Explained with ayahs 51–56
یہودی روایتوں سے بچو
فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
سورة الْاَنْبِیَآء 55
اس فقرے کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ " کیا تو ہمارے سامنے حق پیش کر رہا ہے یا کھیلتا ہے " لیکن اصل مفہوم وہی ہے جس کی ترجمانی اوپر کی گئی ہے۔ ان لوگوں کو اپنے دین کے بر حق ہونے کا اتنا یقین تھا کہ وہ یہ تصور کرنے کے لیے بھی تیار نہ تھے کہ یہ باتیں کوئی شخص سنجیدگی کے ساتھ کرسکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ یہ تم محض مذاق اور کھیل کر رہے ہو یا واقعی تمہارے یہی خیالات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے اس (زمانہ موسوی) سے پہلے ابراہیم ؑ کو ان کی (شان کے مناسب) خوش فہمی عطا فرمائی تھی اور ہم ان (کے کمالات علمیہ و عملیہ) کو خوب جانتے تھے (یعنی وہ بڑے کامل تھے ان کا وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی برادری سے (ان کو بت پرستی میں مشغول دیکھ کر) فرمایا کہ کیا (واہیات) مورتیں ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو (یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں) وہ لوگ (جواب میں) کہنے لگے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے، (اور وہ لوگ عاقل تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مورتیں لائق عبادت کے ہیں) ابراہیم ؑ نے کہا کہ بیشک تم اور تمہارے باپ دادے (ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
حضرت ابراہیم کا خاص طرز استدلال
حضرت ابراہیم نے لگے ہاتھوں، بقید قسم، لوگوں کو اپنے اس ارادہ سے بھی آگاہ کردیا کہ جب آپ لوگ یہاں سے ہٹو گے تو میں ان بتوں کے ساتھ ایک خفیہ کارروائی کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ فظ کید پر ہم مختلف مقامات میں بحث کرچکے ہیں کہ یہ کسی ایسے اقدام کے لئے بھی آتا ہے جو کسی مخالف کے خلاف اس طرح کیا جائے کہ وہ اس سے باخبر نہ ہو سکے۔
تولوامد برین کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے یہ دعوت بت خانہ کے اندر کسلی اجتماع کے موقع پر دی ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا کہ جب آپ لوگ یہاں سے گھروں کو سدھاریں گے تو میں آپ کے ان خدائوں کی مرمت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اصل اسکیم کو حضرت…
Read the full tafseer →56۔ 1 یعنی میں مذاق نہیں کر رہا، بلکہ ایک ایسی چیز پیش کر رہا ہوں جس کا علم و یقین (مشاہدہ) مجھے حاصل ہے اور وہ یہ کہ تمہارا معبود مورتیاں نہیں، بلکہ وہ رب ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک اور ان کا پیدا کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
24: انہیں چونکہ توقع نہیں تھی کہ کوئی ان کے بتوں کے بارے میں ایسی بات کہہ سکتا ہے، اس لیے شروع میں انہیں یہ شک ہوا کہ شاید حضرت ابراہیم ؑ سنجیدگی سے نہیں، بلکہ مذاق کے طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →قال بل۔۔۔۔۔۔۔ من الشھدین (65) ‘۔
اللہ تو رب واحد ہے۔ وہی آسمانوں اور زمین کا رب ہے ‘ اور وہ اس لیے رب ہے کہ وہ ان کا پیدا کرنے والا ہے یعنی وہ الہٰ واحد ہے۔ دو صفات کی وجہ سے اور ان میں جدائی ممکن نہیں ہے۔ ایک یہ کہ وہ زمین و آسمان کا رب ہے۔ ان کو چلانے والا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ ان کو پیدا بھی اس نے کیا۔ یہ تو درست عقیدہ ہے لیکن مشرکین عرب کا عقیدہ نہایت ہی معقول ہے کہ وہ اپنے بتوں کو رب تو مانتے تھے لیکن خالق نہ مانتے تھے۔ خالق وہ بھی صرف اللہ کو مانتے تھے۔ لیکن یہ جانتے ہوئے کہ دوسرے الہوں نے کسی چیز کی تخلیق نہیں کی پھر بھی ان کی پوجا کرتے تھے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ایسے گواہ…
Read the full tafseer →8 یعنی میرا عقیدہ ہی یہ ہے اور پورے یقین و بصیرت سے اس کی شہادت دیتا ہوں کہ میرا تمہارا سب کا رب وہ ہی ایک خدا ہے جس نے آسمان زمین پیدا کیے اور ان کی دیکھ بھال رکھی۔ کوئی دوسری چیز اس کی خدائی میں شریک نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ ”
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں علیٰ وجہ البصیرت یہ بات کہہ رہا ہوں ‘ مجھے اس میں ذرا بھی شک نہیں۔ حضور ﷺ کو بھی اپنی دعوت کے سلسلے میں بالکل اسی طرح قطعی الفاظ میں اعلان کرنے کا حکم دیا گیا : قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِقف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ط یوسف : 108 ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے ‘ میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ ‘ میں خود بھی اور وہ بھی جو میری پیروی کر رہے ہیں۔“
