Al-Anbiyaa 21:58

Al-Anbiyaa · from ayah 58

21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ ۟فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ‏

پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So he made them into fragments, except a large one among them, that they might return to it [and question].

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:58

چنانچہ اس نے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اس نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ بھی اس لئے کہ وه سب اس کی طرف ہی لوٹیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ ابراہیم نے ان کے بڑے بت کے سوا سارے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان سب کو چورا کردیا مگر ایک کو جو ان کا سب سے بڑا تھا کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ابراہیم ؑ نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے بڑے (بُت) کے تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ بڑے بت کو چھوڑ کر باقی سب بتوں کو ابراہیم نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تاکہ وہ اس (بڑے بت) کی طرف رجوع کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا بجز ان کے ایک بڑے کے تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ موقع ملتے ہی ابراہیم نے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا ان سب کو سوائے ان کے ایک بڑے کے کہ اسے چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

— مولانا اسحاق مدنی

چناچہ آپ نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر بھی ڈالا بجز ان کے بڑے (بت) کے تاکہ وہ لوگ اسی کی طرف رجوع کریں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو آپ ؑ نے ان سب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا سوائے ان کے بڑے کے شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے بت کو نہ توڑا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he broke them all into pieces, sparing only the supreme one among them that they may possibly return to him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, he turned all of them into pieces, except the big one of them, so that they may come back to it.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, he turned all of them into pieces, except the big one of them, so that they may come back to it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So he broke them to pieces, except the biggest of them, that they might turn to it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then he reduced them to fragments, all save the chief of them, that haply they might have recourse to it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So he made them into fragments, except a large one among them, that they might return to it [and question].

— Saheeh International

He broke all the idols into pieces, except the biggest among them so that perhaps people would refer to it.

— Muhammad Sarwar

So he broke them into pieces, except the chief of them, that haply they may return to it.

— Muhammad Habib Shakir

Then he made them fragments, all except the big one of them, that haply unto it they may return.

— Abdul Majid Daryabadi

So he broke them to pieces, (all) but the biggest of them, that they might turn (and address themselves) to it.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–63

کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 58–60

سورة الْاَنْبِیَآء 57 یعنی موقع پاکر جبکہ پجاری اور مجاور موجود نہ تھے، حضرت ابراہیم ان کے مرکزی بت خانے میں گھس گئے، اور سارے بتوں کو توڑ ڈالا۔ سورة الْاَنْبِیَآء 58 " اس کی طرف " کا اشارہ بڑے بت کی طرف بھی ہوسکتا ہے اور خود حضرت ابراہیم کی طرف بھی۔ اگر پہلی بات ہو تو یہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے ان کے عقائد پر ایک طنز کا ہم معنی ہے۔ یعنی اگر ان کے نزدیک واقعی یہ خدا ہیں تو انہیں اپنے بڑے خدا کے متعلق یہ شبہ ہونا چاہیے کہ شاید بڑے حضرت ان چھوٹے حضرتوں سے کسی بات پر بگڑ گئے ہوں اور سب کا کچومر بنا ڈالا ہو۔ یا پھر بڑے حضرت سے یہ پوچھیں کہ حضور۔ آپ کی موجودگی میں یہ کیا ہوا ؟ کون یہ کام کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–62

