Al-Anbiyaa 21:54

Al-Anbiyaa · from ayah 54

21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۟قَالَ لَـقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ

(ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "You were certainly, you and your fathers, in manifest error."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:54

اس نے کہا "تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ نے فرمایا! پھر تو تم اور تمہارے باپ دادا سبھی یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابراہیم نے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تم بھی اور تمہارے باپ دادے بھی کھلی گمراہی میں مبتلا رہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی گمراہی میں ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک تم اور تمہارے باپ دادا (سب) صریح گمراہی میں تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا بلاشبہ یقینا تم اور تمہارے باپ دادا کھلی گمراہی میں تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(حضرت) ابراہیم نے کہا : پھر تو تم بھی اور تمہارے آباء و اجداد بھی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرمایا کہ یقینا تم لوگ ایک کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو تم بھی اور تمہارے یہ باپ دادا بھی

— مولانا اسحاق مدنی

ابراہیم ؑ نے) کہا یقیناً صریح گمراہی میں مبتلا رہے تم (بھی) اور تمہارے باپ (دادا) بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ابراہیم ؑ نے کہا : پھر تو تم بھی اور تمہارے آباء و اَجداد بھی یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ابراہیم نے کہا کہ تم بھی گمراہ اور تمہارے باپ دادا بھی کھلی گمراہی میں پڑے رہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "Certainly you and your fathers have all been in manifest error."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Surely you and your fathers have been in open error.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Surely you and your fathers have been in open error.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Indeed you and your fathers have been in manifest error."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Verily ye and your fathers were in plain error.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "You were certainly, you and your fathers, in manifest error."

— Saheeh International

He said, "Both you and your fathers have certainly been in error."

— Muhammad Sarwar

He said: Certainly you have been, (both) you and your fathers, in manifest error.

— Muhammad Habib Shakir

He said: assuredlY ye, ye and your fathers, have been in error manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

He said, "Indeed ye have been in manifest error - ye and your fathers."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–54

سورة الْاَنْبِیَآء 54 جس واقعہ کا آگے ذکر کیا جا رہا ہے اس کو پڑھنے سے پہلے یہ بات اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ قریش کے لوگ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے، کعبہ ان ہی کا تعمیر کردہ تھا، سارے عرب میں کعبے کی مرکزیت ان ہی کی نسبت کے سبب سے تھی اور قریش کا سارا بھرم اسی لیے بندھا ہوا تھا کہ یہ اولاد ابراہیم ہیں اور کعبہ ابراہیمی کے مجاور ہیں۔ آج اس زمانے اور عرب سے دور دراز کے ماحول میں تو حضرت ابراہیم کا یہ قصہ صرف ایک سبق آموز تاریخی واقعہ ہی نظر آتا ہے، مگر جس زمانے اور ماحول میں اول اول یہ بیان کیا گیا تھا، اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے تو محسوس ہوگا کہ قریش کے مذہب اور ان کی برہمنیت پر یہ ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

خلاصہ تفسیر اور ہم نے اس (زمانہ موسوی) سے پہلے ابراہیم ؑ کو ان کی (شان کے مناسب) خوش فہمی عطا فرمائی تھی اور ہم ان (کے کمالات علمیہ و عملیہ) کو خوب جانتے تھے (یعنی وہ بڑے کامل تھے ان کا وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی برادری سے (ان کو بت پرستی میں مشغول دیکھ کر) فرمایا کہ کیا (واہیات) مورتیں ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو (یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں) وہ لوگ (جواب میں) کہنے لگے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے، (اور وہ لوگ عاقل تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مورتیں لائق عبادت کے ہیں) ابراہیم ؑ نے کہا کہ بیشک تم اور تمہارے باپ دادے (ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 53–54

آیت 54-53 باپ دادا کا طریقہ بجائے خود دلیل نہیں ہے اس قسم کی حماقتوں کے حق میں سب سے بڑی دلیل ہمیشہ ان کے حامیوں کی طرف سے یہی پیش کی گئی ہے کہ ان کا چلن باپ دادا سے چلا آ رہا ہے۔ یہی دلیل حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں نے پیش کی کہ ان بتوں کی عبادت تو ہمارے باپ دادا نے کی ہے تو ہم ان کو کس طرح چھوڑ بیٹھیں۔ اگرچہ یہ بات بالکل احمقانہ ہے لیکن عام لوگوں کے لئے یہ بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے۔ باپ دادا کے طریقہ کے لئے دلوں میں ایک حمیت و عصبیت جڑ پکڑ جاتی ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے جو نور معرفت عطا فرمایا تھا اس کو ان پھونکوں سے نہیں بجھایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے جواب میں پوری عزیمت و بےخوفی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 53–54

