قصہ ہے سورة والصافات کے قصے کے ملانے سے اس سب قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب ابرہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آزر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہئے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے ‘ بتوں کے توڑنے کے سال میں جب وہ میلہ کا وقت آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →77 حضرت ابراہیم کی طرف سے بت شکنی کا اعلان : سو آپ نے اس بارے قسم کھا کر ارشاد فرمایا " اور قسم ہے اللہ کی میں تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی خبر لے کر رہوں گا جبکہ تم لوگ ان سے پیٹھ پھیر کر جا چکے ہوؤ گے "۔ تاکہ اس طرح ان کا بےحقیقت ہونا پوری طرح آشکارا ہوجائے۔ یہ بات یا تو حضرت ابراہیم نے اپنے دل میں کہی یا اتنی آہستہ کہی کہ وہ لوگ اس کو سن نہ سکے یا سن لینے کے باوجود انہوں نے اس کو قابل توجہ ہی نہ سمجھا۔ کہ اتنی بڑی جرات و جسارت کون کرسکتا ہے ؟ اس لیے انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے ان مشرکوں کے سامنے واضح لفظوں میں اعلانِ حق فرما دیا کہ میں موقعہ ملتے ہی تمہارے ان معبودوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی جب تم اپنے بتوں کی پوجا کرکے بتخانہ سے پہلے جائو گے تو میں تمہارے ان معبودوں کی خبر لوں گا۔ یعنی دلائل سے تو تم راہ راست پر نہیں آتے اب یہ عمل اقدام کروں گا۔ غالباً حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے یہ کلمات زیر لب کے ہوں گے صرف آس پاس کے ایک دو آدمیوں نے سنا ہوگا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یہ علاج کرنا انہوں نے چپکے سے کہا۔ (موضح)
Read the full tafseer →(21:57) تاللہ۔ بخدا۔ اللہ کی قسم۔ ت حرف جر ہے۔ اس کے معنی قسم کے ہیں۔ اور تعجب کے ساتھ مخصوص ہے۔ نیز قسم میں اللہ کے نام کے سوا کسی اور کے نام پر داخل نہیں ہوتی۔
لا کیدن۔ لام تاکید کے لئے ہے اکیدن مضارع واحد متکلم بانون ثقیلہ ۔ الکید (خفیہ تدبیر) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں۔ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی۔ مگر عام طور پر برے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ دائو۔ فریب۔ چالاکی۔ تدبیر۔ حسن تدبیر سب معنی کا حامل ہے۔
قرآن مجید میں ہے ان اللہ لا یھدی کید الخائنین (12:52) اور خدا تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے مکر چلنے نہیں دیتا۔ اور کذلک کدنا لیوسف (12:76) اس طرح ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70
رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔
نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 70
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–63
(ف 1) تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آذر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہے حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے اس سال جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں نہیں گئے اور دبی ہوئی آواز میں سے بتوں کو توڑنے کی قسم کھائی، جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے قوم کے لوگوں کے بستی سے باہر چلے جانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
[32] یعنی اس دعوے پر دلیل بھی رکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
پیغمبرانہ استعداد :
(ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ،
بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔
حل لغات…
Read the full tafseer →(57) اور خدا کی قسم میں تمہارے ان مورتیوں کے پاس سے چلے جانے کے بعد ان کا علاج کروں گا اور ان کی گت بنائوں گا۔ یعنی جب تم ان کے پاس سے چلے جائو گے تو میں تمہارے بتوں کے ساتھ ایک چال چلوں گا اور ان سب کو ٹھیک کردوں گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ علاج کرنا انہوں نے چپکے کہا پھر جب وے شہر سے بہر گئے ایک میلے میں تب بت خانہ میں جاکر سب کو توڑا۔ 12
Read the full tafseer →ف 4۔ تاکہ ان کا عاجز اور درماندہ ہونا مشاہدہ میں آجائے۔
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سوال کا جواب دینے کے بعد ان کو دھمکی بھی سنا دی :
57۔ توحید کے اس جوش نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو فقط ان کا جواب دینے پر بس نہیں کرنے دی اور مزید آگے بڑھ کر ان کو ایک دھمکی بھی سنا دینے پر مجبور کیا اور آپ (علیہ السلام) نے قسمیہ انداز میں ارشاد فرمایا کہ تم لوگ کس مصلحت کی باتیں کرتے ہو جہاں کوئی مصلحت وغیرہ نہیں ہے میں تو اس معاملہ میں بالکل تیار کھڑا ہوں کہ تم لوگ یہاں سے ہٹو تو میں ان کے ساتھ دو دو ہاتھ کروں اور تمہارے واپس آنے تک ان کا صفایا کیا جا چکا ہو آیت میں آپ نے جو خفیہ تدبیر کرنے کا ارشاد فرمایا تو وہ اس لئے کہ آپ کی سکیم فی الواقعہ یہی…
Read the full tafseer →Commentary
وَتَاللَّـهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم (And I swear by Allah that I will do something to your idols - 21:57) The wording of the verse indicates that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) spoke these words before his community. But this explanation leaves a little doubt in one's mind because Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) had excused himself from going to the Eid festival by pleading illness إِنِّي سَقِيمٌ - I am sick - 37:89). And when they found their idols broken, they started a search for the culprit. If they already knew what he had said about their idols and that he had stayed behind…
Read the full tafseer →56. That is, if you do not understand this by argument, I will present a practical proof that these idols are helpless and have no powers. Therefore, it is wrong to make them your deities.
Read the full tafseer →