فَجَــعَلَهُمْ جُذٰذًا، جذاد جِذٌّ بکسر الجیم کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑے کے ہیں مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے توڑ کر ان سب بتوں کے ٹکڑے کردیئے۔ اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ ، یعنی صرف بڑے بت کو بغیر توڑے ہوئے چھوڑ دیا، اس کا بڑا ہونا یا تو حسی اعتبار سے ہو کہ اپنے جسم اور جثے کے اعتبار سے یہ دوسرے بتوں سے بڑا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جسم اور جثے میں سب کے برابر ہونے کے باوجود یہ بت ان بت پرستوں کے عقیدہ میں سب سے بڑا مانا جاتا ہو۔ لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ ، اس میں الیہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ ضمیر ابراہیم ؑ کی طرف راجع ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں ایسا ہی بیان کیا گیا اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بت شکنی کی سکیم پر عمل جذاذ پاش پاش اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ یہ اس مخفی تدبیر کا بیان ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنے اراے کو بروئے کار لانے کے لئے اختیار فرمائی۔ انہوں نے موقع نکال کر بڑے بت کو چھوڑ کر باقی سب بتوں کو پاش پاش کردیا۔ بڑے بت کو اس خیال سے چھوڑ دیا کہ جب اس معاملہ کی تفتیش ہو تو وہ ان احمق لوگوں سے یہ کہہ سکیں کہ یہ تو اس بڑے کی کارستانی معلوم ہوتی ہے تو اس کی طرف رجوع کریں کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ اور اگر یہ کہیں کہ یہ تو بولتے نہیں تو پھر ان پر اتمام حجت کا موقع ہاتھ آئے کہ جب یہ بڑے چھوٹے سب ہی گونگے ہیں تو آخر ان گونگوں بہروں کو معبود بنانے کے کیا معنی ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

58۔ 1 چناچہ وہ جس دن اپنی عید یا کوئی جشن مناتے تھے، ساری قوم اس کے لئے باہر چلی گئی اور ابراہیم ؑ نے موقع غنیمت جان کر انھیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا صرف ایک بڑا بت چھوڑ دیا، بعض کہتے ہیں کہ کلہاڑی اس کے ہاتھ میں پکڑا دی تاکہ وہ اس سے پوچھیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 58–62

25: جیسا کہ سورة صافات :88 میں آنے والا ہے وہ کوئی جشن کا دن تھا جس میں ساری قوم شہر چھوڑ کر کہیں جایا کرتی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے ساتھ جانے سے معذرت کرلی تھی۔ اور جب سارے لوگ چلے گئے تو بت خانے میں جا کر سارے بتوں کو توڑ ڈالا، صرف ایک بڑے بت کو چھوڑ دیا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی کلہاڑی بھی اس کی گردن میں لٹکا کر چھوڑ دی۔ اس عمل سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھ سکیں۔ اور یہ سوچیں کہ جو بت خود اپنا دفاع نہیں کرسکتے، وہ دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ بڑے بت کو چھوڑنے کی مصلحت اس سوال و جواب سے واضح ہوگی جو آیت نمبر 63 میں آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فجعلھم۔۔۔۔ یرجعون (85) ” ‘۔ ہوا کیا ؟ تمام بتوں کو ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ وہ چھوٹے چھوٹے پتھروں کا ڈھیر بنا دیئے گئے اور جو لکڑی کے تھے وہ توڑی ہوئی لکڑیوں کی شکل میں رہ گئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے بڑے بت کو رہنے دیا۔ لعلھم الیہ یرجعون (12 : 85) ” شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں “۔ اور اس سے پوچھیں کہ یہ واقعہ کس طرح رونما ہوا اور وہ کیوں ان چھوٹے بتوں کی مدافعت کے لیے نہ اٹھا۔ شاید اس طرح وہ اس پورے مسئلے پر از سرنو غور کرنے کے لیے تیار ہوجائیں اور راہ راست پر آجائیں۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ بتوں کی پرستش ایک لغوا مر ہے۔ جب لوگ آئے ‘ انہوں نے دیکھا کہ ان کے بت ریزہ ریزہ زمین پر پڑے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 جب وہ لوگ شہر سے باہر ایک میلہ میں گئے تب ابراہیم (علیہ السلام) نے بت خانہ میں جا کر بتوں کو توڑ ڈالا۔ صرف ایک بت کو باقی رہنے دیا جو باعتبار جثہ کے یا تعظیم و تکریم کے ان کے نزدیک سب سے بڑا تھا، اور جس کلہاڑی سے توڑا تھا وہ اس بڑے کے گلے میں لٹکا دی، تاکہ وہ لوگ جب واپس آکر یہ صورت حال دیکھیں تو قدرتی طور پر ان کا خیال اس بڑے بت کی طرف ہو یا الزاماً اس کی طرف رجوع کرایا جاسکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 فَجَعَلَہُمْ جُذَاذًا اِلَّا کَبِیْرًا لَّہُمْ لَعَلَّہُمْ اِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ ” آپ علیہ السلام نے سب سے بڑے ُ بت کو چھوڑ کر باقی تمام بتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنا تیشہ بھی اس بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا تاکہ وہ آکر دیکھیں تو سب سے بڑا بت صحیح سالم کھڑا ہو ‘ باقی سب کے سب تیشے کا شکار ہوئے پڑے ہوں ‘ آلۂ واردات بھی اسی بڑے کے پاس سے برآمد ہو اور یوں واقعاتی شہادت circumstancial evidence کی حد تک اس کے خلاف اتمام حجت بھی ہوجائے۔ چناچہ انہوں نے واپس آکر اپنے بتوں کا حال دیکھا تو :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 58–59