Read the full tafseer →50 حضرت ابراہیم نے جواب دیا کہ یہ دل لگی کی بات نہیں بلکہ میں فی الواقعہ یہی کچھ سمجھتا ہوں کہ یہ پتھر کے بت جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں وہ تمہارے نفع و نقصان کے مالک کیسے بن سکتے ہیں۔ اور میں تو اپنے نفع و نقصان کا مالک صرف اپنے اس پروردگار کو سمجھتا ہوں جس نے ہم سب کو بھی اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور ان پر پورے اختیار کے ساتھ حکمرانی کر رہا ہے اور میں یہ بات محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں بلکہ پورے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔
Read the full tafseer →74۔ یعنی میں اس عقیدہ توحید پر دلیل بھی رکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…
Read the full tafseer →قال بل ربکم رب السموت والارض الذی فطرہن وانا علی ذلکم من الشہدین۔
ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا (میں دل لگی کے طور پر یہ بات نہیں کہتا) بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا رب (مالک و حاکم) ہے جس نے ان کو نیست سے ہست کیا ہے اور میں بھی اسی کی شہادت دینے والوں میں سے ہوں۔
فَطَرَہُنَّیعنی بغیر سابقہ نظیر کے اللہ نے ان کو نیست سے ہست کیا ہے۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِکے بعد فطرہن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جاہل لوگ رب کا اطلاق بادشاہ (اور ہر سرپرست) پر بھی کرتے ہیں اور نمرود نے تو کہا ہی تھا اَنَا اُحْیِیْ وَاُمِیْتُ ۔ اس خیال کو دفع کرنے کے لئے فرمایا ‘ اللہ تمام آسمانوں اور زمینوں کا…
Read the full tafseer →(56) حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا بلکہ تمہارا حقیقی پروردگار وہی ہے جو آسمان و زمین کا پروردگار اور ان کا خالق ہے اور میں جو تم سے کہہ رہا ہوں، اس پر دلیل بھی رکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ۔۔ : ”بَلْ“ (بلکہ) سے پہلے کلام کا کچھ حصہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی میں یہ بات مذاق سے نہیں بلکہ پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں کہ یہ مورتیاں اور مجسّمے رب نہیں ہیں بلکہ تمہارا رب صرف وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے۔”رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ مبتدا اور خبر دونوں کے معرفہ ہونے سے حصر کا معنی پیدا ہو رہا ہے۔
وَاَنَا عَلٰي ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ : یعنی میں یہ بات دلیل سے ثابت کرسکتا ہوں، تمہاری طرح نہیں کہ آبا و اجداد کی تقلید کے سوا میرے پاس کوئی دلیل ہی نہ ہو (کیونکہ شہادت اسی بات کی دی جاتی ہے جس کا انسان کو یقینی علم ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ بعض علماء نے فرمایا : یعنی تو یاد کر جب اس نے اپنے باپ کو کہا۔ پس کلام وکنا بہ علمین پر مکمل ہوگی۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم جانتے تھے جب انہوں نے کہا۔ اس مفہوم پر کلام متصل ہوگی اور عالمین پر وقف نہ گا لابیہ سے مراد آزر ہے۔ قومہ نمرود اور اس کے پیروکار۔ ما ھذہ التماثیل اس سے مراد مورتیاں ہیں۔ التماثیل ہر اس شی کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہو۔ کہا جاتا ہے : مثلث الشئی بالشئی میں نے ایک چیز کو دوسری چیز سے مشابہت دی۔ اس ممثل کا اسم تماثل ہے۔ التی انتم لھا عکفون۔ یعنی تم ان کی عبادت پر قائم ہو۔ قالوا وجدنا لھا عبدین۔ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
1:۔ ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے بچپن ہی میں ہدایت دی اور (آیت) ” ما ھذہ التماثیل “ سے مراد ہے کہ یہ مورتیاں کیا ہیں ؟۔
2:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو ہدایت دی۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ التی انتم لھا عکفون “ یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو (آیت) ” قالوا وجدنا ابآءنا لھا عبدین “ یعنی ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کو پیروی کرتے ہیں اسی دین پر۔
4:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[ قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ بَلْ : بلکہ ] [ رَّبُّكُمْ : تم لوگوں کا رب ] [ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] [ الَّذِي : وہ جس نے ] [ فَطَرَهُنَّ : وجود بخشا ان سب کو ] [ وَانا : اور میں ] [ عَلٰي ذٰلِكُمْ : اس پر ] [ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ : گواہی دینے والوں میں سے ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
39:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب سن کر قوم کے مشرک بولے تم سچ کہہ رہے ہو یا یونہی ہنسی مذاق کر رہے ہو ” قَالَ بَلْ رَّبُّکُمْ الخ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا ہنسی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ غیر اللہ کی عبادت اور پکار کی وجہ سے تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ داد بھی گمراہ تھے۔ جن کو تم پکارتے ہو وہ عاجز و بےبس ہیں اور متصرف و مختار نہیں ہیں مالک و مختار اور متصرف و کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے جو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے لہذا عبادت اور پکار کا مستحق بھی وہی ہے اور کوئی نہیں اور اس دعویٰ پر میرے پاس دلیل وحجت موجود ہے اور میں جو کچھ کہہ رہا ہوں دلیل و حجت سے کہہ رہا ہوں۔ المعنی ابین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر کیا اور خاص طور پر رسالت کا بیان ہوا ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے کے سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اور اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور بعض دیگر انبیائے کرام کا بیان ہوگا۔ انبیاء کے اس تذکرے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ تاہم ان کو دعوت ، طریقہ تبلیغ ، اللہ کے حضور ان کی مناجات اور ان کے ساتھ نافرمانوں کے سلوک کو بیان کیا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا ذریعہ بن سکے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الَّذِيْ فَطَرَہُنَّ 0ۡۖ وَاَنَا عَلٰي ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰہِدِيْنَ 56
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–67
تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…
Read the full tafseer →قَالَ بَلْ رَّبُّکُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَھُنَّ صلے ز وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 56)
(آپ نے فرمایا (دل لگی نہیں کررہا) بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔ )
دعوتِ حق کی راہ میں ایک اور قدم
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا کہ پتھر اور مٹی کے بت تمہارے رب نہیں ہیں بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا وہ خدا ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں یہ بات محض زیب داستان کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ میں اس حقیقت پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ نبوت کا پہلا اور مرکزی پیغام ” توحید “ ہے جس بنا پر انہوں نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے ” اللہ “ کی توحید پیش فرمائی اور بتوں کی بےثباتی ثابت کی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا لہٰذا سب سے پہلے باپ کے سامنے عقیدہ توحید پیش کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز ان کا گھر بنا ہوا ہے۔ لہٰذا حق کا تقاضا تھا کہ پیغامِ حق کی ابتداء اپنے گھر سے کی جاتی۔ چناچہ مؤثر دلائل اور پوری دل سوزی کے ساتھ توحید کی دعوت پہلے باپ کی خدمت میں پیش فرمائی…
Read the full tafseer →56: قَالَ بَلْ رَّبُّکُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَھُنَّ (ابراہیم نے کہا بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو نیست سے وجود بخشا ہے) یعنی تماثیل۔ پس خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے مفسر علام (رح) نے ھنـؔ کا مرجع تماثیل کو بنایا ہے جبکہ اقرب مرجع السموٰت والارض موجود ہے۔ دیگر مفسرین نے یہی اختیار کیا ہے۔ وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکُمْ (اور میں اس پر) مذکورہ توحید پر ایک شاہد ہوں۔ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ (منجملہ شہداء میں سے)
Read the full tafseer →56۔ قال بل ربکم رب السموات والارض الذی فطرھن ، ان کو پیدا کیا، وانا علی ذالکم من الشاھدین، یہ وہی اللہ ہے جو مستحق عبادت ہے اور بعض نے کہا کہ میں بھی شہادت دینے والوں میں سے ہوں کہ وہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
51۔ 56:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش نمرود بن کنعان عراق کے بادشاہ کے زمانہ میں ہوئی ہے مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے ان لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے قائل کرنے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرما کر انہیں یوں قائل کیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بچپنے ہی میں بت پرستی سے بیزار تھے پھر یہ مکہ کے بت پرست اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر کیوں کر کہہ سکتے ہیں ‘ نمردو اور اس کے ساتھی ستارہ پرست لوگ تھے ستاروں کی پرستش کی نیت سے ان لوگوں نے ستاروں کی مورتیں بنار کھی تھیں جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