جس طرح آج بھی جہالت و خرافات میں پھنسے ہوئے مسلمانوں کو بدعات و رسومات جاہلیہ سے روکا جائے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم انھیں کس طرح چھوڑیں جب کہ ہمارے آباواجداد بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں اور یہی جواب وہ حضرات دیتے ہیں جو نصوص کتاب و سنت سے اعراض کر کے علماء ومشائخ کے آراء وافکار سے چمٹے رہنے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–54

23: اس آیت نے واضح فرمایا ہے کہ قیامت کے دن صرف یہی نہیں کہ تمام لوگوں سے انصاف ہوگا ؛ بلکہ اس بات کا بھی اہتمام کیا جائے گا کہ انصاف سب لوگوں کو آنکھوں سے نظر آئے، اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ ایسی ترازویں برسر عام نصب فرمائیں گے جن میں انسانوں کے اعمال کو تولا جائے گا اور اعمال کے وزن کے حساب سے انسانوں کے انجام کا فیصلہ ہوگا، انسان جو عمل بھی کرتا ہے اس دنیا میں اگرچہ ان کا نہ کوئی جسم نظر آتا ہے اور نہ ان میں کسی وزن کا احساس ہوتا ہے، لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا وزن کرنے کی ایسی صورت پیدا فرمائیں گے جن سے ان اعمال کی حقیقت واضح ہوجائے، اگر انسان سردی گرمی جیسی چیزوں کو تولنے کے لئے نئے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال لقد۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (45) ’ ‘۔ محض آبائو اجداد کی جانب سے بتوں کی پوجا ہونا ‘ ان کی اصل حقیقت اور قدر و قیمت کو نہیں بدل سکتا۔ نہ ان کو وہ تقدس دے سکتا ہے جو دراصل ان کو حاصل نہ ہو۔ کیونکہ قدریں محض آبائو اجداد کے عمل سے وجود میں نہیں آتیں ‘ بلکہ سچائی اور افادیت سے بنتی ہیں اور آزادانہ سوچ سے ان کے بارے میں فیصلہ ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت بےباکی سے یہ باتیں کیں اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا اور دو ٹوک بات کی تو ان کے عقائد کی دنیا میں زلزلہ آگیا اور پوچھنے لگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی اس دلیل سے تمہاری حقانیت اور عقلمندی ثابت نہ ہوئی۔ ہاں یہ ثابت ہوا کہ تمہارے باپ دادا بھی تمہاری طرح گمراہ اور بیوقوف تھے جن کی کو رانہ تقلید میں تم تباہ ہو رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 53–54

آیت 54 قَالَ لَقَدْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ” آپ علیہ السلام نے علی الاعلان حق بات سب کے سامنے کہہ دی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 53–54