52 حضرت ابراہیم کی قوم سیارہ پرست لوگ تھے۔ اور انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات کے انتہائی معتقد تھے۔ انھیں سیاروں مثلاً سورج، چاند، زہرہ، عطارد، مشتری، مریخ اور زحل وغیرہ کی ارواح کی ایک مخصوص شکل انہوں نے متعین کر رکھی تھی۔ اور اسی شکل کے مجسمے بنائے جاتے تھے۔ جن کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے اپنی ہوش مندی کی ابتداء میں پہلا تجربہ اپنی ذات پر کیا تھا اور دیکھا تھا کہ یہ سیارے یہ چاند اور یہ سورج کیا میری زندگی پر کچھ اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں۔ اور تجربہ نے انھیں یہی بتلایا تھا کہ ایسی باتیں سب انسانی توہمات ہیں۔ اسی بنا پر قلبی یقین کے ساتھ وہ اپنی قوم سے مجادلہ اور و قابلہ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

76۔ (اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان پر تشنیع وتعریض اور گرفت کا پورا موقع ہاتھ آجائے) (آیت) ” الیہ میں ضمیر کا مرجع اکثر نے اس بڑے بت ہی کو لیا ہے۔ اے الی کبیرھم (کشاف) والضمیر الیہ عند الجمھور عائد علی ابراہیم (علیہ السلام) (روح) اے الی الکبیر (جلالین) لیکن اگر اس کا مرجع خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانا جائے جب بھی نتیجہ وہی رہے گا کہ جب میری طرف تحقیق حال کی طرف رجوع کریں گے اس وقت موقع مجھے قائل کرنے کا مل جائے گا۔ یحتمل رجوعھم الی ابراہیم (علیہ السلام) ویحتمل رجوعھم الی الکبیر (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فجعلہم جذاذا الا کبیرا لہم پس ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا مگر پرزے بت کو بغیر توڑے ان کے لئے چھوڑ دیا۔ جذاذ بروزن فعال بمعنی مفعول ہے جیسے حطام۔ یہ جذ سے ماخوذ ہے جذ کا معنی ہے کاٹنا۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں جذاذ جمع کا صیغہ ہے لیکن اس کا کوئی مفرد نہیں ہے ‘ کبیر سے مراد ہے بڑا بت جس کو حضرت ابراہیم نے نہیں توڑا اور اس کے کاندھے پر تیر رکھ دیا۔ فَجَعَلَہُمْمیں جمع مذکر کی ضمیر اس لئے ذکر کی کہ بت پرستوں کے خیال میں ان کے بت ذی علم تھے۔ لعلہم الیہ یرجعون۔ کہ شاید وہ لوگ ابراہیم کی طرف (دریافت کرنے کے لئے) لوٹیں۔ الیہ کی ضمیر ابراہیم کی طرف راجع ہے حضرت ابراہیم بتوں سے دشمنی رکھنے اور بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 58–59