74 اعلانِ حق سے مشرکوں کے اندر کھلبلی : سو حضرت ابراہیم کے اس اعلانِ حق سے مشرک قوم کے اندر بوکھلاہٹ اور کھلبلی مچ گئی۔ سو انہوں نے ابراہیم سے کہا کہ " تم دل لگی کرتے ہو جو اتنی بڑی بات کہہ رہے ہو " اور اپنے اور ہم سب کے آباؤ اجداد کو بھی گمراہ قرار دے رہے ہو ؟ سو یہ ہوتی ہے شان عقیدہ توحید کی۔ اور اس کے علمبردار صادق کی کہ تن تنہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بغیر کسی لگی لپٹی کے بھرے مجمع میں ان سب کو گمراہ بلکہ گمراہی میں ڈوبا ہوا قرار دے دیا اور ڈنکے کی چوٹ اس کا صاف اعلان فرمایا دیا (علیہ الصلوۃ والسلام) اس سے وہ مشرک قوم اس طرح بوکھلا اٹھی اور انہوں نے حیرت زدہ ہو کر حضرت ابراہیم سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ف 4 ۔ کیونکہ بت پرستی سے بڑھ کر کھلی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کتاب و سنت کو چھوڑ کر کوئی دوسری راہ اختیار کرنا بھی صریح صلالت ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(21:56) فطرہن۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب (جس کا مرجع السموت والارض ہے) اس نے ان کو پیدا کیا۔ فاطرپیدا کرنے والا۔ لغوی معنی کے لحاظ سے فطر کے مفہوم میں پھاڑنے کے معنی ضرور ہونے چاہئیں۔ پیدا کرنے کے معنی میں بھی یہ مفہوم موجود ہے کیونکہ پیدا کرنا بمعنی عدم کے پردے کو پھاڑ کر وجود میں لانا ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے ھل تری من فطور (37 :3) کیا تجھ کو کوئی پھٹ (شگاف) نظر آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70
رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔
نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 70
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اور توحید کا ذکر۔
(ف 1) مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان فرمایا کہ انہیں ان آیتوں میں یوں قائل کیا کہ موسیٰ اور ہارون کو نیک راہ کی توفیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سی عمر میں ابراہیم کو نیک راہ کی توفیق دی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی تھی کہ آزر بت پرست کے گھرانہ میں ابراہیم ایسے نیک راہ اور اللہ کے رسول ہوں گے ان کے بعد ان کے گھرانہ میں قیامت تک نبوت چلے گی آگے ابراہیم کے نیک راہ پر ہونے کی تفصیل یہاں فرمائی کہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو بت پرستی کی حالت پر نہ دیکھ سکے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
[32] یعنی اس دعوے پر دلیل بھی رکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
پیغمبرانہ استعداد :
(ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ،
بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔
حل لغات…
Read the full tafseer →56) ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا دل لگی اور خوش طبعی نہیں بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات پر پوری بصیرت کے ساتھ شہادت دیتا ہوں اور میں اس دعوے پر دلیل رکھتا ہوں۔ یعنی میرا یہ دعویٰ کہ سب کا پروردگار وہی ہے جو تمام آسمان و زمین کو ترتیب دینے والا اور پیدا کرنے والا ہے میں اس دعوے پر حجت وبراہین رکھتا ہوں میں اسی کا قائل ہوں اور میں پوری بصیرت کے ساتھ اس دعوے پر شہادت دیتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
ف 3۔ یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی مزید ایک قدم آگے بڑھایا اور ان کو جواب دیا :
56۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کا یہ کلام سنا جو بہت مصلحت پسندانہ تھا تو آپ ﷺ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے اور ان کی اس مصلحت کو نظر انداز کرتے ہوئے فرمایا کہ میں مذاق کیوں کروں گا ‘ یہ مذاق ہرگز نہیں ” بلکہ میں تو صاف کہتا ہوں کہ آسمان و زمین کا پروردگار جس نے ان سب کو پیدا کیا وہی تمہارا بھی پروردگار ہے اور میں اس حقیقت پر تمہارے سامنے گواہ ہوں ؟ “ کس قدر صاف اور واضح الفاظ میں بغیر کسی تعریض کے اعلان کردیا کہ میں اس بات کی شہادت دے رہا ہوں اور بآواز بلند اور پکار پکار کر کہہ رہا ہوں کہ جن کو تم نے حاجت روا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
Commentary
الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ (Criterion and light and an advice for the God-fearing - 21:48) The three attributes which belong to Torah are فُرْقَانَ (criterion) which differentiates between right and wrong second is 4 ' (light) which provides light and manifestation of truth to hearts, and the third is ذِکر (advice) which is a source of guidance for the people. Some explain فُرْقَانَ as help from God which was available to Sayyidna Musa (علیہ السلام) all times. It was manifest when he was raised in the Pharaoh's house, then at the time of his contest with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
55. The literal translation will be: Are you presenting the truth before us, or just playing with us? They were so sure of the truth of their creed that they could never imagine that anyone could be serious in declaring it to be false.
Read the full tafseer →