Al-Anbiyaa 21:55

Al-Anbiyaa · from ayah 55

21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ ۟قَالُوۡۤا اَجِئۡتَـنَا بِالۡحَـقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ‏

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Have you come to us with truth, or are you of those who jest?"

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:55

انہوں نے کہا "کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کر رہا ہے یا مذاق کرتا ہے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگے کیا آپ ہمارے پاس سچ مچ حق ﻻئے ہیں یا یوں ہی مذاق کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : کیا تم ہم سے سچ مچ کی بات کر رہے ہو، یا دل لگی کر رہے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: کیا (صرف) تم ہی حق لائے ہو یا تم (محض) تماشا گروں میں سے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس حق لایا ہے، یا تو کھیلنے والوں سے ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : کیا تو ہمارے پاس کوئی سچی بات لایا ہے یا ویسے ہی دل لگی کر رہا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے پوچھا کہ یہ جو کچھ تم ہمارے سامنے پیش کر رہے ہو سنجیدہ بات پیش کر رہے ہو یا ہنسی مسخری کر رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس اعلان حق پر وہ لوگ تعجب میں ڈوب کر بولے) ابراہیم کیا تم سچ مچ یہ بات کہہ رہے ہو یا یوں ہی دل لگی کرنا مقصود ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے کیا تم سنجیدگی سے ہمارے سامنے پیش کررہے ہو یا دل لگی کررہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کہنے لگے کہ کیا آپ ؑ واقعی ہمارے پاس حق لائے ہیں یا محض شغل کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس واقعی حق لائے ہو ؟ یا ہم سے کھیل کی باتیں کرتے ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "Are you expressing your true ideas before us or are you jesting?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Did you come to us with truth or are you one of the triflers?

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Did you come to us with truth or are you one of the triflers?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Bringest thou unto us the truth, or art thou some jester?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Have you come to us with truth, or are you of those who jest?"

— Saheeh International

They exclaimed, "Have you brought the Truth or are you joking?"

— Muhammad Sarwar

They said: Have you brought to us the truth, or are you one of the triflers?

— Muhammad Habib Shakir

They said: hast thou come unto us with the truth, or art thou of those who sport?

— Abdul Majid Daryabadi

They said, "Have you brought us the Truth, or are you one of those who jest?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–56

سورة الْاَنْبِیَآء 55 اس فقرے کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ " کیا تو ہمارے سامنے حق پیش کر رہا ہے یا کھیلتا ہے " لیکن اصل مفہوم وہی ہے جس کی ترجمانی اوپر کی گئی ہے۔ ان لوگوں کو اپنے دین کے بر حق ہونے کا اتنا یقین تھا کہ وہ یہ تصور کرنے کے لیے بھی تیار نہ تھے کہ یہ باتیں کوئی شخص سنجیدگی کے ساتھ کرسکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ یہ تم محض مذاق اور کھیل کر رہے ہو یا واقعی تمہارے یہی خیالات ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

خلاصہ تفسیر اور ہم نے اس (زمانہ موسوی) سے پہلے ابراہیم ؑ کو ان کی (شان کے مناسب) خوش فہمی عطا فرمائی تھی اور ہم ان (کے کمالات علمیہ و عملیہ) کو خوب جانتے تھے (یعنی وہ بڑے کامل تھے ان کا وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی برادری سے (ان کو بت پرستی میں مشغول دیکھ کر) فرمایا کہ کیا (واہیات) مورتیں ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو (یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں) وہ لوگ (جواب میں) کہنے لگے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے، (اور وہ لوگ عاقل تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مورتیں لائق عبادت کے ہیں) ابراہیم ؑ نے کہا کہ بیشک تم اور تمہارے باپ دادے (ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 56-55 دعوت حق کی راہ میں اور قدم حق سے یہاں سنجیدہ اور سوچی سمجھی ہوئی بات مراد ہے۔ حضرت ابراہیم کی یہ بات ان کی قوم کے لوگوں کے لئے اتنی انوکھی اور عجیب تھی کہ وہ یہ باور نہ کرسکے کہ کوئی شخص سوچ سمجھ کر ایسی بات زبان سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے گمان کیا کہ یہ الھڑ نوجوان، جوانی کی ترنگ میں، بےسوچے سمھے، بس یونہی ایک بات کہہ گزرا ہے۔ چناچہ انہوں نے سوال کیا کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہو واقعی اپنا عقیدہ بیان کر رہے ہو یا محض مذاق کر رہے ہو ! انہوں نے حضرت ابراہیم کے اس نعرہ حق کو ایک غیر سنجیدہ اور لا ابالیانہ نعرہ قرار دے کر لوگوں کو اس کے اثر سے بچانا چاہا۔ لیکن حضرت ابراہیم نے ان کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