(58۔ 59) چناچہ جب وہ سب لوگ شہر کے باہر عید منانے گئے اور حضرت ابراہیم ؑ شہر میں اکیلے رہ گئے تو حضرت ابراہیم ؑ ان کے بت خانہ میں گئے تو انہوں نے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ شاید وہ لوگ اپنی عید سے واپسی پر حضرت ابراہیم ؑ سے دریافت کریں، چناچہ جب وہ لوگ واپس آئے اور اپنے بت خانہ میں داخل ہوئے تو کہنے لگے کہ یہ بےادبی کا کام ہمارے بتوں کے ساتھ کس نے کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَجَــعَلَهُمْ جُذٰذًا : ”جُذٰذًا“ ”جَذَّ یَجُذُّ“ (قطع کرنا اور ریزہ ریزہ کرنا) میں سے ”فُعَالٌ“ بمعنی مفعول (مَجْذُوْذٌ) ہے، یعنی ریزہ ریزہ، ٹکڑے ٹکڑے۔ اسی کے ہم وزن اور ہم معنی ”حُطَامٌ“ اور ”فُتَاتٌ“ ہیں۔ ابراہیم ؑ کی قوم کے لوگ اپنے خاص جشن کے موقع پر گھروں سے باہر نکلتے اور سارا دن جشن مناتے، چناچہ انھوں نے ابراہیم ؑ کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی مگر انھوں نے بیماری کا عذر کرلیا۔ (صافات : 88 تا 90) ابراہیم ؑ موقع پا کر بت خانے کے اندر داخل ہوگئے، پہلے ان سے کچھ خطاب کیا، جس کا تذکرہ سورة صافات میں ہے، جواب نہ پا کر پوری قوت سے انھیں توڑنا شروع کردیا اور ایک کے سوا سب کو ٹکڑے ٹکڑے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فجعلھم جذ ذا ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ الجذو الذاذ جو توڑا گیا ہو۔ ضمہ، کسرہ سے افصح ہے، یہ جوہری کا قول ہے۔ کسائی نے کہا : سونے کے پتھروں کو جذاذ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ کسائی، اعمش اور ابن محیص نے جذا ذجیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ جذیز کی جمع ہے۔ ریزہ ریزہ جیسے خفیف کی جمع خفاف اور ظریف کی جمع ظراف آتی ہے۔ شاعر نے کہا : جذذ الاصنام فی محرابھا ذاک فی اللہ العلی المقتدر باقی قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے جیسے الحطام اور الزفات وغیرہ یہ جذاذۃ کی جمع ہے یہ وہ کید ہے جس کی آپ نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ ضرور ایسا کریں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–67

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَجَعَلَهُمْ : پھر انھوں (علیہ السلام) نے کردیا ان کو ] [ جُذٰذًا : ٹکڑے ٹکڑے ] [ اِلَّا : سوائے ] [ كَبِيْرًا : بڑے کے ] [ لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے ] [ لَعَلَهُمْ : کہ شاید وہ لوگ ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [ يَرْجِعُوْنَ : رجوع کریں (یعنی اس سے پوچھیں) نوٹ۔ 1: آیت۔ 51 ۔ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو معاملہ فہمی حاصل تھی وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تھی۔ اس کے ساتھ ہی وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَ کہہ کر یہ بھی بتادیا کہ یہ عطا اللہ تعالیٰ کے علم کی بنیاد پر تھی۔ اس کی عطا اور بخشش ایسے نہیں ہے کہ جس کو جو چاہا دے دیا بلکہ وہ کسی کی استعداد اور ظرف کے متعلق اپنے علم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–58