48 اب اگر بتوں کے سامنے عبادت کرنے کا کوئی عملی فائدہ ہوتا یا ان کے پاس کوئی معقول جواب ہوتا تو قوم کے لوگ یقیناً حضرت ابراہیم کو بتلا کر انھیں مطمئن کردیتے۔ لیکن انھیں حضرت ابراہیم کے اس سوال کا اس بات کے سوا کوئی جواب میسر نہ آیا کہ چونکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا ہے، لہذا ہم بھی ان کی اتباع میں یہی کچھ کر رہے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ حضرت ابراہیم کے سوال کا معقول جواب نہیں تھا۔ اور اس مقام پر سوال کی اہمیت یہ ہے کہ قریش مکہ بھی بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ اور جب ان سے یہی سوال کیا جاتا تو ان کا جواب بھی بعینہ یہی کچھ ہوتا تھا۔ مزید برآں وہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کے پیروکار بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ یعنی مجرد تقلید آباؤ و اجداد بھی بھلا کوئی دلیل ہے ؟ آیت میں رد ہے جاہل مریدین ومقلدین کا جو اکابر کی تقلید واتباع میں غلو رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال لقد کنتم انتم وابآوکم فی ضلل مبین ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تم بھی یقیناً گمراہی میں پڑے ہوئے ہو اور تمہارے باپ دادا بھی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ یعنی تم سب کھلی ہوئی غلطی پر ہو پتھروں کی پوجا کرتے ہو جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرر۔ تمہارے باپ دادا بھی کھلی ہوئی غلط راہ پر تھے اور تم ان کے پیرو ہو تو تم بھی غلط راستہ پر ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے فرمایا بیشک تم اور تمہارے آباؤ ادجداد کھلی غلطی اور کفر میں مبتلا ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : اس کا یہ معنی نہیں کہ تم اور تمہارے باپ دادا ماضی میں گمراہی میں مبتلا تھے اب نہیں، بلکہ ”کَانَ“ دوام اور استمرار کے لیے ہے اور ”فِيْ“ ان کے گمراہی میں بری طرح پھنسے ہونے کے اظہار کے لیے ہے، جیسا کہ ابوالسعود نے فرمایا : ”وَ مَعْنٰی ”كُنْتُمْ“ مُطْلَقُ اِسْتَقْرَارِھِمْ عَلَی الضَّلاَلِ لاَ اسْتِقْرَارُہُمُ الْمَاضِيْ الْحَاصِلِ قَبْلَ زَمَانِ الْخَطَابِ الْمُتَنَاوِلِ لَھُمْ وَلِآبَاءِھِمْ“ خلاصہ یہ کہ ابراہیم ؑ نے واشگاف الفاظ میں فرما دیا کہ بلاشبہ یقیناً تم اور تمہارے باپ دادا پہلے بھی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے اور اب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–56

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ بعض علماء نے فرمایا : یعنی تو یاد کر جب اس نے اپنے باپ کو کہا۔ پس کلام وکنا بہ علمین پر مکمل ہوگی۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم جانتے تھے جب انہوں نے کہا۔ اس مفہوم پر کلام متصل ہوگی اور عالمین پر وقف نہ گا لابیہ سے مراد آزر ہے۔ قومہ نمرود اور اس کے پیروکار۔ ما ھذہ التماثیل اس سے مراد مورتیاں ہیں۔ التماثیل ہر اس شی کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہو۔ کہا جاتا ہے : مثلث الشئی بالشئی میں نے ایک چیز کو دوسری چیز سے مشابہت دی۔ اس ممثل کا اسم تماثل ہے۔ التی انتم لھا عکفون۔ یعنی تم ان کی عبادت پر قائم ہو۔ قالوا وجدنا لھا عبدین۔ ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–56

1:۔ ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے بچپن ہی میں ہدایت دی اور (آیت) ” ما ھذہ التماثیل “ سے مراد ہے کہ یہ مورتیاں کیا ہیں ؟۔ 2:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو ہدایت دی۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ التی انتم لھا عکفون “ یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو (آیت) ” قالوا وجدنا ابآءنا لھا عبدین “ یعنی ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کو پیروی کرتے ہیں اسی دین پر۔ 4:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ لَقَدْ كُنْتم : یقینا تم لوگ ] [ انتم : تم بھی ] [ وَاٰبَاۗؤُكُمْ : اور تمہارے آبائو اجداد بھی ] [ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : ایک کھلی گمراہی میں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تم اور تمہارے آباء و اجداد صریح گمراہی میں تھے۔ کیونکہ تمہارے پاس کوئی معقول دلیل نہیں تم محض خواہش نفسانی اور فریب شیطانی کے متبع ہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–57

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر کیا اور خاص طور پر رسالت کا بیان ہوا ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے کے سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اور اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور بعض دیگر انبیائے کرام کا بیان ہوگا۔ انبیاء کے اس تذکرے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ تاہم ان کو دعوت ، طریقہ تبلیغ ، اللہ کے حضور ان کی مناجات اور ان کے ساتھ نافرمانوں کے سلوک کو بیان کیا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا ذریعہ بن سکے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝ 54 ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–67

تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ لَقَدْکُنْـتُمْ اَنْـتُمْ وَ ٰ ابَـآؤُکُمْ فِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الانبیاء : 54) (آپ نے کہا کہ تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں مبتلا رہے ہو۔ ) بت پرستی صریح گمراہی ہے بت پرستی ایک صریح گمراہی ہے۔ کوئی صاحب دانش آدمی اس کی تائید نہیں کرسکتا اور کسی اللہ تعالیٰ کے نبی نے کبھی اسے گوارا نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اس کی مذمت کی۔ اس لیے جس طرح آج بت پرستی گمراہی ہے اسی طرح تمہارے آبائواجداد کے زمانے میں بھی گمراہی تھی۔ آج تم اس گمراہی میں مبتلا ہو، ماضی میں وہ مبتلا رہ چکے ہیں۔ تمہیں ہوش و خرد اور ہدایت کی روشنی میں اپنے طرزفکر اور طرز عمل کی اصلاح کرنی چاہیے نہ کہ آبائواجداد کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–59

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ نبوت کا پہلا اور مرکزی پیغام ” توحید “ ہے جس بنا پر انہوں نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے ” اللہ “ کی توحید پیش فرمائی اور بتوں کی بےثباتی ثابت کی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا لہٰذا سب سے پہلے باپ کے سامنے عقیدہ توحید پیش کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز ان کا گھر بنا ہوا ہے۔ لہٰذا حق کا تقاضا تھا کہ پیغامِ حق کی ابتداء اپنے گھر سے کی جاتی۔ چناچہ مؤثر دلائل اور پوری دل سوزی کے ساتھ توحید کی دعوت پہلے باپ کی خدمت میں پیش فرمائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

54: قَالَ (کہا) ابراہیم (علیہ السلام) نے لَقَدْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَـآ ؤُکُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (یقینا تم اور تمہارے باپ دادا کھلی گمراہی میں پڑے ہو) آپ کا مقصد یہ تھا کہ تم پیروی کرنے والے اور جن کی پیروی کا دعوٰی کرتے ہو ہر دو گمراہی کی لڑی میں دونوں پروئے ہوئے ہو۔ وہ ایسی گمراہی ہے جو کسی عاقل سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ اور اس کی مزید تاکید کیلئے۔ انتم لائے تاکہ عطف صحیح ہوسکے۔ کیونکہ کسی ضمیر پر جب عطف کیا جائے تو وہ اس ممتنع فعل کا بعض حصہ ہی بن جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54۔ قال، ابراہیم نے کہا، لقد کنتم انتم واباء کم فی ضلال مبین، یعنی تم سب کھلی ہوئی غلطی پر ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–56

51۔ 56:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش نمرود بن کنعان عراق کے بادشاہ کے زمانہ میں ہوئی ہے مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے ان لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے قائل کرنے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرما کر انہیں یوں قائل کیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بچپنے ہی میں بت پرستی سے بیزار تھے پھر یہ مکہ کے بت پرست اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر کیوں کر کہہ سکتے ہیں ‘ نمردو اور اس کے ساتھی ستارہ پرست لوگ تھے ستاروں کی پرستش کی نیت سے ان لوگوں نے ستاروں کی مورتیں بنار کھی تھیں جن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 51–54

71 رشد و ہدایت میں حضرت ابراہیم کا خاص مرتبہ و مقام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو بھی ان کی شان کے لائق رشد و ہدایت سے نوازا تھا اور ہم اس کو خوب جانتے تھے کہ وہ کن کن صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مالک ہیں اور کیا کیا مکارم و محاسن ان کے وجود باجود کے اندر مخفی و مستور ہیں۔ اور وہ ہماری کن کن عنایتوں اور نوازشوں کے اہل اور مستحق ہیں۔ کیونکہ خالق سے مخلوق کی کوئی بھی حالت و کیفیت مخفی و مستور نہیں رہ سکتی ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت ابراہیم کو ہدایت و معرفت کے اس خاص درجہ و مرتبہ سے نوازا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 54–56

ف 4 ۔ کیونکہ بت پرستی سے بڑھ کر کھلی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کتاب و سنت کو چھوڑ کر کوئی دوسری راہ اختیار کرنا بھی صریح صلالت ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 52–54