55۔ 1 یہ اس لئے کہا کہ انہوں نے اس سے قبل توحید کی آواز ہی نہیں سنی تھی انہوں نے سوچا، پتہ نہیں، ابراہیم ؑ ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 55–57

24: انہیں چونکہ توقع نہیں تھی کہ کوئی ان کے بتوں کے بارے میں ایسی بات کہہ سکتا ہے، اس لیے شروع میں انہیں یہ شک ہوا کہ شاید حضرت ابراہیم ؑ سنجیدگی سے نہیں، بلکہ مذاق کے طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ من اللعبین (55) ” ‘۔ یہ سوال ایک ایسے شخص کا سوال نظر آتا ہے جسے خوداپنے فکرو عمل پر پورا اطمینان نہ ہو۔ کیونکہ وہ جو عقدہ رکھتا ہے ‘ جو عمل کرتا ہے اس پر اس نے کبھی سوچا نہیں تحقیق نہیں کی۔ یہ کام وہ محض وہم اور تقلید اور بےسوچے سمجھے کررہا ے۔ وہ نہیں جانتا کہ حق کیا ہے حالانکہ عقائد و عبادات وہ چیز ہے جو مستند دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ جو افراد و اقوام عقیدہ توحید کے صاف ستھرے تصور سے محروم ہوں وہ اسی طرح کے اوہام کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان کے افکار بھی صاف ستھرے اور واضح نہیں ہوتے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ذرا دیکھئے کہ وہ کس قدر اعتماد و یقین سے بات کرتے ہیں۔ ان کو رب کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 تمام قوم کے عقیدہ کے خلاف ابراہیم (علیہ السلام) کی ایسی سخت گفتگو سن کر ان میں اضطراب پیدا ہوگیا کہنے لگے کیا سچ مچ تیرا خیال اور عقیدہ یہ ہی ہے یا محض ہنسی اور دل لگی کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 قَالُوْٓا اَجِءْتَنَا بالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ ” یعنی کیا آپ علیہ السلام اس بات میں واقعی سنجیدہ ہیں اور آپ علیہ السلام کا یہ دعویٰ ٹھوس علمی حقائق پر مبنی ہے یا ویسے ہی تفریح طبع کے لیے باتیں بنا رہے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 گویا قوم ابراہیم کو اپنے اس بت پرستی کے مذہب کی حقانیت پر اتنا پختہ یقین تھا کہ یہ بات ان کے وہم و گمان میں بھی نہ اسکتی تھی کہ کوئی شخص اس مذہب کی مخالفت بھی کرسکتا ہے۔ لہذا وہ حضرت ابراہیم سے پوچھنے لگے کہ تم نے جو ہم پر بتوں کی پرستش کی بنا پر صریح گمراہی کا فتویٰ لگایا ہے۔ یہ بات صدق دل اور سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہے ہو یا ویسے ہی کچھ دل لگی کرنے کا خیال آگیا تھا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