40:۔ ” وَ تَاللّٰهِ لَاَکِیْدَنَّ الخ “ حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ قوم نے ان ٹھوس عقلی دلائل سے کوئی اثر نہیں لیا تو اب ایک نہایت موثر اور محسوس طریقہ سے ان کے معبودان باطلہ کی بےچارگی کو واضح کرنے کی ایک نئی اسکیم سوچی چناچہ دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا کہ تم اپنے میلے پر تو جاؤ پھر دیکھنا میں تمہارے معبودوں کی کیا گت بناتا ہوں ” فَجَعَلَھُمْ جُذَاذًا “ جب مشرکین اپنے تہوار میں شریک ہونے کے لیے شہر سے باہر چلے گئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تمام مورتیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا البتہ سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ تاکہ جب مشرکین واپس آ کر سارا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–67

ربط آیات : گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔ تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَجَــعَلَہُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِيْرًا لَّہُمْ لَعَلَّہُمْ اِلَيْہِ يَرْجِعُوْنَ۝ 58 جذ الجَذُّ : کسر الشیء وتفتیته، ويقال لحجارة الذهب المکسورة ولفتات الذهب : جذاذ، ومنه قوله تعالی: فَجَعَلَهُمْ جُذاذاً [ الأنبیاء/ 58] ، عَطاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ [هود/ 108] ، أي : غير مقطوع عنهم ولا محترم وقیل : ما عليه جذّة، أي : متقطع من الثیاب . ( ج ذ ذ) الجذو ( ن ) کے معنی کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں اور پتھر یا سونے کے ریزوں کو جذاذ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی میں فرمایا : ۔ فَجَعَلَهُمْ جُذاذاً [ الأنبیاء/ 58] پھلان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا ۔ عَطاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ [هود/ 108] یہ ( خدا کی )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–67

تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَجَعَلَھُمْ جُذٰذًا اِلاَّ کَبِیْرًا لَّھُمْ لَعَلَّہُمْ اِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 58) (پس آپ نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا بجز ان کے بڑے بت کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ ) تہوار کا دن آیا، لوگ ہجوم در ہجوم شہر سے باہر تہوار منانے کے لیے نکل گئے۔ دن بھر تفریحی جھمیلوں میں مشغول رہے۔ وہاں نہ کوئی پجاری رہا اور نہ کوئی محافظ۔ خالی بت کدے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہوگئے۔ ہاتھ میں ایک بڑا کلہاڑا تھا۔ بت کدے کے وسیع ہال میں ایک بڑا بت نصب تھا اور اس کے دونوں طرف ایک ترتیب سے چھوٹے بت رکھے ہوئے تھے اور سب کے سامنے چڑھاؤوں کی مٹھائی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–59