(21:52) التماثیل۔ تمثال کی جمع۔ صورتیں۔ مورتیں۔ تصویریں۔ مجسمے۔ بت۔ عکفون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ عکف یعکف (ضرب وعکف یعکف (نصر) عکف۔ ترتیب دینا ۔ جب اس کا استعمال عن کے صلہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہوگا کسی کو کسی چیز سے منع رکھنا۔ روکے رکھنا۔ روکنا۔ اس معنی میں ہے والھدی معکوفا (48:25) اور قربانی کے جانور جو روک دئیے گئے ہیں۔ کہتے ہیں عکفہ عن الامر۔ اس نے اسے (اس ) امر سے روک دیا ہے۔ اور اگر علی کے صلہ کے ساتھ آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کی طرف اس طرح لگ کر بیٹھ جانا کہ پھر اس کی طرف سے منہ ہی نہ موڑے۔ جیسے یعکفون علی اصنام لہم (7:138) اپنے بتوں کی عبادت کے لئے جم کر بیٹھے رہتے تھے۔ انہی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اور توحید کا ذکر۔ (ف 1) مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان فرمایا کہ انہیں ان آیتوں میں یوں قائل کیا کہ موسیٰ اور ہارون کو نیک راہ کی توفیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سی عمر میں ابراہیم کو نیک راہ کی توفیق دی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی تھی کہ آزر بت پرست کے گھرانہ میں ابراہیم ایسے نیک راہ اور اللہ کے رسول ہوں گے ان کے بعد ان کے گھرانہ میں قیامت تک نبوت چلے گی آگے ابراہیم کے نیک راہ پر ہونے کی تفصیل یہاں فرمائی کہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو بت پرستی کی حالت پر نہ دیکھ سکے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–55

[31] مراد کتاب تورات ہے جو فرقان یعنی حق و باطل کا فرق دکھانے والی، جہل غفلت کے اندھیاروں میں روشنی پہنچانے والی اور '' ذکر '' یعنی نصیحت نامہ تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–61

پیغمبرانہ استعداد : (ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ، بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) ابراہیم (علیہ السلام) نے کہ بلاشبہ تم بھی صریح غلطی میں مبتلا ہو اور تمہارے بڑے یعنی تمہارے باپ دادا بھی کھلی غلطی میں مبتلا تھے۔ اس سے بڑھ کر اور صریح غلطی کیا ہوگی کہ غیرمستحق عبادت کی عبادت کرتے ہو اور حقیقی معبود کو چھوڑے بیٹھے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو صاف سنا دیا کہ تم اور باپ دادا سب گمراہی میں ہو : 54۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ذرا دیر نہ لگائی اور ان کو کھری کھری اور بغیر کسی استعارہ کے بات سنا دی کہ تم نے یہ کیسے کہہ دیا کہ باپ دادا بھی کبھی غلط ہوتے ہیں کیوں نہیں ” یقین کرو تم خود بھی اور تمہیں باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے جن کو یہ جواب سنایا ان میں قوم کے سارے گروہوں کے لوگ موجود ہیں اور اپنے عزیز و رشتہ بلکہ باپ بھی موجود ہے اور یہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی شخصیت ہے جس نے ایسا صاف اور واضح جواب دے دیا اور ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کی ، اس وقت کی بات کہہ دینا اور سن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–56

Commentary الْفُرْ‌قَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرً‌ا لِّلْمُتَّقِينَ (Criterion and light and an advice for the God-fearing - 21:48) The three attributes which belong to Torah are فُرْ‌قَانَ (criterion) which differentiates between right and wrong second is 4 ' (light) which provides light and manifestation of truth to hearts, and the third is ذِکر (advice) which is a source of guidance for the people. Some explain فُرْ‌قَانَ as help from God which was available to Sayyidna Musa (علیہ السلام) all times. It was manifest when he was raised in the Pharaoh's house, then at the time of his contest with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–54

54. Before proceeding further, it should be kept in mind that the incident from the history of Prophet Abraham (peace be upon him) has been cited here to refute the erroneous creeds of the Quraish. This was meant to hit them hard for they were the descendants of Prophet Abraham (peace be upon him) and were proud of their relationship with him. It was he who had built the Kabah which had become the center of the entire Arabia and they, being its keepers, were its most important clan. Therefore, they could not remain indifferent to this answer.

Read the full tafseer →