73۔ مشرک قوم توحید سے اس درجہ ناآشنابیگانہ ہوچکی تھی کہ اسے یہ آواز بھی بالکل عجیب و غریب اور افسانہ نما معلوم ہوئی، اور وہ لوگ یہی سمجھے کہ معلوم ہوتا ہے یہ ہمارے ساتھ ہنسی دل لگی کررہے ہیں، ورنہ سنجیدگی سے تو کوئی ایسا انوکھا پیام پیش ہی نہیں کرسکتا۔ بالحق اے بجد (ابن عباس ؓ اے بالجد (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا انہوں نے کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ان کو عجیب معلوم ہوا۔ باپ دادا کو گمراہ بتانا ان کی نظر میں عجیب تھا ‘ اس لئے خیال کیا کہ شاید ابراہیم کوئی دل لگی کی بات کہہ رہا ہے۔ اجئتنا بالحق ام انت من اللعبین۔ کیا واقعی کوئی صحیح بات ہم سے کہہ رہے ہو یا دل لگی کر رہے ہو یعنی کیا کوئی ایسی حق بات کہہ رہے ہو جس کی کوئی عقلی سند اور واقعی ثبوت ہو یا یہ محض تفریح طبع کے طور پر یوں ہی کہہ رہے ہو۔ استفہام انکاری ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ تمہاری بات مبنی برحق تو نہیں ہے ‘ (اسلاف کو گمراہ بتانا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے) معلوم ہوتا ہے کہ تم دل لگی کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) وہ یہ سن کر کہنے لگے اے ابراہیم ؑ کیا تم سچی اور حقیقی بات کہہ رہے ہو یا یوں ہی دل لگی کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْٓا اَجِئْـتَنَا بالْحَــقِّ۔۔ : قوم کو بت پرستی کے حق ہونے کا اتنا یقین تھا کہ وہ سوچ ہی نہ سکتے تھے کہ کوئی شخص اسے کھلی گمراہی قرار دے سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ابراہیم ؑ جیسے حسن اخلاق والے شخص سے (جو کوئی ایسی بات کہتا ہی نہیں جو کسی کو ناگوار گزرے) صاف گمراہی کا فتویٰ سن کر انھیں یقین نہ آیا کہ ابراہیم ؑ یہ بات سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔ وہ سمجھے کہ آپ مذاق کر رہے ہیں، اس لیے انھوں نے پوچھا کہ آپ یہ حقیقت بیان کر رہے ہیں یا دل لگی کر رہے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–56

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ بعض علماء نے فرمایا : یعنی تو یاد کر جب اس نے اپنے باپ کو کہا۔ پس کلام وکنا بہ علمین پر مکمل ہوگی۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم جانتے تھے جب انہوں نے کہا۔ اس مفہوم پر کلام متصل ہوگی اور عالمین پر وقف نہ گا لابیہ سے مراد آزر ہے۔ قومہ نمرود اور اس کے پیروکار۔ ما ھذہ التماثیل اس سے مراد مورتیاں ہیں۔ التماثیل ہر اس شی کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہو۔ کہا جاتا ہے : مثلث الشئی بالشئی میں نے ایک چیز کو دوسری چیز سے مشابہت دی۔ اس ممثل کا اسم تماثل ہے۔ التی انتم لھا عکفون۔ یعنی تم ان کی عبادت پر قائم ہو۔ قالوا وجدنا لھا عبدین۔ ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–56

1:۔ ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے بچپن ہی میں ہدایت دی اور (آیت) ” ما ھذہ التماثیل “ سے مراد ہے کہ یہ مورتیاں کیا ہیں ؟۔ 2:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو ہدایت دی۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ التی انتم لھا عکفون “ یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو (آیت) ” قالوا وجدنا ابآءنا لھا عبدین “ یعنی ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کو پیروی کرتے ہیں اسی دین پر۔ 4:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ اَ : کیا ] [ جِئْـتَنَا : آپ (علیہ السلام) آئے ہمارے پاس ] [ بِالْحَــقِّ : حق کے ساتھ ] [ اَمْ : یا ] [ انتَ : آپ (علیہ السلام) ] [ مِنَ اللّٰعِبِيْنَ : کھیل کرنے والوں میں سے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–56

39:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب سن کر قوم کے مشرک بولے تم سچ کہہ رہے ہو یا یونہی ہنسی مذاق کر رہے ہو ” قَالَ بَلْ رَّبُّکُمْ الخ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا ہنسی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ غیر اللہ کی عبادت اور پکار کی وجہ سے تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ داد بھی گمراہ تھے۔ جن کو تم پکارتے ہو وہ عاجز و بےبس ہیں اور متصرف و مختار نہیں ہیں مالک و مختار اور متصرف و کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے جو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے لہذا عبادت اور پکار کا مستحق بھی وہی ہے اور کوئی نہیں اور اس دعویٰ پر میرے پاس دلیل وحجت موجود ہے اور میں جو کچھ کہہ رہا ہوں دلیل و حجت سے کہہ رہا ہوں۔ المعنی ابین…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–57