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ نبوت کا پہلا اور مرکزی پیغام ” توحید “ ہے جس بنا پر انہوں نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے ” اللہ “ کی توحید پیش فرمائی اور بتوں کی بےثباتی ثابت کی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا لہٰذا سب سے پہلے باپ کے سامنے عقیدہ توحید پیش کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز ان کا گھر بنا ہوا ہے۔ لہٰذا حق کا تقاضا تھا کہ پیغامِ حق کی ابتداء اپنے گھر سے کی جاتی۔ چناچہ مؤثر دلائل اور پوری دل سوزی کے ساتھ توحید کی دعوت پہلے باپ کی خدمت میں پیش فرمائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بتوں کا حشر : 58: فَجَعَلَھُمْ جُذَاذًا (پس ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا) ٹکڑے ٹکڑے یہ الجذؔ سے ہے وہ کاٹنے کو کہتے ہیں۔ جمع جذاذۃ جیسے زجاجۃ اور زجاج۔ قراءت : علی نے میم کے کسرہ سے پڑھا۔ یہ جمع جذیذ کی ہے جو کہ مجذوذ کے معنی میں ہے۔ جیسے خفیف اور خفاف۔ اِلَّا کَبِیْرًا لَّھُمْ (مگر بڑے بت کو) ان بتوں کیلئے نمبر 2 کفار کیلئے ( ھم ضمیر جمع مذکر لائے اس لئے کہ بت پرستوں کے خیال میں وہ ذی علم تھے) یعنی تمام کو کلہاڑے سے توڑ ڈالا مگر ان بتوں کے بڑے کو چھوڑ دیا اور کلہاڑا اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ لَعَلَّھُمْ اِلَیْہِ (شاید کہ وہ اس کی طرف) یعنی بڑے کی طرف یَرْجِعُوْنَ (رجوع کریں) پھر ان کے توڑنے والے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 58۔ فجعلھم جذاذا، کسائی نے جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جذاذ جمع کا صیغہ ہے یہ جذ سے ماخوذ ہے۔ جذ کا معنی ہے کاٹنایہ مثل خفیف وخفاف کے ہے۔ اور دوسرے قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، مثل حطام ورفات کے ہوگا۔ الاکبیرا لھم، اس بڑے کو نہیں توڑا اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ بعض نے کہا کہ کلہاڑا اس کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا، وہاں 72 بت تھے ان میں سے بعض سونے کے تھے اور بعض چاندی کے تھے۔ بعض ان میں سے لوہے کے تھے اور بعض پیتل کے اور بعض لکڑی کے اور بعض پتھر کے اور ان بتوں میں سے بڑا بت سونے کا تھا ان کی آنکھوں میں جواہرات تھے یاقوت کے۔ ” لعلھم الیہ یرجعون، ، کہ شاید وہ لوگ ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–63

57۔ 63:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں زید بن اسلم وغیرہ کی روایتوں سے ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر جو قصہ ہے سورة والصافات کے قصے کے ملانے سے اس سب قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب ابرہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آزر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہئے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے ‘ بتوں کے توڑنے کے سال میں جب وہ میلہ کا وقت آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 58–60

78 مشرکوں کی تجہیل و تحمیق کے ایک اور معرکے کا انتظام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت ابراہیم نے موقعہ پاتے ہی ان کے ان تمام بتوں کو پاش پاش کردیا سوائے انکے بڑے کے۔ کہ اس کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور اس سے پوچھیں کہ یہ کیا بات ہے کہ یہ سب تو ٹوٹے پڑے ہیں اور تو صحیح سلامت ہے ؟ اور کلہاڑا بھی تو نے اٹھا رکھا ہے ؟۔ سو اس طرح ان بتوں کا عجز اور ان کی بےحقیقتی ان کے سامنے واضح ہوجائے گی۔ اور شاید اس طرح ان لوگوں کو راہ حق کی طرف رجوع نصیب ہوجائے۔ سو اس طرح حضرت ابراہیم نے ان مشرکوں کی تجہیل و تحمیق کے ایک موقعہ کا انتظام فرما دیا تاکہ ان کی جہالت اور حماقت سب کے سامنے اس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 58–60

ف 6 ۔ یعنی جب وہ بتوں کی پوجا پاٹ کرکے واپس ہوگئے۔ 7 ۔ یہ بات دریافت کرنے کے لئے کہ ان بتوں کو کس نے توڑا ؟ یہاں لوگوں پر طنز اور ستہزا ہے اور اگر ” الیہ “ کی ضمیر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے لئے قرار دی جائے تو مقصد یہ ہوگا کہ انہیں ان لوگوں سے صاف صاف بات کرنے کا موقع ملے یا یہ مطلب ہے کہ شاید وہ گمراہی کو چھوڑ کر میری راہ (یعنی توحید) اختیار کرلیں۔ (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 58–60

(21:58) جذاذا۔ ریزہ ریزہ۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ بروزن فعال بمعنی مفعول ہے جذ مصدر سے باب نصر۔ توڑنا۔ کاٹنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–63

(ف 1) تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آذر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہے حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے اس سال جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں نہیں گئے اور دبی ہوئی آواز میں سے بتوں کو توڑنے کی قسم کھائی، جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے قوم کے لوگوں کے بستی سے باہر چلے جانے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 58–60