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر کیا اور خاص طور پر رسالت کا بیان ہوا ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے کے سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اور اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور بعض دیگر انبیائے کرام کا بیان ہوگا۔ انبیاء کے اس تذکرے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ تاہم ان کو دعوت ، طریقہ تبلیغ ، اللہ کے حضور ان کی مناجات اور ان کے ساتھ نافرمانوں کے سلوک کو بیان کیا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا ذریعہ بن سکے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اَجِئْـتَنَا بِالْحَــقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِيْنَ۝ 55 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–67

تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْٓا اَجِئْـتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ ۔ (الانبیاء : 55) (انھوں نے پوچھا کہ تم ہمارے پاس کوئی سچی بات لے کر آئے ہو یا صرف دل لگی کررہے ہو۔ ) لوگوں نے یہ سمجھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) جو کچھ کہہ رہے ہیں، یہ محض ہم سے دل لگی کررہے ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بت پرستی کے ماحول میں بت پرستی کی مذمت کی جائے اور اسے صریح گمراہی قرار دیا جائے۔ اس لیے انھوں نے پلٹ کر ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کی بات کی وضاحت چاہی۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–59

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ نبوت کا پہلا اور مرکزی پیغام ” توحید “ ہے جس بنا پر انہوں نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے ” اللہ “ کی توحید پیش فرمائی اور بتوں کی بےثباتی ثابت کی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا لہٰذا سب سے پہلے باپ کے سامنے عقیدہ توحید پیش کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز ان کا گھر بنا ہوا ہے۔ لہٰذا حق کا تقاضا تھا کہ پیغامِ حق کی ابتداء اپنے گھر سے کی جاتی۔ چناچہ مؤثر دلائل اور پوری دل سوزی کے ساتھ توحید کی دعوت پہلے باپ کی خدمت میں پیش فرمائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہ حقیقت یا تفریح : 55: قَالُوْا اَجِئْتَنَا بِالحَقِّ (انہوں نے کہا کیا تم کوئی واقعی ہم سے بات کہہ رہے ہو) حق یہاں ہزل کے بالمقابل استعمال ہوا جس کا معنی واقعی ثبوت والی بات۔ اَمْ اَنْتَ مِنْ اللّٰعِبِیْنَ (یا تم دل لگی کر رہے ہو) اپنی بات کہنے میں تم حقیقت پسندہو یا تفریح طبع کیلئے کہتے ہو۔ انہوں نے آپ کے انکار کو بہت اوپرا قرار دیا۔ اور اس کے ضلال و گمراہی قرار دینے کو بہت ہی بعیدقرار دیا۔ پس اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے اعراض کیا اور ان کو بتلایا کہ میں نے واقعی بات کہی ہے اس میں تفریح طبع کا دخل نہیں۔ اپنے ارشاد سے شہنشاہ مطلق کی ربوبیت اور بتوں کی بےبسی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

55۔ قالواجتئنا بالحق ام انت من الاعبین۔ تمہاری بات مبنی برحق تو نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم دل لگی کررہے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–56

51۔ 56:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش نمرود بن کنعان عراق کے بادشاہ کے زمانہ میں ہوئی ہے مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے ان لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے قائل کرنے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرما کر انہیں یوں قائل کیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بچپنے ہی میں بت پرستی سے بیزار تھے پھر یہ مکہ کے بت پرست اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر کیوں کر کہہ سکتے ہیں ‘ نمردو اور اس کے ساتھی ستارہ پرست لوگ تھے ستاروں کی پرستش کی نیت سے ان لوگوں نے ستاروں کی مورتیں بنار کھی تھیں جن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 55–56

74 اعلانِ حق سے مشرکوں کے اندر کھلبلی : سو حضرت ابراہیم کے اس اعلانِ حق سے مشرک قوم کے اندر بوکھلاہٹ اور کھلبلی مچ گئی۔ سو انہوں نے ابراہیم سے کہا کہ " تم دل لگی کرتے ہو جو اتنی بڑی بات کہہ رہے ہو " اور اپنے اور ہم سب کے آباؤ اجداد کو بھی گمراہ قرار دے رہے ہو ؟ سو یہ ہوتی ہے شان عقیدہ توحید کی۔ اور اس کے علمبردار صادق کی کہ تن تنہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بغیر کسی لگی لپٹی کے بھرے مجمع میں ان سب کو گمراہ بلکہ گمراہی میں ڈوبا ہوا قرار دے دیا اور ڈنکے کی چوٹ اس کا صاف اعلان فرمایا دیا (علیہ الصلوۃ والسلام) اس سے وہ مشرک قوم اس طرح بوکھلا اٹھی اور انہوں نے حیرت زدہ ہو کر حضرت ابراہیم سے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 54–56

ف 4 ۔ کیونکہ بت پرستی سے بڑھ کر کھلی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کتاب و سنت کو چھوڑ کر کوئی دوسری راہ اختیار کرنا بھی صریح صلالت ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:55) لعبین۔ اسم فاعل جمع مذکر لعب لعب تلعاب مصدر۔ (سمع) لعب حاصل مصدر بھی ہے۔ لعبین کھیلنے والے (دل لگی کرنے والے۔ بیکار کام کرنے والے لعبۃ گڑیا۔ یا وہ چیز جس سے کھیل کھیلا جائے۔ مثلاً شطرنج ۔ چوسر) وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اور توحید کا ذکر۔ (ف 1) مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان فرمایا کہ انہیں ان آیتوں میں یوں قائل کیا کہ موسیٰ اور ہارون کو نیک راہ کی توفیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سی عمر میں ابراہیم کو نیک راہ کی توفیق دی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی تھی کہ آزر بت پرست کے گھرانہ میں ابراہیم ایسے نیک راہ اور اللہ کے رسول ہوں گے ان کے بعد ان کے گھرانہ میں قیامت تک نبوت چلے گی آگے ابراہیم کے نیک راہ پر ہونے کی تفصیل یہاں فرمائی کہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو بت پرستی کی حالت پر نہ دیکھ سکے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–55

[31] مراد کتاب تورات ہے جو فرقان یعنی حق و باطل کا فرق دکھانے والی، جہل غفلت کے اندھیاروں میں روشنی پہنچانے والی اور '' ذکر '' یعنی نصیحت نامہ تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–61

پیغمبرانہ استعداد : (ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ، بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(55) وہ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس کوئی حق اور واقعی بات لایا ہے تو محض خوش طبعی کرنے والوں میں سے ہے یعنی تو جو بات کہتا ہے یہ کوئی امر حق اور واقعی بات ہے یا محض کوئی ہنسی اور دل لگی کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سامعین نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سنی اور کہا کہ یہ صحیح بات آپ کہہ رہے ہیں یا مذاق کر رہے ہیں : 55۔ چونکہ مزاح اور دل لگی میں انسان بہت کچھ کہہ جاتا ہے اور سننے والے بھی اس کو برداشت کر جاتے ہیں ۔ اس لئے قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سن لی اور اس وقت برداشت بھی کر گئے اور پوچھنے لگے کہ یہ بات از راہ مذاق آپ کہہ رہے ہیں یا سچ مچ آپ اپنا نظریہ پیش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات کیوں کہی ؟ اس لئے کہ ان کی نظر میں یہ بات انوکھی اور عجیب تھی اس لئے وہ باور نہ کرسکے کہ کوئی شخص سوچ سمجھ کر بھلا ایسی بات کہہ سکتا ہے اس لئے ان کو ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ بات سن کر احساس ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–56

Commentary الْفُرْ‌قَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرً‌ا لِّلْمُتَّقِينَ (Criterion and light and an advice for the God-fearing - 21:48) The three attributes which belong to Torah are فُرْ‌قَانَ (criterion) which differentiates between right and wrong second is 4 ' (light) which provides light and manifestation of truth to hearts, and the third is ذِکر (advice) which is a source of guidance for the people. Some explain فُرْ‌قَانَ as help from God which was available to Sayyidna Musa (علیہ السلام) all times. It was manifest when he was raised in the Pharaoh's house, then at the time of his contest with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–56

55. The literal translation will be: Are you presenting the truth before us, or just playing with us? They were so sure of the truth of their creed that they could never imagine that anyone could be serious in declaring it to be false.

Read the full tafseer →