[33] یعنی اس بڑے بت سے پوچھیں کہ ان چھوٹے بتوں کا کیا حال ہے، یہ کیسے ٹوٹے ؟ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) سے دریافت کریں اور آپ کو حجت قائم کرنے کا موقع ملے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–61

پیغمبرانہ استعداد : (ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ، بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(58) چنانچہ وہ تمام پجاری جب چلے گئے تو ان کے چلے جانے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں میں سے سوائے ایک بڑے بت کے سب بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں اور لوٹیں۔ یعنی وہ لوگ تو کسی میلے میں شریک ہونے کی غرض سے چلے گئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک ہتھوڑا لے کر سب بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور جو بت سب سے بڑا تھا اس کے کندھے پر ہتھوڑا رکھ کر چلے آئے تاکہ یہ لوگ جب میلے سے واپس آئیں تو شاید اس بڑے بت کی طرف غورکریں کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑ دیا یہ مطلب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے رجوع کریں اورا ن سے پوچھ گچھ کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–62

ف 5۔ بڑا بت جو جثے میں یا ان لوگوں کی نظروں میں معظم ہونے میں بڑا تھا اس کو چھوڑ دیا، جس سے ایک قسم کا استہزاء مقصود تھا کہ ایک کے سالم اور دوسروں کے قطع و برید سے ابہام ہوتا ہے کہ کہیں اسی نے تو سب کی خبر نہیں لی، پھر جب وہ قطع و برید کرنے والے کی تحقیق کریں گے اور اس صنم کبیر پر احتمال بھی نہ کریں گے تو ان کی طرف سے اس کے عجز کا اعتراف بھی ہوجاوے گا۔ اور حجت اور لازم تر ہوجاوے گی، پس انتہاء یہ الزام و اضمام ہے، اور مقصود مشترک اثبات عجز ہے بعض کا انکار سے اور ایک کا ان کے اقرار سے۔ غرض ایک کو اس مصلحت سے چھوڑ کر سب کو توڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو وقت مل گیا اور آپ نے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے : 58۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو جب بت شکنی کی سکیم پر عمل کرنے کا وقت مل گیا تو انہوں نے معبد خانہ میں جا کر ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور ایک کے سوا کسی کی حالت کو درست نہ رہنے دیا کسی کا سر نہیں تو کسی کا بازو گویا ان بتوں کا قتل عام کردیا اور یہی وہ مخفی تدبیر تھی جس کے کرنے کا اعلان اس سے پہلے ہی وہ کرچکے تھے اگرچہ اس وقت جب انہوں نے یہ اعلان کیا تھا سامعین کو اس طرح معبودان باطل کے قتل عام کا یقین بالکل نہیں تھا اور نہ وہ ایسا یقین کرسکتے تھے کہ ابراہیم اتنا بڑا قدم جو پوری قوم کے خلاف ہو اٹھا سکتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–62

فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا (21:58) The word جُذَاذً is the plural for جُذَ. which means fragment or piece. Thus its meaning is that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) broke the idols into small pieces. إِلَّا كَبِيرً‌ا لَّهُمْ (Save the big one of them - 21:58) That is, only the biggest idol was left intact and all the rest were broken. It is possible that the one which was left unbroken was either bigger in size or higher in esteem with the unbelievers. لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْ‌جِعُونَ (So that they may come back to him - 21:58) There can be three explanations to this expression. One, if the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–60

57. This was that practical proof. In the absence of the priests and attendants, Prophet Abraham (peace be upon him) entered their central Temple and broke all the idols to pieces. 58. The pronoun in the original text may be translated into it or him. In the former case, it will refer to the chief idol and in the latter to Prophet Abraham (peace be upon him). In the first case, it will imply a subtle sarcasm in order to make them realize that their creed of idol worship was foolish, for obviously the chief idol could not break the minor idols. In the second case, it will refer to Prophet…

Read the full tafseer →